دیت کی بحث

دیت کی بحث


قرآن مجید میں قتل عمد میں قصاص کی معافی کی صورت میں، جبکہ قتل خطا میں مطلقاً مقتول کے ورثا کو دیت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مقدار سو اونٹ مقرر فرمائی۔ روایات سے ثابت ہے کہ دیت کی یہی مقدار اہل عرب میں پہلے سے ایک دستور کی حیثیت سے رائج چلی آ رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو برقرار رکھا۔ کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر وتصویب کو شرعی حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم بعض معاصر اہل علم یہ راے رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ تشریعی نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ آپ نے عرب معاشرے میں دیت کی پہلے سے رائج مقدار کو بطور قانون نافذ فرما دیا تھا اور زمانہ اور حالات کے تغیر کے تناظر میں دیت کے اصل مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے مختلف قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔۱؂

اس بحث کو اصولی سطح پر سمجھنے کے لیے دو مقدمے پیش نظر رہنے چاہییں: ایک یہ کہ مالی معاملات سے متعلق شریعت کے احکام میں مقدارات کو شرعاً متعین کرنے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے اور ان کی تعیین کو لوگوں کے حالات، مقامی رواج اور انفرادی صواب دید پر منحصر چھوڑ دینے کا بھی۔ زکوٰۃ کی مقدارات پہلی صورت کی جبکہ مہر وغیرہ کی مقدار دوسری صورت کی مثال ہے ۔ دوسرا یہ کہ جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تصویب سے ثابت بہت سے احکام ابدی تشریع کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں ان کی ایسی قسم بھی موجود ہے جو اصلاً 'قضا' اور 'سیاسہ' کے دائرے میں آتی ہے اور جن میں زمان ومکان کے تغیر سے تبدیلی ممکن ہے۔ ان اصولی مقدمات پر اتفاق کے بعد اہل علم کے مابین بعض مخصوص احکام کے حوالے سے یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ان کو پہلی قسم کے دائرے میں رکھا جائے یا دوسری قسم کے۔ ظاہر ہے کہ فریقین اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں نصوص اور عقل وقیا س پر مبنی قرائن وشواہد پیش کرتے ہیں۔

جہاں تک دیت کی مقدار کا تعلق ہے تو کلاسیکی فقہی موقف میں دیت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ مقدارات کو شرعی حیثیت سے تاابد لازم تسلیم کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں فقہا کا عمومی زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ سورۂ نساء (۴)کی آیت ۹۲میں قتل خطا کے احکام بیان کرتے ہوئے 'دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلآی اَہْلِہٖ' (قاتل پر دیت لازم ہوگی جو مقتول کے اہل خانہ کو ادا کی جائے گی) کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ مجمل ہیں اور اپنی مقدار کی تعیین کے لیے تبیین کے محتاج ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعے سے فرما دی ہے۔۲؂اس کے برعکس جلیل القدر اصولی فقیہ جصاص نے اس آیت میں 'دِیَۃٌ' کو مجمل اور محتاج بیان ماننے کے بجاے یہ راے اختیار کی ہے کہ دیت کا لفظ اپنے مفہوم اور مقدار کے اعتبار سے قرآن کے مخاطبین کے لیے پہلے سے واضح اور معروف تھا اور جب قرآن مجید نے قتل خطا کی صورت میں 'دیت' ادا کرنے کا حکم دیا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اہل عرب کے ہاں دیت کی جو بھی مقدار معروف ہے، اس کی پیروی کی جائے۔۳؂پہلی راے کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول فقہ کی اصطلاح میں ابتداءً تشریع کرتے ہوئے دیت کی مقدار مقرر فرمائی، جبکہ دوسری راے کے مطابق آپ نے اہل عرب کے پہلے سے رائج معروف کی تصویب فرما کر اسے شرعی حیثیت دے دی۔

یہ دونوں استدلالی زاویے الگ الگ تنقیح کا تقاضا کرتے ہیں:

پہلے زاویۂ استدلال کے حوالے سے یہ اصولی نکتہ بحث طلب ہے کہ عربیت کی رو سے کوئی ایسا لفظ جس کا مصداق تعداد یا مقدار کے اعتبار سے اپنی تعیین کا تقاضا کرتا ہو، لیکن متکلم اس سے تعرض کیے بغیر محض ایک اجمالی حکم بیان کرنے پر اکتفا کرے تو اس سے اس کا منشا کیا ہوتا ہے؟ فقہا بالعموم اس طرح کے مواقع پر دیگر نقلی یا قیاسی دلائل کی روشنی میں اس اجمال کی تفصیل وتعیین کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آیت حج ۴؂میں بحالت عذر قبل ازوقت سر منڈوا لینے کی صورت میں روزے، صدقہ یا قربانی کا کفارہ عائد کیا گیا ہے: 'فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ' ، لیکن روزوں کی تعداد یا صدقے کی مقدار بیان نہیں کی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو یہ صورت حال درپیش ہونے پر تین روزے رکھنے یا تین صاع غلہ چھ مسکینوں میں بانٹ دینے یا ایک بکری قربان کرنے کی ہدایت کی تھی۔۵؂جمہور فقہا کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور شرعی طور پر اسی کی پابندی لازم ہے،۶؂تاہم سعید بن جبیر، علقمہ، حسن بصری، نافع اور عکرمہ جیسے کبار تابعین سے اس صورت میں دس روزے رکھنے یا دس مسکینوں کو فی کس دو مکوک صدقہ دینے کا فتویٰ مروی ہے۔ ۷؂یہ فتویٰ ظاہر ہے کہ راے اور قیاس پر مبنی ہے اور اگر کعب بن عجرہ کی روایت، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تین روزے رکھنے یا چھ مسکینوں میں تین صاع غلہ تقسیم کرنے کا حکم دیا، ان حضرات کے پیش نظر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو تشریع پر محمول نہیں کرتے۔

