قصاص و دیت میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز

قصاص و دیت میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز


قصاص کے قانون کے ضمن میں ایک اہم بحث یہ ہے کہ آیا کسی غیر مسلم کو قتل کرنے کی صورت میں اس کے مسلمان قاتل سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟ مسلم اور غیر مسلم کی دیت میں فرق کا سوال بھی اسی بحث کا حصہ ہے۔ بیش تر فقہی مکاتب فکر غیر مسلم کی جان کو قانونی اعتبار سے مسلمان کی جان کے مساوی نہیں سمجھتے۔ چنانچہ ان کے نزدیک غیر مسلم کو قتل کرنے کی صورت میں مسلمان سے قصاص نہیں لیا جا سکتا اور غیر مسلموں کی دیت بھی مسلمانوں کی دیت کے نصف ہوگی، البتہ فقہاے احناف دونوں حوالوں سے مسلم اور معاہد غیر مسلم کے مابین کسی فرق اور امتیاز کے قائل نہیں۔

اصولی طور پر یہ سوال اس بحث کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ آیا شارع کی نظر میں تمام انسانی جانیں دنیوی حرمت کے لحاظ سے یکساں درجہ اور قیمت رکھتی ہیں یا عقیدہ ومذہب کا اختلاف اس معاملے میں تفاوت پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ کفر فی نفسہٖانسان کی جان کو محترم نہیں رہنے دیتا۔ چنانچہ ان کے نزدیک ہر وہ غیر مسلم جس تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہو اور اس نے اس کے بعد بھی کفر پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہو، مباح الدم ہے، الاّ یہ کہ مسلمانوں کی طرف سے دی گئی کسی امان کے تحت اسے جان کا تحفظ حاصل ہو جائے۔ البتہ ان کے مابین اس نکتے میں اختلاف ہے کہ غیر مسلموں کو اسلامی ریاست کے ساتھ معاہدۂ ذمہ کی صورت میں جو امان دی جاتی ہے، آیا اس سے اباحت دم کا سبب بالکلیہ ختم ہو جاتا اور غیر مسلم کی جان قانونی احکام کے اعتبار سے مسلمان کے مساوی قرار پاتی ہے یا جان کو تحفظ حاصل ہو جانے کے باوجود قانونی دائرے میں اس کی جان کی قیمت مسلمانوں سے کم تر ہی تصور کی جائے گی؟ احناف پہلے نقطۂ نظر کے قائل ہیں، جبکہ جمہور فقہا کے نزدیک اہل ذمہ کو جان کا تحفظ حاصل ہونے کے بعد بھی اباحت دم کا شبہ باقی رہتا ہے جس کا اثر قصاص اور دیت کے احکام پر مرتب ہوگا۔

قرآن مجید کے نصوص سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسانی جان کی دنیوی حرمت کے دائرے میں اصولی طور پر مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ چنانچہ 'مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ' اور 'لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ'اور ان کے ہم معنی نصوص میں قتل ناحق کو مطلقاً حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ نکتہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کے قتل کیے جانے پر، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، قاتل کو سزا بھی ایک جیسی دی جائے اور سزا میں، چاہے وہ قصاص کی صورت میں ہو یا دیت کی شکل میں، مذہب کی بنیاد پر کوئی فرق نہ کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول متعدد روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر بنوکعب کے ایک فرد نے بنوبکر کے ایک مشرک کو قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے قبیلے کے لوگوں سے کہا کہ وہ چاہیں تو قاتل سے قصاص لے لیں اور چاہیں تو دیت۔ ۱؂آپ نے بنوخزاعہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ:

انکم معشر خزاعۃ قتلتم ہذا الرجل من ہذیل القتیل وانی عاقلہ فمن قتل لہ قتیل بعد الیوم فاہلہ بین خیرتین اما ان یقتلوا او یاخذوا العقل. (ترمذی، رقم۱۳۲۶)

''اے گروہ خزاعہ، تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے اور میں اس کی دیت ادا کر رہا ہوں، لیکن آج کے بعد اگر کسی شخص کو قتل کیا جائے گا تو اس کے اہل خانہ کو اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو قاتل سے قصاص لے لیں اور چاہیں تو دیت قبول کر لیں۔'' ۲؂

ایک ضعیف روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر اس کے مسلمان قاتل کو قتل کرنے کا حکم دے دیا کہ 'انا احق من اوفی بذمتہ' ،۳؂یعنی جس نے اپنا عہد پورا کیا ہو، اس کا بدلہ لینے کا سب سے زیادہ حق میں رکھتا ہوں۔

اسی طرح متعدد واقعات میں یہ نقل ہوا ہے کہ آپ نے غیرمسلم مقتولین کے لیے مسلمانوں کے برابر دیت ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ واقعات حسب ذیل ہیں:

عمرو بن امیہ الضمری نے واقعہ بئر معونہ کے شہدا کا بدلہ لینے کے لیے بنو عامر کے دو آدمیوں کو قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کی جو دو آزاد مسلمانوں کی دیت کے مساوی تھی۔ ۴؂

