غار والے

غار والے


[آٹھویں جماعت کے لیے بک ۳]

کھلے میدان میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ دو آدمی لکڑی کے ستونوں سے بندھے تھے۔ پاس ہی ایک تخت پر بادشاہ بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک مغرور اور بے رحم شخص ہے۔ اس نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور لوگ خاموش ہو گئے۔ اسے سونے کی ایک پلیٹ میں کچھ پتھر پیش کیے گئے۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا، نفرت سے قیدیوں کی طرف دیکھا اور زور سے ان کو دے مارا۔

یہ دیکھنا تھا کہ ہجوم میں اچانک شور بلند ہوا۔ ایک کونے سے '' چاند دیوی کی جے!'' کا نعرہ بلند ہوا اور ہر شخص زمین پر پڑے پتھر اٹھا اٹھا کر قیدیوں کو مارنے لگا۔ قیدیوں نے بہت شور مچایا، لیکن ان کی آہیں بے رحم لوگوں کے نعروں میں دب کر رہ گئیں۔ پتھروں کی بوچھاڑ اس قدر تیز تھی کہ کچھ ہی دیر میں ان کے کپڑے پھٹ گئے اورجگہ جگہ سے خون رسنے لگا۔ پتھر اس وقت تک برستے رہے جب تک ان کے جسم حرکت کرنا بند نہیں ہو گئے۔ انھیں اس لیے شہید کیا گیا تھا کہ وہ چاند دیوی کی پوجا کے بجائے ایک اللہ کی عبادت یعنی توحید کو اپنا مذہب مانتے تھے۔

اگلے روز بادشاہ کے دربار میں چند نوجوانوں کو پیش کیا گیا۔ ظالم بادشاہ نے ان سے گرج کر پوچھا: ''تم ہی وہ لوگ ہو جنھوں نے چاند دیوی کی پوجا چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت شروع کر دی ہے؟''

ایک نوجوان بولا: ''بے شک! ہم ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے....''

''خاموش رہو گستاخ! تم نے ان کا انجام نہیں دیکھا، جنھیں کل سنگسار کر دیا گیا تھا؟''

بادشاہ نے زور دار قہقہہ لگایا اور بولا: ''اگر پتھر کھانا اتنا ہی آسان لگتا ہے تو ہمارے پاس تمھارے لیے اور سزا بھی ہے۔'' قریب تھا کہ بادشاہ نوجوانوں کے لیے کسی سخت سزا کا اعلان کرتا کہ دربار میں ایک آواز بلند ہوئی: ''یہ ابھی ناسمجھ ہیں .... انھیں سوچنے کا موقع دیا جائے شاید یہ خود ہی اللہ کا نام لینا بند کر دیں۔''

بادشاہ نے کچھ سوچتے ہوئے اعلان کیا: ''ٹھیک ہے، انھیں تین دن کی مہلت دی جاتی ہے تاکہ یہ خوب سوچ سمجھ لیں۔''

تین دن ابھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ رات کے اندھیرے میں شہر سے چند نوجوان نکلے اور پہاڑوں کی طرف چل دیے۔ یہ وہی نوجوان تھے جنھیں مہلت دی گئی تھی۔ انھوں نے اپنا ایمان بچانے کے لیے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ بار بار مڑ کر دیکھتے کہ کوئی ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا۔ کچھ دور جا کر انھیں ایسا لگا جیسے کوئی ان کے پیچھے آ رہا ہو۔ وہ ڈر گئے۔

ایک نوجوان بولا: ''یہ کوئی کتا معلوم ہوتا ہے۔''

دوسرے نے کہا: ''بھگاؤ اسے، ورنہ بھونک بھونک کر تنگ کرے گا اور شہریوں کو بھی جگائے گا۔''

انھوں نے چند پتھر اٹھا کر کتے کی طرف پھینکے لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ ان کے پیچھے آتا رہا۔ ایک پتھر اسے لگا بھی لیکن اس کے منہ سے ذرا سی آواز بھی نہ نکلی۔ ایک نوجوان بولا: ''لگتا ہے یہ ہمیں تنگ نہیں کرے گا چلو رہنے دو اسے، آنے دو پیچھے۔''

