مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (حصہ چہارم)

مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (حصہ چہارم)


ان اقتباسات میں جہاد کا جو فلسفہ اور اس کی نظری اساس بیان کی گئی ہے، وہ واضح طور پر ''الجہاد فی الاسلام'' اور اس موضوع پر مولانا کی بعض دوسری تحریروں سے مختلف ہے۔ سابقہ تحریروں میں مولانا کا ذہنی رجحان یہ رہا ہے کہ جہاد کی نظری اساس مذہبی مخاصمت یا دوسرے الفاظ میں کفر وایمان کے اختلاف کو قرار دینے کے بجائے کفار کے فتنہ وفساد کے خاتمہ یا تبلیغ اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا دور کرنے یا انسانوں کے مابین مسلمہ اخلاقی اصولوں کی بالادستی قائم کرنے کو قرار دیا جائے۔ اس توجیہ سے ان کا مقصود تو کسی حد تک حاصل ہو جاتا ہے، لیکن اس کو قبول کرنے میں رکاوٹ یہ ہے کہ نصوص اس کی تائید نہیں کرتے۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ جہاد کے حوالے سے زیر بحث نصوص مذکورہ وجوہ میں سے کسی وجہ کے تحت نہیں بلکہ صریحاً اسلام اور کفر وایمان کے تناظر میں جہاد کا حکم دیتی ہیں، چنانچہ اس وجہ کو نظر انداز کر کے کی جانے والی کوئی بھی تطبیق اصل سوال سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ تفہیم القرآن کے مذکورہ اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا مودودی پر بھی بالآخر اس زاویہ نگاہ کی کمزوری واضح ہو چکی تھی، چنانچہ یہاں انھوں نے متعلقہ نصوص کی واضح دلالتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جہاد کا مقصد اسلامی نظام زندگی کی بالادستی قائم کرنے کو قرار دیا ہے جو بہرحال عمومی اخلاقی اصولوں پر مبنی نہیں بلکہ بداہۃً ایک خالص اعتقادی اور مذہبی مقصد ہے۔

تاہم مولانا نے یہاں فقہا کی کلاسیکی تعبیر کو بعینہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ایک نئی تعبیر پیش کی ہے جو ایک اہم نکتے میں فقہی تعبیر سے مختلف ہے۔ فقہا کے نزدیک 'اعلاء کلمۃ اللہ' اور غلبہ اسلام سے مراد قانون وشریعت کی سطح پر غیر مسلموں کے قوانین اور رواجوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ نظری واعتقادی تناظر میں علامتی طور پر اسلام اور کلمہ اسلام کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ فقہا شرعی قوانین کی تنفیذ کو جہاد کا مقصد نہیں قرار دیتے، بلکہ ان کے ہاں یہ مسئلہ جہاد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک ضمنی صورت حال کی حیثیت سے زیر بحث آتا ہے جس کا وہ اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق حل تجویز کرتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے بعض کے نزدیک تمام شرعی قوانین کی پابندی اہل ذمہ پر لازم ہے، بعض کے نزدیک صرف معاملات یعنی نکاح وطلاق، بیع وشرا اور حدود وتعزیرات سے متعلق قوانین ان پر نافذ کیے جائیں گے جبکہ بعض کے نزدیک وہ ان تمام معاملات میں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کے لیے آزاد ہیں۔ چونکہ فقہا کے نزدیک غیر مسلموں پر شرعی احکام کا نفاذ جہاد کا اصل مقصد نہیں، اس لیے اگر ان میں سے کسی کی رائے میں شریعت کا کوئی ایک بھی قانون غیر مسلموں پرلاگو نہ ہوتا ہو تب بھی اس سے ان کے فلسفہ جہاد پر کوئی زد نہیں پڑتی، کیونکہ ان کے تصور کے مطابق اسلام کی سربلندی مسلمانوں کی سیاسی بالادستی اور غیر مسلموں کی محکومیت کی صورت میں اس کے بغیر بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ تاہم مولانا مودودی کی تعبیر کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک چونکہ جہاد کا اصل محرک اور مقصد ہی اسلام کے اجتماعی نظام زندگی اور اس کے احکام وقوانین کی فرماں روائی قائم کرنا ہے، اس لیے ایک منطقی نتیجے کے طور پر انھیں یہ کہنا چاہیے کہ اسلام نے اجتماعی زندگی کے مختلف پہلووں یعنی معاشرت، معیشت اور سیاست وغیرہ سے متعلق جو اصول اور قوانین بیان کیے ہیں، وہ اسلامی ریاست کے تمام باشندوں کے لیے بلا تفریق مذہب واجب الاطاعت ہوں گے، لیکن مولانا مودودی اس کے قائل نہیں اور وہ اپنے تصور کے مطابق اسلامی نظام زندگی کے عملی نفاذ کو صرف ان لوگوں تک محدود سمجھتے ہیں جو اعتقادی سطح پر اس کی دعوت کو قبول کر لیں۔ چنانچہ تفہیم القرآن میں انھوں نے جہاں بھی اقامت دین کے حوالے سے انبیا کے مشن کی وضاحت کی ہے، اس میں اس مقصد کو ایمان لانے والوں تک ہی محدود بتایا گیا ہے۔ 'لا اکراہ فی الدین' کے تحت لکھتے ہیں:

''یہاں ''دین'' سے مراد اللہ کے متعلق وہ عقیدہ ہے جو اوپر آیت الکرسی میں بیان ہوا ہے اور وہ پورا نظام زندگی ہے جو اس عقیدے پر بنتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ''اسلام'' کا یہ اعتقادی اور اخلاقی وعملی نظام کسی پر زبردستی نہیں ٹھونسا جا سکتا۔ یہ ایسی چیز ہی نہیں ہے جو کسی کے سر جبراً منڈھی جا سکے۔'' (تفہیم القرآن ۱/ ۱۹۶)

یہی وجہ ہے کہ وہ پبلک لا سے متعلق چند قوانین کے علاوہ اسلامی شریعت کے بیشتر معاشرتی احکام سے غیر مسلموں کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک غیر مسلموں کے تمام معاشرتی ومذہبی قوانین کو تحفظ کی ضمانت حاصل ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر غیر مسلم معاشروں اور ممالک کے حوالے سے مسلمانوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ اس کا جواب انھوں نے ''شہادت حق'' کے عنوان سے اپنی ایک تحریر میں دیا ہے اور اس ذمہ داری کو محض حق کی علانیہ گواہی دے دینے تک محدود رکھا ہے۔ اس طرح مولانا کی زیر بحث توجیہ ایک شدید داخلی تضاد کا شکار ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ جس نکتے کو جہاد کی اصل اساس اور ہدف قرار دیتے ہیں، اسے عملاً اور نتیجتاً قبول نہیں کرتے اور غیر مسلموں کو اپنے ان بیشتر گمراہانہ طور طریقوں، رواجوں اور قوانین پر کاربند رہنے کی اجازت دیتے ہیں جن کے خاتمے کو جہاد کی مشروعیت کا مقصد بتایا گیا تھا۔ اب اگر جہاد کے ذریعے سے ان معاشرتی وقانونی رواجوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور قانون ونظام کے دائرے میں خدائی قوانین کی حاکمیت غیر مسلموں پر قائم نہیں ہوتی تو جہاد کا مقصد عملاً غیر خدائی احکام وقوانین کی فرماں روائی کو ختم کرنا نہیں بلکہ محض ان کو ماننے والوں سے حکومت واقتدار چھین لینا قرار پاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے مولانا کی بیان کردہ توجیہ کی پوری عمارت ہی منہدم ہو جاتی ہے، کیونکہ اگر جہاد کا اصل ہدف یہی ہے تو اس کے لیے احکام وقوانین کی فرماں روائی کا حوالہ دینے اور اسے اس کے مقصود اور غایت کے طور پر بیان کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی اور اس کے بجائے کلاسیکی فقہی تعبیر زیادہ موزوں دکھائی دیتی ہے۔

ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ مولانا غیر مسلم حکومت کے خاتمے اور پبلک لا سے متعلق اسلامی شریعت کے چند قوانین کے نفاذ کو ہی اسلام کے اجتماعی نظام زندگی کی فرماں روائی قائم کرنے کے ہم معنی سمجھتے اور اسے ہی جہاد کا مقصد قرار دیتے ہوں۔ تاہم اس صورت میں ان کی بیان کردہ علت درست قرار نہیں پاتی، اس لیے کہ اگر علت 'خدا کے قانون' کے علاوہ کسی بھی دوسرے قانون کی فرماں روائی کو ختم کرنا ہے تو پھر ایک طرح کے قوانین اور دوسری طرح کے قوانین میں فرق جائز نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص مولانا مودودی کے تصور کی رو سے یہ تفریق زیادہ ناقابل قبول قرار پاتی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک خدا کے دیے ہوئے قوانین کے علاوہ کسی دوسرے کے وضع کردہ قانون کی پیروی شرک کی ایک صورت ہے، اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ غیر مسلم شخصی معاملات کے دائرے میں اپنے گمراہانہ قوانین پر عمل کے لیے آزاد ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شخصی قوانین کے دائرے میں اس شرک فی الاطاعت کو آخر کن وجوہ سے گوارا کیا گیا ہے؟ اور اگر اعتقاد کی سطح پر غیر خدا کی عبادت کی اجازت ہے اور پرسنل لا میں بھی غیر خدائی قوانین کی فرماں روائی قبول کی جا سکتی ہے تو ایسی قوم اپنے مذہبی تصورات کے مطابق اپنے نظم اجتماعی کی تشکیل کیوں نہیں کر سکتی؟ مولانا یہ بھی واضح نہیں کرتے کہ اگر خدا کی حاکمیت کو قانونی وسیاسی سطح پر قائم کرنا دین کا اصل مقصد ہے تو پھر سب سے پہلے تو اس حاکمیت کو نظری طور پر تسلیم کروانا چاہیے۔ آخر یہ کیا منطق ہے کہ قانونی وعملی حاکمیت کو ماننا جس نظری اور اعتقادی بنیاد یعنی خدائے واحد اور اس کی دی ہوئی شریعت پر ایمان پر مبنی ہے، اس کو ماننے یا نہ ماننے کا تو پورا اختیار دے دیا جائے، لیکن اس کی فرع اور نتیجے کو منوانے کے لیے جبر واکراہ کو روا رکھا جائے؟

