عہد نبوی وعہد صحابہ میں جہاد و قتال کی نوعیت (حصہ سوم)

عہد نبوی وعہد صحابہ میں جہاد و قتال کی نوعیت (حصہ سوم)


مزید برآں بہت سے عرب قبائل کے جبراً اسلام قبول کرنے کی ایک بڑی واضح دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوتے ہی عرب کے بیشتر قبائل مرتد ہو گئے اور صحابہ کو دوبارہ جہاد بالسیف کر کے انھیں مطیع بنانا پڑا۔ یہ صورت حال صرف دور دراز کے علاقوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ خود مرکز اسلام یعنی مکہ مکرمہ میں بھی بڑے پیمانے پر لوگ ارتداد پر آمادہ ہو چکے تھے۹؂۔ عبد اللہ بن عمر نے ایک موقع پر اس صورت حال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

لما مات النبی صلی اللہ علیہ وسلم تشایع الناس وتحزبوا فقامت تلک الناصیۃ فقاتلوا الناس حتی ردوا الناس الی کلمۃ الاسلام وحتی قالوا لا الہ الا اللہ وان نبیکم حق.(مسند الشامیین، رقم ۱۶۶۱)

''جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ (اسلام کو چھوڑ کر) مختلف گروہوں اور دھڑوں میں بٹ گئے ، چنانچہ آپ کے ساتھیوں کا گروہ اٹھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ قتال کیا یہاں تک کہ انھیں کلمہ اسلام کی طرف واپس لوٹا دیا اور منکرین کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ تمھارا نبی برحق ہے۔''

اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ تمام قبائل اپنی رضامندی اور اختیار سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے تو اتنے وسیع پیمانے پر ان کے دین سے مرتد ہو جانے یا مرکز اسلام کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کا رویہ کسی طرح بھی قابل فہم نہیں رہتا۔

صحابہ کرام نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگی اقدامات کی تعبیر اسی پہلو سے کی ہے۔

حسان بن ثابت نے اپنے بعض اشعار میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:

اما قریش فانی لن اسالمہم حتی ینیبوا من الغیات للرشد

ویترکوا اللات والعزی بمعزلۃ ویسجدوا کلہم للواحد الصمد

ویشہدوا ان ما قال الرسول لہم حق ویوفوا بعہد اللہ الاوکد

(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۲۶۰، ۲۶۱)

''میں قریش کے ساتھ ہرگز صلح نہیں کروں گا، یہاں تک کہ وہ گمراہی چھوڑ کر سیدھی راہ پر آ جائیں، لات وعزیٰ کی عبادت سے کنارہ کش ہو کر سب کے سب ایک خدا کے سامنے سجدہ کرنے لگیں، اس بات کا اقرار کر لیں کہ رسول نے ان سے جو کہا ہے، وہ حق ہے اور اللہ کے مضبوط عہد کی پاس داری کریں۔''

عباس بن مرداس السلمی نے اپنے قصیدے میں کہا ہے:

فان یہدوا الی الاسلام یلفوا انوف الناس ما سمر السمیر

وان لم یسلموا فہم اذان بحرب اللہ لیس لہم نصیر

(السیرۃ النبویۃ، ۲/۳۸۳)

''اگر وہ اسلام قبول کر لیں گے تو رہتی دنیا تک لوگوں کے مابین سربلند رہیں گے، لیکن اگر اسلام نہیں لائیں گے تو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ اعلان جنگ ہے جس میں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔''

کعب بن مالک نے بنو ثقیف کو مخاطب کر کے کہا:

فان تلقوا الینا السلم نقبل ونجعلکم لنا عضدا وریفا

وان تأبوا نجاہدکم ونصبر ولا یک أمرنا رعشا ضعیفا

نجاہد ما بقینا أو تنیبوا الی الاسلام اذعانا مضیفا

.......

بکل مہند لین صقیل یسوقہم بہاسوقا عنیفا

لامر اللہ والاسلام حتی یقوم الدین معتدلا حنیفا

وتنسی اللات والعزی وود ونسلبہا القلائد والشنوفا

(السیرۃ النبویۃ، ۲/۴۰۷، ۴۰۸)