فتح مکہ کے موقع پر آپ نے اپنے خطبے میں جاہلیت کے دور سے چلے آنے والے انتقامی سلسلوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور دیت کے حوالے سے یہ عمومی قانون بیان فرمایا کہ:

الا ان دیۃ الخطا شبہ العمد ما کان بالسوط والعصا ماءۃ من الابل منہا اربعون فی بطون اولادہا. (ابوداؤد، رقم ۳۹۴۱)

''سنو، ایسے قتل خطا کی دیت جو عمد کے مشابہ ہو، یعنی جس میں چھڑی اور لاٹھی کے ذریعے سے کسی کو قتل کیا گیا ہو، سو اونٹ ہوگی اور ان میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہونی چاہییں جن کے پیٹ میں بچہ ہو۔''

اس خطبے کے مخاطب قریش کے مسلمان بھی تھے اور غیر مسلم بھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی دیت میں فرق کا کوئی ذکر نہیں فرمایا جو موقع کلام کے تناظر میں اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت ایسا کوئی فرق قائم کرنا نہیں چاہتی۔ چنانچہ فتح مکہ ہی کے موقع پر خراش بن امیہ خزاعی نے، جو مسلمان تھے، ایک مشرک کو قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر بنو خزاعہ نے اس کی دیت کے طور پر سو اونٹ ادا کیے۔ ۵؂

فتح مکہ ہی کے موقع پر خالد بن الولید نے بنو جذیمہ کے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو بھیج کر ان سب کی دیت ادا کی۔ اس واقعے میں آپ نے سیدنا علی کو وافر مال دے کر بھیجا جس سے بنو جذیمہ کے جانی اور مالی ہر طرح کے نقصان کی کھلے دل سے تلافی کی گئی، یہاں تک کہ جب تمام معاوضے ادا کرنے کے بعد بھی کچھ رقم بچ گئی تو سیدنا علی نے وہ بھی انھیں دے دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تحسین کی۔ ۶؂یہاں قرائن یہی بتاتے ہیں کہ مسلم اور غیر مسلم کی دیت کے فرق کا سوال اٹھائے بغیر اہل عرب کے عرف میں دیت کی جو مقدار رائج تھی، وہی ادا کی گئی تھی۔

ایک مقدمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت میں قتل ہونے والے ایک شخص کے قاتل کو، جو مسلمان تھا، حکم دیا کہ وہ مقتول کے بیٹے کو سو اونٹ ادا کرے۔ ۷؂

ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کے قتل پر مسلمان کی دیت کے برابر دیت ادا کی۔ ۸؂روایت کے ایک طریق میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ 'دیۃ الذمیدیۃ المسلم' ۹؂یعنی ذمی کی دیت مسلمان کے مساوی ہے۔

اسامہ بن زید کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہد کی دیت مسلمان کے برابر، یعنی ایک ہزار دینار مقرر کی۔ ۱۰؂

مذکورہ روایات میں سے بعض اگرچہ محدثین کے کڑے فنی معیار پر پورا نہیں اترتیں، تاہم ان کو بالکلیہ بے اصل بھی قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان میں تاریخی یا فقہی استدلال کا ماخذ بننے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

کتب حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں قصاص اور دیت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین فرق کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المؤمنون تکافؤ دماؤہم وہم ید علی من سواہم، یسعی بذمتہم ادناہم، لا یقتل مومن بکافر ولا ذو عہد فی عہدہ.(نسائی، رقم ۴۶۵۴)

''مسلمانوں کے خون آپس میں یکساں درجہ رکھتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ ان میں سے کم ترین آدمی بھی ان کی طرف سے کسی کو پناہ دینے کا اہل ہے۔ نہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل کیا جائے اور نہ ایسے غیر مسلم کو جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو۔''

اس مفہوم کی روایات سیدہ عائشہ، ۱۱؂ابن عباس، ۱۲؂عبد اللہ بن عمرو بن العاص، ۱۳؂عبد اللہ بن عمر ۱۴؂اور معقل بن یسار ۱۵؂رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں۔

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

عقل الکافر نصف عقل المومن. (نسائی، رقم ۴۷۲۵)

''کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے نصف ہے۔''

جمہور فقہا نے 'لا یقتل مومن بکافر' کا مفہوم یہ مراد لیا ہے کہ کسی مسلمان کو غیر مسلم کے قصاص میں قتل نہیں کیا جا سکتا، تاہم روایت کا موقع ومحل یہ مفہوم مراد لینے میں مانع ہے۔ روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فتح مکہ کے موقع پر اپنے خطبے میں ارشاد فرمائی تھی۔ ۱۶؂ہم واضح کر چکے ہیں کہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ایک مشرک مقتول کے اولیا کو اس کے مسلمان قاتل سے قصاص یا دیت لینے کا اختیار دیا تھا، بلکہ یہ عمومی قانون بھی بیان فرمایا کہ آج کے بعد اگر کسی شخص کو قتل کیا جائے گا تو اس کے اہل خانہ کو حق ہوگا کہ وہ چاہیں تو قاتل سے قصاص لے لیں اور چاہیں تو دیت قبول کر لیں۔ ظاہر ہے کہ اس موقع پر مسلمان کو غیر مسلم کے قصاص میں قتل نہ کرنے کا قانون بیان کرنا ایک تناقض قرار پاتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔

جصاص نے یہ راے ظاہر کی ہے کہ 'لا یقتل مسلم بکافر' میں کافر سے مراد وہ کافر ہے جسے کسی مسلمان نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو۔ ۱۷؂گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سرے سے مسلم اور غیر مسلم کے قصاص کے حوالے سے کوئی قانونی حکم بیان ہی نہیں فرما رہے۔ آپ دراصل فتح مکہ کے موقع پر مشرکین کے بڑی تعداد میں مسلمان ہو جانے کے تناظر میں لوگوں کو یہ تلقین کر رہے ہیں کہ ان کے مابین اس سے پہلے قتل اور قصاص کے جو معاملات چلے آ رہے تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کالعدم ہو چکے ہیں، اس لیے اگر کسی شخص نے حالت کفر میں کسی کو قتل کیا تھا تو اب اسلام قبول کرنے کے بعد اسے اس کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے۔ چنانچہ یہ بات 'الاسلام یجب ما کان قبلہ' (اسلام قبول کر لینا اس سے پہلے کے تمام گناہوں کا خاتمہ کر دیتا ہے) کے اصول کی وضاحت ہے اور آپ حالت کفر میں کیے گئے قتل کا بدلہ حالت اسلام میں لینے کی ممانعت بیان کر رہے ہیں، نہ کہ قصاص کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین عدم مساوات کا حکم۔ اس تناظر میں 'ولا ذو عہد فی عہدہ' کی تصریح سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح ایمان لانے کے بعد ایک مسلمان سے کسی ایسے قتل کا قصاص نہیں لیا جا سکتا جس کا ارتکاب اس نے حالت کفر میں کیا تھا، اسی طرح جن قبائل کے مسلمانوں کے ساتھ معاہدے ہیں، ان کے کسی فرد کو بھی زمانہ جاہلیت میں کیے جانے والے کسی قتل کی پاداش میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔

اس راے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے مختلف مسلمان گروہوں کے مابین جو معاہدہ کرایا تھا، اس میں بھی یہ بات شامل تھی کہ 'لا یقتل مومن مومنًا فی کافر'۱۸؂،یعنی یہ کہ کوئی مومن کسی مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے کہ یہاں قصاص سے متعلق کوئی قانونی حکم بیان نہیں کیا جا رہا، بلکہ ایسا نہ کرنے کا عہد لیا جا رہا ہے اور مدینہ کے قبائل کے مابین زمانۂ جاہلیت سے چلے آنے والے انتقامی سلسلوں کے تناظر میں یہ بات پوری طرح قابل فہم اور برمحل دکھائی دیتی ہے۔

مزید براں اس مشہور ومعروف خطبے میں بیان کی جانے والی ہدایت کی نوعیت اگر کسی قانونی حکم کی ہوتی تو فقہا ے صحابہ یقیناًاس سے واقف ہوتے، لیکن روایات سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ سیدنا عمر کے فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصاص کے معاملے میں ان کا اصل رجحان مسلم اور غیر مسلم کے مابین مساوات ہی کو ملحوظ رکھنے کا تھا، تاہم دیگر صحابہ کے توجہ دلانے پر انھوں نے ایک دوسرے پہلو سے دونوں میں فرق کرنے کو درست تسلیم کر لیا۔ چنانچہ ایک مقدمے میں انھوں نے ایک غیرمسلم کو قتل کرنے والے مسلمان کو قصاص میں قتل کرنا چاہا تو ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ بتائیے، اگر اس شخص نے اپنے کسی غلام کو قتل کیا ہوتا تو کیا آپ قصاص میں اسے قتل کرتے؟ اس پر سیدنا عمرخاموش ہو گئے اور قاتل پر آدھی کے بجاے پوری دیت لازم کر دی۔ ۱۹؂یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ سیدنا عمر اور حضرت ابو عبیدہ جیسے اکابر مہاجرین، جو فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ کے خطبے سے غیر حاضر رہے ہوں گے یا اس کی اطلاع ان تک نہیں پہنچی ہوگی۔ اس تناظر میں سیدنا عمر کا ایک مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص لینے کا حکم دینا اور حضرت ابوعبیدہ کا اس کے معارضے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا حوالہ دینے کے بجاے ایک قیاسی استدلال پیش کرنا بے حد ناقابل فہم ہے۔