مولانا کے نقطہ نظر میں پائی جانے والی الجھن کو حل کرنے کے لیے ایک مزید امکان یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ مولانا کی مراد دراصل غیر مسلموں سے اپنے گمراہانہ قوانین کی پیروی کا حق سلب کرنا نہیں، بلکہ ان قوانین کو حکومت واقتدار کے ذریعے سے دوسرے انسانوں پر مسلط کرنے کی صلاحیت چھین لینا ہے۔ یہ فرض کرنے کے لیے مولانا کے یہ الفاظ ایک حد تک جواز فراہم کرتے ہیں کہ ''ان کو یہ حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر اپنا حکم جاری کریں اور انسانی سوسائٹیوں کی زمام کار اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی گمراہیوں کو خلق خدا پر اور ان کی آنے والی نسلوں پر زبردستی مسلط کرتے رہیں۔'' تاہم یہ مفروضہ بھی الجھن کو حل نہیں کرتا، اس لیے کہ اگر ''خلق خدا اور ان کی آنے والی نسلوں پر زبردستی مسلط کرنے'' سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایک قوم کسی دوسرے قوم پر اپنے نظام زندگی کو مسلط نہ کر سکے تو پھر جہاد صرف اس قوم کے خلاف جائز ہونا چاہیے جو اس طرح کے عزائم اور ان کو رو بہ عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، نہ کہ مطلق طور پر تمام اقوام کے خلاف۔ او ر اگر مراد یہ ہے کہ ایک قوم کے ارباب حل وعقد کو اپنا مخصوص نظام زندگی اپنی ہی قوم پر نافذ کرنے کا حق نہیں ہے تو اول تو اس کے لیے ''زبردستی مسلط کرنے'' کی تعبیر درست نہیں، کیونکہ کسی بھی قوم کا نظام زندگی اصولی طور پر کسی ایک طبقے کا مسلط کردہ نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت مجموعی پوری قوم کے نظریہ حیات پر مبنی اور اس کا ترجمان ہوتا ہے اور کرہاً نہیں، بلکہ طوعاً اس پر ''مسلط'' کیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی قوم کا اپنے نظام زندگی کو اپنے تصورات کے مطابق تشکیل دینے کا اختیار مولانا کے تصور کے مطابق اسلامی حکومت کے قیام کے بعد بھی کلی طور پر ختم نہیں ہوتا، کیونکہ خود مولانا اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کے مذہبی اور معاشرتی قوانین کو تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ غیر مسلم قومیں اپنے مخصوص دائرے میں اپنے تصورات کے مطابق نظام زندگی بھی تشکیل دے سکتی ہیں او ر اس کے تحت اپنی آئندہ نسلوں کی پرورش کااہتمام بھی پوری آزادی کے ساتھ کر سکتی ہیں۔ اس طرح ریاست کی سطح پر حکومت واقتدار سے محروم ہونے کے باوجود معاشرتی سطح پر ''انسانی سوسائٹیوں کی زمام کار اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی گمراہیوں کو خلق خدا پر اور ان کی آنے والی نسلوں پر زبردستی مسلط کرتے رہنے'' کا اختیا ر بہرحال غیر مسلموں کے پاس جوں کا توں باقی رہ جاتا ہے۔

ایک تیسرا زاویہ نظر

آخر میں، مولانا مودودی کی تحریروں میں اسلام کے فلسفہ جہاد اور اس کے عملی وقانونی مضمرات کے حوالے سے ایک تیسرے زاویہ نگاہ کا ذکر بھی ضروری ہے جس کی نمائندگی بنیادی طور پر اس مناقشے میں ہوئی ہے جو دار الحرب میں غیر مسلموں سے سود لینے کے جواز وعدم جواز کے ضمن میں ان کے اور مولانا مناظر احسن گیلانی مرحوم کے مابین ہوا۔ یہاں مولانا کا زاویہ نگاہ جوہری طور پر بدلا ہوا ہے اور وہ اقوام عالم کی اصلاح کی غرض سے پور ی دنیا پر اسلامی حکومت قائم کرنے کو مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ قرار دینے کے بجائے کفر اور اسلام کی کشمکش کو محض نظری اور اعتقادی دائرے تک محدود قرار دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