وہ یونہی آگے بڑھتے رہے۔ ان کی منزل پہاڑوں کے اندر ایک غار تھا جو چاروں طرف سے بڑی بڑی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا۔ غار اندر سے خاصا کھلا تھا۔ نوجوانوں نے بادشاہ سے چھپنے کے لیے بڑی اچھی جگہ کا انتخاب کیا تھا۔

وہ سب آرام کرنے کے لیے غار کے اندر چلے گئے۔ پیچھے آنے والاکتا باہر ہی بیٹھ گیا۔ نوجوان سمجھ گئے کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ وہ یہ سوچ کر خوش ہو رہے تھے کہ ظالم بادشاہ کے ڈر سے انھیں اپنا مذہب نہیں چھوڑنا پڑا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے وہ غار کے فرش پر لیٹ گئے۔

ادھردوسری صبح جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ سب نوجوان بھاگ نکلے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا۔ ان کی تلاش میں اس نے اپنے سپاہی چاروں طرف دوڑا دیے، لیکن نوجوان اب اس کے ہاتھ کہاں آنے والے تھے۔ ان کی مدد اللہ تعالیٰ جو کر رہا تھا! اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ان بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اور ان مصیبتوں پر صبر کرتے ہوئے اس سے نکلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ نوجوانوں نے بڑی ذہانت اور ہمت سے ظالم بادشاہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھایااور وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کی مدد کی۔ جو کتا ان کے پیچھے پیچھے آیا تھا ، وہ اللہ ہی طرف سے ان کی مدد تھی۔ یہ کتا اب ان کی حفاظت کی خاطر غار کے باہربیٹھ گیا تھا، جیسے پہرہ دے رہا ہو۔

بادشاہ کے سپاہی ،نوجوانوں کو تلاش کرتے ہوئے جب غار کی طرف آئے توکتے کو دیکھ کر انھیں پاس جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ انھوں نے کچھ فاصلے ہی سے غار میں جھانکنے کی کوشش کی لیکن اندھیرا بہت تھا اس لیے انھیں کچھ دکھائی نہ دیا۔

وقت یونہی گزرتا رہا، کئی سال گزر گئے۔ غار والے نوجوان اسی طرح سوتے رہے۔

آخر کار وہ بادشاہ مر گیا جس کے ظلم سے بچنے کے لیے نوجوان شہر سے بھاگے تھے۔ اس کے بعد کئی اور بادشاہ گزرے، یہاں تک کہ ایسا حکمران آیا جو نہایت نیک اور رحم دل تھا۔ ایک خدا کو ماننے اور اس کی عبادت کرنے والا تھا۔ لوگ بھی اب ایک خدا کی عبادت کرتے تھے۔ مگر اس ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اللہ کو تو مانتے تھے لیکن قیامت کے دن اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ یہ لوگ کہتے: ''جنت دوزخ سب فرضی قصے ہیں۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ مرے ہوئے دوبارہ زندہ ہوں؟''

بادشاہ اور اس کے ساتھی ان لوگوں کو بہت سمجھاتے لیکن بات ان کی سمجھ میں نہ آتی۔ وہ کہتے کہ ہمیں قیامت کے آنے کا ثبوت چاہیے۔ جب بادشاہ ایسی باتیں سنتا تو خدا سے دعا کرتا: ''اے اللہ! کوئی ایسی نشانی دکھلا، جس کے بعد کسی کو بھی قیامت کے دن سے انکار کرنے کی جرأت نہ ہو۔''

اور پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ غار والے نوجوان نیند سے اٹھ بیٹھے۔ ایک نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا: ''بھائیو، کتنی دیر سوئے رہے؟''

''یہ کوئی چھ سات گھنٹے۔'' دوسرے نے جواب دیا۔

''مجھے تو بہت بھوک لگی ہے۔'' تیسرا بولا۔

ایک نے کہا۔ ''بھوک تو مجھے بھی لگی ہے، میں کھانے کا بندوبست کرتا ہوں۔''

ایک اور بولا: ''احتیاط سے جانا، بادشاہ کے سپاہیوں نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔ پکڑے گئے تو وہ ہمیں چاند دیوی کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیں گے ورنہ سنگسار کر دیں گے۔''

خاصی سوچ بچار کے بعد ایک ساتھی نے بھیس بدلا اور کھانا لانے کے لیے قریبی بستی کی طرف چل دیا۔