''اگر تم ہمیں صلح کا پیغام دو گے تو ہم قبول کر لیں گے اور تمھیں اپنا معاون بنا کر تمھارے سرسبز وشاداب علاقے سے لطف اندوز ہوں گے، لیکن اگر انکار کرو گے تو ہم پوری ثابت قدمی سے جہاد کریں گے اور ہماری استقامت میں کوئی اضطراب یا کمزوری نہیں ہوگی۔ جب تک ہم زندہ رہیں گے، برسر جنگ رہیں گے تا آنکہ تم اسلام کی طرف رجوع کر لو اور پوری طرح اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو۔ .... ہماری تیز دھار، پتلی اور صیقل شدہ تلواریں لوگوں کو پوری قوت سے اللہ کے دین، اسلام کی طرف دھکیلتی رہیں گی یہاں تک کہ یہ دین توحید مضبوط اور مستحکم ہو جائے اور لات وعزیٰ اور وَد کا نام ونشان مٹ جائے اور ہم ان (بتوں کو پہنائے جانے والے) ہار اور بالیاں ان سے چھین لیں۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بن ساعدہ میں انصار کے اجتماع میں سعد بن عبادہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

رزقکم اللہ الایمان بہ وبرسولہ والمنع لہ ولاصحابہ والاعزاز لہ ولدینہ والجہاد لاعداۂ فکنتم اشد الناس علی عدوہ منکم واثقلہ علی عدوہ من غیرکم حتی استقامت العرب لامر اللہ طوعا وکرہا واعطی البعید المقادۃ صاغرا داخرا حتی اثخن اللہ عز وجل لرسولہ بکم الارض ودانت باسیافکم لہ العرب.

(طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۲۱۸)

''اللہ نے تمھیں یہ توفیق دی کہ تم اس پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور تمھیں ان کی اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت، پیغمبر کے لائے ہوئے دین کو غالب اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ رسول اللہ کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف سب سے زیادہ مضبوطی اور صلابت تم نے ہی دکھائی، یہاں تک کہ اہل عرب طوعاً وکرہاً اللہ کے دین کے تابع ہو گئے اور دور دراز کے قبائل نے بھی ذلت اور پستی کے ساتھ اطاعت قبول کر لی۔ اس طرح اللہ نے تمھارے ذریعے سے اس سرزمین کو پیغمبر کے لیے مغلوب کر دیا اور تمہاری تلواروں کی مدد سے اہل عرب پیغمبر کے مطیع ہو گئے۔''

سیدنا ابوبکر نے ایک موقع پر فرمایا:

ان اللہ بعث محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بہذا الدین فجاہد علیہ حتی دخل الناس فیہ طوعا وکرہا. (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۵۲۶)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دین دے کر بھیجا، چنانچہ آپ نے اس کے لیے جہاد کیا یہاں تک کہ لوگ خواہی نخواہی اس میں داخل ہو گئے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہونے والے قبائل کے نام اپنے خط میں انھوں نے فرمایا:

ان اللہ تعالی ارسل محمدا بالحق من عندہ الی خلقہ بشیرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا لینذر من کان حیا ویحق القول علی الکافرین فہدی اللہ بالحق من اجاب الیہ وضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باذنہ من ادبر عنہ حتی صار الی الاسلام طوعا وکرہا. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۲۵۰)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس سے دین حق دے کر اپنی مخلوق کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں خوشخبری سنائیں، انذار کریں، اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلائیں، اور ایک روشن چراغ بن کر لوگوں کو حق کی راہ دکھائیں۔ اللہ کا مقصد یہ تھا کہ یہ رسول ان لوگوں کو انذار کرے جن کے دل زندہ ہیں اور انکار کرنے والوں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ نافذ ہو جائے۔ چنانچہ جن لوگوں نے اس دین کی طرف رغبت ظاہر کی، اللہ نے انھیں ہدایت عطا کی اور جنھوں نے اس سے اعراض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے ان کے خلاف لڑائی کی یہاں تک کہ وہ خواہی نخواہی اسلام لانے پر آمادہ ہو گئے۔''

نعمان بن مقرن نے کسرائے ایران یزدگرد کے دربار میں یہی بات کہی:

ان اللہ رحمنا فارسل الینا رسولا یدلنا علی الخیر ویامرنا بہ ویعرفنا الشر وینہانا عنہ ووعدنا علی اجابتہ خیر الدنیا والآخرۃ فلم یدع الی ذلک قبیلۃ الا صاروا فرقتین فرقۃ تقاربہ وفرقۃ تباعدہ ولا یدخل معہ فی دینہ الا الخواص فمکث کذلک ما شاء اللہ ان یمکث ثم امر ان ینہد الی من خالفہ من العرب ویبدا بہم ففعل فدخلوا معہ جمیعا علی وجہین مکروہ علیہ فاغتبط وطائع ایاہ فازداد. (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ۷/ ۴۱)

''اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحمت فرمائی اور ہمارے پاس ایک رسول بھیجا جس نے ہمیں خیر کی باتیں بتا کر ان پر عمل کرنے کا اور شر کی باتیں بتا کر ان سے باز رہنے کا حکم دیا اور اس دعوت کو قبول کرنے پر ہم سے دنیا وآخرت کی بھلائی کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اس نے جس قبیلے کے سامنے بھی یہ دعوت پیش کی، وہ دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک گروہ اس کے قریب ہوگیا جبکہ دوسرے نے اس سے دوری اختیار کرلی۔ (ابتدا میں تو) اس رسول کے دین میں کچھ خاص گروہ ہی شامل ہوئے اور جب تک اللہ نے چاہا، یہی صورت حال رہی۔ پھر اسے حکم ملا کہ وہ اٹھے اور اس دین کی مخالفت کرنے والے اہل عرب کے ساتھ برسرپیکار ہوجائے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا جس کے نتیجے میں اہل عرب سب کے سب اس دین میں داخل ہو گئے۔ ان میں سے جن سے جبراً یہ دین منوایا گیا تھا، وہ لوگوں کے لیے قابل رشک ہوئے اور جو اپنی رضامندی سے داخل ہوئے تھے، ان کی بھلائی میں اور اضافہ ہو گیا۔''

رومی فوج کے سالار جرجہ سے گفتگو کرتے ہوئے خالد بن ولید نے کہا:

انا قبلنا ہذا الامر عنوۃ. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۳)

''ہم نے اس دین کو اپنی مرضی کے برعکس قبول کیا تھا۔''

سیدنا ابو ہریرہ 'کنتم خیر امۃ اخرجت للناس' کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

خیر الناس للناس تاتون بہم فی السلاسل فی اعناقہم حتی یدخلوا فی الاسلام.(بخاری، رقم ۴۱۹۱)

''تم لوگوں کے لیے اس لحاظ سے ایک بہترین قوم ہو کہ ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر انھیں لاتے ہو یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔''

مشرکین عرب کے معاملے میں اسی قانون کی وجہ سے سیدنا عمر کے ہاں یہ رجحان پیدا ہوا کہ اگر اس حکم کی وجہ ان کا 'عرب' ہونا ہے تو پھر اہل عرب سے تعلق رکھنے والے یہود ونصاریٰ اور صابئین وغیرہ کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے کہ اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو انھیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ انھوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ:

ما نصاری العرب باہل کتاب وما تحل لنا ذبائحہم وما انا بتارکہم حتی یسلموا او اضرب اعناقہم. (شافعی، الام، ۴/ ۱۸۳، ۲۸۱)

''یہ عرب کے مسیحی اہل کتاب نہیں ہیں، اور ان کا ذبیحہ بھی ہمارے لیے حلال نہیں۔ میں انھیں نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ یہ اسلام لے آئیں، ورنہ میں انھیں قتل کر دوں گا۔''

ایک اور موقع پر انھوں نے فرمایا:

لولا انی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ان اللہ تبارک وتعالی سیمنع الدین بنصاری من ربیعۃ علی شاطئ الفرات ما ترکت عربیا الا قتلتہ او یسلم. (ابو عبید، الاموال، ۵۴۲)

''اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ فرات کے کنارے پر آباد بنو ربیعہ کے کچھ مسیحیوں کے ذریعے سے اس دین کی حفاظت کریں گے تو میں کسی عربی کو قتل کیے بغیر نہ چھوڑتا ، الا یہ کہ وہ اسلام قبول کر لے۔''

سیدنا عمر سے اس رجحان کے تحت کوئی عملی اقدام ثابت نہیں۔ البتہ انھوں نے، غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: 'لا یجتمع بجزیرۃ العرب دینان۱۰؂ 'کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا کہ اگر کوئی غیر مسلم جزیرۂ عرب کے حدود میں رہنا چاہتا ہے تو اسے اسلام قبول کرنا ہوگا۔ مثلاً نصاریٰ بنوتغلب سے معاہدہ کے موقع پر انھوں نے فرمایا:

ان من اسلم منہم فلہ ما للمسلمین وعلیہ ما علیہم ومن ابی فعلیہ الجزاء وانما الاجبار من العرب علی من کان فی جزیرۃ العرب. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۴/ ۴۰)

