شہادت کا معیار اور نصاب (حصہ دوم)

شہادت کا معیار اور نصاب (حصہ دوم)


چار گواہوں کی شرط کا صحیح محل

قرآن مجید میں زنا کا الزام ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی گواہی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد زنا کے جرم پر پردہ ڈالنا اور مجرم کو رسوائی سے بچاتے ہوئے توبہ واصلاح کاموقع دینا، نیز پاک دامن مسلمانوں کو زنا کے جھوٹے الزام سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ چنانچہ شارع کا منشا یہ ہے کہ زنا کا جرم اثبات جرم کے عام معیارات کے مطابق ثابت ہونے کے باوجود شرعاً ثابت نہ مانا جائے اور جب تک چار گواہ پیش نہ کر دیے جائیں، مجرم کو سزا نہ دی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زنا کے اثبات کے لیے چار گواہ مقرر کرنے کی حکمت یہ منقول ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں، ورنہ اگر وہ چاہتے تو ایک ہی گواہ کی گواہی پر، چاہے وہ جھوٹا ہو یا سچا، سزا دینے کا حکم دے دیتے۔ ۴۶؂گویا زنا کے معاملے میں چار گواہوں کی گواہی اس لیے ضروری قرار نہیں دی گئی کہ اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے عقلاً جرم ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے دی گئی ہے کہ شارع کو حتی الامکان مجرم کی پردہ پوشی منظور ہے۔

چار گواہوں کی کڑی شرط عائد کرنے کا یہ پس منظر ہی واضح کر دیتا ہے کہ اس شرط کا تعلق زنا کی اس صورت سے ہے جس میں شریعت کو اصلاً گناہ کی پردہ پوشی منظور ہے۔ ظاہر ہے کہ جرم کی پردہ پوشی کا یہ اصول اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک جرم کی نوعیت اس اصول سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کا تقاضا نہ کرے، جبکہ جرم کی ایسی صورتیں جن میں شارع کو مجرم کی پردہ پوشی اور ستر نہیں، بلکہ اسے سزا دینا مطلوب ہو، اس پابندی کے دائرۂ اطلاق میں نہیں آئیں گی، بلکہ ان میں کسی بھی طریقے سے جرم کے ثابت ہو جانے کو سزا کے نفاذ کے لیے کافی سمجھا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے بالجبر کسی خاتون کی عصمت لوٹی ہو اور وہ داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع کرے تو اس سے چار گواہ طلب کرنا عقل اور شریعت، دونوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔

قانون وانصاف کے زاویۂ نگاہ سے یہ ایک بالکل بدیہی نکتہ ہے اور اگرچہ فقہی لٹریچر میں اسے تسلیم نہیں کیا گیا، ۴۷؂تاہم روایات وآثار سے ہمارے اس نقطۂ نظر کی تائید ہوتی ہے۔

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خاتون اندھیرے کے وقت میں مسجد میں نماز ادا کرنے کی غرض سے گھر سے نکلی تو راستے میں ایک شخص نے اس کو پکڑ کر زبردستی اس کی عزت لوٹ لی اور بھاگ گیا۔ خاتون کی چیخ و پکار پر لوگ بھی اس کے پیچھے بھاگے، لیکن غلط فہمی میں اصل مجرم کے بجاے ایک دوسرے شخص کو پکڑ لائے۔ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو جس شخص کو پکڑا گیا تھا، اس نے اپنے مجرم ہونے کا انکار کیا، تاہم خاتون نے اصرار کیا کہ یہی شخص مجرم ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ اس پر اصل مجرم آگے بڑھا اور اس نے اعتراف کر لیا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب دراصل اس نے کیا ہے۔ ۴۸؂

اس روایت کے حوالے سے سنن ابی داؤد کے شارح شمس الحق عظیم آبادی نے تو اس بات کو باعث اشکال قرار دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملزم کے اقرار یا گواہوں کی گواہی کے بغیر محض متاثرہ عورت کے بیان پر ملزم کو رجم کرنے کا حکم کیونکر دے دیا، جبکہ اس صورت میں خود عورت پر حدقذف جاری کی جانی چاہیے تھی، ۴۹؂لیکن ابن قیم نے واضح کیا ہے کہ اگر قرائنی شہادت مدعی کے بیان کی تائید کر رہی ہو تو ایسی صورت حال میں اس کی بنیاد پر ملزم کو سزا دینا کسی طرح قضا کے اصولوں کے منافی نہیں ہے۔ ۵۰؂ابن قیم کی یہ راے بے حد وزنی ہے، اس لیے کہ کسی بھی جرم میں متاثرہ فریق عدالت میں استغاثہ کرے تو قرائن وشواہد کی موافقت کی شرط کے ساتھ اس کے اپنے بیان کی اہمیت محض دعوے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔

سیدنا عمر کے دور میں ایک شخص نے ایک عورت کو تنہا پا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ایک پتھر اٹھا کر اس کو دے مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ سیدنا عمر کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کو اللہ نے قتل کیا ہے، اس لیے اس کی کوئی دیت نہیں۔۵۱؂سیدنا عمر ہی کے دور خلافت میں ایک شخص کو قتل کر کے اس کی لاش کو راستے میں پھینک دیا گیا۔ کافی عرصہ تک تحقیق وتفتیش کے بعد سیدنا عمر آخرکار اس خاتون تک پہنچ گئے جس نے اس کو قتل کیا تھا۔ خاتون نے قتل کا اعتراف کر لیا، تاہم یہ عذر پیش کیا کہ مقتول نے اس کو سوتا ہوا پا کر اس کے ساتھ بدکاری کی تھی جس پر اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے اسے قتل کر کے لاش کو راستے میں پھینک دیا۔ سیدنا عمر اس کے پیش کردہ عذر پر مطمئن ہو گئے اور اسے کوئی سزا نہیں دی۔ ۵۲؂ان میں سے پہلے مقدمے میں زنا بالجبر کی کوشش کو، جبکہ دوسرے میں اس کے وقوع کو قتل کی وجہ قرار دیا گیا ہے اور سیدنا عمر نے قرائنی شہادت کی روشنی میں متاثرہ خاتون کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے جرم کو ثابت مان کر اسے قصاص یا دیت سے بری کر دیا ہے۔ زنا بالجبر کے ایک واقعے میں، جس میں متاثرہ خاتون نے مجرم کو قتل کر دیا تھا، خاتون کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے قصاص ودیت سے بری قرار دینے کا فیصلہ امام جعفر صادق سے بھی مروی ہے۔ ۵۳؂

بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کسی وجہ سے خود استغاثہ نہ کرے، لیکن یہ بات کسی اور ذریعے سے عدالت کے نوٹس میں آ جائے تو اس صورت میں بھی چار گواہوں کے نصاب پر اصرار نہیں کیا جائے گا، بلکہ عدالت کسی بھی طریقے سے جرم کے ثبوت پر مطمئن ہو جائے تو مجرم کو سزا دے دی جائے گی۔ ابو صالح روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون نے کسی یہودی یا نصرانی کے ساتھ اجرت پر کوئی کام طے کیا اور اس کو ساتھ لے کر چل پڑی۔ راستے میں جب وہ ایک ٹیلے کے قریب سے گزرے تو اس آدمی نے زبردستی اس خاتون کو ٹیلے کی اوٹ میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی بری طرح پٹائی کی اور اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ اسے ادھ موا نہ کر دیا۔ وہ آدمی مقدمہ لے کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میری شکایت کی۔ حضرت ابوہریرہ کے طلب کرنے پر میں بھی حاضر ہوا اور صورت حال ان کے سامنے عرض کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے بھی میری بات کی تصدیق کی۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس یہودی یا نصرانی سے کہا کہ ہم نے اس بات پر تم سے معاہدہ نہیں کیا (کہ تم ہماری خواتین کی عزتوں پر حملہ کرو)۔ چنانچہ ان کے حکم پر اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔ ۵۴؂

فقہا نے اس نوعیت کے واقعات سے اخذ ہونے والے قانونی ضابطے کو غیر مسلموں کی حد تک تسلیم کیا ہے اور ان میں سے بعض کی راے میں اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان خاتون کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہو اور یہ بات لوگوں میں مشہور ہو جائے تو چاہے گواہ موجود نہ ہوں، زنا کے مرتکب کو قتل کر دیا جائے گا۔ ۵۵؂اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہا کے نزدیک غیر مسلم کا یہ جرم عقد ذمہ کے منافی ہے جس کی رو سے وہ مسلمانوں کے زیردست اور ان کا محکوم بن کر رہنے کا پابند ہے۔ گویا جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجرم سے درگذر کا طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے نزدیک یہی اصول بالجبر زنا کا ارتکاب کرنے والے مسلمان کے لیے بھی بالکل درست ہے اور اسے سزا دینے کے لیے چار گواہوں کی شرط عائد کرنا زنا بالجبر کو عملاً سزاکے دائرۂ اطلاق سے خارج قرار دینا ہے، جبکہ یہ بات کسی طرح بھی شارع کا مقصد اور منشا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

