قضا اور شہادت کے لیے غیر مسلموں کی اہلیت

قضا اور شہادت کے لیے غیر مسلموں کی اہلیت


قرآن مجید میں معاشرتی زندگی کے مختلف معاملات میں گواہ مقرر کر دینے کی ہدایت دیتے ہوئے بالعموم یہ کہا گیا ہے کہ یہ گواہ ''تم میں سے'' ہونے چاہییں۔ چنانچہ پیشہ ور بدکار عورتوں کی شناخت کے ضمن میں 'فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ' ۱؂، قرض سے متعلق احکام و ہدایات میں 'مِنْ رِّجَالِکُمْ' ،۲؂مرنے والے کو وصیت کی ہدایت دیتے ہوئے 'ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ'۳؂اور طلاق کے بعد علیحدگی اختیار کرنے کے موقع پر 'وَاَشْہِدُوْا ذَوَیْْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ' ۴؂کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

فقہا نے اس سے یہ بات اخذ کی ہے کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات میں مسلمانوں ہی کو گواہ بنانا چاہیے اور یہ کہ مسلمان کے خلاف کسی غیر مسلم کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی۔ یہاں تنقیح طلب نکتہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر 'مِنْکُمْ' کی تصریح سے قرآن کا اصل مقصد کیا ہے؟شریعت کے تمام احکام کی طرح ان احکام کے مخاطب بھی، ظاہر ہے کہ مسلمان ہی ہیں اور اس لحاظ سے 'مِنْکُمْ' کا روے سخن بھی انھی کی طرف ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ یہاں 'مِنْکُمْ' کی قید سے مقصود کیا یہ واضح کرنا ہے کہ غیر مسلموں کو گواہ نہ بنایا جائے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے مابین معاملہ طے پا رہا ہو، گواہ بھی انھی میں سے، یعنی ان کی جان پہچان کے افراد اور قریبی واقفان حال ہونے چاہییں؟

قرآن مجید نے اس احتمال کو ایک مقام پر خود متعین کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۱۰۶میں فرمایا گیا ہے کہ مرنے والے کو چاہیے کہ وہ وصیت کرتے وقت 'ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ' ،یعنی اپنے اندر سے دوافراد کو اس پر گواہ مقرر کرے، البتہ اگر دوران سفر میں موت آ جائے اور اپنے اندر سے گواہ میسر نہ ہوں تو 'اٰخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ'، یعنی اپنے علاوہ دوسروں میں سے بھی دو گواہ مقرر کیے جا سکتے ہیں۔یہاں قرآن نے 'مِنْکُمْ' کی قید کو حضر، جبکہ 'مِنْ غَیْرِکُمْ' کو حالت سفر سے متعلق کر کے صاف واضح کر دیا ہے کہ 'مِنْکُمْ' کی تصریح سے اس کا مقصد گواہی کے معاملات سے متعلق اس حکمت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ گواہوں کا تعلق اسی ماحول اورمقام سکونت (locality) سے ہونا چاہیے جہاں معاملے کے فریقین رہتے ہیں اور جس میں کوئی معاملہ انجام پایا ہے تاکہ گواہ صورت حال سے پوری طرح واقف ہوں اور بوقت ضرورت گواہی کے لیے دستیاب بھی ہوں۔ مفسرین کے ایک گروہ کے مطابق اس ہدایت کا مطلب یہ ہے کہ گواہوں کا تعلق اسی قبیلے سے ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے بھول چوک کا شکار ہونے کا امکان کم ہے، البتہ سفر کی حالت میں چونکہ ایسا کرنا ممکن نہیں، اس لیے جو بھی گواہ میسر ہوں، انھی کو گواہ مقرر کر لینا درست ہوگا۔ ۵؂

سورۂ مائدہ کے مذکورہ مقام کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کے باقی مقامات پر بھی 'مِنْکُمْ' یا 'مِنْ رِّجَالِکُمْ' کی قید سے مقصود یہی ہے۔چنانچہ اس سے یہ استدلال کہ قرآن مجید غیرمسلموں کو گواہ بنانے کی ممانعت کرنا چاہتا ہے، محل نظر قرار پاتا ہے۔ درست بات یہ ہے کہ قرآن مجید گواہوں کے عقیدہ ومذہب کے بارے میں خاموش ہے اور نفیاً یا اثباتاً اس سوال سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔

ان آیات میں ضمیر خطاب کی طرف اضافت کا مقصد غیر مسلموں کو گواہ بنانے سے ممانعت مانا جائے تو حکم کا مقصد متعین کرنے کے حوالے سے بھی الجھن پیش آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس خصوصی اہتمام کا تعلق عہد رسالت میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین معاشرتی تعلقات کی مخصوص نوعیت اور باہمی اعتماد اور اختلاط کے فقدان سے ہے یا یہ بذاتہٖایک مطلوب حکم ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس ہدایت کا مقصد معاشرتی معاملات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی میل جول کو روکنا اورعدم اختلاط(Segregation) کے ماحول کو قائم رکھنا ہے یا یہ محض اس پہلو سے دی گئی کہ عہد رسالت کے معروضی تناظر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین باہمی اعتماد پر مبنی معاشرتی میل جول موجود نہیں تھا اور قانون وعدالت کے معاملات میں کسی الجھن سے بچنے کے لیے مسلمانوں ہی کو گواہ مقرر کرنا زیادہ قرین مصلحت تھا؟ دونوں میں سے جس بات کو بھی مقصد قرار دیا جائے، دیگر شرعی نصوص اورتاریخ وسیرت کے تناظر میں اس کی توجیہ نہیں ہو پاتی۔

پہلی بات اس لیے درست نہیں ہو سکتی کہ شریعت میں غیر مسلموں کے ساتھ سماجی سطح پر اختلاط اور میل جول کی کہیں ممانعت نہیں کی گئی، بلکہ اس کے برعکس ان کے حسن سلوک کا جواب حسن سلوک سے دینے کی ہدایت کی گئی ۶؂اور اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کرنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے کی مجالس میں شریک ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ ۷؂عہد نبوی اور عہد صحابہ میں عملاً بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین انفرادی دوستی، تجارتی تعلقات اور معاشرتی روابط کی فضا موجود رہی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاشرت کی سطح پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے اختلاط اور میل جول کو روکنا شارع کے پیش نظر نہیں رہا۔

دوسری بات کو حکم کا محرک قرار دینے میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے لیے غیر مسلموں ہی کو خاص طور پر ممتاز کرنے کی کیا ضرورت تھی، اس لیے کہ مدینہ منورہ میں باہمی اعتماد اور میل جول کی فضا نہ پائے جانے کی صورت خود مسلمانوں کے مختلف گروہوں، مثلاً اوس اور خزرج کے مابین بھی پائی جا سکتی تھی اور پائی جاتی تھی۔ اور اگر حکم کا محرک یہی مان لیا جائے تو ظاہر ہے کہ پھر یہ سد ذریعہ کی نوعیت کی ایک ہدایت ہوگی، نہ کہ کوئی ایسا حکم جس کی پابندی شارع کو اصلاً وبالذات مطلوب ہو۔