اس ضمن میں بعض ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں قرآن میں وارد کسی مجمل لفظ کی دوسرے نصوص میں سرے سے کوئی تفصیل ہی نہیں کی گئی۔ چنانچہ سورۂ مائدہ(۵) کی آیت ۹۵میں احرام کی حالت میں کسی جانور کا شکار کرنے پر اسی جانور کی مثل ایک چوپایہ قربان کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا فیصلہ دو عادل آدمی کریں گے۔ اس کے متبادل کے طور پر کچھ مسکینوں کو کھانا کھلانے یا اس کے برابر روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے لیے 'اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی وضاحت شارع سے ثابت نہیں کہ کتنے مسکینوں کو کتنا کھانا کھلایا جائے یا کتنے روزے اس کے برابر تصور ہوں گے۔ اس کے برعکس سورۂ مائدہ (۵)کی آیت ۸۹میں قسم کے کفارے کے طور پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانے کی، جبکہ سورۂ مجادلہ (۵۸)کی آیت ۴میں ظہار کے کفارے کے طور پر دو ماہ کے روزے رکھنے یا اس کی عدم استطاعت کی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی تصریح کی گئی ہے۔ مفسرین نے مائدہ (۵) کی آیت ۹۵میں 'طَعَامُ مَسٰکِیْنَ' کے بار ے میں یہ بات سیاق کلام سے اخذ کی ہے کہ جس جانور کا شکار کیا گیا ہو، اس کی قیمت کے برابر کھانا مسکینوں کو دے دیا جائے۔ اس استنباط کی ایک حد تک گنجایش نکلتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مساوات یہاں متکلم کا مقصود ہے؟ اسی طرح اس امر کی تعیین کہ کتنے روزے اس کے مساوی قرار پائیں گے، سراسر قیاسی اور اجتہادی ہے۔ ایک راے یہ ہے کہ ہر مسکین کے کھانے کے عوض میں ایک روزہ رکھا جائے۔ دوسر ی راے کے مطابق ایک صاع طعام کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا ہوگا۔ ابن عباس سے نصف صاع کے عوض میں ایک روزہ رکھنے کی راے مروی ہے۔ ان سے متعین جانوروں کے شکار کی صورت میں طعام کی مقدار اور روزوں کی تعیین بھی منقول ہے۔ چنانچہ وہ ہرن کے شکار کی صورت میں چھ مسکینوں کا کھانا یا تین دن کے روزے، اونٹ کے شکار کی صورت میں بیس مسکینوں کا کھانا یا بیس روزے اور شتر مرغ یا جنگلی گدھے کے شکار کی صورت میں تیس مسکینوں کا کھانا یا تیس روزے تجویز کرتے ہیں۔۸؂مفسرین کا ایک اور گروہ شکار کیے جانے والے جانور کے مماثل جانور کی تعیین کی طرح مسکینوں کے کھانے کی مقدار یا روزوں کی تعداد متعین کرنے کے معاملے کو بھی دو عادل افراد کی صواب دید پر منحصر قرار دیتا ہے۔۹؂

ان مثالوں سے اس اصولی سوال کی جانب توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر شرعی نصوص میں اس طرح کے اسلوب میں مجمل لفظ کا کوئی متعین مصداق متکلم کے پیش نظر ہو تو اس کی وضاحت ہر جگہ عقلاً شارع کی ذمہ داری ہے، کیونکہ اس کے بغیر ا س کے منشا تک پہنچنے کا کوئی دوسرا ذریعہ میسر نہیں، لیکن عملاً بعض معاملات میں شارع کی طرف سے وضاحت میسر ہے اور بعض میں نہیں۔ اس کا مطلب کیا یہ سمجھا جائے کہ جہاں جہاں اس کی صراحت موجود ہے، وہاں تو تعیین ہی شارع کا منشا ہے، جبکہ عقل و قیاس یا عرف کی طرف رجوع شارع کی طرف سے کوئی صراحت موجود نہ ہونے کی صورت میں ہی کیا جائے گا یا اس کے برعکس، یہ تصور کیا جائے کہ قرآن مجید میں کسی تحدید اور تعیین کے بغیر وارد ہونے والے حکم میں شارع کا اصل منشا عدم تعیین ہی ہے، جبکہ اس حکم پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار یا تجویز کردہ کوئی مخصوص طریقہ مختلف امکانی صورتوں میں سے ایک صورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر امکانات کے لیے بھی گنجایش موجود ہے؟

اب دوسرے زاویۂ نگاہ کو لیجیے:

جصاص کی یہ بات کہ 'دیۃ' کا لفظ اپنے مفہوم اور مصداق کے اعتبار سے اس مخصوص مقدار پر دلالت کرتا ہے جو قرآن کے مخاطبین کے نزدیک معروف تھی، عربیت کی رو سے قابل اشکال ہے۔ یہ بات اس کے لغوی مفہوم، یعنی ''وہ مال جو خوں بہا کے طور پر ادا کیا جائے'' کی حد تک درست ہے، لیکن اگر اس کی اس مخصوص مقدار کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا جو مخاطب کے نزدیک معروف تھی تو عربیت کی رو سے لفظ 'دیۃ' کو معرف باللام ہونا چاہیے تھا، کیونکہ اسم نکرہ کسی لفظ کے سادہ لغوی مفہوم سے بڑھ کر اس کے کسی مخصوص ومتعین مصداق پر دلالت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ چنانچہ قرآن مجید کا یہاں لفظ 'دیۃ' کو نکرہ لانا درحقیقت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس کی کسی مخصوص مقدارکی تعیین یا اس کی طرف اشارہ سرے سے اس کے پیش نظر ہی نہیں ہے۔ اس ضمن میں سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۱۷۸میں دیت کی ادائیگی کے حوالے سے 'فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ' کے الفاظ قابل غور ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مقتول کے اولیا قاتل کو معاف کر دینے پر راضی ہو جائیں تو پھر قاتل کو معروف کے مطابق اس معاملے کی پیروی کرنی چاہیے۔ تنقیح طلب سوال یہ ہے کہ آیا یہاں اہل عرب کے عرف اور رواج کو شرعی طور پر لازم قرار دے کر اس کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے یا دیت کے معاملے کو اصلاً عرف پر منحصر قرار دیا گیا ہے؟ اس حوالے سے یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید میں جن دیگر معاملات میں 'معروف' کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، وہ بالاتفاق ہر دور اور معاشرے کے اپنے اپنے عرف اور رواج پر ہی منحصر مانے جاتے ہیں۔ چنانچہ بیویوں کے نان و نفقہ سے متعلق 'وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗرِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ'، ۱۰؂متعۃ الطلاق کے بارے میں 'وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ' ،۱۱؂مہر سے متعلق 'وَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ' ۱۲؂اور یتیم کے مال میں سرپرست کے حق کے بارے میں 'فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ'۱۳؂کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں معروف کا حوالہ دینے سے اگرچہ اصلاً یہ مراد نہیں ہے کہ نان ونفقہ اور مہر وغیرہ کی مقدار رواج کے مطابق طے کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان معاملات میں معاشرے کے دستور کے مطابق شریفانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے، تاہم ظاہر ہے کہ اس سے ضمناً اور بالواسطہ نان ونفقہ اور مہر وغیرہ کی مقدار کی تعیین بھی معروف ہی پر منحصر قرار پاتی ہے۔

دیت کی مقدار کو ہر معاشرے کے عرف ورواج پر مبنی قرار دینے کی راے کے پس منظر میں مزید براں یہ عقلی استدلال بھی کار فرما ہے کہ مالی تقدیرات کے باب میں اسی چیز کو معیار مقرر کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص ماحول اور کلچر میں معاشی اہمیت کے لحاظ سے معیار بننے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ چنانچہ اہل عرب کے مخصوص تمدنی پس منظر میں تو اونٹوں کو دیت کے لیے معیار بنانا درست تھا، لیکن دنیا کے باقی تمام معاشروں کے لیے ہر زمانے میں اسی معیار کو لازم قرار دینا درست نہیں ہو سکتا۔ ۱۴؂

یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ بعض تابعین کے علاوہ فقہاے احناف اور مالکیہ کم از کم قتل عمد کی صورت میں دیت کی کسی مخصوص مقدار کو شرعاً لازم نہیں مانتے اور ان کے نزدیک فریقین جس مقدار پر بھی باہم صلح کر لیں، درست ہوگا۔ اس ضمن میں ایک زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ اس صورت میں ورثا کو ادا کی جانے والی رقم سرے سے 'دیت'، یعنی مقتول کی جان کا عوض ہے ہی نہیں، بلکہ درحقیقت حق قصاص سے دست بردار ہونے کا معاوضہ ہے جس کی کوئی مقدار شریعت میں مقرر نہیں کی گئی، جبکہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ رقم مقتول کی جان ہی کا عوض ہے اور اولیاے مقتول جتنی رقم چاہیں، مانگنے کا حق رکھتے ہیں۔۱۵؂

