مخالف استدلالات کا جائزہ (حصہ دوم)

مخالف استدلالات کا جائزہ (حصہ دوم)


قتال اور دین کے معاملے میں جبر و اکراہ

اس ضمن میں اصولی نوعیت کا ایک بنیادی استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جہاں تک جہاد وقتال کی پہلی صورت کا تعلق ہے تو اس کے جواز پر عقلی واخلاقی لحاظ سے کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ ظلم وعدوان اور جارحیت کے خاتمے اور اپنی جان ومال اور سرزمین کے دفاع کے لیے برسرجنگ ہونے کو، بعض راہبانہ اور غیر عملی فلسفوں سے قطع نظر، دنیا بھر میں ہمیشہ جائز بلکہ بعض حالات میں واجب سمجھا گیا ہے۔ البتہ دوسری صورت، جس میں کسی گروہ کی طرف سے کی جانے والی جارحیت یا ظالمانہ اقدام کی بنا پر نہیں بلکہ کفر پر قائم رہنے کی پاداش میں کفار ومشرکین کو قتل کرنے یا انھیں محکوم ومغلوب بنانے کے لیے تلوار اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے، اپنے ظاہر کے لحاظ سے خود دین وشریعت ہی کے نصوص میں بیان ہونے والی ان ہدایات کے ساتھ ٹکراتی اور ان کی نفی کرتی ہے جن میں دین ومذہب کے معاملے میں انسان کے ارادۂ واختیار کی آزادی کی اہمیت اجاگر کی گئی اور اس حوالے سے کسی قسم کے جبر واکراہ کو اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں امتحان اور آزمایش کے لیے بھیجا ہے اور اس مقصد کے لیے اسے حق کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں پوری آزادی بخشی ہے۔ ارادہ واختیار کی یہ آزادی دنیا میں رشد وہدایت کے باب میں اللہ تعالیٰ کی اسکیم کا بنیادی ضابطہ ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملے میں کسی قسم کے جبر واکراہ کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ ارشاد ہے:

لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَیَ لاَ انفِصَامَ لَہَا وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ.(البقرہ ۲: ۲۵۶ )

''دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ یقیناًہدایت کا راستہ گمراہی کے راستے سے ممتاز ہو چکا ہے۔ سو جو طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک نہایت مضبوط سہارا تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔''

قرآن مجید کی رو سے ایمان کے معاملے میں اصل اعتبار انسان کے اپنے ارادۂ واختیار کا ہے۔چنانچہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس معاملے میں کسی دوسرے انسان کو جبر واکراہ کے ساتھ ایمان واسلام کی راہ پر لانے کی کوشش کرے اور نہ اس طرح کے ایمان کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی وقعت حاصل ہے:

وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لآمَنَ مَنْ فِی الأَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً أَفَأَنتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِیْنَ. وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّٰہِ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُون.(یونس ۱۰: ۹۹، ۱۰۰)

''اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین پر بسنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرنا چاہتے ہو تاکہ وہ ایمان لے آئیں؟ اور کسی انسان کے بس میں یہ نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لے آئے۔ (اللہ اس کی توفیق ان کو دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں) اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہیں کرتے، ان پر (کفر وشرک) کی گندگی مسلط کر دیتا ہے۔''

ارادۂ واختیار کی اسی آزادی کی بنا پر انسانوں کا مختلف مذہبی گروہوں میں تقسیم رہنا اللہ تعالیٰ کے قانون آزمایش کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور ان اختلافات کا حتمی فیصلہ خود اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کریں گے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَّلاَ یَزَالُونَ مُخْتَلِفِیْنَ، إِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَالِکَ خَلَقَہُمْ وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ. (ہود ۱۱: ۱۱۸، ۱۱۹)

''اور اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو (دین ومذہب کے لحاظ سے) ایک ہی گروہ بنا دیتا، لیکن یہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پر تیرے رب کی رحمت ہو۔ اور اللہ نے انسانوں کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے۔ اور تیرے رب کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہے گا کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، دونوں مخلوقوں سے بھر دوں گا۔''

جن لوگوں کو حق کی روشنی میسر آ جائے، ان کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ لوگوں تک اس کو واضح طریقے سے پہنچا دیں۔اس سے آگے کفار کے محاسبہ اور ان کے خلاف داروگیر کا کوئی اختیار ان کو نہیں دیا گیا۔ اس ضمن میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات قرآن مجید نے بہت وضاحت سے بیان کی ہے کہ آپ کے ذمے بس اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینا ہے اور اس سے آگے کوئی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی:

فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَکِّرٌ لَّسْتَ عَلَیْْہِمْ بِمُصَیْْطِرٍ. إِلَّا مَنْ تَوَلَّی وَکَفَرَ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱۔۲۴)

''پس تم نصیحت کرتے رہو۔ تمہارا کام بس نصیحت کرنا ہے۔ تمھیں ان پر داروغہ مقرر نہیں کیا گیا۔ ہاں، جو منہ پھیرے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اسے بڑا عذاب دے گا۔''

