صحابہ کا جہاد (حصہ اول)

صحابہ کا جہاد (حصہ اول)


اب صحابہ کے جہاد کے معاملے کو دیکھیے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ نے روم وفارس کی سلطنتوں کے خلاف جو جنگی اقدامات کیے، جہاد وقتال کے احکام کو محض دفع فساد تک محدود قرار دینے والے اہل علم نے ان کی تشریح بھی اسی تناظر میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ یہ اصل میں ''اقدامی دفاع'' پر مبنی جنگ (war pre-emptive) تھی جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ چونکہ ان سلطنتوں کی طرف سے یہ خطرہ موجود تھا کہ وہ اپنے پڑوس میں قائم ہونے والی ایک ابھرتی ہوئی طاقت کو توڑنے یا اس کو کمزور کرنے کے لیے خفیہ یا علانیہ اقدامات کریں گی، اس لیے صحابہ نے حفظ ما تقدم کے طور پر ان کی جانب سے کسی عملی اقدام سے پہلے ہی آگے بڑھ کر ان کی قوت کو توڑ دیا اور اس طرح جزیرۂ عرب کو اس کے دونوں اطراف میں موجود دشمن کے خطرے سے محفوظ کر دیا۱؂۔ اس توجیہ کی رو سے اس اقدام کی اساس اور جذبہ محرکہ کوئی مذہبی جذبہ یا حکم نہیں، بلکہ معروضی حالات میں محض ایک سیاسی ضرورت تھی۔ اسی نوع کی ایک رائے یہ ہے کہ جزیرۂ عرب سے باہر ان جنگوں کا آغاز دراصل عرب کے دور دراز علاقوں میں یہود ونصاریٰ اور مشرکین کی انگیخت سے پیدا ہونے والی بغاوتوں کو کچلنے سے ہوا تھا جو بڑھتابڑھتا ان علاقوں کی فتح کو محیط ہو گیا، کیونکہ مسلمانوں کے لیے یک طرفہ طور پر جنگ بند کرنا ممکن نہیں تھا۲؂۔ اسی طرح ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ صحابہ کرام کے جنگی اقدامات دراصل اسلام کی اشاعت اور دعوت وتبلیغ کی راہ میں حائل سیاسی رکاوٹوں کو دور کرنے کے اصول پر مبنی تھے۔ مولانا مودودی نے اس نقطہ نظر کی ترجمانی یوں کی ہے:

''ان ممالک میں شخصی حکومتیں قائم تھیں اور مستبد فرمانروا اقتدار پر قابض تھے۔ ان کا برسر اقتدار ہونا ہی اشاعت اسلام کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ ان کی موجودگی میں نہ تو اس امر کا امکان تھا کہ دعوت عام باشندگان ملک میں پھیلائی جا سکے اور نہ عوام کو اتنی آزادئ رائے اور آزادئ عمل حاصل تھی کہ اگر وہ اس دعوت حق کو پائیں تو اسے قبول کر کے اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ ان حالات میں حکمرانوں سے نمٹے بغیر نہ اسلام کی اشاعت کماحقہ سرانجام پا سکتی تھی اور نہ اس کے نتائج وثمرات رونما ہو سکتے تھے۔'' (رسائل ومسائل ۴/ ۱۹۰۔۱۹۲)

مولانا مودودی ہی کے ہاں ایک دوسرا رجحان یہ دکھائی دیتا ہے کہ صحابہ کے ان اقدامات کا مقصد درحقیقت دین ومذہب کا اختلاف یا حکومت وسلطنت کی توسیع نہیں بلکہ ان ممالک کے معاشرتی وسیاسی بگاڑ اور اخلاقی فساد کی اصلاح اور وہاں کے مجبور ومقہور عوام کو جابر حکمرانوں کے استبداد اور بالائی طبقات کے ظلم وستم سے نجات دلانا تھا ، چنانچہ انھوں نے ان اقدامات کو 'مصلحانہ جنگ' کا نام دیا ہے۳؂۔

تاہم مذکورہ تمام توجیہات کے بالکل برعکس حدیث وسیرت کے ذخیرے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام کے ان اقدامات کی شرعی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ خطوط تھے جو آپ نے جزیرۂ عرب اور اس کے گرد ونواح کی سلطنتوں کے سربراہوں کے نام لکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خطوط کو ہمارے اہل سیرت بالعموم 'دعوتی خطوط' کا عنوان دیتے ہیں، حالانکہ ان کے مضمون اور پیش وعقب کے حالات سے واضح ہے کہ ان میں مخاطبین کو محض سادہ طور پر اسلام کی دعوت نہیں بلکہ یہ وارننگ دی گئی تھی کہ ان کے لیے سلامتی اور بقا کا راستہ یہی ہے کہ وہ اس دعوت کو قبول کر لیں، بصورت دیگر انھیں اپنی حکومت واقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ مثال کے طور پر قیصر روم کے نام خط میں آپ نے لکھا: 'اسلم تسلم' ۔ ۴؂

نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

ان قولہ ''اسلم تسلم'' فی نہایۃ من الاختصار وغایۃ من الاعجاز والبلاغۃ وجمع المعانی مع ما فیہ من بدیع التجنیس وشمولہ لسلامتہ من خزی الدنیا بالحرب والسبی والقتل واخذ الدیار والاموال ومن عذاب الآخرۃ. (شرح مسلم، ص ۱۱۴۴)

''اسلم تسلم کا جملہ بے حد مختصر لیکن غایت درجہ بلاغت واعجاز کا حامل اور متنوع معانی پر محیط ہے۔ اس میں 'تجنیس' کی صنعت بھی بہت عمدہ طریقے سے استعمال ہوئی ہے اور 'تسلم' کے لفظ میں جنگ، قید، قتل اور اموال ودیار کے چھین لیے جانے کی صورت میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب، دونوں سے بچاؤ کا مفہوم شامل ہے۔''

خود قیصر روم نے آپ کے خط کی یہی تعبیر کی۔ چنانچہ اس نے اپنے مشیروں کو بلا کر کہا:

یا معشر الروم ہل لکم فی الفلاح والرشد وان یثبت ملککم فتبایعوا ہذا النبی؟(بخاری، رقم ۷)

''اے جماعت روم! کیا تم اس بات کی خواہش رکھتے ہو کہ تمہیں کامیابی اور ہدایت نصیب ہو اور تمہاری سلطنت قائم رہے اور تم اس نبی کی پیروی قبول کر لو؟''

امام ابو عبید کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خط میں قیصر کو اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں جزیہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ آپ نے فرمایا:

انی ادعوک الی الاسلام فان اسلمت فلک ما للمسلمین وعلیک ما علیہم فان لم تدخل فی الاسلام فاعط الجزیۃ فان اللہ تبارک وتعالی یقول: قاتلوا الذین ..... حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون والا فلا تحل بین الفلاحین وبین الاسلام ان یدخلوا فیہ او یعطوا الجزیۃ. (الاموال، ۹۳)

''میں تمھیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر اسلام لے آؤ گے تو تمھارے حقوق وفرائض وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور اگر اسلام میں داخل نہ ہونا چاہو تو پھر جزیہ ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اہل کتاب سے قتال کرو .... یہاں تک کہ وہ زیردست ہو کر پستی کی حالت میں جزیہ ادا کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اور اگر یہ بھی نہیں تو پھر اس بات میں رکاوٹ نہ ڈالو کہ اہل روم اسلام میں داخل ہو جائیں یا جزیہ ادا کریں۔''

ابن کثیر کی روایت ہے:

قال: قد نزل ہذا الرجل حیث رایتم وقد ارسل الی یدعونی الی ثلاث خصال: یدعونی ان اتبعہ علی دینہ او علی ان نعطیہ مالنا علی ارضنا والارض ارضنا او نلقی الیہ الحرب.(السیرۃ النبویۃ ۴/ ۲۷)

''اس نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ یہ آدمی کس مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس نے مجھے خط لکھا ہے اور تین میں سے ایک بات قبول کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ یا تو میں اس کے دین کی پیروی اختیار کر لوں یا ہم اسے مال (یعنی خراج) ادا کریں جبکہ یہ سرزمین ہمارے ہی پاس رہے گی اور یا پھر اس کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔''

شاہِ غسان حارث بن ابی شمر کو آپ کا خط ملا تو اس نے بھی اسے اپنے اقتدار کو چیلنج قرار دیتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا:

من ینتزع منی ملکی؟ انا سائر الیہ ولو کان بالیمن جئتہ. (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۱/ ۲۶۱)

''مجھ سے میری بادشاہت کون چھین سکتا ہے؟ میں (اپنے لشکر کے ساتھ) اس کی طرف روانہ ہوں گا اور اگر وہ یمن میں ہوا تو میں وہاں بھی اس کے پیچھے پہنچوں گا۔''

شاہِ مصر مقوقس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے جواب میں قبول اسلام کے بجائے گول مول جواب دے کر معاملے کو ٹالنا چاہتا تو رسول اللہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

