غلبہ دین بطور دلیل نبوت (حصہ دوم)

غلبہ دین بطور دلیل نبوت (حصہ دوم)


مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد جب اہل ایمان کو قتال کا حکم دے دیا گیا تو انھیں بشارت دی گئی کہ مسلمانوں کو اس جنگ میں خدا کی تائید حاصل ہے، اس لیے وہ کمزوری دکھاتے ہوئے ازخود دشمن کے ساتھ صلح کی خواہش کا اظہار نہ کریں:

فَلَا تَہِنُوا وَتَدْعُوا إِلَی السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَن یَتِرَکُمْ أَعْمَالَکُمْ.(محمد ۴۷: ۳۵)

''سو تم کمزوری دکھا کر صلح کی دعوت نہ دو جبکہ بہرحال تم ہی غالب رہو گے۔ اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ تمھارے اعمال کا بدلہ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔''

سورۂ بقرہ کی آیات ۱۹۲، ۱۹۳ میں بھی قریش کے خلاف قتال کا حکم ایسے اسلوب میں دیا گیا ہے کہ گویا اس کے نتیجے میں قریش کے برپا کردہ فتنے کا خاتمہ اور اللہ کا دین کا غلبہ ایک قضاے مبرم ہے:

وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ.(البقرہ ۲: ۱۹۳)

''اور ان کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔''

یہی اعلان مختلف اسالیب میں قرآن میں جگہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ سورۂ صف میں ارشاد ہوا ہے:

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ. (الصف ۶۱: ۹)

''وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرک اس بات کو کتنا ہی ناپسند کرتے رہیں۔''

إِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَءِکَ فِیْ الأَذَلِّیْنَ، کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ إِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۰، ۲۱)

''بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں، وہی ذلیل ہو کر رہیں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہر حال میں غالب آئیں گے۔ بے شک اللہ بے حد قوت والا، غالب آنے والا ہے۔''

اہل کفر اور اہل ایمان کے مابین پہلا معرکہ بدرمیں ہوا۔ اس جنگ میں قریش کی صف اول کی قیادت کو تہ تیغ کر کے نہ صرف قریش کو ان کے حتمی انجام کی تصویر دکھا دی گئی بلکہ رسول اللہ کے مخالف دوسرے گروہوں کو بھی اس سے عبرت حاصل کرنے کی نصیحت کی گئی۔ قرآن مجید نے اسی لیے غزوۂ بدر کو 'یوم الفرقان' یعنی حق وباطل کے مابین فیصلہ کن معرکے کا دن قرار دیا۱؂ اور کہا کہ منکرین حق کے تمام گروہ اس واقعے میں اپنے انجام کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ ارشاد ہے:

قُل لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَی جَہَنَّمَ وَبِءْسَ الْمِہَادُ، قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَۃٌ فِیْ فِءَتَیْْنِ الْتَقَتَا فِءَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَأُخْرَی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُم مِّثْلَیْْہِمْ رَأْیَ الْعَیْْنِ وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہِ مَنْ یَّشَاءُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَعِبْرَۃً لَّأُوْلِی الأَبْصَارِ.(آل عمران ۳: ۱۲، ۱۳)

''تم ان منکروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم مغلوب کر دیے جاؤ گے اور تمہیں دھکیل کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ تمہارے لیے ان دو گروہوں میں جن کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی، عبرت کی ایک بڑی نشانی تھی ۔ ایک گروہ تو مومن تھا جو اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا جبکہ دوسرا کافر تھا جو طاغوت کے لیے برسر پیکار تھا، اور وہ مسلمانوں کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے۔ اور اللہ جس کی چاہے اپنی مدد سے تائید کرتا ہے۔ بے شک اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔''

تاریخ وسیرت بھی قرآن مجید کے اس بیان کی تائید کرتے ہیں۔ واقدی کا بیان ہے:

فلما قدم بالاسری اذل اللہ بذلک رقاب المشرکین والمنافقین والیہود ولم یبق بالمدینۃ یہودی ولا منافق الا خضع عنقہ لوقعۃ بدر ..... وفرق اللہ فی صبحہا بین الکفر والایمان وقالت الیہود فی ما بینہا ہو الذی نجدہ منعوتا واللہ لا تفرع لہ رایۃ بعد الیوم الا ظہرت.(المغازی، ۱/ ۱۲۱)

''جب آپ قیدیوں کو گرفتار کرکے لائے تو اللہ نے اس کی وجہ سے مشرکوں اور منافقوں اور یہودیوں کے سرنگوں کر دیے اور مدینے میں کوئی یہودی یا منافق ایسا نہ رہا جس کی گردن واقعہ بدر کے بعد جھک نہ گئی ہو۔ اس روز اللہ نے کفر اور ایمان کے مابین امتیاز قائم کر دیا اور یہود آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی صفات ہم (اپنی کتابوں میں) پاتے ہیں۔ بخدا، آج کے بعد وہ جب بھی جنگ کا علم لہرائے گا، غلبہ اسی کو نصیب ہوگا۔''

غزوۂ احد کے بعد مدینہ منورہ کے یہود اور منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے خلاف اعتراضات کیے تو سیدنا عمر نے آپ سے اجازت طلب کی کہ ان یہودیوں اور منافقوں کو قتل کر دیں۔ آپ نے فرمایا:

یا عمر ان اللہ مظہر دینہ ومعز نبیہ وللیہود ذمۃ فلا اقتلہم (المغازی، ۱/ ۳۱۸)

''اے عمر! اللہ یقیناًاپنے دین کو غالب اور اپنے نبی کو سرفراز کرے گا، لیکن یہود کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اس لیے میں انھیں قتل نہیں کروں گا۔''

غزوۂ احد ہی کے موقع پر ابو سفیان نے جاتے ہوئے مسلمانوں کو آئندہ سال اسی وقت بدر الصفراء کے مقام پر آ کر لڑنے کا چیلنج دیا تھا۔ مقررہ وقت پر جب ابو سفیان کی پھیلائی ہوئی افواہوں کی وجہ سے مسلمانوں میں خوف کی کیفیت ہونے لگی اور اندیشہ ہوا کہ وہ لڑائی کے لیے نہیں نکلیں گے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ:

یا رسول اللہ ان اللہ مظہر دینہ ومعز نبیہ وقد وعدنا القوم موعدا ونحن لا نحب ان نتخلف عن القوم فیرون ان ہذا جبن منا عنہم فسر لموعدہم.(المغازی، ۱/ ۳۸۷)

''یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب اور اپنے نبی کو سرفراز کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ہم نے اپنے دشمن کے ساتھ ایک وقت مقرر کیا تھا اور ہم اس کو پسند نہیں کرتے کہ لڑائی سے پیچھے ہٹیں اور دشمن یہ سمجھے کہ یہ ہماری بزدلی ہے، اس لیے آپ مقررہ مقام کی طرف روانہ ہو جائیے۔''

اس کے بعد مسلمانوں کی قوت اور اسلام کی دعوت میں مسلسل وسعت پیدا ہوتی رہی اور قریش کی رسوائی اور ہزیمت کا دائرہ بھی اسی تناسب سے پھیلتا رہا۔ صورت حال پر نظر رکھنے والے ذہین لوگوں کو فتح مکہ سے قبل ہی اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ آخر کار قریش پر غالب آ کر رہیں گے۔ چنانچہ ۵ ہجری میں غزوۂ احزاب کے موقع پر قریش نے پورے عرب سے قبائل کو جمع کر کے مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا تو حارث بن عوف نے اپنے قبیلہ بنو غطفان کو اس مہم میں شریک ہونے سے منع کیا اور ان سے کہا:

تفرقوا فی بلادکم ولا تسیروا الی محمد فانی اری ان محمدا امرہ ظاہر لو ناواہ من بین المشرق والمغرب لکانت لہ العاقبۃ. (الواقدی، المغازی، ۲/ ۴۴۳)

''اپنے علاقے میں منتشر ہو جاؤ اور محمد پر حملے کے لیے مت جاؤ۔ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد کا دین غالب آ کر رہے گا۔ اگر مشرق سے مغرب تک سارے انسان اس کے مقابلے میں آجائیں تو بھی فتح اسی کو حاصل ہوگی۔''

عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ وہ قریش کی طرف سے بدر، احد اور خندق میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد انھیں قریش کی مغلوبیت کا یقین ہو گیا۔ کہتے ہیں:

فقلت فی نفسی کم اوضع؟ واللہ لیظہرن محمد علی قریش فخلفت مالی بالرہط وافلت یعنی من الناس فلم احضر الحدیبیۃ ولا صلحہا. (المغازی ۲/ ۷۴۱، ۷۴۲)

''میں نے اپنے جی میں کہا: میں کب تک اس لاحاصل تگ ودو میں شریک رہوں گا؟ بخدا، محمد کو قریش پر غلبہ حاصل ہو کر رہے گا۔ چنانچہ میں نے اپنا مال واسباب اپنے قبیلے ہی میں چھوڑا اور لوگوں سے پیچھا چھڑا کر نکل گیا۔ یوں میں حدیبیہ کے معاہدۂ صلح کے موقع پر موجود نہیں تھا۔''

عمرو اس کے بعد حبشہ چلے گئے۔ نجاشی شاہِ حبشہ نے ایک موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی تو عمرو قبول حق کی طرف متوجہ ہوئے۔ کہتے ہیں:

قلت فی نفسی عرف ہذا الحق العرب والعجم وتخالف انت؟ قلت اتشہد ایہا الملک بہذا؟ قال نعم اشہد بہ عند اللہ یا عمرو فاطعنی واتبعہ واللہ انہ لعلی الحق ولیظہرن علی کل دین خالفہ کما ظہر موسی علی فرعون وجنودہ. (المغازی، ۲/ ۷۴۳)

''میں نے اپنے دل میں کہا: اس حق کو تو عرب اور عجم کے لوگ پہچان گئے ہیں اور تو ابھی تک مخالف ہے؟ میں نے بادشاہ سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو؟ اس نے کہا، اے عمرو، میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ گواہی دیتا ہوں، اس لیے میری بات مان لو اور اس نبی کی اطاعت اختیار کر لو۔ بخدا وہ حق پر ہے اور اپنی مخالفت کرنے والے ہر دین پر اسی طرح غالب آ کر رہے گا جیسے موسیٰ کو فرعون اور اس کے لشکر کے مقابلے میں غلبہ حاصل ہوا تھا۔''

ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک پہنچنے پر اس نے ابو سفیان کو بلا کر ان سے گفتگو کی۔ اس گفتگو کے بعد ابو سفیان نے اپنے تاثرات یوں بیان کیے:

فلما ان خرجت مع اصحابی وخلوت بہم قلت لہم قد امر امر ابن ابی کبشۃ ہذا ملک بنی الاصفر یخافہ قال ابو سفیان واللہ ما زلت ذلیلا مستیقنا بان امرہ سیظہر حتی ادخل اللہ قلبی الاسلام وانا کارہ.(بخاری، رقم ۲۷۲۳)

''پھر جب میں اور میرے ساتھی اس کے دربار سے نکل کر تنہائی میں بیٹھے تو میں نے ان سے کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو ہمارے بس سے باہر ہو گیا ہے۔ یہ دیکھو، رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے خوف زدہ ہے۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ بخدا، اس وقت سے مجھے پکا یقین ہو گیا کہ محمد غالب آ کر رہیں گے، یہاں تک آخر کار اللہ نے میرے دل میں اسلام کو داخل کر دیا، حالانکہ میں اس کو ناپسند کرتا تھا۔''

خالد بن الولید کہتے ہیں:

لما اراد اللہ بی من الخیر ما اراد قذف فی قلبی حب الاسلام وحضرنی رشدی وقلت قد شہدت ہذہ المواطن کلہا علی محمد فلیس موطن اشہدہ الا انصرف وانا اری فی نفسی انی موضع فی غیر شئ وان محمدا سیظہر. (المغازی، ۲/ ۷۴۶)