''اعتقادی قانون کے لحاظ سے دنیا دو ملتوں پر منقسم ہے۔ اسلام اور کفر۔ تمام مسلمان ایک قوم ہیں اور تمام کفار دوسری قوم۔ ... کفر ایک دوسری ملت ہے جس سے ہمارا اختلاف اصول اور اعتقاد اور قومیت کا اختلاف ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر اصلاً ہمارے اور ان کے درمیان جنگ قائم ہے، الا یہ کہ اس پر صلح یا معاہدہ یا ذمہ کی کوئی حالت عارض ہو جائے۔ پس اسلام اور کفر، اور مسلم اور کافر کے درمیان اصل صلح نہیں بلکہ جنگ اصل ہے اور صلح اس پر عارض ہوتی ہے۔ مگر یہ جنگ بالفعل نہیں، بالقوہ ہے، عملی نہیں نظری اور اصولی ہے۔ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ جب تک ہماری اور ان کی قومیت الگ ہے اور ہمارے اور ان کے اصول ایک دوسرے سے متصادم ہیں، ہم میں اور ان میں حقیقی ودائمی صلح اور دوستی نہیں ہو سکتی۔ ... اس اعتقادی قانون کی رو سے اسلام اور کفر کے درمیان ابدی جنگ ہے، مگر یہ جنگ محض نظری (Theoretical) ہے۔ ہر کافر حربی (Enemy) ہے، مگر اس معنی میں کہ جب تک ہماری اور اس کی قومیت الگ ہے، ہمارے اور اس کے درمیان بناے نزاع قائم ہے۔ ہر دار الکفر محل حرب ہے یا بالفاظ دیگر حربیت کا کلی ارتفاع صرف اختلاف قومیت ہی کے مٹ جانے سے ہو سکتا ہے۔ اس قانون نے محض ایک نظریہ اور قاعدۂ اصلیہ واضح طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے جس پر ان کی حکمت عملی کی بنا قائم ہے۔ باقی رہے حقوق وواجبات اور جنگ وصلح کے عملی مسائل تو ان کا اس قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دستوری اور بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔''(سود ص ۲۹۶ تا ۲۹۹)

اس بحث میں آگے چل کر اسلام کے بین الاقوامی قانون کی وضاحت کے تحت انھوں نے ایک بنیادی نکتے میں روایتی فقہی نقطہ نظر سے اختلاف کیا ہے۔ کلاسیکی فقہا کے ہاں غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلق کی حسب ذیل صورتیں تسلیم کی گئی ہیں:

اہل ذمہ، یعنی وہ غیر مسلم جو اسلامی ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے اسلامی ریاست میں مقیم ہوں۔

اہل صلح، یعنی وہ غیر مسلم قوم جو دار الاسلام کی باسی نہ ہو، لیکن اسلامی قوانین کی پابندی قبول کرتے ہوئے اسلامی ریاست کو جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہو جائے۔

اہل موادعہ، یعنی وہ غیر مسلم قوم جو نہ تو دار الاسلام میں مقیم ہو اور نہ اسلامی قوانین کی پابندی کو قبول کریں، البتہ اسلامی ریاست کو جزیہ دینا قبول کر لیں۔

اہل حرب، یعنی وہ غیر مسلم جن کا مذکورہ صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی اسلامی ریاست کے ساتھ تعلق نہ ہو۔

فقہا کے ہاں کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ جزیہ کی ادائیگی اور اسلامی قوانین کی پابندی کے بغیر صلح کسی مستقل قانونی آپشن کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ کسی مجبوری کے تحت محض وقتی طور پر اس کی گنجایش ہے۔ تاہم مولانا مودودی نہ صرف غیر جانبدار غیر مسلم قوموں کا وجود ایک مستقل قانونی شق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں بلکہ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ ایسی قوموں کے لیے اسلام قبول کرنے یا جزیہ ادا کرنے کے علاوہ ان کے ساتھ محض صلح کا معاہدہ کر لینا بھی ایک مستقل قانونی آپشن ہے اور ان کے خلاف جنگ صرف اس صورت میں جائز ہوگی جب وہ مسلمانوں کی طرف سے معاہدہ صلح کی پیش کش کو قبول نہ کریں۔ لکھتے ہیں:

''اس آخری قسم کے کفار کی بھی متعدد اقسام ہیں۔ ایک وہ جن سے اسلامی حکومت کا معاہدہ نہ ہو مگر دشمنی بھی نہ ہو۔ دوسرے وہ جو اسلامی حکومت کو خراج دیتے ہوں مگر ان کی حدود میں احکام اسلامی جاری نہ ہوں۔ تیسرے وہ جن سے کوئی معاہدہ نہ ہو مگر دشمنی بھی نہ ہو۔ چوتھے وہ جن سے مسلمانوں کی دشمنی ہو۔'' (سود ص ۳۱۴)

''غیر معاہدین'' کے زیر عنوان ان میں سے پہلی قسم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''وہ کفار جن سے معاہدہ نہ ہو۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس کو ہمیشہ بین الاقوامی تعلقات میں جنگ کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی تعلقات کا انقطاع (Rupture of Diplomatic Relations) دراصل یہ معنی رکھتا ہے کہ دونوں قومیں اب باہمی احترام کی قیود سے آزاد ہیں۔... اگر مسلمانوں نے دعوت کے بغیر ان سے جنگ کی تو گناہ گارہوں گے، لیکن ایسی جنگ میں ان کی جان ومال کا جو اتلاف وہ کریں گے، اس میں سے کسی چیز کا ضمان حنفیہ کے نزدیک مسلمانوں پر لازم نہ آئے گا۔'' (سود ص ۳۲۰، ۳۲۱)

