عہد نبوی وعہد صحابہ میں جہاد و قتال کی نوعیت (حصہ دوم)

عہد نبوی وعہد صحابہ میں جہاد و قتال کی نوعیت (حصہ دوم)


اس ضمن میں پہلا اور فیصلہ کن معرکہ بدر میں بپا ہوا ۔ ذخیرۂ سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ بدر کے محرکات میں، من جملہ دیگر عوامل کے، تحریش واغرا (Provocation) کی وہ کارروائیاں بھی شامل تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وقتاً فوقتاً قریش کے تجارتی قافلوں پر حملوں کی صورت میں کی گئیں۔ چنانچہ قریش اسی طرح کے ایک حملے کی اطلاع پا کر اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے مکہ سے نکلے اور اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے مطابق بدر کے مقام پر ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ہوا۔ ابوسفیان اپنی تدبیر سے قریش کے تجارتی قافلے کو مسلمانوں سے بچا لے جانے میں کامیاب ہو گئے تو سرداران قریش میں سے بعض نے اس بات کی کوشش کی کہ ان کے اور مسلمانوں کے مابین لڑائی نہ ہو، تاہم ابو جہل نہیں مانا اور یہ معرکہ برپا ہو کر رہا۔ اس موقع پر جنگ سے گریز کا مشورہ دینے والے سرداروں کی گفتگو سے عیاں ہے کہ جزیرۂ عرب پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عزم وارادہ ان پر بالکل واضح تھا۔ چنانچہ عتبہ بن ربیعہ نے اپنے خطبے میں قریش کو مخاطب کر کے کہا:

یا معشر قریش .... ارجعوا وخلوا بین محمد وبین سائر العرب فان اصابوہ فذاک الذی اردتم وان کان غیر ذلک الفاکم ولم تعرضوا منہ ما تریدون (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/ ۵۵۰، ۵۵۱)

''اے گروہ قریش! .... واپس چلے چلو اور محمد اور پورے عرب کو آپس میں نمٹنے دو۔ اگر اہل عرب محمد پر غالب آ گئے تو یہی تم چاہتے ہو اور اگر اس سے مختلف معاملہ ہوا (اور تمھیں بھی محمد کے سامنے سر جھکانا پڑا) تو وہ تمھیں اس حال میں پائیں گے کہ تم نے ان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں کی ہوگی جس کا تم اس وقت ارادہ رکھتے ہو۔''

بہرحال جنگ بدر میں قریش کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی صف اول کی قیادت تہ تیغ ہو گئی اور ستر کے قریب قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ قریش کی یہ عبرت ناک شکست درحقیقت فتح مکہ کی تمہید تھی، چنانچہ اس موقع پر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے اشعار میں سرداران قریش کو یوں خبردار کیا:

فلا تعجل ابا سفیان وارقب جیاد الخیل تطلع من کداء

بنصر اللہ روح القدس فیہا ومیکال فیا طیب الملاء

(السیرۃ النبویۃ ۲/ ۲۵)

''ابو سفیان! جلدی میں مت پڑو اور اس وقت کا انتظار کرو جب (محمد اور اصحاب محمد کے) عمدہ اور بہترین گھوڑے مقام کداء سے نمودار ہوں گے۔ ان کو اللہ کی مدد اور جبریل اور میکائیل کی رفاقت حاصل ہوگی۔ سو یہ کیسی پاکیزہ جماعت ہوگی۔''

احد اور احزاب کی جنگیں بھی بدر ہی سے شروع ہونے والے سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ ان جنگوں کے ذریعے سے قریش کی طاقت اور ان کے عزم وہمت کو شکست دینے کا مقصد پورا ہو گیا اور ۵ہجری میں غزوۂ خندق کے موقع پر مشرکین کا لشکر جرار ناکام ونامراد واپس پلٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ اب مشرکین میں جنگ کا دم خم باقی نہیں رہا، اس لیے اب اقدام کرنے کی باری ان کی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی ہے۔ آپ نے فرمایا:

الآن نغزوہم ولا یغزوننا، نحن نسیر الیہم.(بخاری، رقم ۳۸۰۱)

''اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے۔ اب ان کی طرف بڑھنے کی باری ہماری ہے۔''

۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ عمرے کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو مشرکین نے انھیں حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ سابقہ ہدایات کی رو سے اس موقع پر مسلمانوں کو حدود حرم میں تلوار اٹھانے کا پورا پورا حق حاصل تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اہم تر مصالح کے پیش نظر مشرکین سے صلح کا معاہدہ کر لیا تو اس کو ذہنی طور پر قبول کرنا صحابہ کے لیے ایک آزمائش بن گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کو قرآن مجید میں اس صلح کی حکمت اور اس کے پوشیدہ فوائد پر باقاعدہ ایک سورت نازل کرنا پڑی جس میں انھیں یہ بتایا گیا کہ اگرچہ مشرکین ان کو مسجد حرام سے روکنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، لیکن چونکہ مکہ میں ابھی بہت سے ایسے اہل ایمان موجود ہیں جو اپنے ایمان کو مخفی رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اور مشرکین کے مابین واضح امتیاز نہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ وہ بھی لڑائی میں تہ تیغ ہو جائیں گے، اس لیے اس موقع پر قتال کو موخر کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انھیں فتح مکہ کی بشارت اس وضاحت کے ساتھ دی گئی کہ مسجد حرام کا مسلمانوں کے تصرف میں آنا چونکہ 'اظہار دین' یعنی جزیرۂ عرب میں غلبہ اسلام کا لازمی تقاضا ہے، اس لیے یہ وعدہ یقیناً پورا ہو کر رہے گا:

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاآ اللّٰہُ آمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُءُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لَا تَخَافُوْنَ، فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذَلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا. ہُوَ الَّذِیْ أرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا. (الفتح ۴۸: ۲۷۔۲۸)

''یقیناًاللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا کہ اللہ نے چاہا تو تم یقیناًپورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے، سر منڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے، تمہیں کوئی خوف لاحق نہیں ہوگا۔ وہ ان باتوں کو جانتا ہے جن کو تم نہیں جانتے، سو اس نے اس کے بعد ایک قریبی فتح تمہارے لیے مقدر کر دی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا۔''

قریش کے ساتھ اس معاہدے کے ذریعے سے آپ ایک طرف ان لوگوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہتے تھے جو اسلام کو قبول کرنے کے خواہش مند تھے لیکن قبائلی تعلقات کی وجہ سے قریش اور مسلمانوں کی کشمکش میں کھل کر قریش کی مخالفت مول نہیں لے سکتے تھے اور دوسری طرف آپ مسلمانوں کی قوت اور توجہ کو یکسو کر کے قریش کے علاوہ دیگر مشرک قبائل کی سرکوبی کے لیے مرکوز کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ نے قریش کو معاہدۂ صلح کی پیش کش کرتے ہوئے یہ بات کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ان پر صاف واضح کر دی کہ یہ صلح مستقل بقائے باہمی کی غرض سے نہیں، بلکہ محض فریقین کی مصلحت کے لحاظ سے عارضی طور پر کی جا رہی ہے۔ آپ نے ان سے کہا:

انا لم نات لقتال احد، انما جئنا لنطوف بہذا البیت، فمن صدنا عنہ قاتلناہ، وقریش قوم قد اضرت بہم الحرب ونہکتہم، فان شاء وا ماددتہم مدۃ یامنون فیہا ویخلون فی ما بیننا وبین الناس، والناس اکثر منہم، فان ظہر امری علی الناس کانوا بین ان یدخلوا فی ما دخل فیہ الناس او یقاتلوا وقد جمعوا، واللہ لاجہدن علی امری ہذا حتی تنفرد سالفتی او ینفذ اللہ امرہ. (واقدی، المغازی، ۲/ ۵۹۳)

''ہم کسی کے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے۔ ہم تو بیت اللہ کا طواف کرنے آئے ہیں۔ ہاں جو ہمیں اس سے روکے گا، اس کے ساتھ ہم جنگ کریں گے۔ جنگ پہلے ہی قریش کو بہت نقصان پہنچا چکی ہے اور اس نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اس لیے اگر وہ چاہیں تو میں ایک مخصوص عرصے کے لیے ان کے ساتھ صلح کرنے کو تیار ہوں جس میں انھیں بھی ہماری طرف سے امن حاصل ہو اور وہ بھی ہمارے اور باقی اہل عرب کے معاملے میں دخل انداز نہ ہوں۔ اہل عرب کی تعداد قریش سے زیادہ ہے۔ سو اگر میں ان پر غالب آ گیا تو قریش کو اختیار ہوگا کہ چاہیں تو سب لوگوں کی طرح اس دین میں داخل ہو جائیں اور چاہیں تو جنگ کریں۔ اس وقت ان کی بکھری ہوئی قوت بھی مجتمع ہوگی۔ بخدا میں اس دین کے غلبے کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ یا تو (سب لوگ میرا ساتھ چھوڑ دیں اور) میں اکیلا رہ جاؤں اور یا اللہ اپنے فیصلے کو نافذ کر دے۔''

سیدنا عثمانؓ رسول اللہ کے سفیر بن کر اہل مکہ کے پاس گئے تو انھوں نے بھی انہیں یہی پیغام دیا:

قال بعثنی رسول اللہ الیکم یدعوکم الی اللہ والی الاسلام تدخلون فی الدین کافۃ فان اللہ مظہر دینہ ومعز نبیہ واخری تکفون ویلی ہذا منہ غیرکم فان ظفروا بمحمد فذلک ما اردتم وان ظفر محمد کنتم بالخیار ان تدخلوا فی ما دخل فیہ الناس او تقاتلوا وانتم وافرون جامون، ان الحرب قد نہکتکم واذہبت بالاماثل منکم. (واقدی، المغازی، ۲/ ۶۰۰، ۶۰۱)