برسبیل تنزیل مسلمانوں کے معاملات میں مسلمانوں ہی کو گواہ مقرر کرنے کو فی نفسہٖ ایک مطلوب طریقہ سمجھا جائے تو بھی، سورۂ نساء(۴) کی آیت ۱۵کے علاوہ، مذکورہ تمام نصوص دستاویزی شہادت سے متعلق ہیں۔ سورۂ نساء(۴) کی آیت ۱۵اگرچہ واقعاتی شہادت سے متعلق ہے، تاہم جیسا کہ ہم ''شہادت کا معیار اور نصاب'' کے زیرعنوان واضح کر چکے ہیں، وہاں مطلوب گواہی کی نوعیت دستاویزی شہادت ہی سے ملتی جلتی ہے۔ اس طرح یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مسلمانوں کو گواہ مقرر کرنے کے اہتمام کا تقاضا صرف انھی صورتوں تک محدود ہے جہاں مطلوبہ اوصاف کے گواہوں کا میسر ہونا ممکن ہو یا یہ حکم واقعاتی شہادت کے دائرے میں بھی موثر ہے جہاں کسی مخصوص مذہب کے پیروکار یا معیاری اوصاف کے حامل گواہ فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا اور موقع پر موجود گواہوں کی گواہی پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے؟ عام تفسیری راے کے مطابق سورۂ مائدہ (۵)کی آیت ۱۰۶میں اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں مسلمان گواہ موجود نہ ہونے کی صورت میں غیر مسلموں کو گواہ بنا لینے کی اجازت دی ہے۔ فقہا کا ایک بڑا گروہ غیر مسلموں کو گواہ بنانے کی اجازت کو سفر کی حالت میں وصیت کے معاملے کے ساتھ مخصوص قرار دیتا ہے اور اس کے نزدیک دستاویزی شہادت کے دائرے میں پیدا ہونے والی ضرورت کی دیگر صورتیں اس اجازت کے تحت نہیں آتیں، تاہم علمی و عقلی طور پر ضرورت کی باقی صورتوں کو بھی اس پر قیاس کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں اور ابن تیمیہ بجا طور پر یہ راے رکھتے ہیں کہ سفر وحضر میں ضرورت کے ہر موقع پر غیر مسلم گواہ، مسلمان گواہوں کا بدل بن سکتے ہیں۔ ۸؂ابن تیمیہ کی اس راے میں 'ضرورت' کے جس نکتے کو بنیاد قرار دیا گیا ہے، وہ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ واقعاتی شہادت میں مسلم اور غیر مسلم گواہوں میں تفریق کا اصول سرے سے موثر ہی نہ ہو۔

بہرحال ،فقہانے بالعموم واقعاتی شہادت میں مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی گواہی کے ناقابل قبول ہونے کا نقطۂ نظر ہی اختیار کیا ہے۔ فقہی زاویۂ نگاہ سے غیر مسلموں کی گواہی کی قانونی حیثیت کے تعین میں یہ بحث بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کی گواہی میں فرق کی نظری اور قانونی اساس کیا ہے۔ شوافع اور حنابلہ اعتقادی بنیادوں پر غیر مسلموں کو سرے سے شہادت اور قضا کا اہل ہی نہیں سمجھتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ خود غیر مسلموں پر بھی کسی غیر مسلم کے لیے گواہی یا قضا کا حق تسلیم نہیں کرتے۔ اس ضمن میں استدلال کی تقریر یوں کی جاتی ہے کہ شہادت کے لیے عادل ہونا ضروری ہے، جبکہ غیر مسلم اپنے اعتقادی فسق یعنی کفر کی وجہ سے عادل نہیں ہیں۔ اسی استدلال کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ جھوٹے شخص کی گواہی مقبول نہیں اور غیر مسلم کافرانہ اعتقادات کی صورت میں چونکہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، اس لیے ان سے بڑھ کر جھوٹا کوئی نہیں ہو سکتا۔ ۹؂تاہم اس استدلال میں 'عدالت' اور 'جھوٹ' کے عمومی اخلاقی تصورات کو اعتقادی ضلالت کے ساتھ گڈمڈ کر کے جو خلط مبحث پیدا کیا گیا ہے، وہ محتاج وضاحت نہیں۔ فقہاے احناف نے اسی لیے اس کی نفی کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ غیر مسلموں میں بھی ایسے عادل اور قابل اعتماد افراد پائے جا سکتے ہیں جن کی گواہی پر بھروسا کیا جا سکے۔ چنانچہ وہ غیر مسلموں کو اصولاً گواہی کا اہل سمجھتے ہوئے غیر مسلموں کے باہمی معاملات میں ان کی گواہی کو جائز قرار دیتے ہیں، البتہ ایک دوسری وجہ سے جس کی وضاحت آیندہ سطور میں آ رہی ہے، مسلمانوں کے خلاف ان کی گواہی کو قبول نہیں کرتے۔