دیت کے معاملات کے کسی بھی معاشرے کے عرف پر مبنی ہونے کے تناظر میں دیت کی مقدار کے علاوہ 'عاقلہ' کا فقہی تصور بھی قابل غور ہے۔ 'عاقلہ' سے مراد سماجی سطح پر افراد کا وہ مجموعہ ہے جو اپنے میں سے کسی ایک فرد پر عائد ہونے والی دیت کی ادائیگی میں اجتماعی طور پر شریک ہو۔ جاہلی عرب میں یہ حیثیت قبیلے کو حاصل تھی، اور اگر مجرم کی مالی حیثیت تاوان ادا کرنے کی اجازت نہ دیتی تو اہل قبیلہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی قتل کے ایک مقدمے میں عاقلہ پر دیت لازم کرنے کا فیصلہ ثابت ہے۔ ۱۶؂جہاں تک اس کی قانونی بنیاد کا تعلق ہے تو عقل و قیاس کی رو سے کسی شخص کی جنایت کا تاوان کسی دوسرے شخص پر اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ڈالا جا سکتا۔ چنانچہ عاقلہ پر دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری ڈالنا کوئی اجباری معاملہ نہیں، بلکہ قبائلی معاشرے کی روایات کے مطابق تعاون وتناصر ہی کے اصول پر مبنی ایک ضابطہ تھا۔ قبائلی نظام میں ایک قبیلے کے افراد عصبیت کے ایک مستحکم رشتے میں بندھے ہوتے ہیں جس کی رو سے پورا قبیلہ اپنے ہر فرد کے جان و مال کے تحفظ اور اس پر عائد ہونے والی مالی ذمہ داریوں میں شریک اور ضرورت کے موقع پر اس کی مدد کرنے کا پابند سمجھا جاتا ہے۔ کسی فرد سے کوئی جنایت سرزد ہو جانے کی صورت میں تاوان کی ادائیگی میں 'عاقلہ' کا شریک ہونا اسی تصور پر مبنی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفا نے اہل عرب کے بے حد حکمت ومصلحت پر مبنی اس عرف کو برقرار رکھا، تاہم اس ضمن میں خود صحابہ کے ہاں حالات کے تغیر کی روشنی میں اجتہاد کی ایک واضح مثال ملتی ہے۔ عرب جاہلیت میں تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، مجرم کے قبیلے ہی کو اس کی 'عاقلہ' سمجھا جاتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی دستور کو قائم رکھا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں جب نئی انتظامی تقسیم کرتے ہوئے 'دیوان' کا نظام رائج کیا تو قبیلے کے بجاے ایک دیوان میں شریک لوگوں کو 'عاقلہ' قرار دیا۔ سرخسی سیدنا عمر کے اس اجتہاد کی اساس کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فان قیل کیف یظن بہم الاجماع علی خلاف ما قضی بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم؟ قلنا ہذا اجتماع علی وفاق ما قضی بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہم علموا ان رسول اللّٰہ قضی بہ علی العشیرۃ باعتبار النصرۃ وکانت قوۃ المرء ونصرتہ یومئذ بعشیرتہ ثم لما دون عمر رضی اللّٰہ عنہ الدواوین صارت القوۃ والنصرۃ بالدیوان فقد کان المرء یقاتل قبیلتہ عن دیوانہ.( المبسوط ۲۷/ ۱۲۸۔ ۱۲۹)

''اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ کے بارے میں کیسے یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف اجماع کر لیا ہو تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ اجماع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےفیصلے کے (خلاف نہیں، بلکہ اس کے) مطابق ہے، کیونکہ صحابہ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ نے قبیلے پر دیت کی ادائیگی امداد باہمی کے اصول پر لازم کی ہے اور آپ کے زمانے میں کسی شخص کا قبیلہ ہی اس کی قوت اور نصرت کا مدار ہوتا تھا۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے دیوان کا نظام بنا دیا تو اب قوت اور نصرت کا مدار دیوان بن گیا۔ چنانچہ (اگر لڑائی کا موقع آ جاتا تو) ایک شخص اپنے دیوان کے دفاع میں اپنے ہی قبیلے کے خلاف جنگ کیا کرتا تھا۔''

فقہاے احناف نے اسی اصول پر بعد میں دیوان کا نظام ختم ہو جانے کے بعد ایک پیشے سے منسلک افراد کے مجموعے کو عاقلہ قرار دیا تھا،۱۷؂جبکہ فقہا یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ جہاں عاقلہ کی کوئی بھی شکل باقی نہ رہ گئی ہو، وہاں اگر قاتل کے لیے دیت کی ادائیگی مشکل ہو تو اس کی ذمہ داری بیت المال کو اٹھانا ہوگی۔۱۸؂

اس تناظر میں ظاہر ہے کہ دور جدید میں عاقلہ سے متعلق قدیم فقہی قوانین کو بعینہٖرائج نہیں کیا جا سکتا۔ تمدن کے ارتقا نے شہری معاشرے میں بالعموم نہ وہ قبائلی عصبیت باقی رہنے دی ہے جو 'عاقلہ' کے تصو رکی بنیاد تھی اور نہ 'دیوان' کی طرز کا کوئی متبادل نظام موجود ہے۔ چنانچہ یہ سراسر ایک اجتہادی معاملہ ہے جس میں تمدنی نفسیات اور احوال وظروف کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بھی نوعیت کی مناسب قانون سازی کی جا سکتی ہے۔

عورت کی دیت

دیت کی مقدار کے حوالے سے ایک اور اہم اور نازک بحث بھی یہاں تنقیح کا تقاضا کرتی ہے:

فقہا کم وبیش اس بات پر متفق ہیں کہ عورت قصاص کے معاملے میں تو مرد کے مساوی ہے، لیکن اس کی دیت مرد کی دیت کے برابر نہیں۔ اس باب میں فقہا کے موقف کی بنیاد اصلاً صحابہ اور تابعین سے منقول فیصلوں پر ہے، تاہم خود صحابہ اور تابعین کے اس موقف کا ماخذ کیا ہے؟ یہ ایک نازک سوال ہے ، اس لیے کہ جہاں تک قرآن مجید اور صحیح احادیث کا تعلق ہے تو ان میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کا کوئی ذکر نہیں۔ قرآن مجید میں تو دیت کی مقدار سرے سے زیر بحث ہی نہیں آئی ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مستند ارشادات یا فیصلوں میں کہیں بھی مرد اور عورت کی دیت کے مابین تفریق نہیں کی گئی، بلکہ ہر جگہ کسی فرق کے بغیر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہی بیان کی گئی ہے۔

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من قتل خطأ فدیتہ ماءۃ من الابل.(نسائی، رقم ۴۷۱۹)

