جماعت صحابہ کی خصوصی حیثیت (حصہ اول)

جماعت صحابہ کی خصوصی حیثیت (حصہ اول)


گزشتہ باب میں روم و فارس اور جزیرۂ عرب سے متصل دوسری سلطنتوں کے خلاف صحابہ کے جہاد کے حوالے سے جو گفتگو کی گئی ہے، اس سے اگرچہ اصولی طور پر ان اقدامات کی حقیقی نوعیت واضح ہو جاتی ہے، تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس بحث کے چند اہم نکات پر نسبتاً تفصیل سے روشنی ڈالی جائے تاکہ صحابہ کے جنگی اقدامات کا درست تناظر زیادہ نکھر کر سامنے آ جائے۔ یہ نکات ہمارے نزدیک حسب ذیل ہیں:

ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ کو 'شہادت علی الناس' کے خاص منصب پر فائز کیا گیا اور اسی کے تحت انھیں مذکورہ اقوام کے خلاف قتال کا اختیار دیا گیا تھا۔

دوسرے یہ کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی اہداف محدود اور متعین تھے اور اس دائرے میں بھی وہ جہاد وقتال کے اس سلسلے کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانے کے بجائے محدود سے محدود تر رکھنے کے خواہش مند تھے۔

تیسرے یہ کہ قرآن مجید میں 'اظہار دین' کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، وہ جزیرۂ عرب اور اس کے بعد روم وفارس کے علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جانے سے آخری حد تک مکمل ہو گیا اور اس پیش گوئی کا کوئی جزو تاریخی طور پر تشنہ تکمیل نہیں رہا۔

ذیل میں ہم ان نکات کی وضاحت کریں گے:

شہادت علی الناس

'شہادت علی الناس' کے منصب کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ عالم کا پروردگار انسانوں کے کسی خاص گروہ سے اپنی وفاداری اور اطاعت کا عہد وپیمان لے کر اسے دین وشریعت کی نعمت سے نوازتا، آزمایش اور ابتلا کے مختلف مراحل سے گزار کر اس کے تزکیہ وتربیت کا اہتمام کرتا اور اس امتحان میں کامیابی پر اسے دنیوی حکومت واقتدار سے بہرہ یاب کر دیتاہے۔ یہ گروہ اپنے اجتماعی وجود کے لحاظ سے یوں سراپا حق اور مجسم عدل وانصاف ہوتا اور اپنی دعوت اور کردار کے ذریعے سے حق کی اس طرح عملی شہادت بن جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کفر وطغیان کا رویہ اپنانے والی قوموں کو سزا دینے کا اختیار دے دیتا ہے۔ 'شہادت' کے منصب پر فائز گروہ کے لیے اس اختیار اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی فتوحات کی حیثیت اللہ کے انعام کی ہوتی ہے اور اسے یہ حق دے دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کی سرزمین میں اس کے میسر کردہ نعمتوں اور وسائل کو اپنے تصرف میں لے آئے، جبکہ مفتوح ومغلوب قوموں کے لیے یہی عمل اللہ کی طرف سزا اور انتقام قرار پاتا ہے۔

قرآن مجید اور انبیاے بنی اسرائیل کے صحائف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے بعد نبوت ورسالت کو ان کی اولاد کے ساتھ مخصوص فرما کر انھیں دنیا کی قوموں پر فضیلت بخشی اور من حیث القوم، اقوام عالم پر حجت تمام کرنے کے لیے منتخب کر لیا۔ ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَی آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاہِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ. (آل عمران ۳: ۳۳)

''بے شک اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو دنیا والوں پر ترجیح دے کر منتخب کر لیا۔''

آل ابراہیم کی تاریخ کے دور اول میں اس منصب کے حامل بنی اسرائیل تھے جبکہ آخری دور میں یہ ذمہ داری بنی اسماعیل کو سونپی گئی۔ بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا:

یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِیْنَ.(البقرہ ۲: ۴۷)

''اے بنی اسرائیل، میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور اس بات کو بھی کہ میں نے جہان والوں پر تمھیں فضیلت بخشی۔''

سورۂ مائدہ میں ہے:

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاءَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوکاً وَآتَاکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِیْنَ. (المائدہ ۵: ۲۰)

''اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد رکھو جب اس نے تمھارے اندر نبی بھیجے اور تمھیں بادشاہ بنایا اور تمھیں وہ کچھ دیا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔''

بنی اسرائیل کے بعد، بنی اسماعیل کے اس منصب پر فائز کیے جانے کا ذکر بھی قرآن نے جگہ جگہ مختلف الفاظ اور اسالیب میں کیا ہے۔ سورۂ حج میں فرمایا:

وَجَاہِدُوا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہِ ہُوَ اجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ أَبِیْکُمْ إِبْرَاہِیْمَ ہُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمیْنَ مِن قَبْلُ وَفِی ہَذَا لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَہِیْداً عَلَیْْکُمْ وَتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَاعْتَصِمُوا بِاللّٰہِ ہُوَ مَوْلَاکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلیٰ وَنِعْمَ النَّصِیْرُ. (الحج ۲۲: ۷۸)

