مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (حصہ سوم)

مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (حصہ سوم)


اوپر کی سطور میں مولانا مودودی کے نقطہ نظر کا جو تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ مولانانے مستقل اور متباین نظری اساسات پر مبنی جہاد وقتال کی دو الگ الگ صورتوں کو گڈمڈ کر کے انھیں ایک ہی اساس یعنی فتنہ وفساد کے تحت واضح کرنے کی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جہادکا مبینہ مقصدحاصل کرنے کے لیے دنیا کی تمام غیر مسلم حکومتوں کا خاتمہ اور عالمگیر اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک طرف انھیں ان نصوص کی غیر متبادر تاویل کرنی پڑی جو کفروایمان کے تناظر میں قتال کا حکم دیتی ہیں اور دوسری طرف فتنہ وفساد کے مفہوم میں ایسی وسعت پیدا کرنی پڑی جس کے نتیجے میں جہاد کی عالمگیریت کا اصول اخذ کیا جا سکے۔ تاہم جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اعتقادی اساس کو چھوڑ کر مولانا نے فتنہ وفساد کے اخلاقی اصول پر جہاد کی تعمیم کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ منطقی استدلال کے لحاظ سے نتیجہ خیز نہیں ہوتی۔

مزید برآں 'الجہاد فی الاسلام' چونکہ مولانا کی ابتدائی علمی کاوش ہے اور اس کا مطمح نظر بھی اسلام کے فلسفہ جہادکو عقلی لحاظ سے برتر ثابت کرنا ہے، اس وجہ سے اس کا انداز تحریر خطیبانہ ہے، حتیٰ کہ علمی استدلال پیش کرتے ہوئے ہوئے بھی منطقی معیار پر مقدمات کی توضیح کے بجائے زیادہ تر خطیبانہ طرز استدلال سے کام لیا گیا ہے۔ اسی رجحان کے زیر اثر مولانا بہت سے اہم پہلووں پر توجہ نہیں دے سکے۔ مثلاً ان کی تعبیر اعتراض کے اصل نکتے کا سرے سے کوئی جواب ہی نہیں دیتی، کیونکہ معترضین کا اصل اعتراض یہ نہیں کہ اقوام عالم کے خلاف جنگ کے لیے اسلام جو محرک اور داعیہ متعین کرتا ہے، وہ غیر اخلاقی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسلام دنیا کے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے آزادی اور خود مختاری کا حق تسلیم نہیں کرتا، جبکہ مولانا کی توجیہ کی رو سے یہ نتیجہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے، اس لیے کہ ان کی پیش کردہ تعبیر اس نتیجے کو بعینہ تسلیم کرتے ہوئے صرف یہ واضح کرتی ہے کہ اسلام کے اس تصور کا محرک ہوس ملک گیری یا مذہبی جبر کا کوئی غیر اخلاقی جذبہ نہیں، بلکہ اقوام عالم کی اخلاقی حالت کو سدھارنے اور ان کے تمدن اور معاشرت کی اصلاح کا ایک نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ اخلاقی جذبہ ہے۔

مزید برآں مولانا نے اپنی تعبیر پر پیدا ہونے والے بعض نہایت بنیادی سوالات سے یا تو تعرض ہی نہیں کیا اور یا اس طرح سرسری طورپر ان کا ذکر کیا ہے کہ اسے 'عدم تعرض' کہنا ہی زیادہ موزوں ہے۔

مثلاً ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی قوموں کی اصلاح کے لیے اگر امت مسلمہ کو یہ اختیار دیا ہے تو کیا وہ کوئی فرشتوں کی جماعت ہے جو بالکل بے غرضی کے ساتھ تاقیامت دوسری قوموں کی اصلاح کی یہ خدمت انجام دیتی رہے گی؟ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اقوام عالم میں پیدا ہونے والے جس بگاڑ اور فساد کی اصلاح کی ذمہ داری مولانا کے نزدیک امت مسلمہ کو تفویض کی گئی ہے، کیا خود امت مسلمہ اس کا شکار ہونے سے محفوظ کر دی گئی ہے؟ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اقتدار پانے کے بعد انسان بے لگام ہو جاتا اور اس کی جبلت کے فسادات کو ظہور پذیر ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ ایک مشترک انسانی کمزوری ہے جس سے دنیا کا کوئی گروہ، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، مستثنیٰ نہیں۔ یہ صرف ایک نظری بات نہیں، بلکہ تاریخ کی عملی شہادت بھی یہی ہے اور نہ صرف بنی اسرائیل بلکہ خود بنی اسماعیل کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ اب اگر کسی غیر مسلم گروہ کی حکومت کو، اقتدار سے منتج ہونے والے فساد کے پیش نظر ختم کرنا جائز ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کی جگہ ایک مسلم حکومت کا قیام بھی تو انسانوں ہی کے ہاتھوں ہونا ہے۔ آخر اس کی کیا ضمانت ہے کہ الٰہی شریعت اور دین کی حامل قوم اقتدار پانے کے بعد انھی اخلاقی فسادات اور قبائح کا شکار نہیں ہوگی؟

اس سوال کا جو جواب مولانا نے دیا ہے، وہ دلچسپ ہے۔ لکھتے ہیں:

''اسلام کے اس عقیدہ کے مطابق حکومت کی اچھائی کامعیار نہ اس کا قومی اور خود اختیاری ہونا ہے اور نہ اس کی برائی کامعیار اجنبی یا غیر خود اختیاری ہونا۔ اصل سوال صرف یہ ہے کہ حکومت کا نظام عادلانہ اور حق پرستانہ ہے یا نہیں؟ اگر پہلی صورت ہے تو اسلام اس کومٹانے کی کوشش تو درکنار، ایسے ارادہ کو بھی گناہ اور ظلم عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن دوسری صورت میں وہ ایک ظالمانہ نظام حکومت کو مٹا کر ایک سچا عادلانہ نظام حکومت قائم کرنا اولین فرض قرار دیتا ہے۔ قومی اور اجنبی کے سوال سے اس نے نفیاً یا اثباتاً کوئی تعرض نہیں کیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک حکومت کے اچھے یابرے ہونے کے سوال پر اس کے قومی ہونے یا نہ ہونے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ غیر قومی حکومت عموماً ظالم وجابر ہوتی ہے، کیونکہ ایک قوم دوسری قوم پر حکومت قائم ہی اس لیے کرتی ہے کہ اسے غلام بنا کر اپنی مصلحت کے لیے استعمال کرے اور اس کے برعکس قومی حکومت میں اصلاح پذیری کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے یہ ضروری نہیں ہے کہ قومی حکومت ہر حال میں بہتر ہو اور غیر قومی حکومت کسی حال میں عادل نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایک قوم پر خود اس کے اپنے سرکش افراد شیطان کی طرح مسلط ہو جائیں اور اسے اپنی شخصی اغراض کا غلام بنا کر تباہ وبرباد کر دیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک قوم کو غیر قوم کے نیک نفس اور بے غرض مصلحین ظلم واستبداد کے پنجہ سے رہائی دلائیں اور اس کے لیے مادی واخلاقی ترقی کی راہیں کھول دیں۔ پس حکومت کی خوبی کا اصلی معیار اس کا عادل وصالح ہونا ہے اور اس کی برائی کا اصلی معیار غیر عادل اور غیر صالح ہونا۔ '' (الجہاد فی الاسلام، ص ۱۴۵، ۱۴۶)

بدیہی طور پر مولانا کی اس نکتہ آفرینی سے حقیقی اور عملی سوال کا جواب نہیں ملتا، اس لیے کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا امت مسلمہ فرشتوں کی جماعت ہے جو جہاد کی اصل اسپرٹ کے ساتھ بالکل بے غرضی سے اقوام عالم کی یہ خدمت انجام دیتی رہے گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قرآن وحدیث کی اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ اسے کشور ستانی اور جہانگیری کے جذبے سے دنیا کی اقوام کو تاراج کرنے سے روکنے کا عمل اور حقیقت کی دنیا میں کیا بندوبست کیا جائے گا؟

یہ سوال بھی مولانا کے سامنے ہے کہ جن منکرات کے خاتمے کے لیے وہ امت مسلمہ کو دنیا میں 'خدائی فوجدار' کی حیثیت دینا چاہتے ہیں، جب ان کی اخلاقی برائی کا شعور انسانوں میں عمومی طورپر موجود ہے اور ہر قوم مختلف سماجی اداروں کی مدد سے ان کے سدباب کا اہتمام کرتی ہے تو کیا اسلام کسی قوم کا یہ حق تسلیم نہیں کرتا کہ وہ اپنی اصلاح کی کوشش خود کرے؟ مولانا اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

''اس سے یہ مطلب نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اسلام قومی حکومت کا دشمن ہے۔ وہ ہر قوم کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے احوال کی اصلاح خود کرے۔ مگر جب کسی قوم کے اعمال بگڑ جائیں، اس کی اخلاقی حالت خراب ہو جائے اور وہ اپنے شریر ومفسد لوگوں کی پیروی واطاعت اختیار کر کے ذلت ومسکنت کی پستیوں میں گر جائے تو اسلام کے نزدیک اس قوم کو حکومت خود اختیاری کا حق باقی نہیں رہتا اور دوسرے لوگوں کو جو اس کے مقابلہ میں اصلح ہوں، اس پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔'' (الجہاد فی الاسلام، ص ۱۴۶)

لیکن مولانا اس نکتے پرکوئی روشنی نہیں ڈالتے کہ اس امر کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا کہ فلاں قوم اب اپنے احوال کی اصلاح خود کرنے کے قابل نہیں رہی اور امت مسلمہ کو اس پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے؟

مولانا کے نقطہ نظر سے یہ سوال بھی تشنہ جواب رہتا ہے کہ نہی عن المنکر کے اصول کے تحت کیا ایک مسلم حکومت اس بات کا بھی حق رکھتی ہے کہ اگر کوئی دوسری مسلم حکومت اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو تو اس کے خلاف جنگ کر کے اس سے حکومت واقتدار چھین لے؟