''دعوت سے مراد یہ ہے کہ ان کو الٹی میٹم دیا جائے کہ یا تو ہم سے صلح ومعاہدہ کرو، یا جزیہ دو، یا مسلمان ہو کر ہماری قومیت میں شامل ہو۔ اگر ان تینوں صورتوں میں سے کوئی صورت تم قبول نہیں کرتے تو ہمارے اورتمہارے درمیان جنگ کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے۔''(سود ص۳۲۱)

اپنے اسی نقطہ نظر کے تحت انھوں نے فقہا کی اس رائے سے بھی اختلاف کیا ہے کہ جو غیر مسلم قوم مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ نہیں رکھتی، وہ حربی قوم ہے اور مسلمانوں کے لیے اس پر حملہ کرنا یا معمول کے حالات میں اس کے باشندوں کے جان ومال کو مباح رکھنا درست ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:

''محارب وہ قوم ہے جو مسلمانوں سے برسر جنگ ہو۔ ایسی قوم کا کوئی فرد یا گروہ بالفعل مقاتل (combatant) ہو یا نہ ہو، بہرحال اس کا مال مباح ہے۔ ہم اس کے تجارتی قافلوں کو گرفتار کر سکتے ہیں۔ اس کے افراد ہماری زد میں آئیں گے تو ہم ان کو پکڑیں گے اور ان کے اموال پر قبضہ کر لیں گے۔ ... لیکن جو قوم ہم سے برسر جنگ نہیں ہے، وہ خواہ معاہد ہو نہ ہو، اس کے اموال ہمارے لیے مباح نہیں ہیں۔ قرآن میں تصریح ہے کہ 'لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ' (الممتحنہ ۸) یہ بات عین مقتضاے عقل وانصاف ہے۔ ورنہ اگر مسلمانوں کے لیے مطلقاً ہر غیر ذمی کافر کا مال مباح ہو، جیسا کہ مولانا کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے، تو مسلمانوں کی قوم اقوام عالم کے درمیان امت وسط ہونے کے بجائے ایک لٹیری قوم بن جائے گی، غیر قوموں پر ڈاکے ڈالنا اس کا پیشہ قرار پائے گا اور دنیا میں اس کا وجود ایک بلائے عام بن جائے گا۔'' (سود ص ۲۴۱، ۲۴۲)

''مولانا کے نظریہ کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ہر غیرذمی کافر کو حربی (Enemy) اور ہر غیر مسلم مقبوضہ کو دار الحرب (Enemy Country) سمجھ رہے ہیں۔ یہ اسلام کے بین الاقوامی قانون کی بالکل غلط تعبیر ہے۔ غیر مسلم کا مال اور خون صرف حالت جنگ میں مباح ہے۔'' (سود ص ۲۴۵)

''اصلی غلطی یہ ہے کہ مولانا ہر اس غیر مسلم کے مال کو مباح سمجھ رہے ہیں جس کی ذمہ داری کسی اسلامی حکومت نے نہ لی ہو، حالانکہ اس نظریہ کی تائید قرآن وحدیث کے کسی حکم سے نہیں ہوتی۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ ایسے دار الکفر جو اسلامی اصطلاح کی رو سے درحقیقت دارالحرب نہیں ہے، دار الحرب قرار دے رہے ہیں۔'' (سود ص ۲۴۸، ۲۴۹)

''قرآن میں ارشاد ہے کہ 'ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق'۔ اس آیت کی رو سے ہر انسان کی جان اصلاً قابل احترام ہے۔ اس کے حلال ہونے کی صورت صرف یہ ہے کہ حق اس پر قائم ہو جائے۔ جہاد میں یہ حرام اسی طرح ''حق'' کی خاطر حلال ہو جاتا ہے جس طرح قصاص میں خود مسلمان کا حرام خون بھی حلال ہو جاتا ہے۔ اگر اصولاً کافر غیر ذمی کو اسلام نے ''حربی'' قرار دیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امام اور جماعت سے الگ ہو کر ہر مسلمان ہر غیر ذمی کافر پر جب چاہے ''حق'' قائم کر دے اور جہاں چاہے قتل کر دے اور لوٹ لے۔ اگر ایسا ہو تو ایک مسلمان اور ایک انارکسٹ میں کیا فرق باقی رہا؟'' (سود ص ۲۶۶)

مولانا نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے غیر ذمی کفار کے جان ومال کو صرف ''غیر معصوم'' قرار دیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جان ومال سے تعرض کرنے والے مسلمانوں پر دار الاسلام کے قانون کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن بعد کے فقہا نے ''غیر معصوم''کو ''مباح'' کے مترادف سمجھ لیا۳۰؂۔

