صحابہ کا جہاد (حصہ دوم)

صحابہ کا جہاد (حصہ دوم)


علاوہ ازیں صحابہ کے جنگی اقدامات کی زیر تنقید تعبیر میں 'جزیہ' کی وصولی کا مسئلہ بھی کسی طرح سے فٹ نہیں بیٹھتا۔ زیر بحث نقطہ نظر کے قائلین کے نزدیک 'جزیہ' کی حیثیت کفر پر قائم رہنے کی سزا یا ذلت ورسوائی کی علامت کی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی ریاست کے غیر مسلموں سے ان کی جان ومال کی حفاظت اور فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کے عوض میں وصول کیا جاتا ہے۔ اس کی دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ عہد صحابہ میں اس بات کے نظائر موجود ہیں کہ اگر مسلمان کسی علاقے کے غیر مسلموں کی دشمن سے حفاظت کا فریضہ انجام نہ دے سکے تو انھوں نے ان سے وصول کردہ جزیہ انھیں واپس کر دیا۔ اسی طرح بعض مواقع پر جن غیر مسلموں نے اسلامی فوج میں شامل ہو کر مخالف طاقتوں کے ساتھ لڑائی کی، انھیں بھی جزیہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۶؂۔

اس تعبیر کے پس منظر میں یہ خواہش موجود ہے کہ 'جزیہ' کو کسی طرح سے مذہبی امتیاز کے تناظر سے الگ کر کے اسے ریاست کے مالیاتی واجبات کے عمومی دائرے میں لے آیا جائے۔ اہل علم کا یہ گروہ بالعموم یہ رائے پیش کرتا ہے کہ 'جزیہ' کو تذلیل اور تحقیر کی علامت قرار دینا بعد کے فقہا کی غلطی ہے اور نصوص میں اس کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ تاہم تاریخ وسیرت کے ذخیرے میں موجود شواہد اس رائے کو قبول کرنے میں مانع ہیں اور وہ 'جزیہ' کے اسی مفہوم کی تائید کرتے ہیں جو کہ فقہا نے بیان کیا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتوح علاقوں کے غیر مسلموں پر عائد کیے جانے والے اس مالی فریضے کے ساتھ ذلت، رسوائی اور محکومی کا تصور لازمی طور پر وابستہ تھا اور مفتوحین پر اس کا نفاذ سزا اور عقوبت کے پہلو سے کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر جواد علی اپنی کتاب ''المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام'' میں اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

والجزیۃ من الالفاظ المستعملۃ عند الجاہلیین کذلک بدلیل ورودہا فی القرآن الکریم وقد خصصت فی الاسلام بما یوخذ من اہل الذمۃ علی رقابہم وقد کان الجاہلیون یاخذون الجزیۃ من المغلوبین وکانت عندہم الضریبۃ التی توخذ عن رؤوس المغلوبین یدفعونہا الی الغالب فدفعتہا القبائل المغلوبۃ للقبائل الغالبۃ علی اساس الرؤوس. (المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ۵/ ۳۰۶)

''جزیہ ان الفاظ میں سے ہے جو زمانہ جاہلیت میں بھی بعینہ اسی طرح استعمال ہوتا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن مجید میں آیاہے۔ اسلام میں یہ لفظ خاص طور پر اس رقم کے لیے بولا جاتا ہے جو اہل ذمہ سے اشخاص کے لحاظ سے وصول کی جاتی ہے۔ اہل جاہلیت مغلوب ہو جانے والوں سے جزیہ وصول کیا کرتے تھے اور ان کے نزدیک اس کا تصور ایک ایسے ٹیکس کا تھا جو مغلوب گروہ کے افراد غالب گروہ کو ادا کرتے ہیں۔ مغلوب قبائل افراد کی تعداد کے لحاظ سے غالب قبائل کو جزیہ ادا کیا کرتے تھے۔''