وَلَوْ شَاءَ اللّٰہُ مَا أَشْرَکُوا وَمَا جَعَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ حَفِیْظاً وَمَا أَنتَ عَلَیْْہِم بِوَکِیْلٍ.(الانعام ۶: ۱۰۷)

''اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر سکتے۔ اور ہم نے تمھیں ان پر داروغہ نہیں بنایا اور نہ ہی تم پر انھیں منوانے کی ذمہ داری ہے۔''

فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ حَفِیْظاً إِنْ عَلَیْْکَ إِلَّا الْبَلَاغُ. (الشوریٰ ۴۲: ۴۸)

''پھر اگر یہ منہ موڑیں تو ہم نے تمھیں ا ن کی داروگیر کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ تمھارے ذمے تو بس بات کو پہنچا دینا ہے۔''

دوسرا اہم استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کفار کو اسلام قبول نہ کرنے کے جرم میں قتل کر دینے یا سیاسی لحاظ سے مغلوب ومحکوم بنانے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو وہ نصوص بے معنی قرار پاتے ہیں جن میں محارب اور غیر محارب کفار کے مابین امتیاز کرنے اور جو گروہ مسلمانوں کے ساتھ کسی زیادتی کے مرتکب نہ ہوئے ہوں، ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ ممتحنہ میں ارشاد ہوا ہے:

لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّنْ دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْہِمْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ. إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُمْ مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلیٰ إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْہُمْ وَمَن یَتَوَلَّہُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ. (الممتحنہ ۶۰: ۸، ۹)

''جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تمہارے ساتھ لڑائی نہیں کی اور نہ تمہیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے، اللہ تمہیں ان کے ساتھ حسن تعلق اور انصاف کا رویہ اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں سے دوستی قائم کرنے سے منع کرتا ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ جو لوگ ان کے ساتھ دوستی گانٹھیں گے، درحقیقت وہی ظالم ہیں۔''

قرآن مجید نے اسی اصول کی توسیع جنگ اور قتال کے دائرے تک کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اگر دشمنوں کا کوئی گروہ اپنی قوم کے سیاسی اور معاشرتی دباؤ کے تحت مسلمانوں کے خلاف میدان جنگ میں تو آ گیا ہو، لیکن لڑائی میں شریک نہ ہو بلکہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کا خواہش مند ہو تو اس پر تلوار اٹھانے کا کوئی اختیار اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہیں دیا ہے:

فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوکُمْ وَأَلْقَوْا إِلَیْْکُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْْہِمْ سَبِیْلاً. (النساء ۴: ۹۰)

''پھر اگر وہ تمہارے مقابلے پر آنے سے گریز کریں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہیں صلح کا پیغام دیں تو اللہ نے تمہیں ان کے خلاف اقدام کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔''

سورۂ انفال میں ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی محارب گروہ بھی صلح اور امن کی پیش کش کرے تو غدر اور نقض عہد کے خدشات کے باوجود اس کی اس پیش کش کو قبول کر لیا جائے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ. وَإِن یُرِیْدُوا أَن یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ہُوَ الَّذِیَ أَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ. (الانفال ۸: ۶۱، ۶۲)

''اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ (صلح کا پیغام دے کر) تمھیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو اللہ تمھیں کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی مدد سے بھی تمہاری تائید کی اور اہل ایمان کے ذریعے سے بھی۔''

مذکورہ نقطہ نظر کے استدلال کی وضاحت کے بعد اب ہم اس کا تنقیدی جائزہ لیں گے:

مذکورہ استدلال میں دین کے معاملے میں جبر واکراہ کی نفی اور غیر محارب کفار کے ساتھ مصالحانہ تعلقات کا جواز بیان کرنے والے جن نصوص سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف قتال کا جو حکم دیا گیا، اس کی وجہ ان گروہوں کا ایمان نہ لانا نہیں بلکہ فتنہ وفساد اور شر انگیزی کا رویہ تھا، قرآن مجید میں ان کا صحیح محل اور سیاق وسباق اس تعبیر کو قبول کرنے سے مانع ہے۔

ان میں سے پہلے اصول یعنی ایمان کے معاملے میں جبر واکراہ کو لیجیے:

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ عمومی طور پر ہدایت یافتہ اور غیر ہدایت یافتہ گروہوں کی تقسیم کے قائم رہنے کو اپنی اسکیم کا ایک حصہ قرار دیا ہے اور اس ضمن میں اختلاف کا حتمی فیصلہ قیامت کے دن ہی ہوگا، تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی کہ وہ اس دنیا میں حق کے واضح ہونے کے باوجود ایمان نہ لانے والوں کو کوئی سزا نہیں دے گا۔ اس کے برعکس سزا وجزا کا قانون اللہ نے یہ بنایا ہے کہ انسانوں کو ان کے اعمال کا پورا اور کامل بدلہ تو آخرت میں ملے گا، لیکن جزا وسزا کا کچھ نہ کچھ ظہور اس دنیا میں بھی ہوتا ہے اور اس کے تحت افراد یا گروہ خدا کی پکڑ میں آ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ رسولوں کے مخاطبین کے باب میں خاص اہتمام کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور جب رسالت کے منصب پر فائز کسی ہستی کے مخاطب اتمام حجت کے بعد اس کے انکار پر مصر رہیں تو ان پر قیامت صغریٰ اسی دنیا میں برپا ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بیان کرتا ہے کہ جب وہ کسی قوم میں اپنے رسول کو مبعوث کرتا ہے تو دلائل وبراہین کی وضاحت اور ایک مخصوص عرصے تک مہلت دیے جانے کے بعد ایمان نہ لانے کی صورت میں وہ قوم اسی دنیا میں خدا کے عذاب کی مستحق بن جاتی ہے جو اپنے مقررہ وقت پر لازماً اس قوم پر نازل ہو کر رہتا ہے۔

