حیرت انگیز تبدیلی کا راز

حیرت انگیز تبدیلی کا راز


فاروقی صاحب جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے، انھیں اپنے بیٹے یاسر کے اونچا اونچا بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔ یاسر ابھی چند ہفتے پہلے امریکہ سے پاکستان آیا تھا۔ وہ پچھلے دس سال سے امریکہ میں تھا او راب اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آیا تھا۔ مگر یہاں کی ایک بھی چیز اسے نہیں بھائی تھی۔ ٹریفک سے لے کر پینے کے پانی تک اور پارلیمنٹ سے لے کر مسجد تک۔ اسے ہر جگہ، ہر شعبے میں کوئی چیزقابلِ اطمینان نہ لگی۔ فاروقی صاحب کو اس کی زیادہ تر تنقیدوں سے اتفاق تھا، لیکن بعض دفعہ انھیں یاسر کا رویہ اور تنقید، دونوں بالکل بے جا اور بے تکی لگتیں۔ اس وقت بھی انھیں یہی محسوس ہوا کہ یاسر کا گھر کے پرانے ملازم اسلم چچا پر برسنا نہ صرف غلط ہے بلکہ تہذیب اور شایستگی کے دائرے سے باہر ہے۔

فاروقی صاحب کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس نے تین گھنٹے پہلے اسلم کو آواز دی مگر وہ نہ آیا۔ کوئی دس منٹ کے بعد اس نے آ کر بتایا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ مگر اس وقت تک یاسر نے جس کام کے لیے اسے بلایا تھا، وہ خود کر چکا تھا۔ پھر اس نے تین گھنٹے بعد کسی اور کام سے اسے بلایا مگر کئی آوازیں دینے کے بعد جب وہ نہ آیا تو یاسر اسے ڈھونڈنے نکلا کہ وہ کس 'ضروری' کام میں مصروف ہے۔ اس دفعہ اسلم چچا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پائے گئے۔ یاسر یہ دیکھ کر بڑا بدمزہ ہوا اور اس نے اسلم چچا سے پوچھا کہ وہ اسے اپنی نمازوں کا ''ٹائم ٹیبل'' بتا دے۔ ملازم نے خشک لہجے میں کہا کہ فجر کے وقت تو یاسر سے اس کی ملاقات ہو نہیں سکتی البتہ ظہر کا وقت دوپہر کا ہے اور سہ پہر کو وہ عصر کی نماز پڑھتا ہے۔ اور اس کے ڈیڑھ پونے دو گھنٹے کے بعد وہ مغرب کی نماز ادا کرتا ہے اور پھر رات کو سونے سے پہلے عشاء کی۔

یاسر کو خود تو نمازوں کے متعلق کوئی خاص علم نہیں تھا لیکن اس نے اسلم چچا کے دیے نمازوں کے وقت کو ذہن میں رکھ لیا۔ جب اس نے مغرب کے آدھ گھنٹا بعد کسی کام کے لیے آواز دی تو معلوم ہوا کہ چچا پھر نماز پڑھنے میں مصروف ہیں۔ یاسر نے غصے ہو کر کہا یہ وقت تو اس کے بتائے گئے نماز کے ''ٹائم ٹیبل'' میں نہیں آتا مگر اسے بتایا گیا کہ چچا ''اوابین کے نوافل'' ادا کر رہے ہیں، او ریہ ایک نفل نماز ہے جس کا بہت ثواب ہے۔ لیکن یاسر کے لیے تو فرض نمازوں کا ہضم کرنا مشکل تھا۔ اب ''نفل'' نماز کے ذکر پر تو وہ سخت ناراض ہوا۔ تب ا س نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسلم چچا نے کام چوری کے لیے نمازوں کا چکر چلایا ہوا ہے۔ کیونکہ مغرب کی نماز کے پندرہ بیس منٹ بعد کی اس نماز کی اسے کوئی سمجھ نہیں آ رہی۔ چچا اسلم نے اس کے اعتراض پر احتجاج کیا تو وہ غصے میں آگیا اور اسے بری طرح ڈانٹ دیا۔ جب فاروقی صاحب گھر میں داخل ہوئے تو ڈانٹنے کا یہ عملزوروں پر تھا!