''جو شخص خطا سے قتل ہو جائے، اس کی دیت سو اونٹ ہے۔''

یہاں مرد اور عورت کی دیت میں کوئی فرق نہیں بیان کیا گیا جو اس تناظر میں بالخصوص قابل توجہ ہے کہ اسی روایت میں دیت سے متعلق بعض دیگر تفصیلات کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ روایت کے آخر میں عورت کے حوالے سے اس خصوصی اور امتیازی حکم کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اگر عورت کسی کو قتل کر دے تو اس کی طرف سے دیت اس کی عاقلہ ادا کرے گی۔ اگر مرد اور عورت کی دیت میں فرق بھی دیت کے احکام کا حصہ ہوتا تو موقع کلام اس کا مقتضی تھا کہ یہاں اس کی تصریح کی جائے۔

ایک دوسری روایت میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کانت قیمۃ الدیۃ علی عہد رسول اللّٰہ ثمان ماءۃ دینار اوثمانیۃ آلاف درہم ودیۃ اہل الکتاب یومئذ النصف من دیۃ المسلمین.(ابو داؤد، رقم ۳۹۳۷)

''رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عہد میں دیت (کے اونٹوں ) کی قیمت آٹھ سودینار یا آٹھ ہزار درہم تھی، جبکہ اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے نصف مقرر کی گئی تھی۔''

یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی دیت کا فرق تو واضح کیا گیا ہے، لیکن مرد اور عورت کی دیت میں فرق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے گورنر عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو دیت سے متعلق جو ہدایات لکھ کر دیں، وہ خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ آپ نے تحریر فرمایا:

ان من اعتبط مومنًا قتلًا عن بینۃ فانہ قود الا ان یرضی اولیاء المقتول وان فی النفس الدیۃ ماءۃ من الابل وفی الانف اذا اوعب جدعہ الدیۃ وفی اللسان الدیۃ وفی الشفتین الدیۃ وفی البیضتین الدیۃ وفی الذکر الدیۃ وفی الصلب الدیۃ وفی العینین الدیۃ وفی الرجل الواحدۃ نصف الدیۃ وفی المامومۃ ثلث الدیۃ وفی الجائفۃ ثلث الدیۃ وفی المنقلۃ خمس عشرۃ من الابل وفی کل اصبع من اصابع الید والرجل عشر من الابل وفی السن خمس من الابل وفی الموضحۃ خمس من الابل وان الرجل یقتل بالمراۃ وعلی اہل الذہب الف دینار.(سنن النسائی، رقم ۴۷۷۰)

''جو شخص کسی مومن کو قتل کر دے اور اس کا قاتل ہونا مبرہن ہو جائے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیا قصاص نہ لینے پر رضامند ہو جائیں۔ پوری انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ اسی طرح ناک اگر جڑ سے کاٹ دی جائے تو اس کی پوری دیت ہے۔ زبان اور دونوں ہونٹوں اور دونوں خصیوں اور آلۂ تناسل اور ریڑھ کی ہڈی اور دونوں آنکھوں کی بھی پوری دیت ہے۔ ایک پاؤں کی دیت نصف ہوگی۔ سر کا زخم دماغ تک جا پہنچے تو ایک تہائی دیت ہوگی۔ پیٹ کا زخم اندر تک چلا جائے تو بھی ایک تہائی دیت ہوگی۔ جس چوٹ سے ہڈی ٹوٹجائے، اس کی دیت پندرہ اونٹ ہے۔ ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔ ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔ جس زخم سے گوشت ہٹ کر ہڈی نظر آنے لگے، اس کی دیت بھی پانچ اونٹ ہے۔ اگر مرد کسی عورت کو قتل کرے تو اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ جن لوگوں کے پاس سونا ہے، ان کے لیے دیت کی مقدار (سو اونٹ کے بجاے) ایک ہزار دینا ر ہے۔''

یہ ہدایات ایک باقاعدہ سرکاری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں اور قتل یا جراحات کے باب میں مرد اور عورت کی دیت میں شرعی طور پر فرق موجود ہونے کی صورت میں یہاں اس کا ذکر نہ کرنا کسی طرح قابل فہم نہیں۔ چنانچہ دوسری صدی ہجری کے کم از کم دو معروف فقیہ ابوبکر اصم اور ابن علیہ اسی بنیاد پر یہ راے رکھتے ہیں کہ مرد اور عورت کی دیت مقدار کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے۔۱۹؂

اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جانے والی روایات سب کی سب ضعیف ہیں۔ چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت 'دیۃ المراۃ علی النصف من دیۃ الرجل'۲۰؂کے ایک راوی بکر بن خنیس کو ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے،۲۱؂جبکہ دوسرے راوی عبادہ بن نسی کی بیش تر روایات کو محدثین منقطع قرار دیتے ہیں۔۲۲؂اسی طرح عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی روایت 'عقل المراۃ مثل عقل الرجل حتی یبلغ الثلث من دیتہا'۲۳؂کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے جس کی غیر شامی اور بالخصوص حجازی راویوں سے نقل کردہ روایت کو محدثین صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ امام بیہقی نے اسی بنا پر معاذ بن جبل کی روایت کو غیر ثابت اور عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔۲۴؂تیسری روایت امام شافعی نے مسلم بن خالد عن عبد اللہ بن عمر عن ایوب بن موسیٰ کی سند سے ابن شہاب، مکحول اور عطا سے نقل کی ہے جس میں وہ آزاد مسلمان خاتون کی دیت پانچ سو دینار یا پچاس اونٹ، یعنی مرد کی دیت کے نصف بیان کرتے ہیں،۲۵؂اس کا ایک راوی مسلم بن خالد الزنجی نہایت ضعیف ہے۔۲۶؂مزید براں یہ مرسل روایت ہے اور اس کو روایت کرنے والے تابعین میں سے عطاء بن ابی رباح اور ابن شہاب کی مراسیل بطور خاص ناقابل اعتبار سمجھی جاتی ہیں۔ عطا ء ہر طرح کے لوگوں سے روایت لے لیا کرتے تھے،۲۷؂جبکہ زہری کی مراسیل کو 'بمنزلۃ الریح' اور 'شر المراسیل' کہا جاتا ہے۔۲۸؂