اصل میں نوجوانوں کو کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ تو کم از کم تین سوسال سو تے رہے ہیں اور اب زمانا بہت بدل چکا ہے۔

روٹی خریدنے کے لیے جانے والا نوجوان بڑی احتیاط سے ایک تندور والے کے پاس گیا ۔ اس نے تندور والے کو چند سکّے دیے۔ وہ سکّے دیکھ کر بولا: ''یہ تمھارے پاس کہاں سے آئے؟''

اس نے کہا: ''کیا مطلب ہے آپ کا؟ بھائی، یہ سکّے میرے ہیں!''

تندور والے کو شک گزرا۔ اس نے سوچا، ہو نہ ہو، نوجوان کو برسوں پرانا خزانہ مل گیا ہے۔ اس نے شو رمچا کر لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ نوجوان نے بتایا کہ اسے کوئی خزانہ نہیں ملا، لیکن انھیں یقین نہ آیا۔ وہ اسے لے کر بادشاہ کے دربار کی طرف چل دیے۔

راستے میں نوجوان نے بہت سی چیزوں پر غور کیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کے اور ان لوگوں کے لباس میں بہت فرق ہے۔ اس بات پر تو وہ بہت حیران ہوا کہ جب اس نے ظالم بادشاہ کا ذکر کیا تو سب اسے برابھلا کہنے لگے۔ وہ اس بات پر بھی حیران تھا کہ غار کے باہر پہرہ دینے والا کتا غائب تھا اور اس کی جگہ کچھ ہڈیاں پڑی ملی تھیں۔ اصل بات اب اسے سمجھ میں آنے لگی تھی۔

جلد ہی وہ لوگ بادشاہ کے دربار میں تھے۔ بادشاہ کے مختلف سوالوں کے جواب میں اس نے انھیں ساری بات بتائی کہ جب ظالم بادشاہ نے انھیں اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کیا تو وہ بھاگ کر غار تک جا پہنچے، جہاں ان کی آنکھ لگ گئی۔ دربار میں موجود تمام لوگ حیرت سے نوجوان کو دیکھ رہے تھے۔ انھیں اس کی باتوں پر یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا لیکن وہ جو باتیں بتا رہا تھا وہ بالکل سچ تھیں ۔ وہ جانتے تھے کہ ظالم بادشاہ کے ظلم سے بچنے کے لیے کچھ نوجوان غائب ہو گئے تھے جن کا آج تک پتا نہیں چلا تھا اور نوجوان کے پاس سکّے بھی اسی ظالم بادشاہ کے دور کے تھے۔

تمام باتیں بادشاہ کو بتانے کے بعد نوجوان نے اجازت چاہی۔ وہ واپس اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور سارا قصہ انھیں سنایا۔ کھانا کھانے کے بعد انھیں پھر نیند آ گئی اور وہ سونے کے لیے لیٹ گئے۔

دوسری جانب نوجوان کی باتوں کی سچائی جاننے کے لیے بادشاہ چند سپاہیوں کے ہمراہ نوجوانوں کے غار کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ جب غار میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ سب کے سب سوئے پڑے ہیں۔ ان میں وہ نوجوان بھی تھا جو شہر سے کھانا لینے آیا تھا۔ بادشاہ کے حکم پر جب سپاہیوں نے اسے جگانا چاہا تو پتا چلا کہ وہ سب فوت ہو چکے تھے۔

یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی۔ ان لوگوں کو بھی پتا چل گیا جنھوں نے قیامت پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا۔ان کا یہ شک دور ہو گیا تھا کہ مرنے کے بعد وہ کس طرح زندہ کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے سینکڑوں برس سے سوئے ہوئے نوجوانوں کو دوبارہ اٹھا دیا تھا۔ ادھر آخرت کو ماننے والے بادشاہ اور اس کے ساتھی بہت خوش تھے کہ خدا غار والے نوجوانوں کوکسی اور وقت بھی زندہ کر سکتا تھا، لیکن ٹھیک اس دور میں زندہ کر کے اللہ نے ان کی بہت مدد کی تھی۔ اللہ نے نیک اور رحم دل بادشاہ کی دعا قبول کر لی تھی۔

____________




Articles by this author