نفسیاتی مسائل

نفسیاتی مسائل


اہلِ عرب مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے۔ خدا نے ان کے اس فعلِ قبیح پر شدید نکیر کی ہے۔ بدقسمتی سے آج، مفلسی کے خوف سے ہم بھی اپنی اولاد کا قتل کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے نکاح میں تاخیر کر کے۔ یہ قتل، تاہم ان کے جسمانی وجود کا نہیں بلکہ ان کے نفسیاتی وجود کا ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک بند معاشرہ ہے جہاں جنس پر بات کرنے کا تصور بھی انتہائی معیوب ہے۔ لیکن ہر واقف حال شخص بخوبی اس بات سے آگاہ ہے کہ صنفی معاملات انسانی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ نوجوانی میں تو انسان اسی دریچے سے دنیا کو دیکھتا ہے۔ جب یہ دریچہ بند ہوگیا تو گویا اس پر روشنی اور تازہ ہوا کے دروازے بند ہو گئے۔ پھر ایک نفسیاتی گھٹن پیدا ہوتی ہے جو آخر کار بہت سے نفسیاتی امراض کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ صورتحال لڑکیوں کے معاملے میں اور زیادہ شدید ہوتی ہے۔ جنہیں لڑکوں کی طرح غیر اخلاقی ذرائع اختیار کرنے کا موقع ہوتا ہے اور نہ ان کی حیا اس بات کی اجازت دیتی ہے۔ پھر بار بار کا رد کیا جانا اور طویل عرصے تک بے یقینی کی صلیب پر لٹکے رہنا شخصیت کا نفسیاتی توازن اس طرح بگاڑ دیتا ہے جس کے اثرات تازیست پیچھا نہیں چھوڑتے۔

________




Articles by this author