''اور اللہ کے راستے میں اس طرح جدوجہد کرو جیسے جدوجہد کرنے کا حق ہے۔ اسی نے تمھیں چنا ہے اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ اپنے باپ ابراہیم کے دین کے پیروکار بن جاؤ۔ اسی نے اس سے پہلے بھی اور اس زمانے میں بھی تمہیں 'مسلم' کا لقب دیا۔ اللہ نے تمھیں چن لیا ہے تاکہ یہ رسول تم پر (حق کی) گواہی دے اور تم اقوام عالم کے سامنے اس کے گواہ بن جاؤ۔ پس نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کے سہارے کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ وہی تمھارا آقا ہے اور کیا ہی اچھا آقا اور کیسا بہترین مددگار ہے۔''

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے:

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً. (البقرہ ۲: ۱۴۳)

''اور اسی طرح ہم نے تمہیں درمیان کا ایک گروہ بنایا تاکہ تم لوگوں پر (اس دین کے) گواہ بن جاؤ اور رسول تم پر اس کی گواہی دے۔''

مذکورہ دونوں مقامات کے سیاق وسباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 'شہادت علی الناس' کے منصب کا ذکر خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے بنی اسماعیل یعنی صحابہ کے تناظر میں ہوا ہے۔

سورۂ بقرہ میں اس کا ذکر ملت ابراہیمی کی ابتدا اور اس کی تاریخ کے آخری دور کے ضمن میں ہوا ہے۔ آیت ۱۲۴ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے منصب امامت کے لیے منتخب کیے جانے کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ابراہیم واسماعیل علیہما السلام نے کعبہ کی تعمیر کے موقع پر یہ دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں بھی ایک 'امت مسلمہ' پیدا ہو اور ان میں ایک رسول مبعوث کیا جائے جو تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کے ذریعے سے ان کا تزکیہ کرے۔ اس کے بعد یہود ونصاریٰ کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ان کی ملت کے پیروکار تھے۔ پھر تحویل قبلہ کے واقعہ کا تذکرہ کر کے یہ حقیقت نمایاں کی گئی ہے کہ دین ابراہیمی میں اصل مرکز اور محور کی حیثیت کعبہ معظمہ ہی کو حاصل ہے اور یہود کی یہ خواہش کہ یہ حیثیت مسجد اقصیٰ کو دی جائے، بالکل بے بنیاد ہے۔ تحویل قبلہ کے حکم ہی کے ضمن میں منصب 'شہادت' کا ذکر کیا گیا ہے اور صحابہ کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ تمھیں اللہ تعالیٰ نے ایک درمیانی امت بنایا ہے تاکہ اللہ کا رسول تم پر اور تم لوگوں کے سامنے دین حق کی شہادت دو۔ پھر بیت اللہ کو سفر وحضر میں قبلہ مقرر کرنے کی ہدایات دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ سیدنا ابراہیم واسماعیل علیہما السلام نے اپنی ذریت میں جس نبی اور جس امت مسلمہ کے پیدا ہونے کی دعا کی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کی صورت میں عملاً ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ آیات کے اس سیاق وسباق سے صاف واضح ہے کہ 'شہادت علی الناس' کا منصب خاص طور پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں پیدا ہونے والے اس گروہ کو دیا گیا جس کو ابو الانبیاء نے ''امۃ مسلمۃ'' کا لقب دیا اور جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث کیے جانے کی دعا کی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا مصداق صحابہ کے سوا کوئی دوسری جماعت نہیں ہو سکتی۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعث فی الامیین الآخذین بالملۃ الاسماعیلیۃ وقدر اللہ فی سابق علمہ انہم ہم القائمون بنصرۃ دینہ وہم شہداء اللہ علی الناس من بعدہ وہم خلفاؤہ فی امتہ. (حجۃ اللہ البالغۃ ۱/ ۵۵۱، ۵۵۲)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امیین میں مبعوث کیا گیا جو ملت اسماعیلی کے پیروکار تھے۔ اللہ نے اپنے علم میں پہلے سے ہی طے فرما دیا تھا کہ یہی امیین آپ کے دین کی مدد کے لیے کھڑے ہوں گے، وہی آپ کے بعد لوگوں پر اللہ کے گواہ ہوں گے اور وہی آپ کی امت میں آپ کی خلافت کی ذمہ داری انجام دیں گے۔''

سورۂ حج میں اس آیت پر سورہ کااختتام ہوا ہے، چنانچہ اس کے صحیح محل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سورۂ حج کا پورا نظم نگاہوں میں ہو۔ اس سورہ کی ابتدائی ۲۳ آیات میں قیامت کے اثبات اور شرک کی تردید پر دلائل دیے گئے ہیں۔ پھر آیت ۲۴ سے ۳۸ تک بیت اللہ کی تعمیر وتاسیس کی تاریخ اور اس کے مقصد تعمیر کی وضاحت کی گئی ہے۔ آیت ۳۹ تا ۴۱ میں مکہ سے نکالے جانے والے مہاجرین کو ظلم کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے اور ان سے نصرت کا وعدہ کرنے کے ساتھ یہ ذمہ داری ان پر واضح کی گئی ہے کہ جب انھیں سرزمین عرب میں اقتدار مل جائے تو وہ نماز کے قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کریں گے۔