ضن الخبیث بملکہ ولا بقاء لملکہ. (الطبقات الکبریٰ ۱/ ۲۶۰، ۲۶۱)

''اس خبیث نے اپنی بادشاہت کا لالچ کیا، لیکن اس کی بادشاہت پھر بھی باقی نہیں رہے گی۔''

خسرو پرویز شاہ ایران نے آپ کا نامہ مبارک پڑھنے کے بعد اسے پھاڑ دیا اور یمن کے حاکم کو لکھا کہ:

لتکفینی رجلا خرج بارضک یدعونی الی دینہ او اودی الجزیۃ. (مجمع الزوائد ۸/ ۲۳۷)

''اس شخص سے نمٹنا تمھارے ذمے ہے جو تمھاری سرزمین میں ظاہر ہوا ہے اور اس نے مجھے دعوت دی ہے کہ میں اس کا دین قبول کر لوں یا اس کو جزیہ ادا کروں۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:

اما ھولاء فیمزقون واما ھولاء فسیکون لہم بقیۃ. (ذہبی، تاریخ الاسلام، المغازی، ص ۳۹۸)

''ایرانیوں کی سلطنت کے تو پرزے اڑ جائیں گے، البتہ رومیوں کا کچھ اقتدار باقی رہے گا۔''

یمامہ کے حاکم ہوذہ بن علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت اسلام کا یہی مطلب سمجھتے ہوئے جواب میں حکومت واقتدار میں شرکت کی شرط رکھی تو آپ نے فرمایا:

لو سالنی سیابۃ من الارض ما فعلت باد وباد ما فی یدیہ. (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ۱/ ۲۶۲)

''اگر وہ مجھ سے سرزمین عرب کی ایک کچی کھجور بھی مانگے تو میں نہیں دوں گا۔ اس کا اور اس کے اقتدار کا انجام بربادی ہے۔''

ہوذہ کی وفات کے بعد مسیلمہ یمامہ کا حاکم بنا تو آپ نے اسے بھی اسلام کی دعوت دی۔ اس نے جواب میں نبوت کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ شراکت اقتدار کا سابقہ مطالبہ دہرایا تو آپ نے اس کو لکھا:

بلغنی کتابک الکذب والافتراء علی اللہ وان الارض للہ یورثہا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین.(الطبقات الکبریٰ ۱/ ۲۷۳)

''مجھے تمہارا خط ملا جو سراسر جھوٹ اور اللہ کے خلاف بہتان ہے۔ یہ سرزمین اللہ کی ہے اور وہ جس کو چاہے گا، اس کا مالک بنائے گا۔ انجام کار کامیابی متقین ہی کو ملے گی۔''

اس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ خطوط دراصل 'الا تعلوا علی واتونی مسلمین' (میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ) کے لہجے میں لکھے گئے تھے اور ان میں مخاطبین کو محض اسلام کی دعوت نہیں گئی تھی، بلکہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کرنے یا بصورت دیگر اپنی حکومت واقتدار سے ہاتھ دھونے کی دھمکی دی گئی تھی۔ گویا ان خطوط کی حیثیت 'اتمامِ حجت' کی تھی جس کے بعد ان اقوام کے خلاف جنگی اقدام کی اجازت صحابہ کو حاصل ہو گئی تھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر صحابہ کو یہ بشارت دی کہ وہ ان سلطنتوں کو فتح کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے خزانے ان کے تصرف میں دے دے گا۔

مکہ مکرمہ میں جب ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا چاہتے ہیں تو آپ نے فرمایا:

انی ارید منہم کلمۃ واحدۃ تدین لہم بہا العرب وتودی الیہم العجم الجزیۃ.(ترمذی، رقم ۳۱۵۶)

''میں ان سے ایک ہی بات کا مطالبہ کرتا ہوں جس کو مان لینے کے بعد عرب ان کے تابع ہو جائیں گے اور عجم ان کو جزیہ ادا کریں گے۔''

ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قال: ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقہا ومغاربہا وان امتی سیبلغ ملکہا ما زوی لی منہا. (مسلم، رقم ۵۱۴۴)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی اور میں نے اس کے مشرق ومغرب کے علاقے دیکھ لیے اور بے شک میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں تک پہنچے گی جو مجھے سمیٹ کر دکھائے گئے۔''

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

اذا ہلک کسری فلا کسری بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ والذی نفسی بیدہ لتنفقن کنوزہما فی سبیل اللہ. (بخاری، رقم ۲۸۸۸)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی دوسرا کسریٰ پیدا نہیں ہوگا۔ اور جب قیصر کی حکومت (شام کے علاقے سے) ختم ہو جائے گی تو دوبارہ کبھی قائم نہیں ہوگی۔ اور اللہ کی قسم، ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں گے۔''

غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے فرمایا:

الا ابشرکم؟ قالوا بلی یا رسول اللہ وہم یسیرون علی رواحلہم فقال ان اللہ اعطانی الکنزین فارس والروم وامدنی بالملوک ملوک حمیر یجاہدون فی سبیل اللہ ویاکلون فیء اللہ. (واقدی، المغازی ۳/ ۱۰۱۱)

''کیا میں تمھیں خوشخبری نہ دوں؟ صحابہ نے اپنی سواریوں پر چلتے چلتے کہا: یا رسول اللہ، کیوں نہیں۔ آ پ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خزانے عطا فرمائے ہیں: ایک فارس کا اور دوسرا روم کا اور اس نے حمیر کے بادشاہوں کے ذریعے سے میری مدد کی ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور اس راہ میں حاصل ہونے والا مال غنیمت کھائیں گے۔''

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ نے انھی بشارتوں اور وعدوں کے مطابق جزیرۂ عرب کے ارد گرد بسنے والی ان اقوام کے خلاف جہاد کیا۔ اپنے ان اقدامات کی توجیہ خود صحابہ کرام نے اسی زاویہ نگاہ سے کی ہے اور ان کا اپنا موقف بالکل دوٹوک الفاظ میں یہ منقول ہے کہ وہ روم وفارس کی سلطنتوں سے، ان کی پیش کش اور خواہش کے باوجود، مصالحانہ تعلقات پر راضی نہیں تھے اور ہر حال میں ان کے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، الا یہ کہ یہ اقوام دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ صحابہ کے بیانات سے ان جنگوں کے دو مقاصد واضح طور پر سامنے آتے ہیں: ایک، اللہ کے دین کو غالب کرنا اور اس کے منکروں کو سزا دینا، اور دوسرا، دشمنوں کی سرزمین اور ان کے اموال واملاک پر قبضہ کرنا۔ اس ضمن میں چند شواہد حسب ذیل ہیں:

سیدنا ابوبکر نے اہل روم کے خلاف جہاد میں شرکت کی ترغیب دینے کے لیے اہل یمن کو خط لکھا تو اس میں فرمایا:

ان اللہ کتب علی المومنین الجہاد وامرہم ان ینفروا خفافا وثقالا .... ولا یترک اہل عداوتہ حتی یدینوا الحق ویقروا بحکم الکتاب او یودوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون. (ازدی، فتوح الشام، ۵، ۶)

''اللہ نے اہل ایمان پر جہاد فرض کیا ہے اور انھیں حکم دیا ہے کہ ہلکے ہوں یا بھاری، جہاد کے لیے نکلیں۔ اس دین کے دشمنوں کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جا سکتا جب تک کہ وہ اس دین کی پیروی اختیار کر کے کتاب اللہ کے حکم پر راضی نہ ہو جائیں یا پھر مطیع بن ذلت اور پستی کی حالت میں جزیہ ادا کرنا قبول نہ کر لیں۔''

ایرانی سپہ سالار رستم نے جنگ قادسیہ سے پہلے مسلمانوں کو کچھ دے دلا کر صلح پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور ان سے کہا کہ دیکھو، تم ہمارے پڑوسی ہو اور تم میں سے ایک جماعت ہماری بادشاہت کے زیر سایہ رہتی تھی۔ ہم ان کا حق ہمسایگی اچھے طریقے سے ادا کرتے تھے، ان پر آنے والی آفتوں کو روکتے تھے اور بہت سی سہولتیں انھیں فراہم کرتے تھے۔ ہم ان کی اور دیگر اہل صحرا کی دیکھ بھال کرتے تھے، اپنی چراگاہوں میں انھیں جانور چرانے دیتے تھے اور اپنے ملک سے انھیں غلہ دے کر بھیجتے تھے اور اپنی سرزمین کے کسی بھی علاقے میں انھیں تجارت کرنے سے نہیں روکتے تھے اور وہ ا س طرح اپنی ضروریات زندگی کا بندوبست کر لیا کرتے تھے۔ طبری کا بیان ہے:

یعرض لہم بالصلح وانما یخبرہ بصنیعہم والصلح یرید ولا یصرح.

