مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (حصہ دوم)

مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (حصہ دوم)


سرکش گروہوں کے فتنہ وفساد کا ازالہ دوسرے گروہوں سے کیے جانے کی تکوینی سنت کا ذکر یوں کیا گیا ہے:

فَہَزَمُوہُم بِإِذْنِ اللّٰہِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہُ مِمَّا یَشَاءُ وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَکِنَّ اللّٰہَ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْعَالَمِیْنَ.(البقرہ ۲: ۲۵۱)

''چنانچہ بنی اسرائیل نے اللہ کے حکم سے دشمنوں کو شکست دے دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اسے بادشاہت اور حکمت عطا کی اور جن امور سے چاہا، اسے علم دیا۔ اور اگر اللہ نے لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے دفع کرنے کا قانون جاری نہ کیا ہوتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ دنیا والوں پر فضل فرمانے والا ہے۔''

اہل ایمان کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا گیا:

أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ. الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ یَقُولُوا رَبُّنَا اللّٰہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوَاتٌ وَّمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً. (الحج ۲۲: ۳۹، ۴۰)

''جن اہل ایمان کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ بھی لڑائی کریں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، محض اس جرم میں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ اور اگر اللہ ایک گروہ (کے ظلم وعدوان کو) دوسرے گروہ کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو خانقاہوں، گرجوں، کنیسوں اور مسجدوں جیسے مقامات، جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے، گرا دیے جاتے۔''

مولانا نے ان آیات سے قتال کی مشروعیت کی وجہ بجا طور پر فتنہ وفساد اخذ کی ہے، لیکن یہ متعین کرنے کے لیے کہ یہاں کس نوعیت کے 'فساد' کو قتال کی مشروعیت کی علت قرار دیا گیا ہے، انھوں نے آیات کے سیاق وسباق سے مدد لینے کے بجائے قرآن مجید میں ان آیات کی طرف رجوع کیا جن میں 'فساد' کا لفظ کسی بھی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 'فساد' اس عمومی اور وسیع مفہوم کے اعتبار سے قتال کی مشروعیت کا باعث ہے۔ ایسا کرتے ہوئے مولانا نے زبان کے اس عام اسلوب کو نظر انداز کر دیا ہے کہ اپنے مفہوم میں عموم اور وسعت رکھنے والا ایک لفظ جب کسی مخصوص مقام پر استعمال ہوتا ہے تو وہاں اس کے دائرۂ اطلاق میں آنے والی تمام صورتیں لازماً مراد نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اس کے مختلف افراد میں سے ایک فرد اور اس کلی مفہوم کے جزئیات میں سے ایک جزئی بھی ہو سکتی ہے، چنانچہ اگر کسی جگہ اس کی کسی ایک صورت کے لیے کوئی حکم بیان کیا جائے تو اس کا اطلاق اس کی باقی تمام صورتوں میں کیا جانا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر قرآن نے فساد فی الارض کو کسی انسان کے قتل کی وجہ جواز بتایا ہے۲۲؂۔ بالبداہت واضح ہے کہ اس سے فساد کی تمام صورتیں مراد نہیں ہیں اور مثال کے طور پرچوری کو، جس پر صریحاً فساد فی الارض کا اطلاق کیا گیا ہے۲۳؂ ، مستوجب قتل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح آیت محاربہ میں 'ویسعون فی الارض فسادا' سے مراد ماپ تول میں کمی اور چوری کے جرائم نہیں ہیں، حالانکہ ان پر بھی فساد فی الارض کا اطلاق خود قرآن مجید میں کیا گیا ہے۲۴؂۔ بالکل اسی طرح اگر قرآن نے 'فساد فی الارض' کی ایک مخصوص صورت میں جنگ کو جائز قرار دیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مخصوص نوعیت کے فساد کے ازالے کے لیے تلوار اٹھانا ہی موزوں اور موثر ہے۔ اس سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن ہر اس چیزکو جہاد وقتال کا باعث قرار دے رہا ہے جس پر قرآن مجید کی آیات میں لفظ 'فساد' کا اطلاق کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں 'فساد' کی تشریح کرتے ہوئے ان پہلووں کو تو بیان کیا ہے جو ان کے پیش نظر نکتے کو واضح کرنے کے لیے مفید ہیں، لیکن قرآن ہی کے ایسے استعمالات سے صرف نظر کر لیا ہے جو ان کے اپنے قائم کردہ مقدمے کی، یعنی یہ کہ کفر اور شرک اور گمراہانہ اعتقادات جہاد کی مشروعیت کی وجہ نہیں ہیں، نفی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں 'فساد فی الارض' اصلاً خدا کی بندگی اور اطاعت کے مقابلے میں انحراف اور سرکشی کے مفہوم میں بولا جاتا ہے اور انبیا کی تعلیمات کے ساتھ کفر اور ان کی تکذیب کو بھی 'فساد' قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ یونس میں ہے:

بَلْ کَذَّبُوا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوا بِعِلْمِہِ وَلَمَّا یَأْتِہِمْ تَأْوِیْلُہُ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظَّالِمِیْنَ. وَمِنْہُمْ مَّنْ یُؤْمِنُ بِہِ وَمِنْہُمْ مَّنْ لاَّ یُؤْمِنُ بِہِ وَرَبُّکَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ.(یونس ۱۰: ۳۹، ۴۰)

''بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کر سکے اور جس کی اصل حقیقت ابھی تک ان کے سامنے نہیں آئی۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح جھٹلایا تھا، تو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے اور تیرا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔''

سورۂ نمل کی آیت ۱۴ میں فرعون اور آل فرعون کو کھلی نشانیاں سامنے آجانے کے بعد ان کا انکار کرنے کی بنیاد پر 'مفسدین' کہا گیا ہے۔ سورۂ آل عمران میں سیدنا مسیح کی الوہیت کے حوالے سے نصاریٰ کے عقیدے کی تردید کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَہٍ إِلاَّ اللّٰہُ وَإِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِالْمُفْسِدِیْنَ. (آل عمران ۳: ۶۲، ۶۳)

''بے شک یہی (اس معاملے کا) مبنی برحقیقت بیان ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر یہ منہ موڑیں تو اللہ مفسدوں کو خوب جاننے والا ہے۔''

سورۂ اعراف میں کہا گیا ہے کہ خدا کے ساتھ خلق وامر میں کسی کو شریک سمجھنا اور اس سے اپنی مرادیں مانگنا بھی 'فساد فی الارض' ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ. اُدْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ. وَلاَ تُفْسِدُوا فِی الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَّطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ. (الاعراف۷: ۵۴ تا ۵۶)

''سن لو، کائنات کی تخلیق اور تدبیر امور اللہ ہی کے لیے ہے۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ اپنے رب کو پکارو عاجزی سے اور چپکے چپکے۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو اور اللہ کو پکارو اس سے ڈرتے اوراس سے توقع رکھتے ہوئے۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔''

اب اگر مولانا کے طریق استدلال کی رو سے یہ کہا جائے کہ قرآن جب قتال کی مشروعیت کی وجہ 'فساد' کو قرار دیتا ہے تو اس سے مراد بگاڑ کی ہر وہ صورت ہوتی ہے جس پر قرآن میں ''فساد'' کا اطلاق ہوا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ خود کفر وشرک کاخاتمہ یا اس کے علم برداروں کو اس کی سزا دینا بھی جہاد کے محرکات میں شامل ہے، جبکہ مولانا کی ساری توجیہ کا مطمح نظر ہی یہ ہے کہ ایمان واعتقاد کی گمراہیوں کو جہاد کے محرکات اور اہداف سے الگ رکھا جائے۔

بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ قرآن عمومی مفہوم میں فساد کی ہر صورت کے ازالے کے لیے قتال کو مسلمانوں پر فرض کرنا چاہتا ہے، تب بھی اس سے وہ نتیجہ کسی طرح نہیں نکلتا جو مولانا نکالنا چاہتے ہیں، یعنی یہ کہ دنیا کی تمام قوموں سے ان کا حق خود اختیاری چھین کر انھیں اسلامی اقتدار کے تابع کر دیا جائے۔ قرآن کی رو سے قتال کا ہدف یہ ہے کہ فتنہ اور فساد ختم ہو جائے۔ اگر مولانا کے مفروضے کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دنیا کی تمام قومیں کسی نہ کسی صورت میں فتنہ وفساد میں مبتلا ہیں جس کے ازالے کے لیے قتال ضروری ہے تو بھی زیر بحث نصوص میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں کہ اس مقصد کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ جو قوم بھی اس کی مرتکب ہو، اسے حق خود اختیاری سے محروم کر دیا جائے۔ *

دفع فتنہ وفساد کے اصول سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قرآن مجید کی تصریحات کے برعکس ہے، اس لیے کہ قرآن نے اس اصول کے تحت قتال کے جو اطلاقی احکام بیان کیے اور جو تحدیدات عائد کی ہیں، وہ واضح طور پر یہ بتاتی ہیں کہ قرآن دنیا میں فساد کے وجود کو علی الاطلاق قتال کی مشروعیت کی وجہ قرار نہیں دینا چاہتا، بلکہ اس کے نزدیک یہ اجازت ایک مخصوص نوعیت کے فساد کے ازالے کے لیے اور ایک محدود دائرے میں دی گئی ہے اور وہ اس کا نتیجہ لازماً قوموں کے حق خود اختیاری کی نفی یا کسی عالمگیر اسلامی حکومت کے قیام کی صورت میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ چنانچہ سورۂ انفال کی آیات ۷۲، ۷۳ میں، جو اوپر نقل کی گئی ہیں، یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کچھ افراد دارالکفر میں مقیم ہوں اور اہل کفرکے ظلم وستم کا شکار ہوں تو ان کی امداد دو باتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے دار الاسلام کے باسیوں پر فرض ہے: ایک یہ کہ وہ ان سے دین کے معاملے میں مدد کے طالب ہوں اور دوسری یہ کہ کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کامعاہدہ نہ ہو۔

یہ دونوں قیدیں بے حد اہم ہیں۔ ان میں سے پہلی قید یہ واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی، اہل کفر کے نظم اجتماعی کے تحت زندگی بسر کرنے والے مسلمانوں کو ظلم وستم سے بچانے کا فیصلہ ان کی نصرت اور ہمدردی کے جذبے سے ازخود نہیں بلکہ مظلوم فریق کی طرف سے مدد طلب کیے جانے پر ہی کرے گا۔ یہ ایک بے حد حکیمانہ ہدایت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظلوم فریق صبر اور تحمل کے ساتھ اپنے حالات کا مقابلہ خود کرنا چاہتا اور اپنے لیے داخلی سطح پر کوئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے یا کسی وجہ سے بیرونی مداخلت کو قرین مصلحت نہیں سمجھتا یا مسلمانوں کے جس گروہ سے مدد کی توقع کی جا سکتی ہے، اس سے مدد لینے کو مناسب نہیں سمجھتا یا قومی اور قبائلی عصبیت کے زیر اثر اپنی قوم کے حق خوداختیاری کو زیادہ قابل ترجیح سمجھتا ہے تو اسے اس کا فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے جسے نظر انداز کرتے ہوئے اسے ظلم وستم سے بچانے کی کوئی ذمہ داری قرآن مجید مسلمانوں کے کسی آزاد اور با اختیار نظم اجتماعی پر عائد نہیں کرنا چاہتا۔

دوسری قید یہ واضح کرتی ہے کہ خود حفاظتی کے دائرے سے باہر اس اختیار کا توسیعی استعمال دنیا میں بسنے والی مختلف قوموں کے حق خود اختیاری اور قوموں کے باہمی تعلقات کی کلیتاً نفی کرتے ہوئے نہیں، بلکہ ان کالحاظ رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ یہ ہدایت اس تناظر میں بطور خاص قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید نے سورۂ انفال کی آیت میں ۵۸ یہ اجازت دی ہے کہ اگر مسلمانوں کو اپنے ساتھ معاہدہ کرنے والا کسی غیر مسلم گروہ سے بد عہدی کا خدشہ بھی ہو تو اس کے ساتھ معاہد ہ توڑا جا سکتا ہے، جبکہ یہاں دار الکفر کے مسلمانوں کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان پر بالفعل ظلم ہو رہا ہو اور وہ مسلمانوں سے مدد کے طالب ہوں، تب بھی معاہدے کی پاس داری کی جائے گی اور مظلوموں کی مدد کے لیے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