اس سوال کا بھی کوئی جواب مولانا نے نہیں دیا کہ ان کے تصور کی رو سے قانون بین الاقوام کی بنیاد کیا ہوگی؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد کسی مخصوص مذہب کی توسیع نہیں بلکہ دنیا سے فتنہ وفساد کا خاتمہ اور عدل کا قیام ہے جو ایک عام انسانی اخلاقی اصول ہے تو اس کے تحت اقوام عالم کی اصلاح کا حق دنیا کی ہر اس قوم کو حاصل ہونا چاہیے جو اس کا جذبہ اور اہلیت رکھتی ہو اور اس مشن کو لے کر دنیا کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ 'حق' قابل اعتماد صورت میں صرف مسلمانوں کے پاس ہے، اس لیے وہی یہ حق رکھتے ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ نکتہ اقوام عالم کے مابین مسلمہ نہیں، بلکہ امت مسلمہ کا مذہبی عقیدہ ہے۔ پس اگر مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اخلاقی تصور کے مطابق دنیا کی اصلاح کے لیے تلوار لے کر نکل کھڑے ہوں تو دنیا کی دوسری طاقتوں کو اسی بنیاد پر یہ حق کیوں حاصل نہیں؟ کیا اس صورت میں Might is right بین الاقوامی قانون کی بنیاد قرار نہیں پاتا؟ اگر مغرب اپنے اخلاقی وتہذیبی تصورات کو بزور قوت دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اسے کس بنیاد پر غیر اخلاقی قرار دیا جا سکتا ہے؟

مولانا اس بات کو ملحوظ نہیں رکھتے کہ ان کا بیان کردہ اصول ایک دو دھاری تلوار ہے جو خود مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی مسلم ریاست بھی جبر واستبداد کے نظام پر مبنی ہو تو کسی غیر مسلم ریاست کے لیے جو عدل وانصاف کا بول بالا کرنا چاہتی ہو، اسی اصول کی رو سے یہ جائز ہوگا کہ وہ مسلم حکومت کا خاتمہ کر کے اپنی سیاسی بالادستی میں عدل وانصاف کے قیام کی کوشش کرے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نہیں، اس کے بجائے اسے صرف سیاسی اور اخلاقی ذرائع کو بروئے کار لانا چاہیے اور مسلم قوم کے لیے اپنی سیاسی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے داخلی طور پر اصلاح کا حق برقرار رہنے دینا چاہیے تو یہی بات غیر مسلم قوم کے بارے میں بھی کہنی چاہیے۔

یہ نہایت سنجیدہ اور عملی سوالات ہیں، لیکن مولانانے ان میں سے کسی کو سنجیدہ بحث کا موضوع نہیں بنایا۔

اس کے ساتھ مولانا کے موقف اور استدلال میں یکسوئی اور عناصر استدلال میں توافق (consistency) کا قابل لحاظ فقدان پایا جاتا ہے اور تضاد اور منطقی مغالطوں یا خلط مبحث کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طو رپر مولانا ایک طرف مذہبی عداوت اور کفر وایمان کو قتال کی مشروعیت کا باعث تسلیم نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ جہاد کا مقصد تلوار کے زور پر اسلام کی توسیع واشاعت کرنا نہیں، لیکن دوسری طرف اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کے حوالے سے تلوار کے کردار کو تسلیم بھی کرتے بلکہ اسے ضروری قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

''ہم یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کو تلوار سے ایک گونہ تعلق ضرور ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جہاں تک تبلیغ دین الٰہی کی حد ہے، اس میں تلوار کا کوئی کام نہیں ہے۔ لیکن اس تبلیغ کے ساتھ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جن کے تعاون سے دنیا میں اسلام کی اشاعت ہوتی ہے، اور وہ یقیناً تلوار کی اعانت سے بے نیاز نہیں ہیں۔ ...اگر اسلام صرف چند عقائد کا مجموعہ ہوتا اور اللہ کو ایک کہنے، رسالت کو برحق ماننے، یوم آخر اورملائکہ پر ایمان لانے کے سوا انسان سے وہ کوئی اور مطالبہ نہ کرتا تو شاید شیطانی طاقتوں سے اس کو کچھ زیادہ جھگڑنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون بھی ہے، ایسا قانون جو انسان کی عملی زندگی کو اوامر ونواہی کی بندشوں میں کسنا چاہتا ہے، اس لیے اس کا کام صرف پند وموعظت ہی سے نہیں چل سکتا، بلکہ اسے نوک زبان کے ساتھ نوک سنان سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے عقائد سے سرکش انسان کو اتنا بعد نہیں ہے جتنا اس کے قوانین کی پابندی سے انکار ہے۔ وہ چوری کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دیتا ہے۔ وہ زنا کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے کوڑوں کی مار کا حکم سناتا ہے۔ وہ سود کھانا چاہتا ہے اور اسلام اس کو 'فاذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ' کا چیلنج دیتا ہے۔ وہ حرام وحلال کی قیود سے نکل کر نفس کے مطالبات پورے کرنا چاہتا ہے اور اسلام ان قیود سے باہر نفس کے کسی حکم کی پیروی نہیں کرنے دیتا۔ اس لیے نفس پرست انسان کی طبیعت اس سے متنفر ہوتی ہے اور اس کے آئینہ قلب پر گناہ گاری کا ایسا زنگ چڑھ جاتا ہے کہ اس میں صداقت اسلام کے نور کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ '' (الجہاد فی الاسلام، ص ۱۷۳)

اس فلسفے کی رو سے اسلام کی اشاعت کے لیے کافرانہ سوسائٹی کے پورے اخلاقی اور معاشرتی نظام کو چیلنج کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر اسلام کی تخم ریزی کا عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ مولانا بھی اس نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں:

''جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے، جس طرح ہر تہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ تبلیغ کا کام تخم ریزی ہے اور تلوار کا کام قلبہ رانی۔ پہلے تلوار زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ اس میں بیج کو پرورش کرنے کی قابلیت پیدا ہو جائے، پھر تبلیغ بیج ڈال کر آب پاشی کرتی ہے تاکہ وہ پھل حاصل ہو جو اس باغبانی کامقصود حقیقی ہے۔ ہم کو دنیا کی پوری تاریخ میں کسی ایسی تہذیب کا نشان نہیں ملتا جس کے قیام میں ان دونوں عناصر کا حصہ نہ ہو۔ تہذیب کی کسی خاص شکل کا کیا ذکر ہے، خود تہذیب کا قیام ہی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک قلبہ رانی اور تخم پاشی کے یہ دونوں عمل اپنا اپنا حصہ ادا نہ کریں۔ کوئی شخص جو انسانی فطرت کا رمز شناس ہے، اس حقیقت سے ناآشنا نہیں ہے کہ جماعتوں کی ذہنی واخلاقی اصلاح کے سلسلے میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب کہ قلب وروح کو خطاب کرنے سے پہلے جسم وجان کو خطاب کرنا پڑتا ہے۔'' (الجہاد فی الاسلام، ص ۱۷۵)

تضاد اور پریشان خیالی ہی کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا نے انسان کی جان سے تعرض کرنے کا جواز 'قصاص' کے اصول کو قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کے جان ومال یا آزادی راے پر تعدی کرے، اس کو اس سے روکنے کے لیے یا اس سے بدلہ لینے کے لیے اس کے خلاف تلوار اٹھائی جا سکتی ہے۔ 'قصاص' کو جہاد کی مشروعیت کا بنیادی نکتہ ماننے کایہ نتیجہ بھی مولانا خود بیان کرتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی ظلم وعدوان نہ پائے جانے کی صورت میں کسی گروہ کے خلاف تلوار اٹھانا بھی جائز نہیں۔ لکھتے ہیں:

''یہ تعلیم جنگ کو ہر قسم کے دنیوی مقاصد سے پاک کر دیتی ہے۔ شہرت وناموری کی طلب، عزت وفرمانروائی کی خواہش، مال ودولت اورحصول غنائم کی طمع، شخصی وقومی عداوت کا انتقام، غرض کوئی دنیوی غرض ایسی نہیں ہے جس کے لیے جنگ جائز رکھی گئی ہو۔ ان چیزوں کو الگ کر دینے کے بعد جنگ محض ایک خشک وبے مزہ اخلاقی ودینی فرض رہ جاتی ہے جس کے مہالک وخطرات میں مبتلا ہونے کی ازخود خواہش تو کوئی کر ہی نہیں سکتا، اور اگر دوسرے کی طرف سے فتنہ کی ابتدا ہو تب بھی صرف اس وقت مقابلہ کے لیے تلوار اٹھا سکتا ہے جب کہ اصلاح حال اور دفع ضرر کے لیے تلوار کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ باقی نہ رہے۔'' (الجہاد فی الاسلام، ص ۲۲۱، ۲۲۲)

''اسلام کی تلوار ایسے لوگوں کی گردنیں کاٹنے کے لیے تو ضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں --- اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس تیزی میں وہ حق بجانب نہیں ہے --- لیکن جو لوگ ظالم نہیں ہیں، جو بدکار نہیں ہیں، جو صد عن سبیل اللہ نہیں کرتے، جو دین حق کو مٹانے اور دبانے کی کوشش نہیں کرتے، جو خلق خدا کے امن واطمینان کو غارت نہیں کرتے، وہ خواہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کے دینی عقائد خواہ کتنے ہی باطل ہوں، اسلام ان کی جان ومال سے کچھ تعرض نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس کی تلوار کند ہے اور اس کی نظروں میں ان کا خون حرام ہے۔'' (الجہاد فی الاسلام، ص ۱۵۶)

لیکن اس کے بعد اسی اصول کی تفریع کرتے ہوئے مولانا اس سے 'مصلحانہ جنگ' کا جواز اخذ کر لیتے ہیں جو کسی ظلم وعدوان یا فتنہ وفساد کے خلاف نہیں، بلکہ عمومی سطح پر کسی معاشرے کی اخلاقی اصلاح اور اس میں نیکی کے تصورات واقدار کو فروغ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ نتیجہ کسی طرح ان کے بنیادی مقدمے پر متفرع نہیں ہوتا، کیونکہ خود مولانا کی توضیح کے مطابق رفع فساد اور قصاص کو انسانی جان سے تعرض کا بنیادی اصول ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ جو قومیں مسلمانوں کے خلاف فتنہ وفساد کی مرتکب نہ ہوں، ان کے خلاف تلوار اٹھانا حرام قرار پائے۔