جہاں تک دین کے معاملے میں جبر واکراہ کی نفی کا تعلق ہے تو قرآن مجید میں یہ بات کہیں بھی اس مفہوم میں نہیں کہی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کفر کی پاداش میں کسی کو سزا دینے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رکھا۔ قرآن مجید میں اس بات کا ذکر یا تو تکوینی جبر واکراہ کی نفی کے پہلو سے ہوا ہے اور یا انسانوں کے دائرۂ اختیار کی تحدید کے لیے۔ پہلے مفہوم کی آیات میں مقصود کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا توتمام انسانوں کو تکوینی طور پر صاحب ایمان بنا دیتا، یعنی ان میں سے کسی کو کفر یا ایمان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار ہی حاصل نہ ہوتا۔ قرآن مجید اس کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ایمان خدا کی ایک نعمت ہے جو وہ ناقدروں اور اندھوں بہروں کو جبراً نہیں دیتا۔ اس کے مستحق خدا کے قانون کے مطابق وہی لوگ قرار پاتے ہیں جو اپنے دل ودماغ کو قبول حق کے لیے اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو خدا کی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے کھلا رکھتے ہیں۔ گویا ہدایت اورایمان کے لیے تکوینی سطح پر جبر واکراہ کی نفی سے مقصود اہل کفر کے اس دنیا میں سزا اور مواخذہ سے بری ہونے کا بیان نہیں، بلکہ ایمان کی توفیق کا ایک بنیادی شرط یعنی خدا کی دی ہوئی ہوئی علم وعقل کی صلاحیتوں کے صحیح استعمال سے مشروط ہونے کا بیان ہے۔

قرآن مجید میں یہی بات دوسرے مقامات پر بھی اس طرح وضاحت سے بیان ہوئی ہے کہ اس کے مدعا ومفہوم میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ سیدنا نوح نے اپنی قوم سے فرمایا:

یَا قَوْمِ أَرَأَیْْتُمْ إِنْ کُنْتُ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیَ وَآتَانِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہِ فَعُمِّیَتْ عَلَیْْکُمْ أَنُلْزِمُکُمُوہَا وَأَنتُمْ لَہَا کَارِہُونَ.(ہود ۱۱: ۲۸)

''اے میری قوم، دیکھو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت عطاکی ہے لیکن تمہاری نگاہیں اس کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں تو کیا ہم اسے زبردستی تمھارے سر تھوپ دیں گے جب کہ تم اس کو پسند نہیں کرتے؟''

سورۂ یونس میں ارشاد ہوا ہے:

وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لآمَنَ مَنْ فِی الأَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً أَفَأَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِیْنَ. وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّٰہِ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُونَ. قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا تُغْنِیْ الآیَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ یُؤْمِنُونَ. فَہَلْ یَنتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ أَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ قُلْ فَانتَظِرُوا إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِیْنَ. ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوا کَذَلِکَ حَقّاً عَلَیْْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِیْنَ. (یونس ۱۰: ۹۹ ۔۱۰۲)

''اور اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں، وہ سب کے سب ایمان لے آتے (لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا) تو کیا تم لوگوں پر جبر کرنا چاہتے ہو یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں؟ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ ایمان لے آئے، مگر اللہ کے اذن سے۔ اور (وہ اس کی توفیق انھی کو دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام لیں جبکہ) جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، ان پر (کفر وشرک کی) گندگی مسلط کر دیتا ہے۔ کہہ دو کہ غور کرو ان نشانیوں پرجو آسمانوں اور زمین میں ہیں، لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے، یہ نشانیاں اور عذاب کی دھمکیاں ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ پھر کیا یہ بھی (خدا کے عذاب کے) انھی دنوں کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر جانے والوں پر آئے؟ کہہ دو کہ پس تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر (جب عذاب آئے گا تو) ہم اپنے رسولوں اور ان پرایمان لانے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ اسی طرح ہوگا۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ایمان لانے والوں کو بچا لیں۔''