شافعی وحنبلی فقہا کے موقف میں ایک عملی الجھن یہ بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ ان کے پیش کردہ استدلال کی رو سے چونکہ کسی غیر مسلم کے خلاف بھی کسی دوسرے غیر مسلم کی گواہی اور اسی بنیاد پر کسی غیر مسلم قاضی کا فیصلہ قابل قبول نہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر غیر مسلموں کے باہمی معاملات میں انھیں عدل وانصاف فراہم کرنے کی صورت کیا ہوگی؟ احناف نے تو غیرمسلموں کے باہمی معاملات میں غیر مسلموں کی گواہی اور قضا کو درست قرار دیتے ہوئے ان کے لیے ایک الگ عدالتی نظام کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی ہے، لیکن شوافع اور حنابلہ اس مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کرتے۔ چنانچہ وہ نہ اسلامی ریاست کے حدود میں غیر مسلموں کی مذہبی پنچایتوں کے فیصلوں کو قانونی طور پر موثر سمجھتے ہیں اور نہ اس سوال کا کوئی جواب دیتے ہیں کہ غیرمسلم اگر مسلمان عدالتوں سے مقدمات کا تصفیہ کرانا چاہیں تو اس کے لیے مسلمان گواہ کہاں سے لائیں؟ امام شافعی نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ غیر مسلموں کے باہمی معاملات میں مسلمان گواہ دستیاب نہ ہوں تو انھیں انصاف فراہم نہ ہونے کا ذمہ دار اسلامی ریاست کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ۱۰؂اس کا مطلب یہ ہے کہ امام صاحب غیر مسلموں کے معاملات اور مقدمات میں عدل و انصاف کا کوئی نظام فراہم کرنے کو سرے سے اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے۔

یہ نقطۂ نظر ممکن ہے فقہی دور کے تصور ریاست اور تصورقانون کی رو سے معقول سمجھا جاتا ہو، لیکن ریاست اور قانون کے جدید تصورات کے مطابق یہ ایک ایسا خلا ہے جس کی کسی ریاست میں گنجایش نہیں مانی جا سکتی۔ جدید سیاسی تصور کی رو سے ریاست اپنے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ اور انھیں عدل وانصاف کا نظام فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے اور اپنی رعایا میں شامل کسی بھی گروہ کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتی۔ قانونی انتظام کے سارے سرچشمے نظم اجتماعی کو حاصل اختیار سے پھوٹتے ہیں اور ریاست غیر مسلموں کے لیے الگ عدالتوں کا انتظام کرے یا کوئی اور صورت اختیار کرے، بہرحال اس کی آخری ذمہ داری ریاست پر ہی عائد ہوتی ہے، اس لیے امام شافعی کا جواب جدید قانونی وسیاسی ڈھانچے میں بدیہی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

فقہاے احناف کے ہاں مسلمانوں کے خلاف کسی غیر مسلم کی گواہی قبول نہ کرنے کی وجہ معروضی تناظر میں شہادت کی اہلیت یا دیانت وامانت پر اعتماد کا فقدان نہیں، بلکہ یہ تصور ہے کہ کسی غیر مسلم کی شہادت پر مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کرنے سے مسلمانوں پر غیر مسلموں کی بالادستی قبول کرنا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں۔ گویا اس کی بنیاد اصلاً گواہی سے متعلق کسی قانونی نکتے پر نہیں، بلکہ حقوق معاشرت کے حوالے سے اس مخصوص مذہبی تصور پر ہے جسے کلاسیکی فقہی نظام کے بنیادی تشکیلی عوامل میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں بالعموم سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۴۱ 'وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً' (اور اللہ ہرگز کفار کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل نہیں ہونے دے گا) کا حوالہ دیا جاتا ہے، تاہم آیت کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں قانونی ومعاشرتی معاملات زیر بحث نہیں، بلکہ منافقین کے بزدلانہ طرز عمل کے تناظر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اہل ایمان کو یہ خوش خبری دی جا رہی ہے کہ اللہ کے قانون اور وعدے کے مطابق آخری اور حتمی غلبہ انھیں ہی نصیب ہوگا، اس لیے وہ پوری دل جمعی اور استقامت کے ساتھ جہاد وقتال میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں۔