''عثمان نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اللہ اور اسلام کی دعوت دے کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ (بہتر یہی ہے کہ) تم سب کے سب اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہرحال اپنے دین کو غالب اور اپنے نبی کو سرفراز کریں گے۔ یہ نہیں تو پھر ایک دوسری بات مان لو: تم ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے باز آجاؤ اور اسے دوسرے اہل عرب پر چھوڑ دو۔ اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب آ گئے تو تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا۔ اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تمہیں اختیار ہوگا۔ چاہو تو تمام لوگوں کی طرح تم بھی اس دین کو قبول کر لینا اور چاہو تو جنگ کر لینا۔ اس وقت تم تعداد کے لحاظ سے بھی کہیں زیادہ ہو چکے ہوگے۔ دیکھو، اس جنگ نے تمہاری کمر بالکل توڑ دی ہے اور تمہارے بہترین لوگ اس کا لقمہ بن چکے ہیں۔''

حدیبیہ کا یہ معاہدۂ صلح ۸ ہجری تک برقرار رہا اور قریش کی طرف سے اس کی کوئی خلاف ورزی اس دوران میں سامنے نہیں آئی۔ ۸ ہجری میں قریش نے معاہدۂ حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی میں بنو بکر کو مدد فراہم کی۔ سرداران قریش اس پر نادم ہوئے اور انھوں نے ابو سفیان کو مدینہ بھیجا تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدۂ صلح کی تجدید کر کے آئیں۔ ابو سفیان یہ پیشکش لے کر مدینہ گئے، لیکن رسول اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ بہتیرے جتن کرنے کے بعد آخر کار انھوں نے لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ:

الا انی قد اجرت بین الناس ولا اظن محمدا یخفرنی.

''لوگو سن لو! میں نے سب لوگوں کے سامنے (قریش اور ان کے حلیفوں کو) امان دی اور میں نہیں سمجھتا کہ محمد میری دی ہوئی اس امان کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔''

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ میری دی ہوئی امان کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا: انت تقول ذلک یا ابا سفیان ۲؂ ؒ ''ابوسفیان، یہ بات تم کہہ رہے ہو (مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں)''۔ اس کے بعد ابو سفیان ناکام مکہ واپس لوٹ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد صحابہ کو خفیہ طور پر تیاری کا حکم دیا اور اسی رازداری کی کیفیت میں حملہ آور ہو کر مکہ کو فتح کر لیا اور بیت اللہ کو تمام اصنام واوثان اور مشرکانہ رسوم کے تمام آثار سے پاک کر کے اس کو دین ابراہیمی کی اصل اساس یعنی توحید کے عالمی مرکز کی حیثیت سے بحال کر دیا۔

۹ ہجری میں حج کے موقع پر قرآن نے یہ اعلان کیا کہ مشرکین اپنی اعتقادی نجاست کی وجہ سے بیت اللہ میں عبادت تو کجا، اس کے قریب آنے کے حقدار بھی نہیں ہیں، اس لیے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا.(التوبہ ۹: ۲۸)

''اے ایمان والو! مشرکین محض ناپاک ہیں، اس لیے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔''

چنانچہ اس سال حج کے موقع پر اس حکم کی باقاعدہ منادی کر کے حرم میں مشرکین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔۳؂ ۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دین ابراہیمی کی روایات کے مطابق مناسک حج کی تعلیم لوگوں کو دی۔۴؂ اس طرح کفر وشرک سے بیت اللہ کی تطہیر اور اس کو توحید کا عالمی مرکز بنانے کا مشن مکمل ہو گیا، چنانچہ آپ نے اس موقع پر یہ اعلان فرمایا کہ:

ان الشیطان قد ایس من ان یعبد فی بلادکم ہذہ ابدا. (ترمذی، رقم ۳۰۸۵)

''شیطان کو اب اس بات کی کوئی امید نہیں رہی کہ جزیرۃ العرب میں دوبارہ کبھی اس کی پوجا کی جائے گی۔''

بیت اللہ میں دین توحید کی بحالی کے بعد اگلا مرحلہ شرک اور مظاہر شرک سے سرزمین عرب کی تطہیر کا تھا۔ یہ دراصل اسی ذمہ داری کا تسلسل تھا جو ذریت ابراہیم پر اپنی میراث کے علاقے کو شرک سے پاک رکھنے کے لیے ابتدا ہی سے عائد کی گئی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل جب مصریوں کی غلامی سے رہا ہو کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں ایک گروہ کی حیثیت سے منظم ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ وہ سرزمین کنعان پر قبضہ کرنے کے لیے، جس کی ملکیت اور وراثت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی ذریت کے حق میں کیا تھا، اس شہر کے باشندوں کے خلاف قتال کریں اور شہر پر قبضہ کر لیں۔۵؂ تورات میں ہے کہ اس وقت سرزمین کنعان میں بہت سی مشرک قومیں آباد تھیں اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ان سب قوموں کو نیست و نابود کر کے ان کی عبادت گاہوں اور بتوں کو ڈھا دیں اور اس سرزمین سے کفر وشرک کا خاتمہ کر دیں۔ کتاب گنتی میں ہے:

''جب تم اردن سے پار ہو کر ملک کنعان میں جاؤ تو اس ملک کے سب باشندوں کو اپنے سامنے سے نکال دو۔ ان کی سب تراشی ہوئی مورتوں کو اور ان کے گھڑے ہوئے بتوں کو فنا کرو اور ان کی اونچی جگہوں کو ڈھا دو اور ملک کے مالک بنو اور اس میں بسو، کیونکہ میں نے تمھیں اس کو بطور میراث کے دیا ہے۔'' (۳۳: ۵۰۔۵۳)

استثنا میں ہے:

''جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے ان بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور اموریوں اور کنعانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے اور جب خداوند تیرا خدا ان کو تیرے آگے شکست دلائے اور تو ان کو مار لے تو تو ان کو بالکل نابود کر ڈالنا۔ تو ان سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ ان پر رحم کرنا۔ تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے ان کی بیٹیاں لینا کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑکے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دیے گا۔ بلکہ تم ان سے یہ سلوک کرنا کہ ان کے مذبحوں کو ڈھا دینا۔ ان کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور ان کی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دینا۔'' (استثنا ۷: ۱۔۵)

تورات کے مطابق بنی اسرائیل کو اس کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی میراث کے علاقے سے باہر بسنے والی اقوام کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر سکتے ہیں، لیکن میراث کے حدود کے اندر وہ کسی مشرک قوم کا وجود گوارا نہ کریں:

''جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دے اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کر تیری خدمت کریں۔ ..... ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں۔ پر ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے، کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا بلکہ تو ان کو یعنی حتی اور اموری اور کنعانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا کہ خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے، بالکل نیست کر دینا تاکہ وہ تم کو اپنے سے مکروہ کام کرنے نہ سکھائیں جو انھوں نے اپنے دیوتاؤں کے لیے کیے ہیں اور یوں تم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو۔'' (استثنا ۲۰:۱۰۔۱۸)

بنی اسرائیل ہی کے ایک عظیم پیغمبر اور فرمانروا سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے نظیر حکومت وسلطنت، مادی واقتصادی قوت اور شاہانہ شان وشوکت سے نوازا تھا۔ قرآن مجید کی تصریح کے مطابق سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنی اس قوت اور برتری کو اپنے قرب وجوار میں مشرکانہ مذاہب کی پیروی کرنے والی قوموں کی تادیب وتنبیہ اور ان کو سرنگوں کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔ چنانچہ جب انھیں معلوم ہوا کہ قوم سبا سورج پرستی میں مبتلا ہے تو انھوں نے اس کی ملکہ کو خط لکھا:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ أَلَّا تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِیْ مُسْلِمِیْنَ. (النمل ۲۷: ۳۱)

''اللہ کے نام کے ساتھ جس کی رحمت بے پایاں اور جس کی شفقت ابدی ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔''

ملکہ سبا کی طرف سے پس وپیش کیے جانے پر انھوں نے انھیں دھمکی دی کہ:

فَلَنَأْتِیَنَّہُمْ بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَہُم بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَا أَذِلَّۃً وَہُمْ صَاغِرُونَ (النمل ۲۷: ۳۷)

''پس ہم ایسے لشکروں کے ساتھ ان پر حملہ کریں گے جن کا مقابلہ کرنے کی تاب ان میں نہیں ہوگی اور ہم ان کو ذلیل اور حقیر بنا کر ان کے ملک سے نکال دیں گے۔''

اسی قانون کے تحت خود بنی اسرائیل کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ سزا مقرر کر دی تھی کہ اگر ان میں سے کوئی فرد یا گروہ 'شرک' یا اس کے مظاہر میں مبتلا ہو تو اسے قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کے بعد جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ جو لوگ اس نجاست سے آلودہ نہیں ہوئے، وہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو قتل کریں:

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوْا إِلَی بَارِءِکُمْ فَاقْتُلُوْا أَنفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بَارِءِکُمْ.(البقرہ ۲: ۵۴)

''اورجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اس لیے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف توبہ کرو اور اپنے (بھائی بندوں) کو قتل کرو۔ یہ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے۔''

اسی قانون کے تحت موسوی شریعت میں مشرکانہ اعمال ورسوم میں ملوث ہونے والوں کے لیے موت کی سزامقرر کی گئی تھی۔ تورات میں ہے:

''پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا تو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بود وباش کرتے ہیں، جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے، وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ اہل ملک اسے سنگسار کریں۔'' (احبار ۲۰: ۱، ۲)

بنی اسرائیل میں سلسلہ نبوت کے اختتام کے بعد بنی اسماعیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چونکہ ذریت ابراہیم ہی میں چلی آنے والی روایت کا تسلسل تھی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد جزیرۂ عرب میں 'شرک' کے بطور ایک مذہب اور مشرکین کے بطور ایک مذہبی گروہ کے باقی رہنے کی کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی تھی اور مشرکین اگر اپنے کفر وشرک پر قائم رہتے تو ان پر موت کی سزاکا نافذ کیا جانا خدا کے قانون کے مطابق بعثت محمدی کا ایک لازمی تقاضا تھا۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بنیادی اقدام تو یہ کیا کہ مختلف مواقع پر باقاعدہ مہمات بھیج کر جزیرۂ عرب میں مختلف مقامات پر قائم مشرکین کے عبادت خانوں کو مسمار کروا دیا۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

