ارتداد کی سزا (حصہ دوم)

ارتداد کی سزا (حصہ دوم)


خود مرتد کے لیے سزاے موت کے لازم ہونے کے بجاے کسی متبادل سزا کا امکان تسلیم کرنے کا رجحان، بہت محدود دائرے میں سہی، صدر اول کے اہل علم کے ہاں دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ کتب فقہ میں ایک گروہ کی، جن میں ابراہیم نخعی شامل ہیں، یہ راے نقل ہوئی ہے کہ مرتد کو کسی مخصوص مدت تک نہیں، بلکہ مدت العمر توبہ کا موقع دیا جائے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے۔ ۳۴؂ابراہیم نخعی کی اس راے کو غالباً مخالف راے کے عمومی شیوع کے تناظر میں محض ان کا تفرد قرار دے کر زیادہ غور وفکر کا مستحق نہیں سمجھا گیا اور اسی وجہ سے فقہی لٹریچر میں اس موقف کی بحث و تمحیص کے حوالے سے زیادہ علمی مواد نہیں پایا جاتا، تاہم ہمارے خیال میں یہ راے محض ابراہیم نخعی کا تفرد نہیں ہے، بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے بلند مرتبت فقیہ کے ہاں بھی یہ رجحان دکھائی دیتا ہے اور کم از کم ان جیسی شخصیت کی طرف نسبت کے ناتے سے یہ راے ہر لحاظ سے توجہ اور اعتنا کی مستحق ہے۔

انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب تستر فتح ہوا تو ابو موسیٰ اشعری نے مجھے سیدنا عمر کے پاس بھیجا۔ میں پہنچا تو سیدنا عمر نے مجھ سے دریافت کیا کہ جحیفہ اور اس کے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ یہ بنو بکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے جو مرتد ہو کر کفار کے ساتھ جا ملے تھے۔ انس کہتے ہیں کہ سیدنا عمر نے بڑی کرید کرتے ہوئے ان افراد کے بارے میں پوچھا، لیکن میں نے تین مرتبہ ان کی توجہ اس موضوع سے ہٹانے کے لیے کوئی دوسری بات چھیڑ دی۔ آخر ان کے اصرار پر میں نے بتایا کہ انھیں گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس پر سیدنا عمر نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ انس نے کہا کہ یہ لوگ جو مرتد ہوکر کفار کے ساتھ جا ملے تھے، کیا ان کے لیے قتل کے علاوہ کوئی اور صورت بھی ممکن تھی؟ سیدنا عمر نے کہا کہ ہاں، میں انھیں اسلام کی طرف واپس آنے کی دعوت دیتا اور اگر وہ انکار کرتے تو انھیں قید میں ڈال دیتا۔ ۳۵؂

روایت سے واضح ہے کہ سیدنا عمر اس راے کے حق میں عمومی رجحان رکھتے تھے اور انس بن مالک بھی اس سے پیشگی واقف تھے۔ چنانچہ انھوں نے پہلے اس موضوع پر گفتگو کو ٹالنے اور پھر ابوموسیٰ اشعری کے اقدام کا دفاع کرنے کی کوشش کی جس پر سیدنا عمر نے اپنی مذکورہ راے ظاہر کی۔ ابن حزم نے نقل کیا ہے کہ فقہا کا ایک گروہ مرتد کو قتل کرنے کے بجاے مدت العمر توبہ کا موقع دینے کا قائل رہا ہے اور انھوں نے اس گروہ کے مستدل کے طور پر سیدنا عمر کے مذکورہ واقعے ہی کا حوالہ دیا ہے۔ ۳۶؂