بہرحال، مذکورہ آیت سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اسلام قبول نہ کرنے والے اہل کفر کے لیے دار الاسلام کے مسلمان شہریوں کے مقابلے میں کم تر معاشرتی رتبہ تجویز کیا گیا تھا، تاہم فقہی ذخیرے میں گواہی کے معاملے پر اس کا اطلاق ایسی صورت میں سامنے آیا ہے جسے شارع کا منشا قرار دینا بے حد مشکل ہے۔ فقہی ذخیرے کے مطابق نہ صرف یہ کہ کسی مسلمان کے خلاف کسی غیر مسلم کی گواہی قابل قبول نہیں، بلکہ فقہا نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ غیر مسلموں کی گواہی کسی مسلمان کے خلاف ہو یا غیرمسلم کے خلاف، اگر اس کو قبول کرنے سے کسی مسلمان کو ضرر لاحق ہوتا ہو تو یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی: 'وشہادۃ الکافر فی ما یتضرر بہ المسلم لا تکون حجۃ' ۱۱؂۔

اس کی چند اطلاقی مثالیں دیکھیے:

oاگر دو غیر مسلم گواہ ایک مسلم اور ایک غیر مسلم کے خلاف قتل کی گواہی دیں تو ان میں سے مسلمان کے خلاف ان کی گواہی رد کر دی جائے گی، جبکہ یہی گواہی غیر مسلم کے خلاف قابل قبول ہوگی، البتہ اس سے قصاص کے بجاے دیت لی جائے گی۔ ۱۲؂

oاگر چار نصرانی گواہ کسی نصرانی کے بارے میں گواہی دیں کہ اس نے کسی مسلمان لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے تو اگر تو وہ زنا بالجبر کی گواہی دیں تو نصرانی پر زنا کی حد جاری کی جائے گی، لیکن اگر وہ کہیں کہ زنا لونڈی کی رضامندی سے ہوا تھا تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی (کیونکہ اس طرح غیر مسلموں کی گواہی پر ایک مسلمان لونڈی کو سزا دینا پڑے گی)، بلکہ مسلمان لونڈی کے ساتھ ساتھ نصرانی کو بھی چھوڑ دیا جائے گا اور گواہوں پر حد قذف جاری کی جائے گی۔ ۱۳؂

oاگر کسی مسلمان کو کہیں کوئی چیز پڑی ہوئی مل جائے اور کوئی غیر مسلم علامات بتا کر اس چیز کا مالک ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے دعواے ملکیت پر دو غیر مسلم گواہ پیش کر دے تو بھی اس کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا جائے گا، اس لیے کہ غیر مسلموں کی گواہی پر وہ چیز مسلمان سے نہیں لی جا سکتی۔ ۱۴؂

oاگر کوئی نصرانی فوت ہو جائے اور اس کی موت کے بعد ایک مسلمان دو نصرانی گواہ پیش کرکے یہ دعویٰ کر دے کہ میت کے ذمے اس کے ایک ہزار درہم واجب الادا ہیں اور ایک نصرانی بھی دو نصرانی گواہ پیش کر کے یہی دعویٰ کر دے (جبکہ میت کے مال میں دونوں میں سے کسی ایک ہی کے مطالبے کو پورا کرنے کی گنجایش ہو) تو مسلمان کا دعویٰ قبول کرتے ہوئے اس کو ایک ہزار درہم دلوا دیے جائیں گے اور نصرانی کے دعوے کو کوئی حیثیت نہیں دی جائے گی، کیونکہ اس کا دعویٰ ماننے کی صورت میں مسلمان کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ ۱۵؂

اس سے بھی بڑھ کر اس تصور کی وسعت اور اس کے عملی اثرات کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ فقہا کے نزدیک اگر کوئی مسلمان کسی آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے تو 'نہی عن المنکر' کے فریضے کی رو سے اس پر لازم ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اسے عملاً روک دے، لیکن اگر ایک مسلمان زنا کر رہا ہو اور کوئی غیر مسلم اسے دیکھ لے تو وہ زبان سے تو اسے منع کر سکتا ہے، لیکن بالفعل نہیں روک سکتا، اس لیے کہ اس سے مسلمان پر غیر مسلم کی بالادستی لازم آتی ہے۔ ۱۶؂

