غلبہ دین بطور دلیل نبوت (حصہ سوم)

غلبہ دین بطور دلیل نبوت (حصہ سوم)


نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام انھی بشارتوں کی روشنی میں اس یقین کے ساتھ ان قوموں کے خلاف میدان میں اترے کہ اللہ کی طرف سے فتح ونصرت ان کے لیے مقدر کر دی گئی ہے اور انھیں دشمن کے مقابلے میں بہرحال غلبہحاصل ہو کر رہے گا۔ تاریخ میں ان کے جو بیانات نقل ہوئے ہیں، ان سے صاف واضح ہے کہ وہ اپنے جنگی اقدامات کی تعبیر اسی وعدۂ الٰہی کی روشنی میں کرتے اور ان میں کامیابی کو اللہ کی طرف سے فتح ونصرت کے وعدے کی بنا پر یقینی خیال کرتے تھے۔ چنانچہ اہل فارس کی طرف لشکر روانہ کرنے سے پہلے سیدنا عمر نے مسلمانوں سے خطاب کیا اور فرمایا:

ان الحجاز لیس لکم بدار الا علی النجعۃ ولا یقوی علیہ اہلہ الا بذلک این الطراء المہاجرون عن موعود اللہ سیروا فی الارض التی وعدکم اللہ فی الکتاب ان یورثکموہا فانہ قال لیظہرہ علی الدین کلہ واللہ مظہر دینہ ومعز ناصرہ ومولی اہلہ مواریث الامم این عباد اللہ الصالحون. (طبری، ۳/ ۴۴۵)

''حجاز تمہارا مستقر نہیں بن سکتا جب تک کہ تم وسائل معاش کی تلاش میں باہر نہ نکلو۔ اہل حجاز کے یہاں رہنے کا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر پردیسی بننا چاہتے ہیں؟ اس سرزمین میں گھس جاؤ جس کی ملکیت کا وعدہ اللہ نے تمہارے ساتھ اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اس نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے گا۔ اور اللہ یقیناًاپنے دین کو غالب اور اس کے ماننے والوں کو سرفراز کرے گا اور اس کے پیروکاروں کو قوموں کی سلطنتیں عنایت کرے گا۔ اللہ کے نیک بندے کہاں ہیں؟''

یرموک کے معرکے کے موقع پر معاذ بن جبل نے مسلمانوں کو اسی وعدہ الٰہی کی یاد دہانی کرائی:

الم تسمعوا لقول اللہ وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم فاستحیوا رحمکم اللہ من ربکم ان یراکم فرارا من عدوکم. (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۷/ ۸، ۹)

''کیا تم نے اللہ کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ: 'وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم۔' اس لیے اللہ تم پررحم کرے، اس بات پر اللہ سے حیا کرنا کہ وہ تمھیں تمھارے دشمن کے سامنے سے فرار ہوتا ہوا دیکھے۔''

سعد بن ابی وقاص نے ایک موقع پر لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

ان اللہ ہو الحق لا شریک لہ فی الملک ولیس لقولہ خلف قال اللہ جل ثناؤہ ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثہا عبادی الصالحون ان ہذا میراثکم وموعود ربکم وقد اباحہا لکم منذ ثلاث حجج فانتم تطعمون منہا وتاکلون منہا وتقتلون اہلہا وتجبونہم وتسبونہم الی ہذا الیوم.(طبری، ۳/ ۵۳۱)

''بے شک اللہ ہی کی ذات حق ہے۔ کائنات کی پادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں اور جو کچھ اس نے فرمایا، اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'اور ہم نے (بنی اسرائیل کو) یاددہانی کرانے کے بعد زبور میں یہ بات لکھ دی تھی کہ اس سرزمین کی ملکیت اور وراثت میرے نیک بندوں کو ملے گی۔ سو یہ تمہاری ملکیت اور تمہارے ساتھ تمہارے رب کا وعدہ ہے۔ اس نے اس سرزمین کو تین سال سے تمہارے لیے مباح کر رکھا ہے ۔ پس تم آج کے دن تک اس میں سے کھلا بھی رہے ہو، خود بھی مستفید ہو رہے ہو، یہاں کے لوگوں سے ٹیکس بھی وصول کر رہے ہو اور انھیں قیدی بھی بنا رہے ہو۔''

صحابہ کو اس بات کا بھی پورا احساس تھا کہ ان کی کامیابی کا دارومدار قلت وکثرت اور مادی اسباب ووسائل پر نہیں، بلکہ دین حق کے ساتھ ان کی وابستگی اور صبر واستقامت پر ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے شام کے محاذ پر اپنی افوا ج کو لکھا:

انتم انصار اللہ واللہ ناصر من نصرہ وخاذل من کفرہ ولن یوتی مثلکم عن قلۃ ولکن من تلقاء الذنوب فاحترسوا منہا. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۵)

''تم اللہ کے مددگار ہو اور جو اللہ کی مدد کرے، اللہ اس کی مدد کرتا ہے اور جو اس کا انکار کرے، اسے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ تمھارے جیسا گروہ کبھی تعداد کے کم ہونے کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا، بلکہ صرف گناہوں کی وجہ سے شکست کھائے گا، اس لیے گناہوں سے بچتے رہو۔''

عمرو بن العاص نے یرموک کے موقع پر اسلامی لشکر سے کہا:

لقد سمعت ان المسلمین سیفتحونہا کفرا کفرا وقصرا قصرا فلا یہولنکم جموعہم ولا عددہم فانکم لو صدقتموہم الشد لتطایروا تطایر اولاد الحجل. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۰)

''میں نے سنا ہے کہ مسلمان ان علاقوں کو ایک ایک بستی اور ایک ایک محل کر کے فتح کرتے رہیں گے، اس لیے دشمن کے بڑے بڑے لشکر اور ان کی تعداد تمھاری ہمت کو پست نہ کرنے پائے ، کیونکہ اگر تم دل جمعی سے ان پر حملہ کرو گے تو وہ یوں منتشر ہو کر بھاگیں گے جیسے چکور کے بچے بھاگتے ہیں۔''

سیدنا علیؓ نے ایک موقع پر فرمایا:

ان ہذا الامر لم یکن نصرہ ولا خذلانہ بکثرۃ ولا قلۃ ہو دینہ الذی اظہر وجندہ الذی اعزہ وامدہ بالملائکۃ حتی بلغ ما بلغ فنحن علی موعود من اللہ واللہ منجز وعدہ وناصر جندہ. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۰۷)

''اس دین کی فتح یا شکست کا مدار تعداد کی کثرت یا قلت پر نہیں۔ یہ اللہ کا دین ہے جس کو اس نے غالب کیا ہے اور اللہ کا لشکر ہے جس کی تائید اور نصرت اس نے فرشتوں کے ذریعے سے کی ہے یہاں تک کہ یہ اس عروج کو پہنچ گیا ہے۔ ہم اللہ کے وعدے کے سہارے پر لڑتے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا اور اپنے لشکر کی مدد کرنے والا ہے۔''

صحابہ کفار کے ساتھ ان معرکوں میں اپنی نصرت وکامیابی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر کردہ ان خاص واقعات کا نمونہ سمجھتے تھے جو اللہ تعالیٰ اپنی دینونت کے اظہار کے لیے وقتاً فوقتاً دنیا میں رونما فرماتا رہتا ہے:

معرکہ یرموک کے موقع پر خالد بن ولید نے اپنے لشکر سے کہا:

ان ہذا یوم من ایام اللہ لا ینبغی فیہ الفخر ولا البغی اخلصوا جہادکم واریدوا اللہ بعملکم. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۷)

''یہ اللہ (کے فیصلوں کے ظہور) کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اس میں نہ فخر کا اظہار مناسب ہے اور نہ سرکشی۔ اپنے جہاد کو خالص رکھو اور اپنے عمل سے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیت رکھو۔''

اسی موقع پر ابو سفیان نے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

انکم دارۃ العرب وانصار الاسلام وانہم دارۃ الروم وانصار الشرک اللہم ان ہذا یوم من ایامک اللہم انزل نصرک علی عبادک.(البدایہ والنہایہ ۷/ ۹)

''تم اہل عرب اور اسلام کے مددگار ہو اور تمھارے دشمن رومی ہیں جو شرک کے مددگار ہیں۔ اے اللہ، یہ تیرے (فیصلے ظاہر ہونے کے) دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اے اللہ، اپنے بندوں پر اپنی مدد نازل فرما۔''

ان فتوحات کو سرتا سر نصرت الٰہی کی مرہون منت سمجھنے کے حوالے سے صحابہ کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اس کے برعکس تاثر کی نفی کے لیے خالد بن ولید جیسے بلند پایہ جرنیل کو امارت سے معزول کر دیا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا:

انی لم اعزل خالدا عن سخطۃ ولا خیانۃ ولکن الناس فتنوا بہ فاحببت ان یعلموا ان اللہ ہو الصانع.(البدایہ والنہایہ ۷/ ۸۱)