آج سے دس برس پہلے یاسرامریکہ تعلیم کے لیے گیا تھا۔ وہاں اس کے ماموں رہتے تھے ۔ اس وقت فاروقی صاحب مذہب کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے ۔ وہ نماز پڑھنے کو بھی ضروری نہیں خیال کرتے تھے۔ لیکن چند برس پہلے ان کی والدہ یعنی یاسر کی دادی فوت ہوئیں تو ان کے اندر ایک اہم تبدیلی آئی۔ وہ مذہب کی طرف راغب ہوئے۔ مطالعے کا انھیں پہلے ہی شوق تھا، مذہب کی طرف آئے تو ان کے شوق کے اور بھی اضافہ ہوا۔ انھوں نے مختصر عرصے میں بے شمار اچھی او رمنتخب اسلامی کتب کا مطالعہ کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں بڑے بڑے علماء سے ملاقاتیں کیں اور علم حاصل کیا۔ چنانچہ جب یاسر پاکستان آیا تو اسے اپنے والد صاحب میں ایک اہم تبدیلی یہ نظر آئی۔ اس کے والد شکل سے نہ سہی لیکن خیالات میں اچھے خاصے 'مولوی' صاحب بن چکے تھے۔ اس موضوع پر باپ بیٹے میں بڑی باتیں ہوئیں۔ بہت سا اختلاف ہوا لیکن دونوں ایک دوسرے کو اپنی کئی باتیں نہ سمجھا سکے نہمنوا سکے۔ چنانچہ والد کو دیکھتے ہی یاسرکہنے لگا:

''ابو، یہ نماز کا کیا چکر ہے؟ آخر اس ''پریکٹس'' کا مقصد کیا ہے؟ اگر تو اس کا مقصد اچھا انسان بنانا ہے تو معاف کیجیے گا کہ میرا تجربہ اور مشاہدہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں پاکستان میں، میں نے نماز پڑھنے والوں کو جھوٹ بولتے، بددیانتی کرتے، اپنے فرائض میں غفلت برتتے، بلکہ یہ غفلت، یہ کام چوری، نماز کی آڑ میں کرتے دیکھا ہے۔ یہ نماز نہ یہاں کے لوگوں کو وقت کی پابندی سکھاتی اور نہ ٹریفک کے اصولوں پر چلنا سکھاتی ہے۔ لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں او رہر برا کام بھی کرتے ہیں۔ آخر اس ''عبادت'' کا کوئی فائدہ، کوئی اثر بھی تو نظر آنا چاہیے۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ نماز پڑھنے والامغرور ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے سارے گناہ نماز سے معاف ہو جاتے ہیں۔ اور وہ بہت نیک ہے !''

فاروقی صاحب نے پہلے تو اسلم چچا سے یاسر کے سامنے اس کی بدتمیزی کی معافی مانگی۔ انھیں کہا کہ یاسر ابھی بچہ ہے او رجب تک اسے ہمارے کاموں کی سمجھ نہیں آ جاتی، ہمیں اس کی کڑوی باتیں سننا پڑیں گی۔ ادھر جب یاسر بھی اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو وہ بولے:

''بھئی تمھارے سوالات بہت اچھے ہیں لیکن اگر تم اجازت دو تو میں تھوڑا سا تازہ دم ہو کر تم سے بات کرتا ہوں!''

