شہادت کا معیار اور نصاب (حصہ اول)

شہادت کا معیار اور نصاب (حصہ اول)


حدود وقصاص کے مقدمات میں شہادت کے معیار ونصاب اور چند دیگر شرائط کے حوالے سے بعض اہم سوالات معاصر تناظر میں خصوصیت کے ساتھ بحث طلب ہیں۔ مثلاً:

۱۔ کیا شریعت میں حدود سے متعلق جرائم کے اثبات کا کوئی خاص طریقہ یا گواہی کا کوئی خاص معیار اور نصاب مقرر کیا گیا ہے؟

۲۔ حدود وقصاص کے مقدمات میں خواتین کی گواہی قابل قبول ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا ان کی گواہی مردوں کے برابر سمجھی جائے گی یا ان سے آدھی؟

۳۔ زنا کے اثبات کے لیے چار عینی گواہوں کی کڑی شرط عائد کرنے کا مقصد کیا ہے اور کیا اس کا اطلاق زنا کی ہر صورت پر ہوتا ہے؟مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون زنا بالجبر کا شکار ہو تو کیامجرم کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے کے لیے اسے بھی چار گواہ پیش کرنا ہوں گے؟

۴۔ اگر چار سے کم گواہ کسی کے خلاف زنا کی گواہی دیں تو کیا اس صورت میں ملزم پر حد سے کم تر کوئی تعزیری سزا نافذ کی جا سکتی ہے؟ اسی طرح کیا زنا سے کم تر کسی جرم پر سزا دینے کے لیے بھی چار گواہ ہی مطلوب ہیں یا اس صورت میں شہادت کے عام معیار پر جرم ثابت ہونے پر سزا دی جا سکتی ہے؟

۵۔ کیا یہ ضروری ہے کہ زنا کے گواہ ہر حال میں مرد وعورت کو عین حالت زنامیں دیکھنے کی گواہی دیں؟ اگر ایسا ہے تو مثال کے طور پر زنا بالجبر کے مجرم کو سزا دینا کیسے ممکن ہوگا؟

یہاں ہم ان سوالات سے متعلق تنقیح طلب نکات کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے۔

شہادت کا مخصوص نصاب

قرآن مجید میں کسی شخص پر زنا کا الزام ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی شرط صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے جس کی حکمت اور مقصد پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔اس کے علاوہ کسی بھی معاملے میں حقیقت واقعہ تک رسائی کے کسی مخصوص طریقے یا شہادت کے کسی مخصوص نصاب کی پابندی کو عدالت کے لیے لازم ٹھہرانے کی کوئی بنیاد قرآن وسنت کے نصوص میں نہیں پائی جاتی۔ اس ضمن میں واحد نص جس میں گواہی کے حوالے سے کسی نصاب کا اہتمام کرنے کا ذکر ہوا ہے، سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۸۲ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰہُمَا الْاُخْرٰی.

''اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو۔ پھر اگر وہ دو گواہ مرد نہ ہوں تو تمھارے قابل اعتماد گواہوں میں سے ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بن جائیں ، یہ اس لیے کہ اگر ان میں سے ایک عورت الجھے تو دوسری اس کو یاد کرا دے۔''

اس حکم کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں عدالت میں کسی مقدمے کوثابت کرنے کا معیار اور ضابطہ زیر بحث نہیں، بلکہ باہم قرض کا معاملہ کرنے والوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ متوقع نزاعات کے منصفانہ تصفیے کے لیے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کا اہتمام کریں۔ اس میں یہ حکمت ملحوظ ہے کہ قاضی کے سامنے اگر ایک کے بجاے دو گواہ بیان دیں گے تو اس کے لیے واقعے کی حقیقی صورت کا اطمینان بخش علم حاصل کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ مزید براں اس سے گواہ کی دست یابی کو حتی الامکان یقینی بنانا بھی پیش نظر ہے کہ اگر ایک گواہ کسی وجہ سے موقع پر دستیاب نہ ہو تو دوسرا گواہ عدالت میں پیش ہو کر گواہی دے سکے۔

حکم کا یہ مدعا اور محل اس کے سیاق وسباق اور داخلی قرائن سے بالکل واضح ہے، تاہم فقہاے احناف نے آیت میں مذکور نصاب شہادت کی پابندی کو عدالت کے لیے بھی لازم قرار دیا ہے۔ حنفی فقیہ ابوبکر الجصاص نے اس کے حق میں دو دلیلیں پیش کی ہیں: ایک یہ کہ اس میں 'وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ' کا حکم معاملہ کرتے وقت دو گواہ مقرر کرنے اور پھر نزاع کی صورت میں انھیں قاضی کے سامنے پیش کرنے کی دونوں صورتوں کو شامل ہے، اور جب انھیں حاکم کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ بھی ان کی گواہی کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔ دوسری یہ کہ کسی بھی معاملے میں گواہ مقرر کرنے کا مقصد ہی چونکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نزاع کی صورت میں قاضی کے سامنے گواہی دیں، اس لیے یہ بات بھی اس ہدایت کے تحت داخل ہے کہ نزاع کی صورت میں کسی معاملے کے گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جائے اور قاضی کو ان کی گواہی کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ۱؂

معمولی غور سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں دلیلیں اثبات مدعا کے لیے ناکافی ہیں، ا س لیے کہ ان سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ گواہ بنائے جانے والے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو عدالت میں بھی پیش کیا جائے گا اور قاضی اگر ان کی گواہی پر مطمئن ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا، لیکن اس سے یہ نتیجہ کسی طرح اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ قاضی بھی فیصلہ کرنے کے لیے اس بات کا پابند ہے کہ لازماً دو گواہ ہی اس کے سامنے گواہی دیں اور وہ لازماً دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں اور یہ کہ اگر گواہی کا یہ نصاب میسر نہ ہو تو قاضی متبادل دلائل اور قرائن کی بنیاد پر سرے سے کوئی فیصلہ ہی نہیں کر سکتا۔ عدالتی فیصلے کا مدار اصلاً قاضی کے اطمینان پر ہے اور گواہی کے رد و قبول کا فیصلہ اسے گواہوں کی جنس یا تعداد کے پیش نظر نہیں، بلکہ مقدمے کی نوعیت کے لحاظ سے دستیاب قرائن وشواہد کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔

اس ضمن میں یہ بات بطور خاص قابل توجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول فیصلوں میں کہیں اس بات کا تاثر نہیں ملتا کہ آپ نے گواہوں کی تعداد یا جنس کے لحاظ سے آیت میں مذکور نصاب شہادت کے التزام کو ہر حال میں ضروری سمجھا ہو۔ اس کے بجاے آپ نے صورت حال کی نوعیت کے لحاظ سے واقعہ کے ثبوت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ مثلاً:

oبعض مقدمات میں مدعی سے فرمایا کہ وہ اپنے حق میں دو گواہ پیش کرے، ورنہ مدعا علیہ سے حلف لے کر اس کو بری الذمہ قرار دیا جائے گا۔ ۲؂

oبعض مقدمات میں اگر مدعی دو گواہ پیش نہ کر سکا تو ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے حلف لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ ۳؂

oبعض مقدمات میں یہ قرار دیا کہ اگر مدعی کے پاس ایک ہی گواہ ہے تو مدعا علیہ کے قسم کھانے پر مقدمہ خارج کر دیا جائے گا، لیکن اگر مدعا علیہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے قائم مقام سمجھا جائے گا اور مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ ۴؂

oایک موقع پر محض ایک شخص کی گواہی پر ابو قتادہ کے حق میں یہ فیصلہ فرمایا کہ حالت جنگ میں دشمن گروہ کے ایک سپاہی کو انھوں نے ہی قتل کیا تھا، اس لیے اس سے چھینے گئے مال کے حق دار وہی ہیں۔ ۵؂اسی طرح ایک موقع پر صرف ایک بدو کی گواہی پر رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان فرما دیا۔ ۶؂ایک دوسرے موقع پر صرف حضرت عبد اللہ بن عمر کی گواہی پر آپ نے لوگوں کو رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ ۷؂

oایک موقع پر ایک قبیلے کے مسلمان ہونے کی تحقیق مطلوب تھی تو آپ نے ان سے گواہ طلب کیے۔ ان کے نامزد کردہ گواہوں میں سے ایک نے گواہی دے دی، لیکن دوسرے نے انکار کر دیا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم قسم کھا لو اور پھر ان کے قسم کھانے پر انھیں مسلمان تسلیم کر لیا گیا۔ ۸؂

oفریقین میں سے کسی کے پاس اپنے دعوے کے حق میں کوئی گواہ موجود نہ ہونے یا دونوں کے پاس گواہ موجود ہونے کی صورت میں آپ نے ان کے بیانات کی روشنی میں ممکن حد تک صحیح صورت واقعہ کا علم حاصل کرنے کی کوشش کی اور قرائن کی روشنی میں آپ کا دل جس بات پر مطمئن ہوا، اس کے مطابق فیصلہ فرما دیا۔ چنانچہ جنگ بدر میں دو انصاری لڑکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہر ایک نے یہ دعویٰ کیا کہ ابوجہل کو اس نے قتل کیا ہے۔ آپ نے دونوں کی تلواریں دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ فرمایا کہ دونوں نے مل کر اسے قتل کیا ہے۔ ۹؂آپ نے فرمایا کہ جب بائع اور مشتری کا قیمت سے متعلق اختلاف ہو جائے اور مبیع علیٰ حالہٖموجود ہو اور کسی کے پاس گواہ نہ ہو تو بائع کی بات کا اعتبار ہوگا۔ ۱۰؂ایک مقدمے میں دو مدعیوں نے ایک جانور کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو آدھا آدھا دونوں کی ملکیت قرار دے دیا۔ ۱۱؂اسی طرح کے ایک مقدمے میں آپ نے گواہ میسر نہ ہونے پر فریقین سے کہا کہ وہ اس بات پر قرعہ ڈال لیں کہ ان میں سے کون اپنے سچا ہونے کی قسم کھائے گا (اور پھر اس کی قسم کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا)۔ ۱۲؂دو افراد ایک اونٹنی کی ملکیت کا جھگڑا لے کر آپ کے پاس آئے اور دونوں نے اپنے حق میں گواہ پیش کر دیے تو آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جس کے قبضے میں اونٹنی تھی۔ ۱۳؂

oبعض صورتوں میں آپ نے مرنے والے کے ورثا کے اقرار کی بنیاد پر بعض افراد کا نسب مرنے والے سے ثابت تسلیم کرتے ہوئے ان کے وراثت میں حصہ دار بننے کے احکام بیان فرمائے۔ ۱۴؂

oقتل کے ایک مقدمے میں، جس میں قاتل متعین طورپر معلوم نہیں تھا، آپ نے مقتول کے ورثاسے کہا کہ اگر ان میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر یہ کہیں کہ اس قتل کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جن کے علاقے میں قتل کی واردات ہوئی ہے تو انھیں اس علاقے کے لوگوں سے دیت دلوا دی جائے گی۔ ۱۵؂

oرضاعت کے ایک مقدمے میں، جس میں ایک عورت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے میاں اور بیوی کی حیثیت سے رہنے والے ایک جوڑے کو دودھ پلایا ہے، آپ نے شوہر سے کہا کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لے۔ ۱۶؂اگرچہ یہ کوئی قانونی فیصلہ نہیں تھا، تاہم ظاہر ہے کہ آپ نے احتیاط پر مبنی یہ ہدایت بھی اسی لیے دی تھی کہ آپ کو رضاعت کا دعویٰ کرنے والی خاتون کے بیان میں صحت کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔

oشریعت میں کسی جرم کے اثبات کے لیے سب سے کڑا معیار زنا کے سلسلے میں مقرر کیا گیا ہے اور چار سے کم گواہوں کی گواہی کے بغیر اسے قانوناً ثابت ماننے سے انکار کیا گیا ہے، تاہم ایک شخص نے جب یہ کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی شخص کو موجود پاؤں گا تو تلوار کے ساتھ دونوں کا کام تمام کر دوں گا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 'کفی بالسیف شاہدًا' ، یعنی تلوار کی گواہی کافی ہے، لیکن پھر فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر اس کی اجازت دے دی گئی تو لوگ اس کا غلط فائدہ اٹھائیں گے۔ ۱۷؂آپ نے زنا بالجبر کے ایک مقدمے میں، جس میں ملزم اپنے جرم سے انکاری تھا، متاثرہ خاتون کے بیان پرانحصار کرتے ہوئے ملزم کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ ۱۸؂

oبعض صورتوں میں حالات اور قرائن کی روشنی میں خود ملزم کے بیان کو قابل اعتماد سمجھتے ہوئے اس پر فیصلے کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ ایک نابینا صحابی نے اپنی ام ولد کو اس بات پر اشتعال میں آ کر قتل کر دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نازیبا کلمات استعمال کیا کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر تحقیق کی اور اس کے بیان پر مطمئن ہو کر فرمایا کہ قتل کی جانے والی عورت کا خون ہدر ہے۔ ۱۹؂

