غیر مسلموں پر شرعی قوانین کا نفاذ (حصہ دوم)

غیر مسلموں پر شرعی قوانین کا نفاذ (حصہ دوم)


معاہدۂ ذمہ سے استدلال

فقہاے احناف غیر مسلموں کو معاملات سے متعلق اسلامی شریعت کے احکام کا پابند قرار دینے کے لیے بالعموم ایک قانونی نوعیت کا استدلال پیش کرتے ہیں جو یہ ہے کہ غیر مسلم 'عقد ذمہ' کے تحت مسلمانوں کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اسلامی ریاست کا باشندہ بننا قبول کرتے ہیں اور اس طرح اس معاہدے کی رو سے اس امر کے پابند ہوجاتے ہیں کہ معاملات سے متعلق احکام و قوانین میں ان پر اسلامی شریعت کے احکام نافذ کیے جائیں۔۲۸؂

اس استدلال پر ہمارا اشکال یہ ہے کہ عہد صحابہ میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والی عظیم ترین اسلامی سلطنت کے بیش تر حصوں میں آباد غیر مسلموں کے ساتھ معاہدات ذمہ خود صحابہ ہی کے دور میں طے پا گئے تھے، لیکن اس دور میں غیر مسلموں کے ساتھ کیے جانے والے جن معاہدات کی تفصیل تاریخ میں محفوظ ہے، ان میں سے کسی میں بھی یہ شرط عائد نہیں کی گئی کہ غیر مسلم اپنے قانونی و معاشرتی معاملات میں اسلامی شریعت کے احکام کے پابند ہوں گے۔ ان معاہدات میں جن شرائط کا ذکر ملتا ہے، وہ بالعموم حسب ذیل تھیں:

۱۔ اہل ذمہ پابندی کے ساتھ سالانہ جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔

۲۔ مسلمانوں کے مقابلے میں دشمن کا ساتھ نہیں دیں گے۔

۳۔ اپنے علاقے میں آنے والے مسلمانوں کو قیام وطعام کی مناسب سہولیات فراہم کریں گے۔

۴۔ اپنے اور مسلمانوں کے مابین معاشرتی امتیاز کو قائم رکھیں گے اور اسے مٹانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

نہ صرف یہ کہ ان معاہدات میں اس قسم کی کسی شرط کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ معاہدۂ ذمہ کی حقیقی نوعیت کے حوالے سے خود صحابۂ کرام کا فہم اور تاثر اس کے بالکل برعکس منقول ہے۔ چنانچہ کعب بن علقمہ روایت کرتے ہیں کہ عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک نصرانی گزرا۔ انھوں نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دی۔ عرفہ نے زور سے مکا مار کر اس کی ناک توڑ دی۔ معاملہ حضرت عمرو بن العاص کے سامنے پیش کیا گیا تو عمرو نے کہا کہ ہم نے تو ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ عرفہ نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم نے ان کے ساتھ کھلم کھلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اجازت دینے پر معاہدہ کیا ہو:

انما اعطیناہم علی ان نخلی بینہم وبین کنائسہم یقولون فیہا ما بدا لہم وان لا نحملہم ما لا یطیقون وان ارادہم عدو قاتلناہم من وراۂم ونخلی بینہم وبین احکامہم الا ان یاتوا راضین باحکامنا فنحکم بینہم بحکم اللّٰہ وحکم رسولہ وان غیبوا عنا لم نعرض لہم فیہا قال عمرو صدقت.(بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۸۴۹۰۔ المعجم الکبیر ۱۸/ ۲۶۱، رقم ۶۵۴)

''ہم نے تو ان کے ساتھ بس اس بات کا معاہدہ کیا ہے کہ ہم ان کے اور ان کی عبادت گاہوں کے مابین حائل نہیں ہوں گے، یہ اپنی عبادت گاہوں میں جو چاہیں کہتے رہیں اور یہ کہ ہم ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے اور یہ کہ اگر دشمن ان پر حملہ آور ہوگا تو ہم ان کے دفاع میں لڑیں گے اور یہ کہ ہم انھیں اپنے (مذہبی) احکام پر عمل کی آزادی دیں گے۔ ہاں، اگر وہ ہمارے (مذہبی) احکام پر راضی ہو کر ہمارے پاس آئیں تو ہم ان کے مابین اللہ اور اسکے رسول کے حکم کے مطابق فیصلہ کر دیں گے، لیکن اگر وہ اپنا معاملہ ہمارے پاس نہ لائیں تو ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔ عمرو بن العاص نے یہ سن کر کہا کہ تم نے درست کہا۔''

