سلمان رشدی کا بھوت (حصہ دوم)

سلمان رشدی کا بھوت (حصہ دوم)


اس واقعے کے بعد میری ساری توجہ عمرتناکا کی طرف مبذول ہو گئی۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ ضرور کسی ایسی جگہ چھپا ہوا ہے جہاں سے اس کا سُراغ نہ اس کے دُشمن لگا سکتے ہیں نہ دوست ۔۔۔ مگر نہ جانے مجھے یہ اُمید کیوں تھی کہ وہ مجھے فون ضرور کرے گا ۔۔۔

راشدی کے افسوس ناک انجام کو دیکھ کر پروفیسر تنک کہنے لگے: ''انسپکٹر اس واقعے کے پیچھے بہت بڑی سازش ہے ۔۔۔ ایسی تنظیم جو مسلمانوں کو بدنام کرنا چاہتی ہے، جو دُنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ مسلمان اپنے سوا کسی کا وجود برداشت نہیں کرسکتے! ان کے اندر برداشت اور اختلاف رائے کی کوئی گنجایش نہیں!''

مجھے پروفیسر کی یہ باتیں خاصی جذباتی اور غیر حقیقی معلوم ہوئیں، میں نے قدرے خشک لہجے میں کہا: ''لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ مسلمان ہی دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات میں سب سے زیادہ ملوث ہیں۔ خاص طور پر افغانستان اور روس کے ٹوٹنے کے بعد ایسے واقعات میں بہت اضافہ ہو گیا ہے!''

پروفیسر بڑی سنجیدگی سے بولے: ''دیکھئے! جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ ایسی کوئی تعلیم نہیں دیتا کہ مسلمان میدانِ جنگ کے بجائے شہروں میں بے قصور لوگوں کو بموں سے اُڑاتے پھریں۔ وہ تو جنگ میں بھی یہ حکم دیتا ہے کہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر ہاتھ نہ اُٹھایا جائے، درختوں اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے، کسی قوم کی دُشمنی انہیں بے انصافی پر مجبور نہ کرے ۔۔۔ بھلا ایسے مذہب سے آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ دہشت گردی اور فساد پھیلانے کی حوصلہ افزائی کرے گا''۔

پروفیسرصاحب خواہ مخواہ اسلام کا دفاع کرر ہے تھے حالانکہ میں مسلمانوں کی بات کر رہا تھا۔

پروفیسر کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا: ''دراصل بات یہ ہے کہ دُنیا میں ظالم حکومتوں کے خلاف اورلوگ بھی جدوجہد کر رہے ہیں، اسی طرح بم دھماکے کرتے ہیں، فائرنگ کر کے بے گناہوں کو قتل کرتے ہیں مگر ان کی تخریب کاری کو مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا۔ آخر مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیوں ہے؟''

پروفیسر تنک کا سوال واقعی بڑا اہم تھا۔ میرا ذہن سری لنکا، بھارتی پنجاب کے سکھوں، برطانیہ میں آئرش گوریلا تنظیم اور افریقہ کے دوسرے ملکوں کی طرف گیا ۔۔۔ واقعی ان کو ہم نے کبھی عیسائی، یہودی یا بدھ دہشت گرد نہیں کہا۔ اس کی ایک ہی وجہ میری سمجھ میں آرہی تھی، چنانچہ میں نے کہا: ''پروفیسر صاحب! اس کی وجہ یہ ہے کہ دُنیا میں برپا آزادی کی ان ساری تحریکوں کو مذہب سے نتھی نہیں کیا جاتا۔ آئرش ہوں یا سری لنکا کے تامل ناڈو۔ کسی تنظیم نے اپنی جدوجہد کو مذہب کا تقاضا نہیں بنایا جبکہ کشمیر ہو یا فلسطین، افغانستان ہو یا چیچنیا، سب تحریکوں نے اسے اپنا اسلامی فریضہ قرار دیا اور مقدس جہاد کے نام پر اپنی جدوجہد کو منظم کیا، اسی لیے ان کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے کئی گروہ اس قسم کی تحریکوں کو اسلامی قرار دیتے ہیں ، مسلح جدوجہد سے حکومتوں کو الٹانے اور ان پر قبضہ کرنے کو جہاد اور مسئلے کا واحدحل سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ خود کش حملوں کو جائز قرار دینے پر کتابیں مو جود ہیں اور اس پر توشاید سارے مسلمان علماء اکٹھے ہیں کہ گستاخِ رسول کو جو بھی دیکھے قتل کر دے ، یہ غیرت اور ایمانی جذبے کی عین مطابق ہے ! ''

میری بات کا پروفیسر تنک ضرورکوئی جواب دیتے لیکن اس سے قبل میرا موبائل بول اُٹھا۔

''میری بات غور سے سُنو! غنرہ سٹریٹ، یوہوبلڈنگ، سیکنڈفلور پر اومیگا ہاؤس کے ہال میں جس کمپیوٹر سکرین کے آگے سبزشرٹ، سبزٹی کیپ اور سبزعینک لگائے شخص بیٹھا ہو گا، اسے اپنا کوڈ بتائیں، کوڈ غور سے سنیں۔ ''آخری سچ''۔

اس کے فوراً بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ فون مجرموں کا بھی تو ہو سکتا ہے ۔۔۔ لیکن میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اس پر یقین کرتا۔ میں نے پروفیسر تنک کو پولیس کی حفاظت میں چھوڑا اور اپنے بھروسے کے چار کمانڈوز اور ماتحت کو ساتھ لے کر مناسب تیاری کے ساتھ مقررہ جگہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

بتائے گئے پتے پر اومیگا ہاؤس پر پہنچا تو ہر طرف کمپیوٹر پر لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ میری نظریں سبزشرٹ، سبزٹی کیپ اور سبزعینک والے کو تلاش کرنے لگیں۔