فقہا نے چونکہ شہادت کے نصاب اور عورتوں کی گواہی کی حیثیت کی تعیین میں سورۂ بقرہ کی زیربحث آیت کو اصل مان لیا ہے، اس لیے ان کے ہاں مانتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ مذکورہ طریقوں کو عمومی قاعدے سے استثنا پر محمول کرنے اور اس سے ہٹ کر دوسرے طریقوں سے فیصلہ کرنے کے جواز کو ان مخصوص صورتوں تک محدود قرار دینے کا عمومی رجحان دکھائی دیتا ہے جو روایات میں بیان ہوئی ہیں۔ حالانکہ اگر قرآن مجید کی ہدایت کا صحیح محل پیش نظر رہے تو اس کی ضرورت نہیں رہتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ تمام طریقے اس اصول کے فروع قرار پاتے ہیں کہ عدالت کا اصل مقصد صحیح صورت واقعہ تک رسائی حاصل کرنا ہے جس کے ذرائع مختلف حالات میں مختلف ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے کسی مخصوص طریقے پر اصرار کرنا اصل مقصد کے لحاظ سے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ چنانچہ کاسانی جیسے بالغ نظر حنفی عالم نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ گواہی کے باب میں گواہوں کی مخصوص تعداد کی شرط اصلاً خلاف قیاس ہے، کیونکہ قاضی کو فیصلہ کرنے کے لیے علم یقینی کی نہیں، بلکہ غلبۂ ظن کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک عادل گواہ کی گواہی سے بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ ۲۰؂ہم نے آیت بقرہ کا جو محل متعین کیا ہے، اس سے ا س حکم کو خلاف قیاس قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی، اس لیے کہ یہاں محض ایک معاشرتی ہدایت دی گئی ہے جس کا عدالت وقضا سے سرے سے کوئی تعلق نہیں۔

اس ضمن میں احناف کے بالمقابل جمہور فقہا کا استدلال زیادہ کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲کو اصلاً قضا اور عدالت سے متعلق نہیں سمجھتے بلکہ اسے 'تحمل شہادت' کا بیان قرار دیتے ہیں جس سے اداے شہادت سے متعلق کوئی قانون اخذ نہیں کیا جا سکتا، ۲۱؂لیکن اس کے باوجود وہ اس میں بیان ہونے والے نصاب کی پابندی کو بیش تر امور میں ضروری سمجھتے ہیں۔

خواتین کی گواہی کی حیثیت

قرآن مجید میں مختلف معاشرتی معاملات میں، مثلاً یتیموں کو ان کا مال سپرد کرتے، وصیت کرتے اور طلاق دیتے وقت گواہ مقرر کرنے کی ہدایت ایک تسلسل کے ساتھ دی گئی ہے۔ ۲۲؂ان میں سے کسی مقام پر گواہوں کی جنس زیر بحث نہیں آئی اور سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲وہ واحد مقام ہے جہاں اس تفریق کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہاں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ادھار لین دین کے معاملات میں اول تو گواہ دو مرد ہونے چاہییں، اور اگر دو مرد نہ ہو سکیں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ مقررکر لیا جائے۔ ہدایت سے واضح ہے کہ قرآن یہ چاہتا ہے کہ عورتیں گواہی کے معاملات سے اصلاً دور ہی رہیں اور اگر انھیں گواہ بنایا جائے تو ایک مرد کی جگہ دو عورتیں گواہ مقرر کی جائیں۔

جمہور فقہا نے اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ شارع کا منشا عورتوں کی گواہی کو ناقص قرار دینا ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک خواتین کی گواہی صرف مالی معاملات میں قابل قبول ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کی گواہی قبول کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان کے علاوہ باقی معاملات، مثلاً نکاح وطلاق، حدود اور قصاص وغیرہ میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں۔ احناف نے اس حکم کی تعبیر اس کے بالکل برعکس کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب ایک طرح کے معاملے میں عورتوں کی گواہی قبول کی گئی ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت اصلاً گواہی دینے کی اہلیت رکھتی ہے، اس لیے اصول اور عقل وقیاس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر طرح کے معاملے میں عورت کی گواہی قبول کی جائے، الا یہ کہ کسی معاملے میں اس کے برعکس دلیل پائی جائے۔ ۲۳؂البتہ احناف اس معاملے میں جمہور کے ہم خیال ہیں کہ حدود وقصاص کے مقدمات میں خواتین کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور یہ کہ ایسے معاملات کے علاوہ جن میں مردوں کا اطلاع پانا عادتاً ممکن نہیں، باقی تمام معاملات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر سمجھی جائے گی۔

یہاں کئی نکتے بحث طلب ہیں:

۱۔ قرآن مجید نے یہاں ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کو گواہ مقرر کرنے کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ 'ان تضل احداہما فتذکر احداہما الاخری'، یعنی گواہی دیتے ہوئے اگر دونوں میں سے ایک 'ضلال' کا شکار ہوگی تو دوسری اس کو یاد کرا دے گی۔ عام طور پر فقہا اور مفسرین نے یہاں 'تضل' کا مفہوم بھول جانا مراد لیا ہے اور دو عورتوں کو گواہ مقرر کرنے کی وجہ یہ متعین کی ہے کہ چونکہ عورتوں میں نسیان کا مادہ غالب ہوتا ہے، اس لیے ایک عورت کے حافظے کے نقص کی تلافی دوسری عورت کے ذریعے سے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم یہ راے کئی وجوہ سے محل نظر ہے۔ اول تو' ضل 'کا لفظ بھولنے کے بجاے بات بیان کرتے ہوئے الجھنے اور چوک جانے کے مفہوم میں زیادہ متبادر ہے، اور قرآن مجید نے'لا یضل ربی ولا ینسی' ۲۴؂(میرا رب نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے) میں 'یضل' کو 'ینسی' کے مقابلے میں استعمال کر کے اس کے اس مفہوم کو واضح کیا ہے ۔ کسی بات کو بھول جانا ایک چیز ہے اور اس کو بیان کرتے ہوئے الجھ جانا اور ٹھیک ٹھیک طریقے سے بیان نہ کر پانا ایک دوسری چیز۔ خواتین کے معاملے میں دوسری چیز کا پایا جانا تو قابل فہم ہے کہ وہ مردوں کی مجالس اور بالخصوص عدالت میں گھبراہٹ یا دباؤ کا شکار ہو کر ٹھیک ٹھیک گواہی ادا نہ کر سکیں اور اس کے لیے انھیں کسی دوسری خاتون کے سہارے کی ضرورت محسوس ہو، لیکن یہ بات کہ خواتین میں نسیان کا مادہ غالب ہوتا ہے، مشاہدہ اور تجربہ کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خبر اور روایت کے دائرے میں خواتین کی بات بھی اسی اعتماد کے ساتھ قبول کی جاتی ہے جس طرح مردوں کیقبول کی جاتی ہے۔

اب چونکہ خبر اور شہادت، دونوں کا مدارکسی امر کا مشاہدہ کرنے اور پھر اس کو حفظ وضبط کے ساتھ آگے بیان کرنے کی صلاحیت پر ہے، اس لیے خبر کے دائرے میں عورت کو مرد کے مساوی تسلیم کرنے کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ اس کی گواہی کا حکم بھی یہی ہو۔ اور اگر عورت کی یادداشت کے خلقی طور پر ناقص ہونے کی بات کو درست تسلیم کیا جائے تو پھر ضروری ہوگا کہ صرف گواہی میں نہیں، بلکہ خبر اور روایت میں بھی خواتین کی یادداشت پر بھروسا نہ کیا جائے اور اس دائرے میں بھی دو عورتوں کو ایک مرد کے مساوی قراردیا جائے۔ چنانچہ جلیل القدر حنفی فقیہ ابن الہمام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ عورت کی گواہی کے مرد سے نصف ہونے کی بنیاد ان کے مشاہدہ اور ضبط کی کمی کو قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ مشاہدہ اس کے برعکس یہ بتاتا ہے کہ خواتین میں جزئیات امور کو یاد رکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ ۲۵؂ابن الہمام نے خود اس فرق کی وجہ یہ متعین کی ہے کہ شارع اس سے مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے کم تر درجے کو واضح کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ بات خود قرآن مجید کی بیان کردہ وجہ سے بالکل مختلف ہے، اس لیے کہ قرآن نے اس فرق کی حکمت صریحاً یہ بیان کی ہے کہ ایک کے 'ضلال' کی صورت میں دوسری اس کو یاد دہانی کرا سکے۔

ان وجوہ سے ہمارے نزدیک قرین قیاس بات یہ ہے کہ یہاں 'ضل' کا لفظ الجھنے اور بات کو درست طریقے سے بیان نہ کر سکنے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس ہدایت کی وجہ خواتین کی یادداشت کا کمزورہونا نہیں، بلکہ یہ امکان ہے کہ وہ عملی ممارست کی کمی کی وجہ سے عدالت کے ماحول میں دباؤ کا شکار ہو جائیں اور گواہی کو صحیح طریقے پر ادا نہ کر سکیں۔ قرآن نے اس صورت حال سے خواتین کو بچانے کے لیے یہ نہایت مبنی برحکمت ہدایت کی ہے کہ اول تو انھیں کسی ایسے معاملے میں گواہ بنایا ہی نہ جائے جس میں بعد میں تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ہو ، اور اگر ایسا کیا جائے تو ایک کے بجاے دو عورتوں کو گواہ بنایا جائے تاکہ وہ قاضی کے روبرو ایک دوسرے کی موجودگی سے نفسیاتی سہارا محسوس کریں اور ضرورت پڑے تو گواہی کی ادائیگی میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ چنانچہ یہ ایک عورت کی گواہی میں پائے جانے والے نقص کی تلافی دوسری عورت کی گواہی کے ذریعے سے کرنے کا بیان نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے، بلکہ عدالت میں واضح اور منضبط گواہی دینے کے لیے ایک خاتون کو سہولت فراہم کرنے کی تدبیر ہے۔

ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ بقرہ کی زیر بحث آیت میں معاشرتی مصلحت پر مبنی ایک عمومی ہدایت دی گئی ہے جس سے عدالت کے لیے واجب الاتباع کوئی طریقہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہدایت کی یہ نوعیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ آیت میں اصلاً دو مردوں کو، جبکہ ثانوی درجے میں ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کاکہا گیا ہے، جبکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ دو مردوں کی موجودگی میں بھی اگر ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تو ایسا کرنا درست ہوگا اور ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عدالت سے متعلق کسی قانونی ضابطے کا بیان نہیں، بلکہ محض ایک مبنی بر حکمت معاشرتی ہدایت ہے۔ مزید برآں اسے عدالت کے لیے عورت کی گواہی کو نصف شمار کرنے کی ہدایت قرار دینا اس لیے بھی ممکن نہیں کہ اگر عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے ایک عورت الجھے گی اور دوسری اس کو یاد دلائے گی تو ظاہر ہے کہ عدالت کے فیصلے کا انحصار اصلاً یاد دلانے والی خاتون کے بیان پر ہوگا نہ کہ الجھ جانے والی کے بیان پر۔ ایسے گواہ کی گواہی عدالت کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اس صورت میں عدالت اگر فیصلہ کرے گی تو حقیقتاً ایک ہی خاتون کی گواہی کی بنیاد پر کرے گی۔