''خلافت وملوکیت'' میں مولانا نے اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کے جو بنیادی نکات بیان کیے ہیں، ان میں بھی ''الجہاد فی الاسلام'' وغیرہ میں بیان ہونے والے مقدم الذکر رجحانات کے بجائے اسی آخری رجحان کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے مولانا کے ذکر کردہ، خارجہ پالیسی کے چند راہ نما اصولوں اور متعلقہ دلائل پر مشتمل ایک اقتباس نقل کرنا یہاں مناسب ہوگا:

''(د) جنگ میں غیر جانب دار ممالک کے حدود کا احترام:

فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوہُمْ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْْثُ وَجَدتَّمُوہُمْ ۔۔۔ إِلاَّ الَّذِیْنَ یَصِلُونَ إِلَیَ قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ (النساء: ۹۰)

''اور اگر وہ (یعنی دشمنوں سے ملے ہوئے منافق مسلمان) نہ مانیں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں پاؤ ........ سوائے ان لوگوں کے جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہو۔''

(ھ) صلح پسندی:

وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا (الانفال: ۶۱)

''اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاؤ۔''

(و) فساد فی الارض اور زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کی کوششوں سے اجتناب:

تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُونَ عُلُوّاً فِی الْأَرْضِ وَلَا فَسَاداً وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (القصص: ۸۳)

''وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کریں گے جو زمین میں اپنی برتری نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ نیک انجام پرہیز گار لوگوں کے لیے ہے۔''

(ز) غیر معاند طاقتوں سے دوستانہ برتاؤ:

لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّن دِیَارِکُمْ أَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ، إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (الممتحنہ: ۸)

''اللہ تم کو اس بات سے نہیں روکتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے، ان کے ساتھ تم نیک سلوک اور انصاف کرو۔ یقیناًاللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔'' (خلافت وملوکیت ص ۵۲، ۵۳)

اسی بدلے ہوئے رجحان کی نمائندگی ان کے ہاں جدید مسلم ریاستوں میں غیر مسلموں پر جزیہ کے نفاذ کے مسئلے میں بھی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جزیہ کا نفاذ اصلاً جنگ میں مفتوح ہونے والے غیر مسلموں پر ضروری ہے، جبکہ صلحاً فتح ہونے والی قوموں پر اس کا نفاذ غیر مسلموں کی رضامندی پر منحصر ہے۔ لکھتے ہیں:

''اسلامی حکومت میں غیر مسلموں سے جزیہ لینے کا حکم اس حالت کے لیے دیا گیا ہے جبکہ وہ یا تو مفتوح ہوئے ہوں یا کسی معاہدہ کی رو سے جزیہ دینے کی واضح شرط پر اسلامی حکومت کی رعایا بنائے گئے ہوں۔ پاکستان میں چونکہ یہ دونوں صورتیں پیش نہیں آئی ہیں، اس لیے یہاں غیر مسلموں پر جزیہ عائد کرنا میرے نزدیک شرعاً ضروری نہیں ہے۔'' (رسائل ومسائل، ۴/ ۲۴۶)

یہ زاویہ نگاہ مسلم وغیر مسلم ممالک کے خارجہ تعلقات کے ضمن میں نہ صرف کلاسیکی فقہی موقف سے بلکہ خود ''تفہیم القرآن'' میں مولانا کے بیان کردہ موقف سے بھی مختلف ہے، کیونکہ انھوں نے جزیہ کی جو حکمت بیان کی ہے، وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی حکومت کے زیر نگیں رہنے والے غیرمسلموں کے لیے جزیہ کی ادائیگی ایک لازمی فریضے کی حیثیت رکھتی ہو، کیونکہ مذکورہ فلسفہ کی رو سے غیر مسلموں کو ان کی گمراہیوں کا احساس دلانے کے لیے ان پر جزیہ کا نفاذ ناگزیر ہے۔

مولانا نے جہاد وقتال کے ضمن میں اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کی وضاحت میں بین الاقوامی معاہدات کی پاس داری کو بھی خاص اہمیت دی ہے۔ چنانچہ سورۂ انفال کی آیات ۷۲، ۷۳ کی تشریح میں انھوں نے 'تفہیم القرآن' میں جو کچھ لکھا ہے، وہ قابل ملاحظہ ہے۔ فرماتے ہیں:

''یہ آیت اسلامی حکومت کی خارجی سیاست پر بھی بڑا اثر ڈالتی ہے۔ اس کی رو سے دولت اسلامیہ کی ذمہ داری ان مسلمانوں تک محدود ہے جو اس کی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ باہر کے مسلمانوں کے لیے کسی ذمہ داری کا بار اس کے سر نہیں ہے۔ یہی وہ بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی ہے کہ 'انا برئ من کل مسلم بین ظہرانی المشرکین'۔ ''میں کسی ایسے مسلمان کی حمایت وحفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔'' اس طرح اسلامی قانون نے اس جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے جو بالعموم بین الاقوامی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے، کیونکہ جب کوئی حکومت اپنے حدود سے باہر رہنے والی بعض اقلیتوں کا ذمہ اپنے سر لے لیتی ہے تو اس کی وجہ سے ایسی الجھنیں پڑ جاتی ہیں جن کو بار بار کی لڑائیاں بھی نہیں سلجھا سکتیں۔ ... ان دینی بھائیوں کی مدد کا فریضہ اندھا دھند انجام نہیں دیا جائے گا بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اخلاقی حدود کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جا سکے گا۔ اگر ظلم کرنے والی قوم سے دار الاسلام کے معاہدانہ تعلقات ہوں تو اس صورت میں مظلوم مسلمانوں کی کوئی ایسی مدد نہیں کی جا سکے گی جو ان تعلقات کی اخلاقی ذمہ داریوں کے خلاف پڑتی ہو۔''(تفہیم القرآن ۲/ ۱۶۱، ۱۶۲)