آخر عین درمیان میں مجھے اپنا مطلوبہ شخص مل گیا۔ میں سمجھ گیا کہ عمرتناکا نے یہ جگہ کیوں منتخب کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنے رش میں کسی ایک شخص کو پکڑنا مشکل تھا۔ وہ آسانی سے بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر نکل سکتا تھا اور یہی عمر تناکا کا خیال ہو گا۔ خیر میں نے اپنے ماتحتوں کو چوکنا رہنے کا حکم دیا اور خود محتاط مگر غیرمحسوس طریقے سے عمرتناکا کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے قریب پہنچا تو ٹھٹک کر رہ گیا۔ اس کی کمپیوٹر سکرین پر ''سکرین سیور'' چل رہا تھا۔ (سکرین سیور ایک خاص پروگرام ہے۔ اگر آپ اپنے کمپیوٹر کو چلتا چھوڑ دیں تو آپ کے متعین کردہ مقررہ وقت پر آپ کا پسندیدہ ڈیزائن سکرین پر آجائے گا۔ اسے سکرین سیور کہتے ہیں) اور یہ سکرین سیور تھا ۔۔۔ ''آخری سچ'' ۔۔۔ یعنی سکرین پر یہ الفاظ تیرے ہوئے جا رہے تھے اور آرہے تھے۔ ظاہر ہے اس کے بعد کوئی شک نہیں رہا تھا کہ کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا شخص عمرتناکا ہی ہے۔ میں اس کی کُرسی کے قریب گیا اور دھیمی آواز میں کہا:

''آخری سچ بتانے کا وقت آگیا ہے مسٹر تناکا!''

اس نے بڑے سپاٹ لہجے میں میرے الفاظ سُنے اور آہستہ سے اپنے ماؤس کو ہلایا۔ سکرین سیور غائب ہو گیا اور اس کی جگہ دو تصویریں سکرین پر آگئیں اور پھر ایک لائن اس کے نیچے تیرتی ہوئی گزرنے لگی۔ لکھا تھا: ''مسٹر لی پھنگ ان لوگوں کو ہال میں تلاش کریں۔ اگر ہوں تو پہلے انہیں قابو کرلیں!''

عمرتناکا اگر ان تصویروں کے نیچے کوئی سطر نہ لکھتا تو بہتر تھا کیونکہ ان تصویروں کا مطلب بڑا واضح تھا۔ ویسے بھی میں دونوں تصویروں کو پہچان چکا تھا۔ ایک کو میں نے ریکارڈنگ میں دیکھا تھا اور دوسرا شخص روس کی خفیہ تنظیم KGB کا ایک بھگوڑا تھا۔ روس ٹوٹنے کے بعد یہ کرائے کا قاتل اور اجرتی دہشت گرد بن چکا تھا ۔۔۔ اس کی تصویر دیکھتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوئے کیونکہ یہ دہشت گرد ''ولاڈی مائر'' اس قدر ظالم اور سفاک تھا کہ اس پورے ہال کو ملبے کا ڈھیر بنا سکتا تھا اور اگر اسے یہاں صرف عمرتناکا ہی کو ختم کرنا ہوتا تو وہ بلادریغ یہ کام کر سکتا تھا۔

میں نے فوراً کچھ الفاظ بولے ۔۔۔ میرے کوٹ پر لگا بٹن ایک حساس مائیک تھا جو میرا پیغام غیرمحسوس طریقے سے کمانڈوز تک پہنچا رہا تھا۔ ان کمانڈوز میں میرا ماتحت شامل تھا۔ مجھے دس منٹ کی تلاش کے بعد سب سے رپورٹ آگئی ۔۔۔ یہ رپورٹ ''نہ'' میں تھی۔ لیکن اس بات کا امکان بہرحال تھا کہ وہ کسی دوسرے حلیے میں وہاں موجود ہوں ۔۔۔ میں نے اپنے ایک کمانڈو کو باہر گیٹ پر کھڑا ہونے کا حکم دیا اور خود پھر عمرتناکا کی کُرسی کے قریب کھڑا ہو گیا اور سرگوشی میں بولا: ''تمھیں کیسے شبہ ہوا کہ یہ لوگ ہال میں موجود ہیں!''

تناکا نے میرے سوال کا جواب کمپیوٹر کے ذریعے سے دیا۔ سکرین پر یہ الفاظ تھے۔ ''وہ پورے ٹوکیو میں مجھے تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کیس کے تفتیشی افسر ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ میں نے آپ سے رابطہ کیا تھا۔ اس لیے وہ آپ کے ذریعے سے مجھ تک پہنچ سکتے ہیں''۔

مجھے اپنی حماقت پر رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا۔ واقعی یہ بڑی سیدھی سی بات تھی مگر نہ جانے اس کیس میں مجھ سے اتنی بے وقوفیاں کیوں ہو رہی تھیں۔ دراصل مجھے چاہیے تھا کہ میں یہاں بھیس بدل کر آتا ۔۔۔ مگراب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ پھر اچانک مجھے ایک ترکیب سوجھی ۔۔۔ میں نے فوراً اپنے ماتحت کو ایک پیغام دیا اور طہارت خانے (Toilet) جاپہنچا۔ یہ ایک ہال نُما کمرہ تھا جہاں بہت سارے باتھ روم اور واش بیسن بنے تھے۔ اس وقت وہاں پر تین آدمی تھے۔ جب دو فارغ ہو کر واپس چلے گئے تو ایک شخص رہ گیا۔ اسی وقت میرا ماتحت اندر داخل ہوا اور ٹھیک اسی لمحے میں نے حلق سے عجیب سی آواز نکالی اور فرش پر ڈھیر ہو گیا۔ میرا ماتحت فوراً میرے پاس آیا۔ اس نے اس آدمی کو کہا:

''اسے غالباً دل کا دورہ پڑا ہے۔ پکڑو اسے ۔۔۔''

وہ فوراً مدد کے لیے قریب آیا اور بس پھر اس بے چارے کی شامت آگئی۔ جیسے ہی میرے بازو پکڑنے کے لیے وہ مجھ پر جھکا، میں نے اس کی گردن دبوچ لی اور اسی لمحے میرا ماتحت حرکت میں آیا۔ اس نے ایک ہاتھ جما کر اسے بے ہوش کیا اور اگلے چند سیکنڈ میں ہم اسے ایک باتھ روم میں منتقل کر چکے تھے۔ میرے ماتحت نے مجھے ایک پیکٹ دیا اور خود باہر کھڑا ہو گیا۔ میں نے اس بے ہوش آدمی کے کپڑے اُتار کر خود پہن لیے اور پیکٹ سے ریڈی میڈ میک اپ کا سامان نکالا۔ ایک بڑا سا مسّہ، زخم کا نشان اور منہ کے نیچے ٹھوڑی پر ڈاڑھی کے تھوڑے سے چھوٹے بال اپنے چہرے پر لگائے۔ مجھے اب کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ اس سارے کام کو مشکل سے تین منٹ لگے ہوں گے۔ میں ہال میں دوبارہ چلا گیا اور دروازے کے قرب ایک جگہ بیٹھ گیا، جہاں ہر آنے والے پر میری نگاہ تھی۔

دس منٹ کے بعد ہمارا بے گناہ شکار طہارت خانوں سے باہر آیا۔ اس بے چارے نے میرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ ننگا باہر آنے سے تو رہا ۔۔۔ ظاہرہے وہ مجھے اور میرے ماتحت کو تلاش کر رہا ہو گا، البتہ وہ اپنے لباس کو پہچان کر مجھ تک پہنچ سکتا تھا۔ میرے ماتحت نے بھی اپنے چہرے پر تھوڑی سی تبدیلی کر لی تھی اور وہ بالکل اس کے قریب کھڑا تھا مگر اسے اس پر ذرّہ بھر شک نہیں ہوا تھا۔ ہمارے شکار کے چہرے پر شدید غصہ تھا۔ لگتا تھا کہ وہ تلاش کرنے کے بعد ہمیں کچا ہی کھا جائے گا۔

دو ،ایک منٹ کے بعد ایک بڑے قد کا شخص ہال کے اندر داخل ہوا۔ وہ لگتا جاپانی ہی تھا لیکن اس کا لمبا قد اور جسم کی جسامت صاف بتا رہی تھی کہ وہ جاپانی ہرگز نہیں ۔۔۔ مجھے اپنی ترکیب عمل کرتی نظر آئی۔ اس شخص نے آتے ہی ہال کا جائزہ لیا۔ اس کی نظریں جلد ہی ہمارے شکار پر جاپڑیں ۔۔۔ یعنی وہ شخص جس نے میرے کپڑے پہنے ہوئے تھے، وہ بھی بڑے بھونڈے طریقے سے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہمیں تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ بس اس کا یہی انداز ہمارے کام آگیا۔ آنے والا فوراً اس کی طرف لپکا اور پھر میرے کانوں میں اس کی آواز آئی ۔۔۔ ''خاموشی سے عمرتناکا کے پاس چلو ورنہ۔۔۔!''

میرے کوٹ میں لگابٹن اپنا کام کر رہا تھا اور یہ آواز میں نے ہی نہیں میرے سارے کمانڈوز سُن رہے تھے۔ میں نے اپنے ماتحت اور ایک دوسرے کمانڈو کو اشارہ کیا مگر ان کے قرب جانے سے پہلے ہنگامہ ہو گیا۔

غصّے سے بھرا ہمارا شکار اس نئی مصیبت پر آپے سے باہر ہوگیا۔ اس نے پہلے تو ''کیا بکواس ہے، کون ہو تم؟'' جیسے سوال کیے لیکن پھر ہمیں یہ پھنکار سُنائی دی۔

''گدھے کی اولاد، میک اپ تو کر لیا لیکن کپڑے بدلنا بھول گئے؟ چلو اب تناکا کے پاس!''

''ابے جنگلی ۔۔۔ لعنتی گینڈے ۔۔۔'' ہمارا شکار اس کی شان میں بے پناہ گستاخیاں کرنے لگا۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ دہشت گرد ہڑبونگ نہیں چاہتے تھے، ورنہ اب تک اس کی لاش تڑپ رہی ہوتی۔ اتنی دیر میں میرے دونوں آدمی اس تک پہنچ چکے تھے۔ اردگرد کے لوگ چونک کر ان دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اگلے ہی لمحے میں نے دھمکیاں دینے والے کو نیچے گرتے دیکھا۔ میرے ماتحت کے ہاتھ میں پکڑی لمبی سی پِن اپنا کام دکھا چکی تھی!