حیرہ میں اس طرح کا واقعہ پیش آیا تو سیدنا عمر نے خط لکھا کہ قاتل کو مقتول کے ورثا کے سپرد کر دیا جائے تاکہ وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو معاف کر دیں۔ پھر بعد میں انھوں نے دوبارہ لکھا کہ اگر قاتل کو قتل نہ کیا گیا ہو تو اسے قتل نہ کرو، لیکن اسے قتل کیا جا چکا تھا۔بعض مقدمات میں انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر قاتل نے اشتعال میں آکر اتفاقیہ قتل کا ارتکاب کیا ہے تو اس سے قصاص نہ لیا جائے، لیکن اگر وہ پہلے بھی قتل کے مقدمات میں ملوث اور عادی مجرم ہے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ ۲۰؂

امام مالک کی روایت کے مطابق سیدنا عمر نے اپنے ایک سالار کو لکھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ لشکر کے کچھ لوگ دشمن سپاہیوں کو امان دے کر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرتے ہیں اور پھر انھیں قتل کر دیتے ہیں۔ بخدا، اگر مجھے کسی کے بارے میں بھی یہ پتا چلا کہ اس نے ایسا کیا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ ۲۱؂

سیدنا عثمان سے منقول فتووں میں باہم تعارض دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف ان کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ اگر مسلمان کسی یہودی یا نصرانی کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو بھی اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، ۲۲؂جبکہ دوسری طرف شام کے ایک ذمی کے قتل کا مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوا تو انھوں نے مسلمان قاتل کو قتل کرنے کا حکم دے دیا، لیکن پھر سیدنازبیر اور دیگر صحابہ کے منع کرنے پر انھوں نے مقتول کے ورثا کو ایک ہزار دینار بطور دیت دلوائے۔ ۲۳؂

سیدنا علی سے بھی، جو مذکورہ ارشاد نبوی کے راوی ہیں، متعارض آرا نقل ہوئی ہیں۔ ایک طرف ان کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ سنت یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے، ۲۴؂جبکہ دوسری طرف ان سے غیر مسلم کا قصاص لینے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ایک ذمی کے قتل کے مقدمے میں مسلمان قاتل کو قتل کرنے کا حکم دیا تو مقتول کے بھائی نے حاضر ہو کر ان سے کہا کہ میں نے اس کو معاف کر دیا ہے۔ امیر المومنین نے کہا کہ شاید ان لوگوں نے تمھیں ڈرایا دھمکایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ قاتل کو قتل کر دینے سے میرا بھائی واپس نہیں آ جائے گا، جبکہ ان لوگوں نے مجھے دیت دینے کی پیش کش کی ہے جس پر میں راضی ہوں۔ سیدنا علی نے فرمایا: اچھا پھر تم جانو۔ اس موقع پر انھوں نے فرمایا کہ 'من کانت لہ ذمتنا فدمہ کدمنا ودیتہ کدیتنا'۔ ۲۵؂یعنی جس شخص کو ہمارا ذمہ حاصل ہو، اس کا خون بھی ہمارے خون کی طرح ہے اور اس کی دیت بھی ہماری دیت کے برابر ہے۔ ایک دوسری روایت میں ان کا قول یہ نقل ہوا ہے کہ مسلمان اگر کسی یہودی یا نصرانی کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ ۲۶؂

عبداللہ بن مسعود سے بھی بعض مقدمات میں مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص لینا منقول ہے۔۲۷؂

دیت کے معاملے میں بھی صحابہ اور تابعین کی آرا اور فتاویٰ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غیر مسلم کی دیت کی مقدارکے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ کوئی سنت یا آپ کا کوئی ارشاد ان کے پیش نظر نہیں ہے اور وہ قیاس واجتہاد سے کام لیتے ہوئے راے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر سے بعض روایات میں اہل کتاب کی پوری دیت اور بعض میں چار ہزار درہم دلوانے کا ذکر ملتا ہے۔۲۸؂ابو موسیٰ اشعری نے خط لکھ کر ان سے دریافت کیا کہ مسلمان اگرمجوسی کو قتل کر دے تو کیا کیا جائے؟ سیدنا عمر نے جواب میں لکھا کہ مجوسیوں کی حیثیت غلاموں کی سی ہے، اس لیے تمھارے ہاں جو قیمت ایک غلام کی ہے، وہی دیت کے طور پر ادا کی جائے۔ ابو موسیٰ نے انھیں لکھا کہ غلام کی قیمت آٹھ سو درہم ہے تو سیدنا عمر نے مجوسی کی دیت یہی مقرر کر دی۔ ۲۹؂صحابہ اور تابعین کے بیش تر آثار میں مجوسی کی دیت کی مقدار آٹھ سو درہم ہی بیان ہوئی ہے، تاہم ابن مسعود مجوسی کے لیے پوری دیت کے قائل تھے اور سیدنا علی سے بھی ایک روایت میں یہی بات نقل ہوئی ہے۔ ۳۰؂