وَلَیَنصُرَنَّ اللّٰہُ مَن یَّنصُرُہُ إِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ. الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِی الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ. (الحج ۲۲: ۴۱، ۴۲)

''اور اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بے شک اللہ نہایت قوت والا، غالب آنے والا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو اس سرزمین میں اقتدار دیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ اور معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔''

اس کے بعد آیت ۴۲ تا ۷۶ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے مختلف اعتقادی اور عملی رویوں پر تنقید کی گئی اور ان کے طرز عمل کی شناعت واضح کی گئی ہے۔ اسی سلسلہ بیان میں آیت ۵۸ تا ۶۰ میں مہاجرین کو ایک بار پھر فتح ونصرت اور کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ اس ساری بحث کے بعد سورہ کا اختتام ان آیات پر ہوتا ہے جن میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا اور ان پر واضح کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے 'شہداء علی الناس' کے منصب پر فائز ہیں۔

یہاں بھی دیکھ لیجیے، سورہ میں جس گروہ کے احوال، ذمہ داریاں اور جدوجہد زیر بحث ہے اور جن سے نصرت اور فتح کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ بالکل واضح طور پر صحابہ کرام ہی کی جماعت ہے اور سورہ کے اس مربوط نظام میں اختتامیہ کے طور پر وارد ہونے والی ان آیات کی تفسیر کسی بھی طرح سے اس تناظر سے ہٹ کر نہیں کی جا سکتی۔ پھر آیات کے سیاق کے علاوہ خود آیت کے اندر داخلی طور پر دو شہادتیں، یعنی 'اجتبکم' اور 'ملۃ ابیکم ابراہیم ہو سمکم المسلمین' ایسی ہیں جو بالکل قطعی طور پر اس کو ذریت ابراہیم کے ساتھ خاص کر دیتی ہیں۔ قرآن مجید نے خود سورہ بقرہ میں اس اشارے کی تفصیل کی ہے اور بتایا ہے کہ ابراہیم واسماعیل علیہما السلام نے اپنی 'ذریت' میں ایک امت کے پیدا ہونے کی دعا کی تھی اور اس کو 'مسلمہ' کا لقب دیا تھا۔ یہ دعا بھی واضح طور پر 'ذریت ابراہیم' کے لیے خاص تھی۔ یہ وہ واضح قرائن ہیں جن کی بنا پر اس آیت کا مصداق صحابہ کرام کے علاوہ کسی اور گروہ کو قرار دینا ممکن نہیں۔ امام ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں:

وقولہ تعالی (ہو اجتباکم) یدل علی انہم عدول مرضیون وفی ذلک بطلان طعن الطاعنین علیہم اذ کان اللہ لا یجتبی الا اہل طاعتہ واتباع مرضاتہ وفی ذلک مدح للصحابۃ المخاطبین بذلک ودلیل علی طہارتہم. (احکام القرآن، ۳/ ۲۵۱، ۲۵۲)

''اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ 'اس نے تمھیں چن لیا ہے' اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک عادل اور پسندیدہ ہیں۔ اس سے ان پر طعن کرنے والوں کا طعن باطل ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو منتخب کرتا ہے جو اس کے فرماں بردار اور اس کی مرضی پر چلنے والے ہوں۔ نیز اس میں صحابہ کی، جو اس آیت کے مخاطب تھے، توصیف وتعریف اور ان کے پاکیزہ ہونے کی دلیل بھی موجود ہے۔''

مذکورہ آیات کے سیاق وسباق کے علاوہ یہی بات قرآن مجید کے عرف سے بھی واضح ہوتی ہے۔ قرآن مجید کے کسی طالب علم سے یہ بات مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر متنوع اسالیب میں جس جماعت کو اللہ تعالیٰ کی منتخب کردہ جماعت قرار دے کر اس کے ایمان وعمل کو نمونہ اور معیار ٹھہرایا ہے، وہ صحابہ ہی کی جماعت ہے۔سورۂ آل عمران میں ارشاد ہوا ہے:

کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ. (آل عمران ۳: ۱۱۰)

''تم ایک بہترین گروہ ہو جسے لوگوں کی ہدایت کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔''

یہ آیت جس سلسلہ بیان میں آئی ہے، ا س کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ اے اہل ایمان! اللہ سے کماحقہ ڈرو اور اس کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے تمہاری باہمی دشمنیوں کو ختم کر کے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے الفت پیدا کی اور تمھیں بھائی بھائی بنا دیا۔ اس کے بعد سابقہ مذہبی گروہوں کے رویے سے گریز کی تلقین کرتے ہوئے زیر بحث آیت میں اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری واضح کی گئی ہے اور اس کے بعد اگلی آیت میں ان سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مخالف گروہوں پر ہر حال میں غالب رہیں گے:

لَن یَضُرُّوکُمْ إِلاَّ أَذًی وَإِن یُقَاتِلُوکُمْ یُوَلُّوکُمُ الأَدْبَارَ ثُمَّ لاَ یُنصَرُونَ. (آل عمران۳: ۱۱۱)