''ان ساری باتوں سے ا س کا مقصد مسلمانوں کو صلح پر آمادہ کرنا تھا، لیکن وہ صاف لفظوں میں صلح کی پیش کش کرنے کے بجائے اپنا حسن سلوک بیان کر کے اس طرف اشارہ کر رہا تھا۔''

اس پیش کش کے جواب میں مسلمان لشکر کے نمائندے زہرہ نے کہا:

بعث اللہ تبارک وتعالی الینا رسولا فدعانا الی ربہ فاجبناہ فقال لنبیہ صلی اللہ علیہ وسلم انی قد سلطت ہذہ الطائفۃ علی من لم یدن بدینی فانا منتقم بہم منہم واجعل لہم الغلبۃ ما داموا مقرین بہ وہو دین الحق لا یرغب عنہ احد الا ذل ولا یعتصم بہ احد الا عز . (طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۵۱۷)

''اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس اپنا رسول بھیجا جس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا، پس ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی۔پھر اس نے اپنے پیغمبر کو بتایا کہ میں نے اس جماعت کو ان لوگوں پر مسلط کر دیا ہے جو میرے دین کو قبول نہیں کرتے۔ میں ان کے ذریعے سے ان سے انتقام لوں گا اور جب تک یہ خود دین حق کے پیروکار رہیں گے، ان کو غلبہ حاصل رہے گا۔ یہی دین حق ہے۔ جو بھی اس سے منہ موڑے گا، ذلیل ہوگا اور جو اس کو تھام لے گا، سرفراز ہوگا۔''

نعمان بن مقرن نے یزگرد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

وامرنا ان نبدا بمن یلینا من الامم فندعوہم الی الانصاف فنحن ندعوکم الی دیننا وہو دین الاسلام حسن الحسن وقبح القبیح کلہ فان ابیتم فامر من الشر ہو اہون من آخر شر منہ الجزاء فان ابیتم فالمناجزۃ. (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ۷/ ۴۱)

''اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہمارے پڑوس میں جو قومیں رہتی ہیں، ان پر حملہ آور ہو جائیں اور ان کو عدل وانصاف کی دعوت دیں۔ سو اب ہم تمہیں دین کی طرف بلانے آئے ہیں۔ یہ دین اسلام ہے جس نے ہر اچھی چیز کو اچھا اور ہر بری چیز کو برا قرار دیا ہے۔ پس اگر تم انکار کرو گے تو تمہارے پاس دو راستے ہیں جو دونوں ناگوار ہیں، لیکن ان میں سے ایک دوسرے سے بھی زیادہ برا ہے: جزیہ دینا قبول کر لو اور اگر اس سے انکار کرو گے تو پھر جنگ ہوگی۔''

ایک دوسرے موقع پر ایرانی سپہ سالا رستم نے مغیرہ بن شعبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نظر میں دنیا کی کوئی قوم تم سے زیادہ حقیر نہیں تھی۔ تم سخت بدحالی اور تنگ دستی کی زندگی بسر کرتے تھے اور ہم تمھیں کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور نہ کسی شمار میں لاتے تھے۔ تمہارا حال یہ تھا کہ جب تمہاری سرزمین میں قحط پڑتا اور خشک سالی تم پر مسلط ہو جاتی تو تم ہماری ہی سرزمین کے ایک کونے میں آ کر پناہ لیتے تھے۔ پھر ہم تمہیں کچھ کھجوریں اور جو وغیرہ دے کر رخصت کر دیتے تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ اب جو تم حملہ آور ہو رہے ہو تو تمہاری سرزمین کی انہی کلفتوں نے تمہیں اس پر مجبور کیا ہے۔ سو میں تمہارے سردار کو ایک جوڑا، ایک خچر اور ایک ہزار درہم اور تم میں سے ہر ایک کو کافی مقدار میں کھجوریں اور دو دو کپڑے دے دیتا ہوں۔ اب تم واپس چلے جاؤ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تمہیں قتل کروں یا قیدی بناؤں۵؂۔

مغیرہ بن شعبہ نے جواب میں فرمایا:

انا لیس طلبنا الدنیا وانما ہمنا وطلبنا الآخرۃ وقد بعث اللہ الینا رسولا قال لہ انی قد سلطت ہذہ الطائفۃ علی من لم یدن بدینی فانا منتقم بہم منہم واجعل لہم الغلبۃ ماداموا مقرین بہ وہو دین الحق لا یرغب عنہ احد الا ذل ولا یعتصم بہ الا عز. (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ۷/ ۳۹)

''ہم دنیا کی تلاش میں نہیں آئے۔ ہمارا اصل مقصد اور مطمح نظر تو آخرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس اپنا رسول بھیجا اور اس کو یہ بتایا کہ میں نے اس جماعت کو ان لوگوں پر مسلط کر دیا ہے جو میرے دین کو قبول نہیں کرتے۔ میں ان کے ذریعے سے ان سے انتقام لوں گا اور جب تک یہ خود دین حق کے پیروکار رہیں گے، ان کو غلبہ حاصل رہے گا۔ یہی دین حق ہے۔ جو بھی اس سے منہ موڑے گا، ذلیل ہوگا اور جو اس کو تھام لے گا، سرفراز ہوگا۔''

ایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا:

امرنا نبینا رسول ربنا ان نقاتلکم حتی تعبدوا اللہ وحدہ او تودوا الجزیۃ واخبرنا نبینا صلی اللہ علیہ وسلم عن رسالۃ ربنا انہ من قتل منا صاروا الی الجنۃ فی نعیم لم یر مثلہا قط ومن بقی منا ملک رقابکم.(بخاری، رقم ۲۹۲۵)

''ہمیں ہمارے رسول نے حکم دیا ہے کہ ہم تمھارے ساتھ جنگ کریں یہاں تک کہ تم ایک خدا کی عبادت کرنے لگ جاؤ یا ہمیں جزیہ ادا کرو۔ ہمارے نبی نے ہمارے خدا سے خبر پا کر ہمیں بتایا ہے کہ ہم میں سے جو لوگ اس لڑائی میں قتل ہو جائیں گے، وہ جنت میں جائیں گے جہاں ایسی نعمتیں ہوں گی جو کبھی کسی نے نہیں دیکھیں اور جو زندہ رہیں گے، وہ تمہاری گردنوں کے مالک بنیں گے۔''

خالد بن ولید نے اپنے لشکر کو جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے بلاد عجم کے فوائد ومنافع سمجھائے اور ان سے کہا:

الا ترون الی الطعام کرفغ التراب وباللہ لو لم یلزمنا الجہاد فی اللہ والدعاء الی اللہ عز وجل ولم یکن الا المعاش لکان الرای ان نقارع علی ہذا الریف حتی نکون اولی بہ ونولی الجوع والاقلال من تولاہ ممن اثاقل عما انتم علیہ. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۳۵۴)

''تم دیکھتے نہیں کہ وہاں کتنی وافر مقدار میں غلہ میسر ہے؟ بخدا، اگر ہم پر اللہ کی طرف دعوت دینا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا فرض نہ ہوتا اور صرف سامان معاش کی بات ہوتی تب بھی عقل کی بات یہی تھی کہ اس سرسبز وشاداب علاقے پر قبضے کے لیے ہم ان سے لڑیں، تاکہ وہاں کی نعمتوں کے حقدار بنیں اور ان لوگوں کو بھوک اور تنگ دستی میں مبتلا رہنے دیں جو اس جدوجہد سے گریز کر رہے ہیں جس میں تم مصروف ہو۔''

فارسی جرنیل رستم نے ایک مسلمان سپاہی سے سوال کیا کہ تم کس لیے آئے ہو اور تمہارا مقصود کیا ہے؟ اس نے کہا:

جئنا نطلب موعود اللہ قال وما ہو؟ قال ارضکم وابناؤکم ودماؤکم ان ابیتم ان تسلموا. (تاریخ الامم والملوک ۳/ ۵۰۸)

''ہم اللہ کے وعدے کے حصول کے لیے آئے ہیں۔ رستم نے پوچھا، کیسا وعدہ؟ مسلمان نے کہا، وہ یہ ہے کہ اگر تم اسلام لانے سے انکار کرو تو ہم تمہاری سرزمین اور تمہاری اولاد اور تمہاری جانوں کے مالک بن جائیں۔''

۱۶ ہجری میں مسلمانوں نے بہرسیر کا محاصرہ کیا تو وہاں کے حاکم کی طرف سے بھی صلح کا پیغام بھیجا گیا:

ہل لکم الی المصالحۃ علی ان لنا ما یلینا من دجلۃ وجبلنا ولکم ما یلیکم من دجلۃ الی جبلکم؟ اما شبعتم لا اشبع اللہ بطونکم.