۔ قریش اور بنو کنانہ نے نخلہ کے مقام پر عزیٰ کی عبادت گاہ قائم کر رکھی تھی اور اس کی تولیت ودربانی کی ذمہ داری بنو ہاشم کے حلیف قبیلہ سلیم کے خاندان بنو شیبان کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا۔

۔ بنو ثقیف نے طائف میں لات کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی اور اس کے متولی اور خادم بنو معتب تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابو سفیان صخر بن حرب کوبھیجا جنھوں نے اس کو گرا کر یہاں ایک مسجد بنا دی۔

۔ اوس اور خزرج اور یثرب کے دیگر قبائل نے قدید کے علاقے میں منات کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ابو سفیان صخر بن حرب، یا ایک قول کے مطابق علی بن ابی طالب کو بھیج کر اس کو گرا دیا۔ (واقدی کی روایت کے مطابق اس کو سعد بن زید الاشہلی نے گرایا تھا) ۔

۔ قبیلہ دوس، خثعم، بجیلہ اور تبالہ کے علاقے میں دیگر اہل عرب نے ذو الخلصۃ کی عبادت گاہ قائم کر رکھی تھی جس کو وہ کعبہ یمانیہ کے نام سے پکارتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جریر بن عبد اللہ البجلی کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا۔

۔ سلمیٰ اور آجا کے مابین جبل طے کے قریب قبیلہ طے اور ان کے قریبی قبائل نے قلس کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب کو بھیج کر اس کو گرا دیا۔

۔ رہاط کے مقام پر قبیلہ ہذیل کی سواع کے نام پر قائم کردہ عبادت گاہ کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے منہدم کیا۔۶؂

اس کے ساتھ ساتھ معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر قرآن مجید میں سورۃ الفتح نازل ہوئی تو اس میں مشرکین کے خلاف آئندہ جنگ کا ہدف صاف لفظوں میں یہ بیان کیا گیا کہ:

سَتُدْعَوْنَ إِلَی قَوْمٍ أُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُونَہُمْ أَوْ یُسْلِمُونَ. (الفتح ۴۸: ۱۶)

''جلد ہی تمہیں ایک ایسی قوم کے مقابلے کے لیے بلایا جائے گا جو نہایت جنگجو اور زورآور ہوگی۔ تمہیں ان کے ساتھ لڑنا ہوگا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔''

اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد سورۂ براء ۃ کی وہ ابتدائی آیات نازل کر دی گئیں جن میں بدنیت اور بدعہد مشرک قبائل کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کو کالعدم قرار دیا گیا اور انھیں چار ماہ کی مہلت دے کر یہ کہا گیا کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں اور یا پھر اہل ایمان کے ہاتھوں جہنم رسید ہونے کے لیے تیار ہو جائیں:

بَرَاء ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِیْنَ عَاہَدتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ. فَسِیْحُوا فِی الأَرْضِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَّاعْلَمُوا أَنَّکُمْ غَیْْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَأَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکَافِرِیْنَ..... فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ إِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ ۹: ۱۔۵)

''اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں سے براء ت کا اعلان ہے جن سے تم نے معاہدے کر رکھے ہیں۔ سو (اے مشرکو) چار ماہ تک زمین میں چل پھر لو اور جان لو کہ اللہ کے آگے تمہارا کوئی زور نہیں چل سکتا اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کر کے رہے گا۔ .... پھر جب حرام مہینے گزر جائیں (اور چار ماہ کی مدت پوری ہو جائے) تو مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی پابندی قبول کر لیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، مہربان ہے۔''

البتہ اسی سلسلہ بیان میں آیت ۷ میں یہ ہدایت کی گئی کہ حدیبیہ کے مقام پر مشرکین کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے، اس کی پاس داری کی جائے، تا آنکہ مشرکین خود ہی اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں۔

قرآن نے اسی موقع پر یہ حکم بھی دے دیا کہ بیت اللہ کے مسلمانوں کے تصرف میں آنے کے بعد جب حج اکبر کا دن آئے تو اس موقع پر پورے جزیرۂ عرب کے مشرکین سے بھی براء ت کا اعلان کر دیا جائے:

وَأَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الأَکْبَرِ أَنَّ اللّٰہَ بَرِیْءٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُولُہُ فَإِن تُبْتُمْ فَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّکُمْ غَیْْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ. (التوبہ ۹: ۳)

''اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن بھی اعلان کر دیاجائے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں۔ پھر (اے مشرکو) اگر تم توبہ کر لو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کے آگے زور نہیں چلا سکتے اور کافروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔''

نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اسی حکم کی وضاحت میں ارشاد فرمایا کہ:

امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلاۃ ویوتوا الزکاۃ، فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماء ہم واموالہم الا بحق الاسلام وحسابہم علی اللہ. (بخاری، رقم ۲۴)

