مخالف استدلالات کا جائزہ (حصہ اول)

مخالف استدلالات کا جائزہ (حصہ اول)


گزشتہ صفحات میں ہم نے قرآن مجید اور حدیث وسیرت کی روشنی میں عہد نبوی میں جہاد وقتال کی نوعیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے جو ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا جہاد صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ اور اقدامی بھی تھا اور اس کا محرک صرف کفار کے فتنہ وفساد کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کو دائرۂ اسلام میں لانا یا ان کو مغلوب کر کے ان پر اسلام اور اہل اسلام کی بالادستی قائم کرنا بھی تھا۔ تاہم یہ بحث تشنہ رہے گی اگر ان استدلالات وشبہات کا سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا جائے جو اس حوالے سے بالعموم پیش کیے جاتے ہیں۔

دفع فساد کے اصول پر نصوص کی توجیہ

زیر بحث نقطہ نظر کے حامل اہل علم اپنے اس موقف کے حق میں کہ قرآن میں قتال سے متعلق وارد ہونے والے احکام کی اساس منکرین حق کا کفر نہیں، بلکہ ان کا فتنہ وفساد تھا، قتال سے متعلق نصوص سے بعض داخلی شواہد پیش کرتے ہیں۔

اس ضمن پہلی اور اہم ترین نص سورۂ براء ۃ کی وہ آیات ہیں جن میں مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم جس سلسلہ بیان میں آیا ہے، وہ سورۂ براء ۃ کی ابتدائی ۱۶ آیات میں پھیلا ہوا ہے۔ اس حکم سے متعلق آئندہ سطور میں کی جانے والی علمی بحث کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ پورا سلسلہ بیان اجمالاً پیش نظر رہے:

۱۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ مشرکین کے ساتھ کیے جانے والے تمام معاہدے اب کالعدم ہیں اور اس اعلان کے بعد انھیں فیصلہ کرنے کے لیے صرف چار ماہ کی مہلت حاصل ہوگی۱؂۔

۲۔ حج اکبر کے دن مشرکین سے براء ت کے اعلان کی عام منادی کی جائے۲؂۔

۳۔ جن مشرکین نے معاہدہ کرنے کے بعد نقض عہد نہیں کیا، ان کے ساتھ مقررہ مدت تک معاہدے کی پاسداری کی جائے۳؂۔

۴۔ آیت ۱و۲ میں جن مشرکین سے معاہدے توڑنے کا اعلان کیا گیا اور انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے، اشہر حرم گزرنے کے بعد وہ جہاں ملیں، انھیں قتل کر دیا جائے، الا یہ کہ وہ توبہ کر کے دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں۴؂۔

۵۔ اگر کوئی مشرک امان طلب کرے تو اسے امان دے دی جائے تاکہ وہ اللہ کا کلام سن سکے۔ پھر اس کو اس جائے امان تک پہنچا دیا جائے۵؂۔

۶۔ مشرکین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ انھوں نے محض موقع پرستی کے جذبے کے تحت یہ معاہدے کیے ہیں اور جیسے ہی انھیں موقع ملے گا، یہ کسی عہد وپیمان کا لحاظ کیے بغیر مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہو جائیں گے۔ اہل ایمان کے لیے ان کے ساتھ بھائی چارے کا تعلق قائم کرنے کی صورت بس یہی ہے کہ یہ کفر وشرک سے توبہ کر کے ایمان لے آئیں اور نماز وزکوٰۃ کا اہتمام کریں۔ البتہ مسجد حرام کے پاس جن مشرکین سے مسلمانوں نے معاہدہ کیا ہے، وہ جب تک معاہدے پر قائم رہیں، مسلمان بھی اس کی پاس داری کریں۶؂۔

۷۔ جو مشرکین ابھی تک عہد پر قائم ہیں، اگر وہ نقض عہد کریں تو ان کے خلاف بھی قتال کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو اور مسلمان اپنے انتقام کی آگ بجھا سکیں۷؂۔

۸۔ نسبی تعلق داریوں اور قرابتوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مشرکین کے خلاف جہاد کا حکم مسلمانوں کے لیے ایک امتحان اور آزمایش کی حیثیت رکھتا ہے جس پر سچے اہل ایمان کو لازماً پورا اترنا ہوگا۸؂۔

مذکورہ سلسلہ بیان میں مرکز ومحور کی حیثیت آیت ۵ میں دیے جانے والے اس حکم کو حاصل ہے:

فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدتُّمُوہُمْ وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ وَاقْعُدُوا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوا سَبِیْلَہُمْ إِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ.(التوبہ: ۵)

''پھر جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور ان کو پکڑو اور ان کو گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر یہ شرک سے تائب ہو جائیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''

روایتی تشریح کی رو سے یہ حکم کفر وایمان کے تناظر میں وارد ہوا ہے اور مشرکین کے لیے قتل کی سزا ان کے اسلام قبول نہ کرنے کے جرم کی پاداش میں بیان ہوئی ہے، لیکن زیر بحث نقطہ نظر کے مطابق اس حکم کی بنیادی وجہ مشرکین کا ایمان نہ لانا نہیں بلکہ نقض عہد اور فتنہ وفساد پر مبنی ان کا رویہ تھا۔ اس استنباط کی تائید میں محولہ بالا آیات سے تین قرائن پیش کیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ آیت ۴ میں مشرکین کے ان گروہوں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے جنھوں نے معاہدہ کرنے کے بعد نہ خود مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام کیا ہے اور نہ کسی دوسرے فریق کی اس معاملے میں مدد کی ہے:

إِلاَّ الَّذِیْنَ عَاہَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنقُصُوکُمْ شَیْْئاً وَلَمْ یُظَاہِرُوا عَلَیْْکُمْ أَحَداً فَأَتِمُّوا إِلَیْْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلَی مُدَّتِہِمْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ. (التوبہ: ۴)

''البتہ جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا اور اس کے بعد انھوں نے اس معاہدے کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی گروہ کے ساتھ تعاون کیا، ان کے ساتھ مقررہ مدت تک معاہدے کی پابندی کرو۔ بے شک اللہ عہد وپیمان کی پاس داری کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔''

اسی طرح آگے آیت ۷ میں 'الا الذین عاہدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم' کے الفاظ میں دوبارہ اس کی تاکید کی گئی ہے کہ معاہدہ کرنے والے مشرکین جب تک اپنے معاہدے کی پاس داری کرتے رہیں، ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۱ میں جن مشرکین سے اعلان براء ت اور آیت ۵ میں انھیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، وہ نقض عہد کے مرتکب ہوئے تھے اور اس کی سزا کے طور پرانھیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔۹؂

دوسرا یہ کہ آیت ۶ میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو امان دینے کی ہدایت کی ہے جو مسلمانوں سے اس کے طالب ہوں۔ چنانچہ فرمایا ہے:

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْلَمُونَ.(آیت ۶)

''اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے امان طلب کرے تو اس کو امان دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اس کو اس کی جائے امان تک پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ یہ ایسی قوم ہیں جو علم نہیں رکھتے۔''

گویا اگر مشرکین کا کفر وشرک ان کو قتل کرنے کی وجہ ہوتا تو ظاہر ہے کہ امان طلب کرنے پر ان کو امان نہ دی جاتی۔

تیسرا یہ کہ آیت ۸، ۱۰ اور ۱۳ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ معاہدے توڑنے اور قتال کرنے کی یہ علت خود بیان فرمائی ہے کہ یہ معاہدوں کو توڑنے والے اور مسلمانوں کے مقابلے میں کسی رشتہ وپیمان کا لحاظ نہ کرنے والے ہیں۔ ارشاد ہے:

لاَ یَرْقُبُونَ فِیْ مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّۃً وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُعْتَدُونَ. (آیت ۱۰)

''یہ مشرکین کسی بھی مومن کے معاملے میں نہ کسی عہد کی پاس داری کرتے ہیں اور نہ کسی ذمہ کی اور یہی زیادتی کرنے والے ہیں۔''

أَلاَ تُقَاتِلُونَ قَوْماً نَّکَثُوا أَیْْمَانَہُمْ وَہَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَہُمْ بَدَؤُوکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (آیت ۱۳)

''کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں اور پیمان توڑ دیے اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی تمہارے خلاف جنگ کا آغاز کیا؟''

(الدکتور محمد سعید رمضان البوطی، الجہاد فی الاسلام، ص ۵۵۔۵۸، ۹۸۔۱۰۰)

اس نقطہ نظر کے استدلال کی وضاحت کے بعد اب ہم اس کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔

پہلے استدلال کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ چونکہ قرآن نے معاہدے کی پابندی کرنے والے مشرکین کے خلاف اقدام کی ممانعت کی ہے، اس لیے جن مشرکین کے خلاف اقدام کا حکم دیا گیا، اس کی وجہ اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتی کہ وہ معاہدات کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے فتنہ وفساد کی روش پر مصر تھے۔

یہ استدلال بظاہر وزنی دکھائی دیتا ہے، تاہم متعلقہ آیات پر غور کرنے سے اس کی کمزوری بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سورہ براء ۃ کی ابتدائی آیات کا تدبر کی نگاہ سے مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں مشرکین سے اعلان براء ت کے دو الگ الگ مرحلوں کا ذکر ہوا ہے۔ پہلے مرحلے کا ذکر 'براء ۃ من اللہ ورسولہ' کے الفاظ میں آیت ۱ میں ہوا ہے جبکہ دوسرے اور حتمی مرحلے کا ذکر آیت ۳ میں 'واذان من اللہ ورسولہ' کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ مفسرین نے چونکہ عام طور پر ان آیات کا زمانہ نزول ۹ ہجری کو قرار دیا ہے، اس لیے وہ اعلان براء ت کے ان دو الگ الگ مرحلوں کی طرف متوجہ نہیں ہو سکے اور نتیجتاً یہ سمجھ لیا گیا کہ 'واذان من اللہ ورسولہ' درحقیقت 'براء ۃ من اللہ ورسولہ' ہی کا تکرار ہے۔ حالانکہ اول تو یہ دونوں حکم متصلاً ایک ہی مقام پر واوِ عطف کے ساتھ الگ الگ بیان ہوئے ہیں اور اس اسلوب کو محض تکرار پر محمول کرنا بے فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ پھر یہ کہ دونوں حکموں میں مذکور قیود بھی اسی طرف راہنمائی کرتی ہیں کہ انھیں دو الگ الگ حکم سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر پہلے حکم کا تعلق 'الذین عاہدتم من المشرکین' یعنی ان مخصوص مشرک قبائل سے ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا، جبکہ دوسرا حکم عمومی طور پر'الناس' یعنی جزیرہ عرب کے تمام لوگوں سے متعلق ہے۔ اسی طرح پہلے حکم میں اعلان براء ت کا ذکر کسی زمانی قید کے بغیر ہوا ہے جو اس کے فوری ابلاغ کا متقاضی ہے، جبکہ دوسرے اعلان براء ت کے بارے میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اس کا اہتمام حج اکبر کے موقع پر کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آیت ۳ میں حج اکبر کے دن جن مشرکین سے براء ت کا اعلان کیا گیا ہے، یہ وہ معاہد مشرکین نہیں جن کے ساتھ معاہدے توڑنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہے، بلکہ اس سے مراد پورے جزیرۂ عرب کے مشرکین ہیں۔