یاسر کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ا س نے بے وقت کی بحث چھیڑ دی۔ اس کے ابو تو ابھی تھکے ماندہ گھر آئے ہیں انھیں فوراً ان سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ دراصل اس کے والد نے اس کے ہر سوال کو توجہ دی تھی۔اسے کہا تھا کہ وہ اپنا کوئی سوال نہ دبائے ، اور یاسر بھی اپنے ابو سے ہر سوال اس لیے پوچھ لیتا تھا۔ انھوں نے اس کے اعتراض پر ناک بھوں چڑھانے کے بجائے خوش دلی سے ہر بات کو سنا۔ جس کا جواب دینا مناسب سمجھا، اور جتنا حکمت کے مطابق جانا، اتنا ہی دیا۔ یہی وجہ تھی کہ یاسر تلخ سے تلخ سوال بھی پوچھ لیتا تھا اور اسے کوئی ''جنریشن گیپ'' نظر نہیں آیا تھا۔ اب اس نے اسی آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈھیر سارے سوال جڑ دیے تھے۔

رات کے کھانے پر جب گھر کے سب افراد مل بیٹھے تو فاروقی صاحب نے خود ہی گفتگو کا آغاز کیا اور بولے:

''بھئی بات یہ ہے کہ اگر تو یاسر کے سوالات صرف چچا اسلم کی نماز کی حد تک ہوتے تو شاید میں اس سنجیدگی سے اس مسئلے پر گفتگو نہ کرتا لیکن یاسر نے تو سرے سے نماز ہی کو چیلنج کر دیا۔ جب کہ اسلامی عبادات میں نماز کی اہمیت ویسے ہی ہے جیسے عقائد میں توحید کی ....''

فضہ، یاسر کی چھوٹی بہن تھی۔ وہ بولی: ''ابو! آپ کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی''۔

فاروقی صاحب کو احساس ہوا کہ انھوں نے واقعی مشکل بات کر دی۔ فوراً وضاحت کرتے ہوئے بولے: دیکھیے، مذہب میں کچھ چیزیں ماننے کی ہوتی ہیں اور کچھ کرنے کی۔ ماننے والی چیزوں کو عقائد کہتے ہیں، یعنی وہ بنیادی حقائق جن کی بنیاد پر آپ کسی بات، کسی نظریے کو مانتے ہیں۔ اور جب آپ ان حقائق یا ان عقائد پر ایمان لے آتے ہیں تو اس کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، یہ تقاضے مذہب میں عبادات اور اعمال و شریعت کہلاتے ہیں۔ عقائد میں، آپ کو معلوم ہے، کہ بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ اس طرح نماز کو تمام عبادات میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نماز کی دوسری بڑی اہمیت یہ ہے کہ کسی آدمی کے مسلمان سمجھے جانے کی شرائط میں سے ہے۔ یعنی مثال کے طور پر آپ کسی اسکول کالج میں داخل ہوتے ہیں، کسی فرم یا ادارے میں ملازمت اختیار کرتے ہیں تو پھر آپ کاوہاں حاضر ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اس طرح اگر آپ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو پھر آپ کا نماز پڑھنا ضروری ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۱۱ میں اللہ نے اسی بات کو خود بیان کر دیا ہے اور اللہ کے رسول ؐ نے قرآن کے اس فرمان کی ان الفاظ میں تشریح کی ہے:

''آدمی کے کفر و شرک اور ایمان کے درمیان حد فاصل نماز چھوڑنا ہے۔'' (صحیح مسلم)

فاروقی صاحب نماز کی اور بھی اہمیت بتانا چاہتے تھے کہ یاسر بول پڑا: ''ٹھیک ہے ابو، یہ بات مان لی کہ نماز کی بڑی اہمیت ہے لیکن میرے سوالات تو کچھ اور ہیں۔''