مذکورہ فقہی جزئیات میں قانونی ومعاشرتی معاملات میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے مقابلے میں بالادست قرار دینے کے تصور کی جو عملی صورت متعین کی گئی ہے، ہماری راے میں اول تو وہ بجاے خود محل نظر ہے اور بالفرض وہ کسی درجے میں درست ہو تو بھی اس کا دائرہ کلاسیکی فقہی نظام تک محدود رہنا چاہیے جس میں غیر مسلموں کے لیے 'اہل ذمہ' کے عنوان سے ریاست کے دوسرے درجے کے شہریوں کی حیثیت متعین کی گئی تھی۔ اس نظام کے عملاً ختم ہو جانے کے بعد جدید جمہوری تصورات کے تحت قائم ہونے والی اسلامی ریاستوں میں بھی اس تفریق کا تسلسل کسی طرح مطلوب یا مناسب نہیں اور اس پر اجتہادی نظر ثانی ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں ''مجلۃ الاحکام العدلیہ'' سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے جس میں فقہی ذخیرے میں بیان ہونے والے، گواہ کے مطلوبہ اوصاف میں سے مسلمان ہونے کی شرط حذف کر دی گئی ہے۔ ۱۷؂

دوسرا اہم نکتہ اسلامی ریاست میں کسی غیر مسلم کے منصب قضا پر فائز ہونے سے متعلق ہے۔ روایتی فقہی تصور میں اس کی کوئی گنجایش تسلیم نہیں کی گئی اور قاضی کا مسلمان ہونا اس منصب کے لیے اہلیت کی بنیادی شرائط میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے پس منظر میں مختلف اعتقادی اور قانونی تصورات کار فرما ہیں اور ان میں سے ہر ایک الگ الگ تجزیے کا متقاضی ہے۔

پہلی چیز مسلمانوں پر کسی غیر مسلم کی کسی بھی نوعیت کی اور بالخصوص قانونی بالادستی قبول نہ کرنے کا وہی تصور ہے جس پر ہم سابقہ سطور میں گفتگو کر چکے ہیں۔ اس ضمن میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین قانونی امتیاز کے قدیم فقہی زاویۂ نگاہ کو من وعن درست مان لیا جائے تو بھی ریاست کے جدید تصور میں اس کا انطباق مشکل ہے۔ ایک باقاعدہ ریاستی نظام میں جس میں قانون سازی کے حدود وقیود طے ہوں اور اختیارات کی تفویض کا منبع ومصدر مسلمان ارباب حل و عقد ہوں، اگر کوئی غیر مسلم، نظام ریاست کی طرف سے تفویض کردہ کوئی انتظامی یا منصبی ذمہ داری انجام دے تو خالصتاً قانونی زاویۂ نگاہ سے اسے مسلمانوں پر غیر مسلم کی بالادستی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ درحقیقت قانون اور نظام کی بالادستی ہے جس میں انتظامی اہل کار محض کل پرزوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ معروف مسلم مفکر علامہ محمد اسد نے یہ راے ظاہر کی تھی کہ کسی غیر مسلم سے اسلامی ریاست کے نظریاتی مقاصد کے ساتھ مطلوبہ کمٹمنٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی، اس لیے کوئی کلیدی سیاسی یا انتظامی منصب ان کے سپرد کرنا اصولی طور پر درست نہیں، تاہم اگر غیر مسلموں کو محدود دائرے میں کچھ ذمہ داریاں تفویض کی جائیں جن میں ان کی حیثیت پالیسی ساز کی نہیں، بلکہ اولو الامر کے معاونین کی ہو تو ایسا کرنا ازروے شریعت اعتراض کا باعث نہیں ہوگا۔ ۱۸؂گویا علامہ اسد فقہی اصطلاح میں تنفیذی اختیارات غیر مسلموں کو سپرد کر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ اس تناظر میں یہ نکتہ قابل غور ہوگا کہ منصب قضا کی حقیقی نوعیت اور حیثیت کیا ہے اور کیا اسے انتظامی نوعیت کے تنفیذی اختیارات پر قیاس کرتے ہوئے غیر مسلموں کے لیے گنجایش پیدا کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