چار گواہوں کی شرط کے حوالے سے چند مزید نکتے بحث طلب ہیں:

ایک یہ کہ اگر زنا بالرضا میں چار سے کم گواہ زنا کی گواہی دیں تو کیا ملزم کو تعزیری سزا دی جا سکتی ہے؟ فقہا کا عمومی موقف یہ رہا ہے کہ چار سے کم گواہوں کی صورت میں ملزم کو سزانہیں دی جا سکتی، اور جمہور فقہا کے نزدیک اس صورت میں خود گواہوں کو حد قذف کا مستوجب ٹھہرایا جائے گا، ۵۶؂تاہم بعض آثار سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔ ابوالوضئ روایت کرتے ہیں کہ ایک مقدمے میں چار میں سے تین گواہوں نے صریحاً زناکی گواہی دی، جبکہ چوتھے گواہ نے صرف یہ کہا کہ میں نے ملزم اور ملزمہ کو ایک ہی کپڑے میں دیکھا ہے۔ سیدنا علی نے نصاب شہادت پورا نہ ہونے پر تین گواہوں پر قذف کی حد جاری کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملزم اور ملزمہ کو بھی تعزیری سزا دی۔ ۵۷؂

ہماری راے میں زنا کے ثبوت کے معاملے میں شریعت کے مقرر کردہ کڑے معیار کی اصل حکمت پیش نظر رہے تو جمہور فقہا کا موقف درست تسلیم کرنا پڑتا ہے اور اثبات زنا کے لیے چار گواہ طلب کرنے کا حکم اپنے مقصد اور حکمت کے لحاظ سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس سے کم تر نصاب شہادت کی صورت میں ملزم کو قانونی طور پر بری تصور کیا جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا طرز عمل اس نوعیت کے مقدمات میں یہی رہا ہے کہ اگر چار میں سے کوئی ایک گواہ بھی بالکل صاف صاف زنا کی گواہی نہ دیتا تو وہ باقی گواہوں کو قذف کے جرم میں کوڑے لگاتے اور ملزم کو بری کر دیتے۔ ۵۸؂

دوسرا بحث طلب نکتہ یہ ہے کہ کیا زنا سے کم تر جرم، مثلاً بوس وکنا ر یا اجنبی مرد وعورت کا مشکوک انداز میں خلوت میں اکٹھے ہونا وغیرہ کے لیے بھی چار گواہوں کی گواہی ضروری ہے یا عام معیار شہادت کے مطابق جرم ثابت ہو جانے پر تعزیری سزا دی جا سکتی ہے؟ عطاء اور ابن جریج سے یہ راے منقول ہے کہ اگر دو گواہ یہ گواہی دیں کہ انھوں نے کسی مرد کو کسی عورت کے اوپر لیٹے ہوئے دیکھا ہے تو ملزمان پر حد تو جاری نہیں کی جائے گی، لیکن تادیبی سزا دی جائے گی۔ ۵۹؂فقہی ذخیرے میں ا س حوالے سے کوئی باقاعدہ تصریح ہماری نظر سے نہیں گزری، تاہم بظاہر یہی لگتا ہے کہ فقہا اس صورت میں چار گواہوں کی شرط عائد نہیں کرتے۔

صحابہ کے بعض آثار بھی اس حوالے سے قابل غور ہیں۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک شخص کے ساتھ اس حال میں پایا کہ انھوں نے دروازے بند کر کے پردے لٹکا رکھے تھے۔ سیدنا عمر نے ان دونوں کو سو سو کوڑے لگوائے۔ ۶۰؂ایک شخص عشا کے بعد چٹائی میں لپٹا ہوا کسی دوسرے آدمی کے گھر میں پایا گیا تو سیدنا عمر نے اسے سو کوڑے لگوائے۔ ۶۱؂ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد اور عورت کو لایا گیا جو ایک لحاف میں پائے گئے تھے۔ انھوں نے دونوں کو چالیس چالیس کوڑے لگوائے اور انھیں لوگوں کے سامنے رسوا کیا۔ سیدنا عمر نے بھی ان کے اس فیصلے کی تحسین کی۔ ۶۲؂سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ اگر کوئی مرد وعورت ایک ہی کپڑے میں پائے جاتے تو وہ دونوں کو سو سو کوڑے لگواتے۔ ۶۳؂