''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک کہ وہ 'لا الٰہ الا اللہ' کا اقرار نہ کر لیں۔ پس جو لاالہ الا اللہ کا اقرار کر لے گا، اسے میری طرف سے جان اور مال کی امان حاصل ہو جائے گی اور اس کے اعمال کا حساب اللہ کے سپرد ہوگا۔''

مشرکین عرب کے بہت سے گروہوں نے آپ کے اس اعلان ہی کے نتیجے میں دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا جس کے متعدد شواہد حدیث وسیرت کے ذخیرے میں موجود ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عجب اللہ من اقوام یجاء بہم فی السلاسل حتی یدخلوا الجنۃ. (مسند احمد، رقم ۹۵۰۹)

''اللہ کو ان لوگوں پر تعجب ہے جن کو بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جائے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں۔''

بنو بکر بن وائل کے نام خط میں آپ نے انھیں لکھا:

اما بعد فاسلموا تسلموا. (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۱/ ۲۸۱)

''اما بعد! اسلام لے آؤ، بچ جاؤ گے۔''

قبیلہ عبد القیس کا وفد اسلام قبول کرنے کے لیے آیا تو آپ نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی:

اللہم اغفر لعبد القیس اذ اسلموا طائعین غیر کارہین غیر خزایا ولا موتورین اذ بعض قومنا لا یسلمون حتی یخزوا ویوتروا. (مسند احمد، رقم ۱۷۱۶۱)

''اے اللہ، قبیلہ عبدالقیس کی مغفرت فرما دے کیونکہ یہ کسی ناپسندیدگی کے بغیر اپنی مرضی سے اسلام لے آئے ہیں۔ یہ نہ رسوا ہوئے ہیں اور نہ ان کو کوئی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جبکہ ہماری قوم کے کچھ لوگ اس وقت تک ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک کہ انھیں رسوائی اور جانی ومالی نقصان سے سابقہ نہ پیش آ جائے۔''

اس موقع پر آپ نے انصار سے کہا:

یا معشر الانصار اکرموا اخوانکم فانہم اشباہکم فی الاسلام واشبہ شئ بکم شعارا وابشارا اسلموا طائعین غیر مکرہین ولا موتورین اذ ابی قوم ان یسلموا حتی قتلوا. (مسند احمد، رقم ۱۷۱۶۲)

''اے گروہ انصار، اپنے بھائیوں کا خوب اکرام کرو، کیونکہ یہ (آگے بڑھ کر رضامندی سے) اسلام لانے میں بھی تم سے مشابہ ہیں اور ان کی ظاہری وباطنی حالت بھی تم سے بہت ملتی جلتی ہے۔ انھوں نے جبر واکراہ کے بغیر اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے اس سے انکار کیا یہاں تک کہ انھیں قتل کر دیا گیا۔''

بنو خثعم کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط تحریر فرمایا، ابن سعد نے اس کے الفاظ یہ نقل کیے ہیں:

ومن اسلم منکم طوعا او کرہا فی یدہ حرث .... (الطبقات الکبریٰ ۱/ ۲۸۶)

''تم میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا، چاہے طوعاً کیا ہو یا کرہاً، اور ان کے پاس کھیتی ہے .....''

۸ ہجری میں بنو تمیم کا وفد بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ثابت بن قیس انصاری نے اس موقع پر ان کے سامنے ایک تقریر کی، جس میں انہوں نے کہا:

فنحن انصار اللہ ووزراء رسولہ نقاتل الناس حتی یومنوا باللہ فمن آمن باللہ ورسولہ منع منا مالہ ودمہ ومن کفر جاہدناہ فی اللہ ابدا وکان قتلہ علینا یسیرا. (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۴۷۵)

''ہم اللہ اور اس کے رسول کے مددگار ہیں۔ ہم اس وقت تک لوگوں سے لڑیں گے جب تک کہ وہ اللہ پر ایمان نہ لے آئیں۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے گا، اسے ہماری طرف سے جان ومال کی امان حاصل ہوگی۔ اور جو انکار کرے گا، ہم اس کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور اس کو قتل کرنے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہوگا۔''

رفاعہ بن زید جذامی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا تو آپ نے انھیں ان کی قوم کے نام حسب ذیل خط دے کر روانہ کیا:

انی بعثتہ الی قومہ عامۃ ومن دخل فیہم، یدعوہم الی اللہ والی رسولہ، فمن اقبل منہم ففی حزب اللہ وحزب رسولہ ومن ادبر فلہ امان شہرین. (السیرۃ النبویۃ ۲/ ۵۰۲)

''میں نے رفاعہ کو اس کی ساری قوم اور اس میں (باہر سے آکر) شامل ہونے والوں کی طرف بھیجا ہے تاکہ وہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دے۔ تو ان میں سے جو (اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے) آگے بڑھیں گے، انھیں اللہ اور اس کے رسول کی جماعت میں شمار کیا جائے گا اور جو لوگ منہ پھیر لیں تو انھیں دو مہینے کی مہلت ہے۔''