''یہ زبانی اذیت کے سوا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور اگر تم سے لڑنے آئیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ پھر انھیں کہیں سے مدد بھی میسر نہیں ہوگی۔''

سیاق اور سباق دونوں سے واضح ہے کہ یہاں مخاطب خاص طور پر صحابہ ہی کی جماعت ہے، اس لیے کہ 'خیر امت' کا لقب دینے سے پہلے دلوں میں الفت ومحبت پیدا کرنے کی جس نعمت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی انھی کو عطا کی گئی تھی اور اس کے بعد جس فتح ونصرت کی بشارت دی گئی ہے، وہ بھی انھی کے لیے خاص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود حضرات صحابہ کرام نے 'خیر امت' کے اعزاز کو اپنے لیے خاص قرار دیا۔ سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں:

لو شاء اللہ لقال انتم فکنا کلنا ولکن قال کنتم فی خاصۃ من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومن صنع مثل صنیعہم کانوا خیر امۃ اخرجت للناس یامرون بالمعروف وینہون عن المنکر.(تفسیر الطبری ۴/ ۴۳)

''اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہ فرماتے کہ'انتم' تب ہم سب اس کا مصداق ٹھہرتے، لیکن اس نے'کنتم' کہا ہے جس کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ کے مخصوص اصحاب اور وہ لوگ ہیں جو ان کے طریقے پر چلیں۔ رسول اللہ کے یہ اصحاب ہی وہ بہترین جماعت تھے جنھیں لوگوں کی ہدایت کے لیے نکالا گیا اور جو بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے۔''

نیز فرماتے ہیں:

تکون لاولنا ولا تکون لآخرنا. (تفسیر الطبری ۴/ ۴۳)

''اس آیت کا مصداق ہمارا اولین گروہ تو ہے لیکن بعد میں آنے والے نہیں۔''

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:

ہم الذین ہاجروا مع محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی المدینۃ. (مسند احمد، رقم ۲۳۳۴)

''یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اصحاب ہیں جنھوں نے آپ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔''

تابعی مفسر امام ضحاک فرماتے ہیں:

ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاصۃ یعنی وکانوا ہم الرواۃ الدعاۃ الذین امر اللہ المسلمین بطاعتہم. (تفسیر الطبری، ۴/ ۴۴)

''اس سے مراد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں۔ وہی اس دین کے راوی اور داعی ہیں جن کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔''

ابن عبد البر فرماتے ہیں:

وثبت بہم حجۃ اللہ تعالی علی المسلمین فہم خیر القرون وخیر امۃ اخرجت للناس ثبتت عدالۃ جمیعہم بثناء اللہ عزوجل علیہم وثناء رسولہ علیہ السلام. (الاستیعاب، ۱/ ۱، ۲)

''صحابہ ہی کے ذریعے اللہ کی حجت (بعد کے) مسلمانوں پر ثابت ہوئی، چنانچہ وہی وہ بہترین گروہ ہیں جنھیں لوگوں کے لیے نکالا گیا۔ ان سب کا عادل ہونا اس تعریف سے ثابت ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ان کے حق میں بیان فرمائی ہے۔''

ومعلوم ان مواجہۃ رسول اللہ ثم لاصحابہ بقولہ انتم خیرہا اشارۃ الی التقدمۃ فی الفضل الیہم علی من بعدہم.(الاستیعاب، ۱/ ۹)

''واضح ہے کہ'انتم' کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مخاطب کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کو بعد میں آنے والوں کے مقابلے میں فضیلت حاصل ہے۔''

دوسرے مقامات پر قرآن مجید نے صحابہ ہی کی جماعت کو مخاطب کر کے انھیں سرزمین عرب میں غلبہ اور اقتدار کی بشارت دی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ بنی اسمٰعیل کو ملنے والا حکومت واقتدار دراصل اسی وعدے کا مصداق اور تسلسل ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی اولاد کے حوالے سے کیا تھا۔ سورۂ نساء میں آل اسماعیل کے خلاف یہود کے حسد اور بغض پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:

أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِن فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً. (النساء ۴: ۵۴)

''کیا یہ یہود اللہ کے اس فضل پر جو اس نے ان امیوں کو دیا ہے، ان سے حسد کرتے ہیں؟ تو یقیناًہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور ہم نے ان کو بہت بڑی سلطنت دینے کا فیصلہ بھی کر رکھا ہے۔''

آیت سے واضح ہے کہ حکومت وبادشاہت کا یہ وعدہ خاص طور پر 'آل ابراہیم' کے ساتھ کیا گیا تھا جس کا مصداق آخری دور میں صحابہ کرام کی جماعت تھی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''یعنی کیا یہود حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب پر اللہ کے فضل وانعام کو دیکھ کر حسد میں مرے جاتے ہیں۔ سو یہ تو بالکل ان کی بے ہودگی ہے کیونکہ ہم نے حضرت ابراہیم کے گھرانے میں کتاب اور علم اور سلطنت عظیم عنایت کی ہے۔ پھر یہود آپ کی نبوت اور عزت پر کیسے حسد اور انکار کرتے ہیں۔ اب بھی تو ابراہیم ہی کے گھر میں ہے۔'' (تفسیر عثمانی، ص ۱۱۳)