مولانا نے مفتوح قوموں کے لیے 'مصلحانہ جہاد' کے جو فوائد اور مصالح بیان کیے ہیں، وہ بھی بے حد مبالغے پر مبنی ہیں۔ عہد صحابہ کی فتوحات سے متعلق جو کچھ مواد تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے، اس میں اس بات کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا کہ انھوں نے ان مقبوضات کے معاشرتی، تمدنی یا معاشی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی کی ہو۔ عام طور پر صرف اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ مفتوح قومیں پابندی کے ساتھ سالانہ جزیہ ادا کرتی رہیں، مسلمانوں کے مقابلے میں دشمن کا ساتھ نہ دیں، اپنے علاقے میں آنے والے مسلمانوں کو قیام وطعام کی مناسب سہولیات فراہم کریں اور اپنے اور مسلمانوں کے مابین معاشرتی امتیاز کو مٹانے کی کوشش نہ کریں۔

بالعموم ان علاقوں میں پہلے سے قائم نظم حکومت کو بھی نہیں چھیڑا گیا، بلکہ سابق حکمرانوں اور امرا ہی کو برقرار رکھتے ہوئے ان سے سیاسی اطاعت کا وعدہ لے لیا گیا۔ ان علاقوں پر مرکز اسلام کی طرف سے مقرر کردہ مسلمان عمال کی ذمہ داری بس یہ تھی کہ وہ محاصل وصول کر کے ان کو مدینہ بھیجنے کا انتظام کر دیں۔ اس ضمن میں رومی حکومت کے زیر اثر جزیرۂ قبرص کے ساتھ معاہدۂ صلح خاص طور پر دلچسپ ہے۔ سیدنا معاویہ کے عہد میں اس جزیرے کے باشندوں پر کوئی مسلمان عامل مقرر کیے بغیر اور جزیرے کو اسلامی حکومت کا باقاعدہ جغرافیائی حصہ بنائے بغیر محض اس شرط پر صلح کر لی گئی کہ وہ مسلمانوں کو سالانہ جزیہ کرتے رہیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں اس بات سے نہیں روکا جائے گا کہ وہ اتنی ہی رقم رومی حکومت کو بھی بطور خراج ادا کرتے رہیں۲۷؂۔

عملاً جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ یہ علاقے سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کے زیر نگیں آ گئے اور یہاں سے وصول ہونے والے محاصل اسلامی حکومت کے خزانے میں جمع ہونے لگے۔ اس سے جہاد کا وہ مقصد تو بالکل واضح طور پر حاصل ہو گیا جو فقہا بیان کرتے ہیں، یعنی یہ کہ اہل کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کی سربلندی قائم ہو جائے، لیکن مولانا مودودی نے اس سے بڑھ کر اس سیاسی غلبے کے جو مقاصد بیان کیے ہیں، مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں وہ محض ایک افسانہ دکھائی دیتے ہیں۔ صحابہ کی حکمرانی ظاہر ہے کہ اپنے اخلاقی معیار کے لحاظ سے بہرحال جابر ومستبد حکومتوں سے ہزار درجہ بہتر تھی اور رعایا کی فلاح وبہبود کو انھوں نے اپنے طرز حکمرانی کا ایک لازمی جزو قرار دیا تھا، لیکن یہ بہرحال ان کے اقدامات کا ایک نتیجہ تھا نہ کہ اصل غرض اور مقصد۔ خود حضرات صحابہ نے کہیں اپنے اقدامات کی غرض وغایت یہ نہیں بیان کی۔ ہم صحابہ کے بیانات کی روشنی میں تفصیل سے واضح کر چکے ہیں کہ ان فتوحات کی حیثیت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والے انعام کی جبکہ مفتوح قوموں کے لیے یہ دین حق کو قبول نہ کرنے پر سزا اور انتقام کی تھی۔

________

'الجہاد فی الاسلام' کے علاوہ مولانا کی بعض دوسری تحریروں میں صحابہ کرام کے جنگی اقدامات کی توجیہ کے حوالے سے بعض دوسرے رجحانات کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:

''ان ممالک میں شخصی حکومتیں قائم تھیں اور مستبد فرمانروا اقتدار پر قابض تھے۔ ان کا برسر اقتدار ہونا ہی اشاعت اسلام کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ ان کی موجودگی میں نہ تو اس امر کا امکان تھا کہ دعوت عام باشندگان ملک میں پھیلائی جا سکے اور نہ عوام کو اتنی آزادئ رائے اور آزادئ عمل حاصل تھی کہ اگر وہ اس دعوت حق کو پائیں تو اسے قبول کر کے اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ ان حالات میں حکمرانوں سے نمٹے بغیر نہ اسلام کی اشاعت کماحقہ سرانجام پا سکتی تھی اور نہ اس کے نتائج وثمرات رونما ہو سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سلاطین کے نام اپنے مکتوبات مبارکہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر تم یہ دعوت قبول نہ کرو گے یا ہماری اطاعت تسلیم نہ کرو گے تو اپنی رعایا کی گمراہی کا وبال بھی تمہارے سر ہوگا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی ملک میں ایسی حکومت قائم ہو جس کے ہوتے عوام کے لیے یہ عملاً ناممکن ہو کہ وہ دعوت اسلام کو سن کر قبول کر سکیں تو ایسی حکومت کو رستے سے ہٹانا ضروری ہے۔ اس حکومت کو ہٹانا دراصل عوام الناس کو عقیدہ وعمل کی آزادی بخشنے کا ہم معنی ہے۔ اس کا مقصود یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے بلکہ اس کا مقصود صرف یہ ہے کہ ملک کے سیاسی نظام سے ان تمام موانع کا خاتمہ کر دیا جائے جو حق کے ادراک اور اس کے اتباع میں مزاحم ہوتے ہیں۔'' (رسائل ومسائل، ۴/ ۱۹۰۔۱۹۲)