سیدنا عثمان سے یہودی اور نصرانی کی دیت چار ہزا ر درہم دلوانا منقول ہے، لیکن خود ان سے اور ان کے علاوہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، اور سیدنا علی سے یہ راے بھی منقول ہے کہ معاہد غیر مسلم کی دیت مسلمان کے مساوی ہے۔ ۳۱؂

متعدد تابعین کے ہاں بھی اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے ادوار میں غیر مسلموں کی دیت پوری ہی ادا کی جاتی تھی۔ چنانچہ ابن شہاب زہری کا بیان ہے کہ یہودی، نصرانی اور مجوسی کی دیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر سیدنا عثمان کے عہد تک مسلمان کے برابر ہی ادا کی جاتی تھی، لیکن امیر معاویہ نے نصف دیت مقتول کے ورثا کو ادا کرنے، جبکہ باقی نصف بیت المال میں جمع کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا۔ ۳۲؂اسی طرح یعقوب بن عتبہ، صالح اور اسماعیل بن محمد بیان کرتے ہیں کہ معاہد غیر مسلموں کی دیت مسلمانوں کے برابر ادا کیے جانے کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ ۳۳؂سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ پہلے دور میں مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم دی جاتی تھی، جبکہ یہودی اور نصرانی مقتول کی دیت اسی مقدار کے مطابق ادا کی جاتی تھی جو مسلمانوں کے مابین رائج تھی۔ ۳۴؂

یقیناًان آثار سے اس بات کی نفی لازم نہیں آتی کہ اس سے مختلف مقداریں ادا کرنے کا طریقہ بھی موجود رہا ہو، لیکن پوری دیت ادا کرنے کا طریقہ ان سے، بہرحال ثابت ہوتا ہے۔

صحابہ اور تابعین کے فتاویٰ میں پائے جانے والے مذکورہ اختلاف اور تنوع کے تناظر میں یہ قرار دینا مشکل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص اور دیت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین امتیاز کو ایک 'سنت' کی حیثیت سے جاری کیا ہوگا یا قانونی طور پر اس کی پابندی لازم قرار دی ہوگی۔ چنانچہ فقہاے احناف نے عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی زیر بحث روایت کو دیگر دلائل کے منافی ہونے کی بنیاد پر ثابت تسلیم نہیں کیا۔ ۳۵؂جصاص نے اس روایت کے بارے میں بجاطور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر آپ نے یہ بات فتح مکہ کے موقع پر اپنے خطبے میں ارشاد فرمائی ہوتی تو اکابر صحابہ اور تابعین کو پوری طرح اس سے واقف ہونا چاہیے تھا۔ امام شافعی نے بھی اس ارشاد کو عمرو بن شعیب سے منقول ہونے کی بنا پر قبول نہیں کیا اور اس کے بجاے یہودی اور نصرانی کی دیت کے ایک تہائی ہونے کے حق میں سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کے آثار کا حوالہ دیا ہے۔ ۳۶؂

روایت کی صحت کو ثابت ماننے کی صورت میں یہ امکان قابل غور ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر غیر مسلموں کی دیت مسلمانوں کے نصف مقرر کرنے کے بجاے کسی مخصوص مقدمے میں بعض اضافی وجوہ سے اس کا فیصلہ فرمایا ہو۔ بعض روایات میں ہے کہ جب ایک سریے میں صحابہ نے کچھ لوگوں کو اسلام قبول کرنے کے باوجود قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولوں کے لیے نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ ۳۷؂اصولی طور پر ان مقتولوں کی پوری دیت ادا کی جانی چاہیے تھی، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص صورت حال کے تناظر میں قاتلین کو آدھی دیت معاف کر دی۔ جن مقدمات میں آپ نے غیر مسلم مقتولوں کے لیے آدھی دیت کا فیصلہ فرمایا، اگر وہ بھی اسی نوعیت کے تھے تو ظاہر ہے کہ اسے عمومی اصول کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

امام شافعی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات کے علاوہ مسلم اور غیر مسلم کے مابین امتیاز کی ایک اصولی اساس بھی بیان کی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۲۸میں اہل ذمہ پر 'جزیہ' عائد کرنے کا حکم دیا ہے جو ان کی محکومانہ حیثیت کی ایک علامت ہے اور اس کی رو سے وہ قانونی ومعاشرتی امور میں مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔۳۸؂ابن حزم نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین قانونی ومعاشرتی امتیاز کے بعض دیگر مظاہر، مثلاً انھیں سلام کرنے میں پہل سے گریز کرنے اور راستے میں انھیں تنگ جگہ پر چلنے پر مجبور کرنے، ۳۹؂ان کی گردنوں پر علامتی مہر لگانے،۴۰؂مسلمانوں کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لیے مخصوص لباس اور سواریوں کو ان کے لیے ممنوع قرار دینے ۴۱؂اور مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی گواہی قبول نہ کرنے وغیرہ کو بھی مذکورہ اصول ہی کے فروع قرار دیا ہے۔ ۴۲؂