''ہاں میں ، انھی سوالات کی طرف آ رہا تھا۔ دراصل اسی اہمیت میں تمھارے اس سوال کا جواب ہے کہ نماز کا مقصد کیا ہے؟ تم کہہ سکتے ہو کہ دین اسلام میں نماز کا سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ آدمی جس اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین طریقے سے اظہار کرے۔اور نماز اس اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان سب سے پہلے یہ کہتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، پھروہ عملی طور پر اس کا اظہار کرتا ہے کہ واقعی وہ اللہ ہی کی عبادت کرتا ہے، اسی کے آگے سر جھکاتا ہے اور جب وہ کہتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو پھر وہ عبادت کا طریقہ وہی اختیار کرتا ہے جو اس کے رسولؐ نے اسے بتایا ہے۔ اب رہ گئی یہ بات کہ نماز پڑھنے سے آدمی ڈیوٹی فل، ذمہ دار، پابندِ وقت، ایماندار وغیرہ نہیں ہوتا تو اس بات پر بحث کرنے سے پہلے میں تم سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا۔ تم یہ بتاؤ کہ کل جو تم نے نئی گاڑی لی ہے، اس کی گارنٹی ہے نا؟''

یاسر کو والد کا یہ سوال کچھ عجیب لگا لیکن اس نے ذرا سوچنے کے بعد جواب دیا: ''ہاں گارنٹی ہے، پہلے ایک سال یا پانچ ہزار کلو میٹر تک، ہر قسم کی خرابی کی ذمہ دار کمپنی ہے ....''

''یعنی تم گاڑی کے ساتھ جو مرضی کرو، کمپنی والے اس گارنٹی کے ذریعے سے پابند ہیں کہ تمھاری گاڑی کی ہر خرابی کو ئی قیمت لیے بغیر دور کریں!''

''نہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ دنیا کی ہر اچھی کمپنی ، اپنی ہرچیزوں کی گارنٹی دیتی ہے، لیکن وہ یہ پابندی بھی لگاتی ہے کہ آپ اسے صحیح طریقے اور سلیقے سے استعمال کریں۔ چاہے گاڑی ہو یا گھڑی، ہر جگہ یہی اصول ہوتا ہے۔ مثلاً اگر میں پٹرول والی گاڑی میں ڈیزل ڈلوا لوں تو گاڑی خراب ہو جائے گی اور اس خرابی کی ذمہ دار کمپنی ہر گز نہیں ہو گی ۔ اسی طرح میں گاڑی کے ریڈی ایٹر میں پانی نہ ڈالوں اور گاڑی خراب ہو جائے تو بھی کمپنی ذمہ دار نہ ہو گی!''

فاروقی صاحب مسکرائے اور کہا: '' بس نماز کے معاملے میں بھی یہی بات ہے۔ اللہ کی طرف سے گارنٹی ہے کہ جو نماز پڑھے گا، اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔ اب ایسا شخص بے ایمانی، وعدہ خلافی، چوری، بددیانتی وغیرہ کے ساتھ ساتھ تمام اخلاقی برائیوں سے رک جائے گا۔ کیونکہ وہ اللہ کے حضور جب پورے شعور کے ساتھ جھکے گا اسے کہے گا کہ تو میرا اللہ ہے، میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے فرمان کا پابند ہوں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور آیندہ انھیں نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہوں، تو یہ ممکن نہیں کہ وہ پوری ایمان داری اور اخلاص سے یہ کہہ بھی رہا ہو اور وہ ساری باتیں بھی کر رہا ہو جن کا تم نے اپنے سوال میں ذکر کیا تھا۔ اگر وہ ایسا کر رہا ہے تو وہ دراصل اپنی پٹرول والی گاڑی میں دیزل ڈلوا رہا ہے .... اور دیکھو قرآن نے کس معجزاتی انداز میں یہ بات بیان کی ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اﷲِ اَکْبَرُ وَاﷲُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ. (العنکبوت: ۴۵)

'' بے شک نماز بے حیائی اور منکر سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد (نماز) بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔''

