رمی جمار

رمی جمار


عن جَابِرٍ قال رَمَى رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يوم النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدُ فإذا زَالَتْ الشَّمْسُ. (مسلم، رقم 3142)

حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن چاشت کے وقت جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں سورج کے ڈھلنے کے بعد کنکریاں ماریں۔

عن بن عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّهُ كان يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ على إِثْرِ كل حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حتى يُسْهِلَ فَيَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فيسهل وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ من بَطْنِ الْوَادِي ولا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فيقول هَكَذَا رأيت النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. (بخارى، رقم 1751)

حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر'الله اکبر' کہتے تھے، پھر آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے اور اسی طرح دیر تک کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے۔ پھر جمرۂ وسطیٰ کی رمی کرتے، پھر بائیں طرف بڑھتے اور ایک ہموار زمین پر قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے، یہاں بھی دیر تک کھڑے کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے رہتے، اس کے بعد والے نشیب سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے، اس کے بعد آپ وہاں نہ ٹهہرتے اور واپس چلے آتے۔ آپ (عبدالله بن عمر رضى الله عنہ ) كہتے تهے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عن سَالِمِ بن عبد اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بن عُمَرَ رضي الله عنهما كان يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ثُمَّ يُكَبِّرُ على إِثْرِ كل حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُسْهِلُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى كَذَلِكَ فَيَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ من بَطْنِ الْوَادِي ولا يَقِفُ عِنْدَهَا وَيَقُولُ هَكَذَا رأيت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ. (بخارى، رقم 1752)

حضرت سالم بن عبداللہ سے روايت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر 'الله اکبر' کہتے تھے۔اس کے بعد آگے بڑھتے، ایک نرم ہموار زمین پر دونوں ہاتھ اٹها كر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتےاور دعائیں کرتے رہتے، پھر جمرہٴ وسطی کی رمی میں بھی اسی طرح کرتے اور بائیں طرف آگے بڑھ کر ایک نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتےاور بہت دیر تک اسی طرح کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہتے۔ پھر بطن وادی سے جمرہٴ عقبہ کی رمی سے کرتے، لیکن آپ وہاں ٹھہرتے نہیں تھے اور آپ يہ كہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

عن الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان إذا رَمَى الْجَمْرَةَ التي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وكان يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ التي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كل حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ولا يَقِفُ عِنْدَهَا. (بخارى، رقم 1753)

امام زہری رحمہ الله سے روايت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرہ کی رمی کرتے جو مِنٰی کی مسجد کے نزدیک ہے تو سات کنکریوں سے رمی كيا کرتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر آگے بڑھتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور دعائیں کرتے تھے، یہاں آپ (صلى الله عليہ وسلم) بہت دیر تک کھڑے رہتے تھے، پھر جمرہٴ ثانیہ (وسطی)کے پاس آتے، یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ 'الله اکبر' کہتے، پھر بائیں طرف نالے کے قریب اتر جاتے اور وہاں بھی قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے، پھر جمرۂ عقبہ کے پاس آتے اور یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ 'الله اکبر' کہتے، اس کے بعد واپس ہو جاتے، یہاں آپ (دعا کے لیے) نہيں ٹھہرتے تھے۔

عن جَابِرِ بن عبد اللَّهِ --- أتى (رسول الله صلى الله عليه وسلم) بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى التي تَخْرُجُ على الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حتى أتى الْجَمْرَةَ التي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مع كل حَصَاةٍ منها مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى من بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إلى الْمَنْحَرِ. (مسلم، رقم 2950)

حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے روايت ہے كہ...(رسول الله صلى الله عليہ وسلم) وادی محسر میں پہنچے، يہاں آپ نے اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور اس درمیانی راستہ سے چلنا شروع کیا جو جمرۂ کبری کی طرف جا نکلتا ہے، یہاں تک آپ اس جمره تك پہنچ گئے جو درخت کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر 'الله اکبر' كہا، اور آپ نے ہر کنکری وادی ميں سے شہادت والی انگلی کے اشارہ سے ماری، جیسے كہ چٹکی سے پکڑ کر کوئی چیز پھینکی جاتی ہے، پھر آپ قربان گاہ کی طرف چلے گئے ۔

عَنْ عبدِ الرَّحْمٰنِ بنِ يَزِيدَ أَنَّهُ كان مع عبد اللَّهِ بن مَسْعُودٍ فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِي فأستعرضها فَرَمَاهَا من بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مع كل حَصَاةٍ. (مسلم، رقم 3132)

حضرت عبدالرحمٰن بن یزید سے روايت ہے کہ وہ عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تھے ، چنانچہ وہ جب جمرہٴ عقبہ پر آئے تو اس کے سامنے بطن وادی سے جمرہٴ عقبہ پر سات کنکریاں، ہر کنکری کے ساتھ 'اَللهُ أَکْبَرُ' کہتے ہوئے ماريں۔

________




Articles by this author