ہمارے نزدیک اس استدلال میں وزن پایا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاملے کے ایک اور پہلو کو ملحوظ رکھنا بھی بے حد اہم ہے۔ کلاسیکی فقہااہل ذمہ کے حقوق واختیارات سے متعلق بعض جزوی اختلافات سے قطع نظر، اصولی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلق کی آئیڈیل صورت عقد ذمہ ہی ہے جس میں ان پر جزیہ کی ادائیگی اور دیگر شرائط کی پابندی لازم ہو اور وہ کفر واسلام کے اعتقادی تناظر میں اہل اسلام کے محکوم اور ان کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں۔ فقہا کے نزدیک یہ اصول تمام غیر مسلموں پر لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ جنگ کے نتیجے میں مفتوح ہوئے ہوں یا صلح کے کسی معاہدے کے تحت مسلمانوں کے زیرنگیں آئے ہوں یا دار الحرب کی شہریت سے دست بردار ہو کر دار الاسلام میں قیام پذیر ہونا چاہتے ہوں، تاہم معاصر فقہی زاویۂ نگاہ میں اس موقف سے اتفاق کو ضروری نہیں سمجھا گیا اور یہ نقطۂ نظر عام ہے کہ جدید اسلامی ریاستوں میں غیر مسلموں کی حیثیت 'اہل ذمہ' کی نہیں ہے۔ چنانچہ ان پر جزیہ عائد کرنے یا روایتی فقہی ذخیرے میں اہل ذمہ کے لیے مقرر کردہ امتیازی پابندیوں اور علامات کو نافذ کرنے پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔ ۴۳؂

یہ زاویۂ نگاہ قابل لحاظ فکری بنیادیں رکھتا ہے، لیکن اس کو اختیار کرنے والے اہل فکر کی تحریریں اس معاملے میں بالعموم واضح نہیں کہ ان کے نزدیک روایتی فقہی تصور سے اختلاف کی اصل بنیاد کیا ہے۔ آیا وہ اسے اصولی طور پر غلط اور بے بنیاد سمجھتے ہیں یا محض معاصر بین الاقوامی سیاسی وقانونی ڈھانچے میں اسے ناقابل عمل پاتے ہوئے متبادل راستہ تجویز کر رہے ہیں؟ ایک نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ عقیدہ ومذہب کی بنیاد پر اسلامی ریاست کے باشندوں کے مدنی حقوق میں امتیاز کا رویہ مخصوص تاریخی اسباب کا نتیجہ تھا اور سیدنا عمر نے اس وقت کی معاصر اقوام میں محکوم ومفتوح قوموں کے لیے رائج قانونی نظام ہی کو اہل ذمہ پرنافذ کر دیا تھا، ۴۴؂تاہم یہ بات درست دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ 'اہل ذمہ' اور ان کی مخصوص محکومانہ حیثیت کے فقہی تصور کی اساسات قرآن وسنت کے نصوص میں پائی جاتی ہیں اور اگر جدید معاشرے میں اس کا تسلسل ضروری نہیں تو بھی شرعی و عقلی طور پر اس تصور کی توجیہ تاریخی نہیں، بلکہ مذہبی بنیادوں پر کی جانی چاہیے۔

اس ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی کانقطۂ نظر قابل غور ہے۔ ان کی راے میں سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۲۸میں اہل کتاب کو محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کرنے کا حکم، جو اہل ذمہ سے متعلق روایتی فقہی تصور کی اصل بنیاد ہے، شریعت کا کوئی ابدی قانو ن نہیں، بلکہ اس کا تعلق رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص سنت سے ہے۔ اس کی تفصیل وہ اس طرح کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے منصب رسالت پر فائز کوئی ہستی جب کسی قوم میں مبعوث کر دی جاتی ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کی جاتی ہے کہ رسول اور اس کے پیروکار اپنے مخالفوں پر، بہرحال غالب آ کر رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرۂ عرب میں مبعوث کیا گیا تو اس سنت الٰہی کے مطابق یہ دوٹوک اعلان کر دیا گیا کہ آپ پر ایمان نہ لانے والوں کے لیے مغلوبیت اور محکومیت مقدر ہو چکی ہے۔ اس وعدے کا عملی ظہور جزیرۂ عرب کی حد تک تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہو گیا اور غلبۂ دین کی جدوجہد کے آخری مرحلے میں دین حق کے غلبہ کی دو صورتیں واضح طور پر متعین کر دی گئیں۔ مشرکین کے لیے تو لازم کیا گیا کہ وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں، ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے گا، جبکہ اہل کتاب سے کہا گیا کہ وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی محکومی اور زیردستی قبول کر لیں۔ آپ کے بعد جزیرۂ عرب سے باہر روم، فارس اور مصر کی سلطنتوں تک اس غلبے کی توسیع کی ذمہ داری صحابۂ کرام پر عائدکی گئی جنھیں اس مقصد کے لیے 'شہادت علی الناس' کے منصب پر فائز کیا گیا تھا۔

