غیر مسلموں پر شرعی قوانین کا نفاذ (حصہ اول)

غیر مسلموں پر شرعی قوانین کا نفاذ (حصہ اول)


اسلامی شریعت میں مختلف معاشرتی جرائم، مثلاً زنا، سرقہ اور قذف وغیرہ کے حوالے سے مقرر کردہ سزاؤں کا نفاذ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں پر بھی ہوگا یا نہیں؟ فقہا کے مابین اس حوالے سے اختلاف راے پایا جاتا ہے۔ ایک مکتب فکر کے نزدیک ان سزاؤں کی نوعیت ریاستی قوانین کی ہے جنھیں غیر مسلموں سمیت اسلامی ریاست کے تمام شہریوں پر یکساں نافذ کیا جائے گا، جبکہ دوسرا فقہی مکتب فکر ان سزاؤں کے عمومی نفاذ کو ضروری نہیں سمجھتا۔ ہمارے نزدیک شرعی احکام وقوانین سے متعلق نصوص کا انداز تخاطب اور احکام کی نوعیت دوسری راے کی تائید کرتی ہے۔ قرآن مجید میں ان احکام کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں اصلاً اہل ایمان کو مخاطب بنایا ہے اور اپنے مقرر کردہ حدود وقیود کو ایمان واسلام کی فرع اور اس کا تقاضا قرار دیتے ہوئے اہل ایمان سے ان کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

چنانچہ دیکھیے:

ایلا، طلاق ، عدت، رضاعت اور مہر سے متعلق احکام سورۂ بقرہ (۲)کی آیات ۲۲۶۔ ۲۴۲اور سورۂ طلاق کی آیات ۱۔ ۷میں بیان ہوئے ہیں۔ ایلا کے حکم میں فرمایا ہے: 'فَاِنْ فَآءُ وْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ' ۱؂جبکہ عدت کے احکام کے بیان میں 'اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ' ۲؂کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی طرح طلاق کے بعد رجوع یا دوبارہ نکاح کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: 'ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ' ۳؂۔ اسی مفہوم کے الفاظ سورۂ طلاق میں طلاق اور عدت کے احکام بیان کرتے ہوئے استعمال کیے گئے ہیں۔ ۴؂

لین دین اور تجارت میں اخلاقی وشرعی احکام کی پابندی کا مطالبہ 'لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ' ۵؂کے الفاظ سے اہل ایمان سے کیا گیا ہے اور سود کی ممانعت پر اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان بھی 'یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَوَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبآوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ' ۶؂کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔

شرعی سزاؤں کا ذکر بھی قرآن مجید میں جن الفاظ میں اور جس پس منظر میں ہوا ہے، اس سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں اہل ایمان ہی کو مخاطب کیا ہے اور ان سزاؤں کے نفاذ میں بھی وہی پیش نظر ہیں۔ چنانچہ ہر حکم کے سیاق وسباق میں اس بات کے واضح قرائن موجود ہیں۔ مثلاً، سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۱۷۸میں قصاص ودیت سے متعلق احکام کا آغاز 'یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی' کے الفاظ سے ہوا ہے۔ اس کے بعد دیت کا حکم بیان کرتے ہوئے اسے 'تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ' کہا گیا ہے جو قرآن مجید کے اسلوب خطاب کی رو سے غیر مسلموں کے لیے کسی طرح بھی موزوں نہیں۔ سورۂ نساء (۴)کی آیت ۹۲میں قتل خطا کے احکام 'وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَءًا' کے الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں اور ان میں مقتول کے ورثا کو دیت اد اکرنے کے علاوہ کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنے یا اس کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس پر 'تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ' کی امید دلائی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حکم کے مخاطب بھی غیر مسلم نہیں ہو سکتے۔

زنا کے لیے ابتدا میں مقرر کی جانے والی عبوری سزا کے بیان میں اول تو 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ' اور 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ' کے الفاظ سے اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ قرآن مجید کے پیش نظر ان سزاؤں کا اطلاق مسلمانوں میں سے زنا کا ارتکاب کرنے والے مردوں اور عورتوں پر ہے، اور دوسرے توبہ اور اصلاح کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی قبولیت اور رحمت کا وعدہ کیا گیا ہے ۷؂جس کے مخاطب، قرآن مجید کے اسلوب کے مطابق، اہل ایمان ہی ہو سکتے ہیں۔ اس عبوری حکم کے بعد زنا کی مستقل سزا سورۂ نور میں مقرر کی گئی۔ اس حکم کے آخر میں سزا یافتہ زانی مرد یا عورت کے ساتھ کسی پاک دامن عورت یا مرد کے نکاح کو ممنوع قرار دیتے ہوئے 'وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ'۸؂کے الفاظ صریحاً یہ بتاتے ہیں کہ زنا کی مذکورہ سزا کے نفاذ کا حکم اہل ایمان ہی کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

زنا کی سزا کے متصل بعد قذف کی سزا بیان ہوئی ہے۔ یہاں بھی اپنے رویے سے توبہ اور اصلاح کی صورت میں مغفرت خداوندی کی بشارت دی گئی ہے ۹؂جس کے دائرے میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کی قرآن مجید کے اسلوب میں کوئی نظیر موجود نہیں۔ یہی اسلوب چوری کی سزا بیان کرنے کے معاملے میں اختیار کیا گیا ہے اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرنے والے چور مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی قبولیت اور مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔۱۰؂

