فقہی روایت کا ارتقا (حصہ اول)

فقہی روایت کا ارتقا (حصہ اول)


قرآن مجید میں عہد نبوی کے مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف قتال کے جو احکام دیے گئے، ان کے حوالے سے صحابہ ہی کے دور میں بہت سی اہم فقہی بحثیں پیدا ہوئیں جن کی علمی تنقیح کا سلسلہ بعد کی مسلم علمی روایت میں بھی جاری رہا۔ یہ بحثیں ان احکام کی علت اور ان کے دائرۂ اطلاق کی تعیین اور ان کی تعمیم وتخصیص کے حوالے سے متنوع علمی رجحانات اور زاویہ ہائے نگاہ کی نشان دہی کرتی ہیں اور جہاد وقتال سے متعلق نصوص کے ضمن میں امت مسلمہ کے فہم اور فکری ارتقا کو علمی سطح پر سمجھنے میں بے حد مددگار ہیں۔ یہاں ہم ان میں سے اہم بحثوں کا مطالعہ کریں گے۔

قتل اور جزیہ میں سے اصل حکم کی تعیین

جہاد وقتال کے حوالے سے قرآن وحدیث کے جو نصوص اوپر نقل کیے گئے ہیں،ان میں اسلام قبول نہ کرنے والے کفار کے لیے دو طرح کی سزائیں بیان ہوئی ہیں۔ مشرکین کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ انھیں قتل کر دیا جائے، جبکہ اہل کتاب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے قتال کر کے انھیں جزیہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ان دونوں حکموں کی تعبیر وتشریح اور ان کے دائرۂ اطلاق کی تعیین کے حوالے سے صحابہ کے دور ہی میں مختلف زاویہ ہائے نگاہ سامنے آ گئے تھے۔ چنانچہ سیدنا عمر کے عہد میں فارس کے علاقے مفتوح ہوئے تو ایک سوال یہ سامنے آیا کہ مجوس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ سیدنا عمر ان پر جزیہ نافذ کرنے کے معاملے میں تردد کا شکار رہے اور جب تک ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ایک واضح نظیر نہیں آ گئی، وہ اس پر مطمئن نہیں ہوئے۔ ابن ابزیٰ کی روایت ہے:

لما ہزم المسلمون اہل فارس قال عمر اجتمعوا. فقال ان المجوس لیسوا اہل کتاب فنضع علیہم ولا من عبدۃ الاوثان فنجری علیہم احکامہم فقال علی بل ہم اہل کتاب. (ابن حجر، فتح الباری، ۶/ ۲۶۱، ۲۶۲)

''جب مسلمانوں نے اہل فارس کو شکست دے دی تو سیدنا عمر نے صحابہ سے کہا کہ (مشورہ کے لیے) اکٹھے ہو جاؤ۔ پھر فرمایا کہ (بات یہ ہے کہ) مجوس نہ تو اہل کتاب ہیں کہ ہم ان پر جزیہ عائد کریں اور نہ بت پرست ہیں کہ ہم ان پر ان کے احکام جاری کر دیں۔ سیدنا علی نے کہا، ان کا شمار اہل کتاب ہی میں ہوتا ہے۔''

دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں:

لما رجع المہاجرون من بعض غزواتہم بلغہم نعی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فقال بعضہم لبعض ای الاحکام تجری فی المجوس وانہم لیسوا باہل کتاب ولیسوا من مشرکی العرب فقال علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قد کانوا اہل کتاب. (تفسیر الطبری، ۳۰/ ۱۳۲)

''جب مہاجرین ایک معرکے سے واپس آئے تو انھیں سیدنا عمر کی طرف سے جمع ہونے کا پیغام ملا۔ (اس مجلس میں) ان کی اس بات پر بحث ہوئی کہ مجوس کے بارے میں کون سے احکام جاری ہوں گے؟ وہ نہ تو اہل کتاب میں سے ہیں اور نہ عرب کے مشرکین میں سے۔ سیدنا علی نے کہا کہ یہ اصل میں اہل کتاب ہی تھے۔''

جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں:

کان للمہاجرین مجلس فی المسجد فکان عمر یجلس معہم فیہ ویحدثہم عن ما ینتہی الیہ من امر الآفاق فقال یوما ما ادری کیف اصنع بالمجوس فوثب عبد الرحمن بن عوف فقال اشہد علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال سنوا بہم سنۃ اہل الکتاب. (بلاذری، فتوح البلدان، ۲۷۶)

''مسجد نبوی میں مہاجرین کی ایک مجلس ہوا کرتی تھی جس میں سیدنا عمر بھی ان کے ساتھ بیٹھتے تھے اور مملکت کے اطراف کی تازہ صورت حال سے انھیں آگاہ کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں مجوس کے معاملے میں کیا طریقہ اختیار کروں۔ یہ سن کر عبد الرحمن بن عوف فوراً بولے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو اہل کتاب کے ساتھ کیا جاتا ہے۔''

مصنف عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس تردد کی وجہ بھی بیان فرمائی اور کہا:

ما ادری ما اصنع فی ہولاء القوم الذین لیسوا من العرب ولا من اہل الکتاب. (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۹۲۵۳)

''میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس قوم کے معاملے میں، جو نہ اہل عرب میں سے ہیں اور نہ اہل کتاب میں سے، کون سا طریقہ اختیار کروں۔''

مصنف عبد الرزاق کی ایک اور روایت میں ہے:

ولم یکن عمر یرید ان یاخذ الجزیۃ من المجوس حتی شہد عبد الرحمن بن عوف ان النبی صلی اللہ علیہ اخذہا من مجوس ہجر.(مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۷۴۸۔ مسند احمد، رقم ۱۵۹۳)

''سیدنا عمر مجوس سے جزیہ نہیں لینا چاہتے تھے یہاں تک عبد الرحمن بن عوف نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔''

سیدنا عمر کے ذہن میں اس تردد کا پیدا ہونا قابل فہم ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ قرآن مجید نے قتال اور جزیہ کا حکم بیان کرتے ہوئے صرف اہل کتاب کا ذکر کیا ہے، حالانکہ ان کے علاوہ دوسرے گروہ مثلاً مجوس او ر صابئین بھی جزیرۂ عرب میں موجود تھے۔ مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اقوام کے سربراہوں کو خط لکھ کراسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دی تھی، ان میں کسریٰ بھی شامل تھا جو فارس کی عظیم سلطنت کا سربراہ تھا۔ اس کے باوجود قرآن مجید میں جزیہ کا ذکر صرف اہل کتاب کے حوالے سے کیا جانا اپنے اندر یہ احتمال رکھتا تھا کہ اس حکم کو اہل کتاب ہی کے ساتھ مخصوص سمجھا جائے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے واضح ہوا کہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔

شافعی اور حنبلی فقہا نے سیدنا عمر کے اس تردد سے یہ اخذ کیا ہے کہ جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہنے کی رعایت صرف اہل کتاب کے لیے ہے اور سیدنا عمر کو مجوس کے حوالے سے یہ تردد تھا کہ آیا وہ اہل کتاب میں شامل ہیں یا نہیں۔ گویا اگر مجوس کا اہل کتاب سے خارج ہونا ثابت ہو جاتا تو سیدنا عمر مشرکین کی طرح انھیں بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور کرتے۔۱؂ تاہم، ہم واضح کر چکے ہیں کہ سیدنا عمر'فاقتلوا المشرکین' کے حکم کو صرف عرب اور سرزمین عرب کی حد تک جائز سمجھتے تھے اور جزیرۂ عرب سے باہر اس حکم کو کسی حال میں قابل اطلاق نہیں سمجھتے تھے۔ اس تناظرمیں پر جزیہ عائد کرنے میں ان کے تردد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جزیہ کا حکم بھی صرف ان قوموں پر نافذ کرنا چاہتے تھے جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول سے اس کی اجازت ثابت ہو۔ مزید برآں روایات میں اس سارے معاملے کی جو تفصیل منقول ہے، وہ بھی شوافع اور حنابلہ کے مفروضے کی تائید نہیں کرتی، کیونکہ رواۃ نے ان کے اس طرز عمل کو جن الفاظ سے تعبیر کیا ہے، وہ یہ نہیں ہیں کہ ''انھیں مجوس کو قتل کرنے میں تردد تھا'' بلکہ یہ ہیں کہ انھیں مجوس سے ''جزیہ وصول کرنے'' میں تردد تھا۔ اس لیے ہماری رائے میں سیدنا عمر کے موقف کی زیادہ قرین قیاس تعبیر یہ ہے کہ وہ سورۂ براء ۃ کے احکام کو اصلاً عرب کے مشرکین اور یہود ونصاریٰ کے ساتھ خاص سمجھتے تھے جن کے بارے میں وہ قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں جبکہ ان کی تعمیم کے لیے کسی مستقل دلیل کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔

بہرحال مجوس سے عملاً جزیہ قبول کر لینے کے باوجود نظری سطح پر اس حوالے سے اشکال باقی رہا اور سیدنا عمر کے فیصلے کے باوجود بعض صحابہ اس پر مطمئن نہیں تھے،چنانچہ ابو موسیٰ اشعری کا قول یہ نقل ہوا ہے کہ:

لولا انی رایت اصحابی یاخذون منہم الجزیۃ ما اخذتہا. (ابو عبید، الاموال، ۱۱۰)

''اگر میرے ساتھیوں نے مجوس سے جزیہ لینے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو میں ان سے جزیہ نہ لیتا۔''

سیدنا علیؓ کے زمانے میں بعض لوگوں نے یہی اشکال دوبارہ ان کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے مجوس کو آیت جزیہ کے دائرۂ اطلاق میں شامل کرنے کی ایک باقاعدہ علمی توجیہ کر کے انھیں مطمئن کیا۔ روایت ہے کہ مستورد بن علقمہ اور فروۃ بن نوفل اشجعی ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ فروہ بن نوفل نے کہا: 'ان ہذا الامر عظیم یوخذ من المجوس الجزیۃ ولیسوا باہل کتاب' (یہ تو بہت سنگین بات ہے۔ مجوس سے جزیہ وصول کیا جا رہا ہے حالانکہ وہ اہل کتاب میں سے نہیں ہیں)۔ مستورد نے غصے سے ان کو کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ پر اعتراض کر رہے ہو۔ فوراً توبہ کرو، ورنہ میں تمھیں قتل کر دوں گا۔ پھر وہ ان کو لے کر سیدنا علی کے پاس چلے گئے اور یہ بات ان کے سامنے بیان کی۔ سیدنا علی نے انہیں بتایا کہ مجوس سے اس لیے جزیہ لیا جاتا ہے کہ یہ بھی اصل میں اہل کتاب تھے: 'ان المجوس کانوا اہل کتاب یعرفونہ وعلم یدرسونہ' لیکن ان میں اللہ کی شریعت سے انحراف یوں پیدا ہوا کہ ان کے ایک بادشاہ نے شراب پی کر اپنی بہن کے ساتھ زنا کر ڈالا۔ جب یہ بات لوگوں میں پھیلی اور بادشاہ کا محاسبہ کیا جانے لگا تو اس نے اپنی بادشاہت کو بچانے کے لیے دین میں تحریف کر دی اور کہا کہ بہنوں کے ساتھ نکاح جائز ہے کیونکہ حضرت آدم کے بیٹوں اور بیٹیوں کے باہمی نکاح کے ذریعے سے ہی نسل انسانی آگے پھیلی تھی۔ اس کے بعد اس کے حامیوں نے مخالفوں کو قتل کر دیا اور مسخ شدہ دین کو فروغ عام حاصل ہوتا چلا گیا۔۲؂

اس کے بعد بھی مختلف گروہوں کے مذہبی عقائد کے فرق کے تناظر میں ان پر جزیہ عائد کرنے یا نہ کرنے کا سوال کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتا رہا۔ مثلاً حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ اموی گورنر زیاد کو بتایا گیا کہ صابئین قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے اور اپنے مال کا پانچواں حصہ (زکوٰۃ کے طور پر) خرچ کرتے ہیں۔ اس پر زیاد نے چاہا کہ ان پر عائد کردہ جزیہ ان سے ساقط کر دے، لیکن بعد میں اسے بتایا گیا کہ وہ فرشتوں کی پوجا کرتے ہیں تو اس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔۳؂

بعد کی فقہی روایت میں اس حوالے سے تین مختلف آرا سامنے آئیں:

فقہا کے ایک گروہ نے مشرکین اور اہل کتاب کے مابین فرق کو تسلیم نہیں کیا اور یہ قرار دیا کہ کسی امتیاز کے بغیر تمام کفار سے جزیہ لے کر انھیں اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ یہ رائے امام مالکؒ ، امام اوزاعی اور بعض دوسرے فقہا سے منقول ہے۔۔۴؂ البتہ ابن القاسم کی روایت کے مطابق امام مالک خاص قریش کی حد تک جزیہ قبول کرنے کو جائز نہیں سمجھتے، جبکہ باقی اہل عرب سے جزیہ قبول کرنا ان کے نزدیک جائز ہے۔۵؂

اس رائے کے حق میں مذکورہ فقہا کا استدلال فقہی کتابوں میں واضح طور پر نقل نہیں ہوا۔ امام شافعی نے 'الام' میں کسی کی طرف نسبت کیے بغیر یہ استدلال نقل کیا ہے کہ آیت جزیہ نے'فاقتلوا المشرکین' کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔۶؂ اس استدلال کی رو سے صورت معاملہ یہ قرار پاتی ہے کہ اسلام قبول نہ کرنے والے مشرکین عرب کو ابتداء اً تو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن بعد میں آیت جزیہ کے تحت انھیں جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دے دی گئی، تاہم مشرکین عرب نے من حیث الجماعت اسلام قبول کر لیا اور ان سے جزیہ لینے کی نوبت عملاً نہیں آئی۔

