سزا کے نفاذ اور اطلاق کے اصول

سزا کے نفاذ اور اطلاق کے اصول


''شرعی سزاؤں کی ابدیت اور آفاقیت '' کے زیر عنوان ہم نے یہ بات واضح کی ہے کہ قرآن وسنت میں جن جرائم کی متعین سزائیں مقرر کی گئی ہیں، وہ ابدی ہیں اور اصولی طور پر ان سے مختلف اور متبادل سزائیں تجویز کرنے کی شرعاً کوئی گنجایش نہیں۔ یہاں ہم شرعی سزاؤں کے نفاذ اور اطلاق کے حوالے سے اس تصور کے مضمرات اور بعض دیگر عملی پہلووں کی وضاحت کریں گے۔

'حق اللہ' اور 'حق العبد' کا فرق

مذکورہ بحث میں ہم نے اپنے نقطۂ نظر کو ان سزاؤں کے 'حق اللہ' ہونے پر مبنی قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اصلاً اپنے حق کے طور پر بیان کیا اور ان کے نفاذ کو اسی حیثیت سے اہل ایمان کی ذمہ داری ٹھہرایا ہے۔ ہم نے روایات کی روشنی میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ان جرائم سے متعلق کوئی مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا جائے اور سزا کے نفاذ کی شرائط پوری اور موانع مفقود ہوں تو قاضی کو مجرم پر ترس کھا کر یا متاثرہ فریق کی طرف سے معافی کی بنیاد پر سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس سے صرف وہی صورت مستثنیٰ ہوگی جہاں خود شارع نے مخصوص حکمت کے تحت متاثرہ فریق کو سزا معاف کر دینے کا اختیار دیا ہو، جیسا کہ مثال کے طور پر قصاص کو معاف کرنے کا اختیار اولیاے مقتول کو دیا گیا ہے۔ جن سزاؤں کے بارے میں خود نص میں یہ صراحت موجود نہیں، ان کی معافی کا اختیار کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ فقہاے شوافع نے حد قذف کو، جبکہ فقہاے احناف نے حد سرقہ کو 'حق العبد' قرار دیتے ہوئے یہ راے اختیار کی ہے کہ متاثرہ فریق کی طرف سے معافی کی صورت میں مجرم سے یہ سزائیں ساقط ہو جائیں گی، تاہم جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہونے کے پہلو سے تمام شرعی سزائیں 'حق اللہ' ہیں اور ان کا 'حق اللہ' ہونا اسی کا تقاضا کرتا ہے کہ مقدمہ عدالت میں پیش ہو جانے کے بعد معافی کے حوالے سے متاثرہ فریق کا اختیار ختم ہو جائے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا کانفاذ لازم قرار پائے۔

البتہ 'حق اللہ' اور 'حق العبد' کی تقسیم کسی جرم کے قابل دست اندازئ پولیس ہونے یا نہ ہونے کے پہلو سے درست، بلکہ قانون کے نفاذ اور اطلاق کے پہلو سے ضروری ہے۔ مثال کے طور پر زنا بالرضا میں کسی انسان کے حق پر تعدی نہیں پائی جاتی اور اس میں کسی دوسرے فرد یا معاشرے کو متاثرہ فریق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ فقہا کا یہ موقف درست ہے کہ یہ اصلاً گناہ ہے اور اس کے ارتکاب پر ریاست کو ازخود نہیں، بلکہ کسی کی طرف سے شریعت کی بیان کردہ کڑی شرائط کے مطابق شکایت کا اندراج کرائے جانے کے بعد ہی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی اور غامدیہ کے واقعات میں جو طرز عمل اختیار فرمایا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر زنا کا کوئی مقدمہ باقاعدہ عدالت کے نوٹس میں آ جائے ، تب بھی عدالت اس سے صرف نظر کا رویہ اختیار کر سکتی ہے، بشرطیکہ ایسا کرنے سے وسیع تر دینی ومعاشرتی مصالح متاثر نہ ہوتے ہوں۔ اگر اس بات کا خدشہ ہو تو عدالت مثال کے طور پر کنواری لڑکیوں کے ہاں ظہور حمل کے واقعات کا ازخود نوٹس لینے کا حق بھی رکھتی ہے۔ زنا کے علاوہ حدود سے متعلق باقی تمام جرائم میں دوسرے انسان متاثرہ فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض مثلاً قتل، چوری، قذف اور زنا بالجبر ایسے ہیں جن میں تعدی اصلاً کسی فرد تک محدود ہوتی ہے، جبکہ بعض مثلاً ڈکیتی، اجتماعی آبرو ریزی اور حرابہ کی دیگر صورتیں ایسے ہیں جن کی زد میں معاشرہ اور اس کا نظم اجتماعی بھی آتا ہے۔ پہلی نوعیت کے جرائم میں مجرم کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کرنے کا حق اصلاً اس فرد یا اس کے ساتھ قریبی تعلق اور ہمدردی رکھنے والے کسی شخص کو، جبکہ دوسری نوعیت کے جرائم میں مقدمہ چلانے کا اختیار نظم اجتماعی کو حاصل ہونا چاہیے۔ ہماری راے میں پیشہ ورانہ بدکاری کو بھی معاشرے کے خلاف جرم شمار کرتے ہوئے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو نظم اجتماعی کا اختیار، بلکہ اس کی ذمہ داری قرار دیا جانا چاہیے۔

یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہم نے قتل، چوری، قذف اور زنا بالجبر کو مطلقاً نہیں، بلکہ ''اصلاً'' فرد کے خلاف تعدی کے زمرے میں شمار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جرم کے اثرات اور مجرم اور متاثرہ فریق کے احوال واوصاف تقاضا کریں تو ان جرائم کو فرد کے بجاے معاشرے کے خلاف تعدی کی فہرست میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں جزئی قانونی صورتوں کی کوئی حتمی اور بے لچک تقسیم نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔ چنانچہ اسے کسی اصولی بحث کا موضوع بنانے کے بجاے قانون کے اطلاقی ماہرین اور عدالت کی صواب دید پر چھوڑ دینا چاہیے۔

