فرد اور قوم کے مفاد کا ٹکراؤ

فرد اور قوم کے مفاد کا ٹکراؤ


عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ یُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِیثَ صَاحِبِهِ قَالَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَةِ ۔۔۔رَجَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِینَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِیرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ فَأَرْسَلُوا فِی طَلَبِهِ رَجُلَیْنِ فَقَالُوا الْعَهْدَ الَّذِی جَعَلْتَ لَنَا فَدَفَعَهُ إِلَی الرَّجُلَیْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّی بَلَغَا ذَا الْحُلَیْفَةِ فَنَزَلُوا یَأْکُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَیْنِ وَاللَّهِ إِنِّی لَأَرَی سَیْفَکَ هَذَا یَا فُلَانُ جَیِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ فَقَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَیِّدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْهِ فَأَمْکَنَهُ مِنْهُفَضَرَبَهُ حَتَّی بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّی أَتَی الْمَدِینَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ یَعْدُو فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حِینَ رَآهُ لَقَدْ رَأَی هَذَا ذُعْرًا فَلَمَّا انْتَهَی إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِی وَإِنِّی لَمَقْتُولٌ فَجَاءَ أَبُو بَصِیرٍ فَقَالَ یَا نَبِیَّ اللَّهِ قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَی اللَّهُ ذِمَّتَکَ قَدْ رَدَدْتَنِی إِلَیْهِمْ ثُمَّ أَنْجَانِی اللَّهُ مِنْهُمْ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَیْلُ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ کَانَ لَهُ أَحَدٌ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِکَ عَرَفَ أَنَّهُ سَیَرُدُّهُ إِلَیْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّی أَتَی سِیفَ الْبَحْرِ ۔۔۔۔(بخاری، رقم 2731، 2732)

''مِسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم باہم تصدیق کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (صلح) حدیبیہ کے زمانے میں (مدینہ سے مکہ کے لیے) نکلے ۔۔۔ ( حدیبیہ کے مقام پر قریش کے ساتھ معاہدے کا واقعہ پیش آیا اور پھر جب) آپ مدینے واپس تشریف لائے، تو قریش کا ایک فرد ابو بصیر مسلمان ہو کر آپ کے پاس آ گیا۔ قریش نے اُسے واپس لانے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا۔ انھوں نے آ کر کہا کہ آپ کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے، (لہذا، آپ یہ آدمی ہمیں سونپ دیں) چنانچہ آپ نے معاہدے کے مطابق ابو بصیر کو ان کے سپرد کر دیا۔ وہ اُسے لے کر چل دیئے یہاں تک کہ ذو الحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو وہاں وہ کجھوریں کھانے کے لیے اپنی سواریوں سے اترے۔ ابو بصیر نے اُن میں سے ایک آدمی سے کہا، بھائی! تمھاری تلوار تو بخدا بڑی عمدہ معلوم ہوتی ہے، اُس نے یہ سن کر تلوار اپنی نیام سے نکال لی اور کہا ہاں اللہ کی قسم یہ بڑی عمدہ ہے، میں اِس کا بارہا تجربہ کر چکا ہوں۔ ابو بصیر نے کہا ذرا مجھے بھی دکھاؤ تو اُس نے وہ انھیں دے دی۔انھوں نے اُس پر تلوار سے ایسا وار کیا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا اور دوسرا شخص مدینے کی طرف بھاگ گیا اور دوڑتا ہوا مسجدِ نبوی میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا تو فرمایا: یہ تو خوف زدہ معلوم ہوتا ہے۔ پھر جب وہ آپ کے پاس آیا تو اُس نے کہا، بخدا میرا ساتھی مارا گیا ہے اور میں بھی بس مرنے ہی والا ہوں۔ اتنے میں اسے کے پیچھے ابو بصیر بھی آ پہنچے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! بخدا، اللہ نے آپ کی ذمہ داری پوری کر دی ہے، آپ نے (اپنے عہد کے مطابق) مجھے اُن کے سپرد کر دیا تھا ، پھر اللہ نے مجھے اُن سے نجات دلا دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا: اِس کی ماں پر آفت آئے ، اِسے کچھ ساتھی مل گئے ہوتے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دیتا۔ جب اُنھوں نے یہ سنا تو جان لیا کہ آپ اُنھیں دوبارہ اُن کے حوالے کر دیں گے۔ چنانچہ وہ وہاں سے نکلے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے ۔۔۔۔''

________




Articles by this author