سلمان رشدی کا بھوت (حصہ اول)

سلمان رشدی کا بھوت (حصہ اول)


وہ بڑا دہشت ناک منظر تھا ۔۔۔ ہر طرف انسانی خون اور گوشت، کٹے ہوئے اعضاء، خون سے لتھڑے کٹے پھٹے کپڑے، چیخیں، آہیں اور سسکیاں ۔۔۔ورق ورق کتابیں اور انتہائی خوبصورت بُک سٹور کی بہت ہی خستہ حالت! اپنی پینتالیس برسوں کی زندگی میں، میں نے دہشت گردی کا شکار ہونے والی اگرچہ کئی جگہوں کا معاینہ کیا تھا لیکن نہ جانے آج مجھ سے یہ منظر کیوں دیکھا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔ مجھے شدید متلی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ اسی لمحے میری نظر کسی عورت کے ایک کٹے ہوئے ہاتھ پر پڑی اور میں چکرا کر گرا ۔۔۔ پھر کیا ہوا ۔۔۔ نہیں معلوم!

میں نے آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو اپنے ہی دفتر کے ریسٹ روم میں پایا۔ ابھی ہوش میں آئے چند ثانیے ہی ہوئے تھے کہ میرے کان میں سرگوشی ہوئی:

''انسپکٹر لی پھنگ آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ آپ دو گھنٹے کی پُرسکون نیند لے چکے ہیں۔ اس لیے گھبرایئے مت اور ہیڈفون اُتار کر واش روم میں چلے جایئے۔ تازہ دم ہو کر آدھ گھنٹے کے بعد میٹنگ روم میں آجایئے۔۔۔ آپ کا انتظار رہے گا''۔

میٹنگ روم تک پہنچتے مجھے پچھلے تمام واقعات یاد آچکے تھے کہ کیسے اطلاع ملی کہ شہر کی کتابوں کی معروف دُکان پر بم دھماکا ہوا اور میں دُکان پر خوف ناک منظر کی تاب نہ لاسکا اور ایسا ہونا میرے جیسے شخص کے لیے بہت ہی عجیب تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جرائم پیشہ لوگوں کے بجائے معصوم شہریوں کا ایسا حشر میں نے پہلے کم ہی دیکھا تھا۔ محکمے والوں نے میرے ہوش میں آنے کے فوراً بعد مجھے سلا دیا ہو گا اور ساتھ کسی طاقتور انجکشن سے میری توانائی بھی بحال کر دی ہو گی، اسی لیے میں بالکل ٹھیک محسوس رہا تھا لیکن اس منظر اور بے گناہ لوگوں کی موت نے مجھ پر افسردگی، غصہ اور جھنجھلاہٹ طاری کر دی۔

جب میں میٹنگ روم میں داخل ہوا تو کچھ اسی قسم کے تاثرات مجھے دوسروں کے چہرے پر نظر آئے۔ وہ لوگ واقعی میرا انتظار کر رہے تھے، اسی لیے فوراً ہی آفیسر کی آواز گونجی:

''آپ کو معلوم ہے کہ بُک سنٹر میں دھماکے کی ذمہ داری ایک انتہاپسند تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ اس تنظیم کے لوگ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دُکان کے مالک پبلشر نے ایک ایسی کتاب شائع کی ہے جس میں اسلام کے پیغمبرؐ کے بارے میں توہین آمیز باتیں لکھی ہیں''۔

''ہمارے ملک میں اس طرح کی دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ ہے، اس لیے محکمے نے فیصلہ کیا ہے صرف یہی معلوم نہ کیا جائے کہ دھماکے کرنے والے مجرم کون ہیں بلکہ مجرموں کی اس نفسیات کا کھوج بھی لگایا جائے جس کی وجہ سے انھوں نے یہ گھناؤنا جرم کیا ہے، لہٰذا اس واقعے کی تحقیق اور تفتیش تین مرحلوں میں ہو گی ۔۔۔ اوّل ذمہ دار مجرمین کی تلاش، دوم جرم کی وجہ اور مجرمین کی ذہنیت کا تجزیہ، سوم سکیورٹی انتظامات میں ان خرابیوں کا سُراغ جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا''۔

آفیسر موصوف رُکے تو میٹنگ میں موجود کئی لوگوں نے سوال داغ دیے۔ میرے خیال میں سارے سوالات غیرضروری تھے۔ میں خاموش رہا تو آفیسر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ''مسٹرلی پھنگ، آپ کیوں خاموش ہیں؟''

میں نے کہا: ''مجھے صرف یہ بتایئے کہ اس کیس میں مجھے کیا ذمہ داری سونپی گئی ہے!''