اس ضمن میں فقہی ذخیرے کے نظری مباحث اور امت مسلمہ کے تاریخی طرز عمل کے مابین بہت سے معاملات میں جو تباین پایا جاتا ہے، اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار اور بالخصوص خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت کے دور میں امور مملکت اور سماجی اداروں کے انتظام وانصرام میں غیر مسلموں کی شرکت اور بعض اوقات نہایت اہم مناصب پر ان کے تقرر کی مثالیں موجود ہیں۔ ۱۹؂یہ تمام مثالیں ہمارے خیال میں ایک ایسے معاملے میں جس میں کوئی منصوص ممانعت موجود نہیں، بذات خود عملی فقہی نظائر کی حیثیت رکھتی ہیں، بلکہ خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں عدالتی وقانونی ضوابط کے حوالے سے مرتب کیے جانے والے ''مجلۃ الاحکام العدلیہ'' میں قاضی کے مطلوبہ اوصاف کے ضمن میں، کلاسیکی فقہی موقف کے برعکس، اس کے مسلمان ہونے کی شرط کا سرے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا ۲۰؂اور اسی بنیاد پر بہت سے مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو منصب قضا پر فائز کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ ۲۱؂خود ہمارے ہاں دستوری طور پر صدر اور وزیر اعظم کے لیے تو مسلمان ہونے کی شرط موجود ہے، لیکن کسی دوسرے منصب کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ غیر مسلم ججوں کا اعلیٰ ترین مناصب پر تقرر عملاً بھی قبول کیا گیا ہے اور کم از کم ایک قانونی ایشو کے طور پر یہ مسئلہ کبھی نہیں اٹھایا گیا۔

دوسرا اہم اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ آیا کوئی غیر مسلم، اسلامی قانون کی تعبیر یا اس کے اطلاق کی ذمہ داری انجام دینے کا اہل ہو سکتا ہے؟ مذہبی قانون کا فہم اور اس کی تعبیر وتشریح، بہرحال ایک نازک اور حساس مسئلہ ہے، تاہم یہ سوال قابل غور ہے کہ شریعت کے احکام جن واضح عقلی اساسات پر استوار ہیں، کیا ان تک کسی غیر مسلم کی رسائی اور ان کی روشنی میں قانونی واجتہادی مضمرات کا اخذ و استنباط نظری یا عملی اعتبار سے ممکن ہے یا نہیں۔ جلیل القدر اصولی عالم ابو اسحاق الشاطبی کی راے میں اگر کسی مسئلے میں اجتہاد کے بنیادی مقدمات سمجھ لیے جائیں تو ان کی بنا پر ایک غیر مسلم بھی اجتہاد کا عمل انجام دے سکتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

وقد اجاز النظار وقوع الاجتہاد فی الشریعۃ من الکافر المنکر لوجود الصانع والرسالۃ والشریعۃ اذ کان الاجتہاد انما ینبنی علی مقدمات تفرض صحتہا کانت کذلک فی نفس الامر او لا وہذا اوضح من اطناب فیہ.(الموافقات ۴/ ۱۱۱)

''اہل نظر اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک کافر بھی جو وجود باری اور رسالت اور شریعت کا منکر ہو، شریعت کے معاملے میں اجتہاد کر سکتا ہے، کیونکہ اجتہاد (ایک عقلی کاوش ہے جس کی) بنیاد چند مقدمات پر ہوتی ہے جنھیں درست فرض کر لیا جاتا ہے،خواہ وہ حقیقت میں درست ہوں یا نہیں اور یہ بات کسی تفصیلی وضاحت کی محتاج نہیں۔''

اگر احکام شرعیہ کی تعبیر وتشریح اور قانون سازی کی اساسی ذمہ داری مقننہ اور اس کے معاون اداروں کے سپرد ہو، جبکہ عدالتوں کا کام محض قانون کا اطلاق یا بعض جزوی امور میں ان کی تعبیر ہو تو یہ الجھن کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی حالیہ سفارشات میں غالباً اسی نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ راے قائم کی ہے کہ ''قانون کی باقاعدہ تدوین کے بعد جج کے مسلمان ہونے کی شرط غیر ضروری ہے۔ غیر مسلم جج بھی قانون کو پوری طرح سمجھ لینے کے بعد ہر نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔'' ۲۲؂