عہد نبوی اور عہد صحابہ کی تاریخ کے مطالعے سے اس باب میں جو عام اور معمول بہ طریقہ سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر کسی علاقے کے غیر مسلم باشندوں نے محض جزیہ کی ادائیگی پر آمادگی ظاہر کر دی تو وہاں کے سابقہ قانونی انتظامات کو برقرار رکھا گیا اور ان کے معاشرتی یا تعزیراتی قوانین کو منسوخ کر کے اسلامی احکام کی تنفیذ کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

مزید براں اس امر کی کوئی عملی شہادت بھی عہد صحابہ کے عدالتی فیصلوں میں نہیں ملتی کہ غیر مسلموں پر اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کا التزام کیا گیا ہو، بلکہ اس کے برعکس امام زہری خیر القرون کا تعامل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مضت السنۃ ان یردوا فی حقوقہم ومواریثہم الی اہل دینہم الا ان یاتوا راغبین فی حد نحکم بینہم فیہ فنحکم بینہم بکتاب اللّٰہ.(مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۰۷)

''طریقہ یہ چلا آ رہا ہے کہ اہل ذمہ کو ان کے باہمی حقوق اور وراثت کے معاملات میں فیصلے کے لیے ان کے اہل مذہب کے پاس بھیجا جائے۔ ہاں اگر کسی فوج داری مقدمے میں وہ ازخود اپنی خواہش سے ہماری طرف رجوع کریں تو ہم اللہ کی کتاب کے مطابق ان کے مابین فیصلہ کر دیں گے۔''

گویا حدود کے معاملے میں بھی ان کا ازخود اسلامی عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ صحابہ اور تابعین کے آثار سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک مسلمان نے ایک مسیحی عورت سے زنا کیا تو سیدنا علی نے اپنے عامل کو حکم دیا کہ مسلمان پر تو حد جاری کی جائے، جبکہ عورت کو اس کے اہل مذہب کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ اس کے بارے میں جو فیصلہ کرنا چاہیں، کر لیں۔ ۲۹؂یہی مسلک عبد اللہ ابن عباس، ابراہیم نخعی، اور ربیعۃ الرائے، ۳۰؂ابراہیم نخعی، شعبی، عطا اور حسن بصری جیسے ائمہ تابعین سے مروی ہے۳۱؂اور امام ترمذی نے اسی راے کو اکثر اہل علم کی راے قرار دیا ہے۔ ۳۲؂امام ثوری فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسیحی دوسرے مسیحی پر زنا کا جھوٹا الزام لگائے تو اس پر قذف کی حد جاری نہیں ہوگی، خواہ وہ اپنا مقدمہ مسلمانوں کی عدالت میں لے کر آئیں۔ ۳۳؂عمر بن عبد العزیز نے عدی بن ارطاۃ کو لکھا کہ جب اہل کتاب تمھارے پاس مقدمہ لے کر آئیں تو ان کے مابین فیصلہ کیا کرو۔ ۳۴؂عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر حد نہیں۔ ۳۵؂ابن جریج دور تابعین کے فقہا کا مسلک یہ بیان کرتے ہیں کہ زنا یا سرقہ کی صورت میں کسی ذمی پر صرف اس صورت میں حد جاری ہوگی جب معاملے کا دوسرا فریق مسلمان ہو:

قالوا ان زنی رجل من اہل الکتاب بمسلمۃ او سرق لمسلم شیءًا اقیم علیہ الحد ولم یعرض الامام عن ذلک یقول کل شئ بین المسلمین واہل الکتاب لا یعرض عنہ الامام.(مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۱۱)

''فقہا کہتے ہیں کہ اگر اہل کتاب میں سے کوئی شخص کسی مسلمان عورت سے زنا کرے یا کسی مسلمان کی کوئی چیز چوری کرے تو اس پر حد قائم کی جائے گی اور مسلمان حکمران اس معاملے سے صرف نظر نہیں کرے گا، یعنی جس مقدمے میں بھی ایک فریق مسلماناور دوسرا فریق اہل کتاب میں سے ہو، حکمران اس میں (اسلامی قانون کے مطابق) فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔''

تاریخ کے صفحات میں یہ حقیقت اس قدر روشن ہے کہ دور اول کی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے غیر مسلم مصنفین بھی اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کے زیر سایہ رہنے والے یہودو نصاریٰ کو اپنے مذہبی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کا پورا حق حاصل تھا۔ جان بیگاٹ گلب (John Bagot Glubb) نے اپنی کتاب ''The Life Times of Muhammad" میں لکھا ہے:

"We are thus obliged to admit that in the early Arab conquests, Jews and Christians were not compelled by them to become Muslims, nor indeed did they do so. For many generations after the conquest, the majority of Syrians retained the Christian faith. Indeed, the Lebanese have continued to do until the present day.

