ماں کا بھروسا

ماں کا بھروسا


انسانوں کی یہ بستی بھی عجیب تھی۔ اس بستی میں رہنے والوں سے زیادہ ظلم شاید ہی کسی پر ہوا ہو! اس کا بادشاہ بہت ظالم تھا۔ اس بادشاہ نے جو قانون بنا رکھا تھا، اس سے پہلے وہ قانون کسی نے نہیں بنایا تھا۔ یہ کہانی اسی عجیب اور مظلوم بستی کے ایک گھرانے کی ہے اور اس کاایک ایک لفظ بالکل سچا اور حقیقت پر مبنی ہے۔

یہ کہانی ایک ماں کی کہانی ہے جس کا نام ''یوکبد'' تھا۔ یوکبد کے ہاں جب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے بعد تیسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ خوش ہونے کے بجائے سخت خوف زدہ اور پریشان ہو گئی۔ اس کی پریشانی کی وجہ وہ خوف ناک قانون تھا جو بادشاہ نے بنایا تھا۔

اس قانون کے مطابق بستی میں رہنے والے لوگوں کے ہاں جو بھی بیٹا پیدا ہوتا، اسے قتل کر دیا جاتا۔ بادشاہ کی جاسوس عورتیں بستی میں پھرتی رہتیں۔ انھیں جیسے ہی کسی کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی خبر ملتی، فوراً ظالم بادشاہ کے سپاہیوں کو خبر کر دیتیں اور وہ معصوم بچے کو قتل کر دیتے۔

یوکبد کو یہی فکر تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو ظالم بادشاہ کے سپاہیوں سے کیسے محفوظ رکھے۔ اس کے شوہر نے اپنے طور پر اس کا انتظام کر رکھا تھا کہ کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ ان کے ہاں بیٹے نے جنم لیا ہے۔ لیکن یوکبد اپنے شوہر سے کہتی کہ ہم کب تک اس بات کو چھپائیں گے۔ جس دن ظالم بادشاہ کو خبر پہنچی، اسی دن وہ میرے خوب صورت اور روشن آنکھوں والے بچے کو لے جائیں گے۔ وہ دن رات اپنے بچے کی سلامتی کی دعائیں مانگتی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا اسی قدر اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہو رہا تھا کہ نہ جانے کب ظالموں کوخبر ہو جائے اور وہ بچے کو مارنے پہنچ جائیں۔

یہ انھی دنوں کی بات ہے جب یوکبد کو محسوس ہواجیسے اس سے کسی نے شرگوشی کی ہے۔ اس نے ارد گرد دیکھا لیکن وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ کمرے میں اکیلی ہی تھی۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ میرا وہم ہو، لیکن اسے آواز دوبارہ سنائی دی۔ اس مرتبہ آواز اتنی صاف اور واضح تھی کہ اسے کسی قسم کا شک نہ رہا۔ واقعی کوئی اس کا نام لے رہا تھا۔ کہہ رہا تھا:

''اے یوکبد، جب تمھیں بچے کے بارے میں خطرہ محسوس ہو تو اسے ایک صندوق میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دینا۔ دریا اسے کنارے پر دھکیل دے گا۔ پھر ہمارا وعدہ ہے کہ ہم اس بچے کو محفوظ بھی رکھیں گے اور یہ تمھاری گود میں پرورش بھی پائے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔''

یوکبد اللہ پر یقین رکھنے والی ماں تھی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اس سے سرگوشی کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ نے کی ہے اور اپنے دل کے ٹکڑے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں بہا دینے کا حکم کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ نے دیا ہے تو اس نے فوراً اس حکم پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنی بڑی بیٹی مریم کو اپنا ہم راز بنایا اور اس کے ساتھ مل کر لکڑی کا ایک صندوق لیا۔ اس پر اچھی طرح روغن کیا تاکہ پانی سے لکڑی خراب نہ ہو۔ پھر اپنے خوب صورت بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے صندوق میں ڈالا اور بیٹی سے کہا کہ اسے خاموشی سے دریا میں بہا آؤ۔

مریم کو روانہ کر کے وہ اللہ سے بچے کی سلامتی کی دعائیں مانگلنے لگی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ انتظار کرنے لگی کہ مریم کب واپس آتی ہے تاکہ وہ اس سے پوچھے کہ صندوق دریا میں بہتا ہوا کدھر گیا ہے۔