''کیا تم اس شرط پر صلح کرنے پر آمادہ ہو کہ دجلہ سے لے کر ہمارے پہاڑ تک کا علاقہ ہمارا ہو اور دجلہ سے لے کر تمہارے پہاڑ تک کا علاقہ تمہارا؟ اللہ تمہیں کبھی سیر نہ کرے، کیا تمہاری بھوک ابھی مٹی نہیں؟''

صحابہ کا جواب یہ تھا:

انہ لا یکون بیننا وبینکم صلح ابدا حتی ناکل عسل افریذین باترج کوثی. (تاریخ الامم والملوک ۴/ ۷)

''جب تک ہم افریدین کا شہد کوثیٰ کے لیموں کے ساتھ ملا کر نہ کھا لیں، تمہارے ساتھ کسی قیمت پر صلح نہیں کریں گے۔''

اہل فارس کے سرداروں سے اس صورت حال پر جو تبصرہ منقول ہے، وہ بھی ہر لحاظ سے ایک جارحانہ جنگ کی شکایت ہے۔ انھوں نے آپس میں کہا:

ان محمدا الذی جاء العرب بالدین لم یغرض غرضنا ثم ملکہم ابوبکر من بعد فلم یغرض غرض فارس الا فی غارۃ تعرض لہم فیہا والا فی ما یلی بلادہم من السواد ثم ملک عمر من بعدہ فطال ملکہ وعرض حتی تناولکم وانتقصکم السواد والاہواز واوطاہا ثم لم یرض حتی اتی اہل فارس والمملکۃ فی عقر دارہم وہوآتیکم ان لم تاتوہ فقد اخرب بیت مملکتکم واقتحم بلاد ملککم ولیس بمنتہ حتی تخرجوا من فی بلادکم من جنودہ وتقلعوا ہذین المصرین ثم تشغلوہ فی بلادہ وقرارہ. (تاریخ الامم والملوک ۴/ ۱۲۲)

''محمد جو عرب کے پاس اپنا دین لے کر آئے تھے، انہوں نے تو ہمیں اپنا ہدف نہیں بنایا۔ پھر اس کے بعد ابوبکر اہل عرب کے حاکم بنے تو انہوں نے بھی ہماری طرف رخ نہیں کیا، سوائے ایک چھوٹی سی لڑائی کے جس میں ان کا اہل فارس سے ٹکراؤ ہوا اور انھیں سرزمین عرب کے ساتھ متصل سواد کے علاقے کے علاوہ ہماری سرزمین میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن ان کے بعد جب عمر حکمران ہوا تو اس کی مملکت طول وعرض میں پھیل گئی، یہاں تک کہ اس نے تمھیں نشانہ بنایا اور تم سے سواد اور اہواز کا علاقہ چھین لیا اور ان میں اپنے قدم جما لیے۔ پھر اس پر قناعت نہیں کی، بلکہ اہل فارس کی سلطنت کے عین قلب میں آ گھسا اور اب اگر تم نے پیش قدمی نہ کی تو وہ یہاں بھی تمہارے پیچھے پہنچ جائے گا۔ اس نے تمہارے دارالحکومت کو برباد کر دیا ہے اور تمہاری سلطنت کے شہروں میں گھس آیا ہے اور وہ باز آنے والا والا نہیں جب تک کہ تم اپنی سلطنت سے اس کی فوجوں کونکال نہ دو اور یہ دونوں شہر اس سے چھین نہ لو۔ پھر تم اس کو خود اس کے علاقے میں (اپنے دفاع میں) الجھا دو۔''

رومی جرنیل باہان اور خالد بن ولید کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس میں بھی یہ حقیقت صاف نمایاں ہے:

فقال باہان لخالد ہلم الی امر نعرضہ لکم تنصرفون ونحمل من کان منکم راجلا ونوقر لکم ظہورکم وفی روایۃ ونوقر لکم طعاما واداما والاول اصح ونامر لکم بدنانیر خمسۃ خمسۃ فانا نعلم انکم فی ارض قلیلۃ الخیر وانما حملکم علی المسیر ذلک فقال لہ خالد ما حملنا علی المسیر ما ذکرت من شدۃ العیش فی بلادنا ولکن قاتلنا من وراء نا فی الامم فشربنا دماء ہم فحدثنا انہ لیس من قوم احلی دما من الروم فاقبلنا الیکم لنشرب دماء کم فنظر بعضہم الی بعض فقالوا حق واللہ ما حدثنا عنہم یعنون ما اخبرنا بہ انہم لا ینصرفون الا بقبول الدین او الجزیۃ او الانقیاد لہم شئنا او ابینا. (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/ ۵۱، ۵۲)

