جماعت صحابہ کی خصوصی حیثیت (حصہ سوم)

جماعت صحابہ کی خصوصی حیثیت (حصہ سوم)


مذکورہ بالا تاریخی شواہد کی روشنی میں خلفاے راشدین کی جنگی پالیسی کو ہم درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کر سکتے ہیں:

o جہاد وقتال سے ان کا مقصد اسلامی سلطنت کی غیر محدود توسیع نہیں تھا، بلکہ ان کا اصل ہدف صرف رومی اور فارسی سلطنتیں تھیں۔

o رومی اور فارسی سلطنتوں کے خلاف جنگ کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود وہ ان کے تمام علاقوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کے پیش نظر اصلاً صرف شام اور عراق کے علاقے تھے اور وہ ان سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے تھے۔

o ان علاقوں کو فتح کرنے کے بعد جنگ کو روکنے کا فیصلہ وقتی حالات کے تحت نہیں تھا، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسی رکاوٹ درمیان میں حائل ہو جائے کہ نہ دشمن کی فوجیں مسلمانوں کی طرف آ سکیں اور نہ مسلمان ان تک پہنچ سکیں۔

o جنگ نہ کرنے کا فیصلہ عددی قلت یا کسی ضعف اور کمزوری یا شکست کے خوف کی بنا پر بھی نہیں تھا، کیونکہ مسلمانوں کو فتح ونصرت کی واضح بشارت حاصل تھی اور ضرورت پیش آنے پر انھوں نے اسی حربی استعداد کے ساتھ فارسی سلطنت کے تمام علاقوں کو فتح کر لیا تھا۔

o جنگ کو روک دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد اسے دوبارہ جاری کرنے کا اقدام انھوں نے صرف اس وقت کیا جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ اس کے بغیر دشمن کی طرف سے مسلسل چھیڑ چھاڑ اور جنگی کارروائیوں کے سلسلے کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔

o روم و فارس یا ان کے زیر اثر علاقوں کے علاوہ دوسری قوموں کے خلاف انھوں نے صرف اس صورت میں اقدام کیا جب انھوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں دشمن کی مدد کی یا ان کی طرف سے میدان جنگ میں آئے۔

o سمندر کے راستے سے کوئی جنگی مہم بھیجنے سے وہ حتی الامکان گریز کے قائل تھے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے منافی اور مسلمانوں کی جانوں کو بلا ضرورت خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے تھے۔

غلبہ دین کا وعدہ اور اس کی تکمیل

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ہدف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے دین کا غلبہ تمام دینوں پر قائم کر دیا جائے۔

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ. (التوبہ ۹: ۳۳)

''وہی ذات ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناپسند ہو۔''

بعض اہل علم کے ہاں یہ رجحان دکھائی دیتا ہے کہ وہ مذکورہ آیت کو پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کے کسی نظری اور اصولی ہدف کا بیان سمجھتے ہیں۔۱۶؂ تاہم قرآن مجید میں یہ آیت تین مقامات پر آئی ہے اور ہر جگہ اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے غلبہ اور فتح کی بشارت اور وعدے کی حیثیت سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی روشنی میں متعدد مواقع پر جزیرۂ عرب اور روم وفارس کے علاقوں پر اللہ کے دین کے غلبے کی پیش گوئیاں کیں۔ (اس نوع کی بعض روایات پہلے باب میں بیان کی جا چکی ہیں جبکہ مزید تفصیل آئندہ باب میں دیکھی جا سکتی ہے۔) 'لیظہرہ علی الدین کلہ' کے اس وعدے کا یہ متعین مصداق صحابہ کرام اور ان کے بعد صدر اول کے اہل علم پر بھی پوری طرح واضح تھا اور وہ اس کی تفسیر اسی مخصوص تناظر میں ایک وعدے کے طور پرکرتے تھے۔

ام المومنین عائشہ روایت کرتی ہیں:

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم یقول لا یذہب اللیل والنہار حتی تعبد اللات والعزی فقلت یا رسول اللہ ان کنت لاظن حین انزل اللہ (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون) ان ذلک تاما قال انہ سیکون من ذلک ما شاء اللہ ثم یبعث اللہ ریحا طیبۃ فتوفی کل من فی قلبہ مثقال حبۃ خردل من ایمان فیبقی من لا خیر فیہ فیرجعون الی دین آباۂم.(مسلم، رقم ۵۱۷۴)

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ دن اور رات کا سلسلہ ختم ہونے سے پہلے وہ وقت پھر آئے گا کہ لات اور عزیٰ کی پوجا شروع کر دی جائے گی۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ 'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون' تو میں اس کا مطلب یہ سمجھتی تھی کہ ایک مرتبہ حاصل ہونے کے بعد یہ غلبہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک اللہ چاہے گا، یہ دین غالب رہے گا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں جو ہر اس شخص کو وفات دے دے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ اس کے بعد وہی لوگ رہ جائیں گے جن میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر نہ ہوگی اور پھر وہ اپنے آباواجداد کے دین کی طرف واپس پلٹ جائیں گے۔''

ایک دوسرے موقع پر ام المومنین عائشہؓ نے فرمایا:

کان المومنون یفر احدہم بدینہ الی اللہ تعالی والی رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم مخافۃ ان یفتن علیہ فاما الیوم فقد اظہر اللہ الاسلام والیوم یعبد ربہ حیث شاء.(بخاری، رقم ۳۶۱۱)

''اہل ایمان اپنے دین کو بچانے کے لیے اس خوف سے کہ انھیں ستایا نہ جائے، بھاگ کر اللہ اور اس کے رسول کے پا س آ جاتے تھے، لیکن آج تو اللہ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا ہے اور آج مومن جہاں چاہے، اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔''

تمیم داریؓ نے بھی غلبہ دین کے اس وعدے کو جزیرۂ عرب ہی کے تناظر میں سمجھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: 'لا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر الا ادخلہ اللہ ہذا الدین بعز عزیز او بذل ذلیل' (اللہ تعالیٰ شہروں اور دیہات کا کوئی گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جس میں یہ دین داخل نہ ہو جائے۔ کچھ لوگ عزت پائیں گے اور کچھ ذلیل ہوں گے) نقل کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ:

قد عرفت ذلک فی اہل بیتی لقد اصاب من اسلم منہم الخیر والشرف والعز ولقد اصاب من کان منہم کافرا الذل والصغار والجزیۃ.(مسند احمد، رقم ۱۶۲۴۴)

''میں نے یہ پیش گوئی اپنے خاندان میں پوری ہوتے دیکھ لی ہے۔ ان میں سے جو اسلام لائے، ان کو تو خیر اور عزت اور شرف ملا، اور جو کافر رہے، ان پر ذلت اور پستی اور جزیہ مسلط کر دیا گیا۔'' ۱۷؂

ایک اور روایت کے مطابق تمیم داری نے قبول اسلام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ:

یا رسول اللہ ان اللہ مظہرک علی الارض کلہا فہب لی قریتی من بیت لحم، قال ہی لک. (ابو عبید، الاموال ۳۶۸)

''یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اس ساری سرزمین پر غلبہ عطا فرمانے والے ہیں تو بیت لحم کی بستی مجھے عطا کر دیجیے۔ آپ نے فرمایا: وہ تمھاری ہے۔''

سیدنا عمرؓ نے ایک موقع پر حج میں رمل کے طریقے کے بارے میں فرمایا:

فی ما الرملان الآن والکشف عن المناکب وقد اطا اللہ الاسلام ونفی الکفر واہلہ ومع ذلک لا ندع شیئا کنا نفعلہ علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. (مسند احمد، رقم ۳۰۰)