حدود میں معافی یا تخفیف کی گنجایش

اوپر ہم نے شرعی سزاؤں کی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''اگر ان جرائم سے متعلق کوئی مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا جائے اور سزا کے نفاذ کی شرائط پوری اور موانع مفقود ہوں تو قاضی کو مجرم پر ترس کھا کر یا متاثرہ فریق کی طرف سے معافی کی بنیاد پر سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔'' یہاں ''شرائط پوری اور موانع مفقود'' ہونے کی قید بے حد اہم اور قابل توجہ ہے اور اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ شریعت کی مقرر کردہ سزاؤں کے اپنی اصولی حیثیت میں ناقابل تبدیل یا ناقابل معافی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سزاؤں کے نفاذ کا معاملہ ہر اعتبار سے عام اور مطلق ہے اور ان میں علمی وعقلی تخصیص وتقیید کا کوئی امکان یا عملی حالات کے لحاظ سے لچک کی کوئی گنجایش نہیں پائی جاتی۔ قرآن مجید کے ہر طالب علم پر یہ بات واضح ہے کہ وہ بالعموم کسی بھی معاملے کی جزوی اور اطلاقی تفصیلات سے تعرض کرنے کے بجاے محض اصولی نوعیت کا ایک حکم دینے پر اکتفا کرتا ہے، جبکہ اس حکم کے اطلاق اور نفاذ یا دوسرے لفظوں میں اس کی بنیاد پر عملی قانون سازی کے لیے دیگر عقلی واخلاقی اصولوں اور عملی مصالح کی روشنی میں بہت سی قیود وشرائط کا اضافہ اور مختلف صورتوں میں حکم کے اطلاق ونفاذ کی نوعیت میں فرق کرنا پڑتا ہے۔

حکم کے اطلاق کا یہ اصول قرآن مجید نے خود واضح کیا ہے۔ چنانچہ جو مسلمان غیر مسلموں کے علاقے میں ان کے ظلم وجبر کا شکار ہوں، ان کی مدد کو مسلمانوں کا فرض قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی قوم کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ ہو تو پھر اس قوم کے خلاف مظلوم مسلمانوں کی مدد نہیں کی جا سکتی۔ ۱؂اسی طرح جب مشرکین عرب کو ایمان نہ لانے کی صورت میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو یہ واضح کیا گیا کہ جن مشرک قبائل کے ساتھ مخصوص مدت تک صلح کے معاہدے کیے گئے ہیں، مدت پوری ہونے سے پہلے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔۲؂

اس اصول کی روشنی میں دیکھیے تو شریعت کے دیگر تمام احکام کی طرح سزاؤں کے نفاذ میں بھی ان تمام شروط و قیود، مصالح اور موانع کا لحاظ رکھنا ضروری ہے جو جرم وسزا کے باب میں عقل عام پر مبنی اخلاقیات قانون اور خود شریعت کی ہدایات سے ثابت ہیں۔ ہمارے ہاں حدود کے بارے میں یہ بات بالعموم کہی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے ارباب حل وعقد کو قرآن وسنت میں مقرر کردہ سزاؤں میں تخفیف یا معافی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ یہ بات، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اس مفہوم میں درست ہے کہ اصولی طور پر شریعت کی طے کردہ سزاؤں سے مختلف یا ان سے کم یا زیادہ سزا مقرر نہیں کی جا سکتی، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ زنا کی سزا ۱۰۰کے بجاے ۸۰یا ۱۲۰کوڑوں یا قید یا جرمانے کی صورت میں مقرر کر دی جائے۔ اسی طرح یہ بات بھی درست ہے کہ زنا اور چوری کی اصل سزا سو کوڑے اور ہاتھ کاٹنا ہے اور عمومی طور پر یہی سزا قابل نفاذ ہوگی، یعنی اگر کسی شخص سے لفظ کے عام اور متعارف مفہوم کے لحاظ سے چوری یا زنا کا فعل سرزد ہو جائے اور عقل عام اور اخلاقیات قانون اس کو جرم قرار دینے یا اس پر سزا کے نفاذ میں مانع نہ ہوں تو ایسے شخص پر قرآن مجید کی بیان کردہ سزائیں ہی نافذ کی جائیں گی، تاہم کسی مخصوص مجرم پر سزا کے اطلاق کا معاملہ بالکل بے لچک نہیں ہے، بلکہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کے لحاظ سے اس میں تخفیف ہو سکتی ہے اور معقول اسباب ووجوہ کسی رعایت کا تقاضا کریں تو مخصوص حالات میں مجرم کو سزا سے مستثنیٰ بھی کیا جا سکتا ہے۔ سزا کے نفاذ کا یہ اصول ایک عمومی نوعیت کا اخلاقی اصول ہے اور اس کا اطلاق جیسے عام سزاؤں پر ہوتا ہے، اسی طرح شرعاً مقرر کردہ سزاؤں، یعنی 'حدود' پر بھی ہوتا ہے، اس لیے یہ کہنا کہ کسی مجرم پر 'حد' نافذ کرتے ہوئے مخصوص اسباب واحوال کے پیش نظر سزا میں تخفیف یا معافی کی کوئی گنجایش نہیں ہے، شریعت کی منشا کی درست ترجمانی نہیں کرتا اور عہد نبوی اور عہد صحابہ و تابعین کے نظائر سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔

ذیل میں ہم چند ایسے اہم پہلووں کی نشان دہی کرنے کی کوشش کریں گے جو کسی بھی نوعیت کی سزا کی معافی یا اس میں تخفیف کا موجب بن سکتے ہیں۔

۱۔ اگر شریعت کا کوئی دوسرا اصول کسی مخصوص مجرم پر سزا کے نفاذ میں مانع ہو تو اسے سزا سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا یا اس کے لیے متبادل سزا تجویز کی جائے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب بنو حنیفہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کے دو قاصد اس کا خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ مسیلمہ کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں؟ انھوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ 'لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما'۳؂، یعنی اگر قاصدوں کو قتل نہ کرنے کی روایت نہ ہوتی تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ ارتداد کی وجہ سے وہ دونوں قاصد قتل کے مستحق ہو چکے تھے، لیکن قاصدوں اور سفیروں کے احترام اور ان کی حفاظت کا ایک دوسرا اخلاقی اصول اس پر عمل کرنے میں مانع تھا اور آپ نے اسی کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں بحفاظت واپس جانے دیا۔ آپ نے اسی اصول پر یہ ہدایت کی کہ اگر باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو اسے قصاص میں قتل نہ کیا جائے۔ ۴؂ایک شخص نے اپنے غلام کو قتل کر دیا تو آپ نے اسے قصاص میں قتل کرنے کے بجاے سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔۵؂گویا آپ نے باپ اور بیٹے کے مابین پائے جانے والے فرق مراتب اور مالک کو اپنے مملوک پر حاصل حق ملکیت کو قصاص کے استیفا سے مانع تصور کیا ہے۔

