حالت احرام میں شکار کے گوشت کا حکم

حالت احرام میں شکار کے گوشت کا حکم


عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجُوا معه فَصَرَفَ طَائِفَةً منهم فِيهِمْ أبو قَتَادَةَ فقال خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حتى نَلْتَقِيَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فلما انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كلهم إلا أبا قَتَادَةَ لم يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ أبو قَتَادَةَ على الْحُمُرِ فَعَقَرَ منها أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا من لَحْمِهَا وَقَالُوا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا ما بَقِيَ من لَحْمِ الْأَتَانِ فلما أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالوا يا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كنا أَحْرَمْنَا وقد كان أبو قَتَادَةَ لم يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عليها أبو قَتَادَةَ فَعَقَرَ منها أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا من لَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا ما بَقِيَ من لَحْمِهَا قال أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عليها أو أَشَارَ إِلَيْهَا قالوا لَا قال فَكُلُوا ما بَقِيَ من لَحْمِهَا. (بخارى، رقم 1824)

حضرت ابوقتادہ (رضى الله عنہ) سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج کا) ارادہ کر کے نکلے۔ صحابہ (رضوان اللہ علیہم) بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ان میں ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ) بھی تھے یہ ہدایت دے کر (راستے سے واپس) بھیجا کہ تم لوگ سمندر کے کنارے کنارے ہو کر جاؤ، (اور دشمن کا پتا لگاؤ)پھر ہم سے آ ملو۔ چنانچہ یہ جماعت سمندر کے کنارے کنارے چلی، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا، لیکن ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ)نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ یہ قافلہ چل رہا تھا کہ کئی گورخر دکھائی دیے، ابوقتادہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کر لیا، پھر ایک جگہ ٹھہر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ہی ان كےذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت بھی کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا، وہ ہم ساتھ لائے۔ پهر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی: یا رسول اللہ،ہم سب لوگ تو محرم تھے، لیکن ا بوقتادہ (رضی اللہ عنہ) نے احرام نہیں باندھا تھا پھر ہم نے گورخر دیکھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا، اس کے بعد ایک جگہ ہم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا، پھر خیال آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ اس لیے جو کچھ گوشت باقی بچا ہے، وہ ہم ساتھ لائے ہیں۔ آپ نے پوچھا :کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ) کو شکار کرنے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔

عن أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه قال خَرَجَ رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا معه قال فَصَرَفَ من أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أبو قَتَادَةَ فقال خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حتى تَلْقَوْنِي قال فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فلما انْصَرَفُوا قِبَلَ رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كلهم إلا أَبَا قَتَادَةَ فإنه لم يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عليها أبو قَتَادَةَ فَعَقَرَ منها أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا من لَحْمِهَا قال فَقَالُوا أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ قال فَحَمَلُوا ما بَقِيَ من لَحْمِ الْأَتَانِ فلما أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالوا يا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كنا أَحْرَمْنَا وكان أبو قَتَادَةَ لم يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عليها أبو قَتَادَةَ فَعَقَرَ منها أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا من لَحْمِهَا فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا ما بَقِيَ من لَحْمِهَا فقال هل مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أو أَشَارَ إليه بِشَيْءٍ قال قالوا لَا قال فَكُلُوا ما بَقِيَ من لَحْمِهَا. (مسلم، رقم 2855)

حضرت ابو قتادہ رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کرنے کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تهے۔آپ نے اپنے بعض صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو ایک طرف پھیر دیا ،ابوقتادہ رضى الله عنہ بھی انھی میں تھے۔آپ نے انهيں حكم ديا کہ تم سمندر کے ساحل پر چلو،یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔ راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سمندر کے ساحل پر چلے، پهر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑے تو ابو قتاده كے سوا باقى سب نے احرام باندھ لیے،اسی دوران ميں جبكہ وه چل رہے تھے، انهوں نے گورخر دیکھے، ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ) نے ان پر حملہ کر کے ایک ماده گور خر کی کونچیں کاٹ دیں، پھر وہ سب اترے اور انهوں نے اس گوشت سے کھایا،ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ ہم نے گوشت تو کھا لیا ہے، حالاں کہ ہم احرام میں ہیں ، ابوقتادہ کہتے ہیں کہ انھوں نے بچا ہوا گوشت ساتھ رکھ لیا، پهر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول،ہم احرام کی حالت میں تھے اور ابوقتادہ احرام میں نہیں تھے، ہم نے جنگلی گدھے دیکھے تو ابوقتادہ (رضی اللہ عنہ) نے ان پر حملہ کردیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ دیں ،پھر ہم اترے اور ہم نے اس كےگوشت ميں سے کھایا ،پھر ہم نے سوچا کہ ہم تو شکار کا گوشت کھا بیٹھے ہیں، حالاں کہ ہم احرام میں ہیں ۔چنانچہ شکار کا بچا ہوا گوشت ہم نے ساتھ اٹھا لیا ،يہ سن كر آپ نے فرمایا :کیا تم میں سے کسی کا شکار کا ارادہ تھا یا شکار کی طرف کسی نے کسی چیز کے ساتھ اشارہ کیا تها؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں۔آپ نے فرمایا :پهر شکار كا بچا ہوا گوشت بھی تم کھا لو۔

________




Articles by this author