قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار

قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار


کلاسیکل فقہی موقف میں قصاص کو اصلاً مقتول اور اس کے ورثا کا حق قرار دیا گیا ہے جس کی رو سے مقتول یا اس کے ورثا کی طرف سے معافی کی صورت میں قاتل سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے اور قاضی کو قاتل پر قتل کی سزا نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں رہتا۔ بعض معاصر اہل علم نے اس راے سے اختلاف کیا ہے اور ان کے نزدیک اس معاملے میں فیصلہ کن اختیار ورثا کو نہیں، بلکہ ریاست کو حاصل ہے اور مقتول کے اولیا کے معاف کر دینے کے باوجود قاتل سے قصاص لینا اس کی ذمہ داری ہے۔۱؂

روایتی فقہی موقف کے حق میں بنیادی طو رپر قرآن مجید کی درج ذیل دو آیات سے استدلال کیا گیا ہے:

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی فَمَنْ عُفِیَ لَہٗمِنْ اَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْْہِبِاِحْسَانٍ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗعَذَابٌ اَلِیْمٌ.(۲: ۱۷۸)

''اے ایمان والو، تم پر مقتولوں کے معاملیمیں قصاص فرض کیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے میں وہی آزاد قتل کیا جائے، غلام کے بدلے میں وہی غلام، اور عورت کے بدلے میں وہی عورت ۔ پھر جس کو اپنےبھائی کی طرف سے کچھ رعایت مل جائے تو معروف کے مطابق اس معاملے کی پیروی کی جائے اور بھلے طریقے سے (دیت کی رقم) اس کو ادا کر دی جائے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے تخفیف بھی ہے اور رحمت بھی۔ پھر جو شخص ا س کے بعد بھی حدود سے تجاوز کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔''

یہاں مقتول کے ولی کی طرف سے معافی کی صورت میں دیت کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے جس سے فقہا یہ اخذ کرتے ہیں کہ اولیاے مقتول کی معافی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے اور اس کے بعد قاتل سے قصاص نہیں لیا جا سکتا۔۲؂

سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے:

وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلاَ یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ اِنَّہٗکَانَ مَنْصُوْرًا.(۱۷: ۳۳)

''اور تم اس جان کو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، کسی حق کے بغیر قتل نہ کرو۔ اور جس شخص کو ظلماً قتل کر دیا جائے تو ہم نے اس کے ولی کو پورا پورا اختیار دیا ہے، اس لیے وہ (قاتل کو) قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے، کیونکہ بے شک (انتقام لینے میں) اس کی مدد کی گئی ہے۔''

یہاں'فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا'کے الفاظ سے فقہا یہ استدلال کرتے ہیں کہ قصاص لینے یا نہ لینے کے معاملے میں 'سلطان' ،یعنی حتمی او رفیصلہ کن اختیار مقتول کے ولی ہی کو حاصل ہے۔۳؂

اس کے بالمقابل قصاص کے استیفا یا اسقاط کے معاملے میں ریاست کو فیصلہ کن اتھارٹی قرار دینے والے اہل علم کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے 'یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی' اور 'مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا'کے الفاظ سے یہ واضح کر دیا ہے کہ قتل دراصل ایک فرد کی جان کے خلاف نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے خلاف جرم کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا قصاص لینا بحیثیت مجموعی پورے معاشرے پر لازم ہے۔ چونکہ معاشرہ اپنی ذمہ داریاں نظم اجتماعی کی وساطت سے انجام دیتا ہے، اس لیے قتل کے مقدمات میں قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانا صرف مقتول کے ورثا کا حق نہیں، بلکہ نظم اجتماعی کی ذمہ داری بھی ہے۔۴؂

ہماری راے میں یہ دونوں نقطہ ہاے نظر اپنے اپنے محل میں وزن رکھتے ہیں اور دونوں میں کوئی ایسا تضاد نہیں جو توفیق وتطبیق کو قبول نہ کرتا ہو، بلکہ قرآن وسنت کا منشا غالباً ان دونوں کی تلفیق (synthesis) سے زیادہ بہتر طور پر متعین کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم ان دونوں نقطہ ہاے نظر کے استدلال کا جائزہ لیتے ہوئے اس ضمن میں اپنی راے کی وضاحت کریں گے۔

جمہور فقہا کا موقف ہمارے نزدیک اس حد تک بہت مضبوط ہے کہ قاتل سے قصاص لینے یا نہ لینے میں مقتول کے اولیا کے فیصلے کی بڑی اہمیت ہے اور ان کی طرف سے معافی کے فیصلے کو عمومی حالات میں کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شریعت میں قصاص سے دست بردار ہونے اور مجرم کو معاف کر دینے کی عمومی ترغیب دی گئی ہے جس کا مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ ان کے معاف کر دینے سے قاتل کی جان بخشی ہو جائے۔ اس ضمن میں 'فَمَنْ عُفِیَ لَہٗمِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ' کے علاوہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۴۵میں 'فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖفَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ'(پھر جو اپنے قصاص کو معاف کر دے تو یہ اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا)کے الفاظ بھی یہی تاثر دیتے ہیں کہ اولیاے مقتول کی طرف سے معافی ہی اسقاط قصاص کے لیے موثر سمجھی جا رہی ہے، اس لیے کہ مقتول یا اس کے وارثوں کی طرف سے حق قصاص معاف کر دیے جانے کی صورت میں ان کے گناہوں کی بخشش ظاہر ہے کہ اسی صورت میں بامعنی ہو سکتی ہے جب ان کے معاف کرنے پر مقتول کی جان بخشی ہو جائے۔ اگر ان کی معافی اس معاملے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تو کلام کا متبادر مفہوم اور اس کا سارا زور بالکل مجروح ہو جاتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ عمومی حالات میں قصاص یا دیت کے انتخاب میں مقتول کے ورثا کی رضامندی ہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے:

ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من اصیب بقتل اوخبل فانہ یختار احدی ثلاث: اما انیقتص واماان یعفو واما ان یاخذ الدیۃ فان اراد الرابعۃ فخذوا علی یدیہ ومن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم.(ابو داؤد، رقم ۳۸۹۸)

''جس کا کوئی عزیز قتل ہو گیا ہو، وہ تین طریقوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کر سکتا ہے:یا تو وہ قصاص لے لے یا معاف کر دے اور یا دیت لے لے۔ پھر اگر وہ کوئی چوتھا راستہ اختیار کرنا چاہے تو اس کے ہاتھوں کو پکڑ لو (اور آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی) اور جو اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے، اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔''

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

من قتل مومنًا متعمدًا دفع الی اولیاء المقتول فان شاء وا قتلوا وان شاء وا اخذوا الدیۃ.(ترمذی، رقم ۱۳۰۸)