Not only so, but Jews and Christians were permitted to observe their own laws, which were applied by their own judges. According to Muslim ideas, law arose from religion. Their own laws were derived from the Quran and the traditions. If, therefore, Jews and Christians were not to be obliged to become Muslims, it followed that they should not be compelled to observe Muslim laws. Each religion should follow the laws prescribed by its own faith." (p. 388, London, 1970)

'' ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ابتدائی عرب فتوحات کے زمانے میں یہودیوں اور مسیحیوں کو نہ مسلمان بننے پر مجبور کیا گیا اور نہ ہی وہ مسلمان ہوئے۔ فتوحات کے بعد کئی نسلوں تک شام کے مسیحیوں کی اکثریت اپنے مذہب پر قائم رہی، بلکہ لبنانی مسیحی تو آج تک اپنے مسیحی مذہب پر قائم ہیں۔

نہ صرف یہ، بلکہ یہودیوں اور مسیحیوں کو اپنے قوانین کے مطابق اپنے ہی قاضیوں سے فیصلے کروانے کی بھی اجازت حاصل تھی۔ مسلم تصورات کے مطابق، قانون کا منبع مذہب ہوتا ہے۔ خود مسلمانوں کے قوانین قرآن اور احادیث سے ماخوذ تھے۔ (اس تصور کی رو سے) یہودی اور مسیحی اگر اسلام قبول کرنے کے پابند نہیں تو انھیں اسلامی قوانین کی پابندی پربھی مجبور نہیں کیا جا سکتاتھا اور ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی قوانین کی پیروی کا حق حاصل تھا۔''

احادیث وآثار کے پورے ذخیرے میں اس ضمن میں صرف دو استثنائی مثالیں ملتی ہیں: ایک عہد نبوی میں، جبکہ دوسری عہد صحابہ میں۔

عہد نبوی میں اس کی مثال نجران کے نصاریٰ کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے میں ملتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ سودی لین دین نہیں کریں گے:

ولا یفتنوا عن دینہم ما لم یحدثوا حدثًا او یاکلوا الربا.(ابوداؤد، رقم ۲۶۴۴)

''انھیں ان کے دین سے برگشتہ نہیں کیا جائے گا۔ (یہ معاہدہ اس وقت تک قائم رہے گا)، جب تک کہ وہ اس کی خلاف ورزی نہ کریں یا سود نہ کھائیں۔''

تاہم اس مخصوص مثال سے کوئی عمومی حکم اخذ کرنا ہماری راے میں درست نہیں ہے جس کے وجوہ حسب ذیل ہیں:

پہلی یہ کہ یہ درحقیقت کوئی ایسا حکم نہیں تھا جو اسلامی شریعت کے ساتھ خاص ہو، بلکہ اس کا تعلق ان احکام سے ہے جن کی پابندی کی ہدایت سابقہ آسمانی شرائع میں بھی کی گئی تھی۔ اس وجہ سے اہل نجران پر اس کو عائد کرنے کا مطلب اسلامی شریعت کے کسی مخصوص حکم کا نہیں، بلکہ آسمانی شرائع کی مشترکہ اور متفق علیہ ہدایات میں سے ایک ہدایت کا نفاذ تھا۔ اکابر فقہا نے اس کی توجیہ اسی تناظر میں کی ہے۔ سرخسی لکھتے ہیں:

قد صح ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتب الی اہل نجران بأن تدعوا الربا او تاذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ وکان ذلک لہذا المعنی انہ فسق منہم فی الدیانۃ فقد ثبت بالنص حرمۃ ذلک فی دینہم قال اللّٰہ تعالٰی'وَاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ.' (شرح السیر الکبیر ۴/ ۱۵۴۶۔ ۱۵۴۷)

''صحیح سند سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کو لکھا تھا کہ یا تو سودی لین دین چھوڑ دو اور یا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔اس کی وجہ یہی تھی کہ سود ان کے مذہب میں گناہ کا کام تھا۔ چنانچہ قرآن مجید سے صراحتاً ثابت ہے کہ یہ ان کے مذہب میں حرام تھا۔ فرمایا: 'وَاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ' (اور یہود کا ایک جرم سود لینا بھی تھا حالانکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا)۔''