اہل علم کے ایک دوسرے گروہ نے، جن میں شافعی، احمد بن حنبل اور ابن حزم جیسے ائمہ شامل ہیں، زیر بحث نصوص میں سے'فاقتلوا المشرکین' کو اس باب میں اصل اور اساس قرار دیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کفار کو قبول اسلام پر مجبور کرنے اور انکار کی صورت میں ان کو قتل کر دینے کا حکم شریعت کے اصل اور مقصود بالذات حکم کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنی علت ونوعیت کے لحاظ سے اصلاً اس کا اطلاق دنیا کے تمام کفار پر ہوتا ہے۔ البتہ اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ اور مجوس کو چونکہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر نے خاص رعایت دیتے ہوئے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی ہے، اس لیے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔۷؂

اس نقطہ نظرکے حامل اہل علم مجوس سے جزیہ قبول کرنے کی توجیہ کے ضمن میں مختلف الرائے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ مجوس بھی اہل کتاب میں سے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ان کے پاس جو آسمانی کتاب اور شریعت تھی، وہ ضائع ہو گئی۔ ۸؂ اس کے برعکس بعض دوسرے اہل علم مجوس کو اہل کتاب میں شامل نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک مجوس سے جزیہ قبول کرنے کا ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے، ورنہ اگر سنت سے یہ ثابت نہ ہوتا تو مجوس کا حکم بھی وہی ہوتا جو مشرکین کا ہے۔ ۹؂

فقہا کے تیسرے گروہ نے، جس کی نمائندگی احناف کرتے ہیں، قتل اور جزیہ کے حکموں کا باہمی تعلق اس کے بالکل برعکس متعین کیا اور کفار کے حوالے سے شریعت کا اصل حکم 'جزیہ' کو قرار دیا ہے، جبکہ مشرکین کو قتل کرنے کا حکم ان کے نزدیک مشرکین عرب کے ساتھ خاص ہے۔ ان کے علاوہ باقی تمام کفار کو، خواہ وہ مشرک ہوں یا کتابی، جزیہ لے کر اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت ہے۔ ایک روایت کے مطابق امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے۔۱۰؂

سیدنا عمر کے جو ارشادات ہم نے باب اول میں نقل کیے ہیں، ان سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اسلام یا قتل میں سے ایک کے انتخاب کو شریعت کا اصل اور قابل تعمیم حکم نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اس کا دائرۂ اطلاق ان کے نزدیک اہل عرب اور جزیرۂ عرب تک محدود تھا۔ یہی رجحان بعض تابعین کے ہاں بھی ملتا ہے۔ چنانچہ امام زہری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے مشرکین سے تو نہیں، لیکن دوسری اقوام کے بت پرستوں سے بھی جزیہ قبول کیا۔ (مصنف عبد الرزاق، ۱۰۰۹۱) حسن بصری بھی قتل کے حکم کو'اہل ہذہ الجزیرۃ من العرب' یعنی جزیرۂ عرب کے مشرکین کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۱۱؂۔یہی رائے قتادہ اور ضحاک سے بھی منقول ہے۱۲؂۔

احناف کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوس سے جزیہ قبول کیا ہے، حالانکہ وہ اہل کتاب میں شامل نہیں بلکہ دو خداؤں یعنی یزداں اور اہرمن کا قائل ہونے کی وجہ سے اہل شرک کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان سے جزیہ قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ'فاقتلوا المشرکین'کا حکم مشرکین عرب کے ساتھ خاص ہے جبکہ باقی تمام مشرکین سے جزیہ وصول کرنا جائز ہے۱۳؂۔

ابن القیم اس موقف کی حکمت ومعنویت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جہاد وقتال سے مقصود دنیا سے کفر وشرک کا بالکلیہ خاتمہ نہیں، بلکہ اللہ کے دین کو باطل ادیان کے مقابلے میں غالب کرنا ہے اور یہ مقصد جزیہ وصول کرنے کی صورت میں بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ جزیہ وصول کرنے میں فریقین کی مصلحت ملحوظ ہے۔ اہل اسلام کو اس طرح مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے جو اسلام کے لیے قوت وعزت اور کفار کے لیے ذلت اور کمزوری کا ذریعہ بنتا ہے، جبکہ اہل کفر کو زندہ رکھنے سے یہ امید باقی رہتی ہے کہ وہ دعوت اسلام سے متعارف ہونے کے نتیجے میں کسی نہ کسی وقت اسلام قبول کر لیں جو اس سے بہتر ہے کہ انھیں قتل کر کے جہنم رسید کر دیا جائے ۱۴؂۔

مشرکین عرب کے لیے خاص طور سے قتل کا حکم دیے جانے کی توجیہ فقہائے احناف یہ کرتے ہیں کہ چونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم خود اہل عرب کے اندر سے مبعوث کیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے براہ راست انھی کی زبان میں اپنا کلام نازل فرمایا، اس وجہ سے ان پر حق پوری طرح واضح ہو چکا تھا اور اس کے بعد ان کو پیغمبر کی تکذیب کی سزا کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی تھی۔ سرخسی لکھتے ہیں:

فانہم قرابۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والقرآن نزل بلغتہم ولم یراعوا حق ذلک حین اشرکوا. (المبسوط، ۱۰/ ۹۸)

''وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار تھے اور قرآن ان کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ جب انھوں نے شرک کو اختیار کیے رکھا تو انھوں نے پیغمبر کی قرابت اور قرآن کے اپنی زبان میں نازل ہونے کے حق کی رعایت نہیں کی۔''

آلوسیؒ اس نکتے کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

ان کفرہم قد تغلظ لما ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نشا بین اظہرہم وارسل الیہم وہو علیہ الصلاۃ والسلام من انفسہم ونزل القرآن بلغتہم وذلک من اقوی البواعث علی ایمانہم فلا یقبل منہم الا السیف او الاسلام زیادۃ فی العقوبۃ علیہم. (روح المعانی، ۱۰/ ۷۹)

''ان کا کفر کئی وجوہ سے سنگین تر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی کے مابین زندگی کے مختلف مراحل گزارے، آپ انھی کا ایک فرد تھے اور انھی کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور قرآن مجید بھی انھی کی زبان میں نازل ہوا۔ یہ تمام امور ان کے ایمان لانے کے نہایت قوی محرکات کا درجہ رکھتے ہیں، ا س لیے (انکار کی صورت میں) ان کو سزا بھی سنگین تر ملی ہے، چنانچہ ان سے تلوار یا اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔''