۲۔ سزا نافذ کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا مجرم کو سزا دینے سے کسی بے گناہ کو تو کوئی ضرر لاحق نہیں ہوگا اور یہ کہ مجرم اپنی جسمانی حالت کے لحاظ سے سزا کا تحمل بھی کر سکتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدکاری کی مرتکب ایک حاملہ عورت کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جب تک وہ بچے کی ولادت سے فارغ نہیں ہو گئی۔۶؂اسی طرح جب سیدنا علی نے ایک لونڈی پر زنا کی سزا نافذ کرنے سے اس لیے گریز کیا کہ وہ بچے کی ولادت کے بعد ابھی حالت نفاس میں تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تحسین کی۔۷؂آپ نے ایک بوڑھے کو، جو کوڑوں کی سزا کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، حقیقی طور پر سو کوڑے لگوانے کے بجاے یہ حکم دیا کہ کھجور کے درخت کی ایک ٹہنی لے کر جس میں سو پتلی شاخیں ہوں، ایک ہی دفعہ اس کے جسم پر مار دی جائے۔ ۸؂سیدنا عمر کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں چوری کے جرم میں پہلے ہی کاٹا جا چکا تھا۔ سیدنا عمر نے اس کا دوسرا پاؤں کاٹنے کا حکم دیا تو سیدنا علی نے کہا کہ ایسا کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس کے پاس چلنے کے لیے ایک پاؤں اور اپنی ضروریات کے لیے ایک ہاتھ رہنا چاہیے۔ ۹؂

۳۔ کسی مخصوص صورت حال میں سزا کے نفاذ سے کوئی مفسدہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو بھی شارع کا منشا یہی ہوگا کہ سزا نافذ نہ کی جائے۔ چنانچہ جنگ کے لیے نکلنے والے لشکر میں سے کوئی شخص اگر چوری کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا۔۱۰؂انصار کے قبیلہ خزرج کے سردار عبداللہ بن ابی نے آپ کی ذات کے بارے میں گستاخی کرنے، آپ کے اہل بیت کے بارے میں نہایت اذیت ناک پروپیگنڈا کرنے اور مسلمانوں کے مابین تفریق وانتشار پیدا کرنے کا رویہ اختیار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس مصلحت کے تحت اس سے درگذر فرمایا کہ وہ انصار کے ایک گروہ کا سردار تھا اور اس کو قتل کرنے سے اس بات کا خدشہ تھا کہ اس گروہ میں منفی جذبات پیدا ہوں گے اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقعہ ملے گا کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ ۱۱؂

۴۔ مجرم اگر اصلاً شریفانہ کردار کا حامل ہو اور کسی موقع پر وقتی داعیے کے تحت جرم کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا بھی اسی اصول کی فرع ہے۔عہد نبوی میں اس کی ایک عمدہ مثال حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے واقعے میں ملتی ہے۔ حاطب ایک بدری صحابی تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر انھوں نے ایک خاتون کے ذریعے سے اہل مکہ کو خفیہ پیغام بھیج کر انھیں اس حملے سے پیشگی آگاہ کرنے کی کوشش کی جس کی تیاریاں مدینہ منورہ میں جاری تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعۂ وحی اس سے آگاہ کیا گیا تو آپ نے اس خاتون کو گرفتار کرنے کے بعد حاطب کو اپنے پاس طلب کیا۔ حاطب نے ایک نہایت اہم جنگی راز فاش کرنے کی کوشش کر کے بظاہر بغاوت جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا جس کی سزا قتل بھی ہو سکتی تھی اور سیدنا عمر نے اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاطب کو یہی سزا دینے کی اجازت مانگی تھی، تاہم آپ نے حاطب کو وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا اور انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایسا بدخواہی کی نیت سے نہیں، بلکہ محض قریش پر احسان کرنے کی غرض سے کیا ہے تاکہ اس کے عوض میں وہ مکہ میں موجود حاطب کے اعزہ واقربا اور اموال و املاک کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتے رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کی اس وضاحت کو قبول کرلیا اور انھیں کوئی سزا نہیں دی گئی۔اس موقع پر جب سیدنا عمر نے حاطب کو سزا دینے پر اصرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب جنگ بدر میں شریک ہو چکا ہے اور کیا پتا اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو یہ پروانہ عطا کر دیا ہو کہ تم جو چاہو کرو، میں نے تمھاری بخشش کر دی ہے۔۱۲؂

۵۔ اگر مجرم کسی فعل کی حرمت سے ناواقف ہو تو یہ چیز سرے سے سزا کے سقوط یا اس میں تخفیف کا سبب بن سکتی ہے۔ سعید ابن المسیب روایت کرتے ہیں کہ شام میں ایک شخص نے کسی جھجک کے بغیر لوگوں کے سامنے اپنے زنا کرنے کا ذکر کیا۔ لوگوں کی طرف سے ناگواری کے اظہار پر اس نے تعجب سے کہا کہ اچھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کہا ہے! میں تو اس بات سے واقف نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ اگر یہ شخص زنا کی حرمت سے واقف تھا تو اس پر حد قائم کرو، ورنہ اسے بتاؤ کہ یہ حرام ہے اور اگر دوبارہ اس کا مرتکب ہو تو پھر حد جاری کرو۔۱۳؂عبد الرحمن بن حاطب کی ایک شوہر دیدہ لونڈی، جو آزاد ہو چکی تھی، حاملہ ہو گئی تو اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے بے تکلف انداز میں بتایا کہ ہاں، میں نے مرغوش نامی شخص سے دو درہم لے کر زنا کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سزا دینا چاہی تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ جس انداز میں بے جھجک زنا کا ذکر کر رہی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اس کی حرمت اور شناعت سے واقف نہیں، جبکہ حد اسی شخص پر نافذ کی جا سکتی ہے جو اس فعل کی حرمت سے واقف ہو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کے بجاے سو کوڑے لگانے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دینے پر اکتفا کی۔۱۴؂امام جعفر صادق نے ایک مقدمے میں یہ فتویٰ دیا کہ اگر چور اس بات سے واقف نہیں تھا کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو بھی اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔۱۵؂

۶۔ حرمت محل میں واقع ہونے والے اشتباہ کی بنا پر سزا میں تخفیف کے نظائر بھی روایات و آثار میں موجود ہیں۔ چنانچہ ایک سریے میں صحابہ نے کچھ لوگوں کو اسلام قبول کرنے کے باوجود قتل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولوں کے لیے نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔۱۶؂اصولی طور پر ان مقتولوں کا قصاص لیا جانا چاہیے تھا یا کم از کم ان کی پوری دیت ادا کی جانی چاہیے تھی، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص صورت حال کے تناظر میں قاتلین سے قصاص بھی نہیں لیا اور انھیں آدھی دیت بھی معاف کر دی۔