بالفرض اس ہدایت کو عدالت سے متعلق مانا جائے تو بھی قرآن مجید کی نص کی حد تک اس کا تعلق صرف دستاویزی شہادت سے ہے۔ جہاں تک واقعاتی شہادت کا تعلق ہے تو وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک بالکل مختلف چیز ہے اور اسے کسی طرح دستاویزی شہادت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں مطلوبہ اوصاف اور تعداد کے مطابق گواہوں کا انتخاب فریقین کے اختیار میں ہوتا ہے، جبکہ یہاں قاضی کو فیصلے کے لیے موقع پر موجود گواہوں کی گواہی اور قرائنی شہاد ت پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس دائرے میں گواہوں کی جنس یا تعداد کے لحاظ سے کوئی نصاب مقرر کرنا نہ عقلاً درست ہے اور نہ قرآن وسنت کے نصوص میں ہی ایسی کوئی تصریح پائی جاتی ہے۔

اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد کتب حدیث میں یوں نقل ہوا ہے کہ ایک موقع پر خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے یہ تبصرہ فرمایا کہ خواتین عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہونے کے باوجود ایک اچھے بھلے زیرک اور سمجھ دار آدمی کی عقل پر پردہ ڈال دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس پر خواتین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، ہمیں کس بنیاد پر دین اور عقل کے اعتبار سے ناقص کہا جا رہا ہے؟ آپ نے فرمایا:

الیس شہادۃ المرأۃ مثل نصف شہادۃ الرجل؟ قلن بلی، قال فذلک من نقصان عقلہا. الیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم؟ قلن بلی، قال فذلک من نقصان دینہا. (بخاری، رقم ۲۹۳)

''کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی نہیں ہے؟ خواتین نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس کی عقل کا ناقص ہونا ہے۔ کیا حیض کی حالت میں اس کے لیے نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا ممنوع نہیں ہوتا؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا کہ یہ اس کے دین کا ناقص ہونا ہے۔''

روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ اس میں ابتداءً اور مستقلاً کوئی حکم بیان نہیں کیا جا رہا ، بلکہ سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۲۸۲میں بیان ہونے والی ہدایت ہی کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ آیت میں، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، سماجی معاملات اور تجارتی وکاروباری قضیوں میں خواتین کے تجربہ اور ممارست کی کمی کے تناظر میں احتیاطاً دو عورتوں کو گواہ بنا لینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اگر ان میں سے ایک الجھاؤ یا کنفیوژن کا شکار ہو تو دوسری خاتون اس کا سہارا بن سکے۔ ظاہر ہے کہ اگر روایت میں اسی ہدایت کی طرف اشارہ ہے تو اسے آیت سے الگ کر کے اس سے کوئی مستقل قانونی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم کے نقطۂ نظر کا حوالہ دینا بھی مناسب ہوگا جنھوں نے اس بحث میں عام فقہی راے سے سخت اختلاف کیا ہے۔ ابن القیم لکھتے ہیں کہ ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کو گواہ بنانے کی حکمت خود قرآن مجید نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملے کے فریقین کے لیے محض ایک تدبیری نوعیت کی ہدایت ہے۔ اس کا عدالت اور قضا سے کوئی تعلق نہیں اور قاضی کے سامنے اگر ایک عورت بھی قابل اعتماد طریقے سے گواہی دے تو قاضی اس کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتا ہے۔ ۲۶؂اپنے استاذ ابن تیمیہ کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ حکم کی علت کی رو سے دو عورتوں کی گواہی کو مطلقاً ایک مرد کے مساوی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ایک عورت کی گواہی کو دوسری عورت کی گواہی سے موکد کرنے کا اہتمام انھی معاملات میں مطلوب ہے جن میں تجربہ اور ممارست کی کمی کے باعث خواتین کے بھول چوک یا عدم ضبط کا شکار ہو جانے کا خدشہ ہو۔ ان کے علاوہ باقی امور میں، جہاں وہ اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر پورے اعتماد سے گواہی دے سکتی ہیں، ان کی گواہی مردوں کے برابر ہی سمجھی جائے گی۔ ۲۷؂

۲۔ جمہور فقہا حدود اور قصاص کے معاملات میں خواتین کی گواہی کو قبول نہ کرنے پر متفق ہیں، جبکہ عطاء بن ابی رباح، حماد بن ابی سلیمان اور ابن حزم کی راے میں تمام معاملات میں عورتوں کی گواہی قابل قبول ہوگی، البتہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر سمجھی جائے گی۔ ۲۸؂امام جعفر صادق سے بھی خواتین کی گواہی کی بنیاد پر زنا کی سزا دینے کی راے مروی ہے۔ ۲۹؂اسی طرح سیدنا علی سے قتل کے ایک مقدمے میں خواتین کی گواہی قبول کرنا ثابت ہے۔ ۳۰؂بعض معاصر اہل علم نے بھی اس معاملے میں جمہور کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے حدود وقصاص میں خواتین کی گواہی کو قابل قبول قرار دیا یا کم از کم اس راے کو قابل غور ضرور تسلیم کیا ہے۔ ۳۱؂

جمہور فقہا کی طرف سے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں بنیادی طور پر حسب ذیل دلیلیں پیش کی گئی ہیں:

ایک یہ کہ قرآن مجید نے زنا کے اثبات کے لیے 'اَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ' کی گواہی کو ضروری قرار دیا ہے جس سے مراد چار مرد گواہ ہیں۔ ۳۲؂یہ استدلال اس نحوی قاعدے پر مبنی ہے کہ عربی زبان میں تین سے دس تک معدود اگر مذکر ہو تو اس کے لیے عدد مونث استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ 'اربعۃ'کا مونث لایا جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ 'شہداء'سے مراد مرد گواہ ہیں۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کے بدکاری کا مرتکب ہونے کی صورت میں فرمایا ہے کہ 'فاستشہدوا علیہن اربعۃ منکم' یعنی ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔ چونکہ یہاں مشہود علیہ خواتین ہیں اور مشہود علیہ، خود شاہد نہیں ہو سکتا، اس لیے 'منکم' سے مراد بھی خواتین نہیں، بلکہ مرد ہی ہو سکتے ہیں۔ ۳۳؂

تیسری دلیل امام زہری کا یہ بیان ہے کہ 'مضت السنۃ من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والخلیفتین من بعدہ ان لا تجوز شہادۃ النساء فی الحدود' ۳۴؂''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد دونوں خلفا کے زمانے سے سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ حدود میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں'' ۔