سورۂ نور میں زیادہ صریح الفاظ میں ارشاد ہوا ہے:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْْئاً وَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ. (النور ۲۴: ۵۵)

''تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ضرور ان کو اس سرزمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے والے گروہ کو دیا تھا، اور ان کے لیے اپنے اس دین کو مستحکم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور خوف کی اس حالت کو بدل کر ان کے لیے امن قائم کر دے گا۔ یہ میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کریں گے، سو وہی لوگ بدکار ہوں گے۔''

سیاق وسباق کے علاوہ خود آیت کے اندر'الذین آمنوا منکم' کے الفاظ اس بات پر نص صریح کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اس وعدے کے مخاطب صرف صحابہ کرام ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

واما من حدث فی زمن الفتنۃ کالرافضۃ الذین احدثوا فی الاسلام فی زمن الفتنۃ والافتراق وکالخوارج المارقین فہولاء لم یتناولہم النص فلم یدخلوا فی من وصف بالایمان والعمل الصالح المذکورین فی ہذہ الآیۃ لانہم اولا لیسوا من الصحابۃ المخاطبین بہذا ولم یحصل لہم من الاستخلاف والتمکین والامن بعد الخوف ما حصل للصحابۃ بل لا یزالون خائفین مقلقلین غیر ممکنین.(منہاج السنۃ، ۱/ ۱۵۷)

''وہ گروہ جو فتنے کے زمانے میں پیدا ہوئے، مثلاً رافضی جنھوں نے فتنے اور انتشار کے دور میں اسلام میں بدعات گھڑیں اور خوارج جو دین ہی سے نکل گئے، تو یہ لوگ اس آیت کے دائرے میں نہیں آتے جس میں اس گروہ کے لیے ایمان اور عمل صالح کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس کی سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ان کا شمار صحابہ میں نہیں ہے جن کو مخاطب کر کے یہ بات کہی گئی تھی اور نہ ان کو اقتدار اور استحکام اور خوف کے بعد امن کی وہ حالتیں حاصل ہوئیں جو صحابہ کو ملی تھیں بلکہ یہ تو ہمیشہ خوف اور بے چینی اور عدم استحکام کی حالت میں رہتے ہیں۔''

شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:

''لفظ منکم راجع ست بحاضرین نہ بمسلمین قاطبۃ زیرا کہ اگر جمیع مسلمین مراد می بودند بذکر لفظ منکم با کلمہ الذین آمنوا وعملوا الصالحات تکرار لازم می آمد پس حاصل معنی آنست کہ وعدہ براے جمعی است از شاہدان نزول آیہ کہ تمکین دین بر وفق سعی ایشان واجتہاد وکوشش ایشاں بظہور خواہد رسید۔'' (ازالۃ الخفاء ۱/ ۱۱)

''لفظ منکم حاضرین کی طرف راجع ہے نہ کہ تمام مسلمانوں کی طرف۔ کیونکہ اگر تمام مسلمان مراد لیے جائیں تو الذین آمنوا وعملوا الصالحات کے ساتھ منکم کا کلمہ زائد قرار پاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ وعدہ آیت کے نزول کے وقت موجود ایک گروہ سے کیا گیا ہے جس کی کوشش اور محنت سے دین کو غلبہ حاصل ہوگا۔''

اس بحث سے واضح ہے کہ قرآن مجید میں 'شہادت علی الناس' کے منصب کا ذکر دراصل صحابہ کے حوالے سے ہوا ہے۔ تاریخ کی رو سے 'شہادت حق' کے معیار پر پورا اترنے والی جماعت بھی عملاً صرف صحابہ کرام ہی کی جماعت تھی اور اسی بنیاد پر انہیں استخلاف فی الارض کی دولت عطا فرمائی گئی تھی۔ 'شہادت' اور 'خیریت' کا منصب اور حکومت واقتدار کا وعدہ، یہ سب کے سب مکمل طور پر باہم مربوط اور ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں اور قرآن کے ان تمام بیانات کو ایک دوسرے سے الگ کر کے انفرادی طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

صحابہ کے جہاد کا متعین اور محدود ہدف

اب دوسرے نکتے کو دیکھیے:

بنی اسرائیل کے لیے حکومت واقتدار کا وعدہ، جیسا کہ ہم اوپر صحف سماوی کے نصوص کی روشنی میں واضح کر چکے ہیں، متعین جغرافیائی حدود کے اندر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی یہ بات بہت وضاحت سے نقل ہوئی ہے کہ آپ کی امت کو خطہ ارضی کے ایک محدود اور متعین علاقے میں حکومت واقتدار عطا کیا جائے گا۔ حضرت ثوبان سے روایت ہے:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقہا ومغاربہا وان امتی سیبلغ ملکہا ما زوی لی منہا.(مسلم، رقم ۵۱۴۴)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی اور میں نے اس کے مشرق ومغرب کے علاقے دیکھ لیے اور بے شک میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں تک پہنچے گی جو مجھے سمیٹ کر دکھائے گئے۔''