''مجرمین کی ذہنیت کا تجزیہ کرنا آپ کا کام ہے۔۔۔''

میرے ساتھ بیٹھے ایک دوسرے پولیس آفیسر بولے: ''دراصل ان کی مہیا کی گئی معلومات ہی سے ہم مستقبل میں اس طرح کے حادثات سے محفوظ ہو سکیں گے اور اس سے ہم مجرموں کا جلد از جلد سُراغ بھی لگا سکیں گے ''۔

میں نے اس پولیس آفیسر کی بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا:

''کیا آپ کو دی گئی ذمہ داری مناسب ہے مسٹرلی پھنگ؟''

مجھے معلوم تھا کہ جرمیات (Crimnology) میں ماسٹرز کرنے والے انسپکٹر کے لیے یہ کام کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ ''جی ہاں!'' میں نے مختصر جواب دیا۔

***

میں جیسے جیسے پچھلے ریکارڈ پر نظر دوڑا رہا تھا، نفرت سے میرا وجود کوئلہ ہو رہا تھا۔ میرے پاس سوویت روس کے ٹوٹنے کے بعد دہشت گردی کی جتنی رپورٹس تھیں، ان میں 80فیصد سے زیادہ مسلمان کہلانے والے ہی ملوث تھے۔ مزید حیرت کی بات یہ سامنے آئی کہ ان میں اکثر اپنے آپ کو مجاہد (Devine Soldiers ) قرار دیتے ہیں اور انھیں مختلف شدت پسند مذہبی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ میرا مطالعہ ابھی جاری تھا کہ میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے سیل فون کان سے لگایامگر لائن کٹ گئی۔ چند لمحوں کے بعد دوبارہ فون گنگنایا اور اس مرتبہ بھی پہلے والا ہی معاملہ ہوا۔ میں نے فون کرنے والے کا نمبر دیکھا۔ میں ابھی اس نمبر پر خود بات کرنے والا تھا کہ کچھ سوچ کر خاموش رہا۔ مجھے یقین تھا کہ تیسری مرتبہ بھی فون آئے گا اور یہی ہوا مگر میری توقع کے برخلاف اس دفعہ بھی صرف گھنٹی ہی بجی۔ اب میں نے اپنے ماتحت کو یہ نمبر دے کر کہا کہ معلوم کرو کہ یہ نمبر کہاں کا ہے۔ ایک منٹ بعد اس نے مجھے بتا دیا کہ اس نمبر سے فون دفتر کے قریب ترین ٹیلی فون بوتھ سے کیا گیا ہے۔

یہ اطلاع مجھے چونکا دینے والی تھی ۔۔۔ مجھے خطرے کی بو آنے لگی۔ میں نے اپنے ماتحت کو فون پر نیا حکم دیا۔ ''معلوم کرو کہ بم کیس کی تفتیشی ٹیم کے بارے میں کیاخبر نشر کی گئی ہے؟''

اس سوال کا جواب ملنے سے پہلے ہی میری فیکس مشین پر میرے نام ایک پیغام آگیا۔ اسے دیکھ کر میں حیرت سے اُچھل پڑا۔ یہ کسی انجانی زبان میں لکھا پیغام تھا ۔۔۔ میرا خیال تھا کہ عربی میں ہے ۔۔۔ میں نے فوراً متعلقہ شعبے کو بھجوایا اور پوچھا کہ یہ کون سی زبان ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟ مجھے ابھی واپس پیغام نہیں ملا تھا کہ موبائل پھر بول اُٹھا۔ اب میں نے فون پکڑا اور تیزی سے دفتر سے باہر نکلا۔ میرا خیال تھا کہ میں دو یا تین منٹوں میں اس ٹیلی فون بوتھ کو کم ازکم دور سے ضرور دیکھ سکوں گا اور ہو سکتا ہے اس پُراسرار آدمی کو بھی دیکھ پاؤں جو یہ فون کر رہا ہے۔

میں ابھی چند قدم ہی دوڑا ہوں گا کہ مجھے اپنے سامنے ماتحت ''منولی'' ہانپتاکانپتا آتا دکھائی دیا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے اسے جیب میں اڑسا اور میرے پوچھنے سے پہلے ہی بول پڑا:

''سرکمال کرتے ہیں آپ بھی! ذرا نہ سوچا کہ محض آپ کے فون کی گھنٹی بجا کر وہ آپ سے کیا چاہتا ہے؟ یہی نا کہ معلوم کرے کہ آیا آپ آفس میں موجود ہیں؟ اور یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ فون قریبی بوتھ سے کیا جا رہا ہے، آپ اسے دیکھنے یہاں پر ضرور آئیں گے ۔۔۔ خود سوچیں، کسی کو قتل کرنے کی اس سے اچھی ترکیب کیا ہو سکتی ہے؟''

میں نے اس کی کہی کو اَن سنی کا تاثردیتے ہوئے کہا: ''تم بتاؤ، ہماری میٹنگ کی خبر کہاں نشر ہوئی تھی اور فیکس کس زبان میں تھا اور اس کا کیا مطلب تھا؟''

اپنی دی ہوئی معلومات کی یہ ناقدری دیکھ کر وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگا، پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا: ''۔۔۔آآ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ میٹنگ کی خبر ایک مقامی ٹی وی میں نشر ہوئی ہے اور وہ فیکس عربی میں ہے ۔۔۔ مگر آپ نے ۔۔۔''

میں نے پھر اس کی بات کاٹی اور اپنا سوال داغ دیا: ''تم نے فون کرنے والے کو دیکھا تھا؟''

''نن نہیں ۔۔۔ بس بوتھ میں رسیور کے ساتھ یہ کاغذ چپکا ہوا ملا تھا ۔۔۔''

اس نے میری دلچسپی کی خبر اب مجھے بتائی تھی! میں نے کاغذ پکڑا جس پر صرف ایک جملہ لکھا ہوا تھا:

''میں مجرموں کو جانتا ہوں''

اب میں اپنے ماتحت کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:'' تمھاری پھرتیوں'' کی تعریف کرتا ہوں لیکن یہ کیس پھرتیوں سے نہیں، ذہانت سے حل ہو گا ۔۔۔ آفس میں میری موجودگی معلوم کرنے کے لیے فون کیا جاتا تو موبائل کے بجائے لینڈ نمبر پر بات کی جاتی اور ایک ہی دفعہ کی جاتی ۔۔۔ کیا سمجھے! یہ شخص محض توجہ چاہتا ہے ۔۔۔ اور وہ میں اسے دوں گا ۔۔۔ تم جاؤ اب ۔۔۔ میرے اگلے حکم کا انتظار کرو!''

ویسے میں دل ہی دل میں اپنے ماتحت کے احساس ذمہ داری پر بہت خوش تھا ۔۔۔ اس نے اپنے طور پر جو نتیجہ اخذ کیا تھا، وہ اگرچہ درست نہیں تھا لیکن اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ وہ ٹیلی فون بوتھ پر پہنچ گیا اور پر اسرار شخص کا پیغام ہمیں مل گیا ۔

میں یہی سوچتا گیراج میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اگلے چند منٹوں میں میری گاڑی اوکلوہاما یونیورسٹی کی طرف دوڑ رہی تھی۔ میری منزل یونیورسٹی کے عربی کے ٹیچر تھے ۔ دراصل فیکس کا ترجمہ کرانے کے لیے میں زیادہ وقت نہیں دے سکتا تھا ، اسی لیے میں نے پروفیسر صاحب سے رابطہ کرنے کا سوچا تھا۔ وہ اپنے آفس سے نکلنے کی تیاری میں تھے جب میں نے انھیں جا لیا۔ ان کے بارے میں، میں صرف یہی جاتا تھا کہ'' مسٹرعبدالرحمان تنک'' جاپانی ہیں اور وہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ وہ پچاس سے زائد عمر کے تھے، چہرے پر پکے عقیدے کے مسلمانوں کی طرح ڈاڑھی تھی لیکن وہ بڑے سلیقے سے تراشی گئی تھی اور پروفیسر کے چہرے پر بڑی بھلی معلوم ہوتی تھی۔انھوں نے خاصے سپاٹ لہجے میں میرااستقبال کیا اور وقت کی کمی کا احساس دلاتے ہوئے جلد از جلد مجھے اپنامدعا بیان کرنے کو کہا۔ میں نے بھی ان کے سامنے فوراً فیکس کیا گیا پیغام رکھا۔ پیغام پڑھتے ہی میں نے ان کے چہرے کی رنگت تبدیل ہوتے دیکھی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وہ مطلب سمجھاتے ہوئے بولے :

''بہت دل چسپ پیغام ہے آفیسر، اس کے بعد اس نے لکھی گئی عبارت کا ترجمہ کرنا شروع کیا :

'' آپ اپنی تفتیش میں پہلے ان سوالوں کا جواب جاننے کی کوشش کریں: اول کہ کیا اسلام دہشت گردی کی اجازت دیتا ہے ؟ دوم ، کیا اسلام میں کوئی ایسا حکم ہے کہ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام یا کسی اور پیغمبر یا کسی مقدس شخصیت کی توہین کرے تو کوئی بھی مسلمان ایسی حرکت کرنے والے کو اپنے طور پرقتل کر سکتا ہے ؟ سوم یہ کہ بیسویں صدی میں آزادی حاصل کرنے والے مسلمانوں میں دہشت گردی کے واقعات سب سے زیادہ ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے بعد آپ پہلے دو سوال ان مجرموں سے ضرور پوچھیے گا جو اس دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں جس کی تفتیش آپ کر رہے ہیں! فقط آپ کا خیرخواہ!''

میں نے پروفیسر تنک کا شکریہ ادا کیا۔ فیکس کے مندرجات کے بعد خلافِ توقع پروفیسر تنک نے مجھ سے کوئی سوال نہ کیا کہ یہ فیکس کس سلسلے میں کی گئی ہے، بس وہ جلدی سے اپنا سامان سمیٹ کر چلتے بنے۔

اگرچہ اپنے کام سے کام رکھنا ہم جاپانیوں کے مزاج میں شامل ہے اور پروفیسر موصوف قلتِ وقت کا بھی کہہ چکے تھے لیکن پھر بھی ایک غیرمعمولی حادثے کے متعلق پروفیسر کا بالکل غیرمتعلق رہنا مجھے نارمل رویہ نہیں لگ رہا تھا۔ میں گہری سوچوں میں مبتلا واپس پلٹا۔ میں نے یہ خط فنگرپرنٹس معاینہ کے لیے بھجوا دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس پر تین افراد کے نشانات تھے۔ تینوں نشانات پہچان لیے گئے تھے۔ ایک میرے، دوسرے میرے ماتحت کے اور تیسرے پروفیسر عبدالرحمان تنک کے۔ میں اسی نکتے پر غور کر رہا تھا کہ موبائل فون بول اُٹھا۔

