مصنوعی طرزِ زندگی کا فروغ

مصنوعی طرزِ زندگی کا فروغ


شادی کے مسئلے نے زندگی میں بڑا تصنع پیدا کر دیا ہے۔ والدین؛ خصوصاً لڑکیوں کے والدین کو اچھے رشتوں کے حصول کے لیے مصنوعی طور پر اپنا معیار زندگی بلند کرنا پڑتا ہے۔ اچھی جگہ رہائش، آراستہ گھر، عمدہ ملبوسات وغیرہ اچھے رشتوں کے لیے ٹوٹکے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یو ں بدقسمتی سے معیارِ زندگی بلند کرنے کی جو ریس پہلے ہی جاری تھی اس میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ لڑکیوں میں خود کو جاذب نظر بنانے کا احساس فطری طور پر ہوتا ہے۔ مگر جب یہ شادی کی شرطِ واحد قرار پا جائے تو پھر یہی چیز مرکزِ نگاہ بن جاتی ہے اور دیگر اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اوصاف قابل اعتنا نہیں رہتے۔ جس کے بعد ممکن ہے کہ ان کا ظاہر خوشنما نظر آنے لگے مگر ان کا دامن ان اعلیٰ انسانی خصائل سے خالی رہ جاتا ہے جو عظیم انسانوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔

________




Articles by this author