''جو شخص کسی مومن کو عمداً قتل کر دے، اسے مقتول کے اولیا کے سپرد کر دیا جائے۔ وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو دیت لے لیں۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی بیان ہوا ہے کہ آپ قصاص کے ہر مقدمے میں اولیاے مقتول کو معافی کی تلقین فرماتے تھے۔ ۵؂

ان وجوہ سے قصاص کی معافی کے سلسلے میں اولیا کے فیصلے کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری راے میں شرعی نصوص سے اولیاے مقتول کی معافی کے موثر قرار پانے کا جو تاثر سامنے آتا ہے، وہ بڑی حکمت پر مبنی ہے۔ اس سے مقتول کے اولیا کو لاحق ہونے والے نقصان کی کسی حد تک تلافی کا امکان پیدا ہو جاتا ہے، ایک مزید انسانی جان کو تلف ہونے سے بچایا جا سکتا ہے اور فریقین کے مابین انتقام در انتقام کے سلسلے کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ چنانچہ اس حکمت کو عمومی حالات میں برقرار رہنا چاہیے، البتہ اس ضمن میں معاشرے اور اس کے نظم اجتماعی کو بالکل بے اختیار قرار دینا بھی درست نہیں اور اگر عدالت کسی موقع پر یہ محسوس کرے کہ قاتل کے لیے معافی کا فیصلہ عدل و انصاف کے اصولوں سے ہٹ کر کیا گیا ہے یا اس کو قبول کرنا مصلحت عامہ کے منافی ہے تو اسے اپنے صواب دیدی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے قاتل سے قصاص لینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قتل محض ایک فرد کی جان لے لینے کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی معاشرے کی بقا اور تسلسل کی اصل بنیاد، یعنی انسانی جان کے تحفظ کو منہدم کر دینے کے مترادف ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ میں قصاص و دیت سے متعلق ہدایات کا آغاز پورے معاشرے کو، جس کی نمایندگی نظم اجتماعی کرتا ہے، قصاص کے حکم کا مخاطب بنانے سے ہوا ہے، جبکہ حکم کے آخر میں 'وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ' کے الفاظ میں قصاص کی اصل حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ معاشرے میں زندگی کے حق کا تحفظ اس کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ دونوں باتیں اس نکتے کو واضح کرتی ہیں کہ قصاص محض قاتل اور مقتول کا باہمی معاملہ نہیں، بلکہ قتل کے مقدمات میں مقتول کے اولیا کے ساتھ ساتھ نظم اجتماعی بھی ایک باقاعدہ فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور قاتل سے قصاص کو ساقط کرنے کے لیے اولیاے مقتول کے علاوہ نظم اجتماعی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ چنانچہ اگر کسی مقدمے میں اولیاے مقتول اسقاط قصاص پر رضامند ہوں، جبکہ ریاست اس معافی کو مصلحت عامہ کے منافی اور قاتل سے قصاص لینے کو قانون وانصاف کے زاویے سے ضروری تصور کرتی ہو تو وہ اولیا کے معاف کرنے کے باوجود قصاص لے سکتی ہے۔

اس بنیادی نکتے کی روشنی میں، نصوص میں اولیاے مقتول کے معاف کر دینے پر قاتل سے قصاص کو ساقط کر دینے کی جس صورت کا ذکر ہوا ہے، اس کو عدالتی توثیق کی شرط کے ساتھ مشروط کرنے کی پوری گنجایش موجود ہے اور فقہا کے ہاں نصوص کی تعبیر کا یہ طریقہ مسلم ہے کہ اگر نقلی یا قیاسی وعقلی دلائل کسی حکم میں کوئی مخصوص قید یا شرط عائد کرنے کا تقاضا کریں تو نصوص کے ظاہر الفاظ کو ان کے اطلاق پر نہیں رکھا جاتا، بلکہ اس شرط یا قید کے ساتھ مقید کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر فقہاے احناف کا موقف یہ ہے کہ قصاص کی معافی کی صورت میں مقتول کے وارث کے لیے دیت کا اختیار اس بات سے مشروط ہے کہ خود قاتل بھی دیت دینے پر رضامند ہو۔ اگر وہ اس پر راضی نہ ہو تو اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اس صورت میں اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔ جصاص نے اس قید کے حق میں یہ استدلال کیا ہے کہ قرآن کی رو سے قتل کی صورت میں اصل چیز 'قصاص' ہے اور اس سے مختلف صورت تبھی اختیار کی جا سکتی ہے جب معاملے کے سارے فریق جن میں خود قاتل بھی شامل ہے، اس پر رضامند ہوں۔ چنانچہ جصاص کی راے میں 'فَمَنْ عُفِیَ لَہٗمِنْ اَخِیْہِ شَیْ ءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ'کا حکم اس قید کے ساتھ مقید ہے کہ مقتول کے وارث کی طرف سے معافی کی صورت میں خود قاتل بھی دیت کی ادائیگی پر رضامند ہو، ورنہ اسے دیت کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔ ۶؂اس راے سے اتفاق ضروری نہیں، تاہم اس میں جس اصول کو برتا گیا ہے، وہ بجاے خود درست ہے اور اسی کی روشنی میں زیر بحث مسئلے میں 'فَمَنْ عُفِیَ لَہٗمِنْ اَخِیْہِ شَیْ ءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ'میں یہ قید لگانا خلاف اصول نہیں ہوگا کہ مقتول کے وارثوں کی معافی اسی صورت میں معتبر ہوگی جب عدالت قانون وانصاف اور معاشرتی مفاد کے وسیع تر تناظر میں اس پر کوئی تحفظات نہ رکھتی ہو۔

یہاں سورۂ بقرہ اور سورۂ بنی اسرائیل کی زیر بحث آیتوں کے مدعا اور مفہوم اور ان کے اصل رخ کو واضح کرنا بھی مناسب ہوگا تاکہ اولیاے مقتول کی معافی کو ریاستی اور عدالتی توثیق کے ساتھ مشروط کرنے کی گنجایش زبان وبیان کے پہلو سے پوری طرح واضح ہو سکے۔