وتدفع القبائل الضعیفۃ اتاوۃ الی القبائل الکبیرۃ او الی الملوک تکون بمثابۃ حق الحمایۃ والاعتراف بالسیادۃ ولہذا کانت القبائل التی لا تدفع اتاوۃ تتباہی وتفتخر لان ذلک یدل علی عزتہا ومنعتہا ویقال ان الاوس والخزرج ابنی قیلۃ لم یودیا اتاوۃ قط فی الجاہلیۃ الی احد من الملوک فلما کتب الیہم تبع یدعوہم الی طاعتہ ویتوعدہم لم یجیبوہ وتحارب معہم ثم ارتحل عنہم وکانت للغطاریف علی دوس اتاوۃ یاخذونہا کل سنۃ حتی ان الرجل منہم کان یاتی بیت الدوسی فیضع سہمہ او نعلہ علی الباب ثم یدخل.(المفصل فی تاریخ العرب، ۵/ ۳۱۱)

''کمزور قبائل طاقتور قبائل یا بادشاہوں کو خراج ادا کیا کرتے تھے جو ان کی برتری اور سیادت کے اعتراف اور ان کی طرف سے حفاظت وحمایت کا حق حاصل ہونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے وہ قبائل جو یہ خراج ادا نہیں کرتے تھے، اس پر فخر کرتے اور دوسروں کو یہ بات جتاتے تھے کیونکہ یہ بات ان کی عزت وشرف اور ان کی خود مختاری کی دلیل ہوتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اوس اور خزرج نے زمانہ جاہلیت میں کبھی کسی بادشاہ کو خراج ادا نہیں کیا۔ پھر جب تبع نے ان کو اپنا مطیع بن جانے کا حکم دیا اور ان کو دھمکی دی تو انھوں نے اس کی بات نہیں مانی جس پر اس نے ان کے ساتھ جنگ کی اور پھر ان کے علاقے سے کوچ کر گیا۔ قبیلہ دوس کے ذمے خراج لازم تھا جو وہ ہر سال بنو غطریف کو ادا کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی شخص کسی دَوسی کے گھر میں جاتا تو اپنا تیر یا جوتا دروازے کے پاس اتار کر اندر داخل ہوتا تھا۔''

مشہور مستشرق ڈاکٹر ڈینئل ڈینیٹ نے ایرانی نظام سیاست میں جزیہ کی نوعیت واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

بینما کانت ضریبۃ الراس التی یودیہا ہولاء المحکومون تعتبر من الوجہۃ النظریۃ تعویضا عن الواجبات الملکیۃ الکہنوتیۃ التی کانوا عاجزین عن القیام بہا کانت ہذہ الضریبۃ تعتبر فی الواقع سمۃ للذل وعنوانا للوضاعۃ الاجتماعیۃ. (الجزیۃ والاسلام، ترجمہ: الدکتور فوزی فہیم جاد اللہ، ۴۷)

''ان محکوموں پر اشخاص کے اعتبار سے لگایا جانے والا ٹیکس جہاں نظری اعتبار سے ان حاکمانہ اور مذہبی ذمہ داریوں کا عوض سمجھا جاتا تھا جنھیں ادا کرنے سے وہ قاصر تھے، وہاں عملی اعتبار سے اس کی حیثیت ذلت کی ایک علامت اور معاشرتی کہتری کے ایک عنوان کی تھی۔''

صحابہ کے اقوال سے بھی 'جزیہ' کا یہ مفہوم پوری صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا عمر نے عتبہ بن غزوان کو بصرہ کا والی بنا کر بھیجا تو انھیں ہدایت کی کہ:

وادع الی اللہ فمن اجابک فاقبل منہ ومن ابی فالجزیۃ عن صغار وذلۃ والا فالسیف فی غیر ہوادۃ. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۵۹۳)

''اور اللہ کی طرف دعوت دو۔ جو اس دعوت قبول کر لے تو سر آنکھوں پر۔ اور جو انکار کرے تو ذلت اور رسوائی کے ساتھ اس سے جزیہ وصول کرو۔ اور یہ بھی نہیں تو پھر کسی رُو رعایت کے بغیر تلوار کو حرکت میں لے لاؤ۔''

سلمان فارسی نے ایک جنگ میں اہل فارس سے کہا:

فان ابیتم فعلیکم الجزیۃ وخاک بر سر (ابو عبید، الاموال، ۹۶)

''اگر تم اسلام لانے سے انکار کرو تو تم پر جزیہ عائد کیا جائے گا جو تمھارے سر پر خاک ہوگا۔''

مغیرہ بن شعبہ نے ایرانی سپہ سالا رستم سے جزیہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:

وان احتجت الینا ان نمنعک فکن لنا عبدا تودی الجزیۃ عن ید وانت صاغر والا فالسیف ان ابیت. (طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۵۲۳)