معاملے کا ایک تیسرا پہلو بھی سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے اور وہ یہ کہ کلیدی مناصب کی علامتی اہمیت اور اسلامی ریاست کے نظریاتی تشخص کے تناظر میں غیر مسلم ججوں کا ایسے مناصب پر تقرر جو قرآن و سنت کی روشنی میں قانون کی اعلیٰ سطحی تعبیر وتشریح کے معاملے میں فیصلہ کن اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہوں، کس حد تک درست ہوگا اور اس کے اثرات ومضمرات کیا ہو سکتے ہیں؟ مارچ ۲۰۰۷میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے معطل کیے جانے پر جسٹس رانا بھگوان داس نے قائم مقام چیف جسٹس کا منصب سنبھالا تو یہ سوال سامنے آیا تھا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے اس شریعت اپیلٹ بنچ کا سربراہ بھی ہوتا ہے جس کی اصل ذمہ داری اسلامی احکام وقوانین کی تعبیر وتشریح اور ان کی بنیاد پر ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لینا ہے۔ اس صورت حال کی ناموزونیت پر یہ استدلال پیش کیا گیا کہ برطانیہ کا بادشاہ ہونے کے لیے اس کا کیتھولک عیسائی نہ ہونا ضروری ہے، کیونکہ وہ ملک کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ چرچ آف انگلینڈ کا بھی سربراہ ہوتا ہے جو کیتھولک عقیدے کا پیروکار نہیں ہے۔ چنانچہ ''اگر اس نزاکت کا برطانیہ کے نظام میں لحاظ رکھا گیا ہے اور وہاں اس پابندی کا اہتمام ضروری سمجھا گیا ہے تو ہمارے ہاں بھی اس اصولی موقف کے احترام میں کوئی حجاب محسوس نہیں کیا جا نا چاہیے۔'' ۲۳؂

یہ زاویۂ نگاہ خالصتاً قانونی پہلو سے نہ سہی، لیکن اسلامی ریاست کے نظریاتی تشخص کے تناظر میں علامتی حوالے سے، بہرحال قابل توجہ ہے ۔

____________

۱؂النساء۴: ۱۵۔

۲؂البقرہ۲: ۲۸۲۔

۳؂المائدہ ۵: ۱۰۶

۴؂الطلاق۶۵: ۲۔

۵؂طبری، جامع البیان ۷/ ۱۰۱۔ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ۶/ ۳۵۰۔

۶؂الممتحنہ ۶۰: ۸۔

۷؂المائدہ ۵: ۵۔

۸؂ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۲۲۳۔

۹؂الماوردی، الحاوی الکبیر ۲۱/ ۶۸۔

۱۰؂الشافعی، الام۴/ ۲۲۵۔

۱۱؂سرخسی، المبسوط ۲۶/ ۳۸۔

۱۲؂فتاویٰ عالمگیری ۳/ ۵۲۱۔

۱۳؂ابن نجیم، البحر الرائق ۷/ ۹۵۔

۱۴؂ابن نجیم، البحر الرائق ۵/ ۱۶۹۔

۱۵؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۵۵۳۴۔

۱۶؂الغزالی، احیاء علوم الدین ۲/ ۲۳۸۷۔

۱۷؂مجلۃ الاحکام العدلیہ، مادہ ۱۶۸۶، ۱۷۰۰۔۱۷۰۵۔

۱۸؂محمد اسد، اسلامی ریاست اور مسلم طرز حکومت، ترجمہ: محمد شبیر قمر ۷۵۔ ۷۶، ۱۰۲۔

۱۹؂ٹی ڈبلیو آرنلڈ،دعوت اسلام، ترجمہ: محمد عنایت اللہ ۸۱۔۸۲۔ سید صباح الدین عبد الرحمن، اسلام میں مذہبی رواداری ۱۰۵، ۱۲۸، ۱۶۸، ۱۸۰، ۲۵۴۔

۲۰؂مجلۃ الاحکام العدلیہ، مادہ ۱۷۹۲۔ ۱۷۹۴۔

۲۱؂وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۷۴۴۔

۲۲؂سہ ماہی اجتہاد، اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد،جون ۲۰۰۷ ،۱۵۲۔

۲۳؂ابوعمار زاہد الراشدی، ''عدالتی بحران اور وکلا برادری کی جدوجہد''، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، اپریل ۲۰۰۷، ۴۔

__________________________




Articles by this author