ان تمام آثار میں بظاہر چار گواہ طلب نہیں کیے گئے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں عام معیار شہادت کے مطابق جرم ثابت ہو جانے پر بھی تعزیری سزا دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ اس امر کا بھی پورا امکان ہے کہ ان مقدمات میں سزا دینے کا فیصلہ خود مجرموں کے صریح یا سکوتی اعتراف کی بنیاد پر کیا گیا ہو، کیونکہ روایات سے بظاہر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مجرموں نے غالباً قرائنی شہادت کے قوی ہونے کے پیش نظر اپنے جرم سے انکار نہیں کیا۔

قیاسی استدلال کے دائرے میں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ زنا کے اثبات کے لیے چار گواہوں کی کڑی شرط عائد کرنے کی اصل حکمت مجرم کو سو کوڑوں یا رجم کی مخصوص سزا سے محفوظ رکھنا ہے یا اس کے جرم پر پردہ ڈالتے ہوئے اس کو رسوائی سے بچانا اور توبہ واصلاح کا موقع دینا؟ پہلی صورت میں زنا سے کم تر جرم میں تعزیری سزا کے لیے چار گواہوں پر اصرار نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دوسری صورت میں اس کا ایک محل بنتا ہے، اس لیے کہ مجرم کو زنا کے جرم میں سزا دی جائے یا اس کے مقدمات ودواعی کے ارتکاب پر، دونوں صورتوں میں معاشرے میں ملزم کی رسوائی اور اس کی حیثیت عرفی کا مجروح ہونا یقینی ہے، جبکہ شارع نے اگر زنا کی پردہ پوشی کی ترغیب دی ہے تو زنا سے کم تر جرم کی پردہ پوشی بدرجۂ اولیٰ مطلوب ہونی چاہیے۔

یہاں یہ بات، البتہ واضح رہنی چاہیے کہ شرم وحیا، ستر اور عفت کے معاشرتی آداب و مظاہر کا دائرہ خلوت کے جنسی انحرافات سے مختلف ہے۔چنانچہ اگر کوئی جوڑا علانیہ اس قسم کی حرکات میں ملوث ہو یا کوئی مخصوص علاقہ اس قسم کی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہو تو ظاہر ہے کہ خلوت میں ارتکاب جرم پر اختیار کیا جانے والا عفو ودرگذر یا پردہ پوشی کا رویہ یہاں اختیار نہیں کیا جائے گا اور اس صورت میں زنا سے کم تر کسی جرم کے ثبوت کے لیے بھی چار گواہوں پر اصرار قطعاً بے محل ہوگا۔