فقہائے احناف کے اس کلاسیکی استدلال کو دور جدید میں مولانا حمید الدین فراہیؒ اور ان کے مکتبہ فکر نے نئے اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انبیا کی براہ راست مخاطب بننے والی قوموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت چلی آ رہی ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو اس دنیا میں ہی اس پر خدا کا عذاب آ جاتا ہے اور مشرکین عرب کے بارے میں دیا جانے والا حکم دراصل رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی اسی خاص سنت پر مبنی تھا۔ مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

''قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں غور کرنے سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ شریعت الٰہی نے ان غیر مسلموں میں، جن پر براہ راست کسی رسول کے ذریعے سے خدا نے اپنے دین کی حجت پوری کی ہے اور ان غیر مسلموں میں جن پر براہ راست کسی رسول کے ذریعے سے نہیں بلکہ عام اہل حق کے واسطے سے حجت تمام کی گئی ہے، فرق کیا ہے۔ ... قرآن مجید میں مختلف انبیاء علیہم السلام کی اپنی قوموں کے مشرکین کے ساتھ کشمکش کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں، ان سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ غیر مسلموں کے ان دونوں گروہوں میں سے پہلے کے بارے میں خدائی دستور یہ رہا ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی رسول کے ذریعے سے حق واضح کر دیا ہے اور تبلیغ ودعوت کی جو شرطیں ایک رسول کے لیے اس کے ہاں مقرر ہیں، وہ پوری ہو چکی ہیں تو اس کے بعد اس قوم کے کفار ومشرکین (غیرمسلموں) کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جینے کی مزید مہلت نہیں دی ہے۔ ایسے لوگوں کو پھر لازماً مٹایا گیا ہے اور ان کی تباہی کے لیے حسب حالات مندرجہ ذیل دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت نمودار ہوئی ہے:

۱۔ اگر اس قوم کی اکثریت اتمام حجت کے باوجود دعوت حق کے انکار اور اس کی مخالفت پر جمی رہ گئی ہے اور صرف گنتی کے چند نفوس ہی اس کے اندر سے حق کا ساتھ دینے والے نکلے ہیں تو اسے اسلام یعنی اپنے اور اس کائنات کے خالق ومالک اور رب کی بے آمیز اطاعت وبندگی یا عذاب الٰہی میں سے ایک کے انتخاب کا حکم دے دیا گیا ہے اور اگر اس نے اسلام کی جگہ عذاب الٰہی ہی کو اختیار کیا ہے تو زمین یا آسمان سے کسی عذاب الٰہی نے نمودار ہو کر ان کو فنا کر دیا ہے، چنانچہ نوح، ہود، لوط اور شعیب علیہم السلام کی قوموں کے ساتھ، جن کی سرگزشتیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں، یہی صورت پیش آئی۔

۲۔ اگر اس قوم میں سے ایک معتد بہ حصہ حق (رسول) کا ساتھ دینے والوں ا بھی نکل آیا ہے تو اس صورت میں لازماً اہل حق اور اہل باطل کے درمیان کشمکش برپا ہوئی ہے اور اتمام حجت کے سارے مراحل طے ہو جانے کے بعد بھی ان میں سے جو لوگ ایمان نہیں لائے ہیں، انہیں اہل حق کی طرف سے اسلام یا تلوار میں سے ایک کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اگر انھوں نے اسلام کے بجائے تلوار ہی کو منتخب کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تلوار سے ہی ان کو صفحہ ہستی سے محو کر دیا ہے۔ اہل حق کی تلوار بھی دراصل خدائی تازیانوں میں سے ایک تازیانہ ہے کیونکہ خدا کا رسول جو کچھ بھی کرتا ہے، براہ راست اللہ کی ہدایت وراہنمائی میں کرتا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین عرب کے درمیان جو صورت پیش آئی، وہ یہی دوسری صورت تھی۔'' (اسلامی ریاست، ۷۶۔۱۷۸)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

''یہ بات یاد رکھیے کہ قریش کا معاملہ ذرا خاص ہے، اس لیے کہ سنت الٰہی کے مطابق جس قوم کی طرف براہ راست رسول کی بعثت ہوتی ہے تو کامل اتمام حجت کے بعد دو ہی راستے باقی رہ جاتے ہیں۔ یا تو عذاب الٰہی سے ہلاک ہو جائیں یا پھر اہل ایمان کی تلوار سے ان کا خاتمہ ہو، بشرطیکہ اہل ایمان جہاد کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ عاد وثمود وغیرہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہلاک ہوئے، اس لیے کہ ان کے زمانے میں جو رسول آئے، ان کو اتنے اہل ایمان نہ مل سکے کہ وہ جہاد کرنے کی پوزیشن میں ہوتے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے قوت عطا فرما دی تھی، اس لیے آپ نے مشرکین عرب کے ساتھ جہاد کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی اس اعلان کے ساتھ جہاد کیا۔ اب ان کے لیے صرف اسلام ہے یا تلوار، اس لیے کہ ان پر حجت تمام ہو چکی تھی۔'' (تدبر، مارچ ۲۰۰۴، ص ۲۴)

یہاں یہ نکتہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ فقہی کتابوں میں 'فاقتلوا المشرکین' کی تحدید یا تعمیم سے متعلق نظری سطح پر اختلاف رائے پائے جانے کے باوجود امت مسلمہ میں عملاً احناف ہی کے نقطہ نظر کو قبول عام حاصل ہوا ہے اور تاریخ میں چند شاذ مثالوں کے علاوہ عام طور پر کفار کے کسی بھی گروہ کو، چاہے وہ بالکل واضح طور پر شرک اور بت پرستی کے قائل ہوں، اس پر مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام قبول کر لیں، ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ مثال کے طورپر تاریخ اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں عربوں نے سندھ کو فتح کیا تو ہندو مذہب اور اس کی عبادت گاہوں کو اسی طرح تحفظ دیا گیا جیسے اہل کتاب کی عبادت گاہوں کو دیا جاتا ہے۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:

''عربوں نے سندھ میں قدم رکھنے کے ساتھ ایک منٹ بھی اس کے فیصلہ میں توقف نہیں کیا کہ ان اقسام میں سے ہندوؤں کا مرتبہ اسلامی حکومت میں کیا ہے؟ .... سندھ کو فتح کرتے ہوئے جب عرب سپہ سالار محمد بن قاسم سندھ کے مشہور شہر الرور (الور) پہنچا تو شہر والوں نے کئی مہینہ تک حملہ آوروں کا پرزور مقابلہ کیا۔ پھر صلح کی اور اس میں دو شرطیں پیش کیں۔ اول یہ کہ شہر کا کوئی آدمی قتل نہ کیا جائے، دوسرے یہ کہ ان کے بت خانوں سے کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ محمد بن قاسم نے جس وقت ان شرطوں کو قبول کیا تو یہ الفاظ کہے:

ما البد الا ککنائس النصاری والیہود وبیوت نیران المجوس

''ہندوستان کا بت خانہ بھی عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں اور مجوس کے آتش کدوں ہی کی طرح ہے۔''

سندھ کی سب سے قدیم عربی تاریخ کے فارسی ترجمہ چچ نامہ میں یہ واقعہ اس طرح مذکور ہے:

''محمد بن قاسم نے برہمن آباد (سندھ) کے لوگوں کی درخواست قبول کر لی اور ان کو اجازت دی کہ سندھ کی اس اسلامی سلطنت میں اسی حیثیت میں رہیں جس حیثیت میں عراق اور شام کے یہودی، عیسائی اور پارسی رہتے ہیں۔'' (چچ نامہ، تاریخ الیٹ جلد اول ص ۱۸۶)

ایک عرب فاتح کی زبان کی یہ وہ اہم تصریح ہے کہ اس نے ہندوؤں کو وہی حیثیت دی جو بظن غالب کسی آسمانی تعلیم کے پیروؤں کی اسلامی قانون میں ہے اور ان کے بت خانوں کو بھی وہی درجہ دیا جو اہل کتاب یا مشابہ اہل کتاب کے معبدوں اور عبادت گاہوں کا اسلام میں ہے۔'' (عرب وہند کے تعلقات، ص ۱۷۹، ۱۸۰)

اتمام حجت پر مبنی احکام

فقہا کے مابین اس حوالے سے عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی نیابت میں آپ کے صحابہ نے جن اقوام اور گروہوں کے خلاف جہاد وقتال کا اقدام کیا، ان پر یقینی طور پر اتمام حجت ہو چکا تھا اور آپ کے دعوائے نبوت کی صداقت دور اول کی اسلامی سلطنت کے دائرے میں بسنے والے اہل کتاب پر بالخصوص واضح تھی، چنانچہ وہ بالعموم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرتے ہوئے آپ کی بعثت کو اہل عرب کے لیے خاص قرار دے کر اپنے آپ کو آپ پر ایمان لانے سے مستثنیٰ قرار دیتے تھے۱۵؂۔

امام شافعی فرماتے ہیں:

قال اللہ تبارک وتعالی قاتلوا الذین لا یومنون... وہم صاغرون، قال فکان بینا فی الآیۃ واللہ تعالی اعلم ان الذین فرض اللہ عزوجل قتالہم حتی یعطوا الجزیۃ الذین قامت علیہم الحجۃ بالبلوغ فترکوا دین اللہ عزوجل واقاموا علی ما وجدوا علیہ آباء ہم من اہل الکتاب. (الام، ۴/ ۱۷۵)

''اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:'قاتلوا الذین لا یومنون... صاغرون'۔ آیت سے یہ بات واضح ہے کہ جن اہل کتاب کے خلاف اللہ تعالیٰ نے قتال کر کے انھیں جزیہ کی ادائیگی پر مجبور کرنے کا حکم دیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن تک حق پہنچنے کے بعد حجت قائم ہو چکی تھی اور انھوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ کر اپنے آباؤ واجداد کے دین پر قائم رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔''

اگر کفار کے خلاف قتال کا یہ حکم اتمام حجت کے اصول پر مبنی اور اس کے ساتھ مشروط تھا تو ایک بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ پیغمبر کی طرف سے ایک مرتبہ اتمام حجت متحقق ہونے کے بعد کیا یہ زمان ومکان اور حالات کی تبدیلی سے متاثر ہوتا ہے یا تغیر کے اثرات سے بالاتر رہتا ہے؟ اور اگر متاثر ہوتا ہے تو پھر مختلف گروہوں اور ان کے احوال و ظروف میں پایا جانے والا تفاوت اتمام حجت کی کیفیت اور اس پر متفرع ہونے والے احکام پر بھی اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں؟ دوسرے لفظوں میں اگر کسی گروہ پر اتمام حجت کا تحقق یقینی نہ ہو تو کیا پھر بھی اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخاطب کفار کے ساتھ کیا؟

فقہی روایت کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہل علم کے ہاں یہ احساس موجود رہا ہے کہ اتمام حجت کی جو کیفیت اور فضا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے مخصوص دائرۂ تخاطب میں پائی جاتی تھی، وہ آفاقی نہیں، بلکہ محدود ہے۔ اسی طرح اتمام حجت پر متفرع ہونے والے احکام کی تحدید وتخصیص کے حوالے سے بھی صدر اول ہی سے علمی بحثیں موجود رہی ہیں۔ چنانچہ اوپر کی سطور میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ مشرکین کو قتل کرنے اور اہل کتاب سے 'جزیہ' وصول کرنے کے احکام کے حوالے سے یہ سوال دور صحابہ ہی میں زیر بحث آ گیا کہ ان کی کس حد تک تعمیم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح مرتد پر سزاے موت کے نفاذ کو لازم نہ سمجھنے کی رائے بھی ابتدا ہی سے موجود رہی ہے، چنانچہ سیدنا عمر اور ابراہیم نخعی سے اس کے لیے عمر قید کی متبادل سزا تجویز کرنا منقول ہے اور ابن حزم کے بیان کے مطابق فقہا کا ایک گروہ بھی یہی رائے رکھتا ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ''حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث'' میں اس نقطہ نظر کی وضاحت میں لکھا ہے:

''مرتد کے لیے سزائے موت کے لازم ہونے کے بجاے کسی متبادل سزا کا امکان تسلیم کرنے کا رجحان، بہت محدود دائرے میں سہی، صدر اول کے اہل علم کے ہاں دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ کتب فقہ میں ایک گروہ کی، جن میں ابراہیم نخعی شامل ہیں، یہ رائے نقل ہوئی ہے کہ مرتد کو کسی مخصوص مدت تک نہیں، بلکہ مدت العمر توبہ کا موقع دیا جائے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے۔ ابراہیم نخعی کی اس رائے کو غالباً مخالف رائے کے عمومی شیوع کے تناظر میں محض ان کا تفرد قرار دے کر زیادہ غور وفکر کا مستحق نہیں سمجھا گیا اور اسی وجہ سے فقہی لٹریچر میں اس موقف کی بحث و تمحیص کے حوالے سے زیادہ علمی مواد نہیں پایا جاتا، تاہم ہمارے خیال میں یہ رائے محض ابراہیم نخعی کا تفرد نہیں ہے، بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے بلند مرتبت فقیہ کے ہاں بھی یہ رجحان دکھائی دیتا ہے اور کم از کم ان جیسی شخصیت کی طرف نسبت کے ناتے سے یہ رائے ہر لحاظ سے توجہ اور اعتنا کی مستحق ہے۔

انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب تستر فتح ہوا تو ابو موسیٰ اشعری نے مجھے سیدنا عمر کے پاس بھیجا۔ میں پہنچا تو سیدنا عمر نے مجھ سے دریافت کیا کہ جحیفہ اور اس کے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ یہ بنو بکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے جو مرتد ہو کر کفار کے ساتھ جا ملے تھے۔ انس کہتے ہیں کہ سیدنا عمر نے بڑی کرید کرتے ہوئے ان افراد کے بارے میں پوچھا، لیکن میں نے تین مرتبہ ان کی توجہ اس موضوع سے ہٹانے کے لیے کوئی دوسری بات چھیڑ دی۔ آخر ان کے اصرار پر میں نے بتایا کہ انھیں گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس پر سیدنا عمر نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ انس نے کہا کہ یہ لوگ جو مرتد ہوکر کفار کے ساتھ جا ملے تھے، کیا ان کے لیے قتل کے علاوہ کوئی اور صورت بھی ممکن تھی؟ سیدنا عمر نے کہا کہ ہاں، میں انھیں اسلام کی طرف واپس آنے کی دعوت دیتا اور اگر وہ انکار کرتے تو انھیں قید میں ڈال دیتا۔

روایت سے واضح ہے کہ سیدنا عمر اس رائے کے حق میں عمومی رجحان رکھتے تھے اور انس بن مالک بھی اس سے پیشگی واقف تھے۔ چنانچہ انھوں نے پہلے اس موضوع پر گفتگو کو ٹالنے اور پھر ابوموسیٰ اشعری کے اقدام کا دفاع کرنے کی کوشش کی جس پر سیدنا عمر نے اپنی مذکورہ رائے ظاہر کی۔ ابن حزم نے نقل کیا ہے کہ فقہا کا ایک گروہ مرتد کو قتل کرنے کے بجاے مدت العمر توبہ کا موقع دینے کا قائل رہا ہے اور انھوں نے اس گروہ کے مستدل کے طور پر سیدنا عمر کے مذکورہ واقعے ہی کا حوالہ دیا ہے۔

ابن عبد البر نے سیدنا عمر کی اس رائے کو جمہور فقہا کے موقف پر محمول کرتے ہوئے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر وہ قید میں ڈالنے کے بعد بھی اسلام قبول نہ کرتے تو سیدنا عمر انھیں قتل کر دیتے، تاہم اس کے لیے انھوں نے کلام سے کوئی داخلی قرینہ پیش نہیں کیا، بلکہ یہ کہا ہے کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتد کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے سیدنا عمر اس سے مختلف کوئی بات نہیں کہہ سکتے، حالانکہ ازروئے علت سیدنا عمر کی یہ رائے ارشاد نبوی کے خلاف نہیں۔ اگرچہ روایت میں ان کی اس رائے کا استدلال نقل نہیں ہوا، لیکن یہ قیاس کرنا غالباً غلط نہیں ہوگا کہ وہ مرتد کے دل میں اسلام کی حقانیت کے حوالے سے واقعی شکوک وشبہات کا امکان تسلیم کرتے ہوئے اتمام حجت کے پہلو سے اس کو قتل کی سزا دینے میں تردد محسوس کرتے اور اس کے بجاے اسے مدت العمر توبہ کا موقع دینے کو شریعت کے منشا کے زیادہ قریب تصور کرتے ہیں۔

بعض روایات اور آثار میں مرتد ہونے والی عورت کو قتل کے حکم سے مستثنیٰ قرار دینے کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو من جملہ دوسرے احکامات کے یہ حکم بھی دیا کہ اگر کوئی عورت اسلام سے پھر جائے تو اسے اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ توبہ کرلے تو قبول کرلو اور اگر انکار کردے تو اس سے جبراً توبہ کراؤ۔ اسی طرح ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مرتد ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل نہیں کیا۔

ایک روایت کے مطابق سیدنا علی کے زمانے میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو حضرت علی نے ان میں سے بالغ مردوں کو قتل کر دیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ عبداللہ ابن عباس کا فتویٰ یہ نقل ہوا ہے کہ اگر عورتیں اسلام سے مرتد ہوجائیں تو انھیں قتل نہیں کیاجائے گا، بلکہ انھیں محبوس کر کے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ فقہائے تابعین میں سے زہری، ابراہیم نخعی، قتادہ، عطاء، حسن بصری، خلاس اور عمر بن عبد العزیز سے مرتد ہونے والی عورت کو قتل کرنے کے بجاے قید کرنے یا لونڈی بنا لینے جیسی متبادل سزائیں دینا مروی ہے۔ اس کے برعکس بعض دیگر روایات میں مرتد ہونے والی عورتوں کو قتل کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

ہمارے نزدیک اگر ارتداد کی سزا کو اتمام حجت کے نکتے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو خواتین پر اس سزا کو نافذ کرنے اور انھیں اس سے مستثنیٰ قرار دینے کے دونوں طریقے قابل فہم ہو جاتے ہیں۔ قتل چونکہ کسی بھی جرم کی آخری سزا ہوتی ہے جس کے بعد اصلاح یا توبہ کا کوئی موقع باقی نہیں رہ جاتا، اس لیے کوئی فرد اگر کسی بھی درجے میں رعایت کا مستحق ہو تو اس پر یہ سزا نافذ کرنے کے بجاے کوئی متبادل سزا تجویز کرنا اور توبہ واصلاح کے دروازے کو اس کے لیے کھلا رکھنا ایک قابل فہم اور معقول بات ہے۔ خواتین کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ انسانی تاریخ میں بالعموم انھیں مردوں اور بالخصوص اپنے خاندان کے مردوں کے رجحانات اور اثرات سے آزاد ہو کر اپنی عقل وفہم اور صواب دید کے مطابق خود کوئی فیصلہ کرنے کے مواقع حاصل نہیں رہے اور مذہبی، معاشرتی اور سیاسی معاملات میں انھیں مردوں ہی کے تابع سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی مقتضی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد انکار حق کے معاملے میں انھیں مردوں کے ساتھ یکساں درجے کا مجرم نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے زیادہ احتیاط ملحوظ رکھی جائے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اتمام حجت کے تحقق کا اطمینان حاصل ہونے کی صورت میں خواتین کو قتل کرنے، جبکہ اس میں شک وشبہ پائے جانے کی صورت میں کوئی متبادل سزا نافذ کرنے کے دونوں طریقے درست قرار پاتے ہیں۔'' (حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث، ۲۲۲-۲۲۶)