پھر قرآن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فتنہ کے خاتمے کا طریقہ لازماً یہی نہیں کہ اہل کفر پر مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی جائے، بلکہ اگر مظلوم مسلمانوں کو ان کے چنگل سے آزادی دلا کر کسی دوسرے علاقے کی طرف منتقل کر دیا جائے تو قرآن کا منشا اس صورت میں بھی پورا ہو جاتا ہے۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہوا ہے:

وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنْکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنْکَ نَصِیْراً.(النساء ۴: ۷۵)

''تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور کفار کی چیرہ دستی کا شکار ان مردوں ، عورتوں اور بچوں کو چھڑانے کے لیے قتال نہیں کرتے جو یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور اپنی جناب سے ہمارے لیے کوئی مددگار اور اپنے پاس سے ہمارے لیے کوئی حامی بھیج دے۔''

آیت سے واضح ہے کہ ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کی جو صورت اہل ایمان سے مطلوب تھی، وہ ظالموں سے حکومت چھین کر انھیں اسلامی اقتدار کے تابع بنا دینا نہیں، بلکہ مظلوموں کو اس علاقے سے نکال کر انھیں دارالامن تک پہنچانا تھا۔ یہی بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے بھی واضح ہوتی ہے جنھوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم وستم سے نجات دلانے کے لیے سرزمین مصر پر اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت اس سے صرف یہ مطالبہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے اس ملک سے جانے دے۔ یہ فرعون تھا جس نے اپنی قوم کی عصبیت کو ابھارنے کے لیے سیدنا موسیٰ کے پیغام کو سیاسی رنگ دیا اور کہا کہ موسیٰ دراصل مصر کے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ خود مولانا مودودی لکھتے ہیں:

''وہ حضرت موسیٰ کی معقول ومدلل تقریر اور پھران کے معجزے کو دیکھ کر یہ سمجھ گیا تھا کہ نہ صرف اس کے اہل دربار بلکہ اس کی رعایا کے بھی عوام وخواص اس سے متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکیں گے۔ اس لیے اس نے جھوٹ اور فریب اور تعصبات کی انگیخت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس نے کہا یہ معجزہ نہیں جادو ہے اور ہماری سلطنت کا ہر جادوگر اسی طرح لاٹھی کو سانپ بنا کر دکھا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو ذرا دیکھو، یہ تمہارے باپ دادا کو گمراہ اور جہنمی ٹھیراتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو، ہوشیار ہو جاؤ، یہ پیغمبر ویغمبر کچھ نہیں ہے، اقتدارکا بھوکا ہے۔ چاہتا ہے کہ یوسف کے زمانے کی طرح پھر بنی اسرائیل یہاں حکمراں ہو جائیں اور قبطی قوم سے سلطنت چھین لی جائے۔ ان ہتھکنڈوں سے وہ دعوت حق کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔'' (تفہیم القرآن ۳/ ۱۰۰)

قرآن کی بیان کردہ مذکورہ تحدیدات فتنہ وفساد کی اس صورت یعنی مذہبی ایذا رسانی کے خاتمے حوالے سے ہیں جسے وہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا مودودی نے فتنہ وفساد کی ایسی صورتوں کے خاتمے کے لیے جو اس سے کئی درجہ کم سنگین ہیں --- مثلاً رعایا میں نسلی امتیاز قائم کرنا اور ان میں پھوٹ ڈالنا، ناجائز اور غلط قوانین جاری کرنا، تجارتی کاروبار میں بے ایمانی کرنا اور شاہراہوں پر ڈاکے ڈالنا، ان روابط وتعلقات کو خراب کرنا جو انسانی تمدن کی بنیاد ہیں، اور حاکمانہ طاقت کو ظلم وستم اور غارت گری کے لیے استعمال کرنا وغیرہ --- قوموں کے حق خود اختیاری کی نفی اور عالمگیر اسلامی حکومت کے قیام کا جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ قرآن کے مدعا سے کس قدر متجاوز ہے۔