''اب جبکہ اللہ نے اسلام کو استحکام بخش دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا صفایا ہو چکا ہے، طواف کرتے ہوئے تیز چلنے اور کندھوں کو ننگا کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی، لیکن اس کے باوجود ہم اس طریقے کو ترک نہیں کریں گے جس پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کیا کرتے تھے۔''

فارس کی فتوحات کا سلسلہ اختتام کے قریب پہنچا تو سیدنا عمرؓ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں اس وعدے کی تکمیل پر اللہ کا شکر ادا کیا:

ان اللہ بعث محمدا بالہدی ووعد علی اتباعہ من عاجل الثواب وآجلہ خیر الدنیا والآخرۃ فقال ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون فالحمد للہ الذی انجز وعدہ ونصر جندہ الا وان اللہ قد اہلک ملک المجوسیۃ وفرق شملہم فلیسوا یملکون من بلادہم شبرا یضیر بمسلم الا وان اللہ قد اورثکم ارضہم ودیارہم واموالہم وابناء ہم لینظر کیف تعملون. (البدایہ والنہایۃ، ۷/ ۱۲۹)

''بے شک اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دے کر بھیجا اور ان کی اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت، دونوں کے اجر وثواب کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اس نے فرمایا کہ 'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون' ۔ سو اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے لشکر کی مدد کی۔ دیکھو، اللہ نے مجوسیوں کے بادشاہ کو ہلاک کر کے اس کی قوم کا شیرازہ توڑ دیا ہے۔ اب وہ اپنے ملک کی ایک بالشت بھی ایسی زمین کے مالک نہیں جس سے مسلمانوں کو کوئی ضرر پہنچ سکتا ہو۔ سنو، اللہ نے تمھیں ان کی سرزمین اور ان کے گھروں اور مالوں اور اولاد کا مالک بنا دیا تاکہ تمہارا امتحان لے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔''

حضرت حذیفہ نے ایک موقع پر فرمایا:

ان اللہ بعث محمدا فقاتل بمن اقبل من ادبر حتی اظہر اللہ دینہ. (ابن ابی داود، کتاب المصاحف ۱/ ۱۷۶)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا۔ انھوں نے اپنی دعوت پر لبیک کہنے والوں کی مدد سے منہ پھیرنے والوں کے خلاف قتال کیا، یہاں تک کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کر دیا۔''

حسن بصری سورۂ احقاف کی آیت ۹: 'وما ادری ما یفعل بی ولا بکم' (اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ یا تمھارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

اما فی الآخرۃ فمعاذ اللہ قد علم انہ فی الجنۃ حین اخذ میثاقہ فی الرسل ولکن قال وما ادری ما یفعل بی ولا بکم فی الدنیا اخرج کما اخرجت الانبیاء قبلی او اقتل کما قتلت الانبیاء من قبلی ولا ادری ما یفعل بی ولا بکم امتی المکذبۃ ام امتی المصدقۃ ام امتی المرمیۃ بالحجارۃ من السماء قذفا ام مخسوف بہا خسفا ثم اوحی الیہ (واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس) یقول احطت لک بالعرب ان لا یقتلوک فعرف انہ لا یقتل ثم انزل اللہ عزوجل (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا) یقول اشہد لک علی نفسہ انہ سیظہر دینک علی الادیان ثم قال لہ فی امتہ (وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون) فاخبرہ اللہ ما یصنع بہ وما یصنع بامتہ.(تفسیر الطبری ۲۶/ ۸)