تیسرے یہ کہ کیا زنا کے کسی مجرم کے خلاف چار گواہوں کی شرط کے ساتھ جرم کے باقاعدہ ثابت ہوئے بغیر اسے معاشرتی سطح پر طعن وملامت اور زجر وتوبیخ یا کسی تعزیری سزا کا ہدف بنایا جا سکتا ہے؟ ابن تیمیہ نے یہ راے ظاہر کی ہے کہ سورۂ نساء (۴)کی آیت۱۶میں زجر وتوبیخ کے ذریعے سے زانی مرد وعورت کو اصلاح پر آمادہ کرنے کی جو ہدایت کی گئی ہے، اس کا تعلق قانون وعدالت کے ذریعے سے مجرم کو سزا دینے کے بجاے عام معاشرتی سطح سے ہے اور یہ حکم زنا کے مستقل احکام نازل ہونے کے بعد بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا۔ ابن تیمیہ کی راے یہ بھی ہے کہ آیت میں چونکہ اس صورت میں چار گواہوں کی شرط کا ذکر نہیں کیا گیا، اس لیے معاشرتی سطح پر زانی مرد وعورت کو زجر وتوبیخ کرنے پر چار گواہوں کی شرط لاگو نہیں ہوتی، ۶۴؂تاہم ابن تیمیہ کی یہ راے محل نظر ہے، کیونکہ سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۵اور ۱۶دونوں ایک ہی سیاق میں آئی ہیں اور دونوں کا محل بھی ایک ہی ہے۔ ان میں سے پہلی کو عدالت کے ساتھ متعلق قرار دینے کے بعد دوسری کو اس سے الگ کرنے کا کوئی قرینہ کلام میں موجود نہیں۔ اسی طرح زنا کی حتمی سزا نازل ہونے کے بعد حکم کے ایک حصے کو منسوخ اور دوسرے کو برقرار ماننے کا بھی کوئی معنی نہیں۔ اگر یہ دونوں عبوری نوعیت کی ہدایات تھیں تو حتمی احکام نازل ہونے کے بعد دونوں کو منسوخ قرار پانا چاہیے۔ پھر یہ کہ 'اٰذُوْہُمَا'کے الفاظ میں یہاں زانی مرد اور عورت کو باقاعدہ اذیت دینے کا ذکر ہوا ہے اور موقع کلام کی رو سے حکم کا اصل منشا چونکہ زنا کا قانونی سدباب ہے، اس لیے یہ حکم زبانی ملامت کے ساتھ ساتھ جسمانی سزا کوبھی شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے زنا کا ثابت ہونا، بہرحال ضروری ہے۔ جرم کے باقاعدہ ثابت ہوئے بغیر کسی مرد یا عورت کو ذاتی اور نجی سطح پر نصیحت تو کی جا سکتی ہے، لیکن معاشرتی سطح پر ان کو زجر وتوبیخ کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ان کا جرم مسلمہ طور پر ثابت ہو چکا ہو۔ اب اگر چار گواہوں کی شرط اس صورت میں ضروری نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ثبوت جرم کا اس سے مختلف معیار کیا ہوگا؟ اگر ایسا کوئی معیار شریعت کی نظر میں قابل قبول ہے تو پھر عدالت میں باقاعدہ قانونی سزا کے لیے چار گواہوں کی شرط بے معنی ہو جاتی ہے، کیونکہ اس شرط کا اصل مقصد زنا کے جرم کی پردہ پوشی کرنا اور مجرم کو معاشرتی رسوائی سے بچانا ہے۔ چنانچہ اگر شارع کے نزدیک مجرم کی معاشرتی رسوائی کے لیے اس سے کم تر معیار ثبوت قابل قبول ہے تو اس کے بعد قانونی طور پر سزا کے نفاذ سے گریز کی کوئی خاص وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔

زنا کی گواہی کی کیفیت

زنا کی گواہی کی کیفیت سے متعلق بھی ایک اہم نکتہ قابل غور ہے۔ روایات وآثار اور فقہی ذخیرے میں زنا کی گواہی کے حوالے سے اس شرط کا ذکر ملتا ہے کہ زنا کے گواہوں کی گواہی اسی وقت قابل قبول سمجھی جائے گی جب وہ ادنیٰ شبہے کے بغیر پوری وضاحت کے ساتھ مرد وعورت کو عین حالت زنا میں دیکھنے کی گواہی دیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک کی گواہی میں بھی معمولی سا ابہام یا جھول پایا جائے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ الٹا الزام لگانے والے پر قذف کی حد جاری کی جائے گی۔

ابن تیمیہ نے اس شرط سے اختلاف کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر گواہ ملزموں کو کسی ایسی حالت میں دیکھنے کی گواہی دیں جو زنا ہی کی صورت میں پائی جا سکتی ہو اور قرائن بھی ان کے بیان کی تائید کریں تو قاضی سزا نافذ کر سکتا ہے اور اس کے لیے گواہوں کا عین حالت زنا میں ملزموں کو دیکھنا ضروری نہیں۔ ۶۵؂ہمارے نزدیک فقہا کی عائد کردہ شرط شارع کے منشا ،یعنی مجرم کی پردہ پوشی کرنے اور اس کو سزا دینے کے امکان کو کم سے کم کرنے سے اخذ کی گئی ہے اور اس اعتبار سے بالکل درست ہے، البتہ حکم کے منشا کی رو سے اس کا تعلق بھی صرف اس صورت سے ہونا چاہیے جب شارع کو جرم کی پردہ پوشی مطلوب ہو۔ جہاں معاملہ اس کے برعکس ہو، وہاں مجرم کو عین حالت زنا میں دیکھنے کی شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر کسی پاک دامن مردیا عورت پر رضامندی کے زنا کا الزام عائد کیا جائے تو گواہوں سے مذکورہ شرط کے مطابق گواہی طلب کرنا بالکل درست ہوگا، لیکن زنا بالجبر کی صورت میں مرد اور عورت کی شرم گاہ کو 'کالمیل فی المکحلۃ' دیکھنے کی گواہی ضروری نہیں ہوگی، اس لیے کہ اس صورت میں یہ شرط عائد کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ بالجبر زنا کا جرم سرے سے ثابت ہی نہ ہونے پائے۔