۳۔ مولانا کو اس بات کا احساس ہے کہ ان کا بیان کردہ یہ مقدمہ کہ دنیا کے باطل نظام ہا ے حکومت اسلام کی نظر میں فی نفسہٖ اپنا کوئی قانونی جواز نہیں رکھتے، جہاد سے متعلق نصوص میں تصریحاً بیان نہیں ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اس مقدمے کو قرآن مجید کی چند دیگر آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے درج ذیل نصوص سے استدلال کیا ہے:

وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ. (محمد ۴۷: ۳۸)

''اگر تم حق سے منہ پھیرو گے تو اللہ تمھارے بدلے دوسری قوم کو کھڑا کرے گا اور وہ لوگ تم جیسے نہیں ہوں گے۔''

إِلاَّ تَنْفِرُواْ یُعَذِّبْکُمْ عَذَاباً أَلِیْماً وَیَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیْْئاً.(التوبہ ۹: ۳۹)

''اگر تم راہ الٰہی میں جہاد کے لیے نہ نکلو گے تو اللہ تمھیں دردناک سزا دے گا اور تمھارے بدلے کسی دوسری قوم کو کھڑا کر دے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔''

إِن یَشَأْ یُذْہِبْکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ وَیَأْتِ بِآخَرِیْنَ.(النساء ۴: ۱۳۳)

''اے لوگو! اگر خدا چاہے تو تمھیں ہٹا دے اور دوسرے لوگوں کو تمھاری جگہ لے آئے۔''

وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِیْ الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ.(الانبیاء ۲۱: ۱۰۵)

''ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ ''زمین'' کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔''

مذکورہ آیات سے استدلال کرتے ہیں لکھتے ہیں:

''اس معنی کی آیات قرآن میں بکثرت آئی ہیں او ران سب کا منشا یہ ہے کہ حکومت اور بادشاہی کا حق صلاحیت کے ساتھ مشروط ہے۔ جو قوم صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ اس حق کو بھی کھو دیتی ہے، اور جو صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیتی ہے، وہ اس حق کو بھی حاصل کر لیتی ہے۔ '' (الجہاد فی الاسلام ص ۱۴۷)

تاہم یہ تمام آیات زیر بحث نکتے سے قطعاً غیر متعلق ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی مولانا کا دعویٰ، یعنی یہ کہ اگر دنیا میں کوئی قوم فساد اور بگاڑ کا شکار ہو جائے تو وہ اپنا آزادانہ نظم حکومت قائم کرنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے، نہ تو تصریحاً بیان ہوا ہے اور نہ وہ استنباطاً اس مقدمے کے لیے ماخذ بن سکتی ہیں۔ ان میں سے سورۂ نساء کی آیت 'ان یشا یذہبکم ایہا الناس ویات بآخرین' جس سلسلہ بیان میں آئی ہے، وہ یوں ہے:

وَلَقَدْ وَصَّیْْنَا الَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَإِیَّاکُمْ أَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ وَإِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الأَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ غَنِیّاً حَمِیْداً.وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الأَرْضِ وَکَفَی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً. إِن یَّشَأْ یُذْہِبْکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ وَیَأْتِ بِآخَرِیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ عَلَی ذَلِکَ قَدِیْراً. (النساء ۴: ۱۳۱ ۔ ۱۳۳)

''اور یقیناًہم نے ان لوگوں کو بھی جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، یہ تاکید کی تھی اور تمھیں بھی کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر تم کفر کرو گے تو (اللہ کا کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ) اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بے نیاز، تعریف کا سزاوار ہے۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی بطور کارساز کافی ہے۔ اے لوگو، اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور (تمھاری جگہ) دوسروں کو لے آئے اور اللہ اس پر پوری طرح قادر ہے۔''