ابن عبد البر نے سیدنا عمر کی اس راے کو جمہور فقہا کے موقف پر محمول کرتے ہوئے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر وہ قید میں ڈالنے کے بعد بھی اسلام قبول نہ کرتے تو سیدنا عمر انھیں قتل کر دیتے، تاہم اس کے لیے انھوں نے کلام سے کوئی داخلی قرینہ پیش نہیں کیا، بلکہ یہ کہا ہے کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتد کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے سیدنا عمر اس سے مختلف کوئی بات نہیں کہہ سکتے، ۳۷؂حالانکہ ازروے علت سیدنا عمر کی یہ راے ارشاد نبوی کے خلاف نہیں۔ اگرچہ روایت میں ان کی اس راے کا استدلال نقل نہیں ہوا، لیکن یہ قیاس کرنا غالباً غلط نہیں ہوگا کہ وہ مرتد کے دل میں اسلام کی حقانیت کے حوالے سے واقعی شکوک وشبہات کا امکان تسلیم کرتے ہوئے اتمام حجت کے پہلو سے اس کو قتل کی سزا دینے میں تردد محسوس کرتے اور اس کے بجاے اسے مدت العمر توبہ کا موقع دینے کو شریعت کے منشا کے زیادہ قریب تصور کرتے ہیں۔

بعض روایات اور آثار میں مرتد ہونے والی عورت کو قتل کے حکم سے مستثنیٰ قرار دینے کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو من جملہ دوسرے احکامات کے یہ حکم بھی دیا کہ اگر کوئی عورت اسلام سے پھر جائے تو اسے اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ توبہ کرلے تو قبول کرلو اور اگر انکار کردے تو اس سے جبراً توبہ کراؤ۔ ۳۸؂اسی طرح ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مرتد ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل نہیں کیا۔ ۳۹؂

ایک روایت کے مطابق سیدنا علی کے زمانے میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو حضرت علی نے ان میں سے بالغ مردوں کو قتل کر دیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ ۴۰؂عبداللہ ابن عباس کا فتویٰ یہ نقل ہوا ہے کہ اگر عورتیں اسلام سے مرتد ہوجائیں تو انھیں قتل نہیں کیاجائے گا، بلکہ انھیں محبوس کر کے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ۴۱؂فقہاے تابعین میں سے زہری، ابراہیم نخعی، قتادہ، عطاء، حسن بصری، خلاس اور عمر بن عبد العزیز سے مرتد ہونے والی عورت کو قتل کرنے کے بجاے قید کرنے یا لونڈی بنا لینے جیسی متبادل سزائیں دینا مروی ہے۔ ۴۲؂اس کے برعکس بعض دیگر روایات میں مرتد ہونے والی عورتوں کو قتل کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ۴۳؂

ہمارے نزدیک اگر ارتداد کی سزا کو اتمام حجت کے نکتے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو خواتین پر اس سزا کو نافذ کرنے اور انھیں اس سے مستثنیٰ قرار دینے کے دونوں طریقے قابل فہم ہو جاتے ہیں۔ قتل چونکہ کسی بھی جرم کی آخری سزا ہوتی ہے جس کے بعد اصلاح یا توبہ کا کوئی موقع باقی نہیں رہ جاتا، اس لیے کوئی فرد اگر کسی بھی درجے میں رعایت کا مستحق ہو تو اس پر یہ سزا نافذ کرنے کے بجاے کوئی متبادل سزا تجویز کرنا اور توبہ واصلاح کے دروازے کو اس کے لیے کھلا رکھنا ایک قابل فہم اور معقول بات ہے۔ خواتین کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ انسانی تاریخ میں بالعموم انھیں مردوں اور بالخصوص اپنے خاندان کے مردوں کے رجحانات اور اثرات سے آزاد ہو کر اپنی عقل وفہم اور صواب دید کے مطابق خود کوئی فیصلہ کرنے کے مواقع حاصل نہیں رہے اور مذہبی، معاشرتی اور سیاسی معاملات میں انھیں مردوں ہی کے تابع سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی مقتضی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد انکار حق کے معاملے میں انھیں مردوں کے ساتھ یکساں درجے کا مجرم نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے زیادہ احتیاط ملحوظ رکھی جائے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اتمام حجت کے تحقق کا اطمینان حاصل ہونے کی صورت میں خواتین کو قتل کرنے، جبکہ اس میں شک وشبہ پائے جانے کی صورت میں کوئی متبادل سزا نافذ کرنے کے دونوں طریقے درست قرار پاتے ہیں۔