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ارشادات میں بھی حدود کا بیان اسی تناظر میں ہوا ہے۔ چنانچہ آپ کا ارشاد ہے:

بایعونی علی ان لا تشرکوا باللّٰہ شیءًا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا اولادکم ولا تاتوا ببہتان تفترونہ بین ایدیکم وارجلکم ولا تعصوا فی معروف فمن وفیمنکم فاجرہ علی اللّٰہ ومن اصاب من ذلک شیءًا فعوقب فی الدنیا فہو کفارۃ لہ ومن اصاب من ذلک شیءًا ثم سترہ اللّٰہ فہو الی اللّٰہ ان شاء عفا عنہ وان شاء عاقبہ.(بخاری، رقم ۱۸)

''تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، اپنے پاس سے کوئی بہتان نہیں گھڑو گے اور معروف کے معاملے میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پس تم میں سے جو اپنے عہد کو پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کے بعد دنیا میں اس کی سزا پا لے گا تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی اور جو ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرے، پھر اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈالے رکھیں تو اس کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔ وہ چاہے گا تو معاف کر دے گا اور چاہے گا تو اسے سزا دے گا۔''

ظاہر ہے کہ جب حدود بطور کفارہ مشروع کی گئی ہیں تو ان کا تعلق اہل ایمان ہی سے ہو سکتا ہے، کفار کو اس کامحل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس تفصیل سے واضح ہے کہ قرآن مجید نے زندگی کے مختلف دائروں سے متعلق جو شرعی حدود و قیود اور احکام بیان کیے ہیں، ان کی پابندی کا مطالبہ وہ اصلاً اہل ایمان سے کرتا ہے اور ان میں سے کسی حکم میں اشارتاً بھی یہ بات نہیں کہی گئی کہ اسے اسلامی ریاست کے ایک عام قانون کی حیثیت سے مسلم وغیر مسلم، سب باشندوں پر یکساں نافذ کیا جائے۔

اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے بعد اب ہم مخالف راے کے حق میں پیش کیے جانے والے مختلف دلائل کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔

قرآن مجید کے نصوص

پانچویں صدی ہجری کے معروف متکلم اور فقیہ علامہ ابن حزم الاندلسی نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ دنیا کے تمام انسان، خواہ وہ اسلام قبول کر چکے ہوں یا نہیں، اسلامی شریعت کے تمام احکام کے نہ صرف عقلی اور تکلیفی طور پر مخاطب ہیں، بلکہ جو لوگ اعتقادی طور پر اسلام قبول نہ کریں، ان پر بھی اسلامی شریعت کے احکام کو نافذ کرنا اسلامی ریاست کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اپنی کتاب ''الاحکام فی اصول الاحکام'' کے تیسویں باب 'فی لزوم الشریعۃ الاسلامیۃ لکل مومن وکافر فی الارض' (اس بات کے بیان میں کہ شریعت اسلامیہ زمین پر بسنے والے ہر مومن اور کافر پر لازم ہے) میں انھوں نے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے اور اپنے دعوے کے اثبات کے لیے حسب ذیل نصوص سے استدلال کیا ہے:

ایک وہ جن میں تمام انسانوں کو یا بالخصوص غیر مسلموں کو مخاطب کر کے شریعت کے احکام بیان کیے گئے ہیں، مثلاً: 'یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ' ۱۱؂(اے بنی آدم، تم ہر عبادت کے موقع پر زینت اختیار کرو)۔ اور 'یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبآءِثَ'۱۲؂(یہ پیغمبر اہل کتاب کو معروف کا حکم دیتے ہیں، انھیں منکر سے روکتے ہیں اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں)۔

دوسرے وہ جن میں قیامت کے روز دین کے احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کفار کو عذاب دیے جانے کا بیان ہوا ہے، مثلاً: 'قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ' ۱۳؂(جہنم میں ڈالے جانے والے کہیں گے: ہم نہ نماز پڑھنے والوں میں سے تھے اور نہ مسکین کو کھانا کھلایا کرتے تھے)۔ اور 'وَلاَ یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ'۱۴؂(اور یہ (دنیا میں) مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیا کرتا تھا)۔

تیسرے وہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث قرار دیا گیا اور نتیجتاً انھیں آپ کی لائی ہوئی شریعت کا بھی مکلف ٹھہرایا گیا ہے، مثلاً: 'وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا' ۱۵؂(اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی جانب بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے)۔ اور 'یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا'۱۶؂(اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں)۔

چوتھے وہ جن میں اسلامی شریعت کے احکام کو قبول نہ کرنے پر کفار کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے، مثلاً: 'قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ' ۱۷؂(تم ان کے ساتھ قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام تسلیم کرتے ہیں)۔

پانچویں وہ جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے مابین اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کریں مثلاً: 'وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہٗ' ۱۸؂(اور آپ ان کے مابین اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کریں)۔

مذکورہ تمام نصوص نقل کر کے ابن حزم نے ان سے حسب ذیل نتیجہ اخذ کیا ہے:

واذا قد صح کل ہذا بیقین فواجب ان یحدوا علی الخمر والزنی وان تراق خمورہم وتقتل خنازیرہم ویبطل رباہم ویلزمون من الاحکام کلہا فی النکاح والمواریث والبیوع والحدود کلہا وسائر الاحکام مثل ما یلزم المسلمون ولا فرق ولا یجوز غیر ہذا... ومن خالف قولنا فہو مخطئ عند اللّٰہ عزوجل بیقین وقد انکر ذلک علیہم فقال تعالٰی افحکم الجاہلیۃ یبغون؟(الاحکام فی اصول الاحکام ۲/ ۹۹)

''جب یہ تمام باتیں یقینی طور پر درست ہیں تو پھر لازم ہے کہ شراب پینے یا زنا کرنے پر کفار پر حد قائم کی جائے، ان کی شراب بہا دی جائے، ان کے خنزیروں کو قتل کر دیا جائے، ان کے سودی لین دین کے معاملات کو باطل قرار دیا جائے اور نکاح، وراثت، بیع و شرا، حدود اور دیگر تمام معاملات سے متعلق شریعت کے احکام کا ان کو اسی طرح پابند کیا جائے جس طرح مسلمان پابند ہیں۔ دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں اور اس سے مختلف کوئی طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں۔ ... جو شخص ہماری اس بات سے اختلاف کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک یقینی طور پر خطاکار ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی بات پر انکار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ 'اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ' کیا یہ لوگ جاہلیت کے مطابق فیصلے کرنا چاہتے ہیں؟''

غیر مسلموں کو اسلامی شریعت کے احکام کا پابند قرار دینے کے مذکورہ اصول سے ابن حزم نے عبادات، مثلاً نماز، روز ہ اور حج کو، البتہ مستثنیٰ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ عبادات کی صحت کے لیے اسلام قبول کرنا شرط ہے، اس لیے اسلام قبول کیے بغیر ان کی ادائیگی ایسے ہی ہوگی جیسے کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں نماز ادا کر لے یا نیت کیے بغیر روزہ رکھ لے یا حج کے ارکان ادا کر لے۔ ۱۹؂

ابن حزم کے استدلال کی وضاحت کے بعد اب ہم اس کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔

جہاں تک پہلے تین نکات سے متعلق نصوص کا تعلق ہے، یعنی جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث قرار دیا گیا اور انھیں آپ کے لائے ہوئے دین وشریعت کی اطاعت کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے یا ان احکام کو بجا نہ لانے پر قیامت میں عذاب دینے کا ذکر کیا گیا ہے تو بالبداہت واضح ہے کہ ان سے ابن حزم کا اصل دعویٰ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ اصولی طور پر کسی حکم کا مخاطب یا اس کی پیروی کا مکلف ہونا ایک بات ہے اور اس حکم کو واجب الاطاعت تسلیم کیے بغیر دنیوی زندگی میں قانونی وشرعی لحاظ سے اس کا پابند ٹھہرنا ایک بالکل دوسری بات۔ چنانچہ خود ابن حزم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے مکلف ہیں، لیکن 'لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ' کا حکم انھیں اس پر مجبور کرنے سے مانع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کی سطح پر کسی فرد یا گروہ کو کسی حکم کا مخاطب بنانے اور اس کا مکلف ٹھہرانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس معاملے میں اس پر قانونی جبر بھی روا قرار پائے۔ پس اگر ایمان بالرسالت جیسی دین کی اعتقادی اساسات کے معاملے میں اہل کتاب پر قانونی جبر جائز نہیں تو اس کے فروع، یعنی احکام شریعت کے معاملے میں کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

چوتھے نکتے میں پیش کی گئی نص، یعنی آیت جزیہ سے متعلق ہماری راے یہ ہے کہ وہ ابن حزم کے موقف کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے خلاف دلیل ہے۔ یہ حکم سورۂ براء ۃ میں وارد ہوا ہے جو نزول کے لحاظ سے عہد نبوت کے بالکل آخری زمانے کی سورہ ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے مخالف تینوں بڑے گروہوں، یعنی مشرکین عرب، اہل کتاب اور منافقین کے بارے میں اس حتمی پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے جس کی پیروی اس کے بعد مسلمانوں کے لیے ضروری تھی۔ اس پالیسی کا بنیادی ہدف، جیسا کہ سورہ کی آیت ۳۳میں بیان کیا گیا ہے، اس وعدۂ الٰہی کی تکمیل تھا کہ دین اسلام کو جزیرۂ عرب اور اس کے اطراف میں موجود تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے گا۔ گویا ان ہدایات کی نوعیت عبوری نہیں،بلکہ حتمی اور جامع پالیسی کی ہے جس میں ان حدود (Parameters) کا پوری طرح تعین کر دیا گیا ہے جن سے کسی قسم کا کوئی تجاوز کیے بغیر مسلمانوں کو ان گروہوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔

اس تناظر میں دیکھیے تو آیت جزیہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہ لانے، اللہ اور رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام تسلیم نہ کرنے اور دین حق کی پیروی قبول نہ کرنے کے تمام جرائم بیان کر کے انھی کی بنیاد پر ان کے خلاف قتال کا حکم دیا ہے، لیکن اس قتال کی غایت صرف یہ مقرر کی ہے کہ وہ جزیہ دے کر ذلت اور پستی کے ساتھ مسلمانوں کے محکوم بننے پر راضی ہو جائیں۔ اگر احکام شریعت کا نفاذ ان پر مقصود ہوتا تو یہ اس کی تصریح کا نہایت مناسب موقع تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں سرے سے اس سے کوئی تعرض نہیں کیا جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اس طرح کی کوئی پابندی غیر مسلموں پر عائد کرنا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں۔

پانچویں دلیل کے طور پر ابن حزم نے سورۂ مائدہ (۵)کی آیت ۴۹کو پیش کیا ہے اور اس نقطۂ نظر کے حامی فقہا عام طور پر اپنے موقف کے حق میں اسی سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ آیت جس سلسلۂ بیان میں آئی ہے، اس کا آغاز آیت ۴۱سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہود کے اس رویے کو موضوع بحث بنایا ہے کہ وہ احکام الٰہی کی غیر مشروط اطاعت قبول کرنے کے بجاے اپنی خواہشات کو معیار بنائے ہوئے ہیں اور تورات میں واضح احکام کے موجود ہوتے ہوئے اپنی پسند کا فیصلہ کرانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے:

فَاِن جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْْءًا وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْْنَہُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ.(المائدہ۵: ۴۲)

''پھر اگر وہ (فیصلے کے لیے) تمھارے پاس آئیں تو چاہے ان کے مابین فیصلہ کر دو اور چاہے صرف نظر کر لو۔ اور اگر تم صرف نظر کرو تو یہ تمھیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کے مطابق ان کا فیصلہ کر دو۔بے شک، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔''

اس کے بعد تورات کے قوانین کی حیثیت واضح کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے انبیا اور علما اسی کے مطابق فیصلہ کرتے رہے ہیں اور یہود اگر اس کے مطابق فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں تو وہ کفر، ظلم اور فسق کے مرتکب ہیں۔ پھر ارشاد ہوا ہے:

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُہَیْْمِنًا عَلَیْْہِ فَاحْکُمْ بَیْْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ.(المائدہ۵: ۴۸)

''اور ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے۔ یہ اپنے سے پہلی کتاب کی تصدیق کرنے والی اور اس پر نگران ہے۔ سو تم ان کے مابین اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور تمھارے پاس جو حق آیا ہے، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔''

آیت ۴۲کے برعکس، جہاں یہود کے مابین فیصلہ کرنے کا حکم 'فَاِنْ جَآءُ وْکَ' سے مشروط ہے، آیت ۴۸میں کسی قید اور شرط کے بغیر مطلقاً اہل کتاب کے مابین 'مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فقہا اور مفسرین کے مابین ان دونوں آیتوں کا باہمی تعلق متعین کرنے کے حوالے سے اختلاف راے واقع ہوا ہے۔

ایک گروہ کے نزدیک آیت ۴۸،آیت ۴۲میں دی جانے والی ہدایت کے لیے ناسخ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے خیال میں سابقہ آیت میں یہود کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے ان کی طرف سے مقدمہ پیش کیے جانے کی جو شرط تھی، آیت ۴۸نے اس کو کالعدم کر دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کے مقدمات کا فیصلہ 'مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' کے مطابق کرنے کے لیے ان کی طرف سے مسلمانوں کی عدالت کی طرف رجوع کرنا ضروری نہیں اور ان کی رضامندی کے بغیر بھی ان کے مقدمات کا تصفیہ اسلامی شریعت کے مطابق ہی کیا جائے گا۔

ایک دوسرے گروہ کی راے یہ ہے کہ 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' نے پہلے حکم میں دیے جانے والے اختیار 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ' کو تو ختم کر دیا ہے، لیکن 'فَاِنْ جَآءُ وْکَ' کی شرط علیٰ حالہٖ قائم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں کی طرف سے مرافعہ کے بغیر مسلمانوں کی عدالت کو ان کے معاملات میں دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں، لیکن اگر غیر مسلم اپنا مقدمہ لے کر آ جائیں تو مسلمان قاضی کے لیے غیر مسلموں کے مابین شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا لازم ہے اور مقدمے کی سماعت سے انکار نہیں کر سکتا۔

تیسرے گروہ کی راے میں دوسرا حکم کسی پہلو سے بھی پہلے حکم کے منافی یا اس کے لیے ناسخ نہیں، بلکہ دونوں حکموں کو ملا کر پڑھا جائے گا اور مفہوم یہ ہوگا کہ اگر غیر مسلم اپنا مقدمہ مسلمانوں کی عدالت میں لے کر آئیں تو قاضی کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ان کا مقدمہ سماعت کے لیے قبول کر لے اور چاہے تو انھیں واپس بھیج دے، تاہم اگر وہ مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ پابند ہے کہ اسلامی شریعت ہی کے احکام کے مطابق فیصلہ کرے۔ اس صورت میں غیر مسلموں کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اس کے لیے جائز نہیں۔ گویا دوسرا حکم پہلے حکم کی تاکید کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ اس میں کلی یا جزوی تغییر وترمیم کی۔