اسی طرح اگر معاملہ فعل زنا کی گواہی کا نہیں ،بلکہ قحبہ عورتوں کی نشان دہی کا ہو تو بھی اس شرط کا اطلاق درست نہیں ہوگا۔ قرآن مجید نے سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۵میں مسلمانوں کے ارباب حل و عقد سے مخاطب ہو کر یہ کہا ہے کہ وہ قحبہ عورتوں کے خلاف چار گواہوں کو طلب کریں اور اگر وہ گواہی دے دیں تو ایسی عورتوں کو ان کے گھروں میں محبوس کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہاں قحبہ عورتوں کے خلاف ازخود اقدام کرنے کا حکم دینے کا مقصد یہی ہے کہ پیشہ ورانہ بدکاری کا قانونی سطح پر سدباب کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کا اپنی انفرادی حیثیت میں بدکاری کا مرتکب ہونا اور کسی خاتون کا بدکاری کو بطور پیشے کے اختیار کر لینا، دو الگ الگ نوعیت کے جرم ہیں۔ پہلی صورت میں شارع کو جرم پرپردہ ڈالنا مطلوب ہے اور اسلامی ریاست کے ارباب حل وعقد کو لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں تجسس کرنے اور زنا کے واقعات کا کھوج لگانے کی اجازت نہیں۔ چنانچہ فقہا زنا کے جرم کو، جب تک کہ اس کا ارتکاب چار دیواری کے اندر ہوا ہو، بجا طور پر ناقابل دست اندازئ پولیس قرار دیتے ہیں۔ امام طحاوی نے امام شافعی کا یہ قول نقل کر کے اس کی تائید کی ہے کہ اگر کسی شخص پر زنا کا الزام لگایا جائے تو حاکم ازخود اس کو طلب کر کے تحقیق وتفتیش کرنے کا مجاز نہیں ہے، جب تک کہ چار گواہ اس کے پاس آ کر اس کی گواہی نہ دے دیں۔ ۶۶؂اس کے برعکس پیشہ ورانہ بدکاری اپنے اثرات کے لحاظ سے بحیثیت مجموعی پوری سوسائٹی کو اپنی گرفت میں لے کر معاشرے کی اخلاقی پاکیزگی کو بالکل برباد کر دیتی ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں افراد اور ریاست، دونوں سے ایک مختلف رویہ مطلوب ہے اور نہ صرف یہ کہ لوگ اپنی سماجی حیثیت میں پابند ہیں کہ اس قسم کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کوئی مشکوک معاملہ سامنے آنے پر متعلقہ اداروں کو مطلع کریں، بلکہ نظم اجتماعی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کی مفسد اخلاق سرگرمیوں کے حوالے سے پوری طرح چوکنا رہے اور اس کے سراغ رساں ادارے پوری سرگرمی کے ساتھ ان کا کھوج لگاتے رہیں۔

یہ نکتہ ملحوظ رہے تو اس بات کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ اگر کسی علاقے کے معتمد اور ثقہ افراد کو ان کے علاقے میں پیشہ ورانہ بدکاری میں ملوث افراد کی نشان دہی کے سلسلے میں بطور گواہ بلایا جائے تو ان سے فعل زنا کی نہیں، بلکہ محض اس امر کی گواہی مطلوب ہوگی کہ ان کی معلومات کے مطابق فلاں عورت ایک قحبہ عورت ہے اور بدکاری کو ایک پیشے کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ اگر اس صورت میں بھی مجرم کو عین حالت زنا میں دیکھنے کی گواہی ضروری قرار دے دی جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ قحبہ عورتوں کی نشان دہی اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ممکن ہی نہیں رہے گی۔