''میں نے خالد کو کسی بات پر ناراض ہو کر یا اس کی کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا، بلکہ لوگ اس کی (بہادری اور جنگی مہارت کے) دھوکے میں مبتلا ہو گئے ہیں، اس لیے میں نے پسند کیا کہ لوگ جان لیں کہ کامیابی دلانے والی ذات اللہ ہی کی ہے۔''

صحابہ کی ان کی فتوحات اور کامیابیوں کے پیچھے نصرت الٰہی کا یہ عامل ان کے دشمنوں پر بھی پوری طرح واضح تھا اور وہ اسے تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ اجنادین کے معرکہ سے پہلے رومی لشکر کے امیر قیقلان نے صحابہ کے حالات کو جانچنے کے لیے ایک آدمی بھیجا جس نے واپس آ کر اسے بتایا کہ:

وجدت قوما رہبانا باللیل فرسانا بالنہار واللہ لو سرق فیہم ابن ملکہم لقطعوہ او زنی لرجموہ فقال لہ القیقلان واللہ لئن کنت صادقا لبطن الارض خیر من ظہرہا.(البدایہ والنہایہ ۷/ ۷)

''میں نے ایسی قوم دیکھی ہے جو رات کو راہب بن جاتے ہیں اور دن کو گھڑ سوار۔ بخدا، اگر ان کے بادشاہ کا بیٹا بھی چوری کرے گا تو وہ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے اور اگر بدکاری کرے گا تو اسے سنگسار کر دیں گے۔ قیقلان نے کہا کہ بخدا اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو (ان سے لڑنے کے بجائے) زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔''

ہرقل نے صحابہ کے مقابلے میں رومی لشکر کے شکست کھانے کے بعد اس کے اسباب پر غور کیا۔ اس نے اپنے لشکر سے پوچھا کہ کیا مسلمان تمہارے جیسے ہی انسان نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا، ہمارے ہی جیسے ہیں۔ ہرقل نے کہا کہ تعداد ان کی زیادہ ہے یا تمہاری؟ انھوں نے کہا کہ ہر معرکے میں ہماری تعداد ان سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اس نے پوچھا کہ پھر تم شکست کیوں کھا جاتے ہو؟ اس پر ایک بزرگ سردار نے کہا:

من اجل انہم یقومون اللیل ویصومون النہار ویوفون بالعہد ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر ویتناصفون بینہم ومن اجل انا نشرب الخمر ونزنی ونرکب الحرام وننقض العہد ونغصب ونظلم ونامر بالسخط وننہی عما یرضی اللہ ونفسد فی الارض فقال انت صدقتنی. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۵)

''اس لیے کہ وہ راتوں کو قیام کرتے اور دن کو روزے رکھتے ہیں۔ وہ عہد کو پورا کرتے، نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں اور آپس میں انصاف سے کام لیتے ہیں۔ اور ہم شراب پیتے، بدکاری کرتے، حرام کا ارتکاب کرتے، عہد توڑتے، غصب اور ظلم کرتے ، اللہ کو ناراض کرنے والی باتوں کا حکم دیتے اور اس کو راضی کرنے والے کاموں سے منع کرتے اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔ ہرقل نے کہا: تم نے مجھے درست وجہ بتائی ہے۔''

فارسی سپہ سالار ہرمزان نے بھی سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکست کی وجہ یہی بیان کی اور کہا:

یا عمر انا وایاکم فی الجاہلیۃ کان اللہ قد خلی بیننا وبینکم فغلبناکم اذ لم یکن معنا ولا معکم فلما کان معکم غلبتمونا. (البدایہ والنہایہ ۷/۸۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۵۲۴۹)

''اے عمر، جاہلیت کے دور میں اللہ ہمارے اور تمھارے مابین کوئی مداخلت نہیں کرتا تھا۔ سو چونکہ وہ نہ تمھارے ساتھ تھا اور نہ ہمارے ساتھ، اس لیے ہم تم پر غالب تھے۔ پھر جب وہ تمھارے ساتھ ہو گیا تو تم ہم پر غالب آ گئے ہو۔''

دوسری روایت کے مطابق اس نے کہا:

کنا نحن وانتم فی الجاہلیۃ لم یکن لنا ولا لکم دین فکنا نعدکم معشر العرب بمنزلۃ الکلاب فاذا اعزکم اللہ بالدین وبعث رسولہ منکم لم نطعکم. (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/ ۲۶۳)

