ہر کرسی پر فرعون بیٹھا ہے

ہر کرسی پر فرعون بیٹھا ہے


ہمارے ملک میں عرصے سے کرپشن کا شور ہے۔ بالخصوص سیاست دان اور اعلیٰ فوجی اور سول افسران اس حوالے سے کافی بدنام ہیں۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ ایسے نہیں ہوں گے۔ ان میں یقیناً ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو ہراعتبار سے کرپٹ اور بے ایمان ہیں۔ انہوں نے ملک و قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ کچھ نے اس صفائی سے لوٹا کہ کوئی نشان تک نہیں چھوڑا اور کچھ نے اس دھڑلے سے لوٹا کہ بڑے بڑے بے ایمانوں نے کانوں کو ہاتھ لگالیے۔ آج ہم معاشی انحطاط کی جن حدوں کو چھورہے ہیں اس میں ان لوگوں کے جرائم کا بڑا عمل دخل ہے۔

تاہم یہ کہنا کہ پوری قوم آج صرف ان لوگوں کی بد اعمالیوں کو بھگت رہی ہے ، صحیح نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ یہاں جس کرسی پر جو شخص بیٹھا ہے اپنی جگہ وقت پڑنے پر ایک فرعون ثابت ہوتا ہے۔ یہ صرف کسی اعلیٰ افسر کی بات نہیں ، ہمارے ہاں ایک کلرک ، ایک کانسٹیبل ، ایک ٹھیلہ لگانے والا بھی درحقیقت وہی سب کچھ کررہا ہے جس کی وجہ سے اعلیٰ عہدے دار بدنام ہیں۔ کرپشن ،بددیانتی اور اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی جتنی بڑے لوگ کرتے ہیں۔ اتنی ہی وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو عوام الناس میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔

اس بات کی ضرورت نہیں کہ اس بات کو مثالوں اور دلیلوں سے واضح کیا جائے ۔ ہم میں سے ہر شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے اور دن رات ایسے تجربات سے گذرتا ہے جب اسے اس طرح کا عام آدمی ستاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جو جس جگہ صاحب اختیار ہے ، وہ اس جگہ خود کو حاکم مطلق سمجھتا ہے۔ اپنے فرائض ایمان داری سے ادا نہیں کرتا اور حرام کھاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عام لوگوں کا واسطہ زیادہ تر اپنے ہی جیسے عام لوگوں سے پڑتا ہے اور وہ انہی کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں ۔ ہوتا صرف یہ ہے کہ ایک آدمی جو اپنے اختیار سے باہر کی جگہ پر مظلوم ہوتا ہے، اپنے اختیار کے دائرے میں ظالم بن جاتا ہے۔ ایک کلرک ظالم اور خائن بن کر رشوت لیتا ہے اور پھر مظلوم بن کر یہ مال اس بددیانت تاجر کو دے آتا ہے جو جھوٹ بول کر سستی چیز اسے مہنگے داموں بیچ دیتا ہے۔ پھر یہ مظلوم تاجر حرام منافع کی رقم اس ظالم حکومتی عہدے دار کو دے دیتا ہے جو اس سے رشوت طلب کرتا ہے۔ اس طرح ایک چکر چل رہا ہے، جس میں سب ایک دوسرے کو تنگ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے تنگ بھی ہوتے ہیں۔ اس نہ ختم ہونے والے چکر میں سب پریشان ہیں اور سب ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔

اس چکر کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے دوسروں کی بے ایمانی کو اپنی بے ایمانی کا جواز بنالیا ہے۔ عام لوگوں میں یہ ذہن خود پیدا نہیں ہوا ، اس ذہن کو پیدا کرنے والے ہمارے وہ قائدین ہیں جو ملت کو لاحق ہر مسئلے کا سبب اسلام دشمنوں کی سازشوں کوقرار دیتے ہیں۔ وہ سیاسی لیڈر ہیں جو ملک کو درپیش ہر پریشانی کا ذمہ دار مخالف سیاست دانوں کو ٹھیراتے ہیں۔ وہ اخباری دانشور ہیں جو قوم کے ہر مرض کی وجہ فوج ، سیاستدان اور افسر شاہی کو قرار دیتے ہیں۔ وہ علما ہیں جو ہر برائی کے پیچھے مقتدر قوتوں کا ہاتھ دیکھتے اور لوگوں کو دکھاتے ہیں۔

جب ہر طرف سے یہی آواز اٹھ رہی ہو کہ ساری خرابی بس دوسروں میں ہے اور اصلاح بھی انہی کی ہونی چاہےئے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ باتیں جن لوگوں کو سنائی جارہی ہیں ان میں اپنی اصلاح کا کوئی احساس پیدا ہو۔ الزام تراشی کا یہ طریقہ کار چونکہ اصلاً غلط ہے، اس لیے اس سے حالات سدھرنے کے بجائے بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں عوام الناس جن کی آنکھوں پر صرف دوسروں کی برائیاں دیکھنے والا چشمہ لگا ہوتا ہے، انہیں عذر بناکر خود بھی برائی کا ارتکاب کرنا شروع کردیتے ہیں اور پھر وہ نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہوجاتا ہے۔

بات یہیں پر نہیں رکتی بلکہ قومی زندگی کی ہر ناکامی کی ذمہ داری بھی دوسری اقوام پر ڈالنا ہمارے وطیرہ بن گیا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ دشمن ہمارا برا نہیں چاہتا۔ بلکہ ہم قرآن کے اس ارشاد کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اگر تم صبر کروگے اور خدا سے ڈروگے تو دشمنوں کی کوئی چال تمہارے خلاف کارگر نہ ہوگی(اٰلِ عمران: ۱۲۰)۔ لہٰذا دشمنوں کی سازش کا اعلان کرنا ہمارا کام نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا کام صبر اور تقویٰ ہے۔ مگر یہ دونوں کام چونکہ بہت مشکل ہیں اس لیے ہم دشمنوں کو برا بھلا کہنے کے زیادہ آسان کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمارے حالات اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب تک ہم لوگوں کی آنکھوں سے یہ چشمہ نہیں اتاریں گے۔ اس سلسلے میں تین کام کرنے کے ہیں۔ اول ان لوگوں کی غلطی کو واضح کیا جائے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہر بگاڑ کا الزام دوسروں پر رکھنے سے حالات میں کوئی بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔ دوم یہ چیز بار بار واضح کی جائے کہ دوسرے کی برائی ہماری برائی کا جواز کبھی نہیں بن سکتی ۔ یہ چیز ہماری آخرت بھی تباہ کرے گی اور دنیا بھی ۔ تیسرے یہ واضح کیا جائے کہ برائی کے اس ماحول میں جو شخص برائی سے بچ گیا اسے عام حالات کے مقابلے میں خدا نہ صرف بہت زیادہ اجر دے گا بلکہ اس کی دیگر خطاؤں پر بھی درگذر سے کام لے گا۔ ہمارے لیے یہی راہِ عمل ہے اور یہی راہِ نجات۔

________




Articles by this author