یہ بحث تو عورت کی جان کی دیت کے متعلق ہے، جبکہ عورت کے اعضا و جوارح کی دیت کے حوالے سے صحابہ اور تابعین کی آرا میں پایا جانے والا باہمی اختلاف یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی بنیاد کسی نص یا مسلمہ تعامل پر نہیں، بلکہ راے اور قیاس پر ہے۔ چنانچہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی راے میں دیت کی ایک تہائی مقدار تک تو مرد اور عورت، دونوں کی دیت یکساں ہے، جبکہ اس کے بعد عورت کی دیت نصف ہو جائے گی۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی راے یہ ہے کہ دانتوں میں اور ایسے زخم میں جس سے ہڈی ننگی ہو جائے، عورت اور مرد کی دیت یکساں اور باقی صورتوں میں نصف ہو گی، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی راے میں کم یا زیادہ ہر مقدار میں عورت کی دیت مرد کے نصف ہے۔۲۹؂

پھر عورت کی دیت کے بارے میں ان فیصلوں کا خلاف قیاس ہونا بھی سلف کے ہاں زیر بحث رہا ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ربیعۃ الرائے نے سعید بن المسیب سے پوچھا کہ عورت کی ایک انگلی کی دیت کتنی ہے؟ انھوں نے کہا: دس اونٹ۔ ربیعہ نے پوچھا کہ دو انگلیوں کی؟ سعید نے کہا: بیس اونٹ۔ ربیعہ نے کہا کہ تین انگلیوں کی؟ سعید نے کہا کہ تیس اونٹ۔ ربیعہ نے پوچھا کہ چار انگلیوں کی؟ تو سعید نے کہا کہ بیس اونٹ۔ اس پر ربیعہ نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ زیادہ زخمی اور مبتلاے مصیبت ہونے پر دیت بجاے بڑھنے کے کم ہو گئی ہے؟ سعید نے یہ کہہ کر انھیں ڈانٹ دیا کہ کیا تم عراقی (یعنی شرعی احکام میں عقل وقیاس کو دخل دینے والے) ہو؟ سنت یہی ہے،۳۰؂تاہم یہ جواب اس لیے تسلی بخش نہیں ہے کہ تعبدی امور کا دائرہ ماوراے عقل تو ہوتا ہے، لیکن خلاف عقل نہیں، جبکہ یہاں عورت پر کم تر درجے کی تعدی کی صورت میں جانی پر زیادہ دیت عائد کرنے اور زیادہ تعدی کی صورت میں کم دیت وصول کرنے کا مسئلہ بدیہی طور پر خلاف عقل اور قانون و انصاف کے مبادیات کے منافی ہے۔ سعید ابن المسیب کے اس فیصلے کو 'سنت' قرار دینے سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے کہ تابعین اور اتباع تابعین کے ہاں نہ صرف ناقص اور غیر مستند معلومات کی بنا پر کسی عمل کو 'سنت' قرار دینے کی مثالیں مل جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات وہ منصوص اور مرفوع احکام کے علاوہ صحابہ وتابعین کے طرزعمل اور وسیع تر مفہوم میں بعض مستنبط آرا پر بھی 'سنت' کے لفظ کا اطلاق کر دیتے ہیں۔ امام زہری کے اقوال میں اس کی کچھ مثالیں ہم '' شہادت کا معیار اور نصاب'' کے زیر عنوان ذکر کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ان بیانات سے کوئی ٹھوس علمی نتیجہ اخذ کرنا اہل علم میں ہمیشہ سے محل نزاع رہا ہے۔ امام ابو یوسف امام اوزاعی کی ایک راے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

رای بعض مشایخ الشام ممن لا یحسن الوضوء ولا التشہد ولا اصول الفقہ صنع ہذا فقال الاوزاعی بہذا مضت السنۃ.(الرد علیٰ سیر الاوزاعی ۲۱)

''شاید اوزاعی نے شام کے بعض بزرگوں کو، جنھیں نہ اچھی طرح وضو کرنا آتا ہے اور نہ تشہد پڑھنا اور نہ وہ تفقہ کے اصولوں سے واقف ہیں، ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہوگا اور یہ کہہ دیا ہوگا کہ سنت یہی چلی آ رہی ہے۔''

امام شافعی نے اسی نکتے کی روشنی میں دیت سے متعلق سعید ابن المسیب کے مذکورہ قول پر اپنے موقف کی بنیاد نہیں رکھی اور فرمایا ہے:

کنا نقول بہ علی ہذا المعنی ثم وقفت عنہ واسأل اللّٰہ الخیرۃ من قبل انا قد نجد منہم من یقولالسنۃ ثم لا نجد لقولہ السنۃ نفاذًا بانہا عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم والقیاس اولی بنا فیہا.(بیہقی، معرفۃ السنن والآثار ۱۲/ ۱۳۶)

''ہم بھی اس کو سنت ہی قرار دیتے تھے، لیکن پھر ہم نے اس سے رجوع کر لیا اور ہم اللہ سے خیر کے طلب گار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بعض لوگوں کو 'سنت' کا لفظ کہتے ہوئے سنتے ہیں، لیکن پھر ہمیں اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں ہم قیاس کرنے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔''

اس ضمن میں ایک قیاسی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ چونکہ وراثت میں عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں نصف ہے اور اس کی گواہی بھی آدھی قرار دی گئی ہے، اس لیے اس کی دیت بھی آدھی مقرر کی گئی ہے۔۳۱؂یہ قیاس اس لیے محل نظر ہے کہ مذکورہ دونوں حکموں میں مرد اور عورت کے مابین فرق کی وجہ عورت کا انسانی حیثیت سے مرد کے مقابلے میں کم تر ہونا نہیں، بلکہ بعض اضافی پہلو ہیں، جبکہ قصاص اور دیت کا تعلق انسانی جان کی حرمت سے ہے جس میں مرد اور عورت، دونوں بالکل یکساں درجہ رکھتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کی دیت میں تفریق اس کے بغیر ممکن نہیں کہ خود انسانی حیثیت میں عورت کے وجود کو مرد سے فروتر اور اس کی جان کو مرد کے مقابلے میں کم قیمت قرار دیا جائے۔ ابن قیم جیسے بالغ نظر عالم بھی اس فرق کی یہی عقلی توجیہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کی راے میں مرد، عورت کے مقابلے میں انسانی معاشرت اور تمدن کے لیے زیادہ نفع بخش کردار ادا کرتا ہے اور اجتماعی زندگی کی جن ذمہ داریوں، مثلاً دینی مناصب، حکومت واقتدار، جنگ وپیکار، کھیتی باڑی، صنعت وحرفت اور جان ومال کی محافظت وغیرہ سے مرد عہدہ برآ ہو سکتا ہے، عورت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ عورت کی جان کی قیمت بھی مرد کی جان کے برابر نہیں ہو سکتی اور اسی لیے اس کی دیت بھی نصف رکھی گئی ہے،۳۲؂تاہم امام صاحب نے اس پہلو سے تعرض نہیں کیا کہ خود حیات انسانی کی بقا اور نسل انسانی کے تسلسل میں عورت جو کردار بچوں کی ولادت اور ان کی پرورش کی صورت میں ادا کرتی ہے، اس کے بغیر نہ معاشرت اور تہذیب وتمدن وجود میں آ سکتے ہیں اور نہ مردوں کے لیے مذکورہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کا کوئی موقع ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ مزید براں امام صاحب کے زاویۂ نگاہ سے یہ سوال بھی تشنہ جواب رہتا ہے کہ اگر عورت کی جان مرد کے مقابلے میں کم تر قیمت کی حامل ہے تو پھر قتل کی صورت میں مرد اور عورت کے باہمی قصاص کے معاملے میں اس فرق اور تفاوت کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا ہے؟

بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند ارشادات میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کی کوئی بنیاد موجود نہ ہونے کی صورت میں غور طلب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے ہاں اس تصور کی اساس کیا ہے؟ اگر اس کی جڑیں اہل عرب کے مخصوص معاشرتی تصورات میں پیوست ہیں تو پھر یہ بحث ایک دوسری اہم تر اور زیادہ گہری بحث سے متعلق ہو جاتی ہے۔ دیت کو مقتول کے قتل سے لاحق ہونے والے معاشی نقصان کا بدل مانا جائے یا قاتل کے لیے جرمانہ اور تاوان، دونوں صورتوں میں عورت کی دیت آدھی مقرر کرنے کے پس منظر میں اس کی جان کی قیمت کے مرد سے کم تر ہونے کا تصور کار فرما ہے۔ اگر قرآن نے اس تصور کی تائید نہیں کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو سند جواز عطا نہیں کی تو اس پر مبنی ایک قانون کو چاہے وہ اہل عرب کے معروف اور دستور ہی کی صورت کیوں نہ اختیار کر چکا ہو، صحابہ اور تابعین کے ہاں کیوں پذیرائی حاصل ہوئی؟ کیا اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرت کے بہت سے تصورات اور رسوم کی عملی اصلاح کر دی گئی، تاہم بعض تصورات جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر وقیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے کی اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز اور موثر نہ ہو سکیں اور صحابہ وتابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انھی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو؟ معروضی تصورات اور حالات کی رعایت کا اصول بجاے خود درست، حکیمانہ اور نصوص سے ماخوذ ہے، لیکن اس صورت میں فقہی اجتہادات میں ایک 'مسلمہ' کی حیثیت سے مانے جانے والے اس تصور پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے کہ منصوص احکام کے ساتھ ساتھ مستنبط اور اجتہادی قوانین واحکام کی وہ عملی صورت بھی جو تاریخ اسلام کے صدر اول میں اختیار کی گئی، مذہبی زاویۂ نگاہ سے ایک آئیڈیل اور معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔

اصول فقہ کے ایک طالب علم کو اس بحث میں فقہاے احناف کے اصولی منہج میں بے قاعدگی (inconsistency) کے اس سوال سے بھی سابقہ پیش آتا ہے جس کی مثالیں احناف کی آرا میں جابجا پائی جاتی ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ احناف مسلم اور غیر مسلم کے باہمی قصاص اور غیرمسلم کی دیت کے معاملے میں تو قرآن مجید کے الفاظ کے عموم کی روشنی میں صحابہ کے فتاویٰ اور فیصلوں اور قانونی تعامل کو نظر انداز کرتے یا ان کی توجیہ وتاویل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، لیکن عورت کی دیت کے معاملے میں قرآن مجید کے عموم، صحیح وصریح احادیث اور عقل وقیاس کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف عورت کی دیت کو مرد سے نصف قرار دیتے ہیں، بلکہ جراحات میں مرد اور عورت کے مابین سرے سے قصاص ہی کے قائل نہیں۔ ۳۳؂

___________

۱؂امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن ۲/ ۳۶۱۔ جاوید احمد غامدی، برہان ۱۱۔ عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن: حدود و تعزیرات اور قصاص ۴۵۲۔ ۴۶۷۔

۲؂کاسانی، بدائع الصنائع ۷/ ۲۵۷۔ قاضی ثناء اللہ، تفسیر مظہری ۲/ ۸۴۱۔

۳؂جصاص، احکام القرآن ۲/ ۲۳۸۔

۴؂البقرہ ۲: ۱۹۶۔

۵؂بخاری، رقم ۱۶۸۶۔

۶؂الشافعی، الام ۶/ ۱۹۰۔ ۱۹۱۔ السرخسی، المبسوط ۴/ ۷۵۔

۷؂ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ۱/ ۲۳۳۔ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ۲/ ۳۸۳۔

۸؂ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ۲/ ۱۰۰۔

۹؂ابو الاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن ۱/۵۰۴۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن ۲/ ۵۹۶۔

۱۰؂البقرہ ۲: ۲۳۳۔

۱۱؂البقرہ۲: ۲۴۱۔

۱۲؂النساء۴: ۲۵۔

۱۳؂النساء ۴: ۶۔

۱۴؂جاوید احمد غامدی، برہان ۱۸۔ عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن: حدود وتعزیرات اور قصاص ۴۵۲۔ ۴۶۷۔

۱۵؂الشیبانی، المبسوط ۴/ ۴۸۴۔ ۴۸۵۔ سحنون ،المدونۃ الکبریٰ۱۱/ ۳۷۰، ۱۴/ ۴۴۳۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۲۱۱۔ ۱۸۲۱۲۔ طبری، تہذیب الآثار، مسند ابن عباس، رقم ۵۰۔ ۵۲۔ سرخسی، المبسوط ۲۶/ ۱۲۳۔ ابن رشد، بدایۃ المجتہد ۲/ ۳۰۷۔ وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۳۰۹۔ السید السابق، فقہ السنہ ۳/ ۴۷۔

۱۶؂نسائی، رقم ۴۷۴۳۔

۱۷؂وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۳۲۶۔

۱۸؂مسائل الامام احمد بن حنبل واسحاق بن راہویہ ۲/ ۲۲۶۔ الدر المختار ۶/ ۶۴۶۔ ۶۴۷۔ وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۳۲۴۔ السیدالسابق، فقہ السنہ ۳/ ۵۱۔ محمد متین ہاشمی، اسلام کا قانون شہادت ۳۷۶۔

۱۹؂ابن قدامہ، المغنی ۹/ ۵۳۲۔ ابو اسحاق الحنبلی، المبدع ۸/ ۳۵۰۔

۲۰؂بیہقی، رقم ۱۶۰۸۴۔ ''عورت کی دیت مرد کی دیت کے نصف ہے۔''

۲۱؂الکامل فی الضعفاء ۲/ ۲۵۔ الضعفاء الکبیر ۱/ ۱۴۸۔ الجرح والتعدیل ۲/ ۳۸۴۔ تہذیب الکمال ۴/ ۲۱۰۔

۲۲؂جامع التحصیل ۱/ ۲۰۶۔ الکاشف ۱/ ۵۳۳۔

۲۳؂دارقطنی ۳/ ۹۱۔ ''دیت کے ایک تہائی حصے تک عورت کی دیت مرد کے برابر ہے۔ ''

۲۴؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۰۹۱۔

۲۵؂الشافعی، الام ۶/ ۱۱۷۔

۲۶؂الضعفاء الکبیر ۴/ ۱۵۱۔ الجرح والتعدیل ۸/ ۱۸۳۔

۲۷؂تہذیب التہذیب ۷/ ۱۸۲۔

۲۸؂ابن الہمام، فتح القدیر ۵/ ۵۰۳۔ شوکانی، نیل الاوطار ۷/ ۲۶۴۔

۲۹؂الشیبانی، کتاب الآثار، رقم ۵۷۹۔ ابن رشد، بدایۃ المجتہد ۲/ ۳۱۹۔ قاضی ثناء اللہ، تفسیر مظہری ۲/ ۳۸۰۔

۳۰؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۰۹۰۔

۳۱؂ابن عبد البر، التمہید ۱۷/ ۳۵۸۔ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ۵/ ۳۲۵۔

۳۲؂اعلام الموقعین ۴۰۶۔

۳۳؂الشیبانی، المبسوط ۴/ ۳۵۰۔

____________________




Articles by this author