''اللہ تعالیٰ نے یہاں دو لفظوں کا ذکر کیا ہے ۔ ایک 'فحشاء' اور دوسرا 'منکر'۔ 'فحشاء' کا مطلب ہے اخلاقی برائی۔ 'منکر' سے مراد ہر وہ برائی ہے جو لالچ، غفلت، خود غرضی اور اس قسم کی چیزوں سے پیدا ہوتی ہے۔یوں اللہ نے ان دولفظوں میں تمام جرائم چاہے، ان کا تعلق حقوق العباد سے ہو یا حقوق اللہ سے، چاہے اس کا تعلق ریاست سے ہو یا فرد سے، سب کے بارے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ نماز اس سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن قرآن نے یہ نہیں کہا کہ نماز ان سب قسم کی برائیوں سے روک ''دیتی'' ہے ، بلکہ یہ کہا ہے کہ ''روکتی'' ہے۔''

فاروقی صاحب یہ کہہ کر رکے اور چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولے:

'' روکتی'' اور'' روک دیتی''میں یہ فرق ہے کہ جب کوئی نمازی براکام کرنے لگتا ہے تو نماز اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نہیں روکتی بلکہ خبردار کرنے والے کی طرح اس کے ضمیر پر دستک دیتی ہے۔ اسے یہ ضرور یاد دلاتی ہے کہ ابھی تم نے اللہ کی فرماں برداری کا اقرار کیا تھا اور ابھی دوبارہ تم نے یہی اقرار دہرانا ہے، اس لیے یہ نہ کرو تو بہتر ہے۔ یہ ہے نماز کے ''روکنے'' کا اصل مطلب ۔ آیت کے آخری الفاظ پر غور کریں۔ اللہ نے فرمایا کہ ''اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو''۔ یعنی اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم نے نماز کیسے ادا کی ۔ ا س نماز کو، جسے اللہ نے اسی آیت میں ''بہت بڑی چیز'' قرار دیا ہے، شعور کے ساتھ پڑھا ہے یا بھٹکے ہوئے خیالات کے ساتھ ایسے پڑھا ہے جیسے کوئی طوطا رٹے رٹائے جملے ادا کرتا ہے یا کوئی بچہ سمجھے بغیر، الفاظ کا مطلب جانے بغیر، اپنا رٹا ہوا سبق سناتا ہے .... پھر کیا محبت اور توجہ سے پڑھا ہے یا محض سر سے ایک بوجھ اتارا ہے۔ اور نماز کو ٹھیک اس کے طریقے، اس کے مقررہ وقت، اس جذبے کے ساتھ پڑھا ہے جو اللہ کے رسولؐ نے سکھلایا ہے یا وہی کام کیا ہے کہ گاڑی پٹرول پر چلتی تھی لیکن آپ نے ڈیزل ڈلوانے کا کارنامہ انجام دے دیا! یعنی نماز اللہ کے سامنے حضوری کا لمحہ تھا اور آپ نے اسے اپنے آوارہ خیالوں میں ضائع کر دیا۔''

فاروقی صاحب رکے تو یاسر بولا:

''ٹھیک ہے .... بات اب سمجھ میں آ رہی ہے۔ لیکن ابھی بعض الجھنیں باقی ہیں۔ وہ یہ کہ آج کل کی مصروف زندگی میں آدمی کا پانچ وقت کے لیے اٹھنا .... یہ بات کچھ...'' یاسر نے جملہ جان بوجھ کر ادھورا چھوڑ دیا۔