اس کا انتظار طویل ہوتا گیا۔ یوکبد سخت بے چین تھی کہ آخر اس کی بیٹی واپس کیوں نہیں آئی ۔ کبھی دل میں یہ وہم پیدا ہوتا کہ کہیں بادشاہ کے سپاہیوں نے تواسے صندوق دریا میں بہاتے نہیں دیکھ لیا۔ وہ سوچتی کہ اگر ایسا ہوا تو سپاہی بچے کو تو قتل کریں گے ہی، مریم کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن پھر اسے اللہ کا وعدہ یاد آیا اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جل اٹھا۔ وہ اللہ سے مخاطب ہوئی:

''اے اللہ، مجھے تمھارے وعدے پر پورا پورا بھروسا ہے۔ لیکن کیا کروں، میں ایک ماں بھی ہوں۔ دل بار بار وہموں اورخیالوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔''

کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد مریم ہانپتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔ ماں اس کے چہرے پر لکھی تحریر کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ مریم نے سرگوشی سے کہا:

''ماں، تیار ہوجاؤ۔ آپ میرے ساتھ بادشاہ کے محل میں جا رہی ہیں۔''

ماں کا دل دھک سے رہ گیا، بولی: ''کیا بیٹے کو بچانے کی کوشش کرنے کے الزام میں مجھے سزا ملنے والی ہے؟''

دراصل یوکبد بادشاہ یا اس کی حکومت کے کسی شخص سے اچھے سلوک کی توقع ہی نہیں رکھتی تھی۔ ان ظالم حکمرانوں نے اپنے مخالفوں کے بچوں ہی کوقتل کرنے کا قانون نہیں بنایا تھا ، بلکہ انھوں نے سب مردوں اور عورتوں کو اپنا غلام بنا رکھا تھا اور ان سے پتھر ڈھونے اور عمارتیں بنوانے کا کام لیتے تھے۔

''نہیں ماں.... دراصل میرا بھائی بادشاہ کے محل میں ہے!'' مریم نے رازداری سے کہا۔

یہ خبر اور بھی زیادہ پریشان کر دینے والی تھی۔ وہ فوراً بولی : ''میرا بیٹا بادشاہ کے محل میں.... یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا انھوں نے تمھیں صندوق کو دریا میں ڈالتے دیکھ لیا تھا؟''

''نہیں ماں، ایسی بات نہیں۔ میرا بھائی بالکل محفوظ ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ تمھارا بیٹا اور میرا بھائی ہے۔ اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق میرے بھائی کی حفاظت کی ہے۔''

یوکبد سے اب مزید صبر نہ ہوا۔ وہ بولی: ''بیٹی، مجھے پوری بات بتاؤ۔ مجھ میں تو اب سوال پوچھنے کی بھی ہمت نہیں رہی۔ ساری بات تفصیل سے بتاؤ۔''

مریم نے کہا: ''ماں جب میں نے صندوق کو دریا میں بہا دیا تو مجھے کسی نے نہیں دیکھا۔ میں صندوق کو دریا میں ڈال کر چھپ کر دیکھتی رہی۔ پھر تھوڑے فاصلے سے دریا کے کنارے کنارے چلنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ صندوق بادشاہ کے محل کی طرف جا رہا ہے۔

میں بہت پریشان ہوئی اور جب میں نے صندوق کو محل کے بالکل سامنے کنارے لگتے دیکھا تو ایک طرف چھپ کر کھڑی ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد محل سے سرکاری محافظ آئے اور صندوق کو دریا سے نکال کر محل میں لے گئے۔ میں بھی کنیز کے روپ میں اندر چلی گئی۔ محل میں موجود دوسری کنیزوں نے بتایا کہ محل کی چھت سے ملکہ نے ایک صندوق کو دریا کے کنارے لگے دیکھا تو اس کو پانی سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔ جب صندوق کو کھولا گیا تو ا س میں ایک خوب صورت بچہ تھا۔ بچہ ملکہ کو بہت پسندآیا۔ ملکہ بے اولاد ہے اس لیے وہ اسے گود لینے کا سوچ رہی ہے۔ کچھ دیر مزید گزری تو یہ خبر مشہور ہوئی کہ بادشاہ نے بچے کو قتل کرنے کا حکم د ے دیا ہے۔''

یوکبد نے جب یہاں تک سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ مگر بیٹی نے دلاسا دیا اور کہا: ''ماں، آپ مت روئیں .... اللہ نے کرم کیا اور بادشاہ نے اپنا حکم واپس لے لیا۔''

''وہ کیسے بیٹی؟ اس سنگ دل میں رحم کیسے آیا؟''

''دراصل بادشاہ جتنا ظالم ہے، ملکہ اتنی ہی رحم دل .... اس نے بادشاہ کو سمجھایا کہ میں بچے کو گود لینا چاہتی ہوں۔ میں اس کی پرورش محل ہی میں کروں گی۔ اس لیے یہ بڑا ہو کر ہمارا دشمن نہیں، دوست ہو گا۔ بادشاہ نے پہلے تو انکار کیا لیکن ملکہ ضد کرتی رہی۔ پھر نہ جانے بادشاہ کے دل میں کیا آئی کہ اس نے ملکہ کو اجازت دے دی۔''