اس منظر کے بعد میں نے ساری احتیاطیں چھوڑ کر پستول نکال لیا ۔۔۔ مجھے کسی بھی لمحے کسی بڑے خونی ڈرامے کا خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے ماتحت کو بُری طرح گرتے دیکھا۔ مجرم میرے اندازے سے بڑھ کر ذہین تھا۔ اس نے سائلنسر لگے ریوالور سے نشانہ بنا کر اپنے آپ کو ہماری نظروں میں آنے سے بچا لیا تھا اور اس کی اس حرکت سے یہ بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ وہ اپنے مشن کو ادھورا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔۔۔ مجھے یہ بھی خطرہ تھا کہ وہ اپنے ساتھی کو بھی ہلاک کر دے گا۔ میں دیوانہ وار اس کی طرف بھاگا، مگر میرے قریب پہنچنے سے پہلے دوسرا کمانڈوز بھی گر پڑا تھا۔ یکے بعد دیگرے تین آدمیوں کو گرتے اور ان میں سے دو کو خون میں لت پت دیکھ کر اردگرد کے لوگوں میں اچھی خاصی کھلبلی مچ چکی تھی۔ خواتین نے چیخیں مارنی شروع کر دی تھیں۔ میری نظریں لوگوں کے ہاتھوں پر تھیں۔ ایک ایسے ہاتھ کی تلاش میں جس نے ریوالور یا کوئی دوسرا خطرناک ہتھیار پکڑا ہو۔ اسی دوران میرے کانوں میں سرگوشی ہوئی۔

''آپ نے مڑ کر میری طرف نہیں دیکھنا۔ گیٹ کی طرف دیکھیں، تاکید ہے!'' یہ عمرتناکا ہی تھا۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا۔ چند لمحے بعد ہال میں ایک زوردار آواز گونجی ۔۔۔ یہ عمر تناکا تھا ۔۔۔ وہ چیخ کر کہہ رہا تھا:

''میں ہوں عمرتناکا ۔۔۔ بزدل کمینے ۔۔۔ مجھے بناؤ نشانہ ۔۔۔ میں ادھر ہوں۔۔۔''

میں اس کی ترکیب سمجھ چکا تھا۔ میں نے اسے مزید مؤثر کرنے کے لیے ایک ہوائی فائر کیا اور فوراً اپنی جگہ تبدیل کر لی۔ فائر کی آواز سے پورے ہال میں پہلی مرتبہ پوری طرح سے کھلبلی مچی تھی اور لوگ بے تحاشا دروازے کی طرف لپکے تھے۔ اسی ہڑبونگ میں، میں نے اپنے باقی کمانڈوز کو موبائل پر فوری ہدایات جاری کیں۔ اس دوران میں میری نظریں ایسے آدمی کو تلاش کر رہی تھیں جو بھاگنے کے بجائے عمرتناکا کی طرف متوجہ ہو۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں جلد ہی اس شخص کو تلاش نہ کر سکا تو عمرتناکا اس کی گولی کا کسی وقت بھی شکار ہو سکتا ہے۔ اس نے یہ ترکیب لڑا کر زندگی کی بازی کھیلی تھی۔

آخر میری نظر ایک ایسے آدمی پر پڑی جو بلاوجہ زمین پر گر پڑاتھا۔ زمین پر گرتے ہی اس نے اپنے آپ کو میز کی اوٹ میں کیا۔ میں نے جلدی سے اپنی جگہ بدل کر اسے دیکھا۔ میں اس کے ہاتھ میں سلنسرلگا ریوالور دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کا نشانہ عمرتناکا تھا۔ پھر اگلے ہی لمحے تین فائر ہوئے ۔۔۔ یہ تینوں نشانے ٹھیک لگے تھے۔ یہ تینوں گولیاں اسی شخص کو لگی تھیں جو گرنے کی اداکاری کر کے عمرتناکا کو نشانے پر لے رہا تھا ۔۔۔ اسے ایک گولی میری اور باقی دو میرے ماتحت کی لگی تھیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد باہر سے ایمبولینس اور ایمرجنسی پولیس کی گاڑیوں کے ہارن بے تحاشا بج رہے تھے ۔ کھیل ختم ہو چکاتھا۔ زخمی پولیس والے اور دہشت گرد پولیس کی کڑی نگرانی میں اسپتال پہنچ چکے تھے۔ تمام پولیس والوں کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ یہاں تک توٹھیک تھا لیکن تھوڑی دیرکے بعد بہت حیرت ناک خبر ملی ۔۔۔ وہ یہ کہ جس مجرم کو تین گولیاں لگی تھیں وہ آپریشن تھیٹر سے تین ڈاکٹروں کو زخمی کرنے کے بعد بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ یہ وہی روسی دہشت گرد ''واڈی مائر'' تھا۔ وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی تھی کہ اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی ہو گی۔ اس کی گرفتاری کے لیے ٹوکیو ہی نہیں، پورے جاپان کی پولیس متحرک ہو چکی تھی۔

اگلے چند گھنٹوں کے بعد عمرتناکا تفتیشی ٹیم کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔سب سے زیادہ تو میں اس کا بیان لینے کے لیے بے چین تھا۔ بلاشبہ وہی اس کیس کا ہیرو تھا۔ شروع سے لے کر آخر تک محض اسی کی وجہ سے ہم مجرموں تک پہنچ پائے تھے۔ ٹوکیو پولیس کے مرکزی آفس میں ہماری ٹیم کے تینوں ممبر موجود تھے اور نوجوان تناکا کہہ رہا تھا:

''یقیناًآپ لوگوں کو پروفیسر عبدالرحمان تنک بتا چکے ہوں گے کہ کیسے فلسطینی نوجوان سے میری دوستی ہوئی ۔۔۔''

اس کے جملے کو ہمارے ایک ساتھی نے کاٹا اور کہا: ''مسٹر تناکا، آپ یہاں کہانی سنانے کے لیے نہیں، بیان دینے آئے ہیں۔ اس لیے شروع سے تمام واقعات تفصیل سے بیان کریں''۔

ٹوکنے والے کا انداز اچھا نہیں تھا مگر تناکا نے اس کا کوئی اثر نہ لیا اور تفصیل سے سارے واقعات بیان کیے۔ اس کے بیان کا فائدہ یہ ہوا کہ پروفیسر عبدالرحمان تنک کے سارے بیان کی تصدیق ہو گئی۔ میرے لیے نئی بات وہاں سے شروع ہوئی جب تناکا بتا رہا تھا:

''میں نے کچھ اپنی دلچسپی اور کچھ پروفیسر صاحب کے حکم پر راشدی سے تعلق رکھا۔ مجھے پہلے ہی دن یہ احساس ہو گیا کہ یہ لوگ راشدی کو استعمال کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ یہ لوگ پرلے درجے کے بداخلاق ہیں، اس لیے انھیں اللہ کے رسولؐ سے سچی محبت نہیں ہو سکتی۔ تبھی میرے دل میں یہ شک پیدا ہوا کہ یہ کہیں سازشی لوگ ہی نہ ہوں۔ چنانچہ جب میں اگلی دفعہ ان کے ٹھکانے پر گیا تو بڑی ہوشیاری سے میں نے گل دان کا ایک پھول دوسرے سے بدل دیا۔ پلاسٹک کے بنے اس پھول میں ایک طاقتور رسیور تھا، جس کا تعلق ایک ریکارڈر سے تھا جو میں نے اسی گلی میں واقع اپنے دوست کے گھر رکھوا دیا تھا۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ ان کو دراصل سلمان رُشدی کی کتاب کی سرپرستی کرنے والی کسی نامعلوم تنظیم نے بھیجا ہے۔ انہیں اس کام کا بھاری معاوضہ دیا گیا تھا کہ وہ کسی پختہ عقیدے والے نوجوان مسلمان کے ذریعے سے پبلشرز کے سٹور میں دھماکا کرائیں۔ اس کارروائی سے رُشدی کی کتاب کو شہرت ملتی اور اس کی کتابیں مزید شائع ہوتیں اور بکتیں۔ آپ اس ریکارڈنگ میں دہشت گرد کے ایسے جملے سُن سکتے ہیں جس میں اس نے رُشدی کو گالیاں دے کر کہا کہ اس خبیث کو تو درست انگریزی نہیں آتی اور اس کی یہ کتاب تو ردّی میں بھی نہ بکتی لیکن بعض مسلمانوں نے اس کتاب پر شور مچا کر اسے مشہور کر دیا۔ تبھی اس تنظیم کے شیطانی ذہن میں یہ منصوبہ آیا کہ کیوں نہ جذباتی مسلمانوں کے ذریعے سے ایسا کام کرایا جائے کہ مغربی دُنیا آزادئ اظہار رائے کے حوالے سے کتاب سے متعلق تمام لوگوں کو مظلوم سمجھے۔ چنانچہ اس جاپانی پبلشرز کے سٹور میں دھماکا کرانے اور اس کے مترجم کو قتل کرنے کا اسے یہ فائدہ ہوا کہ وہ کتاب پورے جاپان میں مشہور ہو گئی اور خوب بکی۔ مجھے ان کی اصلیت کا اندازہ دھماکے سے دو دن پہلے ہوا لیکن ان کرائے کے دہشت گردوں کو بھی نہ جانے مجھ پر کیسے شک ہو گیا کہ انھوں نے راشدی کو منع کر دیا کہ وہ مجھے دھماکے کی منصوبہ بندی نہ بتائے مگر مجھے ریکارڈنگ سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ راشدی نے مجھ سے یہ چالاکی کھیلی کہ مجھے یہ تو بتا دیا کہ وہ ایک بڑی کتاب میں بم رکھ کر سٹور میں لے جائے گا اور اسے وہاں رکھ دے گالیکن اس نے مجھے یہ غلط بتایا کہ یہ واقعہ کب ہونا ہے۔ چنانچہ میں بروقت پولیس کو اطلاع نہ دے سکا۔ دھماکے کے بعد جب میں نے ٹی وی کی خبروں میں انسپکٹر لی پھنگ کو اس کیس کی تحقیق کرنے والوں میں دیکھا تو ان سے رابطہ کیا مگر دہشت گردوں نے راشدی، پروفیسر تنک اور میری سرگرمیوں پر نظر رکھنی شروع کر دی تھی۔ میں پہلے تو ان کی نظروں سے بچا رہا مگر پھر ایک دن انھوں نے ٹھیک اس وقت مجھے دیکھا جب میں پروفیسر تنک کے گھر گیا۔ اس کے بعد میں اس گھر میں چھپ گیا جہاں میں نے ریکارڈر لگایا تھا۔ اسی دوران مجھے پروفیسر تنک اور راشدی کو ہلاک کرنے کے منصوبے کا علم ہوا۔ جب آپ نے میری اطلاع پر پروفیسر کو بچا لیا تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے گلدان میں رکھے پھول کو ڈھونڈ نکالا اور پھر منصوبہ بندی کر کے راشدی کو قتل کر ڈالا کیونکہ راشدی سے جو کام انھوں نے لینا تھا، وہ لے چکے تھے۔ اب میرے پاس بھی ان کے عزائم معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ رہا۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ مجھے ختم کیے بغیر وہ جاپان سے نہیں جائیں گے اور یہ بھی مجھے معلوم تھا کہ مجرم پولیس کے ذریعے سے مجھ تک پہنچیں گے کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ میں پولیس سے رابطے میں ہوں لیکن یہ جانتے ہوئے بھی میرے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اللہ کے بھروسے پر یہ خطرہ مول لے لوں۔ چنانچہ جب میں نے آپ کو اومیگا سنٹر کا پتا دیا تو وہ توقع کے مطابق یہاں پہنچ گئے۔ افسوس کہ انسپکٹر لی پھنگ میرے منصوبے کو نہ سمجھ سکے اور مجرموں سے ہوشیار ہوئے بغیر یہاں پہنچ گئے لیکن یہاں آکر ان کی شان دار ترکیب اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے مجرموں پر قابو پا لیا گیا''۔