ہماری راے میں متعلقہ آیات کا سیاق وسباق اسی آخری راے کی تائید کرتا ہے،اس لیے کہ قرآن مجید نے خود یہ بات یہاں بہت وضاحت سے بیان فرما دی ہے کہ جن معاملات میں تورات اور قرآن کے احکام وشرائع میں فرق ہے، اس کو قانونی طور پر ختم کرنا اور اہل کتاب کو لازماً اسلامی شریعت کے احکام کا پابند بنانا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں، بلکہ ان معاملات میں آخری فیصلہ روز قیامت تک کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں باتیں اس طرح متصل بیان ہوئی ہیں کہ 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' کو 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ' کے لیے ناسخ قرار دینا کسی طرح بھی ممکن نہیں رہتا۔ ملاحظہ فرمایے:

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُہَیْْمِنًا عَلَیْْہِ فَاحْکُمْ بَیْْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا وَلَوْ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُم فَاسْتَبِقُوا الخَیْرٰتِ اِلَی اللّٰہ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ.(المائدہ۵: ۴۸)

''اور ہم نے تمھاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے۔ یہ اپنے سے پہلی کتاب کی تصدیق کرنے والی اور اس پر نگران ہے۔ سو تم ان کے مابین اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور تمھارے پاس جو حق آیا ہے، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ تم میں سے ہر گروہ کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی گروہ بنا دیتا، لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ جو کچھ اس نے تمھیں دیا ہے، اس میں تمھیں آزمائے۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھیں وہ چیزیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے۔''

مزید براں خارجی قرائن وشواہد کی رو سے بھی 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' کو کوئی مطلق اور عام حکم تسلیم کرنا ممکن نہیں، اس لیے کہ ان آیات میں یہود کے جس گروہ کا ذکر ہے، وہ مسلمہ طور پر 'اہل ذمہ' نہیں، بلکہ 'موادعین' تھے جن کے ساتھ جزیہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے صلح کے معاہدات کیے گئے تھے اور ان معاہدات میں 'للیہود دینہم وللمسلمین دینہم' (یہود کو اپنے دین پر عمل کا حق ہوگا اور مسلمانوں کو اپنے دین پر)کی شق ایک بنیادی اصول کی حیثیت سے شامل تھی۔۲۰؂پس اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ حکم دینا ممکن ہی نہیں تھا کہ ان کی طرف سے مرافعہ اور رضامندی کے بغیر ان کو کلی یا جزوی طور پر اسلامی شریعت کے احکام کا پابند قرار دیا جائے۔

جلیل القدر حنفی فقیہ جصاص نے زیر بحث آیات میں تطبیق کے بجاے نسخ ہی کو راجح قرار دینے کے حق میں یہ استدلال کیا ہے کہ جن اہل علم نے یہاں نسخ کا قول اختیار کیا ہے، یقیناًان کی یہ راے کسی نقلی دلیل پر مبنی ہوگی، کیونکہ محض قیاس یا راے سے نسخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم جصاص کا یہ استدلال بہت کمزور ہے۔ صحابہ اور تابعین کی آرا کے مطالعہ سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ وہ لازماً کسی نقلی دلیل کی بنیاد پر ہی نہیں، بلکہ قیاس اور راے کی روشنی میں بھی نسخ کا حکم لگا دیتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے مابین ایک ہی حکم کے منسوخ ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے اختلاف راے کی مثالیں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر زیر بحث حکم ہی کو دیکھیے۔ ابن عباس ہی کے دو شاگردوں مجاہد اور عکرمہ کی راے اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ' نے 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' کو منسوخ کر دیا ہے۔۲۱؂

پھر یہ کہ 'یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ' سے شروع ہو کر 'لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ' پر مکمل ہونے والا یہ ٹکڑا ایک مربوط اور مسلسل کلام کی حیثیت رکھتا ہے جس کے اجزا کو زمانی لحاظ سے منفصل ماننے کے لیے کلام میں کوئی گنجایش نہیں، جبکہ نسخ کے وقوع کے لیے ناسخ اور منسوخ میں زمانی فاصلے کا پایا جانا بدیہی طور پر ضروری ہے۔ خود جصاص نے ایک دوسری بحث میں اس نکتے کو بہت خوبی سے بیان کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۱۹۱میں 'وَلَا تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ' کے بارے میں فقہا اور مفسرین کے ہاں یہ بحث پائی جاتی ہے کہ حرم میں ابتداے قتال کی ممانعت کا یہ حکم بعد میں بھی برقرار رہا یا منسوخ ہو چکا ہے۔ ربیع بن انس اور قتادہ سے منقول ہے کہ یہ حکم اسی آیت میں بعد میں وارد ہونے والے حکم 'وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ' کی رو سے منسوخ ہو چکا ہے۔ جصاص اس راے پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 'قٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ' کا حکم اسی کلام کا ایک حصہ ہے جس میں 'لَا تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ' کا حکم دیا گیا ہے اور ایک مربوط کلام کے اجزا ایک دوسرے کے لیے ناسخ نہیں ہو سکتے۔ اس ضمن میں ربیع بن انس اور قتادہ کی راے پر تبصرہ کرتے ہوئے جصاص لکھتے ہیں کہ ان کی یہ بات کسی امر واقعہ کا بیان نہیں، بلکہ محض ان کی اپنی راے ہے جسے دلائل کی روشنی میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۲؂