یوکبد نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ وہ اللہ کی قدرت پر حیران ہو رہی تھی کہ اس نے دشمن کے دل میں رحم کیسے پیدا کر دیا۔ اس کا اللہ پر ایمان اور مضبوط ہو گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس قدر ظالم شخص کے دل میں بھی کسی کے لیے رحم پیدا ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا صرف اور صرف اللہ ہی کے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔

مریم نے مزید بتایا: ''ماں، صرف یہی نہیں، معجزہ تو یہ ہوا کہ میرے بھائی نے اچانک رونا شروع کر دیا۔''

''ظاہر ہے بیٹی، اسے بھوک لگی ہو گی۔ وہ دودھ پینے کے لیے رو رہا ہو گا۔''

''وہ تو ٹھیک ہے ماں، لیکن آپ کو معلوم ہے بھائی نے کسی آیا کا دودھ نہیں پیا۔ وہ ابھی تک رو رہا ہے۔''

''میرا لعل ابھی تک رو رہا ہے! کیا اتنے بڑے محل میں دودھ پلانے والی کوئی عورت موجود نہیں؟'' یوکبد نے بے چینی سے پوچھا۔

''نہیں ماں، محل میں دودھ پلانے والی کئی عورتیں موجود تھیں۔ ان سب کو بلایا گیا لیکن بھائی نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ سارے محل میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ ملکہ نے جس بچے کو گود لیا ہے وہ کسی آیا کا دودھ نہیں پیتا۔ پھر میرے دل میں نہ جانے کیا بات آئی۔ میں نے ایک کنیز سے کہا کہ میں ایک ایسی عورت کو جانتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وہ کنیز اسی وقت ملکہ کے پاس پہنچی۔ ملکہ کا یہ سننا تھا کہ مجھے بلا بھیجا۔ میں نے ملکہ کو یقین دلایا کہ اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں ایک ایسی عورت کو یہاں لاؤں گی جس کا دودھ یہ بچہ ضرور پیے گا۔ اور ماں اب سیدھی تمھارے پاس پہنچی ہوں .... دیکھو اللہ نے اپنا وعدہ پورا کرنے کا کیسا شان دار انتظام کیا ہے!''

یوکبد سجدے میں گر گئی۔ اللہ نے اس کے بھروسے کا مان رکھ لیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد یوکبد بادشاہ کے محل میں تھی۔ اس نے دیکھا کہ اس کا پیارا بچہ بھوک سے رو رہا ہے اور کسی کی گود میں خاموش نہیں ہو رہا ۔ کنیزوں کا ایک جمگھٹا اس کے ارد گرد کھڑا ہے۔ لیکن اسے کسی کی گود میں وہ محبت نہیں مل رہی جو اسے چپ کرا دے ۔ پھر یوکبد نے اسے ملکہ کی اجازت سے اپنی گود میں لے لیا۔ بچہ خاموش ہو گیا اور دودھ بھی پینے لگا۔ یوں اللہ نے اس ماں سے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ اس کی حفاظت کے لیے دشمن کا محل فراہم کر دیا اور ماں کی ممتا کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے اس کا بچہ اس کی جھولی میں ڈال دیا۔

ماں کے اس بھروسے کا اللہ نے صرف یہی انعام نہیں دیا بلکہ یہ بچہ بڑا ہو کر اللہ کا بہت بڑا رسول بنا۔ آج ساری دنیا انھیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے۔ اور جس ظالم بادشاہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم یعنی بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کا قانون بنایا تھا، اسے دنیا منفتاح فرعون کے نام سے جانتی ہے۔ جس رحم دل اور نیک ملکہ نے انھیں صندوق سے نکالا تھا، ان کا نام حضرت آسیہ رحمۃ اللہ علیہا تھا۔ جس بستی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اس کا نام جشن تھا۔

یہ بھی اس ماں کے اللہ پر بھروسے کا انعام ہی تھا کہ جب فرعون جیسے ظالم بادشاہ نے موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کی جرأت کی تو اسے سمندر میں غرق کر دیا اور اس کی لاش کو رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دیا۔ یہ فرعون اس منفتاح فرعون کا بیٹا تھا جس کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی تھی۔

یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم اور دوسرے اسلام لانے والوں کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی۔ فرعون اور اس کی قوم کے وہ لوگ جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا، اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔

____________




Articles by this author