آیت سے واضح ہے کہ یہاں نہ تو سیاسی معنوں میں کسی قوم سے دنیوی اقتدار چھین کر صالحین کے سپرد کیے جانے کا مسئلہ زیر بحث ہے اور نہ امت مسلمہ کے لیے اس ضمن میں کوئی قانونی اختیار بیان کیا گیا ہے۔ مقصود کلام یہ واضح کرنا ہے کہ خدا اپنی بادشاہی میں کسی قوم یا گروہ کا محتاج نہیں، بلکہ زمین وآسمان کا مالک اور سب سے بے نیاز ہے۔ وہ اگر کسی قوم کو کسی مقصد کے لیے منتخب کرتا ہے تو اس سے مقصود اس کو آزمانا اور کامیابی کی صورت میں اپنے انعام کا مستحق بنانا ہوتا ہے اور اگر وہ قوم راہ راست سے انحراف کا طریقہ اختیار کرے تو خدا بڑی بے نیازی سے اسے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو اس کی جگہ دے دیتا ہے۔ مولانا مودودی 'تفہیم القرآن' میں اس کی تشریح میں لکھتے ہیں:

''تمھیں اور تمھاری طرح پچھلے تمام انبیا کی امتوں کو ہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی رہی ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ کام کرو۔ اس ہدایت کی پیروی میں تمھاری اپنی فلاح ہے، خدا کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر تم اس کی خلاف ورزی کرو گے تو پچھلی تمام امتوں نے نافرمانیاں کر کے خدا کا کیا بگاڑ لیا ہے جو تم بگاڑ سکو گے۔ اس فرماں رواے کائنات کو نہ پہلے کسی کی پروا تھی نہ اب تمہاری پروا ہے۔ اس کے امر سے انحراف کرو گے تو وہ تم کو ہٹا کر کسی دوسری قوم کو سربلند کر دے گا اور تمہارے ہٹ جانے سے اس کی سلطنت کی رونق میں کوئی فرق نہ آئے گا۔'' (تفہیم القرآن ۱/ ۴۰۵)

یہی معاملہ سورۂ محمد کی آیت ۳۸ اور سورۂ توبہ کی آیت ۳۹ کا ہے۔ یہاں بھی نہ تو نافرمان اور بدکار قومیں مخاطب ہیں اور نہ دنیوی حکومت واقتدار کی اہلیت کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ توبہ میں اس آیت کا سیاق یہ ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انفِرُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِی الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ. إِلاَّ تَنفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَاباً أَلِیْماً وَیَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیْْئاً وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ.(التوبہ ۹: ۳۷، ۳۸)

''اے ایمان والو، تمھیں کیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتاہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کے ساتھ چپک رہتے ہو! کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت میں دنیا کی زندگی کا سامان بہت ہی تھوڑی وقعت رکھے گا۔ اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدل دے گا اور تم اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔''

سورۂ محمد میں ارشاد ہوا ہے:

ہَا أَنتُمْ ہَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَمِنکُمْ مَّن یَبْخَلُ وَمَنْ یَبْخَلْ فَإِنَّمَا یَبْخَلُ عَن نَّفْسِہِ وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءُ وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ. (محمد ۴۷: ۳۸)

''سو دیکھو، تم تو یہ ہو کہ تمھیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کچھ بخل کرتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تو بے نیاز ہے اور تم ہی محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑ لو گے تو اللہ تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدل دے گا، پھر وہ تمھارے جیسے نہیں ہوں گے۔''

صاف واضح ہے کہ دونوں مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اہل ایمان کو مخاطب کر کے انھیں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ جہاد سے اعراض اختیار کریں گے تو خدا ان کی جگہ کسی اور گروہ کو اس خدمت کے لیے منتخب کرلے گا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

''یعنی خدا کا کام کچھ تم پر منحصر نہیں ہے کہ تم کرو گے تو ہوگا ورنہ نہ ہوگا۔ درحقیقت یہ تو خدا کا فضل واحسان ہے کہ وہ تمھیں اپنے دین کی خدمت کا زریں موقع دے رہا ہے۔ اگر تم اپنی نادانی سے اس موقع کو کھو دو گے تو خدا کسی اور قوم کو اس کی توفیق بخش دے گا اور تم نامراد رہ جاؤ گے۔'' (تفہیم القرآن ۲/ ۱۹۵)

