حالت احرام میں سر دھونا

حالت احرام میں سر دھونا


عن عبد اللَّهِ بن حُنَيْنٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بن الْعَبَّاسِ وَالْمِسْوَرَ بن مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ فقال عبد اللَّهِ بن عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وقال الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي عبد اللَّهِ بن الْعَبَّاسِ إلى أبي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بين الْقَرْنَيْنِ وهو يُسْتَرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عليه فقال من هذا فقلت أنا عبد اللَّهِ بن حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عبد اللَّهِ بن الْعَبَّاسِ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كان رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وهو مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أبو أَيُّوبَ يَدَهُ على الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حتى بَدَا لي رَأْسُهُ ثُمَّ قال لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عليه اصْبُبْ فَصَبَّ على رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ وقال هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ. (بخارى، رقم 1840)

حضرت عبداللہ بن حنین سے روايت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا ابوا ءكے مقام پر (ایک مسئلہ ميں) اختلاف ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے کہ محرم اپنا سر دھوئے گا اور مسور کہتے کہ نہیں دھوئے گا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے (عبداللہ بن حنین كو) ابوایوب رضی اللہ عنہ کے یہاں (وه مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کے بیچ غسل کر رہے تھے، ایک کپڑے سے انهوں نے پردہ کر رکھا تھا، میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انهوں نے دریافت كيا کہ کون ہے؟ میں نے كہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجهے آپ کی خدمت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا ہے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر کس طرح دھوتے تھے،یہ سن کر انهوں نے پردے پر ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کیا، اب آپ کا سر دکھائی دے رہا تھا، پهر پانى ڈالنے والےسے پانى ڈالنے كو كہا، اس نے ان کے سر پر پانی ڈالاتو انهوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے اور كہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (احرام کی حالت میں)اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

عن عبد اللَّهِ بن حُنَيْنٍ أن عبد اللَّهِ بن عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بن مَخْرَمَةَ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ فقال عبد اللَّهِ بن عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وقال الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي بن عَبَّاسٍ إلى أبي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عن ذلك فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بين الْقَرْنَيْنِ وهو يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ قال فَسَلَّمْتُ عليه فقال من هذا فقلت أنا عبد اللَّهِ بن حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عبد اللَّهِ بن عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كان رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وهو مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أبو أَيُّوبَ رضي الله عنه يَدَهُ على الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حتى بَدَا لي رَأْسُهُ ثُمَّ قال لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ اصْبُبْ فَصَبَّ على رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قال هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ. (مسلم، رقم 2889)

حضرت عبداللہ بن حنین سے روايت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا ابواء كے مقام پر (ایک مسئلہ ميں) اختلاف ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے کہ محرم سر دھوئے گا اور مسور کہتے کہ نہیں دھوئے گا۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے (عبداللہ بن حنینكو)ابوایوب رضی اللہ عنہ کے یہاں (وه مسئلہ پوچھنے کے لیے)بھیجا۔ میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کے بیچ غسل کر رہے تھے، ایک کپڑے سے انهوں نے پردہ کر رکھا تھا میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انهوں نے دریافت كيا کہ کون ہے؟ میں نے كہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں،مجهے آپ کی خدمت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا ہے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟یہ سن کر انهوں نے پردے پر ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کیا، اب آپ کا سر دکھائی دے رہا تھا، پهر پانى ڈالنے والےسےپانى ڈالنے كو كہا،اس نے ان کے سر پر پانی ڈالاتو انهوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے اور كہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (احرام کی حالت میں)اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

________




Articles by this author