''جب اللہ نے میرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا تو میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی اور مجھے ہدایت کی بات سوجھ گئی۔ میں نے کہا: میں محمد کے خلاف ان تمام جنگوں میں شریک رہا ہوں اور کوئی جنگ ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں شریک ہونے کے بعد میں پلٹوں اور میرے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں ایک بے فائدہ جدوجہد میں مصروف ہوں اور محمد بہرحال غالب آکر رہیں گے۔''

فتح مکہ کے بعد بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر بنو ہوازن میں سے دو قبیلے بنو کعب اور بنو کلاب ان کے ساتھ شریک نہ ہوئے۔ ان میں سے ایک سردار ابن ابی البراء نے بنو کلاب کو اس جنگ میں شریک ہونے سے منع کیا اور ان سے کہا کہ:

واللہ لو ناوا محمدا من بین المشرق والمغرب لظہر علیہ. (المغازی، ۳/ ۸۸۶)

''بخدا، اگر مشرق سے مغرب تک سب لوگ محمد کے مقابلے میں آ جائیں، تب بھی محمد ہی غالب رہیں گے۔''

غزوۂ حنین کے موقع پر دوران سفر میں ایک مشرک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پا کر آپ پر تلوار سونت لی۔ اس موقع پر آپ نے اس شخص کو معاف کر دیا اور ابو بردہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

ان اللہ مانعی وحافظی حتی یظہر دینہ علی الدین کلہ. (المغازی، ۳/ ۸۹۲)

''بے شک اللہ میری حفاظت کرے گا ، یہاں تک کہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔''

غزوۂ حنین میں شکست کی کیفیت کو خود بنو ثقیف کے بعض لوگوں نے یوں بیان کیا:

فتفرقت جماعتنا فی کل وجہ وجعلت الرعدۃ تسحقنا حتی لحقنا بعلیاء بلادنا فان کان لیحکی عنا الکلام ما کنا ندری بہ مما کان بنا من الرعب فقذف اللہ الاسلام فی قلوبنا. (المغازی ۳/ ۹۰۷)

''ہمارا لشکر تمام اطراف میں تتر بتر ہو گیا اور کپکپی ہم پر اس طرح طاری ہوئی کہ کسی کام کا نہ چھوڑا۔ آخر کار ہم گرتے پڑتے اپنے علاقے کی سخت اور سنگین زمین تک پہنچ گئے۔ لوگ ہمیں وہ باتیں بتاتے تھے جو اس موقع پر ہمارے مونہوں سے نکلیں لیکن رعب اور ہیبت کی وجہ ہمیں خود کچھ پتہ نہیں تھا کہ ہم کیا بول رہے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ہمارے دلوں میں اسلام قبول کرنے کا خیال ڈال دیا۔''

مسلمانوں کے غلبہ اور قریش کی ہزیمت کا یہ عمل فتح مکہ کی صورت میں اپنے نقطہ کمال کو پہنچا اور قریش کے اس انجام نے تردد اور شکوک وشبہات کی اس کیفیت کا بالکل خاتمہ کر دیا جس میں جزیرۂ عرب کے اکثر قبائل اس سے پہلے مبتلا تھے۔ چنانچہ پورے عرب نے آپ کے سامنے تسلیم وانقیاد کی گردن جھکا دی۔ عمرو بن سلمہ بتاتے ہیں:

کانت العرب تلوم باسلامہم الفتح فیقولون اترکوہ وقومہ فان ان ظہر علیہم فہو نبی صادق فلما کانت وقعۃ اہل الفتح بادر کل قوم باسلامہم. (بخاری، رقم ۳۹۶۳)

''اہل عرب اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ محمد اور ان کے قبیلے کے مابین فیصلہ ہو لینے دو۔ اگر محمد غالب آ گئے تو وہ سچے نبی ہیں۔ پھر جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قبیلہ اسلام قبول کرنے کے لیے لپکنے لگا۔''

ابن اسحاق کا بیان ہے:

وانما کانت العرب تربص باسلامہا امر ہذا الحی من قریش لان قریشا کانوا امام الناس وہادیہم واہل البیت والحرم وصریح ولد اسماعیل بن ابراہیم وقادۃ العرب لا ینکرون ذلک وکانت قریش ہی التی نصبت الحرب لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وخلافہ فلما افتتحت مکۃ ودانت لہ قریش ودوخہا الاسلام عرفت العرب انہ لا طاقۃ لہم بحرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا عداوتہ فدخلوا فی دین اللہ کما قال اللہ عز وجل افواجا یضربون الیہ من کل وجہ. (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۴/ ۷۶)

''سارا عرب اسلام قبول کرنے کے لیے قریش کا انجام طے ہونے کا انتظار کر رہا تھا، کیونکہ قریش لوگوں کے پیشوا ورہنما، حرم اور بیت اللہ کے متولی اور اسماعیل علیہ السلام کی خالص نسل سے تھے اور عرب کی قیادت کے منصب پر فائز تھے جس کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا۔ اور یہ قریش ہی تھے جو حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برسرپیکار تھے۔ پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور اسلام نے قریش کو زیر کر کے اپنا مطیع بنا لیا تو اہل عرب جان گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ اور دشمنی کی طاقت نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق وہ ہر جانب سے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔''

اس پوری داستان سے، ظاہر ہے کہ ارد گرد کی اقوام بے خبر نہیں تھیں، چنانچہ جزیرۂ عرب میں اسلام کے غالب ہونے کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی صداقت ان اقوام کے سربرآوردہ لوگوں اور ارباب حل وعقد پر بھی پوری طرح واضح ہو گئی۔ ابن سعد کی 'الطبقات الکبریٰ' (۱/ ۲۵۸۔۲۶۳) اور دیگر تاریخی مآخذ میں درج تفصیلات کے مطابق اس کی مختصر روداد حسب ذیل ہے:

عمرو بن امیۃ الضمری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہِ حبشہ کے نام دعوت اسلام کا خط دے کر بھیجا۔ اس نے آپ کے خط کو آنکھوں سے لگایا، تخت سے اتر کر نہایت تواضع کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ پھر اس نے اپنے قبول اسلام کی باقاعدہ تحریر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لکھی اور کہا کہ اگر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو سکتا تو ہو جاتا۔

دحیہ کلبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک لے کر قیصر روم کے پاس گئے تو اس نے علامات کو پہچان کر نہ صرف خود آپ کی نبوت کی تصدیق کی بلکہ اپنی قوم کو بھی آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ لیکن مسیحی علما اور سرداروں کی جانب سے شدید رد عمل دیکھ کر اسے خوف ہوا کہ وہ اس بات پر وہ خود قیصر کی اطاعت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیں گے، چنانچہ اس نے اپنی بادشاہت کو بچانے کی خاطر اسلام قبول کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس موقع پر قیصر نے ابو سفیان کو بلا کر، جو اتفاق سے اس وقت شام میں موجود تھے، آپ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان معلومات کی روشنی میں اس نے یہ پیش گوئی کی کہ 'یوشک ان یملک موضع قدمی ہاتین' ۲؂ یعنی عنقریب یہ علاقہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں ہوگا جو اس وقت میرے زیر نگیں ہے۔

حاطب بن ابی بلتعہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقوقس شاہ مصر کے نام مکتوب مبارک دے کر بھیجا۔ اس نے خط پڑھ کر اچھے کلمات کہے اور نہایت ادب اور احترام سے آپ کے خط کو محفوظ کر لیا۔ اس نے دو نہایت قیمتی لونڈیاں اور ایک سفید گدھا تحفے کے طور پر آپ کی خدمت میں بھیجے اور جوابی خط میں لکھا کہ یہ بات تو میرے علم میں تھی کہ ایک نبی نے مبعوث ہونا ہے، البتہ میرا گمان یہ تھا کہ شاید وہ شام میں مبعوث ہوگا۔ تاہم اس نے آپ کی طرف سے قبول اسلام کی دعوت کے جواب میں یہ عذر پیش کیا کہ قبطی قوم اس معاملے میں میری بات نہیں مانے گی۔ اس نے پیش گوئی کی کہ:

وسیظہر علی البلاد وینزل اصحابہ من بعدہ بساحتنا ہذہ حتی یظہروا علی ما ہہنا. (الاصابۃ، ۴/ ۱۹۶۷)