زناکے مقدمات میں اس اصول کے اطلاق کی مثال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقدمے میں، جس میں شوہر نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کیا تھا، یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر تو خاوند نے بیوی کی اجازت کے بغیر ایسا کیا ہے تو اسے رجم کیا جائے گا، لیکن اگر اس میں بیوی کی رضامندی شامل تھی تو خاوندکو صرف سو کوڑے لگائے جائیں گے۔۱۷؂اسی نوعیت کے ایک دوسرے مقدمے میں آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر شوہر نے لونڈی کے ساتھ زبردستی جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، لیکن اگر لونڈی رضامند تھی تو پھر وہ شوہر کی ملکیت قرار پائے گی اور دونوں صورتوں میں شوہر کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کو اس جیسی کوئی دوسری لونڈی خرید کر دے۔ ۱۸؂

سیدنا عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے ایک ایسے شخص کو جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زبردستی زنا کیا تھا، رجم نہیں کیا، بلکہ اسے سو سے کم کوڑے لگانے کی سزا دی۔۱۹؂اس صورت میں سو کوڑے لگانے یا رجم کرنے کے بجاے تعزیری سزا دینے کا فتویٰ سفیان ثوری سے بھی مروی ہے۔ ۲۰؂سعید بن المسیب اور مدینہ کے بعض دیگر فقہا کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ لونڈی سے وطی کرے تو اسے ننانوے کوڑے لگائے جائیں۔۲۱؂ابن المسیب نے ایک مقدمے میں جس میں دو مالکوں نے اپنی مشترکہ لونڈی سے مجامعت کی تھی، فتویٰ دیا کہ دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے جائیں۔۲۲؂ابن المسیب ہی کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص مال غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ہی کسی لونڈی سے استمتاع کر لے تو اسے ننانوے کوڑے لگائے جائیں گے۔۲۳؂ایک عورت نے اپنے غلام سے نکاح کر لیا اور اس کے جواز پر یہ استدلال پیش کیا کہ قرآن مجید میں 'مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ' کو حلال کہا گیا ہے اور میرا غلام بھی میری ملک یمین ہے۔ سیدنا علی کے مشورے پر سیدنا عمر نے اسے محض سو کوڑوں کی سزا دی۔ اسی طرح ایک خاتون نے گواہوں اور سرپرست کے بغیر نکاح کر لیا اور کہا کہ میں ثیب ہوں اور اپنے معاملے میں خود مختار ہوں تو سیدنا عمر نے اسے بھی صرف سو کوڑے لگائے۔۲۴؂

۷۔ جن حالات میں جرم کا ارتکاب کیا گیا، اگر وہ سزا میں تخفیف کے متقاضی ہوں تو بھی سزا معاف کی جا سکتی یا کم تر سزا دی جا سکتی ہے، چنانچہ عباد بن شرحبیل بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے قحط کے زمانے میں مدینہ کے ایک باغ میں داخل ہو کر اس کا کچھ پھل کھایا اور کچھ کپڑے میں ڈال لیا۔ اتنے میں باغ کا مالک آ گیا اور اس نے پکڑ کر ان کی پٹائی کی اور ان کے کپڑے چھین لیے۔ عباد شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تو آپ نے باغ کے مالک سے فرمایا کہ تم نے نہ تو اسے سکھایا، حالانکہ یہ ناواقف تھا اور نہ اسے کھلایا، حالانکہ یہ بھوکا تھا۔ پھر آپ کے کہنے پر باغ کے مالک نے عباد کے کپڑے بھی واپس کر دیے اور انھیں کچھ غلہ بھی دے دیا۔۲۵؂

ابو لولو مجوسی نے سیدنا عمر کو شہید کر دیا تو ان کے بیٹے عبید اللہ نے جوش انتقام سے مغلوب ہو کر قتل کی سازش میں شریک ہونے کے شبہے میں فارس کے نومسلم جرنیل ہرمزان، ایک نصرانی جفینہ اور ابو لولو کی بیٹی کو قتل کر دیا۔ ان میں سے ہرمزان اور ابو لولو کی بیٹی پہلے سے اسلام قبول کر چکے تھے۔ اس موقع پر سیدنا عثمان نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا کہ عبید اللہ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ بعض صحابہ نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ کل عبید اللہ کے والد قتل ہوئے ہیں اور آج اسے قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ سیدنا عمر کی شہادت اور اس مخصوص جذباتی کیفیت کی رعایت کرتے ہوئے جس میں عبید اللہ نے تہرے قتل کا ارتکاب کیا تھا، اس سے قصاص نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔۲۶؂

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک عورت کا مقدمہ پیش کیا گیا جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ اس سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک سفر کے دوران میں اس نے ایک چرواہے سے پینے کے لیے پانی مانگا تو اس نے اس شرط پر پانی دینے پر رضامندی ظاہر کی کہ خاتون اسے اپنے ساتھ زنا کرنے کی اجازت دے۔ چنانچہ خاتون نے شدید پیاس سے مجبور ہو کر اس کی شرط پوری کر کے اس سے پانی حاصل کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس ضمن میں صحابہ سے مشورہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے حالت اضطرار میں ایسا کیا ہے۔ چنانچہ اس خاتون کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ ۲۷؂

ایک دوسرے موقع پر ایک خاتون زنا ہی کے جرم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائی گئی اور اس نے بتایا کہ وہ نادار اور محتاج ہے اور لوگ اس پر ترس کھا کر اس کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ وہ جسم فروشی کر کے کچھ نہ کچھ پیسے جمع کر لیتی ہے۔ یہ خاتون محصنہ ہونے کی بنا پر 'رجم' کی سزا کی مستحق تھی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے حالات کے پیش نظر اسے سو کوڑوں کی سزا دینے پر اکتفا کی۔۲۸؂

سیدنا عمر کے سامنے کچھ غلاموں کو پیش کیا گیا جنھوں نے ایک شخص کی اونٹنی چرا کر اسے ذبح کر لیا تھا۔ سیدنا عمر نے پہلے تو ان کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن پھر ان کے مالک سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ تم انھیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں دیتے۔ چنانچہ انھوں نے غلاموں کو سزا دینے کے بجاے ان کے مالک پر تاوان کے طور پر لازم کیا کہ وہ اونٹنی کے مالک کو اس کی قیمت کے دو گنا رقم ادا کرے۔ ۲۹؂اسی اصول کے تحت سیدنا عمر اور سیدنا علی قحط سالی کے زمانے میں چور پر قطع ید کی سزا نافذ نہیں کیا کرتے تھے۔ ۳۰؂

