دین اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جو اْس نے پہلے انسان کی فطرت میں الہام فرمائی اور اِس کے بعد اْس کی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اپنے پیغمبروں کی وساطت سے انسان کو دی ہے۔ اِس سلسلہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ دین کا تنہا ماخذ اب آپ ہی کی ذات والا صفات ہے اور دین حق اب وہی ہے جسے آپ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے دین قرار دیں۔

دنیا کے تمام انسانوں کو ہم اِس دین پر ایمان اور اِس کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تزکیے کی دعوت دیتے ہیں۔ جو لوگ اِس دعوت کو قبول کر لیں، اْن کا صلہ خدا کی جنت ہے جس کی وسعت پوری کائنات کی وسعت ہے،جس میں زندگی کے ساتھ موت، لذت کے ساتھ الم، خوشی کے ساتھ غم، اطمینان کے ساتھ اضطراب، راحت کے ساتھ تکلیف اور نعمت کے ساتھ نقمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جس کا آرام دائمی ہے، جس کی لذت بے انتہا ہے، جس کے شب و روز جاوداں ہیں، جس کی سلامتی ابدی ہے، جس کی مسرت غیر فانی ہے، جس کا جمال لازوال اور کمال بے نہایت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اِس میں وہ کچھ مہیا کیا ہے جسے نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اْس کا خیال کبھی گزرا ہے۔

اِس وقت جو لوگ اِس دین کے ماننے والے ہیں، اْنھیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ خدا کی اِس جنت کو پانے کے لیے اپنے عمل کو بھی وہ اپنے ایما ن کے مطابق کر لیں، خدا اور اْس کے بندوں کے حقوق پوری دیانت اور پورے اخلاص کے ساتھ ادا کریں اور کسی کے جان و مال اور آبرو کے خلاف کوئی زیادتی نہ کریں۔

ہم اْنھیں دعوت دیتے ہیں کہ اپنے ماحول اور اپنے دائرہ عمل میں وہ ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کریں اور برائی سے روکیں۔ یہ اْن کا فرض ہے جو اْن کے پروردگار نے اْن پر عائد کیا ہے۔ یہ فرض باپ کو بیٹے کے لیے اور بیٹے کو باپ کے لیے، شوہر کو بیوی کے لیے اور بیوی کو شوہر کے لیے، بھائی کو بہن کے لیے اور بہن کو بھائی کے لیے، دوست کو دوست کے لیے اور پڑوسی کو پڑوسی کے لیے، غرض یہ کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ متعلق ہر شخص کے لیے ادا کرنا ہے۔ چنانچہ وہ جہاں یہ دیکھیں کہ اْن کے متعلقین میں سے کسی نے کوئی خلاف حق طریقہ اختیار کیا ہے، اْنھیں چاہیے کہ اپنے علم اور اپنی استعداد و صلاحیت کے مطابق اْسے راستی کی روش اپنانے کی نصیحت کریں۔

دین و دنیا کے کسی معاملے میں اْن کے جذبات، تعصبات، مفادات اور خواہشیں اگر اْنھیں انصاف کی راہ سے ہٹانا چاہیں تو حق و انصاف پر قائم رہیں، بلکہ یہ اگر گواہی کا مطالبہ کریں تو جان کی بازی لگا کر اِن کا یہ مطالبہ پورا کریں۔ حق کہیں، حق کے سامنے اپنا سر جھکا دیں، انصاف کی گواہی دیں اور اپنے عقیدہ و عمل میں انصاف کے سوا کبھی کوئی چیز اختیار نہ کریں۔

اْنھیں مذہبی جبر (persecution) کا نشانہ بنایا جائے تو تشدد کے جواب میں تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کے بجاے صبر کریں۔ اور ممکن ہو تو جس جگہ یہ صورت حال پیش آ جائے، اْس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام کی طرف منتقل ہو جائیں، جہاں وہ علانیہ اپنے دین پر عمل پیرا ہو سکیں۔
مدرسہ فراہی کے اکابر اہل علم نے خدا کی توفیق سے دین حق کو دور حاضر میں فقہ و کلام اور فلسفہ و تصوف کی ہر آمیزش سے الگ کر کے بے کم و کاست اور خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر پیش کر دیا ہے۔ اِس دین کی نشر و اشاعت، اِس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اِس کی روشنی میں مسلمانوں کے مذہبی فکر کی تشکیل جدید ایک جہاد کبیر ہے۔ ہم اْنھیں دعوت دیتے ہیں کہ اپنی تائید، اپنے وقت اور اپنے وسائل سے وہ اِس جہاد میں ہماری مدد کریں۔ یہ خدا کے سچے دین کی نصرت ہے جس سے زیادہ کوئی چیز بھی بندہ مومن کو عزیز نہیں ہونی چاہیے۔

’’ایمان والو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا تھا: کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنتا ہے۔حواریوں نے جواب دیا: ہم اللہ کے مددگار ہیں۔