''انھیں ملکوں پر غلبہ نصیب ہوگااور ان کے بعد ان کے ساتھی ہمارے اس علاقے میں آئیں گے یہاں تک کہ یہاں بھی ان کا غلبہ قائم ہو جائے گا۔''

اس نے مزید کہا:

وستکون لہ العاقبۃ حتی لا ینازعہ احد ویظہر دینہ الی منتہی الخف والحافر.(الاصابہ، ۴/ ۱۹۶۸)

''انجام کار سرفرازی انھی کا مقدر ہے یہاں تک کہ کوئی ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھے گا اور جہاں تک گھوڑے اور اونٹ پہنچ سکتے ہیں، وہاں تک ان کا دین غالب ہوگا۔''

عبد اللہ بن حذافہ سہمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر خسرو شاہِ ایران کے پاس گئے۔ اس نے نہایت تکبر کے ساتھ آپ کا والا نامہ پھاڑ دیا اور یمن میں اپنے گورنر باذان کو لکھا کہ دو آدمی بھیج کر اس مدعی نبوت کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ باذان کے قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے کہا کہ ایک دن ٹھہر جاؤ اور کل دوبارہ میرے پاس آنا۔ اگلے دن وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اطلاع دی کہ میرے رب نے گزشتہ رات تمہارے آقا کو خود اس کے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل کروا دیا ہے۔ قاصد یہ اطلاع لے کر یمن واپس گئے تو باذان اور اس کے ماتحت عرب فارسی نسل کے لوگوں نے صورت حال کی تصدیق کرنے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔

حارث بن ابی شمر شاہِ غسان کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجاع بن وہب کو خط دے کر بھیجا۔ پہلے پہل تو اس نے متکبرانہ رویہ اختیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے لیے لشکر کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ تاہم قیصر روم نے اس کو اس ارادے سے منع کیا جس کے بعد حارث نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کا انعام واکرام کر کے اسے رخصت کیا۔ حارث کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جانشین جبلہ بن ایہم کو دوبارہ اسلام کی دعوت بھیجی جو اس نے قبول کر لی۔

بحرین میں فارسی سلطنت کے زیر سایہ حکومت کرنے والے بادشاہ منذر بن ساویٰ کے نام خط دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء بن الحضرمی کو بھیجا تو اس نے آپ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد اہل ایمان کو جزیرۂ عرب اور اس کے گرد ونواح کی سلطنتوں کا اقتدار حاصل ہونے کی بشارتیں بھی مختلف مواقع پر ایک تسلسل کے ساتھ دیں۔ اس نوعیت کی روایات کتب حدیث میں کثرت سے نقل ہوئی ہیں۔ یہاں ان میں سے اہم روایات نقل کی جاتی ہیں:

تمیم داری روایت کرتے ہیں::

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لیبلغن ہذا الامر ما بلغ اللیل والنہار ولا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر الا ادخلہ اللہ ہذا الدین بعز عزیز او بذل ذلیل عزا یعز اللہ بہ الاسلام وذلا یذل اللہ بہ الکفر.(مسند احمد، رقم ۱۶۲۴۴)

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک دن اور رات کا سلسلہ موجود ہے۔ اور اللہ تعالیٰ شہروں اور دیہات کا کوئی گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جس میں یہ دین داخل نہ ہو جائے۔ کچھ لوگ عزت پائیں گے اور کچھ ذلیل ہوں گے۔ عزت تو اللہ تعالیٰ اسلام کو بخشیں گے جبکہ ذلت اہل کفر کا نصیب بنے گی۔''

ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقہا ومغاربہا وان امتی سیبلغ ملکہا ما زوی لی منہا.(مسلم، رقم ۵۱۴۴)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی اور میں نے اس کے مشرق ومغرب کے علاقے دیکھ لیے اور بے شک میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں تک پہنچے گی جو مجھے سمیٹ کر دکھائے گئے۔''

ابو ہریرہ سے روایت ہے:

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا ہلک کسری فلا کسری بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ والذی نفسی بیدہ لتنفقن کنوزہما فی سبیل اللہ. (بخاری، رقم ۲۸۸۸)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی دوسرا کسریٰ نہیں ہو گا۔ اور جب قیصر کی حکومت (شام کے علاقے سے) ختم ہو جائے گی تو دوبارہ کبھی قائم نہیں ہوگی۔ اور اللہ کی قسم، ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں گے۔''

سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو یہ بشارت دی:

ہذہ فتوح یفتحہا اللہ علیکم بعدی یا سلمان، لتفتحن الشام ویہرب ہرقل الی اقصی مملکتہ وتظہرون علی الشام فلا ینازعکم احد، ولتفتحن الیمن ولیفتحن ہذا المشرق ویقتل کسری بعدہ.(المغازی، ۲/ ۴۵۰)

''اے سلمان، یہ وہ فتوحات ہیں جو تمھیں میرے بعد حاصل ہوں گی۔ شام فتح ہوگا اور ہرقل بھاگ کر اپنی مملکت کے آخری کنارے کی طرف چلا جائے گا اور تمہیں شام پر غلبہ حاصل ہوگا اور کوئی اسے تم سے چھیننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور یمن بھی لازماً فتح ہوگا اور یہ مشرق کے علاقے بھی تمہارے قبضے میں آئیں گے جس کے بعد کسریٰ قتل کر دیا جائے گا۔''

غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے فرمایا:

الا ابشرکم؟ قالوا بلی یا رسول اللہ وہم یسیرون علی رواحلہم فقال ان اللہ اعطانی الکنزین فارس والروم وامدنی بالملوک ملوک حمیر یجاہدون فی سبیل اللہ ویاکلون فیء اللہ.(المغازی، ۳/ ۱۰۱۱)

''کیا میں تمھیں خوشخبری نہ دوں؟ صحابہ نے اپنی سواریوں پر چلتے چلتے کہا: یا رسول اللہ، کیوں نہیں۔ آ پ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خزانے عطا فرمائے ہیں: ایک فارس کا اور دوسرا روم کا۔ اور اس نے حمیر کے بادشاہوں کے ذریعے سے میری مدد کی ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور اس راہ میں حاصل ہونے والا مال غنیمت کھائیں گے۔''

عدی بن حاتم کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا:

اما انی اعلم ما الذی یمنعک من الاسلام تقول انما اتبعہ ضعفۃ الناس ومن لا قوۃ لہ وقد رمتہم العرب اتعرف الحیرۃ قلت لم ارہا وقد سمعت بہا قال فوا الذی نفسی بیدہ لیتمن اللہ ہذا الامر حتی تخرج الظعینۃ من الحیرۃ حتی تطوف بالبیت فی غیر جوار احد ولیفتحن کنوز کسری بن ہرمز قال قلت کسری بن ہرمز قال نعم کسری بن ہرمز ولیبذلن المال حتی لا یقبلہ احد قال عدی بن حاتم فہذہ الظعینۃ تخرج من الحیرۃ فتطوف بالبیت فی غیر جوار ولقد کنت فی من فتح کنوز کسری بن ہرمز والذی نفسی بیدہ لتکونن الثالثۃ لان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد قالہا.(مسند احمد، رقم ۱۷۵۴۸)

''سنو، مجھے معلوم ہے کہ تمہارے اسلام لانے میں کیا چیز مانع ہے۔ تم یہ سوچتے ہو کہ اس کی پیروی تو بس کچھ کمزور اور بے حیثیت لوگوں نے ہی اختیار کی ہے اور پورا عرب ان کے مقابلے پر کھڑا ہے۔ کیا تم حیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے کہا، میں نے دیکھا تو نہیں لیکن اس کے بارے میں سنا ہے۔ آپ نے فرمایا، پس اللہ کی قسم ہے کہ اس دین کا غلبہ اس طرح قائم ہوگا کہ حیرہ سے ایک عورت اونٹ پر سوار ہو کر تن تنہا بیت اللہ کا حج کرنے آئے گی اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے ۔ میں نے تعجب سے پوچھا: کسریٰ بن ہرمز کے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، کسریٰ بن ہرمز کے۔ اور مال اتنا وافر ہو جائے گا کہ کوئی اس کو لینے والا نہیں ملے گا۔ عدی بن حاتم کہتے ہیں: یہ دیکھو، حیرہ سے خاتون تن تنہا سوار ہو کر آتی ہے اور بیت اللہ کا حج کرتی ہے اور میں خود اس لشکر میں شامل تھا جس نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے۔ اور بخدا، تیسری پیش گوئی بھی پوری ہو کر رہے گی، کیونکہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔''