۸۔ سزا تجویز کرتے وقت مجرم کے تمدنی پس منظر، اس کے ماحول اور صالح معاشرتی تربیت کے لیے اس کو میسر مواقع کا لحاظ کرنا بھی ناگزیر ہوگا۔ اس ضمن میں لونڈیوں کے لیے زنا کی آدھی سزا تجویز کرنے کا قرآنی حکم بطور خاص قابل توجہ ہے۔۳۱؂فقہا اس تخفیف کی توجیہ بالعموم غلاموں اور لونڈیوں کی فروتر معاشرتی اور قانونی حیثیت کے تناظر میں کرتے ہیں۔ ان کے زاویۂ نگاہ سے چونکہ غلاموں اور لونڈیوں کے معاشرتی وقانونی حقوق معاشرے کے آزاد افراد کے مقابلے میں کم تر ہیں، اس وجہ سے ان پر ذمہ داریاں بھی کم عائد کی گئی ہیں اور جرم کے ارتکاب کی صورت میں تخفیف شدہ سزا اسی کی ایک فرع ہے۔۳۲؂شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ چونکہ غلاموں اور لونڈیوں پر سزا نافذ کرنے کا اختیار ان کے مالکوں ہی کو دے دیا گیا تھا اور ان کی طرف سے اس اختیار کے استعمال میں زیادتی اور حدود سے تجاوز کا خدشہ موجود تھا، اس لیے مملوکوں کی سزا میں تخفیف کر دی گئی تاکہ انھیں امکانی حد تک مالکوں کی تعدی سے بچایا جا سکے۔۳۳؂تاہم بعض معاصر اہل علم نے اس تخفیف کی توجیہ یہ کی ہے کہ غلام اور لونڈیاں چونکہ خاندان کی حفاظت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے مناسب اخلاقی تربیت سے محروم تھیں اور انھیں اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے نکاح کا حق بھی آزاد لوگوں کی طرح حاصل نہیں تھا، اس لیے زنا میں ملوث ہونے کی صورت میں ان کے اس معاشرتی پس منظر کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے لیے کم تر سزا تجویز کی گئی۔۳۴؂

۹۔ قرآن مجید نے 'حرابہ' کی سزائیں بیان کرتے ہوئے یہ ہدایت کی ہے کہ اگر مجرم قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے تائب ہو جائیں تو ان پر سزا کا نفاذ لازم نہیں رہے گا۔ ارشاد ہوا ہے:

اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(المائدہ ۵: ۳۴)

''البتہ جو مجرم تمھارے ان پر قدرت پانے سے پہلے تائب ہو جائیں تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔''

یہاں سزا کے نفاذ سے قطعی طور پر منع نہیں کیا گیا، اس لیے اس سے کوئی قانونی ممانعت اخذ نہیں کی جا سکتی اور عدالت اگر مصلحت عامہ کے تناظر میں مجرموں کو پوری یا تخفیف شدہ سزا دینا چاہے تو آیت میں کوئی چیز اس سے مانع نہیں، تاہم ایسی کوئی مصلحت پیش نظر نہ ہو تو 'فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ' کی نہایت بلیغ ترغیب یہ تقاضا کرتی ہے کہ عدالت مجرم کے لیے رعایت کے پہلو کو کسی حال میں نظر انداز نہ کرے۔

توبہ کی صورت میں سزا کو معاف کرنے کی یہ ترغیب اصلاً حرابہ کے حوالے سے بیان ہوئی ہے، تاہم اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ چونکہ ایک عمومی اخلاقی اصول پر مبنی ہے، اس لیے اسے حرابہ تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں اور حدود سے متعلق باقی جرائم پر بھی اس کا اطلاق یقیناً ہوگا۔

سزاؤں کے نفاذ کے حوالے سے مذکورہ مختلف پہلووں کے ساتھ ساتھ شریعت کا یہ عمومی رجحان بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس کا اصل زور مجرم کو ہر حال میں سزا دینے پر نہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو، اسے سزا سے بچاتے ہوئے اصلاح احوال کا موقع فراہم کرنے پر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے ان لوگوں کو جن سے جرم سرزد ہو جائے، یہ ترغیب دی ہے کہ (اگر جرم کے ساتھ کسی بندے کا حق متعلق نہیں ہے تو) وہ اپنے جرم پر پردہ ڈالے رکھیں اور توبہ واستغفار کے ذریعے سے اسے اللہ تعالیٰ سے معاف کرانے کی کوشش کریں۔ آپ نے فرمایا:

من اصاب من ہذہ القاذورات شیءًا فلیستتر بستر اللّٰہ فانہ من یبدی لنا صفحتہ نقم علیہ کتاب اللّٰہ.(موطا امام مالک، رقم ۱۲۹۹)

''جو شخص ان ناپاک چیزوں میں سے کسی میں ملوث ہو جائے تو وہ اس پردے سے اپنے آپ کو چھپا لے جو اللہ نے ڈال رکھا ہے، کیونکہ جو شخص ہمارے سامنے اپنے جرم کو بے نقاب کرے گا، ہم اس پر اللہ کے قانون کو نافذ کر دیں گے۔''

آپ نے معاشرے کے لوگوں کو بھی یہی ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو عدالت میں پیش کرنے سے گریز کریں، کیونکہ مقدمہ عدالت میں پیش ہو جانے کے بعد مجرم پر سزا کا نفاذ قاضی کی ذمہ داری قرار پاتا ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تعافوا الحدود فی ما بینکم فما بلغنی من حد فقد وجب.(نسائی، رقم ۴۷۰۳)

''سزاؤں کو آپس ہی میں معاف کر دیا کرو، کیونکہ جو معاملہ مجھ تک پہنچ جائے گا، اس میں سزا دینا لازم ہو جائے گا۔''

ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا، اسے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ کو بتایا گیا کہ اس نے چوری کی ہے تو آپ کا چہرہ مبارک اس طرح سیاہ ہو گیا، جیسے اس پر راکھ پھینک دی گئی ہو۔ صحابہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ، آپ کو کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا:

وما یمنعنی وانتم اعوان الشیطان علی صاحبکم واللّٰہ عزوجل عفو یحب العفو ولا ینبغی لوالی امر ان یوتی بحد الا اقامہ.(مسنداحمد، رقم ۳۷۸۰)

''میں اس پر سزا نافذ کرنے سے کیسے رک سکتا ہوں، جبکہ تم خود اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد کرنے والے ہو؟ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ (تمھیں چاہیے تھا کہ اس کو میرے سامنے پیش نہ کرتے، کیونکہ) حکمران کے سامنے جب سزا سے متعلق کوئی معاملہ پیش ہو جائے تو اس کے لیے سزا کو نافذ کرنا ہی مناسب ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ضمن میں ارباب حل و عقد کے لیے بھی یہ راہنما اصول بیان فرمایا ہے کہ ان کی اصل دلچسپی مجرم کو سزا دینے سے نہیں، بلکہ عدل وانصاف کے حدود میں رہتے ہوئے اس کے لیے معافی کی گنجایش تلاش کرنے سے ہونی چاہیے۔ ام المومنین عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ادرء وا الحدود عن المسلمین ما استطعتم فان کان لہ مخرج فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطئ فی العفو خیر من ان یخطئ فی العقوبۃ.(ترمذی، رقم ۱۳۴۴)