عمرتناکا کا لمبا بیان ختم ہوا تو کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھائی رہی۔ پھر ہم نے وہ ریکارڈنگ سُنی جو عمرتناکا نے مجرموں کی جاسوسی کے دوران کی تھی۔ اس سے اس کے بیان کی تصدیق ہو گئی۔

لوگوں کی جہالت اور ان کے مذہبی جذبے کا ناجائز استعمال ہمارے لیے کوئی نیا جرم نہیں تھا۔ میرا دھیان تو اس طرف بھی گیا کہ ان دہشت گردوں کو یقیناًمسلم دُشمن تنظیموں نے بھی استعمال کیا ہو گا کہ وہ مسلمانوں کو بطور دہشت گرد بدنام کریں۔ میں نے اس دوران اس موضوع پر جو مطالعہ کیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ جہالت مسلم معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لوگ اسلام کے متعلق انتہائی ناقص معلومات رکھتے ہیں لیکن ان کی اپنے مذہب سے گہری عقیدت ہے۔ اس عقیدت کا محور ان کی اپنے رسولؐ سے محبت ہے اور کچھ مذہبی طبقے اور سازشی عناصر اس عقیدت کا سہارا لے کر فساد کراتے ہیں، ورنہ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ پیغمبرؐاسلام کے دور میں ان کے خلاف ان کے مخالفین نے بدتہذیبی اور بدزبانی کی ہر حد عبور کی لیکن پیغمبر اسلام نے ان کے خلاف صرف اس بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ اپنے کسی جان نثار کو ایسا کرنے کا حکم دیا ۔اس سے بالکل برعکس اس حوالے سے اسلامی لٹریچر ایسے واقعات سے بھرا ہوا ہے جس میں پیغمبر اسلام نے اپنے دشمنوں ا ور گستاخوں کو انتہائی فراخ دلی سے معاف کیا۔ان کا یہ عالی کردار اور انتہائی رحم دلی ان کے مخالفین کو اسلام کے قریب لانے کا ایک بڑا سبب بنی۔

ایک دوسری تلخ حقیقت مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ Satanic Verses ہو یا اس قبیل کی دوسری کتابیں اور لٹریچر، ان سب کتب کے مصنّفین نے اسلامی لٹریچر میں موجود روایات ہی سے قابلِ اعتراض واقعات درج کیے اور وہی استہزاء اور شتم کا باعث بنے ۔۔۔ خیر میں نے اپنے تخیل کے گھوڑے کو لگام دی اور تناکا سے پوچھا:

''آپ کو ان دہشت گردوں پر کیوں شک ہوا؟ آخر آپ بھی تو اپنے پیغمبرؐ سے محبت کرتے ہیں، پھر آپ راشدی کی طرح ان کی سازش کا شکار کیوں نہ ہوئے؟''

عمرتناکا کے چہرے پر ایک عجیب تاثر اُبھرا۔ اس کی زرد سی رنگت میں سُرخ آمیز چمک آئی اور وہ کہنے لگا: ''جب راشدی کی مجھ سے دوستی ہوئی، اسی دوران میں نے قرآن مجید کی ایک سورہ ''الم نشرح'' پڑھی۔ اس کی ایک آیت ہے ''ورفعنا لک ذکرک'' اس کا مطلب ہے کہ اے میرے رسول محمدؐ، ہم تمہارے نام کا ڈنکا بجا دیں گے! عجیب بات یہ تھی کہ یہ آیت اس وقت پیغمبراسلامؐ پر نازل ہوئی جب آپؐ مکہ میں تھے اور چند لوگوں کے علاوہ آپؐ کو ماننے والا کوئی نہ تھا، حتیٰ کہ آپ ؐ کھل کر نہ اللہ کی

عبادت کر سکتے تھے نہ اپناپیغام پوری آزادی سے پہنچا سکتے تھے، مگر اللہ پاک نے اس وقت ہی اعلان کر دیا کہ یہ کافر آپؐ کی شان میں جو گستاخیاں کر رہے ہیں، آپ ؐ کو جو گالی گلوچ اور تکالیف پہنچا رہے ہیں، یہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کی ان حرکتوں سے آپؐ کبھی بدنام نہیں ہوں گے بلکہ اللہ آپؐ کے نام کو اپنے اہتمام سے بلند کرے گا اور آپؐ کا ڈنکا بج کر رہے گا۔ یہ ایک معجزاتی بات تھی جو آپؐ کی زندگی ہی میں پوری ہوئی اور اب بھی پوری ہو رہی ہے! چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج پیغمبر اسلام کے کسی دشمن کو کوئی نہیں جانتا ، سبھی تاریخ کے قبرستان کا حصہ بن چکے ہیں لیکن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوںیا ان کے محترم ساتھی ، ان سب سے بے پناہ عقیدت رکھنے ولے دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں ۔ میں اس آیت سے یہ سمجھا اور بہت سارے لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ کا اپنے تمام رسولوں سے یہ وعدہ ہے کہ کوئی ان کو بدنام نہیں کر سکتا ، کوئی ان کی شان کو کم نہیں کر سکتا ۔''

'' اس بات کا کیا مطلب ہے کہ کوئی ان کو بدنام نہیں کر سکتا ؟ کیا جب ان کے خلاف کوئی کتاب لکھی جاتی، بات کی جاتی ہے ، سوشل میڈیا پر گستاخانہ خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے تو کیا اس سے بدنامی نہیں ہوتی ؟ ''

'' دیکھیے ، نیوٹن نے طبیعیات) Physics ( کے کئی قوانین دریافت کیے۔ اگر ان کا کوئی مخالف یا حاسد ان کے خلاف کوئی بات کہے یا لکھے لیکن وہ ثابت نہ کر سکے کہ اس کے دریافت کردہ قانون غلط ہیں تو کیا نیو ٹن کا سائنس میں جومقام ہے اس میں کوئی کمی آئے گی؟ یقیناً نہیں ،اسی طرح جب تک علمی سطح پر پیغمبراسلام کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہو تی ، اس وقت تک ان کی شان کم نہیں ہو سکتی ، ان کے کسی فعل اور کام میں کجی دریافت کیے بغیر ان کو بدنام نہیں کیا جاسکتا ۔''