اگر ہمارا یہ تجزیہ درست ہے تو پھر 'واذان من اللہ ورسولہ' کے حکم کی توجیہ دفع فساد یا نقض عہد کے اصول کی روشنی میں ہرگز نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ فتنہ وفساد کرنے والے گروہوں سے اعلان براء ت تو بہت عرصہ پہلے کیا جا چکا تھا اور حج اکبر کے موقع پر اسے اس اہتمام کے ساتھ دہرانے کی کوئی حکمت نہیں تھی۔ چنانچہ یہ دوسرا حکم لازماً کفر وایمان کے تناظر میں تھا۔ پھر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو پہلے حکم کے حتمی انجام کے طور پر یہاں بیان کیا ہے، اس لیے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے حکم کی علت اور وجہ بھی اصل میں نقض عہد نہیں بلکہ کفر وایمان کا مسئلہ ہے۔

ایک اور پہلو سے ان ہدایات کا جائزہ لیجیے:

قرآن نے مشرکین سے جو اعلان براء ت کیا ہے، اگر اس کی بنیادی وجہ نقض عہد کے اصول کو مانا جائے تو بظاہر دو صورتیں سامنے آتی ہیں:

ایک یہ کہ جن مشرکین سے اعلان براء ت کیا گیا، وہ بالفعل معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو چکے تھے۔

دوسرے یہ کہ وہ بالفعل تو خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے تھے، لیکن ان کی طرف سے اس کا اندیشہ محسوس کرتے ہوئے مسلمانوں کو پیشگی اعلان براء ت کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

پہلی صورت کی نفی خود قرآن کے الفاظ سے ہو جاتی ہے، چنانچہ آیت ۱ کے الفاظ یہ ہیں:

بَرَاء ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِیْنَ عَاہَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِکِیْن

''جن مشرکوں سے تم نے معاہدے کر رکھے ہیں، اللہ اور اس کا رسول کی طرف سے ان سے براء ت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ''

الفاظ کی دلالت اس بات پر بالکل واضح ہے کہ معاہدہ توڑنے کا اقدام مشرکین کی طرف سے نہیں ہوا، بلکہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ بالفعل نقض عہد کے مرتکب ہوئے ہوں، ان کے نقض عہد کی بنیاد پر ان سے اعلان براء ت کرنے کے لیے یہ اسلوب بدیہی طورپر موزوں نہیں۔ یہ بات آئندہ آیات سے بھی واضح ہوتی ہے۔ چنانچہ آیت ۷،۸ میں مشرکین کے ساتھ معاہدے توڑنے کے فیصلے پر ایک اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ:

کَیْْفَ یَکُونُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِندَ اللّٰہِ وَعِندَ رَسُولِہِ..... کَیْْفَ وَإِن یَظْہَرُوا عَلَیْْکُمْ لاَ یَرْقُبُوا فِیْکُمْ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّۃً یُرْضُونَکُمْ بِأَفْوَاہِہِمْ وَتَأْبَی قُلُوبُہُمْ وَأَکْثَرُہُمْ فَاسِقُونَ.

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین بالفعل نقض عہد کے مرتکب نہیں ہوئے تھے، البتہ ان کا ذہنی رویہ اور رجحان یہی تھا کہ جیسے ہی انھیں مسلمانوں کو زک پہنچانے کا موقع ملے گا، وہ معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