''جاہلیت کے دور میں نہ ہمارا کوئی دین تھا اور نہ تمھارا، سو اے قوم عرب، ہم تمھیں کتوں کے برابر شمار کرتے تھے۔ پھر جب اللہ نے اپنے دین کے ذریعے سے تمھیں عزت دی اور اپنا رسول تم میں سے مبعوث کیا تو ہم نے تمھاری اطاعت نہ کی۔''

ایرانی سردار سیاہ نے ایک موقع پر اپنے ساتھیوں سے کہا:

ان ہولاء بعد الشقاء والذلۃ ملکوا اماکن الملوک الاقدمین ولا یلقون جندا الا کسروہ واللہ ما ہذا عن باطل ودخل فی قلبہ الاسلام وعظمتہ. (البدایہ والنہایہ ۷/ ۸۹)

''یہ لوگ اپنی بد حالی اور ذلت کے بعد اب پرانے بادشاہوں کی سلطنتوں کے مالک بن گئے ہیں اور جو بھی لشکر ان سے ٹکراتا ہے، یہ اسے پاش پاش کر دیتے ہیں۔ بخدا اگر یہ باطل پر ہوتے تو انھیں یہ سرفرازی نہ ملتی۔ اس کے دل میں اسلام کا دبدبہ اور عظمت جاگزیں ہو گئی۔''

حاصل بحث

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام معنوں میں کوئی داعی، واعظ اور مبلغ نہیں تھے، بلکہ خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اور آپ پر ایمان لانے والے صحابہ کو 'شہادت علی الناس' کے منصب پر فائز کیا گیا تھا اور حق وباطل کے امتیاز کو علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کر دینے کے لیے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مخالفین کی تمام کوششوں، کاوشوں اور سازشوں کے علی الرغم آپ کا دین ان سب پر غالب آ کر رہے گا:

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ. (التوبہ ۹: ۳۳)

''وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرک اس بات کو کتنا ہی ناپسند کرتے رہیں۔''

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْْئاً وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ. (النور ۲۴: ۵۵)

''اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ ہرحال میں انھیں اس سرزمین میں اسی طرح اقتدار عطا کرے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو عطا کیا اور ان کے لیے ان کے دین کو لازماً مستحکم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کے خوف کو یقیناًامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد بھی انکار کریں تو وہی بدکار ہیں۔''

یہ ایک وعدۂ الٰہی تھا جو تاریخ کی پوری روشنی میں نہایت شان کے ساتھ ظہور پذیر ہوا اور اس نے رہتی دنیا تک نبی عربی کے دعوائے نبوت کی صداقت کو تاریخ کے صفحات پر ثبت کر دیا۔ ابن قیم نے، دیکھیے، اس استدلال کو کس شان سے واضح کیا ہے:

''ایک مسیحی عالم کے ساتھ میرا مناظرہ ہوا۔ دوران گفتگو میں، میں نے اس سے کہا: تم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر اعتراض نہیں کر سکتے جب تک کہ خود خدا کی ذات پر اعتراض نہ کرو اور عظیم ترین ظلم، حماقت اور فساد کی نسبت اس کی طرف نہ کرو۔ اس نے کہا: یہ بات کیسے لازم آتی ہے؟ میں نے کہا: اس سے بھی بڑھ کر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے تمھیں خود خدا کے وجود ہی کا انکار کرنا پڑے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر محمد، جیسا کہ تم کہتے ہو، سچے نبی نہیں تھے بلکہ ایک ظالم بادشاہ تھے تو دیکھو انھیں اس کا پورا موقع ملا کہ وہ خدا پر افترا کریں اور ان باتوں کی نسبت خدا کی طرف کریں جو خدا نے نہیں کہیں۔ پھر یہ موقع انھیں مسلسل حاصل رہا اور مسلسل حلال وحرام کے فیصلے کرتے رہے، فرائض مقرر کرتے اور احکام شریعت متعین کرتے رہے، سابقہ ملتوں کو منسوخ کرتے رہے، اور انبیاء سابقین کے پیروکاروں کو قتل کرتے اور ان کی گردنیں مارتے رہے، ان کی کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بناتے رہے اور ان کے اموال اور دیار کو بطور غنیمت حاصل کرتے رہے، حالانکہ وہ اہل حق تھے، اور اس میں یہاں تک گئے کہ ساری سرزمین عرب فتح کر لی۔ وہ یہ سارے کام یہ کہہ کر کرتے رہے کہ انھیں اللہ نے اس کا حکم دیا ہے اور خدا کو ان سے محبت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو دیکھتے رہے اور یہ بھی کہ وہ اہل حق اور رسولوں کے پیروکاروں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ محمد خدا کی طرف ۲۳ سال تک اس جھوٹ کی نسبت کرتے رہے اور اللہ اس سب کے باوجود ان کی تائید و نصرت کرتا رہا، ان کے امر کو غالب کرتا رہا اور مدد کے وہ اسباب انھیں فراہم کرتا رہا جو انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا اور ان کے دشمنوں کو، ان کی طرف سے کوئی کارروائی کیے بغیر، ہلاک کرتا رہا۔ کبھی پیغمبر کی دعا کے نتیجے میں اور کبھی آپ کی دعا کے بغیر ہی ازخود ان کا قلع قمع کرتا رہا۔ اس کے باوجود خدا محمد کی ہر اس حاجت کو پورا کرتا رہا جو انھوں نے اس سے مانگی، ان سے اچھے اچھے وعدے کرتا رہا اور پھر ان وعدوں کو اس کامل، اعلیٰ اور بہترین طریقے سے پورا کرتا رہا جس میں کسی وعدے کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ سب کچھ ہوا، جبکہ تمہارے بقول محمد نے انتہا درجے کے جھوٹ، افترا اور ظلم سے کام لیا، کیونکہ جو شخص خدا پر جھوٹ باندھے اور مسلسل باندھتا رہے، اس سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں ہو سکتا، اور جو شخص اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی شریعتوں کو باطل کر دے، ان کو زمین سے ختم کر دے اور ان کی جگہ اپنی مرضی کی شریعت لے آئے، اور اللہ کے اولیاء اور جماعت اور اس کے رسولوں کے پیروکاروں کو قتل کرے، اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس سارے کام میں خدا کی نصرت محمد کو مسلسل حاصل رہی اور خدا ان سب کاموں کو برقرار رکھتا رہا۔ اس نے نہ ان کا ہاتھ پکڑا اور نہ ان کی گردن کاٹی، جبکہ وہ خود اپنے رب کی طرف سے یہ وحی بیان کرتا رہا کہ ''اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، حالانکہ اس کی طرف کوئی وحی نہ آئی ہو، اور جو کہے کہ میں بھی اس طرح کا کلام اتاروں گا جیسا کہ خدا نے اتارا۔''

اب تمھیں، جو محمد کو جھوٹا کہتے ہو، دو باتوں میں سے ایک بات ماننی پڑے گی:

یا تو یہ کہو کہ دنیا کا نہ کوئی خالق ہے اور نہ پروردگار، کیونکہ اگر دنیا کا کوئی صاحب قدرت وحکمت صانع اور مدبر ہوتا تو وہ اس جھوٹے پیغمبر کا ہاتھ پکڑ لیتا اور اس کا سخت مقابلہ کرتا اور اس کو ظالموں کے لیے ایک نمونہ عبرت بنا دیتا، اس لیے کہ جب دنیا کے بادشاہوں کے شایان شان یہی ہے تو زمین وآسمان کے رب اور احکم الحاکمین کے لیے کیوں نہیں؟

اور یا پھر خدا کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرو جو ا س کے شایان شان نہیں، مثلاً ناانصافی، حماقت ، ظلم، مخلوق کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گمراہ کرنا، بلکہ ایک جھوٹے کی نصرت کرنا اور اس کو زمین میں اقتدار عطا کرنا، اس کی دعاؤں کو قبول کرنا، اس کی وفات کے بعد بھی اس کے امر کو قائم رکھنا، اور ا س کے کلمہ کو ہمیشہ غالب رکھنا، اس کی دعوت کو اور نسل در نسل علیٰ رؤوس الاشہاد ہر مجمع اور مجلس میں اس کی نبوت کی گواہی کو ظاہر کرنا۔ کیا یہ کام احکم الحاکمین اور ارحم الراحمین کا ہو سکتا ہے؟ پس تم نے محمد کی نبوت کا انکار کر کے خود رب العالمین کی ذات میں بہت بڑا عیب نکالا ہے اور اس پر شدید اعتراض کیا ہے بلکہ اس کے وجود کا بالکلیہ انکار کر دیا ہے۔

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ دنیا میں بہت سے جھوٹے نمودار ہوئے، انھیں کچھ قوت وشوکت بھی ملی، لیکن انھیں اپنا مشن پورا کرنے کا موقع نہیں ملا اور نہ زیادہ مہلت ملی، بلکہ اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو ان پر غالب کر دیا جنھوں نے اس کا نام ونشان مٹا دیا اور اس کی جڑ کاٹ دی اور اس کا مٹھ مار دیا۔ جب سے دنیا قائم ہے، خدا کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے یہاں تک کہ وہ اس زمین اور اس کے باسیوں کا وارث بن جائے۔