''اور اگر تم چاہتے ہو کہ ہماری حفاظت میں آجاؤ تو ہمارے غلام بن جاؤ اور مطیع ہو کر ذلت ورسوائی کی حالت میں جزیہ ادا کرو، اور اگر اس سے بھی انکار کرو گے تو پھر تلوار ہے۔''

حبیب بن مسلمہ نے اہل تفلیس کو جو امان لکھ کر دی، اس کے الفاظ یہ تھے:

ہذا کتاب من حبیب بن مسلمۃ لاہل تفلیس من جرزان ارض الہرمز بالامان علی انفسکم واموالکم وصوامعکم وبیعکم وصلواتکم علی الاقرار بصغار الجزیۃ.(تاریخ الامم والملوک، ۴/ ۱۶۲)

''یہ نوشت حبیب بن مسلمہ کی طرف سے سرزمین ہرمز میں اہل تفلیس کے لیے ہے۔ تمھیں اس شرط پر جان ومال، خانقاہوں، گرجوں اور معبدوں کی امان دی جاتی ہے کہ تم جزیہ کی ذلت قبول کیے رکھو گے۔''

تمیم داری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کا ذکر کر کے فرماتے ہیں:

قد عرفت ذلک فی اہل بیتی لقد اصاب من اسلم منہم الخیر والشرف والعز ولقد اصاب من کان منہم کافرا الذل والصغار والجزیۃ.(مسند احمد، رقم ۱۶۲۴۴)

''میں نے یہ پیش گوئی اپنے خاندان میں پوری ہوتے دیکھ لی ہے۔ ان میں سے جو اسلام لائے، ان کو تو خیر اور عزت اور شرف ملا، اور جو کافر رہے، ان پر ذلت اور پستی اور جزیہ مسلط کر دیا گیا۔''

سرزمین شام میں اردن کا علاقہ فتح ہوا تو اسلامی لشکر کے امرا میں اس حوالے سے اختلاف رائے پیدا ہو گیا کہ مفتوحین کو غلام بنا کر مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے یا اہل ذمہ بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دیا جائے۔ معاملہ سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے دوسری رائے کی تائید کی اور لکھا:

ان ہولاء یاکلہم المسلمون ماداموا احیاء فاذا ہلکنا وہلکوا اکل ابناؤنا ابناء ہم ابدا ما بقوا وکانوا عبید الاہل الاسلام ابدا ما دام دین الاسلام ظاہرا فضع عنہم الجزیۃ وکف عنہم السبا وامنع المسلمین من ظلمہم والاضرار بہم واکل اموالہم الا بحقہا. (ازدی، فتوح الشام، ۱۲۵)

''جب تک یہ زندہ رہیں گے، مسلمان ان کی محنت کی کمائی کھائیں گے۔ پھر جب ہم بھی مر جائیں گے اور یہ بھی تو ہماری نسلیں جب تک رہیں گی، ہمیشہ ان کی نسلوں کی محنت کی کمائی کھاتی رہیں گی اور جب تک اسلام کو غلبہ حاصل رہے گا، یہ ہمیشہ اہل اسلام کے محکوم اور غلام بن کر رہیں گے۔ اس لیے ان پر جزیہ عائد کردو اور انھیں غلام نہ بناؤ اور مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے یا تکلیف دینے اور ان کے اموال کو ناحق کھانے سے روکو۔''

سرزمین شام میں 'رہا' کے باشندوں نے عیاض بن غنم کو پیغام بھیجا کہ وہ ایک متعین رقم کی ادائیگی پر مسلمانوں سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں معاذ بن جبل سے مشورہ مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان سے متعین رقم کے بجائے اس بات پر صلح کی جائے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق رقم ادا کریں گے۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بیان کی کہ:

وان ایسروا ادوہ علی غیر الصغار الذی امر اللہ بہ فیہم. (ابو یوسف، الخراج، ۴۰)

''اگر یہ (بعد میں) خوش حال ہو جائیں (اور پہلے سے طے شدہ تھوڑی رقم دیتے رہیں) تو ذلت کی اس حالت کے بغیر جزیہ ادا کریں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکم دیا ہے۔''

عبد اللہ بن عباس کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ کیا یہ جائز ہے کہ میں کسی غیر مسلم سے اس کی زمین لے کر اس میں کاشت کاری کروں اور آمدنی سے اس پر عائد ہونے والا جزیہ ادا کر دوں؟ انھوں نے جواب میں فرمایا:

لا تعمد الی ما ولی اللہ ہذا الکافر فتخلعہ من عنقہ وتجعلہ فی عنقک ثم تلا قاتلوا الذین لا یومنون باللہ. (مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۱۰۷)

''یہ وبال جو اللہ نے اس کافر پر ڈالا ہے، اس کی گردن سے اتار کر اپنی گردن میں نہ ڈال لو۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: 'قاتلوا الذین لا یومنون باللہ'

سیدنا عمر نے لوگوں کو اہل ذمہ کی اراضی خریدنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

لا تبتاعوہا ولا یقرن احدکم بالصغار بعد اذ نجاہ اللہ منہ. (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۸۱۸۱)

''ان کی زمینوں کو مت خریدو۔ تم میں سے کوئی شخص اپنے لیے ذلت کا اقرار نہ کرے اس کے بعد کہ اللہ نے اس کو اس سے نجات دی ہے۔''

عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں:

ما احب ان الارض کلہا لی جزیۃ بخمسۃ دراہم اقر علی نفسی بالصغار. (مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۰۱۰۹)

''مجھے اس شرط پر ساری زمین بھی مل جائے کہ مجھے صرف پانچ درہم جزیہ ادا کرنا پڑے گا تو میں اسے لینا پسند نہیں کروں گا، اس حال میں کہ اپنے اوپر ذلت اور رسوائی مسلط کر لوں۔''

معاذ بن جبل نے کہا:

من عقد الجزیۃ فی عنقہ فقد بری مما علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. (ابوداؤد، رقم ۲۶۷۷)

''جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا طوق ڈالا، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور طریقے سے لا تعلق ہو گیا۔''

قبیصہ بن ذؤیب نے فرمایا:

من اخذ ارضا بجزیتہا فقد باء بما باء بہ اہل الکتابین من الذل والصغار.(ابوعبید، الاموال، ۱۵۹)

''جس نے کوئی زمین اس کے جزیے کے ساتھ خریدی، اس کے حصے میں وہی ذلت اور پستی آئے گی جس سے یہود ونصاریٰ بہرہ یاب ہوئے ہیں۔''

صدر اول میں اس حساسیت کا ثبوت صرف زمین نہیں بلکہ 'جزیہ' کے ساتھ وابستہ دوسری چیزوں کے حوالے سے بھی ملتا ہے۔ امام مالک 'الموطا' میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے ایک موقع پر اپنے غلام اسلم کو حکم دیا کہ وہ جزیہ کے طور پر وصول کی جانے والی ایک اونٹنی کو دوسرے اونٹوں کے ساتھ باندھ دیں تاکہ بوقت ضرورت ان کا گوشت کھایا جا سکے۔ اسلم نے اس معاملے میں شدید تردد کا اظہار کیا:

قال فقلت کیف تاکل من الارض قال فقال عمر امن نعم الجزیۃ ہی ام من نعم الصدقۃ؟ فقلت بل من نعم الجزیۃ فقال عمر اردتم واللہ اکلہا فقلت ان علیہا وسم الجزیۃ فامر بہا عمر فنحرت. (الموطا، رقم ۸۰۴)

''اسلم کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ اہل ذمہ کے اونٹوں کا گوشت کیسے کھائیں گے؟ سیدنا عمر نے پوچھا کہ یہ جزیہ کی اونٹنی ہے یا زکوٰۃ کی؟ میں نے کہا، جزیہ کی۔ سیدنا عمر نے کہا، بخدا اس کا گوشت کھانے ہی کے لیے تو تم نے وصول کی ہے۔ میں نے کہا کہ اس پر جزیہ کی نشانی لگی ہوئی ہے، لیکن سیدنا عمر نے حکم دیا کہ اس کو ذبح کر دیا جائے۔''

'جزیہ' کے ساتھ وابستہ ذلت اور محکومی کا یہی تصور تھا جس کی بنا پر عہد صحابہ میں ایسے نظائر ملتے ہیں جب مختلف گروہوں یا قوموں نے اس کے مقابلے میں یا تو جنگ اور قتال کو ترجیح دی، یا مسلمانوں کی سیاسی بالادستی قبول کرنے کے باوجود جزیہ دینے سے انکار کیا اور یا پھر جزیہ کے عار سے بچنے کے لیے اسلام قبول کر لیا۔ یہ نظائر حسب ذیل ہیں:

۵ ہجری میں غزوہ احزاب کے بعد جب یہود بنو قریظہ کو خدشہ ہوا کہ ان کے نقض عہد کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خلاف بھی اقدام کرنے والے ہیں تو انھوں نے اس سلسلے میں باہم مشاورت کی۔ ان میں سے عمرو بن سعدیٰ نامی ایک شخص نے انھیں تجویز دی کہ:

فان ابیتم ان تدخلوا معہ فاثبتوا علی الیہودیۃ واعطوا الجزیۃ فوا اللہ ما ادری یقبلہا ام لا. قالوا نحن لا نقر للعرب بخرج فی رقابنا یاخذوننا بہ القتل خیر من ذلک.(واقدی، المغازی، ۲/ ۵۰۴)

''اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل نہیں ہونا چاہتے تو یہودیت پر قائم رہو اور محمد کو جزیہ ادا کر دو۔ لیکن بخدا، مجھے معلوم نہیں کہ وہ جزیہ قبول کریں گے یا نہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم اہل عرب کی یہ برتری تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری گردنوں پر ٹیکس لگا کر اسے ہم سے وصول کریں۔ اس سے تو قتل ہو جانا بہتر ہے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملنے کے بعد قیصر نے اہل روم کے سامنے جو تجاویز رکھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی:

قال فہلم اعطیہ الجزیۃ کل سنۃ اکسر عنی شوکتہ واستریح من حربہ بما اعطیہ ایاہ قالوا نحن نعطی العرب الذل والصغار بخرج یاخذونہ منا ونحن اکثر الناس عددا واعظمہ ملکا وامنعہ بلدا؟ لا واللہ لا نفعل ہذا ابدا. (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۲/ ۵۰۶)

''اس نے کہا تو پھر یہ بات مان لو کہ میں ہر سال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیہ دے کر ان کی طاقت کا رخ اپنی طرف سے موڑ دوں اور ان کے ساتھ جنگ کرنے سے بچ جاؤں۔ انہوں نے کہا: کیا ہم یہ ٹیکس دے کر اہل عرب کے سامنے اپنی ذلت اور پستی کا اقرار کریں، جبکہ ہماری تعداد بھی زیادہ ہے، ہماری سلطنت بھی عظیم ہے اور ہمارا علاقہ بھی محفوظ ہے؟ بخدا، ہم کبھی یہ نہیں کریں گے۔''

مغیرہ بن شعبہ نے ایرانی سپہ سالار رستم کے دربار میں قبول اسلام کی دعوت دینے کے بعد جب جزیہ کا مطالبہ کیا تو اہل فارس کا رد عمل بھی یہی تھا:

فلما قال ادیتم الجزیۃ نخروا وصاحوا وقالوا لا صلح بیننا وبینکم.(طبری، تاریخ الامم والملوک ۳/ ۴۹۷)

''جیسے ہی مغیرہ نے یہ کہا کہ تم جزیہ ادا کرو، اہل فارس نے نتھنے پھلا لیے اور غصے سے چیخنا شروع کر دیا اور کہا کہ ہمارے اور تمھارے مابین کوئی صلح نہیں۔''

سیدنا عمر نے بنو تغلب کے نصاریٰ پر، جو اصل میں عرب تھے، اپنے عہد میں جزیہ عائد کرنا چاہا تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا:

واللہ لئن وضعت علینا الجزاء لندخلن ارض الروم واللہ لتفضحنا من بین العرب فقال لہم انتم فضحتم انفسکم وخالفتم امتکم فی من خالف وافتضح من عرب الضاحیۃ وتاللہ لتؤدنہ وانتم صغرۃ قماۃ ولئن ہربتم الی الروم لاکتبن فیکم ثم لاسبینکم قالوا فخذ منا شیئا ولا تسمہ جزاء فقال اما نحن فنسمیہ نحن جزاء وسموہ انتم ما شئتم. (تاریخ الامم والملوک، ۴/ ۵۶)