غامدی صاحب کے نزدیک قانون رسالت کے تحت رسول اور اس کے پیروکاروں کا یہ غلبہ پوری دنیا کی قوموں پر نہیں، بلکہ ان مخاطبین پر ہوتا ہے جن پر اتمام حجت کیا جا چکا ہو۔ ان اقوام پر مذکورہ سنت الٰہی کا نفاذ چونکہ خدا کے براہ راست اذن کے تحت کیا جاتا ہے اور اس میں انسانوں حتیٰ کہ پیغمبروں کے اجتہادی فیصلے کا بھی کوئی دخل نہیں ہوتا، اس لیے اسلامی تاریخ کے صدر اول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں نے جو جہاد کیا، وہ غلبۂ دین کے اسی وعدے کی تکمیل کے لیے اور انھی اقوام تک محدود تھا جن کے خلاف اقدام کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی اور جن کی تعیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سربراہوں کو خطوط لکھ کر، کر دی تھی۔ جزیرۂ عرب اور روم وفارس کی سلطنتوں پر دین حق کا غلبہ قائم ہو جانے اور ان علاقوں کے غیر مسلم باشندوں کے محکوم بنا لیے جانے کا یہ عمل تاریخ میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے تکوینی طو رپر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ یہ شریعت کا کوئی ابدی اور آفاقی حکم نہیں تھا اور نہ اس کا ہدف پوری دنیا کے کفار کو مسلمانوں کا محکوم بنانا تھا، اس لیے اس کے بعد قیامت تک کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد عمومی انسانی اخلاقیات ہی پر رکھی جائے گی۔ ۴۵؂

اگر غیر مسلموں کو محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کرنے کو شریعت کے عمومی قانون کے بجاے قانون رسالت پر مبنی قرار دینے کا مذکورہ نقطۂ نظر درست ہے تو اس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ جو غیر مسلم قانون رسالت کے تحت 'جزیہ' عائد کرنے کے مذکورہ حکم کے دائرۂ اطلاق سے باہر ہیں، وہ اپنے انسانی اور قانونی حقوق کے لحاظ سے مسلمانوں کے مساوی تصور کیے جائیں گے اور شافعی فقہا کے ایک گروہ نے کم از کم اصولی طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ جن کفار تک اسلام کی باقاعدہ دعوت نہ پہنچی ہو، ان کی جانیں محفوظ ہیں اور اگر مسلمان انھیں قتل کر دیں تو ان کی دیت ادا کی جائے گی اور اس کی مقدار مسلمانوں کی دیت کے مساوی ہوگی۔ ماوردی اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انسانوں کی جان اصل میں محفوظ اور محترم ہے، جبکہ مباح الدم انھی کفارکو قرار دیا جا سکتا ہے جن کی طرف سے اسلام کے خلاف معاندت کا رویہ ظاہر ہو جائے۔ ۴۶؂

فقہا بالعموم کسی غیر مسلم تک اسلام کی دعوت پہنچ جانے اور اس کے اسلام قبول نہ کرنے کو ہی اسلام کے خلاف محاربہ اور عناد کے ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ یہ بات کلاسیکی فقہی دور میں اپنا ایک محل رکھتی تھی، تاہم ''ارتداد کی سزا'' کے زیر عنوان ہم واضح کریں گے کہ اتمام حجت کے تحقق میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور زمان ومکان کا تغیر بھی اتمام حجت کی کیفیت پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے اگر دور جدید کے اہل علم اتمام حجت پر مبنی قوانین واحکام کے نفاذ کو معاصر تناظر میں غیرموزوں محسوس کرتے ہیں تو یہ زاویۂ نگاہ بے بنیاد نہیں، بلکہ فقہی وشرعی اصولوں کے مطابق اورہر لحاظ سے توجہ کا مستحق ہے۔

___________

۱؂طبری، تہذیب الآثار، مسند ابن عباس، رقم ۴۲۔

۲؂عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب بنو خزاعہ کی طرف سے بنوہذیل کے مشرک کو قتل کرنے کا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ 'لو کنت قاتلًا مومنًا بکافر لقتلتہ بہ' (طبرانی، المعجم الکبیر۱۸/ ۱۱۰۔ مسند البزار، رقم ۳۵۹۴۔ سنن الدارقطنی ۳/ ۱۳۷) یعنی اگر میں کسی کافر کے قصاص میں کسی مومن کو قتل کرتا تو اس شخص کو قتل کر دیتا، تاہم یہ روایت متن میں مذکور ان مستند روایات کے منافی ہے جن کے مطابق آپ نے اس موقع پر بنوہذیل کے مشرک مقتول کی نہ صرف پوری دیت دلوائی، بلکہ یہ اعلان بھی فرمایا کہ اب اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو مقتول کے اولیا کو قاتل سے قصاص لینے کاحق حاصل ہوگا۔