سورۂ بقرہ کی زیر بحث آیت میں معاملے کے دو فریقوں کو مخاطب بناتے ہوئے ان کی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ آیت کے پہلے حصے میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ قتل کا قصاص لینا بحیثیت مجموعی اہل ایمان کی پوری جماعت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد واضح کیا گیا ہے کہ قصاص اسی فرد سے لینا جائز ہے جس نے قتل کا ارتکاب کیا ہو۔ نہ کسی آزاد کی جگہ غلام کو قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی غلام کی جگہ آزاد کو۔ اسی طرح عورت نے قتل کیا ہو تو وہی مستوجب قتل ہوگی نہ کہ اس کی جگہ کوئی مرد دھر لیا جائے گا۔ آیت کے دوسرے حصے میں حکم کا رخ قاتل کی طرف مڑ گیا ہے اور اسے تلقین کی گئی ہے کہ اگر اولیاے مقتول کی طرف سے اس کے لیے معافی کا فیصلہ ہو تو اسے ان کا احسان مانتے ہوئے معروف کے مطابق اس معاملے کی پیروی کرنی چاہیے اور دیت کی ادائیگی میں شریفانہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ کلام کے رخ سے چونکہ اس کا اصل مقصود واضح ہوتا ہے، اس لیے اس کو ملحوظ رکھنا زیربحث نکتے کے حوالے سے بے حد اہم ہے۔ یہاں قانون اور عدالت کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہا جا رہا کہ مقتول کا ولی اگر قاتل کو معاف کر دے تو اب دیت کے سوا کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ قاتل سے کہا جا رہا ہے کہ اگر مقتول کا ولی اس کو معاف کر دے تو اسے دیت کی ادائیگی میں ٹال مٹول یا خست کا رویہ اپنانے اور اولیا کو تنگ کرنے کے بجاے پوری خوش اسلوبی سے یہ رقم انھیں ادا کر دینی چاہیے۔ کلام کا یہ رخ ملحوظ رہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ آیت اسقاط قصاص کے معاملے میں اولیاے مقتول کی معافی کے حتمی اور فیصلہ کن ہونے پر کسی طرح بھی 'نص'کی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ کلام کا اصل مدعا اس معافی کی قانونی وشرعی پوزیشن کو بیان کرنا نہیں، بلکہ قاتل کو اس اخلاقی رویے کی تلقین کرنا ہے جو اسے اس صورت میں لازماً اختیار کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں مقتول کے ولی کے معاف کرنے کا ذکر اس لیے ہوا ہے کہ قصاص ساقط کرنے کے لیے اس کی رضامندی ضروری ہے اور عدالت محض یک طرفہ طور پر قاتل کو معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ گویا اس آیت سے یہ تو اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اولیاے مقتول کی رضامندی کے بغیر قاتل کو معافی نہیں دی جا سکتی، لیکن سیاق کلام میں اس پر کوئی دلالت نہیں پائی جاتی کہ اولیا کے معاف کرنے کی صورت میں قصاص لازماً ساقط ہو جائے گا۔

بالفرض اگر اس حکم کا مخاطب ارباب حل وعقد ہی کو مانا جائے تو بھی 'فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ' کو قطعی طور پر وجوب ولزوم پر محمول نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قتل کے مقدمے میں اصل قانون قصاص کو قرار دیتے ہوئے اولیاے مقتول کی طرف سے معافی کی صورت میں دیت لینے کی اجازت کو 'تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ' فرمایا ہے اورتخفیف اور رعایت پر مبنی اس حکم کی نوعیت خود اس کا تقاضا کرتی ہے کہ اولیا کے معاف کر دینے کی صورت میں قاتل سے قصاص نہ لینا صرف جواز کے حد تک محدود ہو، نہ یہ کہ اس کے بعد قصاص کا اصل حکم کالعدم قرار پائے اور 'رخصت' اور 'اجازت' وجوب ولزوم کا درجہ حاصل کر لے۔ یہ پہلو اس تناظر میں بطور خاص قابل توجہ قرار پاتا ہے کہ تورات کے قانون کی رو سے قاتل سے قصاص ہی لیا جا سکتا تھا، جبکہ دیت لینے کی کوئی گنجایش نہیں رکھی گئی تھی۔ گنتی میں ہے:

''اور تم اس قاتل سے جو واجب القتل ہو، دیت نہ لینا،بلکہ وہ ضرور ہی مارا جائے۔...سو تم اس ملک کو جہاں تم رہو گے ناپاک نہ کرنا،کیونکہ خون ملک کو ناپاک کر دیتا ہے اور اس ملک کے لیے جس میں خون بہایا جائے، سوا قاتل کے خون کے اور کسی چیز کا کفارہ نہیں لیا جا سکتا۔'' (۳۵: ۳۱،۳۳)

جہاں تک سورۂ بنی اسرائیل (۱۷)کی آیت ۳۳میں 'فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖسُلْطٰنًا' کے الفاظ کا تعلق ہے تو وہ سرے سے معاملے کے زیر بحث پہلو سے تعرض ہی نہیں کرتے۔ اس آیت میں مقتول کے ولی کے لیے جس 'سلطان' اور اختیار کا ذکر ہوا ہے، وہ قصاص معاف کرنے کا نہیں، بلکہ قصاص لینے کا اختیار ہے۔ آیت کا واضح مدعا یہ ہے کہ چونکہ مقتول کے وارث کو انتقام لینے کا پورا پورا حق دیا گیا اور اس میں معاشرہ اور قانون پوری طرح اس کی مدد کرنے کے پابند ٹھہرائے گئے ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے اس حق کے استیفا کے لیے اخلاقی و قانونی حدود کی پاس داری کرے اور انتقام لینے میں ان حدود سے تجاوز کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ چنانچہ اس آیت کا قاتل کو معاف کرنے میں اولیاے مقتول کے فیصلے کے حتمی ہونے یا نہ ہونے سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ مزید براں یہ آیت مکی دور سے متعلق ہے، جہاں کسی باقاعدہ ریاستی نظم کا وجود نہیں تھا اور کسی مقتول کا قصاص لینا اصلاً اس کے ورثا اور اہل قبیلہ ہی کا حق اور ان کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس سے اس صورت حال کے لیے کوئی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا جب ایک باقاعدہ ریاستی نظم وجود میں آ چکا ہو اور 'کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی' کے تحت قصاص کی ذمہ داری اصلاً نظم ریاست سے متعلق ہو چکی ہو۔

نص میں موجود مذکورہ قرائن کے علاوہ 'قصاص' کو اصلاً مقتول کے ورثا کا حق قرار دے کر ریاست اور معاشرے کو اس معاملے میں بے اختیار قرار دینے کا موقف فقہی اصولوں کی رو سے بھی محل نظر ہے، اس لیے کہ کسی بھی معاشرتی جرم کا ارتکاب اصلاً اور براہ راست کسی فرد کے خلاف ہی کیوں نہ کیا گیا ہو، اس کے اثرات ونتائج فرد کی ذات سے بڑھ کر معاشرے تک متعدی ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف مدعی بھی صرف براہ راست متاثر ہونے والا فرد نہیں، بلکہ پورا معاشرہ ہوتا ہے جس کی نمایندگی نظم اجتماعی کی سطح پر حکومت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر چوری کے جرم میں کسی مخصوص فرد کو اس کے مال سے ناحق طریقے سے محروم کیا جاتا ہے، تاہم وسیع تر تناظر میں یہ جرم معاشرے میں مال کے تحفظ کے احساس کو بھی عمومی طور پر مجروح کرتا ہے اور اگر اس پرسزا نہ دی جائے تو دوسرے لوگوں کو بھی یہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔ اس پہلو سے یہ جرم صرف فرد کے خلاف نہیں، بلکہ معاشرے کے خلاف بھی ایک جرم ہے اور جمہور فقہا بجا طور پر یہ قرار دیتے ہیں کہ اگرچہ چوری کا مقدمہ درج ہونے سے پہلے مال مسروقہ کے مالک اور چور کے مابین باہمی مصالحت یا معافی کی گنجایش موجود ہے، لیکن مقدمہ عدالت میں پیش ہو جانے کے بعد یہ صاحب حق اور چور کا باہمی معاملہ نہیں رہ جاتا اور عدالت مالک کی طرف سے معاف کیے جانے کے باوجود چور پر سزا کے نفاذ کی مکلف ہے۔ یہی معاملہ قذف کا ہے جو بدیہی طور پر کسی مخصوص فرد کی آبرو کے خلاف تجاوز ہے، تاہم فقہاے حنفیہ اس کو معاشرے میں لوگوں کی عزت وآبرو کے تحفظ کے عمومی تناظر میں دیکھتے ہوئے یہ قرار دیتے ہیں کہ صاحب حق کو یہ اختیار نہیں کہ وہ قاذف کو معاف یا سزا سے بری کر دے یا اس کے بدلے میں کوئی مالی معاوضہ وصول کر لے۔ ۷؂