''ان میں سے جو اسلام لے آئیں گے، ان کے حقوق وفرائض مسلمانوں کے برابر ہوں گے۔ اور جو انکار کریں گے، ان پر جزیہ لازم ہوگا۔ ہم اسلام قبول کرنے پر صرف ان اہل عرب کو مجبور کریں گے جو جزیرۃ العرب کی حدود میں رہتے ہوں۔''

ولید بن عقبہ نے اس کے بعد ایک موقع پر بنی تغلب کے بعض نصاریٰ کو قبول اسلام پر مجبور کرنا چاہا تو سیدنا عمرؓ نے ان کو لکھا:

انما ذلک لجزیرۃ العرب لا یقبل منہم فیہا الا الاسلام. (تاریخ الامم والملوک، ۴/ ۵۵)

''یہ حکم صرف جزیرۃ العرب کے رہنے والوں کے لیے ہے کہ ان سے اسلام کے سوا کوئی اور مذہب قبول نہ کیا جائے۔''

البتہ بعض مواقع پر انھوں نے بالواسطہ دباؤ ڈال کر بنو تغلب کے مسیحیوں کو قبول اسلام پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ زیاد بن جدیر، جنھیں سیدنا عمر نے بنو تغلب کے نصاریٰ سے محاصل کی وصولی کے لیے بھیجاتھا، بیان کرتے ہیں:

وامرنی ان اغلظ علی نصاری بنی تغلب، قال انہم قوم من العرب ولیسوا من اہل الکتاب فلعلہم یسلمون.(ابو یوسف، الخراج، ۱۳۰)

''سیدنا عمر نے مجھے حکم دیا کہ میں بنو تغلب کے مسیحیوں کے ساتھ سختی سے پیش آؤں۔ آپ نے کہا کہ یہ اہل کتاب میں سے نہیں بلکہ اہل عرب میں سے ہیں۔ ان کے ساتھ سختی کرو، ہو سکتا ہے یہ اسلام لے آئیں۔''

اسی طرح انھوں نے یہ پابندی بھی عائد کر دی کہ:

لا ندع یہودیا ولا نصرانیا ینصر ولدہ ولا یہودہ فی ملک العرب. (مصنف عبدالرزاق ، رقم ۱۹۲۳۰، ۱۹۳۹۰)

''ہم عرب کی سرزمین میں کسی یہودی یا مسیحی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنی اولاد کو بھی یہودی یا نصرانی بنائیں۔''

یہی رجحان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاں بھی دکھائی دیتا ہے، چنانچہ انھوں نے قبیلہ بکر بن وائل کے حر بن بحیرا کو اسلام کی دعوت دی اور اس کے تردد ظاہر کرنے پر اسے کہا کہ انکار پر اسے قتل کر دیا جائے گا۔ ازدی نے 'فتوح الشام' میں نقل کیا ہے:

فسکت، قال اضربوا عنقہ، قال تقتلنی ان لم اتبع دینک؟ قال نعم، الست عربیا؟ قال بلی، قال فانا لا ندع عربیا لا یدخل فی دیننا الا قتلناہ.(فتوح الشام، ۵۰)

''وہ چپ رہا تو خالد نے کہا کہ اس کی گردن اڑا دو۔ اس نے کہا کہ تم اپنے دین کی پیروی نہ کرنے پر مجھے قتل کر رہے ہو؟ خالد نے کہا ہاں، کیا تم عربی نہیں ہو؟ اس نے کہا، بالکل ہوں۔ خالد نے کہا کہ جو بھی عربی ہمارے دین میں داخل نہ ہو، ہم اسے قتل کیے بغیر نہیں چھوڑتے۔''

جزیرۂ عرب میں رہنے والے اہل عرب کو، اگرچہ وہ اہل کتاب ہوں، قبول اسلام پر مجبور کرنے پر سیدنا عمر اور خالد بن ولید کا یہ اصرار اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ خود مشرکین عرب کے معاملے میں یہ قانون ان کی نظر میں بالکل واضح تھا۔ اکابر تابعین نے بھی مشرکین عرب کے معاملے میں اسی قانون کی تصریح کی ہے۔ حسن بصری کا ارشاد ہے:

قاتل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل ہذہ الجزیرۃ من العرب علی الاسلام لم یقبل منہم غیرہ. (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۶۷۹)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب کے مشرکین کے ساتھ اس بات پر قتال کیا کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ آپ نے اسلام کے علاوہ ان سے کوئی بات قبول نہیں کی''۔

ابن شہاب زہری فرماتے ہیں:

انزلت فی کفار قریش والعرب: وَقَاتِلُوہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ وانزلت فی اہل الکتاب: قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ الی قولہ: وَہُمْ صَاغِرُونَ (بلاذری، فتوح البلدان، ۷۵)