یہ درحقیقت زجروتوبیخ کا ایک اسلوب ہے جس کا مقصد استحقاق ہدایت کی اہلیت کا معیار بیان کرنا ہے، نہ کہ اس دنیا میں سزا اور مواخذہ کی نفی۔ ان دونوں باتوں کا محل بالکل الگ الگ ہے اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے محض الفاظ کے ظاہری اشتراک کی بنیاد پر ایک محل کی بات کو دوسرے اور بالکل مختلف محل کی بات سمجھ لینا اسالیب بلاغت سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی استاذ اپنے شاگردوں سے کہے کہ امتحان میں کامیابی حاصل کر کے اگلی جماعت میں ترقی کا مستحق قرار پانے کے لیے ہم کسی سے جبراً محنت نہیں کروائیں گے، بلکہ جو طالب علم خود اپنے شوق اور لگن اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے گا، ترقی بھی اسی کا حق ہوگی، اور اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ استاذ صاحب امتحان میں ناکام ہونے والوں کے لیے مواخذہ اور داروگیر سے بری ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ استنتاج بالکل بے محل ہوگا، چنانچہ سورۂ یونس کی جو آیات ہم نے اوپر نقل کی ہیں، ان میں قرآن مجید نے'ولو شاء ربک لآمن من فی الارض کلہم جمیعا' سے تکوینی عدم اکراہ کو بیان کیا ہے، لیکن اس کے بعد 'فہل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلہم' سے منکرین حق کے مواخذہ کے قانون کا بھی ذکر کیا ہے اور اس طرح یہ واضح کر دیا ہے کہ جبر واکراہ کی نفی سے اس کی مراد درحقیقت کیا ہے۔*

یہی صورت حال ان آیات کی ہے جہاں عدم اکراہ کا اصول انسانوں کے دائرۂ اختیار کو بیان کرنے کے لیے بیان کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کو کفار پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کیا گیا۔ ان میں سے کم وبیش ہر مقام پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینے کے بعد انھیں اس کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی غیر مبہم اعلان کر دیا گیا کہ انکار حق پر اللہ تعالیٰ ان کافروں کا محاسبہ لازماً کریں گے:

رَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِکُمْ إِنْ یَّشَأْ یَرْحَمْکُمْ أَوْ إِنْ یَّشَأْ یُعَذِّبْکُمْ وَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ وَکِیْلاً.(بنی اسرائیل ۱۷: ۵۴)

''تمہارا رب تمھارے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحمت کرے گا اور چاہے گا تو تمھیں سزا دے گا۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمھیں ان پر مسلط کر کے نہیں بھیجا۔''

وَإِن مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ أَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَإِنَّمَا عَلَیْْکَ الْبَلاَغُ وَعَلَیْْنَا الْحِسَابُ. (الرعد ۱۳: ۴۰)

''اور چاہے ہم تمھیں اس عذاب کی ایک جھلک دکھا دیں جس کی ہم انھیں دھمکی دیتے ہیں یا تمھیں وفات دے دیں، تمہارے ذمے بس پہنچا دینا ہے اور محاسبہ کرنا ہمارے ذمے ہے۔''

أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَہْدِی الْعُمْیَ وَمَنْ کَانَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ، فَإِمَّا نَذْہَبَنَّ بِکَ فَإِنَّا مِنْہُمْ مُّنتَقِمُونَ، أَوْ نُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنَاہُمْ فَإِنَّا عَلَیْْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ. (الزخرف ۴۳: ۴۰، ۴۲)

''تو کیا تم بہروں کو سنا سکتے ہو یا اندھوں کو اور ان لوگوں کو راہ دکھا سکتے ہو جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہوں؟ پھر اگر ہم تمھیں لے جائیں گے تو یقیناًہم ان سے انتقام لیں گے۔ یا اگر تمھیں وہ عذاب دکھانا چاہیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بے شک ہمیں ان پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔''

آیات سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو تو یہ حق نہیں دیا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو اس کے اختیار کردہ مذہب سے بزور قوت برگشتہ کرنے کی کوشش کرے یا اس پر اسے سزا دے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ اختیار رکھتے ہیں کہ وہ اتمام حجت کے بعد بھی دین حق کو قبول نہ کرنے والوں کو سزا دیں۔