عمر تناکا ،کی اس زبر دست بات کا واقعی ہمارے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔لیکن میں سوچ رہا تھا کہ اتنے عقلمند اور ذہین لوگ مسلمانوں میں کتنے ہوں گے ؟

چند لمحوں کے توقف کے بعد ہما رے ایک ساتھی نے پو چھا :'' تمھارے کہنے کا مقصد ہے کہ جس طرح پیغمبر اسلام کا بول بولا ان کے دور میں معجزاتی طور پر ہوا ، آج ان کے دشمنوں کا خاتمہ بھی معجزاتی طور پر ہو گا اور اسی خیال سے تم نے راشدی کا ساتھی بننے کا خیال دل سے نکال دیا ؟ ''

'' نہیں ، دراصل میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے معجزے تو صرف رسولوں کے اپنے دور ہی میں ہو تے ہیں ، آج کے دور میں وہی نظریہ اور وہی تہذیب دنیا میں اپنا مقام حاصل کر پائے گی جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو گی اور میں نے بتا دیا نا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک علمی سطح پر پیغمبراسلام کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہو تی ، اس وقت تک ان کی شان میں گستاخی ممکن نہیں، ہاں ہم کیونکہ اپنے پیغمبر سے بہت زیادہ عقیدت و محبت کا تعلق رکھتے ہیں اس لیے ہمیں بہت دکھ ہو گا ، بے تحاشاغصہ بھی آئے گا لیکن

ا س موقع پر ہمیں اپنے ہی پیغمبر کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے اور ان کا عمل یہی ہے کہ مخالف اور دشمن کو اس کی بدکلامی اور بدعملی کا جواب اعراض اور بر تر اخلاق سے دیا جائے ۔ میں بطور مسلمان یہ سمجھتا ہوں کہ میرے بزرگوں کو اگر برا بھلا کہا جائے اور میں غصے میں نہیں آتا تو یہ بے غیرتی ہو گی لیکن اس غصے میں بے قابو ہوجانا حیوانیت ہے۔ایسا رد عمل انھی بزرگوں کی تعلیمات کے خلاف ہو گا اور سچی بات تو یہ ہے کہ ایسا کرنے والا بالواسطہ طور پر اپنے بزرگوں کی بدنامی کا باعث بنتا ہے ۔ چنانچہ میں آپ کو قرآن ہی کئی آیات کا حوالہ دے سکتا ہوں کہ مخالفین نے پیغمبر کو مجنون ، جادوگر ، گمراہ اور گستاخی کرتے ہوئے کئی نام دیے لیکن ایسے لوگوں کی قرآن نے کوئی دنیاوی سزا مقرر نہیں کی ، صرف آخرت کے حوالے ہی سے ان کو عذاب کی خبر دی ۔ اس لیے رشدی کے معاملے میں مسلمانوں کے جذباتی لوگوں نے جو کچھ کیا وہ واضح طور پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ عمل اسلام کے بارے میں منفی تاثر کا باعث بنا اور اس سے بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی۔چنانچہ میں نے راشدی کو یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ کوئی جاپانی اس کتاب کو پڑھ کر شاید ہی پیغمبر اسلام کے بارے میں منفی رائے قائم کرے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کے ردعمل میں مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ اسلام اور مسلمانوں کی بے پناہ بدنامی کا باعث بنا۔ اور یہ حالیہ واقعہ ہی آپ دیکھ لیں، اس واقعے کے بعد پورے جاپان میں لوگ مسلمانوں کے بارے میں نفرت کے جذبات اور مترجم اور پبلشر کے بارے میں ہمدردانہ رائے رکھتے قائم کر چکے ہیں۔ ۔۔۔ اور یاد آیا ، میرا رشدی جیسے لوگوں کی بات میں نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ایک تاریخی واقعہ بھی ہے۔۔۔۔ ''

میٹنگ میں بیٹھے زیادہ تر لوگ عمر تناکا کی اس نئی کہانی کو سننے میں ز یادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی تو وہ بولا :