''کفار قریش اور عرب کے بارے میں تو یہ آیت اتری: 'وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ' جبکہ اہل کتاب کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا: 'قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق الی قولہ صاغرون'۔

قتادہ کا قول ہے:

اکرہ ہذا الحی من العرب لانہم کانوا امۃ امیۃ لیس لہم کتاب یعرفونہ فلم یقبل منہم غیر الاسلام.(تفسیر الطبری ۳/ ۱۶)

''اہل عرب کو مجبور کیا گیا کیونکہ وہ ایک ان پڑھ قوم تھے جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتاب نہیں تھی جس سے وہ مانوس ہوں، چنانچہ ان سے اسلام کے علاوہ اور کوئی صورت قبول نہیں کی گئی۔''

ضحاک فرماتے ہیں:

امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یقاتل جزیرۃ العرب من اہل الاوثان فلم یقبل منہم الا لا الہ الا اللہ او السیف. (تفسیر الطبری ۳/ ۱۶)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ جزیرۂ عرب کے بت پرستوں کے خلاف جہاد کریں، چنانچہ آپ نے ان سے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنے یا تلوار کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ قبول نہیں کیا۔''

_______

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر ایمان نہ لانے والا دوسرا بڑا گروہ اہل کتاب کا تھا۔ آپ اگرچہ اصلاً عرب کے امیوں میں اٹھائے گئے تھے اور آپ کی بعثت خاصہ کا ہدف یہ تھا کہ انھیں کفر و شرک سے پاک کر کے دوبارہ دین ابراہیمی کا پیروکار بنا دیں اور دنیا کے سامنے اس دین کی گواہی دینے کی ذمہ داری انھیں تفویض کر دیں، تاہم قرآن نے یہ اعلان کیا کہ آپ کو پوری دنیائے انسانیت کی طرف بھی نبی بنا کر بھیجا گیا ہے اور دنیا کے تمام گروہ آپ کی دعوت کے مخاطب اور آپ پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ چنانچہ قرآن نے غیر مبہم لفظوں میں واضح کیا ہے کہ اللہ کے ہاں جو دین قبول کیا جائے گا، وہ اسلام ہی ہے جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا ہے اور اس کی پیروی اختیار کرنا عرب کے امیوں اور اہل کتاب دونوں کے لیے لازم ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الإِسْلاَمُ .... وَقُل لِّلَّذِیْنَ أُوْتُواْ الْکِتَابَ وَالأُمِّیِّیْنَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اہْتَدَوْا وَّإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَیْْکَ الْبَلاَغُ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ (آل عمران ۳: ۱۹، ۲۰)

''اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اور تم اہل کتاب اور ان امیوں سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدایت پا لیں گے اور اگر منہ موڑیں تو تمھارے ذمے صرف بات کو پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔''

سورۂ اعراف میں ارشاد ہوا ہے:

قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْْکُمْ جَمِیْعاً الَّذِیْ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ فَآمِنُوا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمَاتِہِ وَاتَّبِعُوہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (الاعراف ۷: ۱۵۷، ۱۵۸)

''کہہ دو کہ اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں، وہ کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ زندگی اور موت دیتا ہے۔ اس لیے اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ ، یعنی یہ نبی امی جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔''

قرآن نے اہل کتاب کو مخاطب کر کے صریح لفظوں میں کہا ہے کہ اگر وہ آپ پر ایمان نہیں لائیں گے تو خدا کے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوہاً فَنَرُدَّہَا عَلَی أَدْبَارِہَا أَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ وَکَانَ أَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُولاً.(النساء ۴: ۴۷)

''اے وہ لوگو جنھیں کتاب دی گئی، اس (قرآن) پر ایمان لے آؤ جو ہم نے اس چیز کی تصدیق کے طور پر نازل کیا ہے جو تمہارے پاس موجود ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مسخ کر دیں اور ان کا رخ ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اسی طرح لعنت کریں جیسے ہم نے ہفتے کے دن (خدا کی حدود پامال کرنے) والوں پر لعنت کی۔ اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے۔''

تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود نے نہ صرف آپ پر ایمان لانا گوارا نہیں کیا، بلکہ آپ کی پھیلتی ہوئی دعوت کے مستقبل کو بھانپتے ہوئے اس کی مخالفت کے لیے پر تولنا شروع کر دیے اور جزیرۂ عرب پر دین اسلام کی بالادستی کو روکنے کے لیے اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز سمیت ہر حربہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابتداءً ا تو اہل ایمان کو ان سے صرف نظر کرنے کی ہدایت فرمائی، ۱۱؂ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ اسلام اور اہل اسلام کو زک پہنچانے کے لیے یہود کی تمام سازشیں اور کوششیں بے کار رہیں گی اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں بھی ذلت ومسکنت کے اسی عذاب سے دوچار ہوں گے جو انبیا کی تکذیب کی پاداش میں ان پر قیامت تک کے لیے لازم کر دیا گیا ہے۱۲؂ ۔پھر ایک خاص حد تک عفو ودرگزر سے کام لینے کے بعد سورۂ مائدہ کی آیت ۳۳ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتال اور محاربہ کی راہ اختیار کرنے والے تمام گروہوں، بالخصوص یہود کی سرکوبی کے لیے نہایت واضح اور متعین ہدایات دے دی گئیں۔ ارشاد ہوا ہے:

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُوا أَوْ یُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ، ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ.(المائدہ ۵: ۳۳)

''جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسرجنگ ہو جائیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کریں، ان کی سزا بس یہی ہے کہ ان کو عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے یا سولی چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دیے جائیں یا اس سرزمین سے انہیں جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں مقدر کی گئی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔''

قرآن مجید کے اسی حکم کے تحت بنو قریظہ کے بالغ مردوں کو قتل کی جبکہ بنو قینقاع، بنو نضیر، اہل خیبر، اہل فدک اور اہل نجران کو مختلف اوقات میں جلا وطنی کی سزا دی گئی۔ یہود کے یہی قبائل تھے جو عملاً مسلمانوں کے خلاف محاربہ اور فساد کا رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ ۷ ہجری میں خیبر کے فتح ہو جانے کے بعد بحیثیت ایک قوم کے ان کی قوت ٹوٹ گئی اور وہ فتنہ وفساد کی صلاحیت سے بڑی حد تک محروم ہو گئے، چنانچہ عہد رسالت میں غزوۂ خیبر کے بعد مذکورہ گروہوں میں سے کسی کے خلاف عملی اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ البتہ سورۂ توبہ میں جب مشرکین سے اعلان براء ت کے بعد ان کے قتل عام کا حکم دیا گیا تو اہل کتاب کے بارے میں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ چونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی حقانیت واضح ہونے کے باوجود آپ پر ایمان نہیں لائے، اس لیے ان کے خلاف قتال کر کے انھیں محکوم بنا لیا جائے اور ذلت ورسوائی کی ایک علامت کے طور پر ان 'جزیہ' عائد کر دیا جائے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اس مقصد کے تحت اہل کتاب کے خلاف قتال پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت یعنی 'اظہار دین' ہی کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ ارشاد ہوا ہے:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَن یَدٍ وَّہُمْ صَاغِرُونَ... یُرِیْدُونَ أَن یُطْفِؤُوا نُورَ اللّٰہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَی اللّٰہُ إِلاَّ أَنْ یُّتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ، ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ. (التوبہ ۹: ۲۹۔۳۳)

''ان اہل کتاب کے ساتھ جنگ کرو جو نہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی قبول کرتے ہیں۔ (ان کے ساتھ جنگ کرو) یہاں تک کہ یہ تمہارے مطیع بن کر ذلت اور پستی کی حالت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ ... یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں، لیکن اللہ کافیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سارے دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناپسند ہو۔''

زیر بحث نقطہ نظر کے حامل اہل علم اس حکم کو بھی فتنہ وفساد ہی کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے جملے قتال کے باعث اور سبب کو بیان کرنے کے لیے نہیں، بلکہ محض اس گروہ کے توضیحی اوصاف کے طورپر آئے ہیں۔ الشیخ محمود شلتوت لکھتے ہیں:

''یہ آیت مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اس گروہ کے ساتھ قتال جاری رکھیں جن کی صفات 'لا یومنون باللہ ...' کے الفاظ میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ گروہ اس سے پہلے مسلمانوں کے ساتھ نقض عہد، دعوت اسلام پر حملہ آور ہونے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے جیسے جرائم کا مرتکب ہو چکا تھا جو اس کے ساتھ جنگ کرنے کا سبب بنے۔ یہ آیت ایمان نہ لانے اور آیت میں مذکور دوسری صفات کو قتال کا سبب نہیں قرار دے رہی، بلکہ اس گروہ میں پائی جانے والی ان صفات کا بیان دو غرضوں سے ہوا ہے: ایک، اس کی اعتقادی واخلاقی صورت حال کی منظر کشی کے لیے، اور دوسرے، مسلمانوں کو ان کے خلاف قتال پر ابھارنے کے لیے۔ ... اگر مقصد یہ ہوتا کہ ان کے ساتھ محض ان کے کفر کی وجہ سے قتال کیا جائے اور یہ کہ کفر ہی قتال کی اصل وجہ ہے تو پھر جزیہ لے کر انہیں اپنے دین پر قائم رہنے کی اجازت دینے کے بجائے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا جاتا جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کر لیں۔'' (القرآن والقتال، ص ۷۴۔۷۷)