تکوینی طور پر انسانوں کو ابتدا ءً ایمان پر مجبور نہ کرنا اور پھر وضوح حق کے بعد ایمان نہ لانے پر انھیں سزا کا مستحق قرار دینا، یہ دونوں اصول عدل وحکمت پر مبنی ہیں اور ان میں باہم کوئی منافات نہیں۔ چونکہ انسان کو اس دنیا میں بھیجنے سے اس کا امتحان اور آزمایش مقصود ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تکوینی طور پر اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ وہ اس پر ایمان لائیں، بلکہ انھیں اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان یا کفر میں سے کوئی بھی راستہ اختیار کرنے کی آزادی دی ہے۔ اس امتحان و آزمایش کے بامعنی اور منصفانہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دار الامتحان میں انسانوں کو کوئی بھی عقیدہ وعمل اختیار کرنے کی آزادی ہو اور انھیں بالجبر کسی نقطہ نظر سے برگشتہ کرنے یا کسی مخصوص عقیدہ ومذہب کو اختیار کرنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔ تاہم اس سے یہ کسی طرح لازم نہیں آتا کہ اس دنیا میں انسانوں کے مواخذہ ومحاسبہ کا امکان ہی ختم ہو جائے، اس لیے کہ عدم اکراہ کا اصول جزا وسزا کے قانون کی نفی کے لیے نہیں، بلکہ اس جزا وسزا کو ایک معقول اور اخلاقی اصول بنانے کے لیے درکار ارادہ واختیار کی آزادی کی شرط کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرکشی اور عناد کی صورت میں اس سے باز پرس کا کوئی اختیار ہی اپنے پاس نہیں رکھا اور اسے ایک شتر بے مہار بنا کر دنیا میں بھیج دیا ہے، بلکہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں پر اپنے فضل واحسان اور نقمت وعذاب کا فیصلہ تحکم کے طریقے پر نہیں، بلکہ عدل وانصاف کے مطابق امتحان اور آزمایش کے اصول پر کرتا ہے۔ غور کیجیے تو خدائی قانون کے یہ دونوں پہلو باہم بالکل متوافق اور ایک ہی مقصد کو پورا کرنے کے لیے خدا کی اسکیم کا حصہ ہیں، اس لیے کہ آزادی دیے بغیر انسان کو امتحان میں ڈالنا تو یقیناًغیر معقول ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کسی فرد یا گروہ کو قبول حق کے معاملے میں تکوینی طور پر مجبور نہیں کیا، لیکن ظاہر ہے کہ ارادہ واختیار کی یہ آزادی مطلق نہیں بلکہ محدود ہے ، چنانچہ اس آزادی کے غلط استعمال پر اس کی جزا وسزا کا فیصلہ کرنا کسی طرح بھی اس کے منافی نہیں اور اتمام حجت کے بعد انکار کرنے والوں کو سزا دینا نہ صرف خالق کائنات کا حق بلکہ اس کے قانون عدل وانصاف کا لازمی تقاضا ہے۔

زیر بحث زاویہ نگاہ کی غلطی یہ ہے کہ جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے معاملے میں تکوینی جبر کی نفی کی ہے، وہ انھیں خدا کے قانونی اختیار کی نفی پر محمول کرتا اور ان سے یہ نتیجہ اخذ کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان قبول نہ کرنے پر کسی کو سزا بھی نہیں دے سکتے۔ اسی طرح یہ زاویہ نگاہ اس دائرۂ اختیار میں جو خدا کو انسانوں پر حاصل ہے اور اس دائرۂ اختیار میں جو انسانوں کو انسانوں کے بارے میں دیا گیا ہے، فرق کو ملحوظ نہیں رکھتا اور ایک اخلاقی پابندی جو درحقیقت انسانوں کے لیے بیان کی گئی ہیں، اس سے یہ نتیجہ اخذ کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے بھی انھی کی پابندی لازم کر رکھی ہے اور وہ ان کے خلاف نہ کوئی فیصلہ کر سکتا ہے اور نہ کوئی حکم دے سکتا ہے، حالانکہ قرآن مجید کے نصوص میں انبیا کی قوموں کے مواخذہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل کیے جانے کا قانون بار بار اور پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی رو سے کسی قوم میں پیغمبر کی بعثت محض ایک داعی حق کی بعثت نہیں ہوتی، بلکہ اس قوم کے لیے فیصلے کی گھڑی ہوتی ہے اور پیغمبر کے مبعوث ہونے کے بعد قوم کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ پیغمبر کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر ایمان لا کر نجات پائے اور یا اس کے دعوے کو تسلیم نہ کرے اور خدا کے عذاب کا نشانہ بن جائے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولٌ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُہُمْ قُضِیَ بَیْْنَہُم بِالْقِسْطِ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ. (یونس ۱۰: ۴۷)

''ہر گروہ میں ایک رسول بھیجا گیا۔ پھر جب ان کا رسول آ جائے تو ان کے مابین بالکل انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جاتی۔''

اس ضمن میں ایک شبہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انبیا کی قوموں پر عذاب نازل ہونے کی وجہ محض ان کا ایمان نہ لانا نہیں بلکہ انبیا اور ان کی پیروی اختیار کرنے والے اہل ایمان کو اذیتیں اور تکالیف پہنچانا تھا، تاہم قرآن مجید کے بیانات سے اس مفروضے کی تائید نہیں ہوتی۔ اس میں شبہ نہیں کہ انبیا کی قوموں نے بالعموم اپنے رسولوں کومحض جھٹلا دینے پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ انھیں اور ان کے پیروکاروں کو ایذا رسانی اور تعذیب کا نشانہ بھی بنایا جو ان کے جرم کو زیادہ سنگین اور قابل مواخذہ بنا دیتا ہے، تاہم قرآن مجید میں رسولوں کے انذار کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے، اس سے واضح ہے کہ رسولوں پر ان قوموں کو ایمان لانے کی دعوت دی اور نفس انکار وتکذیب پر انھیں خدا کے عذاب کی وعید سنائی:

قُلْ أَرَأَیْْتُمْ إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُہُ بَیَاتاً أَوْ نَہَاراً مَّاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُونَ. أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِہِ آلآنَ وَقَدْ کُنتُمْ بِہِ تَسْتَعْجِلُونَ. (یونس ۱۰: ۵۰، ۵۱)