''اللہ کی پناہ، اس کا تعلق آخرت سے نہیں ہے۔ جب اللہ نے آپ کے بارے میں انبیا سے میثاق لیا تو یقیناً آپ کے علم میں تھا کہ آپ جنت میں جائیں گے۔ یہ جو آپ نے کہا کہ 'ما ادری ما یفعل بی ولا بکم' (پتہ نہیں میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا) تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پتہ نہیں کہ دنیا میں مجھے پہلے انبیا کی طرح مکہ سے نکالا جائے گا یا قتل کر دیا جائے گا، جیسا کہ مجھ سے پہلے نبیوں کو قتل کیا گیا۔ اور یہ بات کہ معلوم نہیں تمہارا کیا بنے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ پتہ نہیں میری امت میری تکذیب کرے گی یا تصدیق؟ اور کیا اس پر آسمان سے پتھر برسیں گے یا اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کی کہ 'واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس' یعنی میں نے اہل عرب کو اس طرح گھیر رکھا ہے کہ تمھیں قتل نہیں کر سکیں گے۔ اس سے رسول اللہ کو پتہ چل گیا کہ آپ قتل نہیں ہوں گے۔ پھر اللہ نے یہ آیت اتاری:'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا' یعنی اللہ نے یہ بات اپنے ذمے لے لی ہے کہ وہ آپ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا۔ پھر آپ کی امت کے بارے میں فرمایا کہ 'وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون'۔ اس طرح اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ وہ آپ کے ساتھ اور آپ کی امت کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔''

'لیظہرہ علی الدین کلہ' کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

یقول اشہد لک علی نفسہ انہ سیظہر دینک علی الدین کلہ وہذا اعلام من اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم والذین کرہوا الصلح یوم الحدیبیۃ من اصحابہ ان اللہ فاتح علیہم مکۃ وغیرہا من البلدان مسلیہم بذلک عما نالہم من الکآبۃ والحزن بانصرافہم عن مکۃ قبل دخولہموہا وقبل طوافہم بالبیت. (تفسیر الطبری، ۲۶/ ۱۰۹)

''اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا ہے کہ اس نے یہ بات طے کر رکھی ہے کہ وہ آپ کے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ان ساتھیوں کے لیے جنھوں نے حدیبیہ کی صلح کو ناپسند کیا تھا، اس بات کی اطلاع ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں مکہ اور دوسرے شہروں کی فتح عطا فرمائے گا اور اس موقع پر مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے واپس پلٹنے سے انھیں جو دکھ اور غم پہنچا ہے، اس کا مداوا اس طریقے سے کر دے گا۔''

عبد اللہ بن سلامؓ نے سیدنا عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے والے باغیوں سے فرمایا:

ان اللہ بعث محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بشیرا ونذیرا یبشر بالجنۃ وینذر بالنار فاظہر اللہ من اتبعہ من المومنین علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون. (احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ ۱/ ۴۷۶)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا۔ آپ جنت کی خوشخبری دیتے اور جہنم سے خبردار کرتے تھے۔ پھر اللہ نے آپ کی پیروی اختیار کرنے والے اہل ایمان کو تمام ادیان پر غالب کر دیا، اگرچہ مشرکوں کو یہ بات بہت ناپسند تھی۔''

قتادۃ سورۂ صف کی آیت: 'کونوا انصار اللہ کما قال عیسی ابن مریم للحواریین' کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

قد کان ذلک بحمد اللہ جاء ہ سبعون رجلا فبایعوہ تحت العقبۃ وآووہ حتی اظہر اللہ دینہ. (ابن عبد البر، الاستیعاب ۱/ ۱۴)

''اللہ کا شکر ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کے پاس ستر انصار آئے جنھوں نے گھاٹی کے نیچے آپ کی بیعت کی اور آپ کو ٹھکانا فراہم کیا، یہاں تک کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کر دیا۔''

امام شافعی لکھتے ہیں:

قال اللہ تبارک وتعالی: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ... فقد اظہر اللہ عزوجل دینہ الذی بعث بہ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الادیان بان ابان لکل من سمعہ انہ الحق وما خالفہ من الادیان باطل واظہرہ بان جماع الشرک دینان دین اہل الکتاب ودین الامیین فقہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الامیین حتی دانوا بالاسلام طوعا وکرہا وقتل من اہل الکتاب وسبی حتی دان بعضہم بالاسلام واعطی بعض الجزیۃ صاغرین وجری علیہم حکمہ صلی اللہ علیہ وسلم وہذا ظہور الدین کلہ. قال وقد یقال لیظہرن اللہ عزوجل دینہ علی الادیان حتی لا یدان للہ عزوجل الا بہ وذلک متی شاء اللہ تبارک وتعالی. (الام، ۴/ ۱۷۱)

''اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون'۔ چنانچہ اللہ نے اپنے اس دین کو جو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا تھا، تمام دینوں پر غالب کر دیا، اس طریقے سے بھی کہ اس نے سب سننے والوں پر واضح کر دیا کہ یہی دین حق ہے اور اس کے سوا باقی تمام ادیان باطل ہیں، اور اس طرح بھی کہ کفر وشرک کے داعی دو بڑے مذہبی گروہوں یعنی اہل کتاب اور امیین عرب میں سے امیین کو تو جبراً وقہراً قبول اسلام پر مجبور کیا جبکہ اہل کتاب میں سے کچھ کو قتل کیا اور کچھ کو قیدی بنایا، یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو اسلام میں داخل ہو گئے اور باقی نے ذلیل ہو کر جزیہ دینا منظور کر لیا اور احکام اسلام کے زیر نگیں آگئے۔ اس طرح تمام دینوں پر غلبے کا وعدہ پورا ہو گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو تمام ادیان پر اس طرح غالب کریں گے کہ کسی دوسرے دین کا کوئی پیروکار باقی نہیں رہے گا اور یہ جب اللہ چاہے گا، تب ہوگا۔ ''

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:

کان النبی یدعو الی الاسلام قبل ان یحارب حتی اظہر اللہ الدین وعلا الاسلام ولا اعرف الیوم احدا یدعی قد بلغت الدعوۃ کل احد والروم قد بلغتہم الدعوۃ وعلموا ما یراد منہم وانما کانت الدعوۃ فی اول الاسلام . (ابن قدامہ، المغنی، مسئلہ ۷۴۳۶)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے پہلے دشمن کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے دین کو غالب کر دیا اور اسلام سربلند ہو گیا۔ میرے خیال میں آج کسی شخص کو دعوت دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ سب تک دعوت پہنچ چکی ہے۔ رومیوں تک بھی دعوت پہنچ چکی ہے اور انھیں معلوم ہے کہ ان سے کیا چیز مطلوب ہے۔ دعوت دینا صرف اسلام کے ابتدائی زمانے میں ضروری تھا۔''

امام ابوبکر الجصاص اس وعدے کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وقولہ تعالی (لیظہرہ علی الدین کلہ) من دلائل النبوۃ لانہ اخبر بذلک والمسلمون فی ضعف وقلۃ وحال خوف مستذلون مقہورون فکان مخبرہ علی ما اخبر بہ لان الادیان التی کانت فی ذلک الزمان الیہودیۃ والنصرانیۃ والمجوسیۃ والصابءۃ وعباد الاصنام من السند وغیرہم فلم تبق من اہل ہذہ الادیان امۃ الا وقد ظہر علیہم المسلمون فقہروہم وغلبوہم علی جمیع بلادہم او بعضہا وشردوہم الی اقاصی بلادہم فہذا ہو مصداق ہذہ الآیۃ التی وعد اللہ تعالیٰ فیہا اظہارہ علی جمیع الادیان. (احکام القرآن، ۳/ ۴۴۲)

''اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل میں سے ایک ہے کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اس وقت بتائی تھی جب مسلمان ضعف اور قلت اور خوف کی حالت میں لاچار اور دبے ہوئے تھے۔ پھر یہ پیش گوئی بعینہٖ اسی طرح پوری ہوئی، کیونکہ اس زمانے کے مذہبی گروہ یہی یہود، مسیحی، مجوسی، صابی اور سندھ کے بت پرست وغیرہ تھے۔ اور ان گروہوں میں سے کوئی گروہ ایسا نہیں جس پر مسلمانوں کو غلبہ نہ نصیب ہوا ہو ۔ چنانچہ مسلمانوں نے یا تو ان کے سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور یا کچھ علاقے چھین کر انھیں اپنے ملک کے دور دراز کونوں میں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ہے اس آیت کا مصداق جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔''

امام ابو الحسن اشعری فرماتے ہیں:

وجاہد فی اللہ حق الجہاد وقاتل اہل العناد حتی تمت کلمۃ اللہ عز وجل وظہر امرہ وانقاد الناس للحق اجمعین حتی اتاہ الیقین لا وانیا ولا مقصرا. (الابانۃ عن اصول الدیانۃ، ص ۳۵)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا جیسے جہاد کرنے کا حق ہے اور معاندین کے ساتھ جنگ کی یہاں تک اللہ کا فیصلہ پورا ہو گیا، اس کا دین غالب ہو گیا اور سب لوگ حق کے مطیع ہو گئے، یہاں تک کہ آپ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ آپ نے اپنے فریضے کی ادائیگی میں نہ کوئی سستی دکھائی اور نہ کوتاہی کی۔''

امام نووی لکھتے ہیں:

فلما کان الفتح واظہر اللہ الاسلام علی الدین کلہ واذل الکفر واعز المسلمین سقط فرض الہجرۃ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا ہجرۃ بعد الفتح. (شرح مسلم، ص ۱۲۰۱)

''پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر دیا، کفار کو ذلیل اور اہل اسلام کو سربلند کر دیا تو ہجرت کا فریضہ ساقط ہو گیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔''

امام طحاوی لکھتے ہیں:

قولہ صلی اللہ علیہ وسلم تاکل القری ای یغلبونہم علی قراہم فیفتحونہا وقد کان ذلک منہم علیہ حتی اظہر اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الدین کلہ وذلک علم جلیل من اعلام نبوتہ فی الیہود والنصاری. (المعتصر من المختصر، ۲/ ۲۰۴)

''نبی صلی اللہ علیہ کا ارشاد ہے: 'تاکل القری' یعنی اہل ایمان کفار کے علاقوں پر غالب آ جائیں گے اور انھیں فتح کر لیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام ادیان پر غالب کر دیا۔ اور یہ چیز یہود ونصاریٰ کے حق میں آپ کی نبوت کے دلائل میں سے ایک عظیم دلیل ہے۔''

امام ابن تیمیہ نے بھی اس کی تفسیر ایک وعدے کی حیثیت سے کی ہے جو بالفعل پورا ہو چکا ہے:

ثم استخلف عمر فقہر الکفار من المجوس واہل الکتاب واعز الاسلام ومصر الامصار وفرض العطاء ووضع الدیوان ونشر العدل واقام السنۃ وظہر الاسلام فی ایامہ ظہورا بان بہ تصدیق قولہ تعالی ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا وقولہ تعالی وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ... الفاسقون وقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا ہلک کسری فلا کسری بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ والذی نفی بیدہ لتنفقن کنوزہما فی سبیل اللہ فکان عمر رضی اللہ عنہ ہو الذی انفق کنوزہما. (مجموع الفتاویٰ، ۲۵/ ۲۹۸)

''حضرت ابوبکر کے بعد عمر خلیفہ بنے اور انھوں نے کفار میں سے مجوس اور اہل کتاب کو زیر نگیں بنایا، اسلام کو سربلند کیا، شہر آباد کیے، وظائف مقرر کیے، دیوان قائم کیا، عدل گستری کی اور سنت کو قائم کیا۔ ان کے دور حکومت میں اسلام کو ایسا غلبہ نصیب ہوا جس سے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی صداقت آشکارا ہو گئی جو ان آیات میں بیان ہوا ہے: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا اور وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ... الفاسقون۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ''جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، ان دونوں بادشاہوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں گے۔'' یہ سیدنا عمر ہی تھے جنھیں ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔''

