بیت اللہ کی حرمت

بیت اللہ کی حرمت


عن بن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قال قال النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ--- إن هذا بَلَدٌ حرمه الله يومخَلَقَ السماوات وَالْأَرْضَ وهو حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لم يَحِلَّ الْقِتَالُ فيه لِأَحَدٍ قَبْلِي ولم يَحِلَّ لي إلا سَاعَةً من نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ولا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ولا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إلا من عَرَّفَهَا ولا يُخْتَلَى خَلَاهَا. (بخارى، رقم 1834)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کے دن ) فرمایا...یہ وہ شہر ہے جسے اللہ نے اس دن سے حرام ٹھہرایا ہے،جب اس نے زمین و آسمان پیدا فرمائے تھے۔ اللہ کی قائم کردہ اسی حرمت کی وجہ سے یہ قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ مجھ سے پہلے کسی شخص کو اس میں قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ میرے لیے بھی یہ دن کی ایک گھڑی ہی کے لیے حلال کیا گیا ۔ چنانچہ اللہ کی قائم کردہ اسی حرمت کی وجہ سے یہ اب بھی قیامت تک حرام ہی رہے گا۔ نہ اس کے کانٹوں والے درخت کاٹے جائیں گے ، نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے گا ، نہ اس میں گری ہوئی کوئی چیز اٹھائی جائے گی ، الاّیہ کہ کو ئی اسے مالک تک پہنچانے کے لیے اٹھائے ، اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی۔

________




Articles by this author