چوتھی دلیل یہ ہے کہ خواتین گواہی دیتے ہوئے نسیان اور ضلال کا شکار ہو سکتی ہیں، اس لیے ان کی گواہی میں شبہ پایا جاتا ہے اور چونکہ شریعت میں شبہات کی بنا پر حدود کو ٹال دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے خواتین کی گواہی کی بنا پر کسی کو زنا کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ ۳۵؂

ان میں سے آخری دلیل کے مبنیٰ کا تفصیلی جائزہ ہم گذشتہ سطورمیں لے چکے ہیں۔ جہاں تک باقی دلائل کا تعلق ہے تو جمہور فقہا سے اختلاف رکھنے والے اہل علم نے پہلی دلیل کے جواب میں یہ تنقیدی نکتہ پیش کیا ہے کہ 'اربعۃ' کا مونث لایا جانا اس امر کی کوئی قاطع دلیل نہیں ہے کہ 'شہداء' سے لازماً مرد گواہ مراد لیے جائیں، اس لیے کہ عربی زبان میں اگر معدود کوئی ایسا اسم جنس ہو جس کے تحت مذکر اور مونث، دونوں طرح کے افراد داخل ہوں تو اس صورت میں بھی عدد مونث لایا جاتا ہے، جیسا کہ 'عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ' ۳۶؂، 'ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ' ۳۷؂اور اس جیسی دیگر مثالوں سے واضح ہے۔ ۳۸؂

دوسری دلیل کی سطحیت بے حد واضح ہے۔ مشہود علیہ کا شاہد نہ بن سکنا ایک مسلمہ اخلاقی اصول ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی مقدمے میں مشہود علیہ ہو، وہ بعینہٖاس مقدمے میں خود گواہ نہیں بن سکتا۔ اس سے یہ بات کسی طرح لازم نہیں آتی کہ اگر مشہود علیہ عورت ہو تو گواہ کوئی عورت نہیں ہو سکتی۔ اگر اس اصول کو مان کر اس کا اطلاق اس صورت پر کیا جائے جب مرد زنا کا مرتکب ہوا ہو تو پھر یہ کہنا پڑے گاکہ یہاں کوئی مرد گواہ نہیں بن سکتا اور صرف خواتین کی گواہی قابل قبول ہوگی۔

تیسری دلیل یعنی ابن شہاب زہری کے بیان پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ امام زہری کی آرا میں متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں وہ کسی چیز کو ''سنت'' یعنی عہد نبوی اور عہد صحابہ کا معمول بہ طریقہ قرار دیتے ہیں، لیکن دلائل وشواہد اس کے بالکل برخلاف ہوتے ہیں۔ ۳۹؂زیربحث مسئلے یعنی حدود کے مقدمات میں خواتین کی گواہی قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بھی تابعین کے ہاں اختلاف موجود ہے۔ چنانچہ عطاء بن ابی رباح اور حماد بن ابی سلیمان تین مردوں کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی کے جواز کے قائل ہیں، ۴۰؂جبکہ طاؤس کے نزدیک صرف زنا کے علاوہ ہر معاملے میں عورتوں کی گواہی قابل قبول ہے۔ ۴۱؂مزید براں ابن شہاب کی یہ روایت مرسل ہے اور ان کا شمار اگرچہ دوسری صدی ہجری کے بلند پایہ محدثین میں ہوتا ہے، تاہم ان کی بیان کردہ مرسل روایات محدثین کے نزدیک پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں اور یحییٰ بن سعید القطان سے ان کے لیے 'ہی بمنزلۃ الریح' (یہ بالکل بے وقعت ہیں) کے الفاظ منقول ہیں۔ ۴۲؂

جمہور فقہا کے استدلال پر اٹھائے جانے والے مذکورہ تنقیدی سوالات کے علاوہ دو مزید نکتے بھی تنقیح کا تقاضا کرتے ہیں:

ایک یہ کہ صحابہ اور تابعین کے دور میں حدود میں خواتین کی گواہی کو قبول نہ کرنے والے اہل علم اس معاملے میں عورت کی اہلیت کو قانونی معیار کے لحاظ سے ناقص سمجھتے تھے یا کوئی اور وجہ ان کے پیش نظر تھی۔ بعض آثار میں اس کی وجہ یہ منقول ہے کہ چونکہ خواتین کے لیے زنا جیسے فعل کو آنکھوں سے اس طرح دیکھنا کہ وہ اس کی گواہی دے سکیں، مناسب نہیں، اس لیے ان کی گواہی بھی قبول نہیں کی جا سکتی: 'من اجل انہن لا ینبغی لہن ان ینظرن الی ذلک' ۴۳؂۔ بعض معاصر اہل علم نے بھی اسی نکتے کو حکم کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ۴۴؂اگر زیر بحث راے اسی نکتے پر مبنی ہے تو اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود یہ بات غور طلب ہے کہ کیا اس نفسیاتی یا اخلاقی نکتے کو کسی بے لچک قانونی ضابطے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے؟ مزید یہ کہ اس نکتے کو، جو اصلاً زنا کی گواہی سے متعلق ہے، وسعت دیتے ہوئے چوری، قذف اور قصاص وغیرہ کو کیونکر اس کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے؟

دوسرا یہ کہ امام احمد کے مسلک کے مطابق ایسے مقامات مثلاً خواتین کے غسل کے لیے مخصوص حمام اور شادی وغیرہ کی تقریبات جہاں مردوں کی موجودگی اور ان کا کسی معاملے پر اطلاع پانا عادتاً مشکل ہو، ان میں حدود کے معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی بھی قبول کر لی جائے گی۔ ۴۵؂اگر اس صورت میں خواتین کی گواہی قبول کرنے کی وجہ موقع پر مرد گواہوں کا میسر نہ ہونا ہے تو پھر اس سوال پر غور کرنا بھی مناسب ہوگا کہ کیا واقعاتی شہادت میں، جہاں مرد گواہوں کی موجودگی کا اہتمام ناممکن ہوتا ہے، اسی اصول کی رو سے عورت کی گواہی کو مطلقاً قابل قبول قرار دیا جا سکتا ہے؟