''سر ایک زبردست خوش خبری۔۔۔ جس دُکان میں دھماکا ہوا ہے، وہاں کی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی ہے ۔ دھماکے کے باوجود اس دن کی ریکارڈنگ محفوظ رہی ہے ۔۔۔ ریکارڈنگ کی کاپی میرے پاس آچکی ہے۔ آپ حکم کریں تو ابھی لے آؤں۔۔۔'' میرا ماتحت بول رہا تھا ۔۔۔ میں نے اسے دفتر آنے کے لیے کہا۔

***

ہم نے ریکارڈنگ کو چار مرتبہ دیکھا اور اس میں ہم نے ایک شخص ہی کو اچھی طرح پہچانا تھا ۔۔۔ یہ تھے پروفیسر عبدالرحمن تنک ۔۔۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا ۔۔۔ یہ غیرملکی تھا۔ پروفیسر تنک کے دُکان میں آنے کے ٹھیک تین منٹ بعد ہی دھماکا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ اتفاقاً بھی ہو سکتا تھا لیکن میرے لیے اب تنک صاحب سے ملنا بہت ضروری ہو چکا تھا۔ میں ابھی اسی اُلجھن میں تھا کہ میرے ذہن میں ایک زبردست جھماکا ہوا ۔۔۔ میں فوراً اُٹھا ۔۔۔ مگر فون کی گھنٹی رکاوٹ بن گئی ۔۔۔ ہیلو کے بعد جو آواز سُنی گئی تھی وہ مجھے حیران کر دینے والی تھی ۔۔۔

''ہیلو انسپکٹر پھنگ! یقیناًآپ کو میری تلاش ہو گی ۔۔۔ تو میں حاضر ہوں ۔۔۔'' میں اس آواز کو اچھی طرح پہچانتا تھا۔

''جی ہاں پروفیسر عبدالرحمان تنک ۔۔۔ واقعی میں آپ ہی کی طرف آرہا تھا''۔

''اصل میں مجھے ابھی ایک گمنام فون میں کہا گیا ہے کہ میں آپ سے رابطہ کروں کیونکہ آپ مجھے بم دھماکے والے واقعے میں ملوث سمجھ رہے ہیں!''

پروفیسر کی اس بات نے مجھے چکرا کر رکھ دیا کیونکہ میں واقعی ایسا ہی سمجھ رہا تھا ۔۔۔ میں نے پروفیسر صاحب سے کہا کہ وہ گھر ہی پر رہیں، میں آج کسی وقت خود ان کی طرف آرہا ہوں ۔۔۔ دوسری طرف میں نے اپنے ماتحت کو حکم دیا کہ وہ اپنے اعتبار کے کچھ کمانڈوز کو جلد ازجلد پروفیسر کے گھر اس کی حفاظت کے لیے بھیجے کیونکہ مجھے ان کی زندگی خطرے میں لگتی ہے۔

اب تک کی کارروائی میں، میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ مجھے فون کرنے والا میرا دُشمن نہیں، اور پروفیسر تنک اسی واقعے کے بارے میں کوئی ایسی بات ضرور جانتے ہیں جو اس دھماکے کے راز سے پردہ اُٹھا سکتی ہے۔ جہاں تک یہ سوال تھا کہ فون کرنے والا میرے سامنے کیوں نہیں آتا تو اس کا یہی مطلب تھا کہ خود اس کی جان کو خطرہ ہے!

پھر کچھ سوچتے ہوئے میں نے ایک دفعہ اور ریکارڈنگ دیکھی۔

پروفیسر تنک کا چہرہ مجھے بالکل نارمل لگتا تھا حالانکہ ان کے دُکان سے نکلنے سے محض تین منٹ بعد دھماکا ہوا تھا اور اگر وہ اس میں ملوث ہوتے تو ان کے چہرے پر گھبراہٹ کے کچھ آثار ضرور ہوتے اور وہ جلدی میں نظر آتے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں لگتا تھا۔ ایک مرتبہ پھر ویڈیو دیکھی۔ اب میری توجہ پروفیسر تنک ہی پر نہیں تھی۔ کئی مرتبہ دیکھنے کے بعد آخر میں ایسے منظر کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا جو میرے خیال میں اہم ثابت ہو سکتا تھا۔ اس منظر میں مجھے ایک غیرملکی نوجوان جاپانی زبان میں لکھی گئی ایک موٹی سی کتاب شیلف میں لگاتا ہوا نظر آیا۔ اس منظر میں تین باتیں قابلِ غور تھیں۔ اوّل یہ کہ غیرملکی کون سی جاپانی کتاب دیکھ رہا ہے؟ دوسرا یہ کہ منظر کو تفصیلی دیکھنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ اس نے یہ کتاب اس شیلف سے نہیں نکالی تھی۔ اب یا تو وہ کتاب اپنے ساتھ لایا تھا یا کسی اور شیلف سے نکال کر وہ یہاں رکھ رہا تھا، دونوں صورتوں میں معاملہ گڑبگڑ تھا۔ تیسرا پہلو یہ تھا کتاب رکھنے کے بعد نوجوان نے غیرمحسوس طریقے سے اردگرد دیکھا اور پھر سیدھا دُکان سے باہر کا رُخ کرتا نظر آیا۔ مجھے اُلجھی ڈور کا سِرا ہاتھ آتا محسوس ہونے لگا۔ میں نے منظر کو قریب (Close) کیا اور نوجوان کی تصویر حاصل کر کے اپنے ماتحت کے حوالے کی اور کہا کہ وہ جلد ازجلد اس نوجوان کو پکڑے اور میرے حوالے کرے۔