''جہاں تک ہوسکے، مسلمانوں سے سزاؤں کو ٹالو۔ پس اگر تمھیں کسی مسلمان کے لیے سزا سے بچنے کا کوئی راستہ ملے تو اس کو چھوڑ دو، کیونکہ حاکم کا معاف کر دینے میں غلط فیصلہ کرنا اس سے بہترہے کہ وہ کسی کو سزا دینے کا غلط فیصلہ کرے۔''

ماعز اسلمی نے جب زنا کا ارتکاب کیا تو اس کے سرپرست ہزال نے اسے ترغیب دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے آمادہ کیا۔ ماعز کے پیش ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو بار بار اس سے اعراض کرتے ہوئے اسے واپس بھیجنے کی کوشش کی، لیکن جب اس نے سزا کے نفاذ پر اصرار کیا تو اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر جب آپ کو بتایا گیا کہ ماعز سزا سے بچنے کے لیے بھاگ کھڑا ہوا تھا تو آپ نے لوگوں سے کہا کہ 'ہلا ترکتموہ لعلہ ان یتوب فیتوب اللّٰہ علیہ'، یعنی تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا، ممکن ہے کہ وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتے۔ اس موقع پر آپ نے اس کے سرپرست ہزال سے فرمایا کہ 'لو کنت سترتہ بثوبک کان خیرًا مما صنعت بہ'، یعنی اگر تم اپنی چادر سے اس کو ڈھانپ دیتے تو یہ اس سے بہتر ہوتا جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ ۳۵؂

ایک مقدمے میں ایک چور کو آپ کے پا س لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف تو کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس سے چوری شدہ مال برآمد نہیں ہوا تھا۔ آپ نے اس سے کہا کہ میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی، لیکن اس نے کہا کہ نہیں، میں نے چوری کی ہے۔ چنانچہ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔۳۶؂

عطاء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے پاس جب کسی چور کو لایا جاتا تو وہ اس سے پوچھتے کہ کیا تم نے چوری کی ہے؟ کہو:نہیں۔ یہی طریقہ ابو الدرداء اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے، جبکہ ابن مسعود کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے چوری کے ملزم سے کہا کہ کیا تم نے چوری کی ہے؟ کہو : یہ چیز مجھے کہیں سے ملی ہے۔۳۷؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ اسلام کی قانونی اخلاقیات کی رو سے مجرم پر سزا کا نفاذ اسی صورت میں قرین انصاف ہے جب وہ کسی پہلو سے رعایت کا مستحق نہ ہو۔ اگر جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کسی رعایت کا تقاضا کر رہے ہوں تو اس پہلو کونظر انداز کرتے ہوئے سزا کو نافذ کرنا عدل وانصاف اور خود شارع کی منشا کے خلاف ہے۔

یہاں بحث کے تتمہ کے طور پر کلاسیکی فقہی ذخیرے کے اس قانونی تصور پر بھی ایک مختصر تبصرہ برمحل معلوم ہوتا ہے کہ ''اگر 'شبہ' پایا جائے تو 'حد' ساقط ہو جائے گی''، اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہا نے اس تصور کی جو اساس اور جو دائرۂ کار متعین کیا ہے، وہ اس سے مختلف ہے جو ہم نے مذکورہ سطورمیں واضح کیا ہے۔ فقہا نے اپنے موقف کا ماخذ استدلال کتب فقہ میں 'ادرء وا الحدود بالشبہات' ۳۸؂(حدود کو شبہات کی بنیاد پر ٹال دو) کے الفاظ میں نقل ہونے والی ایک روایت کو بنایا ہے، تاہم یہ روایت سرے سے ثابت ہی نہیں اور کتب حدیث میں ان الفاظ کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو بات کتب حدیث میں بیان ہوئی ہے، وہ ہم اوپر نقل کر چکے ہیں اور اپنے الفاظ کے لحاظ سے وہ کسی طرح بھی اسقاط حد کے حوالے سے فقہا کے بیان کردہ قانونی ضابطے کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ اس ضمن میں فقہی ضابطے کے تین بنیادی نکات ہیں اور تینوں محل نظر ہیں:

ایک یہ کہ فقہا اسقاط سزاکے اس اصول کے اطلاق کو فقہی اصطلاح کے مطابق 'حدود'، یعنی شریعت کی متعین کردہ سزاؤں تک محدود قرار دیتے ہیں، حالانکہ روایت میں 'حدود' کے لفظ کو اگر فقہی اصطلاح کے مفہوم میں لیا جائے تو بھی 'فان الامام ان یخطئ فی العفو خیر من ان یخطئ فی العقوبۃ' کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہاں سزا کے نفاذ کے حوالے سے حد اور تعزیر میں فرق پر مبنی کسی تکنیکی ضابطے کا نہیں، بلکہ ایک عمومی اخلاقی اصول کا بیان پیش نظر ہے جس کا اطلاق ہر قسم کی سزا پریکساں ہوگا۔

دوسرے یہ کہ فقہی ذخیرے میں حد کو ٹالنے کی اساس 'شبہ' کو قرار دیتے ہوئے اس کی بعض متعین صورتیں، مثلاً شبہ فی الفعل اور شبہ فی المحل وغیرہ بیان کی گئی ہیں، جبکہ مذکورہ روایت کی رو سے سزا میں تخفیف اور رعایت کا اصول محض 'شبہے' کی صورتوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ وجہ جو عقلی اور اخلاقی طور پر مجرم کو رعایت کا مستحق بناتی ہو، اس اصول کے تحت داخل ہے۔

تیسرے یہ کہ فقہا نے شبہے کی بنیاد پر حد ٹالنے کو ایک قانونی اور تکنیکی ضابطے کے طور پر بیان کیا ہے جس کی رو سے شبہ پائے جانے کی صورت میں قانونی طور پر حد کے نفاذ کی کوئی گنجایش ہی نہیں رہتی، جبکہ روایت سے واضح ہے کہ اس کی نوعیت قاضی کے لیے ایک اصولی ہدایت کی ہے نہ کہ کسی بے لچک قانونی ضابطے کی۔ چنانچہ اگر سزا میں تخفیف کی کوئی وجہ پائی جائے تو مجرم پر سزا کے نفاذ کا امکان ازخود ختم نہیں ہو جائے گا، بلکہ شبہے کو وزن دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ،بہرحال قاضی کی صواب دید پر منحصر رہے گا۔