جب صدر اول میں مختلف گروہوں کے حوالے سے اتمام حجت کی کیفیت میں تفاوت محسوس کیا جا رہا تھا تو ظاہر ہے کہ بعد کے زمانوں میں لازمی طور پر اس میں مزید تغیر رونما ہوا۔ چنانچہ امام غزالی نے پانچویں صدی میں یہ راے ظاہر کی تھی کہ غیر مسلموں کا ایک گروہ تو یقیناًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی حقانیت سے پوری طرح واقف ہے اور اس کے انکار کے نتیجے میں خدا کے عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، لیکن وہ غیر مسلم جنھوں نے سرے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی نہیں سنا یا نام تو سنا ہے، لیکن آپ کی نبوی حیثیت اور پیغمبرانہ کمالات واوصاف سے کماحقہ آگاہ نہیں ہیں، ان کے بارے میں یہی امید ہے کہ وہ رحمت الٰہی کے دائر ے میں شامل ہو کر نجات پا جائیں گے۔ ۴۴؂عہد رسالت اور بعد کے ادوار میں فرق وتفاوت کا یہی احساس فقہ اسلامی کے بہت سے قانونی تصورات پر بھی بتدریج اثر انداز ہوا ہے، تاہم اس تدریجی تغیر کا تفصیلی مطالعہ ایک مستقل بحث کا متقاضی ہے۔ ۴۵؂

بعض معاصر اہل علم نے اسی تناظر میں ارتداد پر سزاے موت کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اتمام حجت کے لیے جو معاون اور سازگار فضا اور جو اسباب ومحرکات اسلام کے دور اول میں موجود تھے، کیا وہ آج بھی اسی طرح موجود ہیں اور کیا معروضی تناظر میں اس سزا کا اطلاق خود حکم کی علت کی رو سے درست ہوگا؟ ۴۶؂مولانا مودودی بھی، جنھوں نے ارتداد پر سزاے موت کا بھرپور دفاع کیا ہے، یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دور جدید میں اسلامی تعلیم وتربیت کے نظام میں نقص اور کافرانہ تعلیم وتربیت کے اثرات کے تحت نئی نسلوں میں اسلام سے فکری انحراف کا میلان اس درجے میں پھیل چکا ہے کہ انھیں قانون ارتداد کے تحت جبراً دائرۂ اسلام میں مقید رکھنے سے ''اسلام کے نظام اجتماعی میں منافقین کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہو جائے گی جس سے ہر وقت ہر غداری کا خطرہ رہے گا۔'' ۴۷؂ایسے لوگوں کو جبراً اسلام کا پابند بنانے پر مولانا کی تشویش کا اصل پہلو تو وہی ہے جو انھوں نے بیان کیا ہے، تاہم اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دور جدید میں وضوح حق اور اتمام حجت کی کیفیت کے حوالے سے ان کے احساسات کیا ہیں۔ مولانا نے غالباً اسی احساس کے تحت مرتد کے لیے ملک بدر کرنے کی متبادل سزا کا امکان تسلیم ،بلکہ تجویز کیا ہے۔

مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ ارتداد پر سزاے موت کو اتمام حجت کے نکتے سے متعلق ماننے کی صورت میں یہ سوال بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ پر اتمام حجت ہو جانے کا فیصلہ کیسے اور کن بنیادوں پر کیا جائے گا۔ اس ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی نے یہ نقطۂ نظر اختیار کیا ہے کہ چونکہ کسی بھی شخص یا قوم پر حجت تمام ہو جانے کا فیصلہ کوئی انسان، حتیٰ کہ خود پیغمبر بھی نہیں کر سکتا، بلکہ اتمام حجت اور اس کی بنیاد پر سزا اور عذاب کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اس لیے قتل مرتد کا حکم شریعت کا کوئی عمومی ضابطہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق صرف مشرکین بنی اسماعیل سے ہے جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت موت کی سزا نافذ کی گئی تھی اور اسلام قبول کیے بغیر ان کے لیے زندہ رہنے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رکھی گئی تھی۔ ۴۸؂