۳؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۶۹۵۔ ۱۵۷۰۳۔

۴؂ترمذی، رقم۱۳۲۴۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم۱۶۱۲۷، ۱۶۱۲۹۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۴/ ۱۳۹۔

۵؂طبری، تہذیب الآثار، مسند ابن عباس، رقم ۴۲۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۵/ ۷۹۔ ابن حجر، الاصابہ ۱/ ۵۰۶۔

۶؂ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۵/ ۹۶۔

۷؂بیہقی، السنن الکبریٰ ،رقم۱۶۲۶۷۔ جصاص، احکام القرآن ۳/ ۲۰۵۔

۸؂جصاص، احکام القرآن۳/ ۲۱۳۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم۱۶۱۳۰۔

۹؂المعجم الاوسط، رقم ۷۹۱۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہد کی دیت کو مسلمان کی دیت کے نصف قرار دینا بھی نقل ہوا ہے، (المعجم الاوسط، رقم ۷۵۸۲) اس طرح ابن عمر کی یہ دونوں روایتیں باہم متعارض قرار پاتی ہیں۔

۱۰؂ابن ابی عاصم، الدیات ۱/ ۴۷۔

۱۱؂سنن الدارقطنی۳/ ۱۳۱۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۴۷۵۷۔

۱۲؂ابن ماجہ، رقم۲۶۵۰۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۴۷۵۔

۱۳؂ابو داؤد، رقم ۲۲۷۴۔ مسند احمد، رقم۶۴۰۳۔

۱۴؂صحیح ابن حبان، رقم۵۹۹۶۔

۱۵؂طبرانی، المعجم الکبیر ۲۰/ ۲۰۶۔

۱۶؂مسند احمد، رقم ۶۴۰۵۔

۱۷؂احکام القرآن۱/ ۱۷۶۔

۱۸؂ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۳/ ۳۳۔

۱۹؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۷۰۵۔

۲۰؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۷۰۷۔

۲۱؂الشافعی، الام۷/ ۲۴۱۔

۲۲؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۷۵۔

۲۳؂الشیبانی، الحجۃ علیٰ اہل المدینہ ۴/ ۳۵۷۔

۲۴؂سنن الدارقطنی ۳/ ۱۳۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۷۷۔

۲۵؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۵۷۱۲۔

۲۶؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۶۱۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۴۹۴۔

۲۷؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۶۰۔ ۲۷۴۷۷۔ ابن ابی عاصم، الدیات ۱/ ۷۰۔

۲۸؂ابو یوسف، کتاب الآثار، رقم ۹۷۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۷۴۵۴۔بیہقی ،السنن الکبریٰ،رقم ۱۵۷۰۵۔

۲۹؂مصنف عبد الرزاق،رقم ۱۸۴۸۴۔

۳۰؂مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۸۴۹۴،۱۸۴۹۷۔

۳۱؂ابو یوسف، کتاب الآثار، رقم ۹۷۲۔ الشیبانی، الحجۃ علیٰ اہل المدینہ ۴/ ۳۵۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۴۴۔ ۲۷۴۵۶۔ طبرانی، المعجم الکبیر،رقم ۹۷۳۹۔

۳۲؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۴۹۱۔

۳۳؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۴۹۸۔

۳۴؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۵۷۔

۳۵؂جصاص، احکام القرآن ۳/ ۲۱۴۔ سرخسی، المبسوط ۲۶/ ۵۸۔

۳۶؂الشافعی، الام ۴/ ۲۸۹، ۶/ ۱۰۵، ۷/ ۳۲۴۔

۳۷؂ترمذی، رقم ۱۵۳۰۔

۳۸؂الشافعی، الام ۷/ ۳۲۱۔

۳۹؂مسلم، رقم ۴۰۳۰۔

۴۰؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۸۴۹۸۔

۴۱؂بیہقی، رقم ۱۸۴۹۸۔

۴۲؂ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام ۱/ ۴۸۹۔

۴۳؂ابو الاعلیٰ مودودی، رسائل ومسائل ۴/۲۴۶۔ امین احسن اصلاحی، اسلامی ریاست ۲۲۱۔ ۲۲۷۔ نجات اللہ صدیقی، اسلام، معاشیات اور ادب ۴۱۹۔ سید حامد عبد الرحمن الکاف، ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور، دسمبر ۲۰۰۲،۶۵۔ ۶۶۔ یوسف القرضاوی، فقہ الزکوٰۃ، مترجم: ساجد الرحمن صدیقی ۱/ ۱۳۶۔ ۱۳۸۔

۴۴؂سید سلیمان ندوی، ''کیا اسلام میں تجدید کی ضرورت ہے؟''، مشمولہ اسلامی تہذیب وثقافت ۱/ ۱۰۴، خدا بخش اورئنٹل پبلک لائبریری، پٹنہ۔

۴۵؂جاوید احمد غامدی، قانون جہاد ۳۲۔۳۸۔

۴۶؂الحاوی الکبیر ۱۲/ ۳۱۳۔

__________________




Articles by this author