حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے

حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے


عن عَائِشَةَ قالت سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن الْجَدْرِ أَمِنْ الْبَيْتِ هو قال نعم قلت فَلِمَ لم يُدْخِلُوهُ في الْبَيْتِ قال إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قلت فما شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قال فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا من شاؤوا وَيَمْنَعُوا من شاؤوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ في الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ في الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ. (مسلم، رقم 3249)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روايت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں،پھر میں نے پوچھا کہ لوگوں نے اسے کعبے میں شامل کیوں نہیں کیا؟ آپ نے جواب دیا کہ تمھاری قوم کے پاس خرچ کی کمی پڑ گئی تھی، پھر میں نے پوچھا کہ یہ دروازہ کیوں اونچا بنایاہے؟ آپ نے فرمایا:یہ بھی تمھاری قوم ہی نے کیا ہےتاکہ وه جسے چاہیں اندر آنے دیں او رجسے چاہیں روک دیں۔اگر تمھاری قوم نےجاہلیت كو نيا نيا نہ چهوڑا ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل بگڑ جائیں گے تو ميں اس حطیم کو بھی کعبہ میں شامل کر دیتا اور کعبہ کا دروازہ بهى زمین کے برابر کر دیتا۔

عن عَطَاءٍ قال لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بن مُعَاوِيَةَ حين غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ فَكَانَ من أَمْرِهِ ما كان تَرَكَهُ بن الزُّبَيْرِ حتى قَدِمَ الناس الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أو يحر بهم على أَهْلِ الشَّامِ فلما صَدَرَ الناس قال يا أَيُّهَا الناس أَشِيرُوا عَلَيَّ في الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ثُمَّ ابني بِنَاءَهَا أو أُصْلِحُ ما وهي منها قال بن عَبَّاسٍ فَإِنِّي قد فُرِقَ لي رَأْيٌ فيها أَرَى ان تُصْلِحَ ما وَهَى منها وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ الناس عليه وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ الناس عليها وَبُعِثَ عليها النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال بن الزُّبَيْرِ لو كان أحدكم احْتَرَقَ بَيْتُهُ ما رضي حتى يُجِدَّهُ فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ إني مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا ثُمَّ عَازِمٌ على أَمْرِي فلما مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ على أَنْ يَنْقُضَهَا فَتَحَامَاهُ الناس أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ الناس يَصْعَدُ فيه أَمْرٌ من السَّمَاءِ حتى صَعِدَهُ رَجُلٌ فَأَلْقَى منه حِجَارَةً فلما لم يَرَهُ الناس أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حتى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ فَجَعَلَ بن الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عليها السُّتُورَ حتى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ وقال بن الزُّبَيْرِ إني سمعت عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال لَوْلَا أَنَّ الناس حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عِنْدِي من النَّفَقَةِ ما يقوى على بِنَائِهِ لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فيه من الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ وَلَجَعَلْتُ لها بَابًا يَدْخُلُ الناس منه وَبَابًا يَخْرُجُونَ منه قال فانا الْيَوْمَ أَجِدُ ما أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ الناس قال فَزَادَ فيه خَمْسَ أَذْرُعٍ من الْحِجْرِ حتى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ الناس إليه فَبَنَى عليه الْبِنَاءَ ---وَجَعَلَ له بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ منه وَالْآخَرُ يُخْرَجُ منه فلما قُتِلَ بن الزُّبَيْرِ كَتَبَ الْحَجَّاجُ إلى عبد الْمَلِكِ بن مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ بن الزُّبَيْرِ قد وَضَعَ الْبِنَاءَ على أُسٍّ نَظَرَ إليه الْعُدُولُ من أَهْلِ مَكَّةَ فَكَتَبَ إليه عبد الْمَلِكِ أنا لَسْنَا من تَلْطِيخِ بن الزُّبَيْرِ في شَيْءٍ أَمَّا ما زَادَ في طُولِهِ فَأَقِرَّهُ وَأَمَّا ما زَادَ فيه من الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إلى بِنَائِهِ وَسُدَّ الْبَابَ الذي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إلى بِنَائِهِ. (مسلم، رقم 3245)