اتمام حجت سے متعلق اس نکتے کی توضیح فقہا کی بیان کردہ اس شرط سے بھی ہوتی ہے کہ کفار کے کسی گروہ کے خلاف قتال کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہو۱۶؂۔ یہاں یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ فقہائے احناف جنگ سے پہلے دعوت کے ضابطے کو اصولاً تسلیم کرنے کے باوجود عملاً دونوں طرح کے کفار میں کوئی قانونی فرق تسلیم نہیں کرتے، چنانچہ ان کے نزدیک کسی کافر تک اسلام کی دعوت پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو، دونوں صورتوں میں اس کی جان کی حرمت یکساں ہے اور اگر کسی مسلمان نے کسی ایسے کافر کو قتل کر دیا جس تک دعوت نہیں پہنچی تھی تو اس پر اس کی دیت لازم نہیں۔ تاہم امام شافعی کی رائے اس سے مختلف ہے۔ وہ نہ صرف اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسی اقوام موجود ہوں جن تک اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو بلکہ وہ، احناف کی رائے کے برخلاف، ان اقوام کے افراد کی انفرادی جانوں کی حرمت کے معاملے کو بھی ان قوموں سے مختلف قرار دیتے ہیں جن تک دعوت اسلام پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

لا اعلم احدا لم تبلغہ الدعوۃ الیوم الا ان یکون من وراء عدونا الذین یقاتلونا امۃ من المشرکین فلعل اولئک ان لا تکون الدعوۃ بلغتہم وذلک مثل ان یکونوا خلف الروم او الترک او الخزر امۃ لا نعرفہم فان قتل احد من المسلمین احدا من المشرکین لم تبلغہ الدعوۃ وداہ ان کان نصرانیا او یہودیا دیۃ نصرانی او یہودی وان کان وثنیا او مجوسیا دیۃ المجوسی. (الام ۴/ ۲۳۹)

''میں نہیں سمجھتا کہ آج کوئی ایسا آدمی ہو جس تک دعوت نہ پہنچ چکی ہو۔ ہاں اگر ہمارے ساتھ برسر جنگ دشمن سے آگے کے علاقے میں کفار کا کوئی گروہ ہو تو ان کے بارے میں ممکن ہے کہ انھیں دعوت نہ پہنچی ہو۔ مثلاً رومیوں یا ترکوں یا خزر سے پیچھے کوئی گروہ ہو جسے ہم نہ جانتے ہوں۔ پس اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کفار میں سے کسی ایسے آدمی کو قتل کر دے جس تک دعوت نہیں پہنچی تو وہ اس کی دیت ادا کرے گا۔ اگر مقتول عیسائی یا یہودی ہو تو عیسائی یا یہودی کی دیت اور اگر وہ بت پرست یا مجوسی ہو تو مجوسی کی دیت لازم ہوگی۔''

غور کیا جائے تو اس نکتے کا نہایت گہرا تعلق 'قاتلوا الذین لا یومنون باللہ' کے حکم قرآنی کے عموم وخصوص کی بحث سے ہے اور امام شافعیؒ کے مذکورہ استنباط سے کسی حد تک یہ بات جھلکتی ہے کہ وہ اس حکم کے اصل پس منظر اور علت کو اس امر میں مانع محسوس کرتے ہیں کہ حکم کو اس کے ظاہر کے لحاظ سے تمام کفار کے لیے عام قرار دیا جائے۔ بعض شافعی فقہا نے اس سے آگے بڑ ھ کر یہ بھی قرار دیا ہے کہ اسلام کی دعوت پہنچے بغیر جن کفار کو قتل کیا جائے، ان کی دیت مسلمانوں ہی کے برابر ہوگی۔ ماوردی اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسانوں کی جان اصل میں محفوظ اور محترم ہے، جبکہ مباح الدم انھی کفارکو قرار دیا جا سکتا ہے جن کی طرف سے اسلام کے خلاف معاندت کا رویہ ظاہر ہو جائے۔۱۷؂ فقہا بالعموم کسی غیر مسلم تک اسلام کی دعوت پہنچ جانے اور اس کے اسلام قبول نہ کرنے کو ہی اسلام کے خلاف محاربہ اور عناد کے ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ یہ بات کلاسیکی فقہی دور میں اپنا ایک محل رکھتی تھی، لیکن ظاہر ہے کہ اسے ابدی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جب صدر اول میں مختلف گروہوں کے حوالے سے اتمام حجت کی کیفیت میں تفاوت محسوس کیا جا رہا تھا تو ظاہر ہے کہ بعد کے زمانوں میں لازمی طور پر اس میں مزید تغیر رونما ہوا۔ چنانچہ امام غزالی نے پانچویں صدی میں یہ رائے ظاہر کی تھی کہ غیر مسلموں کا ایک گروہ تو یقیناًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی حقانیت سے پوری طرح واقف ہے اور اس کے انکار کے نتیجے میں خدا کے عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، لیکن وہ غیر مسلم جنھوں نے سرے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی نہیں سنا یا نام تو سنا ہے، لیکن آپ کی نبوی حیثیت اور پیغمبرانہ کمالات واوصاف سے کماحقہ آگاہ نہیں ہیں، ان کے بارے میں یہی امید ہے کہ وہ رحمت الٰہی کے دائر ے میں شامل ہو کر نجات پا جائیں گے۔ لکھتے ہیں:

ان اکثر نصاری الروم والترک فی ہذا الزمان تشملہم الرحمۃ ان شاء اللہ تعالیٰ اعنی الذین ہم فی اقاصی الروم والترک ولم تبلغہم الدعوۃ فانہم ثلاثۃ اصناف صنف لم یبلغہم اسم محمد صلی اللہ اللہ علیہ وسلم اصلا فہم معذورون وصنف بلغہم اسمہ ونعتہ وما ظہر علیہ من المعجزات وہم المجاورون لبلاد الاسلام والمخالطون لہم وہم الکفار الملحدون وصنف ثالث بین الدرجتین بلغہم اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ولم یبلغہم نعتہ وصفتہ بل سمعوا ایضا منذ الصبا ان کذابا ملبسا اسمہ محمد ادعی النبوۃ کما سمع صبیاننا ان کذابا یقال لہ المقفع بعثہ اللہ تحدی بالنبوۃ کاذبا فہولاء عندی فی اوصافہ فی معنی الصنف الاول فانہم مع انہم لم یسمعوا اسمہ سمعوا ضد اوصافہ وہذا لا یحرک داعیۃ النظر فی الطلب.(فیصل التفرقۃ، مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، ۳/ ۹۶)

