مسلمان اور دنیا پرستی

مسلمان اور دنیا پرستی


قارون سیدنا موسیٰؑ کا چچا زاد بھائی تھا۔ بنی اسرائیل سے ہونے کے باجود وہ فرعون کا ساتھی اور حضرت موسیٰؑ کا مخالف تھا۔ اس کی وجۂ شہرت اس کی بے پناہ دولت تھی۔ مگر یہی دولت اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار کرنے کا سبب بن گئی۔ اس واقعہ کی تفصیل قرآن یوں بیان کرتا ہے:

یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کاا یک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ''پھول نہ جا اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا''۔ تو اس نے کہا ''یہ سب کچھ تومجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھے حاصل ہے'' ۔۔۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے۔

ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ میں نکلا۔ جو لوگ حیاتِ دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے ''کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے'' مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ''افسوس تمھارے حال پر۔ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو''۔

آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ خود اپنی مدد آپ کرسکا۔ اب وہی لوگ جو کل اس کے مقام کی تمنا کررہے تھے کہنے لگے ''افسوس، ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ افسوس ہمیں یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے''

وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے۔ (القصص ۲۸: ۷۶۔۸۳)

قرآن کا یہ بیان کسی شرح و وضاحت کا محتاج نہیں۔ یہ انسانوں میں پیوست دنیا پرستی کے جذبہ اور اس سے متعلقہ تمام معاملات پر انتہائی تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے۔ دنیا پرستی کا یہ مرض جو زمانۂ قدیم سے انسانوں کو خدا کی نافرمانی میں مبتلا کرتا رہا ہے آج پہلے سے کہیں زیادہ قوت کے ساتھ ہمارے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ یہ مرض عام لوگوں کے لیے تو آخرت میں محرومی کا سبب ہے ہی مگر مسلمانوں کے لیے تو اس دنیا میں بھی تباہ کن ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ ہم دنیا اور آخرت کے نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔

________




Articles by this author