تاہم آیت کے الفاظ اس مفہوم میں بالکل صریح ہیں کہ قتال اور جزیہ کی اصل علت ایمان نہ لانا اور دین حق کو قبول نہ کرنا ہے۔ عربیت کی رو سے ان کا کوئی اور مفہوم مراد لینے کی کوئی گنجایش نہیں۔ آیت کا اسلوب اس سے ابا کرتا ہے کہ مذکورہ اوصاف کو حکم کی اصل علت کے بجائے محض توضیحی قرار دیا جائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ 'السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما' (چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو) میں قتال اور قطع ید کی اصل علت مقاتلہ اور سرقہ نہیں بلکہ کوئی اور چیز ہے اور ان اوصاف کا ذکر یہاں محض توضیحاً کیا گیا ہے۔ چودہ صدیوں میں اہل علم نے ان آیات کا ہمیشہ یہی مفہوم سمجھا ہے۔ یہاں صدر اول کے ایک جلیل القدر صاحب علم کا حوالہ کافی ہوگا۔ عمر بن عبد العزیزؒ نے عدی بن ارطاۃ کے نام اپنے خط میں لکھا:

اما بعد! فان اللہ سبحانہ انما امر ان توخذ الجزیۃ ممن رغب عن الاسلام واختار الکفر عتیا وخسرانا مبینا فضع الجزیۃ علی من اطاق حملہا.(ابوعبید، الاموال، ۱۲۱)

''اما بعد، بے شک اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جو لوگ اسلام سے رو گردانی کریں اور سرکشی اور صریح خسارے میں مبتلا ہو کر کفر کو اختیار کیے رکھیں، ان سے جزیہ وصول کیا جائے، اس لیے جو بھی شخص جزیہ ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، اس پر اسے نافذ کر دو۔''

اس ہدایت کو اہل کتاب کے فتنہ وفساد سے حفاظت کی تدبیر قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ ریاست مدینہ کے خلاف فتنہ وفساد کے مرتکب محاربین کی سرکوبی کے لیے نہایت جامع اور مانع ہدایات سورۂ مائدہ کی آیات ۳۲ میں نازل ہو چکی تھیں اور ان کے حد تک کسی نئی ہدایت کی عملاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔ آیت جزیہ کا صحیح محل یہی ہے کہ اسے محاربین اور مفسدین کے بجائے غیر محارب اہل کتاب سے متعلق قرار دیا جائے۔ یہ توجیہ عقلاً بھی بالکل موزوں اور حکیمانہ دکھائی دیتی ہے، اس لیے کہ محاربہ کے مرتکب گروہوں کے لیے تو وہی سزا موثر اور نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جو کہ سورہ مائدہ میں بیان ہوئی ہے، لیکن غیر محارب گروہوں کے لیے اتنا کافی تھا کہ انھیں قتل یا جلا وطن کرنے کے بجائے محض مغلوب اور زیر دست بنا لیا جائے اور انھیں اجازت دی جائے کہ وہ جزیہ ادا کر کے اپنے دین پر قائم اور جزیرۂ عرب میں مقیم رہیں۔

مزید برآں اگر جزیہ لے کر مغلوب بنانے کا حکم صرف مفسد اور فتنہ پرداز گروہوں کے لیے تھا تو ظاہر ہے کہ غیر جانبدار گروہوں کو اس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محاربین کے حال کو دیکھتے ہوئے بہت سے غیر جانب دار گروہ بھی اس انجام سے بچنے کے لیے ازخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کو جزیہ کی ادائیگی کی پیش کش کی۔ چنانچہ سفر تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو بھیج کر دومۃ الجندل کے بادشاہ اکیدر بن عبد الملک کو گرفتار کروایا اور اس نے اسلام قبول کر کے اپنی قوم کی طرف سے جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کر لی تو اس کے بعد قریبی علاقوں کے سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور ازخود جزیہ دینے کی پیش کش کی۱۳؂۔ واقدی کا بیان ہے:

وکانت دومۃ وایلۃ وتیماء قد خافوا النبی صلی اللہ علیہ وسلم لما راوا العرب قد اسلمت وقدم یحنۃ بن رؤبۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکان ملک ایلۃ واشفقوا ان یبعث الیہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کما بعث الی اکیدر واقبل معہ اہل جرباء واذرح فاتوہ فصالحہم فقطع علیہم الجزیۃ جزیۃ معلومۃ. (واقدی، المغازی، ۳/ ۱۰۳۱)

''دومہ، ایلہ اور تیما کے لوگوں نے جب دیکھا کہ اہل عرب اسلام لے آئے ہیں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خوفزدہ ہو گئے اور انہیں خدشہ ہوا کہ کہیں اکیدر کی طرح آپ ان کی طرف بھی کوئی لشکر نہ بھیج دیں۔ چنانچہ ایلہ کا بادشاہ یحنہ بن رؤبہ جربا اور اذرح کے باشندوں کے ہمرراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ان کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا اور ان پر جزیہ کی ایک متعین مقدار لازم کر دی۔''

یحنہ بن رؤبہ اور اَیلہ کے دیگر سرداروں کو آ پ نے لکھا:

انی لم اکن لاقاتلکم حتی اکتب الیکم فاسلم او اعط الجزیۃ واطع اللہ ورسولہ. (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۱/ ۲۷۷)

''میں اس وقت تک تمھارے خلاف جنگ نہیں کرنا چاہتا جب تک کہ تمھیں خط نہ لکھ دوں۔ سو اسلام لے آؤ یا جزیہ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت قبول کر لو۔''

۹ ہجری میں نجران کے مسیحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے سرداروں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جو انھوں نے قبول نہیں کی۔ پھر آپ نے ان کے سرداروں سے کہا:

ہل لکما فی الجزیۃ تودیانہا وانتم صاغرون کما قال اللہ عزوجل فقالا لا طاقۃ لنا بحرب العرب. (سنن سعید بن منصور ۳/ ۱۰۴۵)

''کیا تم اللہ کے حکم کے مطابق حقارت اور پستی کی حالت میں جزیہ دینے کے لیے آمادہ ہو (یا جنگ کرنا چاہتے ہو؟) انھوں نے کہا کہ ہم میں عرب سے لڑنے کی طاقت نہیں۔''

زیاد بن جہور بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام خط لکھا اور فرمایا:

اما بعد فلیوضعن کل دین دان بہ الناس الا الاسلام فاعلم ذلک. (مجمع الزوائد ۶/ ۱۴)

''اما بعد! اسلام کے سوا ہر اس دین کو جسے لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے، لازماً پست ہو کر رہنا پڑے گا۔ اس بات کو خوب جان لو۔''

ان میں سے کوئی بھی گروہ مسلمانوں کے خلاف فتنہ وفساد کا مرتکب نہیں ہوا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آیت جزیہ میں قتال کا جو حکم دیا گیا، اس سے صرف محارب اور مفسد اہل کتاب کو نہیں بلکہ جزیرۂ عرب کے تمام کافر گروہوں کو مغلوب اور مسلمانوں کے زیر دست بنانا مقصود تھا۔ چنانچہ ذخیرۂ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے بہت سے ایسے گروہوں پر بھی جزیہ نافذ کیا گیا جو کسی بھی حوالے سے مسلمانوں کے خلاف فتنہ وفساد کے مرتکب نہیں ہوئے تھے۔ یہ گروہ حسب ذیل ہیں:

بحرین کے مجوس (طبری، ۳/۲۹۔ بلاذری، ۸۶، ۸۷)

عمان کے مجوس (طبری، ۳/۲۹، ۹۵۔ بلاذری، ۸۴)

یمن کے یہود ونصاریٰ (طبری، ۳/۱۲۱، ۱۲۹۔ بلاذری، ۷۵، ۷۶)

تبالہ اور جرش کے اہل کتاب (بلاذری، ۶۶)

نجران کے نصاریٰ (ابو یوسف، الخراج، ۷۸)

_______

۹؂ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۵۵۸۔

۱۰؂ موطا، رقم ۱۳۸۸۔

۱۱؂ البقرہ ۲:۱۰۹۔

۱۲؂ آل عمران ۳:۱۱۱، ۱۱۲۔

۱۳؂ طبری، ۳/۱۰۸، ۱۰۹۔

____________




Articles by this author