اس تناظر میں قصاص کے معاملے کو بھی محض دو افراد کا باہمی معاملہ قرار دے کر ریاست اور عدالت کو اس سے قطعاً لا تعلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انسانی جان ظاہر ہے کہ مال کے مقابلے میں زیادہ محترم ہے، اس وجہ سے قتل کا جرم بھی بدیہی طور پر زیادہ سنگین اور اس کی سزا بھی زیادہ سخت ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کسی فرد کا قتل صرف ایک انسان یا اس کے قریبی اعزہ کے خلاف تعدی نہیں ہوتا، بلکہ اپنے اثرات کے لحاظ سے معاشرے کے پورے نظم کے خلاف بھی ایک اقدام ہوتا ہے۔ جب چوری اور قذف جیسے کم تر جرائم میں معاشرہ ایک باقاعدہ اور غالب حق رکھنے والے فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور صاحب حق کی طرف سے معافی کے باوجود عدالت سزا کے نفاذ کی پابند قرار پاتی یا کم از کم اس کا اختیار رکھتی ہے تو قصاص کے معاملے کو، جسے اللہ تعالیٰ نے معاشرے میں زندگی کے تحفظ کی ضمانت قرار دیتے ہوئے پورے معاشرے کو قصاص کا نظام قائم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اولیاے مقتول کی طرف سے دعوے کا انتظار کرنے کے بجاے نظم اجتماعی کو ازخود قاتل کے خلاف اقدام کا حکم دیا ہے، کیونکر قاتل اور مقتول کا باہمی معاملہ قرار دے کر معافی کا کلی اختیار اولیاے مقتول کے ہاتھ میں دیا جا سکتا ہے؟ مزید یہ کہ کسی شخص کے قتل کی صورت میں اس کے ورثا اور معاشرے کا نظم اجتماعی، دو الگ الگ جہتوں سے قصاص کا استحقاق رکھتے ہیں۔ ورثا کو حق قصاص اس جذبۂ انتقام کی تسکین کے لیے دیا گیا ہے جو انسان میں جبلی طور پر پایا جاتا ہے، جبکہ ریاست کسی جذباتی پہلو سے نہیں، بلکہ معاشرے میں انسانی زندگی کے تحفظ کی ذمہ دار ہونے کے ناتے سے قصاص لینے کی حق دار ہے۔ چنانچہ ایک جہت سے قائم ہونے والا حق ساقط ہو جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک دوسری جہت سے ثابت ہونے والا حق بھی کالعدم قرار پائے۔ ۸؂چنانچہ معاملے کے اسی پہلو کے پیش نظر حنفی اور مالکی فقہا نے کم از کم یہ بات ضرور تسلیم کی ہے اور ماوردی اور ابویعلیٰ نے بھی اس راے کے حق میں رجحان ظاہر کیا ہے کہ ورثا کی طرف سے معافی کے باوجود عدالت کو مناسب تعزیری سزا کا اختیار حاصل رہے گا، ۹؂جبکہ ''فقہ السنہ'' کے مصنف السیدالسابق نے اس موقف کی تعبیر یوں کی ہے کہ اگر قاتل 'معروف بالشر' ،یعنی کوئی نامی گرامی مجرم ہو یا قاضی اس کو سزا دینے میں مصلحت سمجھے تو وہ قید یا قتل کی صورت میں اسے سزا دے سکتا ہے۔ ۱۰؂

جلیل القدر مالکی فقیہ قاضی ابوبکر ابن العربی نے لکھا ہے کہ اگرچہ اصولی طور پر قصاص کو چوری اور زنا وغیرہ کی سزاؤ ں کی طرح کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کا حق قرار دینا چاہیے، لیکن اگر قصاص کو اولیاے مقتول کے بجاے معاشرے کا حق قرار دیا جاتا تو قاتل کے لیے معافی کی گنجایش نہ رہتی، جبکہ شریعت اس کو معاف کر دینے کو پسند کرتی ہے۔۱۱؂ہماری راے میں ابن العربی کا بیان کردہ یہ نکتہ بالکل درست ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ شریعت کو قاتل کی معافی انفرادی اخلاقیات کے دائرے میں مطلوب ہے نہ کہ قانون کے دائرے میں، ورنہ قاتل کو معاف کر دینے کو ہی شرعی طور پر لازم قرار دیا جاتا اور 'کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی'کے الفاظ میں نظم معاشرہ کو قصاص لینے کا پابند نہ کیا جاتا، البتہ یہ بات، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، اپنی جگہ درست ہے کہ شریعت نے انفرادی اخلاقیات کے دائرے میں اولیاے مقتول کو معافی کی جو ترغیب دی ہے، وہ یہی تقاضا کرتی ہے کہ عمومی حالات میں اس معافی کو قانونی دائرے میں بھی موثر سمجھا جائے۔

مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ قصاص کو اصلاً معاشرے اور ریاست کا حق قرار دینے کے باب میں معاصر اہل علم کی راے، جبکہ قصاص کی معافی کی صورت میں اولیاے مقتول کے فیصلے کو بنیادی اہمیت دینے کا روایتی فقہی موقف، دونوں اپنی اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں اور ہمارے ناقص فہم کے مطابق دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ قرآن مجید کا 'قصاص' کو پورے معاشرے کا ایک فرض قرار دے کر اس معاملے میں اولیاے مقتول کے فیصلے کو اہمیت دینا، ظاہر ہے کہ اس اعتماد پر مبنی ہے کہ وارث مقتول کے ساتھ اپنی قرابت اور وابستگی کی بنا پر اس کا قصاص لینے کا ایک فطری جذبہ رکھتا ہے اور وہ اس کے لیے پوری سرگرمی دکھائے گا جس سے قانون قصاص کو معاشرے میں زندہ رکھنے کا مقصد پوری طرح حاصل ہو جائے گا۔ شرعی نصوص میں اولیاے مقتول کے لیے اسقاط قصاص کے حق کا ذکر جس تناظر میں ہوا ہے، وہ اصلاً عمومی حالات میں قتل کی سادہ صورت ہے جس میں کسی دوسرے پہلو سے شناعت یا سنگینی کا کوئی اضافی پہلو نہ پایا جاتا ہو اور جس میں قاتل کو معافی دینا قانون کے عمومی اصولوں اور معاشرتی مصلحتوں کے منافی نہ ہو۔ اگر کوئی بھی ایسی اضافی وجہ پائی جائے جو قاتل کو معافی کی اس رعایت سے محروم کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یقیناًاولیا کی دی گئی معافی کو غیر موثر قرار دیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ورثا کسی دباؤ، جبر یا خوف کی بنا پر قصاص کے حق سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کریں تو ان کی معافی کو غیر موثر قرار دینا چاہیے۔ یہ بات کہ عدالت کو اولیا کے اعلان معافی کے بارے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کسی دباؤ یا جبر کے تحت تو نہیں کیا گیا، نہ صرف معقول ہے، بلکہ بعض آثار سے بھی ثابت ہے۔ سیدنا علی نے ایک ذمی کے قتل کے مقدمے میں مسلمان قاتل کو قتل کرنے کا حکم دیا تو مقتول کے بھائی نے حاضر ہو کر ان سے کہا کہ میں نے اس کو معاف کر دیا ہے۔ امیر المومنین نے کہا کہ شاید ان لوگوں نے تمھیں ڈرایا دھمکایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ قاتل کو قتل کر دینے سے میرا بھائی واپس نہیں آ جائے گا، جبکہ ان لوگوں نے مجھے دیت دینے کی پیش کش کی ہے جس پر میں راضی ہوں۔ سیدنا علی نے فرمایا: اچھا پھر تم جانو۔ ۱۲؂

ورثااگر سرے سے مقتول کے معاملے میں دلچسپی ہی نہ رکھتے ہوں یا ان کی ہمدردی الٹا قاتل کے ساتھ وابستہ ہو جائے، جیسا کہ جاگیردارانہ نظام میں کاروکاری اور قتل غیرت کے معاملات میں بالعموم ہوتا ہے تو انھیں حق قصاص سے محروم کر دینا بھی فقہی اصولوں کے خلاف نہیں ہو گا۔ اسی طرح یہ بھی غلط نہیں ہوگا کہ قتل کی جن صورتوں مثلاً، کاروکاری وغیرہ میں رسم و رواج ورثا کے مدعی بننے کی راہ میں حائل ہوں یا قاتل کے اثر ورسوخ کی وجہ سے ورثا کے دباؤ میں آ کر صلح کر لینے کی عمومی صورت حال پائی جاتی ہو، ان کو سد ذریعہ کے اصول پر ناقابل صلح ( non-compoundable) قرار دے دیا جائے۔ اس ضمن میں یہ ضابطہ بھی بنایا جا سکتا ہے کہ قتل کے ہر مقدمے میں عدالت اس امر کا جائزہ لے گی کہ آیا معافی کا فیصلہ ورثا کی آزادانہ رضامندی سے کیا گیا ہے؟ اور یہ کہ کہیں اس معافی کو قبول کرنے سے انصاف کے تقاضے اور معاشرے میں جان کے تحفظ کا حق تو مجروح نہیں ہوگا؟

عدالت جرم کی سنگینی اور شناعت کے پیش نظر بھی مجرم کو معافی کی صورت میں ملنے والی رعایت دینے سے انکار کر سکتی ہے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو وارث اپنے مقتول کی دیت لے لینے کے بعد قاتل کو قتل کرے گا، اس کے لیے معافی کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ۱۳؂آپ سے بعض ایسے واقعات بھی منقول ہیں جن میں آپ نے، اپنے عام معمول کے برعکس، جرم کی سنگینی کے پیش نظر قاتل سے قصاص لینا ہی پسند کیا اور اولیاے مقتول سے رسماً بھی نہیں پوچھا کہ آیا وہ قاتل کو معاف کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ مثال کے طور پر حارث بن سوید نے زمانۂ جاہلیت میں قتل ہونے والے اپنے والد کا بدلہ لینے کے لیے غزوۂ احد کے موقع پر دھوکے سے اپنے والد کے قاتل مجذر بن زیاد کو قتل کر دیا جو اس وقت مسلمان ہو چکے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے اس کی اطلاع ملی تو آپ نے حارث کی آہ وزاری اور فریاد اور عذر معذرت کے باوجود اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر مجذر کے اولیا موجود تھے، لیکن آپ نے اس معاملے میں ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ ۱۴؂اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر جن اشخاص کے بارے میں متعین طورپر یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگر کعبے کے غلاف کے ساتھ بھی چمٹے ہوئے ہوں تو انھیں قتل کر دیا جائے، ان میں ایک مقیس بن صبابہ بھی تھا جس کا جرم یہ تھا کہ اس نے مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطالبے پر اسے اس کے مقتول بھائی کی دیت دلوائی، لیکن اس نے اپنے بھائی کے قاتل سے دیت وصول کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا اور مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلا آیا۔ ۱۵؂قرائن سے واضح ہے کہ مقیس کو ان افراد میں شمار کرنے کی وجہ محض اس کا مرتد ہو جانا نہیں، بلکہ اس کا مذکورہ جرم تھا۔ قتادہ اور عکرمہ سے منقول ہے کہ وہ قاتل سے دیت لینے کے بعد اسے قتل کرنے والے کے لیے معافی کے قائل نہیں تھے، ۱۶؂جبکہ ابن جریج اور عمر بن عبد العزیز سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص جارح سے قصاص یا دیت لے لینے کے بعد اس پر زیادتی کرے تو اسے معاف کرنے کا حتمی اختیار صاحب حق یا اس کے اولیا کو نہیں، بلکہ حکمران کو ہوگا۔ ۱۷؂

امام ابو یوسف کی راے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گلا گھونٹ کر کسی کو قتل کرنے کا بار بار مرتکب ہو تو اس کے لیے معافی کی گنجایش ختم ہو جائے گی اور اسے قتل کرنا لازم ہوگا۔۱۸؂اسحاق بن راہویہ اور فقہاے مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو دھوکے سے کسی ویران جگہ پر لے جا کر قتل کر دے تو اس صورت کے حرابہ کے تحت آ جانے کی وجہ سے حق قصاص ریاست سے متعلق ہو جائے گا اور ورثا کو معافی کا اختیار نہیں ہوگا۔ ۱۹؂فقہاے شافعیہ یہ قرار دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے حکمران کو قتل کر دے تو اس کے لیے معافی کی کوئی گنجایش نہیں اور اسے لازماً قتل کیا جائے گا۔۲۰؂