''کہہ دو کہ تم بتاؤ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کو سوتے میں یا دن کو آ گیا تو وہ کیا چیز ہے جس کی ان مجرموں کو جلدی ہے؟ کیا پھر جب وہ عذاب آن پڑے گا تو تب تم ایمان لاؤ گے؟ کیا اب (ایمان لاتے ہو) جبکہ تم تو اس عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کر رہے تھے؟''

انعام میں ہے:

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ إِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا یَمَسُّہُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ. (الانعام ۶: ۴۸، ۴۹)

''اور ہم رسولوں کو اسی لیے بھیجتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور انذار کریں۔ پھر جو لوگ ایمان لے آئیں اور (اپنے اعمال کو) درست کر لیں، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔ لیکن جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب آ پکڑے گا۔''

سورۂ فاطرمیں فرمایا:

إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیْراً وَنَذِیْراً وَإِن مِّنْ أُمَّۃٍ إِلَّا خَلاَ فِیْہَا نَذِیْرٌ . وَإِنْ یُکَذِّبُوکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ جَاءَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْکِتَابِ الْمُنِیْرِ. ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَکَیْْفَ کَانَ نَکِیْرِ.(فاطر ۳۵: ۲۴۔ ۲۶)

''ہم نے تمھیں حق کے ساتھ بھیجا، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔ اور کوئی گروہ ایسا نہیں جس میں کوئی آگاہ کرنے والا نہ گزرا ہو۔ اور اگر یہ لوگ تمھیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا۔ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلائل اور صحائف اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ پھر میں نے کفر کرنے والوں کو پکڑا تو کیسی تھی میری سزا!''

قرآن مجید سے یہ بھی واضح ہے کہ اگرچہ پیغمبر کی تکذیب، اس کی دعوت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اہل ایمان کو تعذیب وایذا کا نشانہ بنانے والے اصلاً قوم کے سردار اور بارسوخ لوگ ہوتے تھے، لیکن جب خدا کا عذاب آیا تو قوم کے صرف وہی افراد اس سے نجات پا سکے جو پیغمبر پر ایمان لا کر اس کا ساتھ اختیار کر چکے تھے۔ چنانچہ سیدنا نوح کی قوم کے معدودے چند افرادکے سوا ساری قوم طوفان میں غرق ہو گئی، حتیٰ کہ خود ان کی اپنی بیوی اور بیٹا بھی اس سے بچ نہ سکے۔۱۴؂

قرآن نے ان قوموں کے بحیثیت قوم عذاب کا نشانہ بننے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ انھوں نے پیغمبر کی پیروی اختیار کرنے کے بجائے اپنی قوم کے سرکش جباروں کی بات مانی اور ان کی پیروی میں پیغمبر اور اس لائی ہوئی نشانیوں کو جھٹلا دیا۔ قوم عاد کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:

وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ وَأُتْبِعُوا فِی ہٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَلاَ إِنَّ عَاداً کَفَرُوا رَبَّہُمْ أَلاَ بُعْداً لِّعَادٍ قَوْمِ ہُودٍ. (ہود ۱۱: ۵۸، ۶۰)

''اور یہ عاد کے لوگ تھے جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ہٹ دھرم جبار کے طریقے کی پیروی کی۔ ان پر اس دنیا میں بھی لعنت مسلط کی گئی اور آخرت میں بھی۔ آگاہ رہو، عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ آگاہ رہو، ہود کی قوم عاد کے لیے بربادی مقدر ہوئی۔''

قرآن نے ان قوموں کی بربادی کی وجہ ان کا ایمان نہ لانا ہی بیان کی ہے:

وَلَقَدْ أَہْلَکْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَاءَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ وَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا کَذَلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ.(یونس ۱۰: ۱۳)

''اور یقیناًہم نے تم سے پہلی قوموں کو بھی ہلاک کیا جب انھوں نے ظلم کیا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے، لیکن وہ ایمان لانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اسی طرح ہم مجرم قوموں کو سزا دیا کرتے ہیں۔''

سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ انبیا کے منکرین جب ان کی طرف سے پیش کردہ دلائل وبراہین پر غور کرنے سے گریز کرتے اور محض ہٹ دھرمی کی بنا پر ان کی تکذیب کا رویہ اختیار کیے رکھتے ہیں تو ایک خاص وقت تک آزمانے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے ایمان کی توفیق ہی سرے سے سلب کر لیتے ہیں اور خدا کے اس فیصلے کے بعد ہر قسم کی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود انھیں ایمان لانا نصیب نہیں ہوتا۔ ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْْہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ. وَلَوْ جَاءَ تْہُمْ کُلُّ آیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیْمَ. (یونس ۱۰: ۹۶-۹۷)

''بے شک وہ لوگ جن پر تیرے رب کا فیصلہ لازم ہو جائے، چاہے ان کے پاس ہر نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب تک کہ دردناک عذاب کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں۔''

اسی بنیاد پر جب انبیا اپنی مخاطب قوموں کے ایمان سے مایوس ہو گئے تو انھوں نے خدا سے دعا کی کہ اب وہ ایمان کی توفیق سے محروم کر دے تاکہ خدا کے عذاب کا فیصلہ ان پر نافذ ہو جائے۔ چنانچہ سیدناموسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی کہ:

رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیْمَ.(یونس ۱۰: ۸۸)

''اے ہمارے رب، ان کے اموال کو تباہ کر دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے تاکہ جب تک یہ دردناک عذاب کو سامنے نہ پا لیں، ایمان نہ لانے پائیں۔''

سیدنا نوح نے بددعا کی کہ:

رَّبِّ إِنَّہُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ یَزِدْہُ مَالُہُ وَوَلَدُہُ إِلَّا خَسَاراً... وَقَدْ أَضَلُّوا کَثِیْراً وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِیْنَ إِلَّا ضَلَالاً.(نوح ۷۱: ۲۱۔۲۴)

''اے میرے رب، انھوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی اختیار کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے گھاٹے میں ہی اضافہ کیا ہے۔ ... انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے اور تو ان ظالموں کی گمراہی میں ہی اضافہ فرمانا۔''

قرآن نے اس ضمن میں انبیا کی قوموں کے علاوہ خود ان کے افرادِ خانہ کے حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ سیدنا نوح کا ایک بیٹا اہل ایمان کے ساتھ کشتی میں سوار نہ ہونے پر خود اپنے والد کے سامنے طوفان کے عذاب کا شکار ہو گیا اور سیدنا نوح نے جب اس پر بارگاہ الٰہی میں شکوہ کیا تو انھیں تنبیہ کی گئی کہ ایمان نہ لانے کے باعث وہ بھی خدا کے عذاب کا مستحق تھا، اس لیے وہ پدرانہ شفقت سے مغلوب ہو کر اللہ تعالیٰ سے کوئی ناروا مطالبہ نہ کریں:

قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْْرُ صَالِحٍ فَلاَ تَسْأَلْنِ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنِّیْ أَعِظُکَ أَن تَکُونَ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ. (ہود ۱۱: ۴۶)

''اللہ نے فرمایا کہ اے نوح، وہ تمہارے اہل میں سے نہیں تھا۔ اس کے عمل نیک نہیں تھے۔ سو تو مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کر جس کا تجھے علم نہیں۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جا۔''

سیدنا لوط کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم پرخدا کا عذاب آنے سے پہلے اپنے اہل خانہ کو لے کر رات کے اندھیرے میں اپنی بستی سے نکل جائیں تو ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی گئی کہ وہ اپنی بیوی کا ساتھ لے کر نہ جائیں، کیونکہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ بھی خدا کے عذاب کی مستحق ہے اور اسی انجام کا شکار ہوگی جو ان کی قوم کے لیے مقدر کیا جا چکا ہے:

فَأَسْرِ بِأَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْْلِ وَلاَ یَلْتَفِتْ مِنکُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَکَ إِنَّہُ مُصِیْبُہَا مَا أَصَابَہُمْ.(ہود ۱۱: ۸۱)

''اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کسی پہر میں روانہ ہو جا اور تم میں سے کوئی پلٹ کر پیچھے نہ دیکھے۔ ہاں، اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جانا۔ بے شک اس پر بھی وہی عذاب آئے گا جو لوگوں پر آنے والا ہے۔''

قرآن مجید کے نزدیک ان قوموں کا اصل جرم خدا کی آیات پر غور نہ کرنا اور خداکی دی ہوئی علم وعقل کی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرنا ہے۔ قرآن نے یہ بات غیر مبہم انداز میں واضح کی ہے کہ انبیا کی یہ قومیں جس جرم کی وجہ سے اصلاً عذاب کی مستحق قرار پائیں، وہ یہ تھا کہ انھوں نے انبیا ورسل کی دعوت اور ان کے پیش کردہ دلائل وبینات پر غور نہیں کیا اور نتیجتاً ان پر ایمان لانے کے بجائے ان کی تکذیب پر مصر رہے:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْہُمْ مَّنْ ہَدَی اللّٰہُ وَمِنْہُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْْہِ الضَّلالَۃُ فَسِیْرُوا فِی الأَرْضِ فَانظُرُوا کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ. (النحل ۱۶: ۳۶)

''اور یقیناًہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ سو ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور کچھ وہ تھے جن پر گمراہی مسلط ہو گئی۔ تو تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟''

کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ، وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الأَیْْکَۃِ أُوْلَءِکَ الْأَحْزَابُ، إِنْ کُلٌّ إِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ. (ص ۳۸: ۱۲۔۱۴)

''ان سے پہلے قوم نوح اور قوم عاد اور میخوں والے فرعون اور قوم ثمود اور قوم لوط اور جنگل والوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا۔ یہی ہیں (منکروں) کے گروہ۔ ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا جس پر میرا عذاب ان پر مسلط ہو گیا۔''

سیدنا نوح نے اپنی قوم کے بارے میں فرمایا:

رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُونِ. فَافْتَحْ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَہُمْ فَتْحاً وَنَجِّنِیْ وَمَن مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ. (الشعراء ۲۶: ۱۷۷، ۱۱۸)

''اے میرے رب، بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ سو تو میرے اور ان کے درمیان واضح فیصلہ فرما دے اور مجھے اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں، انھیں (اپنے عذاب سے) بچا لے۔''