دوسرا کام میں نے اس کیس کی دوسری ٹیم کے ذمے لگایا۔ ان سے میں نے یہ کہا کہ مجھے بتایا جائے کہ بم کی ساخت کیا تھی اور وہ کہاں رکھا گیا تھا؟ اس کام سے فارغ ہو کر میں پروفیسر تنک کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے بھر میں اسی بات پر غور کرتا رہا کہ عربی میں فیکس کرنے والے نامعلوم شخص نے ایسا کیوں کیا؟ ایک سادہ وجہ تو یہ سمجھ میں آئی کہ یہ شخص جانتا تھا کہ میں اسے پڑھنے کے لیے پروفیسر تنک کے پاس ہی لے کر جاؤں گا اور وہ سوال پڑھ کر خود ہی اس کا جواب دینا چاہیں گے یا میں ان سے پوچھوں گا۔ مگر ان میں سے کوئی کام نہ ہوا۔ مجھے اپنی بے وقوفی پر افسوس ہو رہا تھا۔ تب ایک اور خیال نے میرے ذہن کے بند دریچے کھول دیے۔

میں نے گاڑی کے دائیں آئینے میں دیکھا تو مجھے تعاقب کا شک ہوا ، مگر جس گاڑی پر میرا شک تھا وہ پیچھے دوسری سڑک پر مڑ گئی تھی لیکن اگلے ہی لمحے مجھے خیال آیا کہ یہ سڑک بھی آگے جا کر دوبارہ اس راستے سے آملتی ہے جس پر میں جا رہا تھا۔ بہرکیف میں مزید چوکنا ہو گیا اور اپنا ریوالور نکال کر سیٹ پر اس طرح رکھ دیا کہ اسے فوراً کام میں لایا جاسکے مگر راستے میں کوئی ناگوار واقعہ نہ ہوا۔

میں اب پروفیسر کے گھر کے قریب تھا۔ میری ہدایت کے مطابق پروفیسر کے گھر کے باہر حفاظت کا انتظام تھا۔ مجھے بتایا گیا یہ کمانڈو صرف دو گھنٹے پہلے آئے ہیں۔ میں پروفیسر کے گھر میں داخل ہوا تو نہ جانے میری چھٹی حس خطرے کی بو کیوں محسوس کر رہی تھی!

گھر میں بالکل خاموشی تھی حالانکہ میں معلوم کر چکا تھا کہ پروفیسر کے گھر دو افراد اور بھی رہتے ہیں مگر پروفیسر کا سٹڈی روم اور دوسرا کمرہ خالی تھا۔ میں نے پروفیسر کو آواز دی لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے پھر آواز دی۔ جواب میں کہیں سے مجھے گھٹی گھٹی سی آواز سُنائی دی۔ میں اس کی طرف لپکا مگر میرے تیز قدموں کو موبائل فون کی گھنٹی نے روک دیا۔ کیوں کہ گھنٹی دوسری نوعیت کی تھی ۔۔۔ کوئی مجھے لکھ کر پیغام دے رہا تھا۔ اس کا نمبر میرے لیے اجنبی تھا مگر میرے فون کی ننھی سکرین پر جو کچھ لکھا گیا تھا اس نے میرے سارے ہوش وحواس اُڑا کر رکھ دیے۔ یہ صرف ایک جملہ تھا، جس کا مطلب میں بہت اچھی طرح سمجھ رہا تھا، مگر یہ پیغام لکھ کر کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس سوال نے ایک اور خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ میں نے پیغام نوٹ کر کے فوراً آفس فون کیا۔ اپنے سے بڑے آفیسر کو وہ نمبر دیا جس نے مجھے لکھ کر پیغام بھیجا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ اس شخص کا نمبر ہے جس نے ابھی ابھی لکھ کر پیغام بھیجا ہے، اس کی زندگی خطرے میں ہے۔ اس کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے۔ اسی دوران مجھے پروفیسر تنک کی آواز سُنائی دی جو خاصی واضح ہو چکی تھی۔ آواز چند قدم دائیں ہاتھ والے کمرے سے آرہی تھی۔ یہ کمرہ باورچی خانہ لگ رہا تھا۔ میں وہیں سے پوری آواز میں چیخا:

''پروفیسر تنک ۔۔۔ آپ جہاں ہیں، وہیں رہیں ۔۔۔ ایک قدم بھی آگے مت بڑھائیں اور وہیں سے اُونچی آواز میں بولیں کیا آپ پہلے بے ہوش تھے؟''

''نہیں، مجھے کُرسی سے باندھ دیا گیا تھا، مگر اب میں نے بڑی محنت سے اپنے آپ کو کھول لیا ہے ۔۔۔ لیکن اب آپ۔۔۔''

میں نے پروفیسر کی بات کاٹی اور بلند آواز سے قدرے سخت لہجے میں کہا:

''پروفیسر تنک، غور سے سُنیں ۔۔۔ ابھی دروازے پر ایک دھماکا ہو گا۔ اس لیے آپ دروازے سے جتنی دور ہو سکتے ہیں ہو جائیں اور کسی مضبوط میز کے نیچے چھپ جائیں ۔۔۔ دھماکا ٹھیک دو منٹ بعد ہو گا ۔۔۔ کیا آپ نے میرا پیغام سُن لیا۔۔۔؟ اور کیا کوئی میز کی طرح کی چیز ہے جس کے نیچے آپ محفوظ رہ سکیں؟'' میں نے قریب آکر کہا۔

''ہاں'' پروفیسر کی خوف میں ڈوبی آواز آئی۔

اب میں نے باہر سے دو کمانڈوز کو بلایا۔ ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہاں آنے پر انھوں نے پروفیسر سے ملاقات کی تھی اور انھیں بتایا تھا کہ ہم ان کی حفاظت کے لیے آئے ہیں لیکن انھوں نے کچھ جواب نہ دیا اور خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔ جب میں نے یہ پوچھا کہ گھر سے کوئی شخص باہر گیا ہے تو پتا چلا کہ ایک ملازم چھٹی پر گیا ہے، میں سمجھ گیا کہ یہ ''ملازم'' کون تھا۔ پھر میں نے کمانڈوز کو بتایا کہ دروازے پر ''بوبی ٹریپ'' (ایک خاص قسم کا بم ، جس چیز میں یہ چھپایا جاتا ہے جب اسے استعمال کیا جاتا ہے تو دھماکا ہو جاتا ہے) سے دروازہ کھولنے پر دھماکا ہونا ہے۔ مجھے نامعلوم شخص نے لکھ کر یہی پیغام دیا تھا۔ میں نے ایک کمرے سے ایک کُرسی گھسیٹی اور کمانڈوز کو حکم دیا کہ وہ مناسب فاصلے سے کُرسی کو دروازے سے اس طرح ماریں کہ دروازہ کھل جائے۔ انھوں نے ایسے ہی کیا۔اس سے قبل میں پروفیسر صاحب سے پوچھ چکا تھا کہ وہ کہاں چھپے ہیں ۔ مطمئن ہونے کے بعد میں نے ایک کرسی کودروازے سے زوردار طریقے سے دھکیلا، دروازہ کھل تو نہ سکا لیکن اُمید ہو چلی تھی کہ دوسری یا تیسری کوشش میں کھل جائے گا مگر ایک کمانڈو کُرسی کے بجائے ایک چھوٹا میز گھسیٹ لایا اور دونوں نے مل کر پوری قوت سے میز کو دروازے کی طرف اُچھال دیا ۔۔۔ جیسے ہی دروازہ تھوڑا ساکھلا ۔۔۔ ایک چھوٹا دھماکا ہوا۔

بوبی ٹریپ میں اگرچہ بم چھوٹا تھا لیکن اگر پروفیسر یا ہم میں سے کوئی دروازہ کھولتا تو یقیناًہلاک ہو جاتا۔ مجھے اب پروفیسر کی فکر تھی۔ ہم تینوں کمرے میں گھسے ۔۔۔ کمرے میں دھوئیں اور گرد سے ابھی کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں ایک کونے میں ایک چھوٹی ڈائننگ ٹیبل کے نیچے سے پروفیسر صاحب نکلتے ہوئے دکھائی دیے۔

میں نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ''پروفیسر صاحب، مجھے سخت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے مجھ سے تعاون نہیں کیا ۔۔۔ آپ نے یہ کیوں نہ بتایا کہ آپ مجرموں کے متعلق کچھ جانتے ہیں؟''

پروفیسر تنک نے میری بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا: ''کیا آپ نے مجرم کو گرفتار کر لیا ہے؟''

''نہیں ۔۔۔ ہم تو آپ کے ایک گمنام خیرخواہ کی وجہ سے یہاں پر آئے اور اس کی مدد سے آپ کی اور ہماری جان محفوظ رہی ۔۔۔''

''اس کا مطلب ہے کہ ۔۔۔''

پروفیسر تنک یوں خاموش ہوئے جیسے ان کی کنپٹی پر کسی نے ریوالور رکھ دیا ہو۔

''آپ خاموش کیوں ہو گئے ہیں ۔۔۔ بولتے کیوں نہیں ۔۔۔ دیکھئے پروفیسر ۔۔۔ اپنا فرض ادا کریں''۔

''انسپکٹر لی پھنگ ۔۔۔ میں نے تمھاری بہت تعریف سُنی تھی، مگر اس کیس میں تم انتہائی بے وقوف ثابت ہوئے ہو''۔

وہ پھر خاموش ہوا تو میں لمحے بھر اسے پھٹی پھٹی نظروں سے واقعی بے وقوفوں کی طرح دیکھا، پھر اچانک اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا:

''دھماکے کے بعد آپ کی بات مجرم تک نہیں پہنچ سکتی، آپ بے فکر رہیں ۔۔۔ اب آپ محفوظ ہیں''۔ میں نے باورچی خانے کا اچھی طرح جائزہ لیتے ہوئے کہا۔