دوسری یہ کہ اس شرط کے عائد کرنے کا محرک اگر غیر مسلموں کو اسلامی شریعت کے احکام کا پابند بنانا ہوتا تو صرف یہی پابندی ان پر عائد کرنے پر اکتفا نہ کی جاتی، بلکہ پابندیوں کا دائرہ شریعت اسلامی کے باقی محرمات تک بھی وسیع کیا جاتا۔ امام ابو عبید نے اسی بنا پر اس ممانعت کی توجیہ 'سد ذریعہ' کے اصول پر کی ہے اور کہا ہے کہ نجران کے نصاریٰ پر اس پابندی کو عائد کرنے کا اصل مقصد مسلمانوں کو سودی معاملات سے محفوظ رکھنا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

غلظ علیہم اکل الربا خاصۃ من بین المعاصی کلہا ولم یجعلہ لہ مباحًا وہو یعلم انہم یرکبون من المعاصی ما ہو اعظم من ذلک من الشرک وشرب الخمر وغیرہ الا دفعًا عن المسلمین وان لا یبایعوہم بہ فیاکل المسلمون الربا ولولا المسلمون ما کان اکل اولئک الربا الا کسائر ما ہم فیہ من المعاصی بل الشرک اعظم.(کتاب الاموال ۲۴۷)

''سیدنا عمر نے باقی تمام خلاف شرع امور کو چھوڑ کر خاص طور پر سود کے معاملے میں ان پر سختی کی اور اسے ان کے لیے مباح قرار نہیں دیا، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اس سے بھی بڑے گناہوں، مثلاً شرک اور شراب نوشی وغیرہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سیدنا عمر نے ایسا محض مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا تاکہ ان کے ساتھ لین دین کا معاملہ کرنے کی صورت میں مسلمان بھی سود کھانے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اگر مسلمانوں کی حفاظت پیش نظر نہ ہوتی تو نصاریٰ کو سود لینے کی اسی طرح اجازت ہوتی، جیسے باقی تمام گناہوں کی حاصل تھی، بلکہ شرک تو سب سے بڑا گناہ ہے۔''

امام شافعی نے اسی بنا پریہ راے اختیار کی ہے کہ اگر غیر مسلم اپنے باہمی معاملات میں سودی لین دین کا طریقہ اختیار کریں تو اسلامی حکومت اس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔۳۶؂

غیر مسلموں کے مذہبی معاملات میں اسلامی حکومت کی طرف سے مداخلت کی دوسری نظیر سیدنا عمرسے منسوب اس فیصلے میں ملتی ہے جس میں انھوں نے مجوس کو ان کے بعض مذہبی قوانین پر عمل کرنے سے روک دیا۔ بجالہ روایت کرتے ہیں:

جاء نا کتاب عمر قبل موتہ بسنۃ اقتلوا کل ساحر وفرقوا بین کل ذی محرم من المجوس وانہوہم عن الزمزمۃ فقتلنا فی یوم ثلاثۃ سواحر وفرقنا بین کل رجل من المجوس وحریمہ فی کتاب اللّٰہ وصنع طعامًا کثیرًا فدعاہم فعرض السیف علی فخذہ فاکلوا ولمیزمزموا. (ابو داؤد، رقم ۲۴۴۶)

''سیدنا عمر کی وفات سے ایک سال قبل ہمیں ان کا خط موصول ہوا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ہر جادوگر کو قتل کر دو، مجوس میں سے جس جس نے بھی محرم خواتین سے نکاح کر رکھا ہو، ان کے مابین تفریق کر دو اور انھیں کھانا کھاتے وقت مخصوص آواز نکالنے سے روکو۔ چنانچہ ہم نے ایک دن میں تین جادوگرنیوں کو قتل کیا اور اللہ کی کتاب میں جن عورتوں کو حرام کہا گیا ہے، ان کے اور ان کے مجوسی خاوندوں کے مابین تفریق کر دی۔ اور جزء بن معاویہ نے (مجوسیوں کے لیے ) ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام کیا اور انھیں دعوت دی۔ پھر اپنی ران پر تلوار رکھ کر بیٹھ گئے۔ مجوسیوں نے کھانا کھایا، لیکن (ان کے ڈر سے) مخصوص آواز نہیں نکالی۔''

