سرقہ کا نصاب

سرقہ کا نصاب


قرآن مجید میں چوری کی سزا کا حکم ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْْدِیَہُمَا جَزَآءً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ.(المائدہ ۵۳۸)

''اور چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے عمل کی پاداش اور اللہ کی طرف سے عبرت کا نشان ہے۔ اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔''

یہ حکم، جیسا کہ واضح ہے، ایک اصولی نوعیت کا حکم ہے اور قرآن نے اپنے اسلوب کے مطابق اس کی اطلاقی تفصیلات مثلاً یہ کہ چور کے دونوں ہاتھ کاٹے جائیں یا ایک اور اگر ایک تو کون سا ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے؟ سے صراحتاً تعرض نہیں کیا، تاہم حکم کے الفاظ اور اس کو محیط عقلی قرائن ا س حوالے سے پوری رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی کی روشنی میں اپنے عمل کے ذریعے سے ان پہلووں کی وضاحت فرمائی ہے۔

روایات میں نوعیت کے اعتبار سے چوری کی مختلف صورتوں میں جو فرق کیا گیا ہے، اس کی اساس بھی ہمارے نزدیک یہی ہے۔ قرآن مجید نے قطع ید کی سزا درحقیقت باعتبار لغت 'سرقہ' کے ارتکاب پر نہیں، بلکہ عقل عام اور اخلاقیات قانون کے مسلمہ تصورات کے تناظر میں اس صورت کے لیے بیان کی ہے جب باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے مالک کی حفاظت اور نگرانی میں پڑے ہوئے کسی مال کو چرایا جائے۔ اتفاقاً موقع پا کر کسی غیر محفوظ چیز کو اٹھا لینا سرے سے اس کے دائرۂ اطلاق میں ہی نہیں آتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص راستے میں چلتے ہوئے کسی کے باغ سے کچھ پھل توڑ لے یا کسی کھلی جگہ پر بغیر حفاظت کے پڑے ہوئے غلے میں سے کچھ لے لے یا راہ چلتے کسی جانور کو ہنکا لے جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔۱؂

امام شافعی نے حکم کو محیط ان عقلی قرائن کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ راے قائم کی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کی مذکورہ صورتوں کو قطع ید سے مستثنیٰ قرار نہ دیا ہوتا تو قرآن مجید کے ظاہر کی رو سے ہر اس شخص کا ہاتھ کاٹنا لازم ہوتا جس نے 'سرقہ' کا ارتکاب کیا ہو۲؂حالانکہ ہماری بیان کردہ توجیہ سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان کردہ استثنا قرآن کے عموم میں کوئی تخصیص پیدا نہیں کرتا، بلکہ درحقیقت 'سرقہ' کے صحیح مصداق کی تعیین وتوضیح کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر آپ کی تصریحات موجود نہ ہوتیں تو بھی قانونی دانش ان صورتوں کو قرآن کی بیان کردہ سزا سے لازماً مستثنیٰ قرار دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ فقہا نے اس استثنا کو منصوص صورتوں تک محدود رکھنے کے بجاے اسے ایک عمومی ضابطے پر محمول کیا ہے اور اس کی روشنی میں چوری کی بہت سی دیگر صورتوں کو بھی قطع ید سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

اس ضمن میں چوری کی سزا کے نفاذ کے لیے مسروقہ مال کی مقدار کا مسئلہ بالخصوص توجہ طلب ہے۔ قرآن نے یہاں کسی مخصوص نصاب کی شرط کی تصریح نہیں کی، لیکن یہ شرط حکم کے پس منظر میں موجود ہے، اس لیے کہ قانون کا موضوع جرم کی اسی صورت کو بنایا جاتا ہے جسے عقلاً وعرفاً کسی باقاعدہ قانونی سزا کا مستوجب سمجھا جائے، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ معمولی اور حقیر چیزوں کی چوری سے صرف نظر کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں قانون کو بالعموم حرکت میں نہیں لایا جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم میں مضمر اسی شرط کو واضح کرتے ہوئے چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے ایک ڈھال کی قیمت کو معیار قرار دیا اور آپ کے دور میں عمومی طور پر اسی پر عمل ہوتا رہا۔ ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی چور کا ہاتھ ایک زرہ یا ڈھال سے کم قیمت کے مال میں نہیں کاٹا گیا۔۳؂