مذکورہ تمام آرا جرم کی سنگینی کے تناظر میں معافی کے امکان کو کالعدم قرار دینے کی مثال ہیں۔ ہماری راے میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی شخص کی جان لے لینا، جتھے کی صورت میں کسی آدمی پر حملہ آور ہو کر اسے قتل کر ڈالنا، آگ لگا کر یا تیزاب ڈال کر ہلاک کرنا، خونخوار درندے کو کسی شخص پر چھوڑ دینا، اذیت دے دے کر کسی کی جان لینا، معصوم بچے کو درندگی کا نشانہ بنانا، کوئی ناجائز مطالبہ پورا نہ کرنے یا اپنے جائز حق کو استعمال کرنے سے روکنے کے لیے کسی کی زندگی چھین لینا، بہت سے افراد کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتار دینا یا قتل کی کوئی بھی دوسری پر تشدد شکلیں اختیارکرنا، سب اسی دائرے میں آنی چاہییں۔ اسی طرح ایک سے زیادہ مرتبہ قتل کے مرتکب کے لیے بھی یہی قانون بنایا جا سکتا ہے۔

امام شافعی نے بعض اہل علم کا یہ موقف نقل کیا ہے کہ اگر قاتل اور مقتول کے مابین کوئی ذاتی مخاصمت نہ پائی جاتی ہو اور قاتل نے کسی اور محرک کے تحت قتل کا ارتکاب کیا ہو تو ایسی صورت میں حق قصاص مقتول کے ولی کے بجاے حکومت کو حاصل ہوگا۔ ۲۱؂ہمارے نزدیک اجرتی قاتلوں یا کسی دوسرے کے ترغیب یا اشتعال دلانے پر کسی کو قتل کرنے والوں کے معاملے میں بھی اولیا کے حق معافی کو اسی اصول پر غیر موثر قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں یہ نکتہ بالخصوص ملحوظ رہنا چاہیے کہ قبائلی طرز زندگی کے خاتمے سے قرابت اور مراحمت کے اس تعلق میں جو قدیم معاشرت کی ایک امتیازی خصوصیت سمجھا جاتا ہے، بدیہی طور پر رخنہ پڑا ہے اور جدید معاشرے میں گوناگوں عوامل کے تحت قصاص اور انتقام کا جذبۂ محرکہ نسبتاً کمزور پڑ گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ریاست کے تصور کے ارتقا کے ساتھ اس کے قانونی اختیارات بھی بڑھ گئے ہیں اور اسی تناسب سے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے اس کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس صورت حال میں قصاص کے قانون کو زندہ رکھنے کے لیے افراد کے بجاے ریاست کو زیادہ بنیادی کردار سونپنا اگر کوئی مفید اور نتیجہ خیز اقدام ثابت ہو سکتا ہے تو ایسا کرنا قانون کی علت یا حکمت کے منافی نہیں ہوگا، تاہم اس سارے معاملے میں حالات کی عملی صورت کو نظر انداز کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوگا۔ کسی بھی معاشرے میں ریاست کو کوئی اختیار سونپنے سے پہلے اس امر کا اطمینان حاصل کرنا ضروری ہے کہ ریاستی مشینری اپنے اخلاص اور خدمت معاشرہ کے جذبے کے لحاظ سے اس ذمہ داری کو اٹھانے کی پوری اہلیت رکھتی ہے اور اس میں نظام انصاف قابل اعتماد صورت میں موجود ہے۔ بصورت دیگر ریاست کا حق قصاص الٹا بے گناہوں یا رعایت کے مستحق خطا کاروں پر زیادتی اور ان کی حق تلفی پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔

__________

اولیاے مقتول کے قصاص کو معاف کرنے کی بحث سے متعلق ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ کیا قاتل سے قصاص ساقط کرنے کے لیے تمام اولیا کا معافی پر متفق ہونا ضروری ہے یا ان میں سے کوئی ایک بھی معاف کر دے تو قصاص ساقط ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے ایک مقدمے میں اولیاے مقتول کو تلقین کی کہ ان میں سے سب سے قریبی تعلق رکھنے والا رشتہ دار قصاص کے حق سے دست بردار ہو جائے، چاہے وہ کوئی عورت ہی کیوں نہ ہو۔ ۲۲؂بعض آثار کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمے میں مقتول کے تین بھائیوں میں سے ایک بھائی کے معاف کر دینے کے باوجود قصاص دلانا چاہا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے اختلاف کیا اور کہا کہ کسی ایک وارث کے معاف کر دینے کے بعد قصاص نہیں لیا جا سکتا اور سیدنا عمر نے بھی ان سے اتفاق کرلیا۔ ۲۳؂سیدنا عمر نے ایک اور واقعے میں، جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے پاس کسی دوسرے مرد کو موجود پا کر بیوی کو قتل کر دیا تھا اور مقتولہ کے ایک بھائی نے اپنی بہن پر ناراض ہو کر اپنے حق قصاص سے دست برداری اختیار کر لی تھی، یہ فیصلہ کیا کہ سارے اولیا کو دیت ہی ملے گی۔ ۲۴؂

جمہور فقہا نے ان واقعات سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ اگر اولیا میں سے کوئی ایک بھی قصاص سے دست بردار ہو جائے تو قصاص نہیں لیا جا سکتا، تاہم مالکیہ کی راے میں کسی ایک وارث کے معاف کر دینے سے باقی ورثا کا حق قصاص کالعدم قرار نہیں پاتا۔۲۵؂ہماری راے میں مالکیہ کی راے وزنی ہے، جبکہ جمہور فقہا نے جن واقعات سے اس کے خلاف استدلال کیا ہے، ان کی اس سے مختلف تعبیر کا امکان موجود ہے۔ اس ضمن میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ واقعات بدیہی طور پر کسی معاملے کے جملہ قانونی امکانات کا احاطہ نہیں کرتے، بلکہ ان میں عملاً وقوع پذیر ہونے والی کوئی مخصوص صورت زیر بحث ہوتی ہے۔ چنانچہ ان میں کیے جانے والے فیصلے بھی مخصوص صورت حال میں عائد ہونے والی شرائط وقیود ہی پر مبنی ہوتے ہیں۔ دوسری یہ کہ روایات میں کسی بھی مقدمے سے متعلق وہ تمام تفصیلات نقل کرنے کا بالعموم اہتمام نہیں کیا جاتا جو اس مقدمے میں کیے جانے والے فیصلے کی قانونی تفہیم کے حوالے سے ضروری ہوں۔ راوی اپنے اپنے فہم اور زاویۂ نگاہ سے بعض ظاہری پہلووں کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جس سے بسا اوقات بعض بے حد اہم اور فیصلے پر اثر انداز ہونے والی تفصیلات سامنے نہیں آپاتیں، جبکہ بظاہر میسر تفصیلات کی بنیاد پر فیصلے کی اصل وجہ اور قانونی بنیاد کا تعین قطعی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ ان وجوہ سے یہ بات فقہا کے ہاں کم وبیش مسلم ہے کہ واقعات اور مقدمات سے عمومی اصول یا ضابطے اخذ نہیں کیے جا سکتے، بلکہ وہ بجاے خود اس کے محتاج ہوتے ہیں کہ ان کی تعبیر وتوجیہ وسیع تر قانونی اور عقلی اصولوں کے تحت کی جائے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ اس نوعیت کی تعبیر وتوجیہ میں اختلاف کی گنجایش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