اس استدلال کی رو سے انھوں نے جہاد کو ایک مذہب کے بالجبر غلبہ کے بجائے آزادی مذہب کی فضا پیدا کرنے کا ضامن قرار دیا ہے جو ظاہر ہے کہ بالکل مختلف مضمرات کا حامل ہے۔

'تفہیم القرآن'

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ 'تفہیم القرآن' میں مولانا نے جہاد سے متعلق نصوص کی تعبیر کس زاویے سے کی ہے۔

پہلے مشرکین سے متعلق حکم کو لیجیے:

'الجہاد فی الاسلام' میں مولانا نے اس حکم کو نقض عہد کا ارتکاب کرنے والے مشرکین کے ساتھ خاص قرار دیا تھا اور یہ نقطہ نظر اختیار کیا تھا کہ اس مخصوص گروہ کے علاوہ عرب کے باقی مشرکین کو جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت حاصل تھی، تاہم 'تفہیم القرآن' میں انھوں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ یہ حکم مشرکین کے بعض مخصوص گروہوں کے خلاف نہیں، بلکہ پورے جزیرۂ عرب کے مشرکین کے بارے میں دیا گیا تھا۔ البتہ اس حکم کے محرک اور اس کی اصل غرض وغایت کے حوالے سے روایتی فقہی نقطہ نظر سے مولانا کا اختلاف برقرار ہے۔ ان کے نزدیک مشرکین عرب کو قتل کرنے کا حکم اسلام کو بالجبر ان پر مسلط کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ جزیرۂ عرب کو کفر وشرک سے کلیتاً پاک کر کے خالصتاً اسلام کا مرکز بنا دینے اور ان فتنہ انگیز عناصر کی سرکوبی کے لیے دیا گیا تھا جو مستقبل میں کسی بھی موقع پر اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ لکھتے ہیں:

''اب چونکہ عرب کا نظم ونسق بالکلیہ اہل ایمان کے ہاتھ میں آ گیا تھا اور تمام مزاحم طاقتیں بے بس ہو چکی تھیں، اس لیے وہ پالیسی واضح طور پر سامنے آ جانی چاہیے تھی جو عرب کو مکمل دار الاسلام بنانے کے لیے اختیار کرنی ضروری تھی۔ چنانچہ وہ حسب ذیل صورت میں پیش کی گئی:

الف۔ عرب سے شرک کو قطعاً مٹا دیا جائے اور قدیم مشرکانہ نظام کا کلی استیصال کر ڈالا جائے تاکہ مرکز اسلام ہمیشہ کے لیے خالص اسلامی مرکز ہو جائے اور کوئی دوسرا عنصر اس کے اسلامی مزاج میں نہ تو خلل انداز ہو سکے اور نہ کسی خطرے کے موقع پر اندرونی فتنہ کا موجب بن سکے۔ اسی غرض کے لیے مشرکین سے براء ت اور ان کے ساتھ معاہدوں کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔'' (تفہیم القرآن، ۲/ ۱۷۲)

''اس اعلان براء ت سے عرب میں شرک اور مشرکین کا وجود گویا عملاً خلاف قانون (Outlaw) ہو گیا اور ان کے لیے سارے ملک میں کوئی جائے پناہ نہ رہی، کیونکہ ملک کا غالب حصہ اسلام کے زیر حکم آ چکا تھا۔ یہ لوگ تو اپنی جگہ اس بات کے منتظر تھے کہ روم وفارس کی طرف سے اسلامی سلطنت کو جب کوئی خطرہ لاحق ہو، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا جائیں تو یکایک نقض عہد کر کے ملک میں خانہ جنگی برپا کر دیں۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول نے اس کی ساعت منتظرہ آنے سے پہلے ہی بساط ان پر الٹ دی اور اعلان براء ت کر کے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار باقی نہ رہنے دیا کہ یا تو لڑنے پر تیار ہو جائیں اور اسلامی طاقت سے ٹکرا کر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں، یا ملک چھوڑ کر نکل جائیں، یا پھر اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو اور اپنے علاقہ کو اس نظم وضبط کی گرفت میں دے دیں جو ملک کے بیشتر حصہ کو پہلے ہی منضبط کر چکا ہے۔'' (۲/ ۱۷۵)

'وان احد من المشرکین استجارک' کی تشریح میں لکھتے ہیں:

'''فاجرہ حتی یسمع کلام اللّٰہ' سے مراد یہ ہے کہ ان کو اپنی پناہ میں لے کر اللہ کا کلام سناؤ، اگر وہ اس طرح وعظ ونصیحت حاصل کریں اور اسلام قبول کر لیں تو بہتر ہے، اور اگر ان کے دل اسلام کے لیے نہ کھلیں تو ان کو قتل نہ کرو بلکہ امن وعافیت کے ساتھ ان کو ان کے وطن تک پہنچا دو۔'' (الجہاد فی الاسلام، ص ۲۷۳)