اگر دوسری صورت کے مطابق یہ مانا جائے کہ ان مشرکین کے خلاف اقدام کی اصل وجہ ان کی طرف سے بالفعل نقض عہد نہیں بلکہ اس ضمن میں ان کے وہ ارادے اور عزائم تھے تو سورۂ براء ۃ کی زیر بحث آیات ہی کی روشنی میں اس چیز کو بھی اقدام کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نقض عہد کے ارادوں اور عزائم کے معاملے میں قریش کا معاملہ باقی مشرکین سے کسی طرح مختلف نہیں تھا، چنانچہ قرآن نے اسی تناظر میں آیت ۱۲ میں ان کے ذہنی رجحانات اور ارادوں کی نقاب کشائی بھی کر دی ہے۔ اس کے باوجود آیت ۷ میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے بارے میں، جنھوں نے حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں کے ساتھ دس سال کا ناجنگ معاہدہ کیا تھا، یہ ہدایت کی ہے کہ جب تک وہ بالفعل اپنے معاہدے کو توڑ نہ دیں، مسلمان بھی اپنے معاہدے پر قائم رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن مشرکین کے معاہدوں کو قرآن نے علی الفور ازخود کالعدم قرار دیا ہے، اس کی اصل وجہ ان کی طرف سے نقض عہد کے اندیشے کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اعلان براء ت کی اصل وجہ مشرکین کی طرف سے بالفعل نقض عہد کو قرار دیا جائے یا نقض عہد کے اندیشے کو، دونوں صورتوں میں چند مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک سوال یہ ہے کہ ان مشرکین کو چار ماہ کی مہلت کس مقصد کے لیے دی گئی؟ اگر اس کا مقصد مشرکین کو غور وفکر کا موقع دینا تھا تاکہ وہ دوبارہ معاہدہ کر لیں یا کیے ہوئے معاہدوں کے حقیقی معنوں میں پابند ہو جائیں تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انھی معاہدوں کو دوبارہ قائم کرنا یا انھیں برقرار رکھنا ہی مقصود تھا تو اس کے لیے سرے سے ان معاہدوں سے اعلان براء ت کی کیا ضرورت تھی؟ اس صورت میں تو معاہدوں کے خاتمے کا اعلان کرنے کے بجائے مشرکین کو اس بات کی تنبیہ کرنا زیادہ مناسب تھا کہ وہ اپنے رویے سے باز آ جائیں اور معاہدوں کی پاس داری کریں اور اگر ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو چار ماہ کے بعد یہ معاہدے کالعدم سمجھے جائیں گے اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

اس ضمن میں سب سے اہم اور بنیادی اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ اگر ان مشرکین کا قصور نقض عہد یا نقض عہد کے عزائم تھے تو اس کی پاداش میں انھیں دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانے کا الٹی میٹم اور اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں انھیں قتل کرنے کی ہدایت کیوں کی گئی؟ اس سوال کی اہمیت اس نکتے کی روشنی میں دوچند ہو جاتی ہے کہ جس وقت قرآن نے ان مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا، اس وقت وہ بالفعل اور علانیہ مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ نہیں تھے جس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کے لیے اشہر حرم کے گزر جانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ اشہر حرم میں بالفعل حملہ آور ہونے والوں کے خلاف جنگ کی اجازت قرآن اس سے پہلے بقرہ کی آیت ۱۹۴ میں صریح طور پر دے چکا ہے۔ چنانچہ اگر اس حکم کا بنیادی مقصد محض دفع فساد کو قرار دیا جائے تو یہ الجھن کسی طرح حل نہیں ہوتی کہ قرآن اس حکم کو مشرکین سے فتنہ وفساد کی قوت چھین لینے اور انھیں بے دست وپا کر دینے تک محدود کیوں نہیں رکھتا اور اس سے آگے بڑھ کر قبول اسلام ہی کو ان کے لیے کیوں لازم قرار دیتا ہے؟

اگر یہ کہا جائے کہ ان گروہوں کے فتنہ وفساد کے خاتمے کے لیے یہ ضروری تھا کہ انھیں کفر و شرک کے دائرے سے نکال کر دائرۂ اسلام میں داخل کر لیا جائے تو بھی اس سے اشکال حل نہیں ہوتا۔ اول تو اس لیے کہ اگر وہ دل سے مسلمانوں کے دشمن تھے تو ظاہر ہے کہ منافقین کی طرح بظاہر اسلام قبول کر لینے کے باوجود ان کی ریشہ دوانیاں ختم نہ ہوتیں اور وہ درپردہ مسلمانوں کی نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے اور یہ صورت بدیہی طور پر زیادہ خطرناک ہوتی کیونکہ چھپا دشمن بہرحال کھلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ایسی صورت میں مشرکین کا اسلام قبول کر لینا ان کے فتنہ وفساد سے تحفظ کی ضمانت کیسے بن سکتا تھا؟ کیا ان میں سے شر پسند گروہ اسلام قبول کر لینے کے باوجود درون خانہ سازشیں نہیں کر سکتے تھے اور کیا وہ اس کے بعد موقع ملنے پر دوبارہ کفر کی طرف نہیں لوٹ سکتے تھے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عملاً بہت سے گروہوں نے اس کی کوشش بھی کی؟

پھر یہ کہ اگر اس حکم کو محض دفع فساد کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشرکین اور اہل کتاب کے لیے تجویز کی جانے والی حکمت عملی میں فرق کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مشرکین کو تو فتنہ وفساد کے جرم میں قتل کرنے کا حکم ہے، لیکن اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا کہ وہ جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں؟ اس کے برعکس قتال کے اس حکم کو کفر وایمان کے تناظر میں دیکھیے تو اس فرق کی وجہ معقول ہو جاتی ہے۔ مشرکین کا کفر محض کفر نہیں بلکہ 'شرک' تھا، اس لیے ان کے لیے سزا بھی سخت تجویز ہوئی، جبکہ اہل کتاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہونے کے باوجود توحید کے قائل تھے، چنانچہ انھیں محض جزیہ نافذ کرنے کی سزا دی گئی۔

ان وجوہ سے ہمارے نزدیک آیت ۴ اور پھر آیت ۷ میں معاہدوں کی پاس داری کرنے والے مشرکوں کو 'فاقتلوا المشرکین' کے حکم سے مستثنیٰ قرار دینے سے یہ استنباط کسی طرح درست نہیں ہے کہ جن مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کا اصل جرم نقض عہد تھا۔ اصل یہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مشرکین عرب پانچ گروہوں میں تقسیم تھے:

ایک وہ جنھوں نے آپ کے ساتھ کبھی مصالحانہ تعلقات قائم نہیں کیے، بلکہ وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے جان ومال پر تعدی کرتے رہے۔

دوسرے وہ جنھوں نے آپ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا اور پھر توڑ دیا۔

تیسرے وہ جنھوں نے ایک محدود مدت کے لیے صلح کا معاہدہ کیا اور پھر اس پر قائم رہے۔

چوتھے وہ جن کے ساتھ وقت کی کسی تحدید کے بغیر صلح کے معاہدے کیے گئے اور ان کی طرف سے کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی۔

پانچویں وہ جنھوں نے نہ صلح کا معاہدہ کیا اور نہ مسلمانوں کے خلاف کسی ظلم وعدوان ہی کے مرتکب ہوئے۔

سورۂ براء ت کی مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے تیسرے گروہ کے سوا، جس کے ساتھ موقت معاہدہ کیا گیا تھا، باقی تمام گروہوں کے ساتھ کیے جانے سابقہ معاہدوں کی تنسیخ اور آئندہ کوئی بھی معاہدہ کرنے پر پابندی کا اعلان کیا ہے اور اس کا مقصد ان کے فتنہ وفساد کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ بات تھی کہ الٹی میٹم دیے جانے کے بعد بھی اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو ان کے خلاف قتل عام کا اقدام کیا جا سکے۔ ان میں سے پہلے، دوسرے اور پانچویں گروہ کے خلاف اقدام کرنے میں چونکہ کوئی معاہدہ مانع نہیں تھا، اس لیے ان کا ان آیات میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ البتہ تیسرے اور چوتھے گروہ کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے اس اقدام میں ایک اخلاقی رکاوٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ جن گروہوں کے ساتھ غیر موقت معاہدے کیے گئے تھے اور ان کو نبھانا کسی طرح ممکن نہیں تھا، ان کے ساتھ معاہدوں کو از خود ختم کر دیا گیا، جبکہ تیسرے گروہ کے ساتھ اس وجہ سے معاہدے کی پاس داری کی ہدایت دی گئی کہ یہ معاہدہ محض ایک محدود اور متعین عرصے کے لیے موثر تھا جس کو فریق مخالف کی طرف سے کسی عہد شکنی کے بغیر ازخود توڑنا معاہدے کی اخلاقیات کے منافی تھا۔ تاہم عہد شکنی یا مدت کے پورا ہو جانے کی صورت میں یہ گروہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوتا جو دوسرے گروہوں کے لیے بیان کیا گیا ہے۔

گویا صورت حال یہ نہیں کہ قرآن مجید نقض عہد کا ارتکاب کرنے والے مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دے رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ پہلے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو ازخود توڑنے کا اعلان کر رہا ہے اور پھر ایک خاص وقت تک مہلت دینے کے بعد یہ کہہ رہا ہے کہ اگر وہ اس دوران میں ایمان نہیں لائیں گے تو ان کا قتل عام کیا جائے گا۔ قرآن نے یہاں ان مشرکین کے خلاف اقدام کی وجہ ان کا معاہدے کی خلاف ورزی کرنا نہیں بتایا بلکہ ان کے سابقہ طرز عمل اور ان کے اصل عزائم کے تناظر میں ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو ازخود کالعدم قرار دے کر انھیں چار ماہ کی مہلت دی ہے اور اس کے بعد انھیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قتل کی اصل وجہ کچھ اور ہے اور ایسی سنگین ہے کہ قرآن اس کے لیے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی، جس کی انھوں نے بالفعل خلاف ورزی بھی نہیں کی، رعایت بھی انھیں دینے کے لیے تیار نہیں۔ پھر اس نے اشہر حج گزرنے کے بعد ان کے قتل عام کا حکم دیا ہے جبکہ اس سے بچنے کی صورت صرف یہ بیان کی ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔

'الا الذین عاہدتم من المشرکین' سے جس گروہ کا استثنا بیان کیا گیا ہے، اس کے ساتھ معاہدہ چونکہ محض ایک مخصوص مدت کے لیے تھا، اس لیے یہ مناسب سمجھا گیا کہ اس کے پورا ہونے تک ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ ان کے علاوہ باقی تمام مشرکین کو الٹی میٹم دے دیا گیا اور چونکہ غیر موقت معاہدات اس حکم پر عمل درآمد میں مانع تھے، اس لیے ان سے صاف صاف براء ت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 'الا الذین عاہدتم من المشرکین' کا اسلوب صاف بتا رہا ہے کہ اس کی حیثیت ایک استثنا کی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جو مشرکین کبھی مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار نہیں رہے اور انھوں نے صلح کے معاہدے کرنے کے بعد کبھی خفیہ یا علانیہ معاہدے کی خلاف ورزی یا مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد نہیں کی، ان کے خلاف قتل کا اقدام ایفائے عہد کے اخلاقی اصول کے منافی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اس لیے ہدایت کی گئی کہ ان کے ساتھ قرار دادہ مدت تک معاہدے کی پاس داری کی جائے۔ چنانچہ اس استثنا سے قتل مشرکین کی اصل وجہ اخذ کرنا، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اسالیب کلام کی رو سے کسی طرح درست نہیں۔

اب دوسرے استدلال کو لیجیے:

آیت ۶ میں'وان احد' کے الفاظ میں قتل عام کے حکم سے بعض افراد کے لیے جو استثنا بیان کیا گیا ہے، اس کا مقصد خود قرآن مجید نے'حتی یسمع کلام اللہ' اور 'ذلک بانہم قوم لا یعلمون' کے الفاظ سے بالکل صاف بیان کر دیا ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ جو مشرک مسلمانوں کے خلاف فتنہ و فساد میں ملوث نہ ہو، اسے قتل سے مستقل طور پر مامون کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ چونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ انفرادی حیثیت سے بعض افراد پر اللہ کا پیغام واضح طریقے سے ابھی نہ پہنچا ہو، اس لیے اگر کوئی فرد اس معاملے میں غور کرنے کے لیے مہلت مانگے تو اسے امان دے دی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مشرک اللہ کے پیغام کو سمجھنے کے لیے امان طلب نہ کرے تو اس کا مقدر بھی یہی تھا کہ اسے تہہ تیغ کر دیا جائے۔ یہ چیز بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ قتل عام کے زیر بحث حکم کا تعلق فتنہ وفساد سے نہیں بلکہ دین وعقیدہ سے ہے۔

تیسرے استدلال کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ سورۂ براء ۃ کی زیربحث آیات کو ان کے پورے سیاق وسباق کے ساتھ سمجھ لیا جائے۔

سورۂ براء ۃ کی ابتدائی ۲۸ آیات کا دقت نظر سے مطالعہ کیجیے تو واضح ہوگا کہ یہ دو حصوں میں تقسیم ہیں:

پہلی ۶ آیات میں مشرکین کے حوالے سے اصل حکم بیان ہوا ہے اور ان میں مرکزی نکتہ، جس کے گرد یہ پورا سلسلہ بیان گھومتا ہے، آیت ۵ میں بیان ہوا ہے، یعنی یہ کہ مشرکین اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو انھیں قتل کے انجام سے دوچار کر دیا جائے۔ اس کے سیاق وسباق میں بیان ہونے والے باقی تینوں احکام اسی کے لواحق اور متعلقات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ قتل عام کے اس آخری اقدام سے قبل آیت ۱ میں مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کی پابندی سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کر دیں۔ پھر چونکہ یہ حکم اپنے عموم کے لحاظ سے پورے جزیرۂ عرب کو محیط ہے، اس لیے آیت ۳ میں حج اکبر کے موقع پر اس کی عام منادی کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ کسی بھی حوالے سے غلط فہمی یا خفا کا امکان نہ رہے۔ ا س کے باوجود چونکہ امکان تھا کہ انفرادی سطح پر بعض مشرکین تک اسلام کی دعوت اس وقت تک واضح اور موثر طریقے سے نہ پہنچی ہو، اس لیے آیت ۶ میں کہا گیا کہ اگر کوئی مشرک دعوت اسلام پر غور کرنے کی غرض سے امان طلب کرے تو اسے امان دے دی جائے۔

اصل حکم اپنے متعلقات کے ساتھ یہاں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد آیت ۷ سے ۲۸ تک دراصل ان نفسیاتی موانع کا بیان ہے جو مسلمانوں کی جانب سے اس اقدام پر عمل درآمد کی راہ میں حائل تھے۔ یہ موانع جن کا قرآن مجید نے ان آیات میں ازالہ کیا ہے، بنیادی طور پر تین تھے:

ایک یہ کہ جو مشرک قبائل سب سے پہلے اس حکم کی زد میں آتے، ان کے ساتھ مسلمانوں کے نسبی تعلقات اور نہایت عزیز قرابت داریاں قائم تھیں اور عربوں کے مخصوص مزاج اور روایات کے پس منظرمیں ان کے خلاف اس نوعیت کے اقدام کا حکم، فی الواقع، ایک کڑی آزمایش کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو یہ بات واضح فرمائی کہ جب یہ قبائل دین دشمنی کی بنیاد پر تمھارے ساتھ کسی رشتے داری اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھتے اور اس بات کی تاک میں ہیں کہ جیسے ہی موقع ملے، ہر قسم کے عہد وپیمان کو بالائے طاق رکھ کر تمہارے خلاف برسر جنگ ہو جائیں تو تم آخر کس بنیاد پر ان کے لیے ہمدردی اور قرابت کے جذبے کا اظہار کر رہے ہو۔ (آیت ۹۔۱۳) دوسری طرف یہ واضح کیا کہ اللہ کے دین اور اس کے احکام کے مقابلے میں اپنی نسبی قرابتوں اور رشتہ داریوں کو ترجیح دینا ایمان کے منافی ہے اور اگر مسلمان ایسا کریں گے تو وہ خود بھی اللہ کے عذاب کی زد میں آ جائیں گے۱۰؂۔

دوسرا یہ کہ ان میں سے بالخصوص قریش عرب میں یہ شرف اور اعزاز بھی رکھتے تھے کہ انھیں بیت اللہ کی تولیت اور دربانی کامنصب حاصل تھا اور اس کے ہوتے ہوئے ان کے خلاف اقدامِ جنگ حقیقتاً ایک بڑی نفسیاتی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ قرآن مجید نے اس کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بیت اللہ کی تولیت کا حق صرف اور صرف سچے اہل ایمان کو حاصل ہے اور شرک کے ساتھ کیا گیا کوئی عمل، چاہے وہ بیت اللہ کی دربانی اور حاجیوں کی خدمت جیسے اعلیٰ اعمال ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۱۱؂۔