لیکن اس سوال کا جواب فاروقی صاحب کے بجائے اس کی امی نے دیا۔ بولیں: ''یاسر بیٹا، تمھارا یہ سوال غور نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اب خود سوچو، دن میں کام کرنے والے لوگوں کی مصروفیت میں تو صرف دو نمازیں آ سکتی ہیں، ایک ظہر کی اور دوسری عصر کی، اب ان نمازوں کے فرائض ادا کرنے پر زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بیس منٹ خرچ ہوں گے۔ اور پاکستان جیسے مسلمانوں کے ملک میں تو اس وقفے پر کسی کو اعتراض نہیں، غیر مسلم ممالک میں بھی اگر آپ اس وقفے کو کھانے اور چائے کے ساتھ ایڈجسٹ کر لیں تو کوئی مسئلہ نہیں! یہی معاملہ رات کی ڈیوٹی دینے والے لوگوں کے لیے ہے۔ البتہ آپ کو یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ ڈیوٹی کے وقت میں وہ کام نہ کریں جو چچا اسلم کرتا ہے۔ نماز بے شک اہم ، بہت ہی اہم عمل ہے، لیکن یہ آپ کا انفرادی کام ہے۔ بالکل ایسے جیسے کھانا کھانا، سونا وغیرہ آپ کا انفرادی معاملہ ہے۔ یہ ایک مسلمان کی روحانی غذا ہے، لیکن اس سب کے باوجود آپ جیسے سکول میں کلاس کے دوران میں وقت بے وقت کھا نہیں سکتے، اسی طرح آپ کو اگر نفل ادا کرنے ہیں تو اس کے لیے آپ کو اپنے وقت کی قربانی دینی ہو گی، نہ کہ آپ اپنی نیکی کے رعب میں دوسرے کا ٹائم استعمال کریں ....''

یاسر کو اپنی والدہ کے اس جواب میں اپنے ایک اعتراض کا جواب مل گیا تھا۔ لیکن ابھی بھی ایک انتہائی اہم سوال باقی تھا۔ یہ سوال جتنا اہم تھا اتنا ہی مشکل تھا۔ لیکن اس نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔ اس نے کہا:

''ابو، نماز میں توجہ مرکوز نہ ہونے کی ایک وجہ کیا یہ نہیں کہ اس میں کچھ خاص دعائیں اور کلمات ہی ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ بڑی سادہ بات ہے کہ آدمی کی زبان سے رٹے رٹائے جملے ادا ہوتے رہتے ہیں اور اس کا دھیان کہیں اور رہتا ہے۔ آخر اس کا بھی کوئی علاج ہے؟''

فاروقی صاحب نے اس کے سوال کی تعریف کی اور کہا:

''دراصل بات یہ ہے کہ ہم نے نماز میں سہولت کی خاطر چند جملے، چند دعائیں، کچھ خاص سورتیں رٹ لی ہیں، اس سے ہماری نماز ایک روٹین بن گئی ہے، اس کے بجائے اگر ہم مختلف دعائیں، مختلف کلمات، قرآن کی دوسری سورتیں اور سورتوں کے حصے پڑھیں تو ہماری نماز ایک زندہ نماز ہو گی۔ مثلاً ہم الحمد للہ سے پہلے ثنا میں ایک خاص دعا کے بجائے ان تمام دعاؤں کو مختلف نمازوں میں پڑھیں ، جو صحیح روایتوں میں آئی ہیں۔ ہر رکعت میں ایک خاص سورہ کے بجائے قرآن کی دوسری سورتیں پڑھیں، رکوع، قعدے، جلسے میں مختلف دعاؤں اور وظائف پڑھنے کا اہتمام کریں جو حدیث کی کتابوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہوئی ہیں اور نماز کے آخر میں ایک دعا کے بجائے اپنی زبان سمیت عربی میں بھی ڈھیروں دعائیں مانگیں تو ہماری نماز سے وہ سارے فوائد حاصل ہونے کی سو فیصد امید پیدا ہو جائے گی جو اللہ نے اس مثالی عبادت میں رکھے ہیں۔''

''لیکن ابو، ہمیں تو نماز میں بس ایک دعا اور سجدوں وغیرہ میں کچھ خاص تسبیحات ہی سکھائی جاتی ہیں۔''

اس دفعہ فضہ نے سوال کیا تھا۔ فاروقی صاحب نے کہا: ''نہیں بیٹے، ایسا اس لیے ہے کہ ہمیں سہولت رہے، اصل میں ہم عربی زبان سے ناواقف ہیں، اس لیے علما نے ہماری سہولت کے لیے ہمیں چھوٹی چھوٹی سورتیں، دعائیں اور تسبیحات سکھائی ہیں۔ ورنہ بہت سی دعائیں ہیں جو آپ پڑھ سکتے ہیں اور ان کے پڑھنے میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔''