عباس بن عبد المطلب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں:

یظہر ہذا الدین حتی یجاوز البحار وحتی تخاض البحار بالخیل فی سبیل اللہ تبارک وتعالی. (تفسیر القرطبی ۱/ ۱۸)

''اس دین کو غلبہ نصیب ہوگا یہاں تک کہ اس کے حدود سمندروں سے آگے چلے جائیں گے اور اللہ کے راستے میں سمندروں میں گھوڑے دوڑا دیے جائیں گے۔''

عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا فتحت علیکم فارس والروم ای قوم انتم؟ قال عبد الرحمن بن عوف نقول کما امرنا اللہ. (مسلم، رقم ۵۲۶۲)

''جب تم فارس اور روم کو فتح کر لو گے تو پھر تم کیسے لوگ ہوگے؟ عبدالرحمن بن عوف نے کہا: ہم وہی کریں گے جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔''

ابو ذر بیان کرتے ہیں:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکم ستفتحون مصر وہی ارض یسمی فیہا القیراط فاذا فتحتموہا فاحسنوا الی اہلہا فان لہم ذمۃ ورحما او قال ذمۃ وصہرا. (مسلم، رقم ۴۶۱۵)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم مصر کو فتح کرو گے اور یہ وہ سرزمین ہے جس کے سکے کا نام قیراط ہے۔ پس جب تم اس کو فتح کر لو تو وہاں کے باشندوں سے اچھا سلوک کرنا، کیونکہ (ان کا دہرا حق ہوگا) وہ اہل ذمہ بھی ہوں گے اور ان کے ساتھ رشتے داری بھی ہے۔''

بخاری میں سفیان بن ابی زہیر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تفتح الیمن فیاتی قوم یبسون فیتحملون باھلیہم ومن اطاعہم والمدینۃ خیر لہم لو کانوا یعلمون وتفتح الشام فیاتی قوم یبسون فیتحملون باھلیہم ومن اطاعہم والمدینۃ خیر لہم لو کانوا یعلمون وتفتح العراق فیاتی قوم یبسون فیتحملون باھلیہم ومن اطاعہم والمدینۃ خیر لہم لو کانوا یعلمون. (بخاری، رقم ۱۷۷۶۔ مسلم، رقم ۱۳۸۸)

''یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ (اونٹوں کو) ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے اہل خانہ کو اور جو ان کی بات مانیں گے، انھیں بٹھا کر (یمن کی طرف) لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے۔ اور شام فتح ہوگا تو کچھ لوگ (اونٹوں کو) ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے اہل خانہ کو اور جو ان کی بات مانیں گے، انھیں بٹھا کر (شام کی طرف) لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے۔ اور عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ (اونٹوں کو) ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے اہل خانہ کو اور جو ان کی بات مانیں گے، انھیں بٹھا کر (شام کی طرف) لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے۔''

عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں:

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ستفتح علیکم ارضون ویکفیکم اللہ فلا یعجز احدکم ان یلہو باسہمہ.(مسلم، رقم ۱۹۱۷)

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے سنا کہ عنقریب بہت سے علاقے تمھارے ہاتھوں مفتوح ہوں گے اور اللہ تمھاری مدد کے لیے کافی ہوگا، اس لیے تم میں سے کوئی اس سے عاجز نہ رہے کہ (لڑائی کی تیاری کی غرض سے) اپنے تیروں سے کھیلتا رہے۔''

_______

۱؂ الانفال ۸: ۴۱۔

۲؂ بخاری، رقم ۲۷۲۳۔

____________




Articles by this author