حضرت عمر سے منسوب اس حکم کی صحت واستناد کے حوالے سے سب سے بنیادی اشکال یہ ہے کہ خیر القرون کے تعامل میں اس حکم پر عمل ہی سرے سے ثابت نہیں۔ چنانچہ روایت ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے اپنے عہد میں عدی بن ارطاۃ کو لکھا کہ وہ اس ضمن میں حسن بصری سے استفسار کریں کہ کیا وجہ ہے کہ ہم سے پہلے خلفا نے مجوس کو ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہیں روکا جن سے دوسرے تمام مذاہب کے لوگ نکاح نہیں کیا کرتے؟ حسن بصری نے اس کے جواب میں انھیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بحرین کے مجوس سے جزیہ لے کر انھیں اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی تھی اور اس کے بعد سیدنا ابوبکر، پھر سیدنا عمر اور پھر سیدنا عثمان نے بھی انھیں اسی طریقے پر برقرار رکھا۔ ۳۷؂

صحابہ نے مجوس کے ان مذہبی قوانین کو اس حد تک قانونی تحفظ دیا کہ اگر کسی مجوسی نے اپنی کسی محرم خاتون مثلاً بہن یا بیٹی سے نکاح کیا ہوتا اور وہ عورت فوت ہو جاتی تو سیدنا علی اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی راے یہ تھی کہ اس کے شوہر کو دوہرے رشتے کی بنا پر اس کی میراث میں سے خاوند کا حصہ بھی ملے گا اور بھائی یا باپ کا بھی۔۳۸؂بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرکوئی شخص کسی مجوسی کے اپنی کسی محرم خاتون سے نکاح کو زنا سے تعبیر کرتا تو اہل علم اس پر نکیر کرتے تھے۔ چنانچہ امام جعفر صادق کے سامنے ایک شخص نے یہ بات کہی تو انھوں نے اسے سخت نظروں سے دیکھا اور فرمایا کہ 'اولیس ذلک فی دینہم نکاحًا؟' ۳۹؂یعنی کیا ان کے مذہب کے مطابق یہ نکاح جائز نہیں ہے؟

اکابر اہل علم نے اسی بنیاد پر حضرت عمر سے منسوب مذکورہ اثر کو ثابت ماننے سے انکار کیا ہے۔ سرخسی لکھتے ہیں:

اثر شاذ ولاجل عقد الذمۃ نترکہم فی ما ہو اعظم من ذلک من شرب الخمور وتناول الخنزیر.(شرح السیر الکبیر ۱/ ۱۴۷)

''یہ ایک شاذ روایت ہے۔ ہم تو عہد ذمہ کی وجہ سے ان کو اس سے بھی بڑے گناہوں مثلاً شراب پینے اور خنزیر کھانے سے نہیں روکتے۔''

ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں کہ اگر یہ بات ثابت ہوتی تو لازماً اسی طرح تواتر سے منقول ہوتی، جیسے مجوس سے جزیہ لینے، ان پر خراج عائد کرنے اور ان کے ساتھ کیے جانے والے دوسرے تمام معاملات میں سیدنا عمر کا طریقہ نقل ہوا ہے۔ چونکہ ایک عمومی نوعیت رکھنے والے اہم معاملے میں یہ بات تواتر سے نقل نہیں ہوئی، اس لیے یہ سرے سے ثابت ہی نہیں۔۴۰؂

جو اہل علم اس واقعے کو ثابت مانتے ہیں، وہ بھی اس سے کوئی عام اور مطلق ضابطہ اخذ کرنے کے بجاے اس کو کسی نہ کسی مخصوص پس منظر سے متعلق قرار دے کر اس کی تاویل کرتے ہیں۔ مثلاً امام شافعی نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم کسی مخصوص مقدمے میں ان مجوسیوں کے بارے میں جاری کیا ہو گا جو اپنے مقدمات تصفیے کے لیے مسلمانوں کی عدالت میں لے کر آئے تھے۔ ۴۱؂

ابوبکر الجصاص اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ جن مجوس پر یہ حکم نافذ کیا گیا غالباً انھوں نے معاہدے کے وقت اس بات کی پابندی قبول کر رکھی تھی کہ وہ ان معاملات میں بھی مسلمانوں کے احکام وقوانین کی پابندی کریں گے۔۴۲؂

ابوعبید فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر نے یہ حکم غالباً عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا روایت کردہ یہ ارشاد نبوی علم میں آنے سے پہلے دیا تھا کہ 'سنوا بہم سنۃ اہل الکتاب' ،یعنی مجوس کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرو جس کا حکم اہل کتاب کے بارے میں دیا گیا ہے۔ ۴۳؂

خطابی کی راے یہ ہے کہ سیدنا عمر نے مجوس کو محرمات کے ساتھ نکاح کرنے سے نہیں،بلکہ اسی طریقے پر محض اس کا اظہار اور افشا کرنے سے منع کیا تھا جس طرح انھوں نے مسیحیوں پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ مسلمانوں کے مابین اپنی صلیبوں کی نمایش نہیں کریں گے۔۴۴؂

