حالت احرام میں مرنے والے کے لیے احکام

حالت احرام میں مرنے والے کے لیے احکام


عن بن عَبَّاسٍ رضي الله عَنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مع النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوهو مُحْرِمٌ فقال النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍوَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ في ثَوْبَيْنِ ولا تُمِسُّوهُ طِيبًا ولا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فإن اللَّهَ يَبْعَثُهُ يوم الْقِيَامَةِمُلَبِّيًا. (بخارى، رقم 1267)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ (ہم ميں سے) ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی،تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور دو کپڑوں کا کفن دو ليكن نہ خوشبو لگاؤ اور نہ اس كا سر ڈھانکو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس حالت میں اٹھائے گا کہ يہ لبیك لبیک پکارتا ہو گا۔

عن بن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ رَجُلٌ من بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ فقال اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ في ثَوْبَيْهِ ولا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فإن اللَّهَ يَبْعَثُهُ يوم الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا. (مسلم، رقم 2891)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کے بارے میں کہ جو اپنے اونٹ سے گرا اور مر گیا تها ،يہ فرمایا:اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو، اس کے سر کو نہ ڈھانپو، کیونکہ اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے گا۔

________




Articles by this author