اس توجیہ کی رو سے 'فاقتلوا المشرکین' کا مذکورہ حکم دین ومذہب کے اختلاف پر نہیں بلکہ ایک سیاسی مصلحت پر مبنی حکم قرار پاتا ہے۔ گویا مشرکین کو قتل کرنا اصلاً مقصود نہیں تھا، بلکہ اس کی ضرورت جزیرۂ عرب کو کفر وشرک اور فتنہ انگیز عناصر سے پاک کر کے خالصتاً اسلام کا مرکز بنا دینے کے حوالے سے پیدا ہوئی تھی۔ اس توجیہ پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں، ان کا ذکر ہم اپنے مقام پر کریں گے۔ بہرحال، قتل مشرکین کے اس حکم کا محرک اور ہدف جو بھی ہو، مولانا کی تعبیر سے اتنی بات واضح ہے کہ وہ اسے ایک مخصوص دائرے اور مخصوص نوعیت کا حکم سمجھتے ہیں جس سے عمومی نوعیت کا کوئی شرعی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا کی غیر مسلم اقوام کے خلاف جہاد کے حوالے سے شریعت کے عمومی حکم کے لیے مولانا نے 'قاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للّٰہ' اور آیت جزیہ کو ماخذ بنایا ہے اور اس حکم کی نظریاتی اساس یہ متعین کی ہے کہ اسلام شخصی اعتقاد اور رسمی عبادت کے دائرے میں تو کفر و شرک کو گوارا کر لیتا ہے، لیکن کسی ایسے نظام حکومت کا وجود اسے قبول نہیں جس میں خدائی قانون کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی عمل داری قائم ہو۔ اسی تناظر میں انھوں نے تفہیم القرآن میں 'حتی لا تکون فتنۃ' میں وارد لفظ 'فتنہ' کی بھی نئی تشریح کی ہے۔ اس سے پہلے الجہاد فی الاسلام میں انھوں نے 'فتنہ' کا مصداق حسب ذیل صورتوں کو قرار دیا تھا:

۱۔ کمزوروں پر ظلم کرنا، ان کے جائز حقوق سلب کرنا، ان کے گھر بار چھین لینا اور انھیں تکلیفیں پہنچانا۔

۲۔ جبر واستبداد کے ساتھ حق کو دبانا اور قبول حق سے لوگوں کو روکنا۔

۳۔ صد عن سبیل اللہ، یعنی اسلام قبول کرنے سے لوگوں کو روکنا، مسلمانوں کو زبردستی مرتد بنانے کی کوشش کرنا اور مسلمانوں کے لیے اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کو مشکل بنا دینا۲۸؂۔

۴۔ لوگوں کو گمراہ کرنا اور حق کے خلاف خدع وفریب اور طمع واکراہ کی کوششیں کرنا۔

۵۔ غیر حق کے لیے جنگ کرنا اور ناجائز اغراض کے لیے قتل وخون اور جتھہ بندی کرنا۔

۶۔ پیروان حق پر باطل پرستوں کا غلبہ اور چیرہ دستی۔ ۲۹؂

ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی بھی وجہ مخصوص معنوں میں مذہبی یا اعتقادی وجہ نہیں ہے۔ تاہم تفہیم القرآن میں مولانا نے اپنے بدلے ہوئے زاویہ نگاہ کے تحت 'فتنہ' کے مفہوم میں توسیع پیدا کی ہے اور اس صورت حال کو بھی اس کا مصداق قرار دیا ہے جب خدا کی حاکمیت کے بجائے انسانوں کی حاکمیت قائم ہو اور خدا کے قانون کے بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین جاری ونافذ ہوں۔ لکھتے ہیں:

''سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہے کہ اس مقام پر ''فتنے'' سے مراد وہ حالت ہے جس میں دین اللہ کے بجائے کسی اور کے لیے ہو، اور لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے اور دین صرف اللہ کے لیے ہو۔ پھر جب ہم لفظ ''دین'' کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں دین کے معنی ''اطاعت'' کے ہیں اور اصطلاحاً اس سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو کسی کو بالاتر مان کر اس کے احکام وقوانین کی پیروی میں اختیار کیا جائے۔ پس دین کی اس تشریح سے یہ بات خود واضح ہو جاتی ہے کہ سوسائٹی کی وہ حالت جس میں بندوں پر بندوں کی خدائی وفرماں روائی قائم ہو، اور جس میں اللہ کے قانون کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے، فتنے کی حالت ہے اور اسلامی جنگ کا مطمح نظر یہ ہے کہ اس فتنے کی جگہ ایسی حالت قائم ہو جس میں بندے صرف قانون الٰہی کے مطیع بن کر رہیں۔'' (تفہیم القرآن ۱/ ۱۵۱)

مولانا کا یہ نقطہ نظر الوہیت، ربوبیت اور توحید کی اس مخصوص تشریح پر مبنی ہے جس کی رو سے قرآن مجید کا تصور توحید صرف مابعد الطبیعیاتی اعتقادات، مافوق الاسباب امور کی تدبیر اور رسوم عبادت کے دائرے تک محدود نہیں، بلکہ خدا کی الوہیت، ربوبیت اور حاکمیت دنیا کے قانونی وسیاسی دائرے میں بھی ''توحید'' کا تقاضا کرتی ہے ۔ مولانا نے اپنے اس تصور کی تفصیلی وضاحت اپنی کتاب ''قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں'' اور تفہیم القرآن کے مختلف مقامات پر کی ہے اور ہمارے ناقص فہم کے مطابق اسی تصور نے انھیں اس نتیجے تک پہنچایا ہے کہ دنیا سے غیر الٰہی اور طاغوتی نظاموں کو مٹانے کے لیے جہاد کیا جائے گا۔ تفہیم القرآن میں انھوں نے جہاد کے احکام کی وضاحت اسی پہلو سے کی ہے۔ لکھتے ہیں:

''کافر، مشرک، دہریے، ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے، رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمایش اور نصیحت کریں گے مگر اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں کہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور خدا کے بندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ اس فتنے کو رفع کرنے کے لیے حسب موقع او رحسب امکان، تبلیغ اور شمشیر، دونوں سے کام لیا جائے گا اور مومن اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے گا، ب تک کفار اپنے اس فتنے سے باز نہ آ جائیں۔'' (تفہیم القرآن ۱/ ۱۵۱)

آیت جزیہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''عرب میں اسلام کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچ جانے کے بعد دوسرا اہم مرحلہ جو سامنے تھا، وہ یہ تھا کہ عرب کے باہر دین حق کا دائرۂ اثر پھیلایا جائے۔ اس معاملہ میں روم وایران کی سیاسی قوت سب سے بڑی سد راہ تھی اور ناگزیر تھا کہ عرب کے کام سے فارغ ہوتے ہی اس سے تصادم ہو۔ نیز آگے چل کر دوسرے غیر مسلم سیاسی وتمدنی نظاموں سے بھی اسی طرح سابقہ پیش آنا تھا۔ اس لیے مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ عرب کے باہر جو لوگ دین حق کے پیرو نہیں ہیں، ان کی خود مختارانہ فرماں روائی کو بزور شمشیر ختم کر دو تا آنکہ وہ اسلامی اقتدار کے تابع ہو کر رہنا قبول کر لیں۔ جہاں تک دین حق پر ایمان لانے کا تعلق ہے، ان کو اختیار ہے کہ ایمان لائیں یا نہ لائیں، لیکن ان کو یہ حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر اپنا حکم جاری کریں اور انسانی سوسائٹیوں کی زمام کار اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی گمراہیوں کو خلق خدا پر اور ان کی آنے والی نسلوں پر زبردستی مسلط کرتے رہیں۔ زیادہ سے زیادہ جس آزادی کے استعمال کا انھیں اختیار دیا جا سکتا ہے، وہ بس اسی حد تک ہے کہ خود اگر گمراہ رہنا چاہتے ہیں تو رہیں، بشرطیکہ جزیہ دے کر اسلامی اقتدار کے مطیع بنے رہیں۔'' (تفہیم القرآن ۲/ ۱۷۲)

جزیہ کی نوعیت اور اس کا مقصد واضح کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

''یہ جزیہ وہ چیز ہے جس کے لیے بڑی بڑی معذرتیں انیسویں صدی عیسوی کے دور مذلت میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کی گئی ہیں اور اس دور کی یادگار کچھ لوگ اب بھی موجود ہیں جو صفائی دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن خدا کا دین اس سے بہت بالا وبرتر ہے کہ اسے خدا کے باغیوں کے سامنے معذرت پیش کرنے کی کوئی حاجت ہو۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے دین کو اختیار نہیں کرتے اور اپنی یا دوسروں کی نکالی ہوئی غلط راہوں پر چلتے ہیں، وہ حد سے حد بس اتنی ہی آزادی کے مستحق ہیں کہ خود جو غلطی کرنا چاہتے ہیں، کریں، لیکن انہیں اس کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ بھی اقتدار وفرمانروائی کی باگیں ان کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کا نظام اپنی گمراہیوں کے مطابق قائم کریں اور چلائیں۔ یہ چیز جہاں کہیں ان کو حاصل ہو، فساد رونما ہوگا اور اہل ایمان کا فرض ہوگا کہ ان کو اس سے بے دخل کرنے اور انھیں نظام صالح کا مطیع بنانے کی کوشش کریں۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ جزیہ آخر کس چیز کی قیمت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس آزادی کی قیمت ہے جو انھیں اسلامی اقتدار کے تحت اپنی گمراہیوں پر قائم رہنے کے لیے دی جاتی ہے، اور اس قیمت کو اس صالح نظام حکومت کے نظم ونسق پر صرف ہونا چاہیے جو انھیں اس آزادی کے استعمال کی اجازت دیتا ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جزیہ ادا کرتے وقت ہر سال ذمیوں میں یہ احساس تازہ ہوتا رہے گا کہ خدا کی راہ میں زکوٰۃ دینے کے شرف سے محرومی اور اس کے بجائے گمراہیوں پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا کتنی بڑی بد قسمتی ہے جس میں وہ مبتلا ہیں۔'' (تفہیم القرآن ۲/ ۱۸۸)

________

۲۷؂ طبری، تاریخ الامم والملوک ۴/ ۲۶۲۔

۲۸؂ الجہاد فی الاسلام، ص ۶۶۔

۲۹؂ الجہاد فی الاسلام، ص ۱۰۶۔۱۰۹۔

____________




Articles by this author