اس زاویے سے مذکورہ واقعات کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ اسقاط قصاص کی اصل وجہ محض کسی ایک وارث کا حق قصاص سے دست بردار ہو جانا نہ ہو، بلکہ کچھ ایسے اضافی پہلو بھی موجود ہوں جن کا ذکر روایت میں نہیں کیا گیا۔ ان میں سے تیسری روایت میں، جس میں حضرت عمر کے، خاوند سے قصاص کو ساقط کر دینے کا ذکر ہے، اس کا ایک قرینہ بھی موجود ہے، اور وہ یہ کہ اس واقعے میں خاوند نے جس صورت حال میں، یعنی ایک غیر مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ پا کر اشتعال کی حالت میں اس کو قتل کر دیا، وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے بذات خود رعایت کا تقاضا کرتی ہے۔ چنانچہ سیدنا عمر نے ایک دوسرے مقدمے میں، جس میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک دوسرے مرد کے ساتھ نامناسب حالت میں دیکھ کر اسے قتل کر دیا تھا، اپنے عامل کو ظاہری طور پر تو خاوند سے قصاص لینے کا حکم دیا، لیکن خفیہ طور پر اسے ہدایت کی کہ وہ دیت پر معاملہ طے کرانے کی کوشش کرے۔ ۲۶؂اس وجہ سے حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ مذکورہ بالا واقعے میں خاوند سے قصاص کو ساقط کرنے کا فیصلہ مقتولہ کے بھائی کے معاف کر دینے ہی کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اسی نوعیت کے احتمالات پہلی دو روایتوں میں بھی قیاس کیے جا سکتے ہیں۔

اس ضمن میں بعض روایات میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک استدلال نقل ہوا ہے جو تنقیح طلب ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:

کانت النفس لہم جمیعًا فلما عفی ہذا احیا النفس فلا یستطیع ان یاخذ حقہ یعنی الذی لم یعف حتی یاخذ حق غیرہ.(الشیبانی، کتاب الآثار ۵۹۳)

''قاتل کی جان لینا ان سب کا حق تھا۔ پھر جب اس نے اس کو معاف کر دیا تو اسے زندگی بخش دی۔ پس جنھوں نے معاف نہیں کیا، وہ اپنا حق اس وقت تک نہیں لے سکتے، جب تک کہ دوسرے کو اس کے حق سے محروم نہ کر دیں۔''

اگر بات کو نقل کرنے میں راویوں کی طرف سے کوئی نقص نہیں رہ گیا تو اس استدلال کی بظاہر دو صورتیں سمجھ میں آتی ہیں:

ایک یہ کہ قاتل کی جان لینا تمام ورثا کا حق تھا اور جب ان میں سے ایک نے معاف کر کے اسے زندگی کا حق دے دیا ہے تو اب قاتل کا زندہ رہنا معاف کرنے والے وارث کا حق بن گیا ہے۔ چنانچہ دوسرے ورثا کے لیے اس سے قصاص لینا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ وہ معاف کرنے والے کو اس کے حق، یعنی قاتل کے زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیں۔

اگر زیر بحث اثر کا مفہوم یہی ہے تو یہ استدلال اپنی ظاہری صورت میں کسی طرح بھی قابل فہم نہیں، اس لیے کہ قاتل سے قصاص لینے کو تو وارث کا حق قرار دینا سمجھ میں آتا ہے، لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس کا زندہ رہنا کیونکر معاف کرنے والے وارث کا حق قرار پا سکتا ہے؟ خود قاتل کو تو اپنے انسان ہونے کی بنا پر زندہ رہنے کا حق حاصل تھا جس سے اس نے اپنے آپ کو خود محروم کر لیا، لیکن اس کے بعد اگر کوئی وارث اپنے حق قصاص سے دست بردار ہو جائے تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ اب قاتل کا زندہ رہنا اس وارث کا حق بن گیا ہے؟ ان دونوں باتوں میں منطقی طور پر کوئی لزوم نہیں پایا جاتا۔

استدلال کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ اولیا میں سے کسی ایک کے معاف کرنے کی صورت میں معاف کرنے والا دیت میں اپنے حصے کا حق دار بن جاتا ہے جو ظاہر ہے کہ قاتل کو قصاص سے بری کرنے اور اس پر دیت عائد کرنے کی صورت ہی میں اسے مل سکتا ہے، اس وجہ سے معاف کرنے والے کو اس کا حصہ دینے کے لیے باقی اولیا کو بھی دیت پر آمادہ کرنا ایک مجبوری اور ضرورت کا درجہ اختیار کر لیتا ہے، تاہم اس پر یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ جب تک قصاص کا سقوط متحقق نہ ہو جائے، اس وقت تک دیت کی رقم پر کسی بھی وارث کا حق سرے سے قائم ہی نہیں ہوتا۔ گویا معاف کرنے والے وارث کا معاف کر دینا اس کو دیت کا حق دار نہیں بنا دیتا کہ اس نکتے کو اسقاط قصاص کی بنیاد بنایا جا سکے ، بلکہ اس کو دیت کا حق دار قرار دینا بجاے خود اس کا محتاج ہے کہ اس سے پہلے قصاص کے سقوط کو ثابت مانا جائے۔