ہماری راے میں اس حکم کو مشرکین عرب تک محدود رکھنے کے بجاے اہل کتاب کو بھی اس کے دائرۂ اطلاق میں شامل سمجھنے میں کوئی مانع نہیں، کیونکہ ان کے لیے جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت محض ایک رعایت کی حیثیت رکھتی تھی۔ چنانچہ اگر وہ اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف پلٹنا چاہتے تو یہ چیز ان کی دی گئی رعایت کو ختم کر کے ان کے کفر کی اصل سزا کوبحال کرنے کی ایک مضبوط وجہ تھی۔ اس وجہ سے صحابہ کا اس حکم کو مشرکین عرب کے ساتھ خاص سمجھنے کے بجاے اس کو دوسرے گروہوں کے لیے عام سمجھنا ہماری راے میں درست تھا، البتہ زیربحث نقطۂ نظر کا یہ پہلو بے حد وزن رکھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب کفار سے متعلق دیے جانے والے احکام ایک مخصوص اساس پرمبنی تھے اور ان کی علی الاطلاق تعمیم نہیں کی جا سکتی۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ ارتداد پر سزاے موت دینے کا تعلق انھی اہل کفر سے تھا جن پر اتمام حجت کیا جا چکا تھا اور اس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں سزا دینے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی۔ اگرچہ کلاسیکی علمی روایت میں معاملے کا یہ پہلوزیادہ توجہ کا مستحق نہیں سمجھا گیا اور فقہا نے بالعموم ارتداد کی سزا کو شریعت کا ایک ابدی حکم ہی شمار کیا ہے، تاہم دور جدید کی بیش تر مسلم ریاستوں میں ارتداد پر سزاے موت نافذ کرنے کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو ہماری راے میں حکم کی علت کی رو سے بالکل درست ہے۔

___________

۳۴؂ابن حزم، المحلٰی ۱۱/ ۱۸۹۔ ابن قدامہ، المغنی ۱۰/ ۷۷۔ابن حجر، فتح الباری ۱۲/ ۲۷۰۔

۳۵؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۶۹۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم۱۶۶۶۵۔ ابن عبد البر، التمہید ۵/ ۳۰۷۔ طحاوی، شرح معانی الآثار ۳/ ۲۱۰۔ ابن حزم، المحلیٰ ۱۱/ ۱۹۱۔

۳۶؂المحلیٰ ۱۱/ ۱۹۱۔

۳۷؂الاستذکار ۷/ ۱۵۴۔

۳۸؂طبرانی، المعجم الکبیر ۲۰/ ۵۳۔

۳۹؂ابن عدی، الکامل فی ضعفاء الرجال ۲/ ۳۸۲، رقم ۵۰۵۔

۴۰الطحاوی، شرح معانی الآثار، رقم ۴۷۲۸۔ الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/ ۱۳۹۔

۴۱؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۹۹۴۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۷۳۱۔

۴۲؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۷۲۵۔ ۱۸۷۳۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۹۹۳، ۲۸۹۹۵۔ ۲۸۹۹۶، ۳۲۷۸۰۔

۴۳؂دارقطنی ۳/ ۱۱۸۔ ۱۲۰۔

۴۴؂الغزالی، فیصل التفرقہ ۹۶۔

۴۵؂ہم نے اپنی زیر ترتیب کتاب ''جہاد ایک تقابلی مطالعہ''میں اس کے بعض پہلووں کو واضح کیا ہے۔

۴۶؂نجات اللہ صدیقی، اسلام، معاشیات اور ادب ۴۱۴۔

۴۷؂مرتد کی سزا ۷۵۔

۴۸؂برہان ۱۳۹۔ ۱۴۳۔

____________




Articles by this author