''یعنی آپ کا مطلب ہے کہ نماز میں کوئی خاص (Fixed) کلمات نہیں، بلکہ بہت سارے کلمات اور تسبیحات ہیں جنھیں آپ پڑھ سکتے ہیں!'' فضہ نے مزید وضاحت چاہی۔

''نہیں، نماز میں بعض کلمات واقعی طے ہیں،متعین (Fixed) ہیں۔ ان کے بغیر نماز ادھوری اور ناقص ہو گی۔ مثلاً آپ تکبیر تحریمہ میں ''اللہ اکبر'' ہی کہیں گے، قیام یعنی کھڑے ہونے کی حالت میں سورۂ فاتحہ ضرور پڑھیں گے، قرآن کا کچھ حصہ پڑھنا بھی فرض ہے، رکوع سے اٹھتے ہوئے 'سمع اللّٰہ لمن حمدہ' کہیں گے۔ سجدوں میں جاتے اور ان سے اٹھتے ہوئے اللہ اکبر کہیں گے۔ قعدے سے قیام کے لیے اٹھتے ہوئے بھی اللہ اکبر کہا جائے گا اور نماز ختم کرنے کے لیے ''السلام علیکم ورحمۃ اللہ' کہا جائے گا۔ یہ نماز کے لیے شریعت کے مقرر کردہ کلماتہیں۔ ان کی زبان عربی ہے۔ ان کے علاوہ نماز پڑھنے والا جس زبان میں چاہے تسبیح و تحمید اور دعا و مناجات کی نوعیت کا کوئی بھی ذکر اپنی نماز میں کر سکتا ہے۔

''اور ابو اس سوال کا جواب بھی ضروردیں کہ آخر نماز کے لیے وضو کرنا کیوں ضروری ہے ؟''

'' بھئی سادہ سی بات ہے، ہم نے اگر کسی اہم اور بڑی شخصیت سے ملنا ہو تو کیا گندے مندے کپڑے پہن کر چلے جائیں گے ، تیار نہیں ہوں گے؟ اور نماز میں تو ہم اس کائنات کے مالک ،جس سے بڑا کوئی نہیں، اس کے سامنے حاضر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ ادب کا تقاضا ہے کہ خوب صاف ستھرے اور پاک صاف ہو کے نماز پڑھیں ۔ کیا خیال ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے؟''

مثال اتنی اچھی تھی سب کی سمجھ فوراً بات آگئی۔البتہ ایک الجھن یاسر کے ذہن میں باقی تھی ۔ بولا:

''لیکن ابو اس کے لیے وضو کی شرط کیوں رکھی؟ کیا اس کے بغیر آدمی پاک صاف نہیں ہو سکتا؟''

'' ہو سکتا ہے ،لیکن ایک شخص کہہ سکتا تھا کہ میں تو نہا کر ہی پاس صاف ہو سکتا ہوں، دوسرا کہتا نہیں ،نہیں منہ دھونا ہی کافی ہے،تیسرا کہتا،پاؤں دھونے کی کیا ضرورت ہے؟ یوں لوگوں میں اختلاف ہو سکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں خود بتا دیا کہ جب تم میری نماز پڑھو تو بس وضو کر لیا کرو۔ یہ طریقہ پاک صاف ہو نے کے کے لیے کافی ہے ۔ اس سے ہمیں نماز کی اہمیت کا بھی علم ہوتا ہے اور اس بات کا بھی کہ اللہ کے نزدیک صفائی اور پاکی کی کتنی اہمیت ہے۔ ''

فاروقی صاحب خاموش ہوئے تو یاسریا اس کے بھائی بہنوں کے ذہن اب کوئی سوال نہیں رہا تھا۔ یاسر توپچھتا رہا تھا کہ وہ اب تک نماز کی برکتوں سے محروم کیوں رہا ہے۔

____________




Articles by this author