''کیا یہاں سے محفوظ طریقے سے باہر جایا جا سکتا ہے؟'' پروفیسر نے کچھ اشارے اور کچھ سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔۔ میں نے کوئی جواب دینے کے بجائے اپنے ساتھی کمانڈوز کو خاص نظروں سے دیکھا اور انتہائی احتیاط سے باہر کی طرف قدم اُٹھانے لگے۔ ہم نے پروفیسر کو اس طرح گھیرا ہوا تھا کہ جیسے کوئی ابھی اسے ہم سے جھپٹ کر لے جائے گا۔

***

پروفیسر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا: ''انسپکٹر لی پھنگ، اگر میں آپ کی کسی بات کا کوئی جواب دیتا تو عمرتناکا قتل ہو جاتا ۔۔۔ وہی عمر تناکا، جو ابھی تک آپ کی رہنمائی کر رہا ہے ۔۔۔ میرا خیال ہے میرے گھر کے ہر کمرے اور آفس میں مجرموں نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ وہ میری آواز براہ راست سُن سکتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ دیکھ بھی رہے ہوں، اسی وجہ سے میں خواہش کے باوجود آپ کو کچھ نہ بتا سکا''۔

''تو پھر آپ نے مجھے فون کیوں کیا؟'' میں نے سوال داغا۔

''اس کے لیے مجھے مجبور کیا گیا تھا۔ مجرموں نے دھمکی دی کہ اگر میں نے آپ کو یہاں نہ بلایا تو عمرتناکا اور مجھے ہلاک کر دیا جائے گا، تبھی میں نے مجبور ہو کر فون کیا، اس کے بعد انھوں نے مجھے باورچی خانے میں کُرسی پر باندھ دیا''۔

میں مجرموں کا منصوبہ اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ انھوں نے پروفیسر کو اس طرح باندھا کہ جب دروازہ کھلے تو دروازہ کھولنے والا اور خود پروفیسر ہلاک ہو جائیں۔ انھوں نے پروفیسر کی رسیاں بھی ذرا نرم باندھی تھیں تاکہ اگر کوئی ان کی مدد کو نہ آئے تو وہ خود دروازہ کھولتا ہوا ہلاک ہو جائے۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ پروفیسر تنک واقعی مجرموں کو پہچانتا ہے۔ تب میں نے پروفیسر کو ساری بات تفصیل سے بتانے کو کہا تو وہ بولے:

''عمرتناکا میرا شاگرد ہے۔ اس نے مجھ ہی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔ وہ گاہے گاہے میرے پاس آتا رہتا ہے۔ ایک دن اس نے بتایا کہ ایک غیرملکی نوجوان سے اس کی دوستی ہو گئی ہے۔ یہ نوجوان بھی اسی یونیورسٹی کا طالب علم ہے جہاں تناکا پڑھتا ہے۔ اس نئے دوست کا نام راشدی ہے اور وہ مسلمان ہے اور کچھ اسلامی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ عمرتناکا خوشی خوشی اسے میرے پاس لے آیا۔ راشدی مجھے مل کر بہت خوش ہوا۔ میں نے اسے ایک جذباتی نوجوان پایا۔ وہ ایک فلسطینی تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ سلمان رُشدی کی بدنام کتاب کا جاپانی زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ اگر یہ کتاب دُنیا کی دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی تو یہ ہمارے رسولؐ کی شان میں بڑی گستاخی کا باعث بنے گی۔ میں نے پوچھا کہ پھر کیا کیا جائے، تو کہنے لگا کہ اگر اس جاپانی مترجم کو قتل کر دیا جائے تو پھر باقی لوگ اس کتاب کا ترجمہ کرتے وقت ضرور سوچیں گے کہ وہ اپنی موت کا سامان کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام میں اس طرح کی دہشت گردی کی کوئی گنجایش نہیں۔دنیا کے ہر قانون کی طرح اسلامی قانون بھی کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لیے اسلام ہمیں اس بات کی کوئی اجازت نہیں دیتا کہ جس شخص کے بارے میں ہمیں یہ علم ہو کہ اس نے اللہ کے رسولؐ یا کسی دوسری محترم ہستی کی شان میں جان بوجھ کر گستاخی کی ہے اسے ہم اپنے طور پر قتل کردیں، بلکہ میں نے اسے ایک اور بات کہی ۔۔۔ وہ یہ تھی کہ ساری دُنیا کے اسلام دُشمن لوگ مل کر بھی اللہ کے رسولؐ کو بدنام یا ان کی شان میں کمی کرنے کی سازش کریں تو ناکام ہوں گے، منہ کی کھائیں گے، خود ذلیل ہوں گے، کیونکہ آپؐ کی شان بڑھانے، مرتبہ بلند ہونے کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اور اللہ کا وعدہ، اس کی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوتی، مگر میری اس بات کا راشدی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے مجھ سے کئی زوردار بحثیں کیں لیکن وہ مجھے قائل نہ کرسکا۔ اُلٹا ہر موقعے پر یہی بات واضح ہوئی کہ اسلام تو امن کا مذہب ہے۔ وہ کسی کو دہشت گردی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اللہ کے رسولؐ یا کسی برگزیدہ ہستی کے خلاف زبان درازی بے شک پرلے درجے کا برا فعل ہے لیکن جس طرح ہاتھ کاٹنے، قتل کرنے، ڈاکا ڈالنے کی سزا ہم یا آپ نہیں بلکہ صرف اور صرف عدالت ہی دے سکتی ہے، اسی طرح اس حرکت کی سزا بھی عدالت ہی دے سکتی ہے۔ اگر ملکی قانون اسے جرم مانتا ہے تو بلاشبہ عدالت اسے سزا دے سکتی ہے، لیکن میں اور آپ نہیں۔ تب وہ غصّے سے بولا: ''چاہے کچھ بھی ہو، میں اس گستاخ جاپانی کو سبق سکھا کر رہوں گا، یہ میری غیرت اور رسول سے محبت کا تقاضا ہے۔ اس کے بعد راشدی کبھی میرے پاس نہ آیا۔ البتہ عمرتناکا میرے پاس آتا رہا اور بتاتا رہا کہ راشدی کا ملنا جلنا خطرناک لوگوں سے لگتا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ وہ راشدی سے ملنا جلنا چھوڑ دے اور ان لوگوں کے بارے میں کوئی خطرناک بات محسوس ہو تو فوراً مجھے یا پولیس کو بتائے۔ پھر ایک دن عمرتناکا گھبرایا ہوا میرے پاس آیا کہ راشدی نے اسے بتایا ہے کہ ہم نے اس جاپانی پبلشر اور مترجم کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس نیک کام میں شامل ہو سکتا ہے۔ عمرتناکا نے کچھ میری نصیحت کے مطابق اور کچھ اپنے تجسس کے باعث ہامی بھرلی۔ تب راشدی اسے اپنے کچھ خاص دوستوں سے ملوانے لے گیا۔ وہاں پہلے ہی دن عمر کو مجھ سے تعلق رکھنے سے منع کر دیا گیا، مگر اسی روز، رات کو عمرتناکا میرے پاس آیا اور یہ ساری باتیں بتا گیا۔ اس کے کچھ دنوں بعد دھماکے کا واقعہ ہوا تو میں نے خود عمرتناکا سے رابطہ کیا۔ عمرتناکا ایک اپارٹمنٹ میں اکیلا رہتا تھا۔ میں وہاں گیا تو کسی نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ مجھے مارا پیٹا گیا ، میرا موبائل فون چھین لیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر میں نے عمرتناکا یا راشدی کے متعلق کسی کو کچھ بتایا تو مجھے ہلاک کر دیا جائے گا۔ میں گھر واپس آگیا اور آتے ہی پولیس کا نمبر ڈائل کیا مگر لائن کٹ گئی۔ کئی بار ناکام کوشش کرنے کے بعد میں نے ای میل کے ذریعے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اسی وقت ایک نقاب پوش کسی جن کی طرح ظاہر ہوا اور اس نے کہا کہ اس گھر میں اگر کوئی کھانسے گا بھی تو ہمیں خبر ہو جائے گی اور یہ آخری وارننگ ہے۔ اس نقاب پوش کی اس طرح آمد، اس کی دھمکی کو خوف ناک حقیقت ثابت کر رہی تھی۔ میں جب بھی گھر سے باہر نکلا، مجھے اپنا تعاقب ہوتا محسوس ہوا اور ابھی آج کے واقعات کا تو آپ کو علم ہی ہے''۔

پروفیسر تنک کا لمبا بیان ختم ہو اتو میں نے ان سے مختلف سوال کیے۔ ان کے نتیجے میں، مجھے یقین ہو گیا کہ پروفیسر کا بیان بالکل سچ ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ پروفیسر تنک کو خصوصی حفاظتی انتظام میں رکھا جائے۔

دفتر پہنچ کر میں نے پروفیسر کو وہ تصویر دکھائی جو میں نے ریکارڈنگ سے لی تھی۔ انھوں نے تصویر دیکھتے ہی کہا کہ یہ تو ''راشدی'' ہے۔ اس کے بعد میں نے انھیں ریکارڈنگ دکھائی اور پوچھا کہ اس میں وہ کسی ایسے شخص کو پہچان سکتے ہیں جس کے ذریعے سے ہم مجرموں تک پہنچ سکتے ہیں مگر وہ کسی اور شخص کی نشاندہی نہ کرسکے۔

میں نے اپنے ماتحت سے رابطہ کیا تو اس نے مجھے فوراً ٹی وی پر تازہ ترین خبریں دیکھنے کے لیے کہا۔ میں نے ٹی وی آن کیا تو ایک تباہ حال گھر کا منظر دکھایا جا رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ ایک فلسطینی کے کمرے میں دھماکے سے یہ تباہی ہوئی ہے۔ اس خبر نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی اور پھر میرے اندیشوں کے مطابق یہی بات سامنے آئی کہ یہ راشدی کا اپارٹمنٹ تھا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ایسا لگتا تھا کہ راشدی بم بناتے ہوئے ہلاک ہوا ہے۔ اس کا چہرہ اور سینہ بُری طرح مسخ ہو گیا تھا۔ دایاں ہاتھ جسم سے علیحدہ ہو کر دور گر پڑا تھا۔ میں نے اپنے ماتحت کو راشدی کے فنگرپرنٹس لینے اور اس کے کمرے کی اچھی طرح تلاشی لینے کا حکم دیا۔

____________




Articles by this author