حضرت عطاء سے روایت ہے کہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جس وقت شام والوں نے مکہ والوں سے جنگ کی اور بیت اللہ جل گیا اور اس کے نتیجے میں جو ہونا تھا، وہ ہوگیا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو اسی حال میں چھوڑ دیا تاکہ حج کے زمانے میں لوگ آئیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو شام والوں کے خلاف ابھاریں اور انهیں برانگیختہ کریں، چنانچہ جب وہ لوگ واپس ہونے لگے تو زبیر رضى الله عنہ نے كہا:اے لوگو، مجھے بيت اللہ کے بارے میں مشورہ دو، میں اسے توڑ کر دوبارہ بناؤں یا اس کی مرمت وغیرہ ہى کروا دوں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ كہنےلگے کہ میری راے یہ ہے کہ اس کا جو حصہ خراب ہوگیاہے، اس کو درست کروا لیا جائے، باقی بیت اللہ کو اسی طرح رہنے دیا جائے جس طرح کہ لوگوں کے زمانہ میں تھا اور انهی پتھروں کو باقی رہنے ديا جائے جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ كہنےلگے کہ اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ اس وقت تك خوش نہیں ہوگا، جب تک کہ اسے نیا نہ بنالے ،تو اپنے رب كا گھر نيا کیوں نہ بنایا جائے؟ میں تین مرتبہ استخارہ کروں گا ،پھر اس کام پر پختہ عزم کروں گا۔ جب انهوں نے تین مرتبہ استخارہ کرلیا تو انهوں نے اسے توڑنے کا ارادہ کیا، تب لوگوں کو يہ خطرہ پیدا ہوا کہ جو آدمی سب سے پہلے بیت اللہ کو توڑنے کے لیے اس پر چڑھے گا تو اس پر آسمان سے کوئی بلا ہى نازل نہ ہو جائے۔بہرحال، ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس نے اس میں سے ایک پتھر گرایا تو جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو سب نے مل کو اسےتوڑ ڈالا، یہاں تک کہ اسے زمین کے برابر کردیا۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند ستون کھڑے کر کے اس پر پر دے ڈال دیے۔ یہاں تک کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں۔ابن زبیر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضى الله عنہا کو يہ كہتے ہوئے سنا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر لوگوں نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا اور میرے پاس اس کی تعمیر کا خرچہ بھی ہوتاتو میں اسے دوبارہ بناتا، اور حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں داخل کر دیتا اور اس میں ایک ايسا دروازہ بناتاجس سے لوگ باہر نکلیں۔ابن زبیر رضی اللہ عنہ نےكہا کہ آج میرے پاس اس کا خرچہ بھی موجود ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے۔راوی بتاتےہیں:چنانچہ ابن زبیر نے حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں زیادہ کی تو اس جگہ سے اس كى ابراہيمى بنياد ظاہر ہوئى جسے لوگوں نے بهى ديكها،ابن زبیرنے اس بنیاد پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی ... اور اس کے دو دروازے بنائے تا کہ ایک دروازے سے لوگ داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکليں۔پهر جب زبیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو حجاج نے جواباً عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دی اور لکھا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبۃ اللہ کی جو تعمیر کی ہے وہ ان بنیادوں کے مطابق ہے جنھیں مکہ کے باعتماد لوگوں نے دیکھا ہے، ليكن عبدالملک نے جواباً حجاج کو لکھا کہ ہمیں ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد وبدل سے کوئی غرض نہیں، انهوں نے طول میں جو اضافہ کیا ہے اور حطیم سے جو زائد جگہ بیت اللہ میں داخل کی ہے، اسے واپس نکال دو اور اسے پہلی طرح دوبارہ بنا دو اور جو دروازہ انهوں نے کھولا ہے اسے بھی بند کر دو۔ چنانچہ پھر حجاج نے بیت اللہ کو گرا کر اسے دوبارہ پہلے کی طرح بنا دیا۔

________




Articles by this author