''باہان نے خالد سے کہا: میں تمہیں جو پیش کش کر رہا ہوں، اسے مان لو۔ تم واپس چلے جاؤ۔ تم میں سے جو پیدل ہیں، انہیں ہم سواری دے دیتے ہیں اور سواریوں کی پشت کو غلے اور سالن سے لاد دیتے ہیں اور ہر ایک کو پانچ پانچ دینار دے دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ تمہاری سرزمین میں مال ودولت کی قلت ہے اور اسی چیز نے تمہیں ہمارے خلاف آمادۂ جنگ کیا ہے۔ خالد نے کہا: نہیں، ہم اپنی سرزمین کی سختیوں سے تنگ آ کر تمہاری طرف نہیں آئے، بلکہ بات یہ ہے کہ ہم نے جب اپنے علاقے سے باہر کی قوموں سے جنگ کی اور ان کا خون پیا تو ہمیں بتایا گیا کہ رومیوں سے زیادہ میٹھا اور لذیذ خون کسی کا نہیں۔ سو اب ہم یہاں تمہارا خون پینے آئے ہیں۔ یہ سن کر رومیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ ان کے بارے میں ہمیں جو خبر پہنچی تھی، وہ بالکل سچ ہے۔ یعنی ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، یہ اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک یا تو ہم ان کا دین نہ قبول کر لیں یا جزیہ نہ دے دیں یا ان کے مطیع نہ بن جائیں۔''

مسلمانوں کے لشکر نے ابو عبیدہ بن جراح کی قیادت میں شام کے علاقے اُردن کا محاصرہ کیا تو اہل روم کے ساتھ گفت وشنید کے دوران میں ان کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی کہ وہ بلقاء اور اُردن کا کچھ علاقہ علاقہ اس شرط پر مسلمانوں کو دے دیتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ صلح کر لیں اور شام کے باقی علاقوں کو رومیوں سے چھیننے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے جواب میں ابو عبیدہ نے ان سے کہا:

امرنا صلی اللہ علیہ وسلم فقال اذا اتیتم المشرکین فادعوہم الی الایمان باللہ وبرسولہ وبالاقرار بما جاء من عند اللہ عز وجل فمن آمن وصدق فہو اخوکم فی دینکم لہ ما لکم وعلیہ ما علیکم ومن ابی فاعرضوا علیہ الجزیۃ حتی یودونہا عن ید وہم صاغرون فان ابوا ان یومنوا او یودوا الجزیۃ فاقتلوہم وقاتلوہم. (ازدی، فتوح الشام، ۱۰۹)

''ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم مشرکین کے پاس جاؤ تو انھیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور جو کچھ اللہ کا رسول اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے، اس کا اقرار کرنے کی دعوت دو۔ پھر جو ایمان لے آئے اور تصدیق کر دے، وہ دین میں تمھارا بھائی ہے۔ اس کے حقوق وفرائض وہی ہیں جو تمھارے ہیں۔ اور جو انکار کرے تو اسے جزیہ ادا کرنے کے لیے کہو یہاں تک کہ وہ مطیع بن کر ذلت کی حالت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ پھر اگر وہ ایمان لانے اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو انھیں قتل کرو اور ان کے خلاف جنگ کرو۔''

عمرو بن العاص نے شاہِ مصر مقوقس کے نمائندوں سے کہا:

ان اللہ عز وجل بعث محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بالحق وامرہ بہ وامرنا بہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وادی الینا کل الذی امر بہ ثم مضی صلوات اللہ علیہ ورحمتہ وقد قضی الذی علیہ وترکنا علی الواضحۃ وکان مما امرنا بہ الاعذار الی الناس فنحن ندعوکم الی الاسلام فمن اجابنا الیہ فمثلنا ومن لم یجبنا عرضنا علیہ الجزیۃ وبذلنا لہ المنعۃ. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۴/ ۱۰۷)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا اور ان کو اس کی پیروی پر مامور کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے تمام حکم ہم تک پہنچا دیے اور ہمیں ان کی پیروی کی تلقین کی۔ پھر آپ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد اللہ کے حضور تشریف لے گئے اور ہمیں ایک نہایت روشن راستے پر چھوڑ گئے۔ انھوں نے ہمیں جو حکم دیے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں پر اس طرح حجت قائم کر دیں کہ ان کے پاس عذر باقی نہ رہے۔ پس اب ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ جو اسے قبول کر لے گا، وہ ہمارا شریک بن جائے گا اور جو انکار کرے گا، ہم اسے یہ پیش کش کریں گے کہ وہ جزیہ ادا کرے اور (بدلے میں) اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہوگی۔''

_______

۱؂ وہبہ زحیلی، آثار الحرب فی الفقہ الاسلامی، ص ۱۰۴۔

۲؂ محمود احمد غازی، اسلام کا قانون بین الممالک، ص ۱۴۲۔

۳؂ الجہاد فی الاسلام، ص ۱۴۵، ۱۴۶۔

۴؂ بخاری، رقم ۷۔ ''اسلام لے آؤ، بچ جاؤ گے''۔

۵؂ طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۵۲۳۔

____________




Articles by this author