مزید براں اسی استدلال کو الٹ کر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ معاف کرنے والے کو اس کا حق ا س کے بغیر نہیں مل سکتا کہ قصاص لینے کے خواہش مند دوسرے وارثوں کو ان کے حق قصاص سے محروم کیا جائے، اس لیے اس کی معافی کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ یہ بات بدیہی ہے کہ ایک صاحب حق کے معاف کر دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرے اصحاب حق کا حق بھی کالعدم ہو جائے۔ مثال کے طور پر اسی معاملے میں اگر ورثا دیت پر رضامندی ظاہر کر دیں اور پھر ان میں سے بعض ورثا اپنے حصے کی رقم چھوڑ دیں تو باقی ورثا اس کے پابند نہیں ہوں گے کہ وہ بھی اپنے حصے سے دست بردار ہو جائیں۔ اور بالفرض ایک وارث کے معاف کر دینے کی صورت میں دیت کی رقم پر اس کا حق ثابت مان لیا جائے تو بھی دوسرے ورثا سے جو حق قصاص پر اصرار کر رہے ہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کا استیفاے حق چونکہ معاف کر دینے والے کے حق کو مجروح کیے بغیر ممکن نہیں، اس لیے اگر وہ قصاص ہی پر اصرار کرتے ہیں تو دیت پر رضامندی ظاہر کرنے والے وارث کو اس کے حصے کی رقم ادا کر دیں۔ چنانچہ ایک شخص نے ایک عورت کو قتل کر دیا تو سیدنا علی نے، جن کی راے میں مرد اور عورت کی جان کی قیمت غالباً ایک جیسی نہیں تھی، مقتولہ کے اولیا سے کہا کہ وہ یا تو قاتل سے دیت لے لیں اور اگر قصاص لینا چاہتے ہیں تو آدھی دیت قاتل کے اہل خانہ کو ادا کر دیں۔ ۲۷؂سیدنا علی ہی سے یہ فتویٰ منقول ہے کہ اگر مقتول کے دو ولی ہوں اور ان میں سے ایک قاتل کو معاف کر دے، جبکہ دوسرا قصاص لینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، البتہ اسے نصف دیت قصاص میں قتل کیے جانے والے قاتل کے اولیا کو واپس کرنی ہوگی۔ ۲۸؂

اس ضمن میں اس نکتے کو نظر انداز کرنا بھی کسی طرح مناسب نہیں ہوگا کہ قاتل کی معافی کو ورثا کی رضامندی کے ساتھ مشروط کرنے کی بنیادی حکمت ہی یہ ہے کہ ان کے جذبۂ انتقام کو تسکین ملے اور بدلہ نہ لے سکنے کی صورت میں دشمنی اور عداوت کے جو جذبات دلوں میں پرورش پاتے رہتے ہیں، ان کے اثرات ونتائج سے بچا جا سکے۔ اب اگر صرف ایک وارث کے معاف کر دینے کی صورت میں قاتل سے قصاص کو ساقط قرار دیا جائے، جبکہ باقی اولیا انتقام لینے کی خواہش رکھتے ہوں تو ظاہر ہے کہ اس سے مذکورہ حکمت کسی طرح ملحوظ نہیں رہتی۔

_____________

۱؂عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن: حدود وتعزیرات اور قصاص ۳۲۰۔۳۳۱۔

۲؂الشافعی، الام ۵/ ۱۰، ۱۴۔

۳؂الشیبانی، الحجۃ علیٰ اہل المدینہ ۴/ ۳۸۲۔ طبری، جامع البیان۲/ ۱۱۴۔

۴؂عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن: حدود وتعزیرات اور قصاص ۲۶۳۔ ۲۶۹، ۳۲۰۔ ۳۳۱۔

۵؂نسائی، رقم ۴۷۰۲۔

یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے کوئی قانونی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اور کیا عدالت کو قتل کے مقدمات میں اصلاً صلح صفائی ہی کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک غیر جانب دار قاضی نہیں تھے، بلکہ خدا کے پیغمبر، مصلح معاشرہ اور معلم اخلاق بھی تھے اور آپ کے طرز عمل اور فیصلوں میں آپ کی یہ مختلف حیثیتیں بیش تر اوقات یکجا ہو جاتی تھیں، لہٰذا اولیاے مقتول کو معافی پر آمادہ کرنے کے واقعات سے ریاست کے لیے کوئی قانونی حکم یا ضابطہ اخذ کرنے کے بجاے ان کی درست تر توجیہ یہ ہوگی کہ چونکہ شریعت میں عفو ودرگذر کی بہت تاکید آئی ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاکمانہ منصب کے لحاظ سے نہیں، بلکہ اپنی حیثیت نبوی میں اولیاے مقتول کو معافی کا اعلیٰ اخلاقی رویہ اپنانے پر رضامند کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔

۶؂جصاص، احکام القرآن ۱/ ۱۵۰۔

۷؂کاسانی، بدائع الصنائع ۷/ ۵۶۔

۸؂اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے اس فقہی جزئیے کا حوالہ دینا شاید کسی حد تک مناسب ہو کہ اگر کوئی شخص قتل خطا کا نشانہ بن جائے اور مرنے سے پہلے اپنی دیت قاتل کو معاف کر دے تو جمہور فقہا کے نزدیک یہ معافی دیت کے ایک تہائی حصے کی حد تک ہی موثر ہوگی، جبکہ پوری دیت کی معافی کے لیے مقتول کے ورثا کی رضامندی شرط ہوگی۔ (مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۲۰۵۔ ۱۸۲۰۶۔ ابن رشد، بدایۃ المجتہد ۲/ ۳۰۲) اس راے سے اتفاق ضروری نہیں، تاہم دیکھ لیجیے کہ دیت اصلاً مقتول کی جان کا عوض ہے، لیکن فقہا کے نزدیک چونکہ مقتول کی موت کا امکان غالب ہونے کے باعث اس پر ورثا کا حق بھی ایک پہلو سے قائم ہو چکا ہے، اس لیے وہ ان کی رضامندی کے بغیر خود مقتول کو بھی اپنی دیت کلیتاً معاف کر دینے کا اختیار نہیں دیتے۔

۹؂عبد الرحمن الجزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعہ ۵/ ۱۹۶۔ وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۲۹۱۔ ۲۹۲۔

۱۰؂فقہ السنہ ۳/ ۲۰۔

۱۱؂ابن العربی، احکام القرآن ۳/ ۱۲۰۶۔ ۱۲۰۷۔

۱۲؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۷۱۲۔

۱۳؂ابوداؤد، رقم ۳۹۰۸۔

۱۴؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۸۳۰۔

۱۵؂ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۴/ ۲۵۶۔ ۲۵۷، ۵/ ۷۱۔

۱۶؂جصاص، احکام القرآن ۱/ ۱۱۵۱۔ طبری، جامع البیان۲/ ۱۱۲۔

۱۷؂مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۲۰۴۔ طبری، جامع البیان۲/ ۱۱۳۔

۱۸؂الماوردی، الحاوی الکبیر ۱۲/ ۳۸۔

۱۹؂مسائل الامام احمد بن حنبل واسحاق بن راہویہ ۲/ ۲۳۰، ۲۷۲۔ حاشیہ الدسوقی ۴/ ۲۳۸۔وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۲۷۲۔

۲۰؂الماوردی، الحاوی الکبیر ۱۲/ ۱۰۳۔

۲۱؂الشافعی، الام ۴/ ۳۱۷۔

۲۲؂ابو داؤد، رقم ۴۵۳۸۔

۲۳؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۸۵۳۔

۲۴؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم۱۵۸۵۱۔

۲۵؂الماوردی، الحاوی الکبیر ۱۲/ ۱۰۵۔

۲۶؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۷۸۸۵۔

۲۷؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۷۴۸۳۔

۲۸؂الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/ ۱۷۷۔ الکلینی، الفروع من الکافی ۷/ ۳۵۶۔

____________________




Articles by this author