تیسرا یہ کہ پورے عرب کے خلاف جنگ چھیڑ دینے کا حکم بہرحال نہایت صبر وہمت اور جرات وشجاعت کا متقاضی تھا اور کمزور اہل ایمان کے دل میں یہ اشکال پیدا ہونے لگا تھا کہ مسلمان اس عظیم ذمہ داری سے آخر کیسے عہدہ برآ ہوں گے۔ قرآن مجید نے اس کے جواب میں واضح فرمایا ہے کہ اہل ایمان کو اس سے پہلے بھی ہر موقع پر اللہ کی نصرت حاصل رہی ہے اور اگر وہ ثابت قدم رہ کر اس ذمہ داری کو ادا کریں گے تو آئندہ کے مراحل میں بھی وہ نصرت خداوندی سے محروم نہیں رہیں گے۔۱۲؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ آیت ۷ سے ۲۷ تک خطاب اس عمومی تناظر میں نہیں ہوا جس میں پہلی ۶ آیات وارد ہوئی ہیں، بلکہ ان میں بعض ایسی مخصوص الجھنوں سے تعرض کیا گیا ہے جن کا تعلق پورے جزیرۂ عرب کے مشرکین کے بجائے ان کے بعض مخصوص گروہوں، بالخصوص قریش سے تھا۔ اس مخصوص تناظر کی وجہ سے ظاہر ہے کہ کلام کے اس حصے میں مشرکین کے اوصاف و حالات بھی وہی بیان ہوئے ہیں جو ان مخصوص گروہوں میں پائے جاتے تھے۔ مذکورہ نقطہ نظر کی غلطی یہ ہے کہ اس میں پہلی ۶ آیات میں خطاب کے عمومی رخ اور اس کے بعد کی آیات کے مخصوص دائرۂ تخاطب میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا اور اس دوسرے حصے میں موجود بعض قرائن و شواہد کی بنا پر، جو بلاشبہ مشرکین کے بعض مخصوص گروہوں سے متعلق ہیں، پہلے حصے کے عمومی حکم کی تعبیر بھی اسی تناظر میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسا کرتے ہوئے کلام کی نہایت اہم داخلی دلالتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

'کیف یکون للمشرکین عہد' سے شروع ہونے والے سلسلہ بیان کے اس مخصوص تناظر کے واضح قرائن کلام کے اندر موجود ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں مشرکین کے ساتھ معاہدے توڑنے کی جو وجہ بیان کی گئی ہے، وہ تمام معاہد قبائل میں پائی ہی نہیں جاتی تھی اور کچھ قبائل اس اعلان کے وقت یقیناً ایسے بھی موجود تھے جن کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ کبھی بھی معاندانہ نہیں رہا تھا اور نہ ان سے اس قسم کا کوئی خدشہ آئندہ محسوس ہو رہا تھا۔ دوسرا یہ کہ اس حکم میں استثنا بیان کرتے وقت 'الا الذین عاہدتم عند المسجد الحرام' کے الفاظ سے صرف قریش اور معاہدۂ حدیبیہ میں شریک دوسرے قبائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر'کیف یکون للمشرکین عہد' کے الفاظ جزیرۂ عرب کے مجموعی تناظر میں لیے جائیں تو مذکورہ استثنا میں معاہدۂ حدیبیہ پر ارتکاز کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، ا س لیے کہ اس معاہدے کے علاوہ بھی بعض قبائل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موقت معاہدے کیے تھے اور انھیں بھی آیت ۴ کے حکم کے مطابق اس وقت تک امان حاصل تھی جب تک کہ معاہدوں کی مدت نہ گزر جائے یا وہ نقض عہد کا ارتکاب نہ کر ڈالیں۔ اسی وجہ سے ۹ ہجری میں حج اکبر کے دن قرآن مجید کے حکم کے مطابق جب اعلان براء ت کی عام منادی کرائی گئی تو اس میں یہ کہا گیا کہ'من کان بینہ وبین رسول اللہ عہد فلہ عہدہ الی مدتہ'۔ ظاہر ہے کہ اس سے یہ دیگر قبائل ہی مراد تھے، کیونکہ قریش تو معاہدۂ حدیبیہ کو اس سے عرصہ دراز قبل توڑ چکے تھے۔ اس پس منظر میں دیکھیے تو مذکورہ آیت میں ان تمام معاہدات سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف معاہدۂ حدیبیہ پر ارتکاز کرنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ'کیف یکون للمشرکین عہد' سے شروع ہونے والا سلسلہ بیان ان مخصوص قبائل کے تناظر میں وارد ہوا ہے جن کے خلاف اقدام جنگ کرنے میں، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، کچھ نفسیاتی اور معاشرتی موانع حائل ہو رہے تھے۔