جب اس نے میری یہ بات سنی تو کہنے لگا: اس بات سے خدا کی پناہ کہ ہم محمد کو ظالم یا جھوٹا کہیں، بلکہ سب منصف مزاج اہل کتاب یہ مانتے ہیں کہ جو شخص محمد کے طریقے پر چلے اور ان کی پیروی کرے، وہ آخرت میں اہل نجات اور اہل سعادت میں سے ہوگا۔ میں نے کہا : لیکن جس کو تم جھوٹا کہتے ہو، کیا اس کے طریقے اور نقش قدم پر چلنے والا اہل نجات اور اہل سعادت میں سے ہو سکتا ہے؟ اب اسے یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہ رہا کہ محمد اللہ کے رسول تھے، لیکن اس نے کہا کہ وہ ہماری طرف مبعوث نہیں کیے گئے۔ میں نے کہا: تمھیں اس بات کی تصدیق بھی کرنی پڑے گی کیونکہ محمد کا یہ دعویٰ تواتر سے ثابت ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے دنیا کے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، چاہے وہ اہل کتاب ہوں یا امی۔ اور آپ نے اہل کتاب کو بھی اپنے دین کی دعوت دی اور ان میں سے جنھوں نے آپ کے دین کو قبول نہیں کیا، آپ نے ان کے ساتھ قتال کیا یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینے پر آمادہ ہو گئے۔

اس پر وہ کافر لاجواب ہو گیا اور فوراً وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔'' (زاد المعاد، ۶۲۵، ۶۲۶)

خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب کے یہود نے آپ کی رسالت کے انکار کی مجال نہ پا کر یہی دوغلا موقف اختیار کیا تھا کہ آپ اللہ کے نبی تو ہیں لیکن آپ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا صرف عرب کے امیوں پر لازم ہے جبکہ اہل کتاب اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بعد کے ادوار میں عرب اور عراق کے نصاریٰ بھی بالعموم اسی موقف کے قائل رہے۳؂۔ تاہم مغربی کلیسا نے مغربی عوام کی ناواقفیت اور جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقائق کو مسخ کرنے کی روش اپنائی اور اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایسی تصویر کشی کی جس کے نتیجے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر تو کجا، ایک شریف اور مہذب انسان ماننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ زمانے کی گردش نے علم اور معلومات کے تبادلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا اور اسلام کی تاریخ اہل مغرب کے لیے بھی روشنی میں آ گئی تو اسلام کے خلاف مغرب کے اجتماعی لاشعور میں موجود تعصب نے ایک علمی رنگ اختیار کر لیا۔ مطالعہ اسلام اور مطالعہ سیرت کے حوالے سے استشراق کی ساری تحریک کا ہدف دو لفظوں میں بیان کیجیے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دور اول کی تاریخ کی مذہبی اور پیغمبرانہ تعبیر کو اس کی علمی واستدلالی بنیادوں سے محروم کر کے پیغمبر اسلام کو دنیا کے عام سیاسی مدبرین اور قومی قائدین کی صف میں لا کھڑا کیا جائے اور ان کی سرگزشت کی توجیہ نفسیات، عمرانیات اور تاریخ کے عام اصولوں کے تحت کی جائے۔ چنانچہ اس وقت پوری مغربی اسکالر شپ یا تو اس دور کے تاریخی ریکارڈ کو ہی، جو قرآن مجید، حدیث اور سیرت کے ذخیروں میں محفوظ ہے، سرے سے غیر مستند قرار دینے پر مصر ہے اور یا اس ذخیرے کو اصولاً قابل استدلال مان کر اس میں غیر معمولی طور پر نمایاں مذہبی عنصر کی توجیہ یہ کرتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش نظر مقصد کے لیے مذہب کو محض ایک مفید نفسیاتی اور جذباتی وسیلے کے طور پر استعمال کیا اور یہ کہ وہ بلند پایہ قائد اور مدبر تھے اور ان کو حاصل ہونے والی کامیابی سراسر ان کی اعلیٰ حکمت عملی اور حکیمانہ تدبیروں کا نتیجہ تھی۔