حدود کے علاوہ اضافی سزاؤں کا جواز

سزا کے نفاذ میں عملی حالات کی رعایت کی اس بحث میں یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ جرم کی نوعیت، مجرم کے حالات اور دیگر اضافی اسباب جس طرح سزا میں تخفیف کا سبب بن سکتے ہیں، اسی طرح اگر ان کا تقاضا ہو تو حدود کے دائرے میں آنے والے کسی جرم کی شرعاً مقرر کردہ سزا کے علاوہ کوئی زائد سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی بیان کردہ سزائیں اصلاً اس صورت سے متعلق ہیں جب جرم کا ارتکاب معمول کے حالات میں اپنی سادہ صورت میں کیا گیا ہو۔ اگر اضافی اسباب کے تحت جرم کی نوعیت سادہ نہ رہے اور حس انصاف معمول کی سزا کے علاوہ بھی کسی سزا کے اضافے کا تقاضا کرے تو ایسا کرنا یقیناًشارع کے منشا کے مطابق ہوگا۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کے جرم میں بار بار ماخوذ ہونے والے مجرموں کو قتل کر دینے کا حکم دیا،۳۹؂اس لیے کہ شراب نوشی اپنی ذات میں ایک جرم ہے، جبکہ اس کو معمول یا پیشے کے طور پر اختیار کر لینا ایک دوسرا جرم ہے اور اگر کوئی مجرم بار بار سزا پانے کے باوجود جرم سے باز نہیں آتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قابل اصلاح نہیں۔ اسی طرح آپ نے سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح اور کسی محرم خاتون کے ساتھ بدکاری کرنے والے کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا۴۰؂جس کی وجہ واضح ہے کہ مجرم نے یہاں صرف زنا نہیں کیا، بلکہ اس کے ساتھ ایک دوسری شرعی حرمت کو بھی پامال کیا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں شراب نوشی کرنے والے کو اسی اصول کے تحت رمضان کی ہتک حرمت کی پاداش میں ۲۰کوڑے زائد لگائے تھے۔۴۱؂ام ورقہ رضی اللہ عنہا کا ایک غلام اور ایک لونڈی اپنی مالکہ کو قتل کر کے بھاگ گئے۔ جب انھیں پکڑ کر سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے ان دونوں کو سولی چڑھا دینے کا حکم دیا۔۴۲؂یہاں قصاص کی زیادہ تکلیف دہ صورت اختیار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں قتل کے ساتھ ساتھ اپنی مالکہ کے خلاف بدعہدی اور بغاوت کے بھی مرتکب ہوئے تھے۔ اسی طرح احناف کے نزدیک ایسے جرائم جن کی اصل سزا ان کے نزدیک قتل نہیں، مثلاً تیز دھار آلے کے بغیر قتل کرنا، غیر شادی شدہ کی بدکاری، کسی غیر مسلم کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنا وغیرہ، اگر مجرم بار بار ان کا ارتکاب کرے تو اسے تعزیراً قتل کیا جا سکتا یا مقررہ حد کے علاوہ کوئی اضافی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ ۴۳؂

یہ بات عقل عام اور اخلاقیات قانون کی رو سے بھی مسلم ہے کہ جرم اگر اپنی سادہ شکل سے آگے بڑھ کر ایک سے زیادہ جرائم کا مجموعہ بن جائے تو اس کی سزا مفرد نہیں ،بلکہ مرکب ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر مخصوص صورت حالات میں معمول کی سزائیں جرائم کی روک تھام کے لیے موثر ثابت نہ ہوں تو بھی اضافی سزاؤں کا نفاذ درست ہوگا۔ ابن العربی لکھتے ہیں:

وہذا ما لم یتتابع الناس فی الشر ولا احلولت لہم المعاصی حتی یتخذوہا ضراوۃ ویعطف الناس علیہم بالہوادۃ فلا یتناہوا عن منکر فعلوہ فحینئذ تتعین الشدۃ ویزید الحد لاجل زیادۃالذنب وقد اتی عمر بسکران فی رمضان فضربہ ماءۃ، ثمانین حد الخمر وعشرین لہتک حرمۃ الشہر فہکذا یجب ان تترکب العقوبات علی تغلیظ الجنایات وہتک الحرمات.(احکام القرآن ۳/ ۳۳۵)

''یہ سزا اس صورت میں ہے جب لوگ جرم کے خوگر نہ ہو چکے ہوں اور وہ انھیں اتنا مرغوب نہ ہو چکاہو کہ انھوں نے اسے مستقل عادت بنا لیا ہو۔ اگر یہ صورت ہو اور جرم کی سنگینی کا احساس ختم ہو جانے کے باعث لوگوں نے ایک دوسرے کو اس سے روکنا بھی چھوڑ دیا ہو تو جرم کی شناعت بڑھ جانے کے باعث سزا کی سختی اور مقدار میں اضافہ ضروری ہو جائے گا۔ سیدنا عمرکے پاس رمضان میں ایک شرابی کو لایا گیا تو انھوں نے اسے سو کوڑے لگوائے جن میں سے ۸۰شراب نوشی کی سزا تھے اور بیس رمضان کی حرمت کو پامال کرنے کی۔ اگر جرم کی سنگینی میں اضافہ ہو جائے اور دوسری حرمتیں بھی پامال کی گئی ہوں تو سزائیں بھی اسی طرح مرکب ہونی چاہییں۔''

اس ضمن میں فقہی ذخیرے اور بالخصوص فقہ حنفی کی بعض جزئیات بدیہی طور پر شریعت کے منشا اور عدل وانصاف کے تقاضوں کے منافی دکھائی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر امام ابوحنیفہ کی طرف یہ راے منسوب ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی محرم خاتون کے ساتھ نکاح کر کے اس کے ساتھ مجامعت کرے تو اسے 'عقد نکاح' سے پیدا ہونے والے شبہے کا فائدہ دیتے ہوئے حد سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا اور صرف تعزیری سزا دی جائے گی، خواہ وہ اس فعل کی حرمت سے واقف ہو،۴۴؂حالانکہ یہ جرم کسی رعایت کا نہیں، بلکہ سخت تر سزا کا مستوجب ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنے والے کا سرقلم کرنے کا حکم دیا تھا۔۴۵؂

بعض فقہا مردہ عورت کے ساتھ بدکاری کو اس بنیاد پر حد سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں کہ یہ صورت 'زنا' کی عمومی تعریف کے تحت نہیں آتی، تاہم اس کے برعکس مالکیہ کی یہ راے زیادہ قوی دکھائی دیتی ہے کہ مردہ عورت کے ساتھ بدکاری کرنا سنگین تر جرم ہے، کیونکہ اس میں بدکاری کے ساتھ ساتھ لاش کی بے حرمتی کا اضافی جرم بھی پایا جاتا ہے۔۴۶؂