جہاں تک سورۂ انبیاء کی آیت: 'ان الارض یرثہا عبادی الصلحون' کا تعلق ہے تو تفہیم القرآن میں اس آیت کے تحت مولانا مودودی نے ہی ان لوگوں کے نقطہ نظر کی واضح تردید کی ہے جو اس آیت سے دنیوی حکومت واقتدار کے حوالے سے خدا کے قانون اور ضابطے کو اخذ کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

''ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتے ہوں۔ اگر یہ غلطی نہ کی جاتی تو آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا تھا کہ اوپر سے جو مضمون مسلسل چلا آ رہا ہے، وہ عالم آخرت میں مومنین صالحین اور کفار ومشرکین کے انجام سے بحث کرتا ہے۔ اس مضمون میں یکایک اس مضمون کے بیان کرنے کا آخر کون سا موقع تھا کہ دنیا میں وراثت زمین کا انتظام کس قاعدے پر ہو رہا ہے۔ تفسیر کے صحیح اصولوں کو ملحوظ رکھ کر دیکھا جائے تو آیت کا مطلب صاف ہے کہ دوسری تخلیق میں، جس کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں ہوا ہے، زمین کے وارث صرف صالح لوگ ہوں گے اور اس ابدی زندگی کے نظام میں موجودہ عارضی نظام زندگی کی سی کیفیت برقرار نہ رہے گی کہ زمین پر فاسقوں اور ظالموں کو بھی تسلط حاصل ہو جاتا ہے۔'' (۳/ ۱۹۰، ۱۹۱)

مولانا نے بعض آیات سے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ قرآن مجید نے ہلاک کی جانے والی قوموں کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی شمار کیا ہے کہ وہ جابر اور سرکش حکمرانوں کی پیروی کیا کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر قوم عاد کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

وَاتَّبَعُوا أَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ. (ہود ۱۱: ۵۹)

''اور انھوں نے ہر سرکش اور ہٹ دھرم کی پیروی اختیار کر لی۔''

اسی طرح حضرت صالح نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:

وَلَا تُطِیْعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَ، الَّذِیْنَ یُفْسِدُونَ فِیْ الْأَرْضِ وَلَا یُصْلِحُونَ. (الشعراء ۲۶: ۱۵۲)

''اور تم حد سے بڑھ جانے والوں کے معاملے کی اطاعت نہ کرو، جو زمین میں فساد مچاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔''

سورۂ کہف میں ارشاد ہوا ہے:

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَن ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ وَکَانَ أَمْرُہُ فُرُطاً. (الکہف ۱۸: ۲۸)

''اور تم اس کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔''

مولانا ان آیات سے یہ اخذ کرنا چاہتے ہیں کہ جابر وظالم حکمرانوں کی حکومت کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتی اور اس کی اطاعت پر قائم رہنا بھی فساد کے زمرے میں آتا ہے۲۵؂۔ تاہم یہ تمام آیات بھی زیر بحث نکتے سے غیر متعلق ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی حکومت اور نظام حکومت کا معاملہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں۔ ان میں سے پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ قوم عاد نے واضح نشانیاں سامنے آ جانے کے باوجود اللہ کے رسولوں کی بات ماننے کے بجائے اپنے ضدی اور متکبر لیڈروں کی روش پر چلنے کو ترجیح دی اور اس کے نتیجے میں خدا کے عذاب کی مستحق قرار پائی۔ پوری آیت یوں ہے:

وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُواْ بِآیَاتِ رَبِّہِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہُ وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ.