یہ زاویہ نگاہ اہل مغرب کی تو مجبوری ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر وہ پیغمبر اسلام کے دعوائے نبوت کے حق میں تاریخ کی سب سے بڑی شہادت کا سامنا نہیں کر سکتے، لیکن افسوس یہ ہے کہ تاریخ کے اس نازک دور میں، جب سیرت نبوی کے اس پہلو کو زیادہ قوت اور زیادہ واضح استدلال کے ساتھ نمایاں کرنے کی ضرورت تھی، مسلم اسکالر شپ نے اہل مغرب کے پراپیگنڈا سے مرعوب ہو کر کم وبیش اجتماعی طور پر ذہنی پسپائی کا رویہ اختیار کر لیا، چنانچہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے عرب وعجم کے نامی گرامی اہل علم عہد نبوی اور عہد صحابہ کے واقعات کی تعبیر نو میں مصروف ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا جہاد محض 'دفاعی' نوعیت کا تھا یا اس کا مقصد مخالفین کے فتنہ وفساد کو رفع کرنا تھا اور کفر و اسلام کی کشمکش سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس ضمن میں دور از کار تاویلات کے ایسے ایسے نمونے پیش کیے گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: 'امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ۴؂' کو 'دفاعی جہاد' کے دائرے میں لانے کے لیے ایک تاویل یہ کی گئی ہے کہ 'اقاتل' کا لفظ ہی یہ بتاتا ہے کہ اس حدیث میں ازخود جنگ کا اقدام کرنے کا نہیں بلکہ جنگ کا اقدام کرنے والے کفار کے خلاف لڑنے کا ذکر ہے۔ الدکتور سعید رمضان البوطی لکھتے ہیں:

'''اقاتل' کا لفظ افاعل کے وزن پر ہے اور جانبین کے اس فعل میں شریک ہونے پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ یہ لفظ اسی وقت بولا جا سکتا ہے جبکہ دونوں جانبوں سے لڑائی کی جا رہی ہو، بلکہ درحقیقت اس کا اطلاق ہوتا ہی اس صور ت میں ہے جب کوئی شخص اس آدمی کے مد مقابل آئے جس نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ 'مقاتل' کہتے ہی اس شخص کو ہیں جو زیادتی کا آغاز کرنے والا کا مقابلہ کرے۔ جو شخص لڑائی کا آغاز کرتا ہے، اس کو تو 'مقاتل' کہا ہی نہیں جا سکتا، بلکہ اس کو 'قاتل' کہا جاتا ہے جس نے یا تو قتل کے ارادے سے حملہ کیا یا بالفعل کسی کو قتل کر دیا۔ فعل میں اشتراک کا مفہوم اس وقت تک پیدا ہی نہیں ہوتا جب تک کہ دوسرا فریق مقابلہ اور دفاع کے لیے اٹھ نہ کھڑا ہو۔'' (القتال فی القرآن، )

حالانکہ عربی زبان کی معمولی شدبد رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ اس میں 'قَاتَلَ' کا فعل جس طرح جوابی اقدام کے لیے آتا ہے، اسی طرح جنگ کا آغاز کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس استعمال کی ان گنت مثالیں موجود ہیں، مثلاً: 'فان قاتلوکم فاقتلوھم۵؂ ' ، 'ولو قاتلکم الذین کفروا لولوا الادبار۶؂ ' ، 'انما ینہاکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین۷ ؂ '۔

ان تمام مواقع پر دیکھ لیجیے، کفار کی طرف سے جنگ کی ابتدا کو بیان کرنے کے لیے یہی باب مفاعلہ استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سوال الگ جواب طلب ہے اگر اس حدیث میں دفاعی جنگ ہی کا بیان ہے تو اس کی غایت قبول اسلام کیوں متعین کی گئی اور یہ کہنے پر کیوں اکتفا نہیں کی گئی کہ ''جب تک کفار فتنہ وفساد سے باز نہ آجائیں؟''

اسی روایت کی ایک اور تاویل یہ کی گئی ہے کہ اس کا تعلق عین حالت جنگ سے ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر جنگ کے دوران کوئی کافر کلمہ پڑھ لے تو اس کے خلاف لڑائی روک دی جائے۔ مولانا شمس الحق افغانی لکھتے ہیں:

''غلط فہمی اس حدیث کے عدم فہم سے واقع ہوئی جس میں ارشاد ہے: 'امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ فاذا قالوہا عصموا منی دماء ہم واموالہم' (ترجمہ) ''میں مامور ہوں کہ لوگوں سے لڑوں اس وقت تک کہ توحید کا اعتراف کریں۔ جب یہ اعتراف کریں تو میری طرف سے ان کی جان ومال محفوظ ہووے''۔ اس سے مستشرقین نے یہ غلط نظریہ جمایا کہ مسلمان تلوار ہاتھ میں گھماتا ہے اور کافر سے یہ کہتا ہے کہ اسلام لاؤ، ورنہ تمہارے لیے تلوار ہے۔ ہم آیات واحادیث سے اس کی تردید کر چکے ہیں۔ حدیث مذکور کا تعلق میدان جنگ سے ہے کہ جب عین دوران جنگ میں کوئی کافر لاالہ الا اللہ کہہ دے تو رک جاؤ اور اس سے مت لڑو، اگرچہ جان بچانے کے لیے کہے اور دل سے نہ کہے۔'' (مقالات افغانی، ۱/ ۷۷، ۷۸)

تاہم یہ بھی ایک بالکل بے معنی تاویل ہے جس کو حدیث کا اسلوب بیان قبول کرنے سے صاف انکار کرتا ہے۔ اس میں غیر مبہم طریقے سے قتال کو اللہ کا حکم اور قبول اسلام کو اس کی غایت قرار دیا گیا ہے۔ اگر وہی بات کہنا پیش نظر ہوتی جو مذکورہ تاویل میں کہی گئی ہے تو الفاظ غالباً یہ ہوتے: 'امرت ان لا اقتل من قال لا الہ الا اللہ' (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لا الٰہ الا اللہ کہہ دے، اسے قتل نہ کروں) ۔ علاوہ ازیں یہ توجیہ کرتے ہوئے روایت کے پورے متن کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ پوری حدیث یوں ہے:

امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلاۃ ویوتوا الزکاۃ فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماء ہم واموالہم الا بحق الاسلام وحسابہم علی اللہ (بخاری، رقم ۲۴)

اب اس حکم کو حالت جنگ سے متعلق قرار دینے کی صورت میں یہ ایک عجیب اور بے تکی بات بن جائے گی، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میدان جنگ میں اس شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہہ دے، نماز ادا کرے اور زکوٰۃ دے دے۔ چونکہ قتل سے بچنا ان شرائط کے پورا کرنے پر موقوف ہے اور اس کا فیصلہ بھی فوری ہونا ہے، ا س لیے زیر بحث توجیہ کی رو سے یہ لازم ہوگا کہ اگر کوئی کافر عین میدان جنگ میں 'قتل' سے بچنا چاہتا ہے تو نہ صرف فوری طور پر کلمہ پڑھ لے، بلکہ نماز بھی ادا کرے اور زکوٰۃ بھی دے دے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بالکل بے تکی اور غیر معقول بات ہے۔

ہماری رائے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے جہاد کو قرآن وسنت کے نصوص اور ذخیرۂ سیرت کی روشنی میں اس کے اصل تناظر میں سمجھا جائے اور معترضین کو مطمئن کرنے کی غرض سے کوئی رنگ آمیزی کیے بغیر اسے بے کم وکاست پیش کیا جائے۔ خاتمہ بحث کے طورپر یہاں مولانا مودودی کا ایک برمحل اقتباس درج کرنا مناسب دکھائی دیتا ہے:

''میں اس طریقہ سے اصولی اختلاف رکھتا ہوں کہ ہم اپنے عقائد واصول کو دوسروں کے نقطہ نظر کے مطابق ڈھال کر پیش کریں۔ ...زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے دین کے عقائد اور احکام کو، اس کی تعلیمات اور اس کے قوانین کو ان کے اصلی رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کر دیں اور جو دلائل ہم ان کے حق میں رکھتے ہیں، انھیں بھی صاف صاف بیان کر دیں، پھر یہ بات خود لوگوں کی عقل پر چھوڑ دیں کہ خواہ وہ انھیں قبول کریں یا نہ کریں۔'' (الجہاد فی الاسلام، ۱۶۔ ۱۷)

________

۳؂ سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/ ۱۵۱، ۱۵۲۔ ابو اللیث السمرقندی، فتاویٰ النوازل، ص ۲۰۸۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، ۲۸/ ۶۲۶۔

۴؂ بخاری، رقم ۲۷۲۷۔

۵؂ البقرہ ۲: ۱۹۱۔ ''پھر اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کریں تو تم انھیں قتل کرو۔''

۶؂ الفتح ۴۸: ۲۲۔ ''اور اگر کافر تمھارے ساتھ جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔''

۷؂ الممتحنہ ۶۰: ۹۔ ''اللہ تمھیں صرف ان سے منع کرتا ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی۔''

____________




Articles by this author