ہدی کی صورت میں احکام

ہدی کی صورت میں احکام


عن جَابِرِ بن عبد اللَّهِ رضي الله عنهما قال أَهَلَّ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هو وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مع أَحَدٍ منهم هَدْيٌ غير النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ من الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ فقال أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إلا من كان معه الْهَدْيُ فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إلى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال لو اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي ما اسْتَدْبَرْتُ ما أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ. (بخارى، رقم 1651)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ (رضی اللہ عنہ) کے سوا اور کسی کے ساتھ قربانی نہیں تھی۔علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور ان کے ساتھ بھی قربانی تھی،اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ (سب لوگ اپنے حج کے احرام کو) عمرہ کا احرام کر لیں،پھر طواف اور سعی کے بعد بال ترشوا لیں اور احرام کھول ڈالیں، لیکن وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کے ساتھ قربانی ہو، اس پر صحابہ نے کہا کہ ہم منیٰ میں اس طرح جائیں گے کہ ہم ميں سے بعض كےمذاكير سے قطرے ٹپكتے ہوں، یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور جب قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی (عمرہ اور حج کے درمیان) احرام کھول ديتا۔

________




Articles by this author