رفاعہ یہ خط لے کر اپنی قوم کے پاس گئے تو انھوں نے ان کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا۔

صرد بن عبد اللہ ازدی نے اپنی قوم بنو ازد کے ایک وفد کے ہمراہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تو آپ نے انھیں ان کی قوم کے مسلمانوں کا امیر مقرر کر کے حکم دیا کہ وہ اپنے علاقے کے مشرکین کے ساتھ جہاد کریں:

فامرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی من اسلم من قومہ وامرہ ان یجاہد بمن اسلم من کان یلیہ من اہل الشرک من قبل الیمن.(السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۴۹۵)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کی قوم کے مسلمانوں کا امیر مقرر کیا اور انھیں مامور کیا کہ وہ مسلمانوں کی مدد سے اپنے قریب بسنے والے یمن کے اہل شرک کے ساتھ جہاد کریں۔''

صرد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق یمن کے علاقہ جرش میں مشرک قبائل کامحاصرہ کیا اور انھیں اسلام کی دعوت دی۔ پھر ان میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، انھیں اپنے ساتھ شامل کر لیا جبکہ انکار کرنے والوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ پھر ایک جنگی تدبیر سے مشرکین کو قلعے سے نکل کر اپنے تعاقب پر آمادہ کیا اور پلٹ کر ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں بہت سے مشرک مارے گئے۔ اس کے بعد اہل جرش کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔۷؂

۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کی قیادت میں چار سو آدمیوں پر مشتمل ایک سریہ نجران کے قبیلہ بنو الحارث بن کعب کی طرف بھیجا اور کہا کہ وہ جا کر ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں اور اگر وہ تین دن تک اس دعوت کو قبول نہ کریں تو ان کے ساتھ قتال کریں۔ خالد نے وہاں پہنچ کر اپنے سواروں کو مختلف اطراف میں بھیجا جنھوں نے اس بات کی منادی کی کہ 'یا بنی الحارث اسلموا تسلموا'۔ (اے بنو الحارث، اسلام لے آؤ، بچ جاؤ گے) اس کے نتیجے میں بنو الحارث نے قتال کی نوبت آنے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا۸؂۔

اس ضمن میں بنو ثقیف کے قبول اسلام کی روداد بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ذخیرۂ سیرت کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۸ ہجری میں طائف کا محاصرہ کرنے کے بعد حالات کی مناسبت سے فی الوقت بنو ثقیف سے جنگ کا فیصلہ موخر کر دیا، تاہم اس محاصرے کے دوران میں بنو ثقیف پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ رسول اللہ کی مخالفت مول لے کر جزیرۂ عرب میں پر امن طریقے سے رہنا ان کے لیے ناممکن ہے، چنانچہ اشاعت اسلام سے خوفزدہ ہو کر اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے انھوں نے طوعاً وکرہاً اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ابن ہشام نے ثقیف کے سردار عمرو بن عبد یالیل کی گفتگو یوں نقل کی ہے:

انہ قد نزل بنا امر لیست معہ ہجرۃ انہ قد کان من امر ہذا الرجل ما قد رایت، قد اسلمت العرب کلہا ولیس لکم بحربہم طاقۃ فانظروا فی امرکم. (السیرۃ النبویۃ ۲/ ۴۵۶)

''ہم ایک ایسی صورت حال میں گرفتار ہو گئے ہیں جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس شخص (محمد) کا معاملہ تم دیکھ رہے ہو کہ سارا عرب اسلام قبول کر چکا ہے اور تمھارے پاس ان سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے، اس لیے اپنے معاملے میں غور کرو۔''

انا نخاف ہذا الرجل قد اوطا الارض غلبۃ ونحن فی حصن فی ناحیۃ من الارض والاسلام حولنا فاش واللہ لو قام علی حصننا شہرا لمتنا جوعا وما اری الا الاسلام وانا اخاف یوما مثل یوم مکۃ.(واقدی، المغازی ۳/ ۹۶۷)

''ہم اس شخص سے خوف زدہ ہیں۔ اس نے پوری سرزمین عرب کو روند کر مغلوب کر لیا ہے۔ ہم اس سرزمین کے ایک کونے میں ایک قلعے میں بند ہیں اور ہمارے ارد گرد اسلام پھیل چکا ہے۔ بخدا، اگر وہ ایک مہینے تک ہمارے قلعے کا محاصرہ جاری رکھتا تو ہم بھوکوں مر جاتے۔ مجھے اسلام قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ورنہ مجھے خدشہ ہے کہ ہمارا حال بھی ایک دن وہی ہوگا جو مکے والوں کا ہوا۔''

چنانچہ اہل طائف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے بتوں کی حفاظت اور شراب، زنا اور سود کے کاروبار کو جاری رکھنے کے حوالے سے بعض شرطیں منوانا چاہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یکسر مسترد کر دیا۔ یہ وفد واپس طائف پہنچا تو اس کے تاثرات یہ تھے:

فقالوا جئناکم من عند رجل فظ غلیظ یاخذ من امرہ ما شاء قد ظہر بالسیف واداخ العرب ودان لہ الناس ورعبت منہ بنو الاصفر فی حصونہم والناس فیہ اما راغب فی دینہ واما خائف من السیف. (المغازی، ۳/ ۹۶۹)