یہ روم اور فارس کی سلطنتوں کا علاقہ تھا اور آپ نے جزیرۂ عرب سے باہر حاصل ہونے والی ان فتوحات کی بشارت ہمیشہ ان دو سلطنتوں یا ان کے زیر اثر علاقوں ہی کے حوالے سے دی۔ امت مسلمہ کو عملاً حاصل ہونے والی فتوحات کا دائرہ روم وفارس کی سلطنتوں سے کہیں وسیع تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اہتمام سے ان کا ذکر اپنی پیش گوئیوں میں نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ علاقے اصلاً اور بالذات موعودہ فتوحات میں داخل نہیں تھے بلکہ ان کی نوعیت روم وفارس کی فتوحات کے تتمہ وتکملہ اور ان کے ناگزیر لوازم کی تھی، بلکہ بعض اقوام، مثلاً ترکوں اور اہل حبشہ کے بارے میں آپ نے صحابہ کو اس بات کی وصیت فرمائی کہ وہ ان کے خلاف ازخود جنگ کا اقدام نہ کریں۔ آپ نے فرمایا:

ثم ضربت الثالثۃ فرفعت لی مدائن الحبشۃ وماحولہا من القری حتی رایتہا بعینی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عند ذلک دعوا الحبشۃ ما ودعوکم واترکوا الترک ما ترکوکم. (نسائی، رقم ۳۱۲۵)

''پھر میں نے تیسری مرتبہ ضرب لگائی تو (اس سے اڑنے والی چنگاریوں کی روشنی میں) مجھے حبشہ اور اس کے ارد گرد کی بستیاں دکھائی گئیں یہاں تک میں نے انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ا س موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک اہل حبشہ تمہارے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں، تم بھی نہ کرنا۔ اور ترک بھی جب تک تم سے تعرض نہ کریں، تم ان سے گریز کرنا۔'' ۱؂

ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ روایت صحابہ کے دور میں معروف تھی، چنانچہ سیدنا معاویہ کو جب اطلاع ملی کہ ان کے ایک کمانڈر نے ترکوں پر حملہ کر کے انھیں ایک لڑائی میں شکست دی ہے تو وہ اس پر سخت ناراض ہوئے اور اسے لکھا کہ جب تک میرا حکم نہ آئے، ترکوں سے لڑائی نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ترک عربوں کو نکال کر دور دراز علاقے کی طرف دھکیل دیں گے۔ ۲؂ سیدنا عمر کے فوجی کمانڈر احنف بن قیس نے بھی ایک موقع پر 'اترکوا الترک ما ترکوکم' کا حوالہ دیتے ہوئے ترکوں سے جنگ کرنے سے گریز کیا تھا۔۳؂

ابن رشد لکھتے ہیں:

روی عن مالک انہ قال لا یجوز ابتداء الحبشۃ بالحرب ولا الترک لما روی انہ علیہ الصلاۃ والسلام قال ذروا الحبشۃ ما وذرتکم وقد سئل مالک عن صحۃ ہذا الاثر فلم یعترف بذلک لکن قال لم یزل الناس یتحامون غزوہم. (بدایۃ المجتہد ۱/ ۲۷۹)

''امام مالک سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ اہل حبشہ اور ترکوں کے خلاف جنگ کی ابتدا کرنا جائز نہیں۔ ان کے اس قول کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جب تک اہل حبشہ تم سے گریز کرتے رہیں، تم بھی گریز کرتے رہو۔ امام مالک سے اس حدیث کی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا اقرار نہیں کیا، بلکہ کہا کہ مسلمان اہل حبشہ کے خلاف جنگ کرنے سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں۔''

اس پس منظر میں یہ بات صحابہ پر بالکل واضح تھی کہ ان کی ذمہ داری اصلاً کوئی عالمگیر اسلامی حکومت قائم کرنا نہیں، بلکہ ایک محدود اور متعین دائرے میں اسلام کا غلبہ قائم کرنا ہے۔ چنانچہ خلفاے راشدین کے عہد میں کیے جانے والے جنگی اقدامات کے بارے میں تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ ان کا ہدف وہی محدود علاقہ تھا جس کو فتح کرنے کی انھیں اجازت دی گئی تھی اور ان اقوام سے آگے انھوں نے ازخود کوئی جارحانہ اقدام کسی قوم کے خلاف نہیں کیا۔ اس ضمن میں تاریخی تفصیلات حسب ذیل ہیں:

سیدنا عمرؓ نے اپنے عہد حکومت میں جہاد وقتال کے اقدامات کو ایک خاص دائرے تک محدود رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن ان کی کوشش اور خواہش کے باوجود معروضی حالات کے باعث اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ دیکھیے:

رومی سلطنت کے خلاف جہاد سے مقصود اصلاً شام کے علاقے پر قبضہ کرنا تھا اور یہ متعین ہدف آغاز ہی سے فریقین پر بالکل واضح تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتنہ ارتداد سے نمٹنے کے بعد جب سیدنا صدیق اکبر نے اپنے مختلف جرنیلوں کی قیادت میں شام کے مختلف علاقوں پر قبضے کے لیے لشکر روانہ کیے تو قیصر روم نے اس موقع پر کوشش کی کہ شام کا علاقہ صلحاً مسلمانوں کے حوالے کر کے مستقل بنیادوں پر ان کی پیش قدمی کو روک دیا جائے۔ اس نے رومی سلطنت کے اہل حل وعقد سے کہا:

ویحکم ان ہولاء اہل دین جدید وانہم لا قبل لاحد بہم فاطیعونی وصالحوہم بما تصالحونہم علی نصف خراج الشام ویبقی لکم جبال الروم وان انتم ابیتم ذلک اخذوا منکم الشام وضیقوا علیکم جبال الروم. (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ۷/ ۵)

''تمھارا ناس ہو، یہ لوگ ایک نئے دین کے پیروکار ہیں اور کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے میری بات مان لو اور ان کے ساتھ اس بات پر صلح کر لو کہ شام کا آدھا خراج ان کو ادا کیا جائے گا اور جبال الروم تمھارے لیے محفوظ رہیں گے۔ اگر تم یہ بات نہیں مانو گے تو وہ تم سے شام کا علاقہ بھی لے لیں گے اور جبال الروم میں بھی تمھیں پریشان کیے رکھیں گے۔''

حضرت صدیق اکبر کی طرف سے خالد بن ولید کو عراق کے محاذ پر مامور کیا گیا تھا جہاں سے انھیں ضرورت کے تحت شام کے محاذ پر بھیج دیا گیا، لیکن انھیں یہ ہدایت کردی کہ شام کی فتح سے فارغ ہو کر واپس عراق چلے جائیں۔۴؂ اجنادین میں فتح کے بعد خالد بن ولید نے سیدنا ابوبکر کو اس کی اطلاع بھیجی تو جوابی خط میں انھوں نے لکھا:

اجعل السیر دابک الی ان تطا اقصی ارضہم وانزل علی جنۃ الشام الی ان یاذن اللہ تعالیٰ بفتحہا علی یدیک ثم الی حمص والمعرات واطلب انطاکیۃ ... وان نزلت علی المدینۃ العظمی ذات الجبل المطل انطاکیۃ فان الملک ہناک فان صالحک فصالحہ وان حاربک فحاربہ ولا تدخل الدروب او تکاتبنی بذالک.(واقدی، فتوح الشام ۱۳۲)

''برابر بڑھتے چلے جاؤ یہاں تک کہ ان کی سرزمین کے آخری کنارے تک پہنچ جاؤ۔ شام کے باغات پر جا کر ٹھہرو یہاں تک کہ اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں مفتوح کر دے۔ پھر حمص اور معرات کو فتح کرو اور انطاکیہ کا قصد کرو۔ جب اونچے پہاڑوں والے بہت بڑے شہر انطاکیہ پہنچ جاؤ تو رومیوں کا بادشاہ وہیں ہے۔ اگر وہ صلح کرنا چاہے تو اس سے صلح کر لو اور اگر جنگ کرنا چاہے تو اس سے جنگ کرو۔ پہاڑی دروں میں داخل نہ ہونا جب تک کہ مجھ سے خط وکتابت کر کے مشورہ نہ کر لو۔''

وفات سے قبل انھوں نے سیدنا عمر کو بھی وصیت کی کہ وہ عراق کے محاذ کی طرف بھرپور توجہ دیں اور جیسے ہی شام کا علاقہ فتح ہو جائے، خالد بن ولید کے لشکر کو بھی وہاں سے ہٹا کر عراق کے محاذ پر بھیج دیا جائے، کیونکہ وہ اور ان کے ساتھی وہاں کی جنگ کا زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۵؂۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ نے شام کے مفتوح ہونے کے بعد اس محاذ پر پیش قدمی روک دی۔ اس موقع پر بنو کنانہ اور بنو اَزد کے سات سو جنگجو ان کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ کس محاذ پر لڑنا پسند کرو گے؟ انہوں نے کہا: شام، جو ہمارے اسلاف کا علاقہ ہے۔ آپ نے کہا:

ذلک قد کفیتموہ العراق العراق ذروا بلدۃ قد قلل اللہ شوکتہا وعددہا واستقبلوا جہاد قوم قد حووا فنون العیش. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۴۶۳)

''وہاں کا بندوبست ہو چکا ہے۔ تم عراق کی طرف جاؤ۔ اس ملک کو چھوڑ دو جہاں اللہ نے قوت وشوکت اور اسباب ووسائل کم رکھے ہیں۔ اس کے بجائے اس قوم کے ساتھ لڑنے کے لیے روانہ ہو جاؤ جہاں قسم قسم کے اسباب معاش میسر ہیں۔''

۱۶ ہجری میں فتح بیت المقدس کے موقع پر انھوں نے اہل شہر پر یہ شرط عائد کی کہ رومیوں کو تین دن کے اندر شہر سے نکال دیں۶؂۔ اس کی وجہ بھی غالباً یہ تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ شہر میں آباد ان رومیوں کے ذریعے سے رومی سلطنت مسلمانوں کے خلاف موقع بموقع فتنہ انگیزی کی کوشش کرتی رہے۔ یزید بن ابی سفیان کو قیساریہ پر حملے کی ہدایت دیتے ہوئے بھی انھوں نے یہی وجہ بیان کی کہ اس طرح شام کے علاقے میں قیصر روم کی ساری امیدیں دم توڑ جائیں گی:

انہ لا یزال قیصر طامعا فی الشام ما بقی فیہا احد من اہل طاعتہ متبعا ولقد فتحتموہا قطع اللہ رجاء ہ من جمیع الشام. (ازدی، فتوح الشام ۲۵۰)

''اگر شام میں کوئی بھی شخص قیصر کی اطاعت اور اتباع کرنے والے باقی رہے گا تو شام کے بارے میں اس کی خواہش باقی رہے گی اور اگر تم قیساریہ کو بھی فتح کر لو گے تو اللہ پورے شام سے اس کی امیدوں کو ختم کر دے گا۔''

اس محاذ پر دوبارہ پیش قدمی کی اجازت انھوں نے صرف اس وقت دی جب ۱۷ ہجری میں اہل روم نے مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں پر حملہ کرنے کی جرات کی۔ طبری لکھتے ہیں:

اول ما اذن عمر للجند بالانسیاح ان الروم خرجوا وقد تکاتبوا ہم واہل الجزیرۃ یریدون ابا عبیدۃ والمسلمین بحمص. (تاریخ الامم والملوک ۴/ ۵۰)

''سیدنا عمر نے سب سے پہلے اپنے لشکر کو رومیوں کے علاقے میں گھسنے کی اجازت اس وقت دی جب اہل روم اٹھے اور اہل جزیرہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انھوں نے حمص میں ابو عبیدہ اور ان کے لشکر پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کیا۔''

شام کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی ابتداء اً مسلم جرنیلوں کے پیش نظر نہیں تھا۔ مثال کے طور پر بلاذری بتاتے ہیں:

کان یزید بن ابی سفیان وجہ معاویۃ الی سواحل دمشق سوی اطرابلس فانہ لم یکن یطمع فیہا.(فتوح البلدان ص ۱۳۴)

''یزید بن ابی سفیان نے معاویہ کو دمشق کے ساحلی علاقوں کی طرف بھیجا، لیکن اطرابلس ان میں شامل نہیں تھاکیونکہ وہ اسے فتح کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔''

رومی حکومت کے زیر تسلط علاقوں میں بحیرۂ روم میں موجود بہت سے جزیرے بھی شامل تھے اور ان پر حملہ آور ہونے کا واحد راستہ سمندر تھا۔ شام کے محاذ کے کمانڈر یزید بن ابی سفیان کی وفات کے بعد ان کے بھائی سیدنا معاویہ نے سیدنا عمر کو خط لکھا اور ساحلی علاقوں کی صورت حال بیان کی، تاہم انہوں نے سمندر میں لشکر کشی کی اجازت نہیں دی، بلکہ لکھا کہ وہاں کے قلعوں کی مرمت کروا کر ان میں فوجیوں کو متعین کرو، نگرانی کے لیے چوکیدار مقرر کرو اور وہاں آگ جلانے کے ضروری انتظامات کرو۷؂۔

سیدناعثمان کے زمانے میں امیر معاویہ نے ان سے دوبارہ جزیرۂ قبرص کا قریبی محل وقوع بیان کرتے ہوئے اس پر حملے کی اجازت طلب کی تو سیدنا عثمان نے ان کو لکھا:

قد شہدت ما رد علیک عمر رحمہ اللہ حین استامرتہ فی غزو البحر

''جب تم نے عمر رحمہ اللہ سے سمندر میں لشکر کشی کی اجازت مانگی تھی اور انہوں نے اس کو مسترد کر دیا تھا تو میں اس موقع پر موجود تھا۔''

تاہم امیر معاویہ اس سلسلے میں مسلسل اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ ۲۷ ہجری میں سیدنا عثمان نے بالآخر ان کو اجازت دے دی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس حملے کے لیے جبراً کسی کی ڈیوٹی نہ لگائی جائے، بلکہ صرف وہی افراد لشکر میں شریک ہوں جو اپنی رضامندی سے جانا چاہتے ہیں۸؂۔

_______

۱؂ یہ روایت مختلف طرق سے براء بن عازب (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۶۸۲۰)، عبداللہ بن مسعود اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، جبکہ اہل حبشہ کے بارے میں آپ کے اس جملے کو سعید بن المسیب نے اپنی ایک مرسل روایت میں نقل کیا ہے۔ (ابو عبید، الاموال، ۹۵) اس کی تفصیلی تخریج کے لیے ملاحظہ ہو: http://www.muslm.net/vb/archive/index.php/t-165484.html

۲؂ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۷/۱۲۸۔

۳؂ فتح الباری ۶/ ۶۰۹

۴؂ البدایہ والنہایہ ۷/ ۵۔

۵؂ البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۸۔

۶؂ البدایہ والنہایہ ۷/ ۵۵۔

۷؂ بلاذری، فتوح البلدان، ص ۱۳۴، ۱۳۵۔

۸؂ فتوح البلدان، ص ۱۵۹۔

____________




Articles by this author