حافظ ابن حجر سنن سعید بن منصور کی ایک روایت کی روشنی میں اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس حکم کے ذریعے سے سیدنا عمر مجوس کو قانونی لحاظ سے اہل کتاب کے دائرے میں لانا چاہتے تھے اور ان کے نزدیک مجوس سے جزیہ قبول کرنا اس بات سے مشروط تھا کہ وہ محرمات ابدیہ کے معاملے میں آسمانی مذاہب کے متفق علیہ حکم کی پابندی اختیار کر لیں۔۴۵؂گویا اس حکم کی تنفیذ اصلاً اور بالذات مقصود نہیں تھی، بلکہ اسے محض ایک دوسرے حکم کے قانونی اور فقہی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے عائد کیا گیا تھا۔

ان میں سے کسی بھی توجیہ کو درست مان لیجیے، یہ اصول اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ اسلامی شریعت غیر مسلموں پر جبراً اسلامی احکام وقوانین نافذ کرنا نہیں چاہتی اور نہ وہ اصلاً اس کے احکام کے دائرۂ اطلاق میں آتے ہیں۔

بالفرض 'عقد ذمہ' کے حوالے سے فقہاے احناف کی زیربحث تعبیر کو درست تسلیم کر لیا جائے تو بھی جمہوریت اور مساوی شہری وسیاسی حقوق کے تصورات کے تحت قائم ہونے والی دور جدید کی اسلامی ریاستوں میں بسنے والے غیر مسلموں کو کلاسیکی فقہی تصور کے مطابق 'اہل ذمہ' قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تصور ساتویں صدی میں مسلمانوں کی عظیم اور طاقت ور سلطنت کے قیام اور غیر مسلم علاقوں پر عسکری غلبے کے تناظر میں وضع کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے سیاسی غلبہ اور تفوق کی یہ صورت حال صدیوں تک قائم رہی، تاہم عالم اسلام میں خلافت عثمانیہ کے ایک بڑی اور مستحکم سیاسی طاقت کے طور پر رونما ہونے کے بعد اس میں بتدریج تغیر آتا چلا گیا۔ سلطنت عثمانیہ نے بدلتے ہوئے عالمی حالات اور سیاسی وقانونی تصورات کے تحت جہاں یورپی جمہوریت کے دوسرے بہت سے تصورات کو اپنے نظام میں جگہ دی، وہاں سلطنت کی غیر مسلم رعایا کے لیے مذہب اور نسل کی تفریق کے بغیر مساوی شہری اور مذہبی حقوق سے بہرہ مند ہونے کا حق بھی تسلیم کیا اور مختلف معاہدوں میں یورپی طاقتوں کو اس کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی۔۴۶؂

عثمانی خلیفہ سلطان عبد المجید اول نے ۱۸فروری ۱۸۵۶کو ''خط ہمایوں'' کے نام سے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت 'جزیہ' کے پرانے قانون کو جو غیر مسلموں کے دوسرے درجے کے شہری ہونے کے لیے ایک علامت کی حیثیت رکھتا تھا، ختم کر کے اس کی جگہ ''بدل عسکری'' کے نام سے ایک متبادل ٹیکس نافذ کیا گیا جو اقلیتوں کی مساوی شہری حیثیت کے جدید جمہوری تصورات کے مطابق تھا۔۴۷؂

خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد دنیا کے سیاسی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مسلمانوں کے غلبہ اور تفوق اور اس کے تحت پیدا ہونے والے قانونی وسیاسی تصورات کو بالکل تبدیل کر دیا ہے۔ بیسویں صدی میں یورپی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی جو قومی ریاستیں وجود میں آئیں، ان میں سے کسی میں بھی، چاہے وہ مذہبی ریاستیں ہوں یا سیکولر، غیرمسلموں کو 'اہل ذمہ' کی قانونی حیثیت نہیں دی گئی۔ ان میں سعودی عرب، ایران، اور طالبان کی ٹھیٹھ مذہبی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی، جہاں اسلام مملکت کا سرکاری مذہب اور قانون سازی کا اعلیٰ ترین ماخذ ہے، غیر مسلموں کو 'اہل ذمہ' قرار نہیں دیا گیا اور نہ اہل علم کی جانب سے اس کا مطالبہ ہی کبھی سامنے آیا ہے۔ چنانچہ جدید مسلم ریاستوں میں غیر مسلم 'اہل ذمہ' کی حیثیت سے نہیں ،بلکہ جدید جمہوری تصورات کے مطابق مساوی حقوق رکھنے والے آزاد شہریوں کی حیثیت سے بستے ہیں۔