'' مسلم اندلس یعنی سپین کے بارے میں سبھی جانتے ہیں وہاں مسلمانوں نے آٹھ سو برس سے زیادہ حکومت کی ۔مسلم حکمرانوں کی رواداری اور شہریوں کی خدمت کو دیکھ کروہاں کی مقامی مسیحی آبادی تیزی سے اسلام قبول کرنے لگی۔ یہ صوت حال سپین کے چرچ کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ انھوں نے مختلف حیلے بہانوں سے مسلمانوں اور مسیحیوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے ۔ آخر میں انھوں نے وہ مجنونانہ تدبیر اختیار کی جسے رضاکارانہ شہادت یعنی( Voluntary Martyrdom) کہاجاتا ہے۔ دراصل اس وقت کے سپین کا بشپ ایولوجیس( Eulogius) نے مسلمانوں کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مسلمان اپنے پیغمبر کے خلاف ذرا سی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ بشپ نے ایسے جنونی قسم کے رضاکار تیار کیے جنھوں نے سرعام سڑکوں پر پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اس کی توقع کے مطابق ایسے لوگوں کو چوراہوں میں قتل کرنے کا فتویٰ دیا جانے لگا ۔ یہ عمل اس وقت اور تیز ہو گیا جب خود بشپ ایولوجیس نے قرطبہ میں بار بار علی الاعلان توہین رسالت کی یہاں تک کہ اسے سرعام قتل کر دیا گیا۔ یوں صرف قرطبہ میں ۵۳ عیسائی قتل ہوئے۔ اس قسم کے مجنونانہ واقعات نے اسپین کے مسیحیوں ، خاص طور پر وہاں کے مذہبی طبقے کے دل میں مسلمانوں کے خلاف سخت بیزاری پیدا کر دی۔ یوں مسیحیت کے لیے ہمدردی کی نئی لہر نے جنم لیااورمقامی لوگوں نے نہ صرف اسلام قبول کرنا بند کر دیا بلکہ ان کے د ل میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفرت پیدا ہو گئی۔اسی واقعے کے بعد چرچ نے اسپین سے مسلمانوں کے اخراج کا فتویٰ جاری کر دیا،جس کا مطلب تھا کہ مسلمانوں کو سپین سے نکالنا مسیحیوں کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ مسیحیوں میں اپنے مذہب کے بارے میں سوئی ہوئی عصبیت جاگنے لگی اور یہی قرطبہ کے بشپ کی خواہش تھی۔ پھر یہ تحریک اور آگے بڑھی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ سپین کے اردگرد کی مسیحی ریاستوں نے اتحاد کر لیا ۔ پھر مسلمانوں کے آپس کے تفرقے اور مسیحی ریاستوں کے اتحاد کے نتیجے میں آخر کارمسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کر گیا۔ اس لیے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے مسلمانوں کا اپنے پیغمبر کی شان میں گستاخی کے معاملے میں غیر متوازن ردعمل کم از کم اسپین میں ان کی حکومت کے خاتمے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔اب آپ خود اندازہ کر لیں کہ میں اس سارے پس منظر سے واقف ہونے کے بعد راشدی اور اس کے جنونی ساتھیوں کا ساتھ کیسے دے سکتا تھا! '

عمر تناکا نے اپنی متاثر کن تقریر ختم کی تو تفتیشی ٹیم کے ہر چہرے پر لکھا تھاکہ اب اس سے کسی مزید تفتیش کی کوئی گنجایش نہیں۔ میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ مسلمانوں کے اندر انتہاپسندی کو اگر ختم نہ کیا گیا تو یہ چیزپوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے ۔ کوئی بھی شخص ، تنظیم یا فساد پسند گروہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے کیے ان کے جذبات کو اسی طرح استعمال کر سکتا ہے جس طرح راشدی کو استعمال کیاگیا ہے۔ محض دہشت گردی کے ذرائع ختم کرنا کافی نہیں ہو گا اس سوچ کو لگام دینا ہو گا جس کے ذریعے یہ عفریت جنم لیتا ہے۔ میرے سوال کرنے سے پہلے ہی ہماری کمیٹی کے سربراہ نے مسٹرتناکا کو مخاطب کرکے کہا :

''آپ کے خیال میں اس مسئلے کا کیا حل ہے ؟ ''

''دیکھیے جہاں تک قانون کو ہاتھ میں لینے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کوئی معاشرہ کسی فرد یا گروہ کے عقائد کو اتنی آزادی نہیں دے سکتا کے اپنی پسند کا ردِعمل مسلط کرے لیکن جس طرح اظہار رائے کی آزادی آج کے تمام جمہوری اور جد ید معاشروں میں ایک لازمی قدر سمجھی جاتی ہے اسی طرح مذاہب کے حوالے سے کسی کے عقائد کو مذاق اور توہین و تضحیک کا نشانہ بنانے کی اجازت نہ دینا بھی آزادی کی اسی قدر کا حصہ ہو نا چاہیے ۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جو ریاست ، گروہ یا فرد ایسے رویوں کی ترویج کا باعث بنے جس سے فساد فی الارض کا خطرہ ہو، اسے قابل مواخذہ گردانا جائے ۔ میرا خیال ہے اگر اس طرح کی قانون سازی نہ کی گئی تو مستقبل میں ایسی کی کوئی حرکت عالمگیر فساد کی وجہ بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں مجھے معلوم ہے کہ ایک ایسی شق موجود ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ آزادئ اظہارِرائے کی آڑ میں کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہچا ئی جا سکتی ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہو لوکاسٹ کے حوالے سے یہودیوں کے جذبات کا احترام کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کوئی بات گوارا نہیں کی جاتی ۔ اسی طرح نسلی امتیاز کے خلاف بھی ایک عالمی اتفاق رائے مو جود ہے۔ اس پس منظر میں کیا ہی اچھا ہو کہ مذہب کی توہین کے خلاف بھی ایک عالمگیر قانون بنا دیا جائے اور اسے انصاف کے پورے تقاضوں کے ساتھ نافذ کر دیا جائے۔' '

میرے خیال میں عمر تناکا کی رائے بہت صائب تھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تمام اسلامی ممالک کی طرف سے اس طرح تجویز متفقہ طور پر سامنے آئے لیکن اس موقع پر مجھے ایران کے مذہبی رہنما کی بات یاد آگئی جس نے سلمان رشدی کے قتل پر انعام رکھا تھا۔ ظاہر ہے اس طرح کا ردعمل اسی طرح کے واقعات میں اضافے کا باعث بنے گا جس کا سامنا آج جاپان کو کرنا پڑا ۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو اکا دکا عمر تناکا کچھ کام نہ آسکیں گے اور عالمی سطح پر دنیا دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہو گی۔

بہر کیف عمر تناکا کی تحسین کے بعد اسے فارغ کر دیا گیا۔ لیکن مجھے مستقبل میں اس حوالے سے بہت فساد نظر آرہا تھا۔ مسلم معاشروں کی عمومی جہالت اور ان کی استحصالی اور بد عنوان حکومتوں سے مجھے کسی خیر کی توقع نہیں تھی۔

*****




Articles by this author