اگرچہ کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پابندی کا اصول کلاسیکی فقہ میں بھی تسلیم کیا گیا ہے، تاہم فقہا اسے ایک محدود اور وقتی اصول کی حیثیت دیتے ہیں۔ مولانا کے اقتباس سے واضح ہے کہ وہ اسے بین الاقوامی سیاست اور مسلم وغیر مسلم حکومتوں کے تعلقات کی تشکیل کے ضمن میں ایک مستقل اور بنیادی اصول کا درجہ دیتے ہیں جس کی پاس داری مظلوم مسلمان اقلیتوں کی مدد کرنے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں زاویہ ہائے نگاہ کی ترجیحات کا فرق اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب ۱۹۴۸ء میں کشمیر کے مقامی مسلمانوں نے بھارت کے خلاف جنگ آزادی کا آغاز کیا تو مولانا مودودی نے حکومت پاکستان کی پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ:

''جہاد کشمیرکے سلسلے میں میرے نزدیک یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ وہاں لڑائی بھی ہو اور نہ بھی ہو۔ یعنی ایک طرف ہماری حکومت تمام دنیا کے سامنے اعلان کرے کہ ہم لڑ نہیں رہے بلکہ لڑنے والوں کو روک رہے ہیں اور دوسری طرف وہ لڑے بھی تو اس سے نہ صرف ہماری اخلاقی پوزیشن خراب ہوگی بلکہ ہم لڑ بھی نہیں سکیں گے۔ حکومت کا یہ موقف خود پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں بیان کیا تھا۔'' (تصریحات، مرتبہ: سلیم منصور خالد، ص ۴۷۰)

اس نکتے پر مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مابین ایک اہم اور دلچسپ بحث بھی ہوئی کہ آیا پاکستانی حکومت مجاہدین کی عسکری اور افرادی امداد کر سکتی ہے یا نہیں۔ مولانا عثمانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا عملاً مجاہدین کو مدد فراہم کرنا گویا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ معاہدے کی پابند نہیں رہی، جبکہ مولانا مودودی کا استدلال یہ تھا کہ حکومت کا اس بات کا واضح اعلان اور اقرار نہ کرنا بلکہ ظاہری طور پر اس کی تردید کرنا اور پہلے کی طرح بھارتی حکومت سے سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم رکھنا اس امر کو تسلیم کرنے سے مانع ہے۔ تاہم بحث کے آخر میں مولانا مودودی نے یہ قرار دیا کہ چونکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے مجاہدین کشمیر کی امداد کے علانیہ اعتراف کے باوجود بھارتی حکومت نے اسے نبذ عہد کے مترادف نہیں سمجھا، اس لیے قانونی طور پر اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ صرف کشمیر کی حد تک دونوں حکومتیں امن معاہدے کی پابند نہیں رہیں، جبکہ عمومی طور پریہ معاہدہ برقرار ہے۳۱؂۔

۱۹۷۹ء میں افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کی طرف سے افغان مسلمانوں پر ظلم وستم کے واقعات رونما ہوئے تو وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر مولانا سے دریافت کیا گیا کہ آیا پاکستان سے مسلمانوں کو افغان بھائیوں کی مدد کے لیے سرحد پار جانا چاہیے؟ مولانا نے فرمایا:

''کوئی شک نہیں کہ ہمارے افغان بھائی اس وقت نہ صرف صدی کے بہت بڑے جہاد میں مصروف ہیں، بلکہ جن مشکلات کا انھیں سامنا ہے، دوسروں کو ان کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ... لیکن جب تک کابل حکومت ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کرتی یا حکومت پاکستان اس سے تمام تعلقات توڑ کر اعلان جنگ نہیں کرتی، آپ پاکستانی شہریوں کو سرحد پار کر کے میدان جنگ میں نہیں اترنا چاہیے۔ یہ نہ صرف اسلامی قانون بین الاقوام کی نگاہ میں مناسب نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنے گا۔ البتہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے آپ کے کارکنان جا سکتے ہیں، مگر زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ بھی اسی پالیسی کو اختیار کریں جسے حکومت پاکستان اور آپ کا نظم طے کرے۔... اگر حالات بہت ہی زیادہ خراب ہو جائیں اور وہاں پر جہاد میں مصروف مجاہدین کی قیادت یہ چاہے کہ دوسرے مسلم ممالک سے انھیں افرادی قوت بھی درکار ہو، تب ایسے مسائل کا مرکزی سطح پر حل تلاش کیجیے، مگر یہ چیز انفرادی یا مقامات کی سطح پر نہیں ہونی چاہیے۔'' (تصریحات ص ۴۵۷، ۴۵۸)