______________

۴۶؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۷۳۸۱۔

۴۷؂امام مالک کا فتویٰ یہ نقل ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص گواہوں کی موجودگی میں کسی خاتون کو زبردستی اٹھا کر کسی مکان کے اندر لے جائے اور پھر عورت باہر آکر یہ کہے کہ اس شخص نے میرے ساتھ بالجبر زنا کیا ہے، جبکہ وہ آدمی اس کا انکار کرے تو اس شخص پر اس عورت کو مہر کے برابر رقم ادا کرنا تو لازم ہوگا، لیکن اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ (المدونۃ الکبریٰ ۵/ ۳۲۲) ابن عبد البر لکھتے ہیں کہ اگر زنا بالجبر چار گواہوں یا مجرم کے اقرار سے ثابت ہو جائے تو اس پر حد جاری کی جائے گی، بصورت دیگر تعزیری سزا دی جائے گی۔ (الاستذکار ۷/ ۱۴۶) مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی زنا بالجبر پر محض تعزیری سزا کا امکان اس صورت میں تسلیم کیا ہے جب قاضی قرائن کی روشنی میں الزام کے درست ہونے پر کسی قدر مطمئن ہو جائے۔ (امداد الاحکام ۴/ ۱۲۸)

۴۸؂ابو داؤد، رقم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔ نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۳۱۱۔

۴۹؂عون المعبود ۱۲/ ۲۸۔ بعض فقہا بھی اس بات کے قائل ہیں۔ چنانچہ مالکیہ کے نزدیک اگر کوئی عورت کسی شخص پر الزام لگائے کہ اس نے اسے زنا بالجبر کا نشانہ بنایا ہے اور وہ شخص نیک شہرت کا حامل ہو تو عورت پر حد قذف جاری کی جائے گی، البتہ اگر وہ شخص فاسق ہو تو عورت حد قذف سے بچ جائے گی۔ اسی طرح اگر ملزم نیک شہرت کا حامل ہو، لیکن عورت زنا بالجبر کاشکار ہونے کے فوراً بعد اس حالت میں عدالت میں پیش ہو جائے کہ اس نے ملزم کو اپنے ساتھ پکڑ رکھا ہو اور اس کی ظاہری حالت بھی اس کے دعوے کی تائید کر رہی ہو تو قرائنی شہادت کی موافقت کی وجہ سے عورت پر حد قذف جاری نہیں کی جا ئے گی۔ (محمد علیش، منح الجلیل ۷/ ۱۴۲)

۵۰؂ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۷۱۔ اعلام الموقعین ۶۰۴۔

۵۱؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۷۹۳۔ ۲۷۷۹۴۔

۵۲؂ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۳۴۔ ۳۵۔

۵۳؂الکلینی ، الفروع من الکافی ۷/ ۲۹۳۔امام جعفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فیصلہ نقل کرتے ہیں۔

۵۴؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۱۶۸۔ ۱۰۱۷۰۔

۵۵؂محمد بن مفلح المقدسی، الفروع وتصحیح الفروع ۶/ ۲۵۷۔ منصور بن یونس، کشاف القناع ۳/ ۱۴۳۔

یہ راے حنبلی فقہا کی ہے۔ مالکیہ کے ہاں ایک راے یہ ہے کہ ذمی اگر کسی مسلمان خاتون کے ساتھ بالجبر زنا کرے تو دو گواہوں کی گواہی اثبات جرم کے لیے کافی ہوگی، جبکہ دوسری راے کے مطابق یہاں بھی چار گواہ ہی درکار ہوں گے۔ (محمد علیش، منح الجلیل ۳/ ۲۲۵)

۵۶؂الشافعی، الام ۶/ ۱۵۱۔ سرخسی، المبسوط ۹/۷۴۔ ابن قدامہ، المغنی ۱۰/ ۱۷۹۔ ۱۸۰۔

۵۷؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۶۳۸۔

۵۸؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۸۲۴۔ شرح معانی الآثار، رقم ۵۶۷۹۔

۵۹؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۴۶۳۔

۶۰؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۷۰۸۔

۶۱؂مصنف عبد الرزاق ۷/ ۳۲۲، رقم ۱۳۷۱۰۔

۶۲؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۷۱۱۔

۶۳؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۷۰۷۔

۶۴؂فتاویٰ ابن تیمیہ۱۵/ ۳۰۳۔

۶۵؂فتاویٰ ابن تیمیہ ۱۵/ ۳۰۶۔

۶۶؂طحاوی، تحفۃ الاخیار بترتیب شرح مشکل الآثار ۵/ ۹۳۔ یوسف بن موسیٰ الحنفی، معتصر المختصر ۲/ ۱۳۱۔

_________________________




Articles by this author