''اس زمانے میں روم کے مسیحیوں اور ترکوں کی اکثریت ان شاء اللہ، اللہ کی رحمت کے دائرے میں شامل ہوں گے۔ میری مراد وہ لوگ ہیں جو سلطنت روم اور ترکوں کے دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور ان تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی۔ یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جنھوں نے سرے سے کبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی نہیں سنا۔ یہ تو معذور ہیں۔ دوسرے وہ جن تک آپ کا نام اور اوصاف اور آپ کے حق میں ظاہر ہونے والے اوصاف پہنچے ہیں اور وہ اسلامی ممالک کے پڑوس میں رہتے ہیں اور مسلمانوں سے ان کا میل ملاپ رہتا ہے۔ یہ لوگ کافر اور بے دین ہیں۔ تیسرا گروہ ان دونوں کے درمیان ہے۔ ان تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تو پہنچا ہے، لیکن آپ کے حالات و اوصاف نہیں پہنچے، بلکہ انھوں نے بچپن سے یہ سن رکھا ہے کہ (نعوذ باللہ) محمد نام کے ایک جھوٹے اور فریبی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، ایسے ہی جیسے ہمارے بچوں نے سن رکھا ہے کہ مقفع نامی ایک کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ یہ گروہ میرے نزدیک اپنے حالات کے لحاظ سے پہلے گروہ کے حکم میں ہے، کیونکہ ان تک نہ صرف یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی تعارف نہیں پہنچا بلکہ انھوں نے اس کے الٹ سن رکھاہے اور یہ چیز (ان میں اسلام کے بارے میں) تلاش اور جستجو کا داعیہ پیدا نہیں کرتی۔''

یہی وجہ ہے کہ دور جدید کی اسلامی ریاستوں میں ارتدادکی سزا کے ضمن میں بہت سے مسلم اہل علم اور مفکرین نے اجتہادی زاویہ نگاہ اختیار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اتمام حجت کے لیے جو معاون اور سازگار فضا اور جو اسباب ومحرکات اسلام کے دور اول میں موجود تھے، کیا وہ آج بھی اسی طرح موجود ہیں اور کیا معروضی تناظر میں اس سزا کا اطلاق خود حکم کی علت کی رو سے درست ہوگا؟۱۸؂ مولانا مودودی بھی، جنھوں نے ارتداد پر سزائے موت کا بھرپور دفاع کیا ہے، یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دور جدید میں اسلامی تعلیم وتربیت کے نظام میں نقص اور کافرانہ تعلیم وتربیت کے اثرات کے تحت نئی نسلوں میں اسلام سے فکری انحراف کا میلان اس درجے میں پھیل چکا ہے کہ انھیں قانون ارتداد کے تحت جبراً دائرۂ اسلام میں مقید رکھنے سے ''اسلام کے نظام اجتماعی میں منافقین کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہو جائے گی جس سے ہر وقت ہر غداری کا خطرہ رہے گا۱۹؂۔'' ایسے لوگوں کو جبراً اسلام کا پابند بنانے پر مولانا کی تشویش کا اصل پہلو تو وہی ہے جو انھوں نے بیان کیا ہے، تاہم اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دور جدید میں وضوح حق اور اتمام حجت کی کیفیت کے حوالے سے ان کے احساسات کیا ہیں۔ مولانا نے غالباً اسی احساس کے تحت مرتد کے لیے ملک بدر کرنے کی متبادل سزا کا امکان تسلیم ،بلکہ تجویز کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر نظری فقہی بحثوں سے صرف نظر کر لیا جائے تو اہل علم اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس قانون کے نفاذ پر اصرار نہیں کیا، بلکہ مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی روایت ہے کہ مولانا مفتی محمود نے انھیں بتایا کہ اسلامی قانون سازی کے ایک مرحلے جب انھوں نے اسلام سے ارتداد کو قانونی طور پر مستوجب قتل قرار دینے کی تجویز پیش کی تو جماعت اسلامی نے اس سے اختلاف کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ایسا کرنے سے غیر مسلم ممالک کو بھی مذہب کی تبدیلی پر پابندی لگانے کی بنیاد مل جائے گی اور اس سے اسلام کی دعوت وتبلیغ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔۲۰؂

اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد میں شعبہ فقہ وقانون کے استاذ محمد مشتاق احمد کی روایت کے مطابق، ڈاکٹرمحمود احمد غازی نے انھیں بتایا کہ جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن تھے تو انھوں نے اس بات کی کوشش کی کہ توہین رسالت کی سزا سے متعلق قانون میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین تفریق کرتے ہوئے یہ قرار دیا جائے کہ اس جرم کے ارتکاب پر غیر مسلم کو تو تعزیری طو رپر موت کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ مجرم کے مسلمان ہونے کی صورت میں چونکہ یہ جرم ارتداد کے ہم معنی ہے، اس لیے اسے موت کی سزا دی جائے گی۔ اس تجویز سے ڈاکٹر غازی کا منشا یہ تھا کہ اس طرح جزوی طور پر ارتداد کی سزا بھی رو بعمل ہو جائے گی، لیکن کونسل کی سطح پر ان کی یہ تجویز بھی قبول نہیں کی گئی۔

اس تناظر میں احکام قتال کی تعمیم یا تحدید کے ضمن میں بھی اس نکتے کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب کفار سے متعلق دیے جانے والے احکام ایک مخصوص اساس پرمبنی تھے تو ان کی علی الاطلاق تعمیم نہیں کی جا سکتی۔

________

۱؂ شافعی، الام، ۴/ ۱۷۴۔ ابن قدامہ، المغنی، ۹/ ۱۷۳۔

۲؂ ابو یوسف، الخراج، ۱۴۰۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۲۹۔

۳؂ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۷/ ۱۷۳، رقم ۱۳۷۶۸۔

۴؂ ابن قدامہ، المغنی، ۹/ ۲۶۶۔

۵؂ ابن حجر، فتح الباری، ۶/ ۲۵۹۔

۶؂ الام، ۴/ ۱۷۳۔

۷؂ ابن حزم، الاحکام، ۵/ ۱۰۴، ۱۰۵۔ ابن القیم، احکام اہل الذمہ، ۱/ ۹۱۔

۸؂ شافعی، الام۴/ ۱۸۶۔

۹؂ ابوعبید، الاموال، ص ۱۰۹۔ الماوردی، الحاوی الکبیر، ۱۸/ ۳۳۹۔

۱۰؂ ابن قدامہ، المغنی، ۹/ ۲۶۶ ۔

۱۱؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۶۷۹۔

۱۲؂ تفسیر الطبری ۳/ ۱۶۔

۱۳؂ سرخسی، المبسوط ۱۰/ ۱۱۹۔

۱۴؂ احکام اہل الذمہ، ۱/ ۹۹۔

۱۵؂ سرخسی، شرح السیر الکبیر ۱/ ۱۵۱، ۱۵۲۔ ابو اللیث السمرقندی، فتاویٰ النوازل ۲۰۸۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۲۸/ ۶۲۶۔

۱۶؂ الام، ۴/ ۲۳۹۔ المغنی ۱۰/ ۳۸۵۔

۱۷؂ الحاوی الکبیر ۱۲/ ۳۱۳۔

۱۸؂ نجات اللہ صدیقی، اسلام، معاشیات اور ادب، ۴۱۴۔

۱۹؂ مرتد کی سزا، ۷۵ ۔

۲۰؂ فتاویٰ مفتی محمود (مقدمہ) ۵/ ۴۱۔

_____________




Articles by this author