''بخدا، اگر تم نے ہم پر جزیہ عائد کیا تو ہم رومیوں کے علاقے میں چلے جائیں گے۔ بخدا، تم اہل عرب کے مابین ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہو۔ عمر نے کہا: جزیرۂ عرب کے کناروں پر بسنے والے یہ تمھی لوگ ہو جنھوں نے (اسلام قبول نہ کر کے) اہل عرب سے مختلف طریقہ اپنایا ہے اور اپنے آپ کو خود اس رسوائی کا حق دار بنایا ہے۔ بخدا، تمھیں ذلیل اور پست ہو کر جزیہ دینا ہی پڑے گا اور اگر تم بھاگ کر روم کے علاقے میں چلے گئے تو میں (تمھارے متعلق شاہ روم کو) خط لکھ وں گا اور پھر تمہیں قیدی بنا لوں گا۔ انہوں نے کہا: تم ہم سے رقم لے لو لیکن اسے 'جزیہ' کا نام مت دو۔ سیدنا عمر نے کہا، ہم تو اسے 'جزیہ' ہی کہیں گے، تم جو نام چاہو، دے لو۔''

ابن ابی ذئب بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے بنو کلب اور بنو تغلب کے نصاریٰ سے کہا کہ ہم تم سے صدقہ نہیں لیں گے، بلکہ تمھارے ذمے جزیہ لازم ہے۔ انھوں نے کہا:

اتجعلنا کالعبید؟ قال لا ناخذ منکم الا الجزیۃ. (المدونۃ الکبریٰ، ۲/ ۲۸۳)

''کیا آپ ہمیں غلاموں کی حیثیت دینا چاہتے ہیں؟ عمر نے کہا کہ ہم تم سے جزیہ ہی لیں گے۔''

عبد الرحمن بن ربیعہ 'الباب' پر حملے کی غرض سے اپنی فوج لے کر پہنچے تو وہاں کے بادشاہ شہربراز نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کرتے ہوئے 'جزیہ' سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کی درخواست پیش کی۔ اس نے کہا:

وانکم قد غلبتم علی بلادی وامتی فانا الیوم منکم ویدی مع ایدیکم وصغوی معکم وبارک اللہ لنا ولکم وجزیتنا الیکم النصر لکم والقیام بما تحبون فلا تذلونا بالجزیۃ فتوہنونا لعدوکم. (تاریخ الامم والملوک، ۴/ ۱۵۶)

''بلاشبہ تم میرے ملک اور میری قوم پر غالب آچکے ہو۔ آج میں اپنا تعلق تم سے جوڑتا ہوں اور میری حمایت اور ہمدردی تمہارے ساتھ ہے۔ اللہ ہمیں اور تمھیں، دونوں کو برکت دے۔ لیکن ہماری طرف سے تمہارے لیے جزیہ یہ ہوگا کہ ہم تمہاری مدد کریں گے اور جو کام ہم سے لینا پسند کرو گے، اسے بجا لائیں گے، اس لیے تم جزیہ عائد کر کے ہمیں ذلیل اور اپنے دشمن کے مقابلے میں کمزور نہ کرو۔''

اصفہان کا علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا تو یہاں کے شرفا نے زمین کا لگان دینا تو بخوشی قبول کر لیا، لیکن جزیہ کی ذلت سے بچنے کا اور کوئی راستہ نہ پا کر مسلمان ہو گئے۔ بلاذری لکھتے ہیں:

فلما فتحت جی دخلوا فی الطاعۃ علی ان یودوا الخراج وانفوا من الجزیۃ فاسلموا. (فتوح البلدان، ۳۲۱)

''جب جے کا علاقہ فتح ہوا تو یہ لوگ خراج کی ادائیگی پر مسلمانوں کی اطاعت قبول کرنے پر رضامند ہو گئے، لیکن جزیہ دینے میں عار محسوس کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔''

مشہور مستشرق ڈاکٹر ڈینئل ڈینیٹ اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''ساسانی نظام میں معاشرے کے ممتاز طبقات کو ضریبۃ الراس سے، جو کہ تذلیل اور تحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا، مستثنیٰ رکھا جاتا تھا۔ اصفہان کے یہ شرفا یقیناً اسلامی فتح سے پہلے اس سے مستثنیٰ تھے اور چونکہ عربوں کے زمانے میں بھی ذلت اور حقارت کے حوالے سے اس ٹیکس کی یہی پہچان باقی رہی، اس لیے انھوں نے اس تذلیل وتوہین سے بچنے کے لیے اسلام قبول کر لیا۔'' (الجزیۃ والاسلام، ص ۶۶)