فرعون اور آل فرعون کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:

فَلَمَّا جَاءَ تْہُمْ آیَاتُنَا مُبْصِرَۃً قَالُوا ہَذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ. وَجَحَدُوا بِہَا وَاسْتَیْْقَنَتْہَا أَنفُسُہُمْ ظُلْماً وَّعُلُوّاً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ. (النمل ۲۷: ۱۳، ۱۴)

''پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں آئیں تو انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ انھوں نے ظلم اور سرکشی سے کام لیتے ہوئے ان نشانیوں کو جھٹلا دیا حالانکہ ان کے دل ان کا یقین کر چکے تھے۔ سو دیکھو کہ مفسدوں کا کیسا انجام ہوا۔''

یہی بات 'فَکَذَّبُوہُ فَأَہْلَکْنَاہُمْ' اور 'فَکَذَّبُوہُ فَأَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ' کے الفاظ میں قوم عاد اور قوم شعیب کے بارے میں بیان ہوئی ہے۱۵؂۔

________

* البتہ 'لا اکراہ فی الدین' اور اس کے ہم معنی نصوص سے، جو اصلاً تکوینی جبر واکراہ کی نفی کے بیان کے لیے آئی ہیں، التزامی طور پر یہ استدلال یقیناًدرست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے بغیر کسی انسان کو دین کے معاملے میں کسی دوسرے انسان پر جبر واکراہ کا حق حاصل نہیں۔ چنانچہ بعض روایات میں اس آیت کی جو شان نزول بیان ہوئی ہے، اس سے آیت سے اخذ ہونے والے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ انصار میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی عورت کے بچے پیدایش کے بعد فوت ہو جاتے تو وہ منت مان لیتی کہ اگر میرا کوئی بچہ زندہ رہا تو میں اسے یہودی مذہب کا پیروکار بناؤں گی۔ اس طرح انصار کے کئی بچے یہودیوں کی سرپرستی میں رہتے تھے۔ جب بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا تو انصار نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ ہم نے تو ان کو اس وقت یہودی مذہب کا پیروکار بنایا تھا جب ہم سمجھتے تھے کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ اب جب اسلام آ چکا ہے تو ہم انھیں اسلام کی پیروی پر مجبور کریں گے۔ اس پر قرآن مجید میں 'لا اکراہ فی الدین' کا حکم نازل ہوا اور کہا گیا کہ ان میں سے جو یہودیوں کے ساتھ جانا چاہے، چلا جائے اور جو یہودی مذہب چھوڑ کر وہیں رہنا چاہے، رہ جائے۔ (تفسیر الطبری، ۳/ ۱۰)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض مواقع پر اسی تناظر میں اس آیت کا حوالہ دینا منقول ہے۔ روایت ہے کہ جب ابو الحصین انصاری کے دو بیٹے نصرانی ہو کر شام چلے گئے تو انھوں نے یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا اور کہا کہ آپ ان کوپیغام دے کر واپس بلوائیں۔ آپ نے فرمایا 'لا اکراہ فی الدین'۔ (الاصابہ، ۱/ ۲۳۳، ۳/ ۳۰۸۔ اسد الغابہ، ۳/ ۱۶۰)

'طبقات المحدثین باصبہان' کے مصنف عبد اللہ بن محمد بن جعفر انصاری کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسیؓ کی درخواست پر ان کے اہل خاندان کے نام جو امان نامہ لکھوایا، اس میں فرمایا کہ:

من آمن باللہ وبرسلہ کان لہ فی الآخرۃ ترعۃ الفائزین ومن اقام علی دینہ ترکناہ ولا اکراہ فی الدین.(طبقات المحدثین باصبہان ۱/ ۲۳۲)

بعض آثار میں سیدنا عمر سے بھی آیت کو اس مفہوم پر محمول کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً ان کے غلام وسق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے مجھے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اس پر انھوں نے فرمایا کہ 'لا اکراہ فی الدین'۔ پھر جب ان کی وفات کا وقت قریب آ گیا تو انھوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ۶/ ۱۵۸۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۲۵۵۰) ایک موقع پر انھوں نے ایک معمرمسیحی خاتون کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس نے کہا کہ کیا میں موت کے قریب پہنچ کر اپنامذہب چھوڑ دوں؟ اس پر سیدنا عمر نے فرمایا کہ 'لا اکراہ فی الدین'۔ (نحاس، الناسخ والمنسوخ ۱/ ۱۹۱)

اسی طرح شام کی فتوحات میں مسلمانوں کے جرنیل عیاض بن غنم نے مریم الداریۃ کے نام خط میں لکھا:

ولسنا نکرہک علی فراق دینک ولا احدا من اہل بلدتک قال اللہ تعالیٰ لا اکراہ فی الدین . (واقدی، فتوح الشام ۱/ ۳۷۶)

''ہم تمھیں یا تمھارے شہر کے لوگوں میں سے کسی کو اپنا دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔''

۱۴؂ ہود ۱۱: ۴۲، ۴۳۔ التحریم ۶۶: ۱۰۔

۱۵؂ الشعراء ۲۶: ۱۳۹، ۱۸۹۔

____________




Articles by this author