اسی طرح اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ اجرت طے کر کے بدکاری کرے تو امام ابو حنیفہ کی راے میں اسے زنا کی سزا نہیں دی جا سکتی، کیونکہ معاہدۂ اجرت اس عمل میں حلت کا شبہ پیدا کرنے کا موجب ہے۔۴۷؂یہاں 'شبہ' کا ایک تکنیکی مفہوم مراد لیتے ہوئے سزا میں تخفیف کی گنجایش پیدا کی گئی ہے،حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن وجوہ کے پیش نظر سزا کو ٹالنے کی ترغیب دی ہے، ان سے مراد بدیہی طورپر اسقاط سزا کے ایسے وجوہ ہیں جن کی موجودگی میں کسی مجرم پر سزا کا نفاذ حس انصاف کو مجروح کرتا ہو اور اسے معاف کر دینا ہی عدل وانصاف کا تقاضا محسوس ہوتا ہو۔ چنانچہ تکنیکی شبہات کی بنیاد پر سزا میں تخفیف کی گنجایش پیدا کرنا نہ قانون کی حکمت کا تقاضا ہے اور نہ اسے کسی طرح شارع کا منشا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

فقہی 'نکتہ رسی' کی دلچسپ ترین مثال اس جزئیے میں ملتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نابالغ بچی کے ساتھ زنا کرے تو اس پر حد جاری کی جائے گی، لیکن اگر زنا کے نتیجے میں بچی کی دونوں شرم گاہیں آپس میں مل جائیں تو زانی حد سے مستثنیٰ قرار پائے گا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ زنا کی حد تب واجب ہوتی ہے جب یہ فعل کامل صورت میں واقع ہوا ہو اور فعل کے کامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا محل بھی کامل ہو۔ چنانچہ اگر زنا کے نتیجے میں بچی کی دونوں شرم گاہیں آپس میں نہیں ملیں تو یہ اس کی دلیل ہے کہ محل اس فعل کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اگر شرم گاہیں مل گئی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ محل جماع سرے سے اس فعل کا متحمل ہی نہیں تھا، اس لیے زنا کا فعل کامل صورت میں واقع نہیں ہوا اور اس پر حد نہیں لگائی جا سکتی۔۴۸؂یہ جزرسی غالباً کسی داد کی محتاج نہیں ہے۔

____________

۱؂الانفال ۸: ۷۲۔

۲؂التوبہ ۹: ۴۔

۳؂ابوداؤد، رقم ۲۳۸۰۔

۴؂ترمذی، رقم ۱۳۲۰۔ ابن ماجہ،رقم ۲۶۵۲۔

۵؂ابن ماجہ، رقم ۲۶۵۴۔

۶؂مسلم، رقم ۳۲۰۷۔

۷؂مسلم، رقم ۳۲۱۷۔

۸؂ابو داؤد، رقم ۳۸۷۸۔ ابن ماجہ، رقم ۲۵۶۴۔

۹؂مصنف عبدالرزاق،رقم ۱۸۷۶۶۔

۱۰؂ترمذی، رقم ۱۳۷۰۔

۱۱؂ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۴/ ۱۵۸۔بخاری، رقم۳۲۵۷۔

۱۲؂بخاری، رقم۲۷۸۵۔

۱۳؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۷۱۴۔

۱۴؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۸۴۲۔

۱۵؂الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/ ۱۲۱۔

۱۶؂ترمذی، رقم ۱۵۳۰۔

۱۷؂ترمذی، رقم ۱۳۷۱۔ نسائی، رقم ۳۳۷۰۔

۱۸؂نسائی، رقم ۳۳۱۰۔ ابو داؤد، رقم ۳۸۶۸۔

۱۹؂مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۳۵۳۶، ۱۳۴۹۱۔

۲۰؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۵۳۳۔

۲۱؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۵۲۶۔

۲۲؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۵۲۸۔

۲۳؂مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۳۵۳۷۔

۲۴؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۷۶۰۔

۲۵؂ابوداؤد، رقم ۲۲۵۲۔

۲۶؂طبری، تاریخ الامم والملوک ۲/ ۵۸۶۔ ۵۸۷۔

۲۷؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۸۲۷۔القمی، من لا یحضرہ الفقیہ۴/ ۳۵،رقم۵۰۲۵۔

۲۸؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۶۴۹۔ ۱۳۶۵۰۔

۲۹؂موطا امام مالک، رقم۲۳۳۰۔

۳۰؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۹۹۰۔ ۱۸۹۹۱۔ ابن القیم، اعلام الموقعین ۶۰۵۔ الکلینی، الفروع من الکافی ۷/ ۲۳۱۔الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/ ۱۱۳۔

۳۱؂النساء ۴: ۲۵۔

۳۲؂کاسانی، بدائع الصنائع۷/ ۵۷۔

۳۳؂حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۵۔

۳۴؂امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن ۲/ ۲۸۰۔ جاوید احمد غامدی، حدود وتعزیرات ۳۰۔

۳۵؂مسند احمد، رقم ۲۰۸۸۵۔یہاں یہ اشکال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ جرم ثابت ہو جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو چھوڑ دینے کا امکان کیونکر تسلیم کیا، اس لیے کہ ماعز کا جرم محض اس کے اقرار سے ثابت ہوا تھا جو فقہا کی اصطلاح میں 'حجت قاصرہ' ہے اور درء حدود کے شرعی اصول کی روشنی میں مجرم کے اپنے اقرار سے پھر جانے کی بنیاد پر اس سے سزا کو ٹال دینا خود شریعت کا منشا ہے۔

۳۶؂نسائی، رقم ۴۷۹۴۔

۳۷؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۵۷۴۔ ۲۸۵۸۰۔

۳۸؂جصاص، احکام القرآن ۵/ ۱۱۱۔ سرخسی، المبسوط ۹/ ۳۸، ۵۲۔

۳۹؂ترمذی، رقم ۱۳۶۴۔

۴۰؂ترمذی، رقم ۱۲۸۲، ۱۴۶۲۔

۴۱؂مصنف عبد الرزاق، رقم۱۳۶۲۶۔ الکلینی، الفروع من الکافی ۷/ ۲۱۶۔

۴۲؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۵۸۵۰۔

۴۳؂حاشیہ ابن عابدین ۴/ ۶۲۔۶۳۔

۴۴؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۹۹۔

۴۵؂ترمذی، رقم ۱۲۸۲۔

۴۶؂وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۲۷۔۲۸، ۶۸۔

۴۷؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۵۸۔

۴۸؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۸۶۔

_____________________




Articles by this author