__________

سطور بالا میں کی جانے والی اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ قرآن وسنت میں مسلمانوں کو اصولاً اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ معاشرت، معیشت یا حدو د وتعزیرات سے متعلق اسلامی شریعت کے احکام کو اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں پر بھی لازماً نافذ کریں، تاہم ان قوانین کو غیر مسلموں پر نافذ کرنے کی کوئی ممانعت بھی نصوص میں ثابت نہیں ہے۔ اگر ہمارا یہ نتیجۂ فکر درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سوال سراسر اجتہاد کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے اور اسلامی ریاست کے اہل حل وعقد اس معاملے میں جرائم کی نوعیت، احوال وظروف کی مناسبت، بین الاقوامی عرف کی رعایت اور اسلامی معاشرے کی مجموعی مصلحت ومنفعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے عقل عام کی روشنی میں کوئی بھی لائحہ عمل اختیار کرنے میں آزاد ہیں۔ اس ضمن میں کلاسیکی فقہی زاویۂ نگاہ ایک مخصوص دور کے احوال وظروف اور قانونی تصورات کی عکاسی کرتا ہے اور اپنی اساسات اور مزاج کے لحاظ سے جدید قانونی تصورات اور بین الاقوامی عرف سے جوہری طور پر مختلف ہے۔ اسلامی ریاست کے غیر مسلم باشندوں کے حوالے سے قانونی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہوئے فقہا کے پیش نظر بنیادی طور پر چند مخصوص گروہوں، یعنی یہود ونصاریٰ اور مجوس کے مذہبی اعتقادات اور قوانین رہے ہیں، جبکہ عالم گیریت کا موجودہ ماحول دنیا بھر کے متنوع مذہبی وغیر مذہبی گروہوں کے مابین بے حد وسیع پیمانے پر فکری، اقتصادی اور سیاسی وسماجی تعامل کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک جدید اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حوالے سے قانون سازی کرتے ہوئے فقہی جزئیات کو اساس قرار دے کر ان میں جزوی ترمیم وتغیر کا طریقہ اختیار کرنے کے بجاے براہ راست قرآن وسنت کی طرف رجوع کیا جائے اور شریعت کے منشا ومزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے بنیادی نوعیت کا اجتہادی زاویۂ نگاہ اختیار کیا جائے۔ ہماری ناقص راے میں اس باب میں حسب ذیل دو اصولوں کو ملحوظ رکھنا عقل عام ، اخلاقیات قانون اور اسلامی شریعت کے مزاج کی رو سے مناسب ہوگا:

۱۔ جن جرائم کی اخلاقی قباحت اور ان کا قابل تعزیر ہونا مسلم ہے، بالخصوص جن کی نوعیت دوسروں کے جان ومال اور آبرو پر تعدی اور فتنہ وفساد کی ہو اور ان سے معاشرے کے امن وامان کے تہ وبالا ہو جانے کا خدشہ ہو، ان جرائم میں قرآن مجید کی بیان کردہ سزاؤں کا ایک بنیادی مقصد انسانی معاشرے کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کی بقا کو لاحق ہونے والے خطرات کا سدباب کرنا ہے۔ چنانچہ ایسے جرائم کی سزاؤں کے نفاذ میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ کرنے اور ایک مسلمان حکومت کے دائرۂ اختیار میں جو شخص یا گروہ بھی ان کا مرتکب ہو، اس پر قرآن کی بیان کردہ سزاؤں کو نافذ کرنے میں عقلی، اخلاقی یا قانونی لحاظ سے کوئی مانع نہیں۔ تاہم اگر غیر مسلم گروہ اس پرتحفظات رکھتے ہوں توانھیں اس صورت میں اپنے مقدمات کا فیصلہ اپنے مذہبی یا قانونی تصورات کے مطابق فیصلے کے لیے اپنی عدالتوں سے کرانے کا حق دیا جا سکتا ہے، جب مجرم اور متاثرہ فریق، دونوں کا تعلق غیر مسلموں سے ہو۔ اگر متاثرہ فریق مسلمان ہو تو فیصلے کے لیے اسلامی شریعت کی تابع عدالتوں کی طرف رجوع کو لازم قرار دینا درست ہوگا۔ اس نوعیت کے جرائم میں ہم قتل، چوری، قذف،زنا اور حرابہ کو شمار کرتے ہیں۔