یہاں دیکھ لیجیے، جصاص نے نسق کلام کے ربط اور تسلسل سے استدلال کرتے ہوئے بالکل بجا طور پر 'وَلَا تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ' کو منسوخ ماننے سے انکار کر دیا ہے اور نسخ کے بارے میں ربیع بن انس اور قتادہ کو محض ان کی راے اور تاویل پر محمول کیا ہے۔ سورۂ مائدہ کی زیر بحث آیات کا معاملہ بھی، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، بالکل یہی ہے۔ چنانچہ 'وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ' کو 'فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ' کے لیے ناسخ ماننے کے بجاے اسے اس کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا اور پورا حکم یہ قرار پائے گا کہ اہل کتاب اگر آپ کے پاس مقدمہ لے کر آئیں تو آپ کو اختیار ہے کہ چاہیں تو مقدمے کی سماعت کریں اور چاہیں تو نہ کریں، لیکن اگر مقدمے کی سماعت کا فیصلہ کریں تو پھر فیصلہ اہل کتاب کی خواہشات اور مفادات کے مطابق نہیں، بلکہ ،بہرحال اللہ کے اتارے ہوئے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہود کو سنگ سار کرنے کا واقعہ

غیر مسلموں پر اسلامی سزائیں نافذ کرنے کے حق میں ایک مزید استدلال اس واقعے سے کیا گیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی جوڑے کو زنا کی پاداش میں سنگ سار کیا تھا۔ یہ استدلال دو جلیل القدر حنفی فقہا سرخسی اور طحاوی نے پیش کیا ہے۔

سرخسی نے رجم کے مذکورہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ شرعی حدود اسلامی ریاست کے غیر مسلم باشندوں پر بھی نافذ کی جائیں گی۔۲۳؂تاہم اس واقعے کی تفصیلات پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے پس منظر میں شریعت اسلامی کے احکام کو غیر مسلموں پر نافذ کرنے کا کوئی اصول یا تصور کارفرما نہیں تھا، بلکہ آپ نے یہود کی منافقت اور تورات کے ایک واضح حکم سے روگردانی کو آشکارا کرنے کے لیے ان پر تورات ہی کے حکم کو نافذ فرمایا تھا۔ چنانچہ روایات میں منقول ہے کہ یہودی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس توقع سے مقدمہ لے کر آئے تھے کہ آپ رجم کے مقابلے میں کوئی نرم اور ہلکی سزا تجویز فرمائیں گے، لیکن آپ نے ان کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے الٹا ان سے سوال کیا کہ تم تورات میں اس جرم کے متعلق کیا سزا پاتے ہو؟ یہود نے ابتدا میں تورات کے حکم کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن آپ نے تورات کا نسخہ منگوا کر خود ان کے علما کو حق بات کی گواہی دینے پر مجبور کر دیا اور پھر انھی کے اعتراف کے مطابق زانی مرد اور عورت کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔۲۴؂یہ حکم دیتے ہوئے آپ نے فرمایا:

فانی احکم بما فی التوراۃ.(ابو داؤد، رقم ۴۴۵۰)

''میں تورات کے مطابق فیصلہ کرتاہوں۔''

پھر فیصلہ سنانے کے بعد آپ نے فرمایا:

اللّٰہم انی اول من احیا امرک اذ اماتوہ.(مسلم، رقم ۱۷۰۰)

'' اے اللہ، میں نے سب سے پہلے تیرے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس کو انھوں نے مردہ کر رکھاتھا۔''

ابن کثیر نے اس واقعے سے متعلق بنیادی روایات کا استقصا کرنے کے بعد اس کی نوعیت واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

فہذہ الاحادیث دالۃ علی ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حکم بموافقۃ حکم التوراۃ ولیس ہذا من باب الاکرام لہم بما یعتقدون صحتہ لانہم مامورون باتباع الشرع المحمدی لا محالۃ ولکن ہذا بوحی خاص من اللّٰہ عزوجل الیہ بذلک وسوالہ ایاہم عن ذلک لیقررہم علی ما بایدیہم مما تراضوا علی کتمانہ وجحدہ وعدم العمل بہ تلک الدہور الطویلۃ فلما اعترفوا بہ مع عملہم علی خلافہ بان زیغہم وعنادہم وتکذیبہم لما یعتقدون صحتہ من الکتاب الذی بایدیہم وعدولہم الی تحکیم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انما کان عن ہوی منہم وشہوۃ لموافقۃ آراۂم لا لاعتقادہم صحۃ ما یحکم بہ ولہذا قالوا ان اوتیتم ہذا ای الجلد والتحمیم فخذوہ ای اقبلوہ وان لم توتوہ فاحذرواای من قبولہ واتباعہ.(ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم۲/ ۶۰)

''یہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہود کے خلاف) تورات کے حکم کے مطابق فیصلہ فرمایا۔ آپ نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ یہود جس شریعت کے صحیح ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں، ا س کے مطابق فیصلہ کر کے ان کا اکرام اور احترام ظاہر کریں، کیونکہ اہل کتاب کو بھی ،بہرحال شریعت محمدی ہی کی پیروی کا حکم ہے، بلکہ ایسا آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی وحی کی بنیاد پر کیا۔ اور آپ نے ان سے اس جرم کی سزا کے بارے میں اسی لیے دریافت کیا تاکہ انھیں ان کی شریعت کے اس حکم کا پابند بنا سکیں جس کو چھپانے اور اس پر عمل نہ کرنے کا طریقہ انھوں نے ایک طویل عرصے سے باہمی اتفاق سے اختیار کر رکھا تھا۔ پس جب انھوں نے اپنا عمل اس کے برعکس ہونے کے باوجود رجم کی سزا (کے تورات میں موجود ہونے) کا اقرار کر لیا تو ان کی کجی، عناد اور اور خود اپنے پاس موجود کتاب الٰہی کی تکذیب، جس کے صحیح ہونے کا وہ اعتقاد رکھتے تھے، آشکارا ہو گئی۔ رہا ان کا فیصلے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا تو یہ محض اس خواہش کے تحت تھاکہ آپ ان کی راے کے مطابق فیصلہ فرما دیں گے، اس لیے نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے صحیح ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا کہ اگر تمھیں یہ فیصلہ، یعنی زانی کو کوڑے لگانے اور اس کا منہ کالا کرنے کا فیصلہ ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ فیصلہ نہ ملے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول کرنے اور اسے ماننے سے گریز کرنا۔''

یہودی جوڑے کو رجم کرنے کے مذکورہ واقعے کے مخصوص پس منظر کو خود سرخسی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ وہ اس واقعے کو غیر مسلموں پر رجم کی سزا نافذ کرنے لیے ماخذ تسلیم نہیں کرتے ،بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کو رجم کرنے کا فیصلہ تورات کے حکم کے مطابق کیا گیا تھا۔۲۵؂بدیہی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ واقعہ اپنے مخصوص تناظر کی وجہ سے غیرمسلموں پر 'رجم' کی سزا کے نفاذ کے لیے ماخذ نہیں بن سکتا تو پھر عمومی طور پر اسلامی شریعت کی مقرر کردہ دیگر سزاؤں کے نفاذ کے لیے کیونکر ماخذ استدلال بن سکتا ہے؟

سرخسی نے اپنے موقف کے اس تضاد کو محسوس نہیں کیا، تاہم طحاوی نے رجم کے واقعے سے غیر مسلموں پر شرعی حدود نافذ کرنے کے حق میں استدلال کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ اشکال سے بھی تعرض کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہودیوں کو رجم کرنے کا واقعہ اس دور سے متعلق ہے جب زنا کی سزا کے معاملے میں اسلامی شریعت کے احکام ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔ بعد میں جب اسلامی شریعت کے تفصیلی احکام نازل ہوئے اور ان میں رجم کی سزا کے لیے 'احصان' کی شرط مقرر کر دی گئی جس کے لیے احناف کے نزدیک عاقل، بالغ اور شادی شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان ہونا بھی ضروری ہے تو غیر مسلم خود بخود رجم کی سزا کے دائرۂ اطلاق سے خارج ہو گئے، البتہ ان پر شرعی سزاؤں کے نفاذ کا حکم عمومی طور پر برقرار رہا۔

امام طحاوی نے اس روایت سے اہل ذمہ پر ازخود احکام اسلام نافذ کرنے پر یوں استدلال کیا ہے کہ واقعہ کے بعض طرق کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے مرافعہ کرنے پر نہیں، بلکہ ازخود ان کو طلب کر کے ان پر یہ سزا نافذ کی تھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل ذمہ کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے ان کا اسلامی عدالت سے رجوع کرنا ضروری نہیں۔۲۶؂

براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

مر علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیہودی محممًا مجلودًا فدعاہم صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال ہکذا تجدون حد الزانی فی کتابکم؟ (مسلم، رقم ۱۷۰۰)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کے چہرے پر کالک ملی گئی تھی اور اس کو کوڑے لگائے گئے تھے۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی سزا یہی پاتے ہو؟''

امام طحاوی کے کلام سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ یہود کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہود کو طلب کرنے کی روایتوں کو دو الگ الگ واقعات سے متعلق قرار دیتے ہیں یا ایک ہی واقعے سے۔ اگر ان کی راے یہ ہے کہ یہودیوں کو رجم کرنے کے دو الگ الگ واقعے پیش آئے تھے جن میں سے پہلے واقعے میں یہود نے رجوع کیا تھا، جبکہ دوسرے واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازخود ان کو طلب کیا تھا تو یہ راے نہ صرف یہ کہ محدثین کی اس متفقہ راے کے برعکس ہے کہ عہد رسالت میں زنا کے جرم میں یہودی مرد وعورت کو سنگ سار کرنے کا ایک ہی واقعہ پیش آیا تھا، بلکہ خود طحاوی کی طرف سے استدلال میں پیش کردہ روایت کے داخلی قرائن بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔ روایت میں بیان ہونے والی واقعے کی تمام تفصیلات رجم یہود کے معروف واقعے کے بالکل مماثل ہیں۔ اس روایت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ تورات میں زنا کی سزا کیا ہے، اور پھر رجم کا حکم دینے کے بعد فرماتے ہیں کہ 'اللّٰہم انی اول من احیا امرک اذ اماتوہ' ۔ ظاہر ہے کہ اگر اس سے قبل رجم کا کوئی واقعہ پیش آ چکا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات نہ کہتے۔

دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ طحاوی یہودیوں کو رجم کرنے کا واقعہ تو ایک ہی تسلیم کرتے ہوں، لیکن ان کی راے میں واقعے کی حقیقی صورت وہ ہو جو حضرت براء بن عازب کی زیر بحث روایت میں بیان ہوئی ہے، یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے ازخود یہود کو طلب کیا تھا، تاہم واقعے کے جملہ طرق کا جائزہ لینے کے بعد اس راے سے اتفاق کرنا بھی مشکل ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ایک ہی واقعے کو روایت کرتے ہوئے تفصیلات اور جزئیات کے بیان میں راویوں کے مابین اختلاف، بلکہ بعض صورتوں میں شدید اختلاف پیدا ہو جاتا ہے جس کی مثالیں ذخیرۂ حدیث میں بکثرت موجود ہیں۔ اس صورت میں سند اور متن کے مختلف پہلووں پر تحقیق کر کے ان بیانات میں سے صحیح ترین بیان کو متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہودیوں کو سنگ سار کرنے کے واقعے سے متعلق روایات اور طرق کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کو صحابہ میں سے عبد اللہ بن عمر ،براء بن عازب،جابر بن عبد اللہ،ابو ہریرہ ،عبد اللہ ابن عباس ، عبد اللہ بن الحارث، جابر بن سمرہ اورعبد اللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔۲۷؂

ان میں سے آخری دو راوی ،یعنی جابر بن سمرہ اور عبداللہ ابن ابی اوفیٰ تو واقعے کی تفصیلات سے کوئی تعرض ہی نہیں کرتے اور صرف اتنی بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی جوڑے کو سنگ سار کرنے کا حکم دیا۔ باقی چھ راویوں میں سے پانچ راوی اس امر پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ یہود نے خود کیا تھا اور ان کے مطالبے پر ہی آپ نے اس مقدمے کا فیصلہ فرمایا تھا، جبکہ صرف براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں واقعے کی صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازخود یہودی مرد و عورت کو فیصلے کے لیے طلب کیا۔ ظاہر بات ہے کہ ایک ہی واقعے کو نقل کرنے والے چھ راویوں میں سے اگر پانچ راوی ایک صورت واقعہ بیان کریں اور صرف ایک راوی اس سے مختلف بات بیان کرے تو اس کی روایت باقی پانچ کے مقابلے میں مرجوح قرار پائے گی۔

_______

۱؂البقرہ۲: ۲۲۶۔

۲؂البقرہ ۲: ۲۲۸۔

۳؂البقرہ۲: ۲۳۲۔

۴؂الطلاق۶۵: ۲۔

۵؂البقرہ ۲: ۱۸۸۔

۶؂البقرہ۲: ۲۷۸۔

۷؂النساء ۴: ۱۵۔ ۱۶۔

۸؂النور ۲۴: ۲۔ ۳۔

۹؂النور ۲۴: ۴۔ ۵۔

۱۰؂المائدہ ۵: ۳۸۔ ۳۹۔

۱۱؂الاعراف ۷: ۳۱۔

۱۲؂الاعراف۷: ۱۵۷۔

۱۳؂المدثر ۷۴: ۴۳۔ ۴۴۔

۱۴؂الحاقہ ۶۹: ۳۴۔

۱۵؂سبا ۳۴: ۲۸۔

۱۶؂الاعراف ۷: ۱۵۸۔

۱۷؂التوبہ ۹: ۲۹۔

۱۸؂المائدہ ۵: ۴۹۔

۱۹؂الاحکام فی اصول الاحکام۲/ ۹۸۔

۲۰؂ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۱/ ۴۵۴۔

۲۱؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۱۰۔

۲۲؂احکام القرآن ۱/ ۲۵۹۔ ۲۶۰۔

۲۳؂سرخسی، شرح السیر الکبیر۱/ ۳۰۶۔

۲۴؂بخاری، رقم ۳۴۳۶۔

۲۵؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۴۶۔ ۴۷۔

۲۶؂مشکل الآثار۱۱/ ۴۴۱۔

۲۷؂ان روایات کے لیے دیکھیے :عبد اللہ بن عمر (بخاری، رقم ۳۴۳۶۔ مسلم، رقم ۱۶۹۹)؛براء بن عازب (مسلم، رقم ۱۷۰۰)؛جابر بن عبد اللہ (ابو داؤد، رقم ۴۴۵۲)؛ابو ہریرہ (ابو داؤد، رقم۴۴۵۰)؛عبد اللہ ابن عباس (مستدرک حاکم، رقم ۸۰۸۸)؛عبد اللہ بن الحارث (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۷۰۹)؛جابر بن سمرہ (ترمذی، رقم ۱۴۳۷)؛عبد اللہ ابن ابی اوفیٰ (صحیح ابن حبان، رقم ۴۴۳۳)

____________




Articles by this author