مزید لکھتے ہیں:

قولہ ''قالت الامامیۃ: فاللہ یحکم بیننا وبین ہولاء وہو خیرالحاکمین'' فیقال للامامیۃ ان اللہ حکم بینہم فی الدنیا بما اظہرہ من الدلائل والبینات وبما یظہرہ اہل الحق علیکم فہم ظاہرون علیکم بالحجۃ والبیان وبالید واللسان کما اظہر دین نبیہ علی سائر الادیان. قال تعالیٰ: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ، ومن کان دینہ قول اہل السنۃ الذی خالفتموہم فیہ فانہ ظاہر علیکم بالحجۃ واللسان کظہور دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی سائر الادیان ولم یظہر دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم قط علی غیرہ من الادیان الا باہل السنۃ کما ظہر فی خلافۃ ابی بکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم ظہورا لم یحصل لشئ من الادیان وعلی رضی اللہ عنہ مع انہ من الخلفاء الراشدین ومن سادات السابقین الاولین لم یظہر فی خلافتہ دین الاسلام بل وقعت الفتنۃ بین اہلہ وطمع فیہم عدوہم من الکفار والنصاری والمجوس بالشام والمشرق. (ذہبی، المنتقیٰ من منہاج السنۃ النبویۃ، ص ۱۸۴)

''معترض کا یہ قول کہ امامیہ کہتے ہیں کہ ہمارے اور ان کے مابین اللہ ہی فیصلہ کرے گا اور وہ سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، تو اس کے جواب میں امامیہ سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے مابین اپنے ظاہر کردہ دلائل و بینات کے ذریعے سے اور اہل حق کو تم پر غلبہ دے کر فیصلہ کر دیا ہے، چنانچہ اہل حق دلیل و برہان اور طاقت اور زبان، ہر لحاظ سے بالادست ہیں، ایسے ہی جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دین کو تمام ادیان پر غالب کیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ۔ جو لوگ اہل سنت کے دین کے، جس کے تم مخالف ہو، پیروکار ہیں، وہ ایسے ہی تم پر حجت واستدلال میں غالب ہیں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تمام ادیان پر غالب ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دوسرے ادیان پر اہل سنت ہی کے ہاتھوں غالب ہوا جیسا کہ حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں اس کو ایسا غلبہ نصیب ہوا جو دنیا کے کسی دین کو نہیں ہوا، جبکہ علی رضی اللہ عنہ اگرچہ خلفائے راشدین میں سے اور سابقین اولین کے بزرگوں میں سے تھے، لیکن ان کے عہد خلافت میں اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہوا بلکہ خود اہل اسلام کے مابین جنگ وجدال برپا ہو گیا اور ا ن کے دشمن کفار اور شام اور مشرق کے نصاریٰ اور مجوس ان کو نقصان پہنچانے کا خواب دیکھنے لگے۔''

ابن کثیر فرماتے ہیں:

ہذا وعد من اللہ تعالیٰ لرسولہ صلوات اللہ وسلامہ علیہ بانہ سیجعل امتہ خلفاء الارض ای ائمۃ الناس والولاۃ علیہم وبہم تصلح البلاد وتخضع لہم العباد ولیبدلنہم من بعد خوفہم امنا وحکما فیہم وقد فعلہ تبارک وتعالی ولہ الحمد والمنۃ ... ثبت فی الصحیح ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقہا ومغاربہا وسیبلغ ملک امتی ما زوی لی منہا فہا نحن نتقلب فی ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ. (البدایہ والنہایہ ۳/ ۳۰۰، ۳۰۱)

''یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ آپ کی امت کو زمین کے حکمران اور اصحاب اقتدار بنائے گا، ان کے ذریعے سے ان ملکوں میں صلاح پیدا ہوگی، لوگ ان کے مطیع ہو جائیں گے اور اللہ ان کے خوف کی جگہ انھیں امن اور لوگوں پر حکومت کا موقع عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا کر دیا اور وہی تعریف اور احسان کا سزاوار ہے۔... صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی اور میں نے اس کے مشرق اور مغرب کے علاقے دیکھے اور میری امت کا اقتدار وہاں تک پہنچے گا جہاں تک زمین سمیٹ کر مجھے دکھائی گئی۔ تو دیکھو، اب ہم اللہ اور رسول کے بیان کردہ موعودہ علاقوں میں چل پھر رہے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔''

شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

''قال اللہ تعالیٰ: لیظہرہ علی الدین کلہ وایں وعدہ بنا بر حکمت الٰہی در زمان آنحضرت بظہور نرسید لاجرم خلفا را بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم منصوب ساخت تا آں موعود منجز گردد'' (ازالۃ الخفاء ۱/ ۲۰)

''اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لیظہرہ علی الدین کلہ۔ اور یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پورا نہیں ہو سکا، ا س لیے لازمی طور پر اللہ نے آپ کے بعد خلفائے راشدین کو مقرر کیا تاکہ یہ وعدہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔''

دور اول کے اہل علم کے ہاں آیت کا یہ مفہوم عمومی طور پر واضح ہے، البتہ امام شافعی نے بالکل سرسری طور پر یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جب اللہ چاہے گا، اسلام کا غلبہ پوری دنیا پر قائم ہو جائے گا۔۱۸؂ بعد کے مفسرین کے یہاں اس بات نے من جملہ دیگر اقوال کے ایک قول کی جبکہ متاخرین کے ہاں اس ایک قول نے بھی رفتہ رفتہ 'واحد' قول کی شکل اختیار کر لی اور عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا کہ اس وعدے کا ایفا قرب قیامت میں امام مہدی کے ظہور اور سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول کے موقع پر ہوگا۔ ہم نے قرآن مجید میں ان آیات کے سیاق وسباق کی روشنی میں اس وعدے کا جو محل بیان کیا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے حوالے سے اللہ کے اسی غیر متبدل قانون کا بیان ہے جس کے مطابق پیغمبر اور اس کے ساتھی بہرحال اپنے مخالفین پر غالب آ کر رہتے ہیں۔ غلبہ دین کا یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اصلاً جزیرۂ عرب کے حدود میں کیا تھا اور یہ چونکہ آپ کے منصب رسالت کا لازمی تقاضا تھا، اس لیے اس کی تکمیل آپ کی ذات کی حد تک آپ کی حیات مبارکہ ہی میں ہو گئی تھی۔ اس کے بعد صحابہ کرام کو جو فتوحات حاصل ہوئیں، وہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہونے والے غلبے کی توسیع اور تکمیل تھیں، اس لیے وہ بھی ضمناً اس کا مصداق قرار پاتی ہیں، لیکن زمان ومکان کے اس مخصوص دائرے سے باہر نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نصرت کا کوئی وعدہ ہے اور نہ اس سے نظری سطح پر کوئی آفاقی ہدف اخذ کیا جا سکتا ہے۔

________

۱۶؂ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، ۲۸/ ۲۹۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، ۲/ ۱۸۸، ۱۹۰۔

۱۷؂ یہی روایت امام ابن حبان نے مقداد بن الاسود سے نقل کی ہے اور اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے: 'ذکر الاخبار عن اظہار اللہ الاسلام فی ارض العرب وجزائرہا' (صحیح ابن حبان، رقم ۶۶۹۹) ''ان روایات کا ذکر جن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو سرزمین عرب اور اس کے جزیروں پر غالب کر دیں گے۔''

۱۸؂ الام، ۴/ ۱۷۱۔

____________




Articles by this author