۲۔ ان کے علاوہ جن جرائم (مثلاً شراب نوشی وغیرہ) کے 'جرم' ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے مختلف مذہبی یا غیر مذہبی گروہوں کے اخلاقی تصورات مختلف ہوں، ان کو غیر مسلموں پر ان کی رضامندی کے بغیر نافذ کرنے کے بجاے ان کے اعتقادی واخلاقی تصورات کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں شرعی تعزیری سزاؤں سے مستثنیٰ قرار دیا جانا چاہیے اور اگر کسی غیر مسلم گروہ کے اخلاقی تصورات کی رو سے یہ چیزیں سرے سے 'گناہ' یا 'جرم' ہی نہیں ہیں تو ان کے ارتکاب پر اسے مستوجب سزا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی گروہ کے نزدیک یہ جرم تو ہیں، لیکن وہ ان کی سزاؤں کے حوالے سے اپنا الگ ضابطۂ قوانین رکھتا ہے تو ان کے فیصلے انھی کے قوانین کے مطابق ان کی مخصوص عدالتوں کے سپرد کر دینے چاہییں۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ غیر مسلموں کو دی جانے والی کوئی بھی رعایت اس شرط کے ساتھ مشروط ہوگی کہ وہ متعدی اثرات کا موجب بنتے ہوئے مسلم معاشرے کے مزاج اور اخلاقی و مذہبی تشخص کے لیے خطرے کا باعث نہ بن جائے۔ اگر اس بات کا خدشہ ہو یا اس نوعیت کی تفریق قانون وعدالت کے معاملات میں پیچیدگیاں اور الجھنیں پیدا کرنے کا سبب بن جائے تو اس صورت میں مفاد عامہ کی خاطر 'سد ذریعہ' کے اصول پر غیر مسلموں کو دی گئی رعایت ان سے کلی یا جزوی طور پر واپس لینا درست، بلکہ بعض صورتوں میں شاید ضروری ہوگا۔ مثال کے طور پر غیرمسلموں پر یہ پابندی عائد کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی مسلمان کو ہرگز اپنے ساتھ کسی ایسے کام میں ملوث نہ کریں جو اسلامی شریعت کی رو سے ناجائز اور قابل تعزیر ہے، اور اگر وہ ایسا کریں تو غیر مسلم مرتکب جرم کو بھی برابر کا مجرم گردانا جائے اور دونوں پر اسلام کا ریاستی قانون یکساں نافذ کیا جائے۔

__________

۲۸؂سرخسی، المبسوط۵/ ۳۸، ۱۲/ ۱۰۶، ۱۴/ ۹۳، ۲۲/ ۱۳۱، ۲۷/ ۱۳۳، ۲۸/ ۹۳۔

۲۹؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۰۵۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۸۹۸۔ الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/ ۱۵۔ الاستبصار۴/ ۲۰۷۔

۳۰؂طرح التثریب ۸/ ۳۔

۳۱؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۰۶، ۱۰۰۰۸۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۸۹۱، ۱۶۸۹۳۔

۳۲؂جامع ترمذی،رقم۱۳۷۵۔

۳۳؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۱۶۔

۳۴؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۰۹۔

۳۵؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۵۵۸۔ دار قطنی ۳/ ۸۷۔

۳۶؂الام ۴/ ۲۱۳۔

۳۷؂ابویوسف، کتاب الخراج ۱۴۱۔

۳۸؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۹۹۰۶۔

۳۹؂الکلینی، الفروع من الکافی ۷/ ۲۴۰۔

۴۰؂احکام القرآن ۲/ ۴۳۷۔

۴۱؂الام ۴/ ۲۳۰۔

۴۲؂احکام القرآن ۲/ ۴۳۷۔

۴۳؂کتاب الاموال ۴۴۔

۴۴؂شمس الحق عظیم آبادی، عون المعبود۸/ ۲۰۵۔

۴۵؂فتح الباری ۶/ ۲۶۱۔

۴۶؂دیکھیے: الدکتور عبد العزیز محمد الشناوی، 'الدولۃ العثمانیۃ دولۃ اسلامیۃ مفتری علیہا' ۱/ ۹۶۔۹۸۔ ماجد خدوری، مقدمہ کتاب السیر للشیبانی۔ معاہدۂ پیرس کے متن کے لیے جو ۳۰مارچ ۱۸۵۶ء کو طے پایا، ملاحظہ ہو: http://www.polisci.ucla.edu/faculty/wilkinson/ps123/trea

۴۷؂Norman Stillman, The Jews of Arab Lands in Modern Times, http://www.nitle.org

_______________________




Articles by this author