یہی معاملہ اہل قزوین کے ساتھ ہوا۔ براء بن عازب کی قیادت میں مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا تو شکست کو سامنے دیکھ کر انہوں نے صلح کی درخواست کی:

فلما راوا ذلک طلبوا الصلح فعرض علیہم ما اعطی اہل ابہر فانفوا من الجزیۃ واظہروا الاسلام. (بلاذری، فتوح البلدان ۳۲۹۔ یاقوت حموی، معجم البلدان ۴/ ۳۴۳)

''جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی تو مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی۔ امیر لشکر نے ان کے سامنے وہی شرائط رکھیں جن پر اہل ابہر نے صلح کی تھی، لیکن انھوں نے جزیہ سے عار محسوس کیا اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔''

سیدنا عمر کے عہد میں ایک ذمی نے اسلام قبول کیا تو عامل نے اس سے جزیہ طلب کیا اور کہا کہ تم محض 'جزیہ' سے بچنے کے لیے اسلام میں داخل ہوئے ہو۔ اس نے کہا کہ پھر اسلام لانے کی وجہ سے مجھے پناہ مل جانی چاہیے۔ معاملہ سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے فرمایا، ہاں۔ اسلام لانے کی صورت میں جزیہ سے پناہ حاصل ہو جاتی ہے، اس لیے اس سے جزیہ نہ لیا جائے۷؂۔

صدر اول اور بعد کے فقہا نے بھی 'جزیہ' کا یہی مفہوم سمجھا ہے۔ امام مالک 'الموطا' میں لکھتے ہیں:

ان الصدقۃ انما وضعت علی المسلمین تطہیرا لہم وردا علی فقراۂم ووضعت الجزیۃ علی اہل الکتاب صغارا لہم. (الموطا، رقم ۸۰۷)

''زکوٰۃ تو مسلمانوں کے اموال کی تطہیر اور ان کے فقرا کی حاجات پورا کرنے کے لیے ان پر فرض کی گئی ہے، جبکہ اہل کتاب پر جزیہ ذلت اور پستی کی ایک علامت کے طور پر عائد کیا گیا ہے۔ ''

امام شافعی فرماتے ہیں:

قال اللہ تعالیٰ حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون فوجدت الکفار فی حکم اللہ ثم حکم رسولہ فی موضع العبودیۃ للمسلمین صنفا متی قدر علیہم تعبدوا وتوخذ منہم اموالہم لا یقبل منہم غیر ذلک وصنفا یصنع ذلک بہم الا ان یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون فاعطاء الجزیۃ اذا لزمہم فہو صنف من العبودیۃ.(الام، ۷/ ۳۴۴)

''اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ قتال کرو یہاں تک کہ وہ مطیع ہو کر ذلت کے ساتھ جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی رو سے کفار اہل اسلام کے محکوم اور غلام ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس پر قدرت حاصل ہونے کی صورت میں اسے غلام بنا لیا جائے اور اس سے اس کے اموال چھین لیے جائیں اور اس کے سوا کوئی طریقہ اختیار نہ کیا جائے، جبکہ دوسرا گروہ وہ ہے جس کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے، الا یہ کہ وہ مطیع بن کر ذلت ورسوائی کے ساتھ جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہو جائے۔ پس ان پر جزیہ کی ادائیگی کا لازم ہونا محکومی اور غلامی کی ایک صورت ہے۔''

اس تفصیل سے واضح ہے کہ روم وفارس کی سلطنتوں کے خلاف صحابہ کرام کا جہاد اسی کشمکش کا ایک تسلسل تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے حق وباطل کے مابین برپا ہوئی تھی اور ان قوموں کے خلاف ان کی تلواریں جزیرۂ عرب اور اس کے گرد ونواح میں 'اظہار دین' کے اسی ہدف کی تکمیل کے لیے نیام سے باہر آئی تھیں جسے قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصود قرار دیا گیا ہے۔ صدر اول کے ایک جلیل القدر فقیہ امام سفیان بن عیینہ نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں واضح کیا ہے کہ:

بعث اللہ تعالیٰ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم باربعۃ سیوف: سیف قاتل بہ بنفسہ عبدۃ الاوثان وسیف قاتل بہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اہل الردۃ قال اللہ تعالی تقاتلونہم او یسلمون وسیف قاتل بہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ المجوس واہل الکتاب. قال اللہ تعالیٰ قاتلوا الذین لا یومنون باللہ الآیۃ وسیف قاتل بہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ المارقین والناکثین والقاسطین.(سرخسی، المبسوط، ۱۰/ ۳)

''اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ایک تلوار سے آپ نے بذات خود بت پرستوں سے جنگ کی۔ دوسری تلوار سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہل ارتداد سے قتال کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 'تقاتلونہم او یسلمون'۔ تیسری تلوار کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوس اور اہل کتاب کے خلاف معرکہ آرا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:' قاتلوا الذین لا یومنون باللہ' ۔ اور چوتھی تلوار سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دین سے نکل جانے والے، بدعہدی کرنے والے اور منحرف گروہوں کے خلاف قتال کیا۔''

________

یہ قرآن مجید اور حدیث وسیرت میں جہاد وقتال کے احکام کا اصل تناظر ہے اور اس سے واضح ہے کہ مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف قتال کے یہ احکام محض مسلمانوں کے دفاع اور اہل کفر کے فتنہ وفساد کو دفع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی اور شرک کا خاتمہ کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ یہ ایک 'مقدس جنگ' (Holy war) تھی جس کا محرک مال ومنال اور سطوت و شوکت کا حصول نہیں، بلکہ خدا کے حکم پر اسی کے ایک مقصد کو پورا کرنا تھا۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بنیاد پر قرآن نے اس قتال کو 'جہاد فی سبیل اللہ' کا عنوان دیا، اس میں حصہ لینے کو اللہ کے ساتھ ایک سودا قرار دیا، اس میں جان ومال قربان کرنے والوں کو 'انصار اللہ' کا لقب دیا اور اس سے گریز کرنے والے اہل ایمان کو جا بجا وعیدیں سنائی ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تَکْرَہُوا شَیْْئاً وَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تُحِبُّوا شَیْْئاً وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ.(البقرہ ۲: ۲۱۶)

''تم پر لڑنا فرض کر دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں ناپسند ہے۔ توقع ہے کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو جبکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور توقع ہے کہ ایک چیز کو تم پسند کرو جبکہ وہ تمہارے لیے بری ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔''

سورہ نساء میں فرمایا:

أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوا أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَ أَخَّرْتَنَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلاً. (النساء ۴: ۷۷)

''کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو اب ان میں سے ایک گروہ اس طرح دشمن سے ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے کیوں ہم پر لڑنا فرض کر دیا؟ کیوں نہ تو نے کچھ مدت کے لیے ہمیں مزید مہلت دے دی؟ تم کہہ دو کہ دنیا کا سامان تو بہت تھوڑا ہے جبکہ جو لوگ اللہ سے ڈریں، ان کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور (تمہارے اعمال کے معاملے میں) تمہاری ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔''

سورۂ توبہ میں ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ اللّٰہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَیْْہِ حَقّاً فِی التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہِ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ. (التوبہ ۹: ۱۱۱)

''اللہ نے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس وعدے پر خرید لیے ہیں کہ انھیں بدلے میں جنت ملے گی۔ وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں تو وہ بھی قتل کرتے ہیں اورانھیں بھی قتل کیا جاتا ہے۔ اللہ نے تورات اور انجیل اور قرآن میں اس وعدے کو پورا کرنا اپنے ذمے لازم ٹھہرایا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے؟ اس لیے (اے ایمان والو) تم نے جو سودا کیا ہے، اس پر خوش ہو جاؤ اور یہی عظیم کامیابی ہے۔''

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ. إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَاباً أَلِیْماً وَیَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیْْئاً وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ. (التوبہ ۹: ۳۸، ۳۹)

''اے ایمان والو، تمھیں کیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتاہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کے ساتھ چپک رہتے ہو! کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ تو پھر آخرت میں دنیا کی زندگی کا سامان بہت ہی تھوڑی وقعت رکھے گا۔ اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدل دے ا اور تم اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔''

________

۶؂ شبلی نعمانی، ''الجزیہ''، مقالات شبلی ۱/۲۱۰۔۲۲۰۔

۷؂ الاموال بحوالہ المغنی، ۹/۲۷۴۔

____________




Articles by this author