''انھوں نے کہا: ہم ایک نہایت درشت اور تند خو آدمی کے پاس سے آ رہے ہیں جو صرف اپنی من مانی کرتا ہے۔ وہ تلوار لے کر اٹھا ہے اور پورے عرب کو اس نے زیر کر لیا ہے۔ لوگ بھی اس کے مطیع بن چکے ہیں اور رومیوں پر اپنے قلعوں میں اس کا رعب طاری ہے۔ اب دو ہی طرح کے لوگ رہ گئے ہیں: کچھ تو اپنی مرضی سے اس کے دین کی طرف راغب ہیں اور کچھ محض تلوار کے ڈرسے اطاعت قبول کر رہے ہیں۔''

فتح مکہ کے بعد اس عمومی تاثر کا اظہار ارباب سیرت نے جگہ جگہ کیا ہے۔ واقدی لکھتے ہیں:

والاسلام یومئذ لم یعم العرب قد بقیت بقایا من العرب وہم یخافون السیف لما فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمکۃ وحنین.(المغازی، ۳/ ۹۷۴)

''اسلام ابھی سارے اہل عرب میں نہیں پھیلا تھا بلکہ کچھ لوگ ابھی باقی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور حنین میں مشرکین کے ساتھ جو کیا، اس کے پیش نظر وہ بھی اسلام کی تلوار سے خوف زدہ تھے۔''

مشرکین کے بارے میں آپ کی یہ پالیسی اس قدر واضح تھی کہ جزیرۂ عرب کے مختلف اطراف میں آباد بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی طرف سے کسی خصوصی حکم کے بغیر ازخود مشرکین کو قتل کر نا شروع کر دیا۔ مثلاً تبوک سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمیر کے سرداروں حارث بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور نعمان کا خط ملا جس میں انھوں نے آپ کو اپنے اسلام قبول کرنے اور اپنے علاقے میں موجود مشرکوں کو قتل کرنے کی خبر دی۔ آپ نے جواب میں انھیں لکھا:

قد وقع بنا رسولکم ..... وانبانا باسلامکم وقتلکم المشرکین وان اللہ قد ہداکم بہداہ. (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۴۹۷)

''تمھارا قاصد ہمارے پاس پہنچا ہے اور اس نے ہمیں تمھارے اسلام قبول کرنے اور مشرکین کو قتل کرنے کی خبر ہمیں دی ہے اور یہ کہ اللہ نے تمھیں اپنی ہدایت سے نوازا ہے۔''

البتہ آپ نے اس خط میں انھیں تاکید کی کہ کسی یہودی یا نصرانی کو اس کے دین سے نہ ہٹایا جائے، بلکہ اس پر جزیہ عائد کر دیا جائے۔ اسی طرح آپ نے حمیر ہی کے ایک سردار زرعہ ذی یزن کے نام خط میں لکھا:

ان مالک بن مرۃ الرہاوی قد حدثنی انک اسلمت من اول حمیر وقتلت المشرکین فابشر بخیر. (السیرۃ النبویۃ ۲/ ۴۹۸)

''مالک بن مرہ رہاوی نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے حمیر میں سب سے پہلے اسلام قبول کر لیا ہے اور مشرکین کو قتل کیا ہے، سو بھلائی کی خوشخبری قبول کرو۔''

اسی تناظر میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے بادشاہ منذر بن ساویٰ کو خط لکھ کر ہدایت کی کہ مجوس میں سے جو اپنے دین پر قائم رہنا چاہے، اس سے جزیہ وصول کیا جائے تو منافقین نے اس بات کو پراپیگنڈا کا موضوع بنا لیا اور کہا کہ:

زعم محمد انہ انما بعث لقتال الناس کافۃ حتی یسلموا ولا یقبل الجزیۃ الا من اہل الکتاب ولا نراہ الا قد قبل من مشرکی اہل ہجر ما رد علی مشرکی العرب.(المدونۃ الکبریٰ ۳/ ۴۷)

''محمد نے اعلان کیا تھا کہ انھیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ سب لوگوں کے ساتھ لڑیں یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں اور یہ کہ وہ اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ قبول نہیں کریں گے، لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے عرب کے مشرکوں سے جو بات (یعنی جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہنا) قبول نہیں کی، اہل ہجر کے مشرکوں سے وہی بات قبول کرلی ہے۔''

_______

۲؂ واقدی، المغازی، ۲/ ۷۹۴۔

۳؂ بخاری، رقم ۳۶۹۔

۴؂ مسلم، رقم ۲۹۵۰۔

۵؂ المائدہ ۵: ۲۰، ۲۱۔

۶؂ ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۳/۷۱۱۔ تفسیر القرآن العظیم، ۴/ ۲۵۳، ۲۵۴۔

۷؂ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۴۹۵۔ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۵/ ۵۲۶۔

۸؂ طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/۱۲۶، ۱۲۷۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۲/ ۵۰۰۔

____________




Articles by this author