اس نکتے کا حاصل یہ ہے کہ 'لایرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ' اور 'الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم' میں مشرکین بحیثیت مجموعی سرے سے زیر بحث ہی نہیں، اس لیے کہ تمام مشرکین پر اس وصف کا انطباق ہو ہی نہیں سکتا۔ ان آیات میں دراصل قریش کی حالت بیان کی گئی ہے جن کے ساتھ حدیبیہ میں دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ قرآن مجید نے ان کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اب تک تو یہ معاہدے پر قائم ہیں اور جب تک یہ معاہدے پر قائم رہیں، تم بھی اس کی پاس داری کرو، لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ یہ صرف مجبوری کی حالت میں معاہدے کی پابندی کر رہے ہیں، ورنہ جیسے ہی ان کو موقع ملے گا، یہ تمام عہد وپیمان پس پشت ڈال کر دوبارہ مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہو جائیں گے۔ یہ امکانی صورت بیان کر کے قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اگر عہد شکنی ان کی طرف سے سامنے آئے تو پھر معاہدے کی مدت پوری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ ان ائمہ کفر کے خلاف فوری اقدام کر کے ان کو نقض عہد کا مزہ چکھا دیا جائے۔ اس پس منظر میں فتنہ وفساد اور نقض عہد کو قتال کی علت قرار دینے کی بات محض جزوی حد تک ہی درست ہو سکتی ہے۔ یعنی مشرکین کو قتل کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے، اس کی وجہ بعض صورتوں میں یہ بھی ہے کہ انھوں نے نقض عہد کیا۔ گویا نقض عہد حکم کی ایک اضافی وجہ ہے نہ کہ اصل اور بنیادی سبب۔ اس بات کو مانے بغیر سورہ کے آغاز میں معاہدوں سے براء ت کے اعلان اور پھر حج اکبر کے موقع پر اس کی منادی کے بعد مشرکین کے قتل عام کے احکام کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ'وان نکثوا ایمانہم' کا تقابل اس سے نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے معاہدوں پر قائم رہیں، بلکہ اس کے بجائے اس کا تقابل 'فان تابوا واقاموا الصلوۃ وآتوا الزکوۃ' سے کیا گیا ہے۔ اس طرح قرآن نے اپنے بلیغ اسلوب میں یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرکین سے اصل مطلوب یہی ہے کہ وہ کفر وشرک سے تائب ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے ساتھ قتال کیا جائے گا، البتہ جب تک وہ اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے، انھیں جان ومال کا تحفظ حاصل ہے۔ تاہم اگر وہ اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس وقتی امان سے بھی اپنے آپ کو خود محروم کرلیتے ہیں۔

بعض حنبلی فقہا نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ'الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانہم' اور 'یخرجون الرسول وایاکم' اور 'فان قاتلوکم فاقتلوہم' میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ صراحت کے ساتھ ان کے شر وفساد کو علت بتایا ہے، جبکہ اگر کفر علت ہوتا تو مذکورہ امور کو جو کفر سے کم تر ہیں، بطور علت کے بیان کرنا غیر موزوں ہے۱۳؂۔ تاہم بالبداہت واضح ہے کہ پیغمبر کی نفس تکذیب کم تر جرم ہے جبکہ صد عن سبیل اللہ اور پیغمبر کے ساتھ محاربہ اور فتنہ وفساد کہیں زیادہ سنگین جرم ہے اور بلاغت کے اسالیب یہ تقاضا کرتے ہیں کہ جب سزا کی فرد جرم بیان کی جائے تو کم تر نہیں بلکہ بڑے جرم کا حوالہ دیا جائے۔ مزید برآں مذکورہ آیات میں بنیادی مقصود اہل ایمان میں کفار سے براء ت کا جذبہ اور ان کے خلاف جہاد وقتال کے لیے تحریک پیدا کرنا ہے، نہ کہ مشرکین کے عذاب کی اصل وجہ بیان کرنا۔ ظاہر ہے کہ اگر کسی گروہ کی فرد قرارداد جرم بیان کرنے کا مقصد اس کے خلاف اقدام کی ترغیب دینا ہو تو بلاغت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے جرم کے سنگین ترین اور شنیع ترین نتائج کا حوالہ دیا جائے اور اس کے طرز عمل کے ان پہلووں کو نمایاں کیا جائے جو نفسیاتی طور پر مخاطب میں مطلوب جذبہ عمل کو انگیخت کرنے کا زیادہ موثر ذریعہ بن سکیں۔ جہاں تک کفار کے عذاب خداوندی کے مستحق بننے کی اصل قانونی وجہ کا تعلق ہے تو اس کے بیان کا موقع وہ مقامات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے انبیا اور ان کے قوموں کے بارے میں اپنے قانون کو براہ راست موضوع بنایا ہے، چنانچہ انھیں نظر انداز کر کے عذاب کی اصل وجہ ان مقامات سے اخذ کرنا جہاں اس کا بیان سرے سے مقصود ہی نہیں، علمی لحاظ سے کسی طرح درست نہیں۔

________

۱؂ آیت ۱، ۲۔

۲؂ آیت ۳۔

۳؂ آیت ۴۔

۴؂ آیت ۱، ۲، ۵۔

۵؂ آیت ۶۔

۶؂ آیت ۷ ۔۱۰۔

۷؂ آیت ۱۱۔۱۵۔

۸؂ آیت ۱۶۔

۹؂ ابو الاعلیٰ مودودی، الجہاد فی الاسلام، ۶۷۔ شبلی نعمانی، سیرت النبی، ۱/ ۳۳۹۔

۱۰؂ آیت ۱۶، ۲۳، ۲۴۔

۱۱؂ آیت ۱۷۔۲۲۔

۱۲؂ آیت ۲۵۔۲۷۔

۱۳؂ ابن عقیل، کتاب الفنون ۱۲۸، ۳۹۱۔

____________




Articles by this author