_______

۱؂جصاص، احکام القرآن ۲/ ۲۴۷۔

۲؂بخاری، رقم ۲۳۳۲۔

۳؂مسلم، رقم ۳۲۳۰۔ ابو داؤد، رقم ۳۱۳۳۔

۴؂ابن ماجہ، رقم ۲۰۲۸۔

۵؂بخاری، رقم ۳۹۷۸۔

۶؂ترمذی، رقم ۶۲۷۔

۷؂ابو داؤد، رقم ۱۹۹۵۔

۸؂ابو داؤد، رقم ۳۱۳۳۔

۹؂مسلم، رقم ۳۲۹۶۔

۱۰؂ابن ماجہ، رقم ۲۱۷۷۔

۱۱؂ابو داؤد، رقم ۳۱۳۴۔

۱۲؂ابو داؤد، رقم ۳۱۳۵۔

۱۳؂ابو یوسف، کتاب الآثار، رقم ۷۳۴۔

۱۴؂ابو داؤد، رقم ۱۹۳۰۔ مسند احمد، رقم ۶۴۱۲۔

۱۵؂نسائی، رقم ۴۶۴۱۔

۱۶؂بخاری، رقم ۸۶۔ایک ضعیف روایت کے مطابق آپ سے پوچھا گیا کہ رضاعت کے لیے کتنے گواہ کافی ہیں تو فرمایا کہ ایک مرد یا ایک عورت۔ (مسند احمد، رقم ۴۶۷۵) ایک دوسری ضعیف روایت کی رو سے آپ نے (غالباً بچے کی امومت طے کرنے کے لیے) دایہ کے بیان پر فیصلہ فرما دیا۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ ،رقم ۲۰۳۲۹)

۱۷؂ابو داؤد، رقم ۳۸۳۴۔

۱۸؂نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۳۱۱۔

۱۹؂ابوداؤد، رقم ۳۷۹۵۔ نسائی، رقم ۴۰۰۲۔

۲۰؂کاسانی، بدائع الصنائع ۶/ ۲۷۸۔

۲۱؂ابن قدامہ، المغنی ۱۰/ ۱۵۸۔

۲۲؂النساء ۴: ۶۔ المائدہ ۵: ۱۰۶۔ الطلاق ۶۵: ۲۔

۲۳؂ابن الہمام، فتح القدیر ۷/ ۳۰۲۔ کاسانی، بدائع الصنائع ۶/ ۲۷۹۔

۲۴؂طٰہٰ ۲۰: ۵۲۔

۲۵؂فتح القدیر ۷/ ۳۷۱۔

۲۶؂اعلام الموقعین ۸۳۔

۲۷؂الطرق الحکمیہ ۱۷۷۔

۲۸؂ابن قدامہ، المغنی ۱۰/ ۱۷۵۔ ابن حزم، المحلیٰ ۱۰/ ۲۷۳۔

۲۹؂القمی، من لا یحضرہ الفقیہ ۴/ ۲۵،رقم ۴۹۹۳۔ الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/ ۲۶۔

۳۰؂مصنف ابن ابی شیبہ،رقم ۲۸۰۲۹۔

۳۱؂عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن:حقوق نسواں اور باہمی حقوق ۱۰۵۔۱۲۶۔ محمود احمد غازی، حدود اور قصاص کے مقدمات میں عورتوں کی گواہی، سہ ماہی فکر ونظر، جنوری تا مارچ ۱۹۹۳ء، ۱۸۔ ۱۹۔ جاوید احمد غامدی، برہان ۲۵۔ ۳۴۔ عبد الحلیم محمد ابو شقہ، تحریر المرأۃ المسلمہ فی عصر الرسالہ ۱/ ۲۹۲۔ محمد تقی عثمانی، حدود قوانین: موجودہ بحث اور آئندہ لائحہ عمل ۲۸۔

۳۲؂ابن حجر، فتح الباری ۵/ ۲۶۶۔

۳۳؂ابن العربی، احکام القرآن ۱/ ۴۶۰۔

۳۴؂مصنف ابن ابی شیبہ ،رقم۲۸۷۱۴۔

۳۵؂ابن قدامہ، المغنی ۱۰/ ۱۷۵۔

۳۶؂المائدہ۵: ۸۹۔

۳۷؂الانعام۶: ۱۴۳۔

۳۸؂محمود احمد غازی،حدود اور قصاص کے مقدمات میں عورتوں کی گواہی، سہ ماہی فکر ونظر، جنوری تا مارچ ۱۹۹۳ء، ۱۷۔ ۱۸۔ جاوید احمد غامدی، برہان ۳۲۔

۳۹؂اس ضمن کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

۱۔ امام زہری سے سوال کیا گیا کہ اگر مدعی کے پاس ایک ہی گواہ ہو تو کیا دوسرے گواہ کی جگہ اس سے حلف لے کر اس کے حق میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے کہا:

ما اعرفہ وانہا لبدعۃ واول من قضی بہ معاویۃ.(جصاص، احکام القرآن ۲/ ۲۵۱۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۳۱۷۶)

''میں اس طریقے سے واقف نہیں۔ یہ بدعت ہے۔ سب سے پہلے اس کے مطابق معاویہ نے فیصلہ کیا تھا۔''

حالانکہ یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین سے شہرت کے ساتھ ثابت ہے۔ چنانچہ خود امام زہری کے جلیل القدر شاگرد امام مالک فرماتے ہیں:

مضت السنۃ فی القضاء بالیمین مع الشاہد الواحد.(الموطا، رقم ۱۲۱۱)

''ایک گواہ کے ساتھ قسم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا طریقہ رائج اور معمول بہ چلا آ رہا ہے۔''

۲۔ امام زہری فرماتے ہیں:

''اہل ذمہ کی دیت کے بارے میں روے زمین پر مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں ایک ہزار دینار تھی، لیکن جب معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت آیا تو انھوں نے مقتول کے ورثا کو پانچ سو دینار دے کر باقی رقم بیت المال میں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔'' (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۱۳۲)

حالانکہ روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین سے مختلف مقدمات میں اہل ذمہ کی دیت کی مختلف مقداریں منقول ہیں اور اسی بنیاد پر ائمۂ فقہا کی آرا بھی اس باب میں مختلف ہیں ۔ (جصاص، احکام القرآن ۲ / ۲۳۵، ۲۳۷۔ نیل الاوطار ۷/ ۷۸۔ ۷۹) چنانچہ امام زہری کے اس بیان کو کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے اہل ذمہ کی دیت کی ایک ہی متعین مقدار رائج تھی، اکابر اہل علم نے قبول نہیں کیا۔ امام بیہقی لکھتے ہیں:

وقد ردہ الشافعی بکونہ مرسلًا وبأن الزہری قبیح المرسل وانا روینا عن عمر وعثمان ما ہو اصح منہ.(بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۱۳۲)

''امام زہری کے اس بیان کو امام شافعی نے اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ یہ مرسل ہے اور زہری کی مراسیل بہت قبیح ہیں۔ نیز حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہماسے اس کے برعکس فیصلے زیادہ مستند طریقے سے مروی ہیں۔''

شوکانی فرماتے ہیں:

وحدیث الزہری مرسل ومراسیلہ قبیحۃ لانہ حافظ کبیر لا یرسل الا لعلۃ.(نیل الاوطار۷/ ۸۰)

''زہری کا قول مرسل ہے اور ان کی مرسل روایتیں بہت قبیح ہیں، کیونکہ وہ ایک بڑے حافظ حدیث ہیں اور ارسال کا طریقہ اسی وقت اختیار کرتے ہیں جب روایت میں کوئی خرابی موجود ہو۔''

۳۔ امام زہری فرماتے ہیں:

ان السنۃ للمعتکف ان لا یخرج الا لحاجۃ الانسان ولا یتبع جنازۃ ولا یعود مریضًا.(سنن الدارقطنی ۲/ ۲۰۱)

''معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ ناگزیر انسانی ضروریات کے علاوہ مسجد سے نہ نکلے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کرے اور نہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے۔''

حالانکہ معتکف کے لیے مریض کی عیادت اور نماز جنازہ میں شرکت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی واضح اور قطعی ہدایت منقول نہیں اور اسی وجہ سے اہل علم میں اس حوالے سے اختلاف راے پایا جاتا ہے۔ سعید بن مسیب، مجاہد، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اس کے عدم جواز کے، جبکہ سیدنا علی، سفیان ثوری، حسن بن صالح،سعید بن جبیر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد اس کے جواز کے قائل ہیں۔ (جصاص، احکام القرآن ۱/ ۳۴۰۔ ۳۴۱۔ ابن قدامہ، المغنی ۳/ ۱۳۷)

۴۔ امام زہری فرماتے ہیں:

مضت السنۃ فی زکاۃ الزیتون ان توخذ ممن عصر زیتونہ حین یعصرہ.(تلخیص الحبیر،رقم۸۳۸)

''سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ جب زیتون کے پھل سے تیل نکالا جائے تو اسی وقت تیل کی زکوٰۃ وصول کرلی جائے۔''

لیکن روایات سے ان کے اس بیان کی تائید نہیں ہوتی۔ چنانچہ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ وہ روایات جن میں زیتون کی زکوٰۃ نہ لیا جانا بیان ہوا ہے، زیادہ قابل اتباع ہیں۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم۷۲۴۷)

۵۔ نکاح کے بعد خاوند مہر کی ادائیگی سے قبل بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر سکتا ہے یا نہیں؟ امام زہری فرماتے ہیں:

مضت السنۃ ان لا یدخل بہا حتی یعطیہا شیءًا.(مصنف ابن ابی شیبہ،رقم ۱۶۴۴۵)

''سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ مہر کا کچھ حصہ دیے بغیر خاوند بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم نہیں کر سکتا۔''

لیکن متعدد روایات سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے اور اسی بنا پر سعید بن مسیب، حسن بصری، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری اور امام شافعی جیسے ائمہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۶۴۳۴۔ ۱۶۴۳۹۔ المغنی ۸/ ۵۶۔ ۵۷)

۶۔ امام زہری کا بیان ہے کہ:

مضت السنۃ انہما اذا تلاعنا فرق بینہما ثم لا یجتمعان ابدًا.(جصاص ،احکام القرآن۳/ ۳۰۳)

''سنت یہ جاری ہے کہ میاں بیوی جب آپس میں لعان کر لیں تو ان کے مابین تفریق کر دی جائے اور پھر دونوں دوبارہ کبھی نکاحنہیں کر سکتے۔''

فقہاے احناف، امام زہری کے اس بیان کے برخلاف، اس بات کے قائل ہیں کہ اگر خاوند بیوی پر زنا کے الزام سے رجوع کر لے تو دونوں کے مابین دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جصاص فرماتے ہیں کہ زہری کے بیان میں 'سنت' کے لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہو اور آپ نے اس بات کا فیصلہ فرمایا ہو۔ (احکام القرآن ۳/ ۳۰۳)

۷۔ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی کتاب تمام کی تمام اشعار پرمشتمل ہو تو کیا اس کے شروع میں بسم اللہ لکھی جائے گی یا نہیں؟ امام زہری سے منقول ہے کہ:

مضت السنۃ ان لا یکتب فی الشعر بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم.

''سنت یہ چلی آ رہی ہے کہ شعر کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھی جائے۔''

لیکن جمہور فقہا نے ان کے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور اشعار کے آغاز میں بسم اللہ لکھنے کو جائز قرار دیا ہے۔ (محمد بن محمد الحطاب، مواہب الجلیل ۱/ ۱۱)

۴۰؂ابن قدامہ، المغنی ۱۰/ ۱۷۵۔

۴۱؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۳۷۲۔

۴۲؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۱۳۲۔ ابن الہمام، فتح القدیر ۵/ ۵۰۳۔ شوکانی، نیل الاوطار ۷/ ۸۰، ۲۶۴۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں: ''زہری باوجودیکہ امام الائمہ اور تمام محدثین کے شیخ اعظم ہیں، تاہم ان کی مرفوع ومتصل روایتوں کا جو مرتبہ ہے، وہ ان کے مراسیل اور بلاغات کا نہیں ہے اور وہ بھی اسی طرح کم وقعت ہیں جس طرح دوسروں کی غیر مرفوع اور غیر متصل روایتیں۔'' (مقالات سلیمان ۲/ ۱۴۸)

۴۳؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۴۴۲۔

۴۴؂وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/ ۴۸۔

۴۵؂ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۱۵/ ۲۹۹۔

____________




Articles by this author