یہاں تنقیح طلب سوال یہ ہے کہ کیا ڈھال کو معیار قرار دینے کا حکم شرعی حیثیت رکھتا ہے اور ہر زمانے میں ہر معاشرے کے لیے اسی کو واجب الاتباع معیار کی حیثیت حاصل ہے؟ فقہا نے ڈھال کی قیمت کی تعیین میں اختلاف کے باوجود اصولی طور پر ڈھال ہی کو شریعت کا مقرر کردہ غیرمتبدل نصاب سرقہ قرار دیا ہے، تاہم اکابر صحابہ اور تابعین کی آرا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں مقرر کردہ معیار، یعنی ڈھال کی قیمت کو نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما اصول، یعنی قیمتی اور غیر قیمتی چیز میں فرق کو اصل اہمیت کا حامل سمجھتے تھے۔ چنانچہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

لم تقطع ید سارق علی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی ادنی من ثمن المجن ترس اوحجفۃ وکان کل واحد منہما ذا ثمن.(بخاری، رقم ۶۲۹۶)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی چور کا ہاتھ زرہ یا ڈھال سے کم قیمت چیز میں نہیں کاٹا گیا اور یہ دونوں چیزیں قیمتی تھیں۔''

ایک دوسری روایت میں فرماتی ہیں:

لم یکن یقطع علی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی الشئ التافہ.(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۱۱۴)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں معمولی چیز کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔''

اسی طرح جلیل القدر تابعی عروہ بن زبیر فرماتے ہیں:

کان السارق علی عہد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقطع فی ثمن المجن وکان المجن یومئذ لہ ثمن ولم یکن یقطع فی الشئ التافہ.(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۱۱۰)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چور کا ہاتھ ایک ڈھال کی قیمت میں کاٹا جاتا تھا، کیونکہ اس وقت ڈھال ایک قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی۔ کسی معمولی چیز کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔''

صحابہ کے فتاویٰ اور فیصلوں کے مطالعہ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ انھوں نے مختلف مقدمات میں، مقدمے کی نوعیت کے لحاظ سے، کسی مخصوص نصاب کی پابندی کیے بغیر قطع ید کی سزائیں دی یا تجویزکی ہیں اور قیمتی اور غیر قیمتی اشیا میں اپنے اپنے ذوق اور صواب دید کے لحاظ سے فرق قائم کیا ہے:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے لوہے کا ایک خود چرانے پر جس کی قیمت ایک چوتھائی دینار تھی، چور کا ہاتھ کاٹ دیا۔۴؂

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر کاٹا جائے گا۔۵؂

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جس کو میں پانچ یا تین درہم میں بھی لینا پسند نہ کرتا۔۶؂

عمرہ بیان کرتی ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمے میں تین درہم کا ایک لیموں چرانے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا۔۷؂لیکن ایک دوسرے مقدمے میں ایک آدمی کو، جس نے کپڑا چرایا تھا، حضرت عمر کے پاس لایا گیا تو انھوں نے اس کا ہاتھ کاٹنے کاحکم دیا، تاہم حضرت عثمان نے کہا کہ اس کپڑے کی قیمت دس درہم سے کم ہے۔ چنانچہ تحقیق کی گئی تو اس کپڑے کی قیمت آٹھ درہم نکلی پس حضرت عمر نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔۸؂

ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے چار درہم سے کم کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کو درست قرار نہیں دیا۔۹؂

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ پانچ انگلیوں کا ہاتھ پانچ درہم چرانے پر ہی کاٹا جائے گا۔۱۰؂

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے جوتوں کا ایک جوڑا چرانے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا۔۱۱؂

ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مکے کے راستے میں لوگوں کے چابک چرایا کرتے تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اگر دوبارہ تم نے ایسا کیا تو میں تمھارے ہاتھ کاٹ دوں گا۔۱۲؂

اسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے دور اول میں فقہا کے ایک گروہ نے ڈھال یا اس کی قیمت کو معیار ماننے یا صحابہ سے منقول فتاویٰ اور فیصلوں میں سے کسی کو اختیار کرنے کے بجاے قیاس کے اصول پر ایک دوسرا معیار پیش کیا اور کہا کہ چونکہ بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب کم سے کم چالیس بکریاں ہے، اس لیے چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے بھی کم از کم چالیس درہم کو نصاب قرار دینا چاہیے۔۱۳؂

داؤد اصفہانی نے اسی بنیاد پر یہ راے اختیار کی ہے کہ قلیل یا کثیر مال کی حد بندی اور اس کی بنیاد پر نصاب سرقہ کی تعیین کا مدار اصلاً عرف وعادت پر ہے۔ امام رازی، ان کے استدلال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

نحن لا نوجب القطع فی سرقۃ الحبۃ الواحدۃ ولا فی سرقۃ التبنۃ الواحدۃ بل فی اقل شئ یجری فیہ الشح والضنۃ وذلک لان مقادیر القلۃ والکثرۃ غیر مضبوطۃ فربما استحقر الملک الکبیر آلافًا مولفۃ وربما استعظم الفقیر طسوجًا... ولما کانت مقادیر القلۃ والکثرۃ غیر مضبوطۃ وجب بناء الحکم علی اقل ما یسمی مالاً.(رازی، مفاتیح الغیب ۶/ ۱۷۸)

''ہم ایک دانے یا ایک تنکے کی چوری پر نہیں، بلکہ اس کم سے کم مقدار پر قطع ید کو لازم ٹھہراتے ہیں جس کے بارے میں انسان اپنے اندر بخل اور کنجوسی محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قلت اور کثرت کی کوئی متعین مقدار طے نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ ایک عظیم بادشاہ ہزاروں لاکھوں کی رقم کو حقیر سمجھ سکتا ہے، جبکہ ایک فقیر ممکن ہے کہ ایک طسوج کو بھی بہت بڑی چیز خیال کرے۔ چونکہ قلت اور کثرت کی کوئی متعین مقدار طے نہیں کی جا سکتی، اس لیے قطع ید کے حکم کا مدار اس کم سے کم مقدار پر رکھنا پڑے گا جسے مال کہا جاسکتا ہو۔''

اب اگر سرقہ میں نصاب مقرر کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ معمولی چیزوں کی چوری پر سزا نہ دی جائے، بلکہ کسی ایسی چیز کی چوری پر قطع ید کی سزا نافذ ہو جو عقلاً وعرفاً کسی خاص قدر وقیمت کی حامل ہو تو ظاہر ہے کہ ہر معاشرے کا عرف مختلف ہوتا ہے اور اس میں قدروقیمت رکھنے والی چیزیں بھی ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ عرب کے بدوی معاشرے میں ڈھال وغیرہ کو ایک قیمتی چیز کی حیثیت حاصل تھی اور اس بنا پر اس کو معیار مقرر کرنا بھی درست تھا، لیکن ظاہر ہے کہ دوسرے معاشروں میں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ اس بات کو درست مان لینے کا تقاضا یہ ہے کہ ڈھال کو تمام معاشروں اور زمانوں کے لیے معیار قرار دینے کے بجاے اس کا تعین ہر علاقے اور ہر دور کے اہل حل وعقد کی صواب دید پر چھوڑ دیا جائے جو اپنے اپنے عرف، ضروریات اور حالات کے لحاظ سے حد سرقہ کے لیے نصاب متعین کریں۔

____________

۱؂نسائی، رقم ۴۸۷۳۔

۲؂الرسالہ ۷۲۔

۳؂بخاری، رقم ۶۲۹۶۔

۴؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۰۸۹۔

۵؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۰۹۱۔

۶؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۰۹۲۔

۷؂الموطا، رقم ۱۳۱۱۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۰۹۶۔

۸؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۱۱۲۔

۹؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۰۹۵۔

۱۰؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۰۹۹۔

۱۱؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۱۰۰۔

۱۲؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۱۰۱۔

۱۳؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۱۳۷۔

_____________________________




Articles by this author