________

سابقہ صفحات میں اٹھائے گئے تنقیدی نکات کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ 'الجہاد فی الاسلام' اور 'تفہیم القرآن' میں اسلام کے تصور جہاد کے حوالے سے مولانا مودودی کی پیش کردہ تعبیرات واضح اور منطقی لحاظ سے مربوط نہیں، بلکہ بڑی حد تک ان کی پریشان خیالی کی غمازی کرتی ہیں۔ ہم نے بعض پہلووں سے مولانا کے فکر کا ایک ابتدائی تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ مولانا کے علمی کام سے دلچسپی رکھنے والے محققین اسے زیادہ تفصیل اور گہرائی کے ساتھ موضوع بنائیں اور مولانا کے فکر ونظر کے وسیع تر تناظر میں اس بحث کے حوالے سے ان کے رجحانات کو متعین کرنے کی کوشش کریں۔ البتہ جہاں تک تیسرے اور آخری زاویہ نگاہ کا تعلق ہے تو ہماری رائے میں وہ عالمی سیاسی حالات اور بین الاقوامی قانون میں رونما ہونے والے جوہری تغیرات کے گہرے ادراک کی غمازی کرتا ہے اور مولانا نے ایک بدلے ہوئے تناظر میں اسلامی قانون کی نئی اور تازہ تعبیر پیش کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے نئے حالات سے ہم آہنگ نقطہ نظر پیش کر کے گہری اجتہادی بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔ اس زاویہ نگاہ کا تقابل اس موضوع پر مولانا کی دوسری تحریروں کے ساتھ کیا جائے تو یقیناًبہت سے تضادات اور الجھنیں سامنے آتی ہیں اور خاص طور پر یہ سوال تشنہ جواب رہ جاتا ہے کہ مولانا نے تفہیم القرآن وغیرہ میں جہاد وقتال کے نصوص کی جو اصولی تعبیر پیش کی ہے، اس کی رو سے زیر بحث زاویہ نگاہ کی گنجائش کیسے پیدا ہوتی ہے۔ تاہم جہاں تک عملی دائرے میں زیربحث نقطہ نظر کی اجتہادی قدر وقیمت کا تعلق ہے تو وہ شک وشبہ سے بالاتر ہے اور اس حوالے سے مولانا کا شمار عالم اسلام کے ان نمایاں ترین اہل علم اور مفکرین میں کیا جا سکتا ہے جنھوں نے، نظریہ اور تصور کی سطح پر ہی سہی، اسلامی قانون کی تشکیل جدید کے ضمن میں نہایت بنیادی راہ نمایانہ کردار ادا کیا ہے۔

یہ بات اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل ہے کہ اسلام کے فلسفہ جہاد کی تشریح وتوضیح کے حوالے سے مولانا مودودی اور بعض معاصر مفکرین وتحریکات کے طرز استدلال میں بہت بنیادی اشتراکات پائے جاتے ہیں۔ تاہم جہاں تک نظری اور فلسفیانہ بحث ومباحثہ اور عملی اجتہادی ضروریات اور تقاضوں کے مابین فرق کو سمجھنے اور مطلوبہ توازن کو ملحوظ رکھنے کا تعلق ہے تو ان تحریکوں کا طرز فکر مولانا مودودی کے طرز فکر سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔ مقدم الذکر کے ہاں اصولی اور نظری بحث اور عملی ومعروضی حالات کے تقاضوں کے مابین حکیمانہ امتیاز کا شدید فقدان دکھائی دیتا ہے، جبکہ مولانا مودودی اس فرق کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصولی اور نظریاتی اشتراک کے باوجود بہت سی معاصر تحریکیں تشدد کی راہ پر گامزن ہو گئیں، جبکہ مولانا موودی نے عدم تشدد اور جمہوری اصولوں کی پاس داری کو اپنی تحریک کا بنیادی پتھر قرار دیا۔ ہمارے نزدیک مولانا کی پیش کردہ تعبیرات اور افکار کے مختلف پہلوؤں سے اختلاف کے تمام تر امکانات کے باوجود دور جدید میں ایک متوازن طرز فکر کی تشکیل کے حوالے سے مولانا کی یہ خدمت (Contribution) بے حد غیر معمولی ہے اور درحقیقت اسی میں ان کی فکری عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔

________

۳۰؂ سود ص ۳۱۲۔

۳۱؂ اس دلچسپ مراسلت کے لیے ملاحظہ ہو: ''انوار عثمانی'' مرتبہ پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی ۲۰۴۔۲۲۱۔ ابو حمزہ قاسمی، ''خطبات ومکتوبات عثمانی''، ۲۴۵۔۲۶۰۔

____________




Articles by this author