''اور یہ عاد تھے جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش اور ہٹ دھرم کی پیروی اختیار کر لی۔''

صاف واضح ہے کہ 'اتباع امر' کی تعبیر یہاں نظام حکومت کی پیروی کے معنی میں نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت اختیار کرنے کے بالمقابل اپنے لیڈروں کی ہٹ دھرمی میں ان کا ساتھ دینے کے مفہوم میں استعمال ہوئی ہے۔

یہی معاملہ حضرت صالح سے متعلق آیات کا ہے۔ وہ سیاسی مفہوم میں قوم کو یہ دعوت نہیں دے رہے کہ وہ اپنے موجود سیاسی نظم کی اطاعت سے دست کش ہو کر ان کے ہاتھ پر سمع وطاعت کی بیعت کر لے، بلکہ نہایت دردمندی کے ساتھ یہ نصیحت کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایمان واخلاق کی جو تعلیم خدا کے حکم سے ان کے سامنے پیش کی ہے، قوم اسے قبول کر لے اور اپنے سرکش اور خداکے باغی سرداروں کی پیروی میں اسے ٹھکرانے کی روش اختیار نہ کرے۔

جہاں تک سورۂ کہف کی آیت ۲۸ کا تعلق ہے تو اسے زیر بحث نکتے کے ضمن میں پیش کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مولانا اپنے مقدمے کی تائید کے لیے کوئی مضبوط نقلی دلیل نہ پا کر انتہائی غیرمتعلق آیات کو بطور دلیل نقل کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ اس آیت میں نہ تو حکومت واقتدار کا مسئلہ زیر بحث ہے اور نہ کوئی غیر مسلم قوم مخاطب ہے جسے 'فاسد نظام حکومت ' کی اطاعت سے دست کش ہونے کا حکم دیا جا رہا ہو۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ آپ اپنے مدعوین میں سے ان لوگوں کو اپنی توجہ اور عنایت کا زیادہ مستحق سمجھیں جو خدا کی یاد میں مصروف رہتے ہیں اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے خداکی یاد سے غافل اور اپنی خواہشات میں مست ہو جانے والے بے پروا لوگوں کی زیادہ فکر نہ کریں۔ ارشاد ہوا ہے:

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ وَلَا تَعْدُ عَیْْنَاکَ عَنْہُمْ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَن ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ وَکَانَ أَمْرُہُ فُرُطاً.(الکہف ۱۸: ۲۸)

''اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ وابستہ کیے رکھو جو اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے صبح اور شام اس کو پکارتے ہیں۔ اور تم دنیا کی زندگی کی زینت کی خواہش سے ان سے صرف نظر نہ کرو اور نہ اس شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے''۔

صاف واضح ہے کہ 'لا تطع من اغفلنا قلبہ' کا جملہ یہاں 'واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم' کے تقابل میں استعمال ہوا ہے اور 'لا تطع' کا مفہوم یہاں کسی حکمران کی اطاعت کرنا نہیں، بلکہ کسی کی فکر میں مبتلا رہنا یا اس کی بات کو اہمیت دینا ہے۔ خود مولانا مودودی نے 'تفہیم القرآن' میں اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ ''یعنی اس کی بات نہ مانو، اس کے آگے نہ جھکو، اس کا منشا پورانہ کرو اور اس کے کہے پر نہ چلو۔ یہاں ''اطاعت'' کا لفظ اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۲۶؂۔''

________

۲۲؂ مائدہ ۵: ۳۲۔

۲۳؂ یوسف ۱۲: ۷۳۔

۲۴؂ ہود ۱۱: ۸۵۔

* سورۂ توبہ کی آیت ۲۹ میں اہل کتاب کو محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کرنے کا جو حکم دیا گیا یا آیت ۳۵ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ہدف غلبہ اسلام کو قرار دیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ اس کا باعث اہل کتاب کا فتنہ و فساد نہیں، بلکہ ان کا کفر تھا۔ ہمارا اعتراض مولانا مودودی پر ہے جو 'کفر' کو فی نفسہ قتال کا باعث تسلیم نہیں کرتے اور اس حکم کی وجہ بھی کفار کے فتنہ وفساد کو قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ بات نہ عقلی اور منطقی لحاظ سے درست ہے اور نہ 'دفع فتنہ وفساد' کی غرض سے قتال کی مشروعیت کو بیان کرنے والے نصوص اس کی تائید کرتے ہیں۔

۲۵؂ الجہاد فی الاسلام ص ۱۱۸، ۱۱۹۔

۲۶؂ تفہیم القرآن ۳/ ۲۳۔

____________




Articles by this author