شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد (حصہ دوم)

شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد (حصہ دوم)


مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ قرآن مجید نہ صرف اپنے بیان کردہ احکام کی فی نفسہٖ پابندی کو اصولی طور پر لازم قرار دیتا ہے، بلکہ اپنے احکام کی بنیادیں بھی اس سے مختلف بیان کرتا ہے جو زیر بحث نقطۂ نظر میں ان کے لیے فرض کر کے ان کی روشنی میں احکام کی شکل وصورت کو ازسرنو وضع کرنے کا حق مانگا جا رہا ہے۔ چنانچہ یہ مفروضہ کہ دین کے نصوص اپنے بیان کردہ احکام کی نوعیت و حیثیت کے بارے میں خاموش ہیں، اس لیے اس نکتے کا فیصلہ تاریخی سیاق کی روشنی میں کیا جائے گا، ایک بدیہی اور واضح حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اب اگر ان نصوص کو نظر انداز کر کے احکام شریعت کی نوعیت وحیثیت کو طے کرنے کی بحث کا مدار خالصتاً کسی عقلی مقدمے پر رکھا جائے تو یہ بنیادی طور پر ایک فلسفیانہ طریق استدلال ہوگا جو دائرۂ ایمان کے اندر نہیں، بلکہ اس سے باہر کھڑے ہو کر ہی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان اگرچہ بذات خود عقلی اساسات پر استوار ہوتا ہے، لیکن ایمان لے آنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب عقل آزادانہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور اس کی ساری تگ وتاز کا دائرہ خدا اور اس کے پیغمبر کے منشا اور مراد کا فہم حاصل کرنے تک محدود ہو گیا ہے، اس لیے ایمان کے دائرے کے اندر اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ مذہبی سرچشموں کو خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مشمولات کا علم حاصل کرنے کے لیے تو ماخذ تسلیم کیا جائے، لیکن ان مشمولات کی نوعیت وحیثیت اور قدر وقیمت متعین کرنے کے لیے عقل بجاے خود فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہو۔

تاہم یہاں بحث کا ہر ممکن زاویے سے جائزہ لینے کی خاطر ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس طریقۂ استدلال کی گنجایش موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص دور میں اپنے بندوں کے لیے جو ہدایت نازل کی، اس کے مشمولات کا علم حاصل کرنے کی حد تک تو نصوص سے استفادہ کیا جائے گا، لیکن جہاں تک ان کے مختلف اجزا کی نوعیت یا قدر و قیمت کا تعلق ہے تو اس کی تعیین کے لیے نصوص سے ہٹ کر آزادانہ عقلی استدلال کو بروے کار لایا جائے گا۔ عقلی استدلال ظاہر ہے کہ انسانی نفسیات ومحسوسات کے مطالعہ اور تجربہ ومشاہدہ پر مبنی سماجی علوم سے ترتیب پانے والے عقلی مقدمات پر مبنی ہوگا اور انھی کی روشنی میں یہ طے کیا جائے گا کہ ہدایت کے مشمولات میں سے کون سا جز کیا قدر و قیمت رکھتا ہے اور اس سے کس نوعیت کی وابستگی ضروری یا غیر ضروری ہے۔ اس صورت میں ایک نہایت بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر بحث کا مدا ر اصلاً عقلی استدلال پر ہے تو پھر ابدی طور پر مطلوب مقاصد اور ان کے حصول کے وقتی، عارضی اور قابل تبدیل ذرائع اور وسائل میں فرق کا معیار کیا ہوگا؟ جہاں تک میں غور کر سکا ہوں، عقلی استدلال کی بنیاد پر اس طرح کا کوئی امتیاز قائم کرنا ممکن نہیں اور اگر اس طریقۂ استدلال کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے تو بطور ایک دین کے خود اسلام کے امتیازی تشخص ہی کو محفوظ رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس نکتے کو چند مثالوں سے واضح کرنا شاید زیادہ مناسب ہوگا۔

عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ شریعت کے جملہ احکام کے پس منظر میں بنیادی طور پر دین، جان، مال، عقل اور نسل کی حفاظت کے مقاصد کارفرما ہیں۔ ان میں سے دین کو لیجیے: یہاں جان، مال، آبرو اور نسل کے تقابل میں دین سے مراد وہ مذہبی آداب ورسوم، شعائر اور پرستش کے مختلف طریقے ہیں جو انسان کے جذبۂ عبودیت کے اظہار اور اس کے مذہبی جذبات کو 'symbolize' کر کے انھیں ایک حسی صورت عطا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شارع کا مقصد اس اصل جذبۂ عبودیت کا تحفظ ہے جو عبادت کی ان ظاہری صورتوں کا محرک بنتا اور ان میں سرایت کیے ہوئے ہے یا یہ بات بھی مقصد کا حصہ ہے کہ ان جذبات واحساسات کا اظہار انھی مخصوص صورتوں کے ذریعے سے کیا جائے؟ منطقی طور پر یہ کلیہ کہ مخصوص سماجی اور تاریخی تناظر میں دیے جانے والے قانون کی ظاہری صورت کے بجاے اس کے مقاصد مطلوب ہوتے ہیں، صرف سماجی نوعیت کے قوانین پر نہیں، بلکہ مذہبی رسوم وشعائر اور عبادات سے متعلق قوانین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر سماج اور معاشرے سے متعلق احکام وقوانین کی ظاہری صورت کی پابندی لازم نہیں تو عبادات کی ظاہری صورتوں کو لازم قرار دینے کی بھی کوئی وجہ نہیں بالخصوص اس تناظر میں کہ معاشرتی و سماجی احکام کی طرح عبادات سے متعلق اسلامی شریعت کے قوانین میں بھی اہل عرب ہی کی مذہبی روایت کو بنیاد بنایا گیا ہے اور ان پر ان کے مخصوص مذہبی مزاج، ذوقی مناسبت اور تہذیبی وسماجی رجحانات کی چھاپ پوری طرح موجود ہے۔ اگر اصول یہ ہے کہ شارع کو حکم کی ظاہری شکل نہیں، بلکہ اس کی روح مطلوب ہے اور اس کے لیے کوئی بھی شکل اختیار کر لینا ہر معاشرے کے اپنے مخصوص مزاج اور رجحانات پر منحصر ہے تو پھر عبادات کے دائرے میں بھی یہ کہنے میں منطقی طور پر کوئی مانع موجود نہیں کہ خدا کی یاد کے لیے نماز سے ہٹ کر کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا، تقویٰ اور ضبط نفس پیدا کرنے کے لیے روزے کے علاوہ بدنی ریاضت کی کوئی بھی صورت اپنائی جا سکتی اور مذہبی احساسات کو پیکر محسوس میں ڈھالنے کے لیے مختلف اذواق، تہذیبی رجحانات اور تمدنی حالات کے لحاظ سے پیغمبر سے ثابت رسوم و شعائر کے علاوہ متبادل طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں۔ آخر اہل عرب کے ذوق ورجحان اور تمدنی حالات کی عکاسی کرنے والے طریقہ ہاے عبادت کی پابندی چین، ہندوستان اور افریقہ کے باشندوں پر کیوں لازم کی جائے اور ان کے ہاں ان کے اپنے اپنے تہذیبی تناظرمیں تشکیل پانے والے عبادات ورسوم کے جو الگ اور مخصوص ڈھانچے موجود ہیں، ان کی ضروری تہذیب وترمیم کے بعد انھیں انھی ڈھانچوں کو اختیار کیے رکھنے کی آزادی کیوں نہ دی جائے؟ بلکہ خود عرب معاشرت نے تاریخی اور تمدنی ارتقا کے جو اگلے مراحل طے کیے ہیں، وہ اگر ان طریقہ ہاے عبادت میں کسی جزوی یا کلی تبدیلی کا تقاضا کریں تو اس پر کس بنیاد پر کوئی قدغن لگائی جائے؟

ان طریقوں کو لازم قرار دینے کے لیے پیغمبر کی سند پیش کرنا بے کار ہوگا، کیونکہ بحث اس مفروضے پر ہو رہی ہے کہ الٰہی ہدایت کے مشمولات جاننے کے لیے تو پیغمبر سے رہنمائی لی جائے گی، لیکن ان کی حیثیت واہمیت نصوص کے بجاے مقاصد اور مصالح کی روشنی میں محض عقلی اصولوں پر طے کی جائے گی۔ چنانچہ عبادات کی ظاہری صورتوں کو لازم قرار دینے کے لیے نصوص کا حوالہ اس تناظر میں استدلال کے بنیادی مقدمے کے خلاف ہوگا۔ دونوں قسم کے قوانین میں امتیاز کے لیے یہ استدلال بھی یہاں نہیں چل سکتا کہ انسانی سماج چونکہ تغیر اور ارتقا کے مراحل سے گزرتا رہتا ہے، اس لیے اس دائرے میں قانون میں بھی ارتقا اور تبدیلی کی ضرورت سامنے آتی رہتی ہے، جبکہ مراسم عبادت میں ایسی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ استدلال اول تو اس لیے نتیجہ خیز نہیں کہ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ قانون میں تبدیلی کسی ضرورت کے تحت کی جائے گی یا بغیر ضرورت کے، بلکہ یہ ہے کہ خالص عقلی بنیاد پر کسی مخصوص طریقۂ عبادت کی پابندی لازم ہونے کی کیا دلیل ہے؟ تبدیلی کی ضرورت نہ بھی ہو، تب بھی اگر کوئی فرد یا گروہ اصل مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ذوق ورجحان اور مخصوص تہذیبی پس منظر کے لحاظ سے کوئی متبادل طریقۂ عبادت اختیار کرتا ہے تو آخر کس عقلی بنیاد پر اس کو غلط کہا جا سکتا ہے؟ دوسرے یہ کہ خالص انسانی زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو مراسم عبادت میں تبدیلی کی ضرورت پیش نہ آنے کی بات واقعاتی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ مثال کے طور پر فجر کی نماز کے لیے فجر کا وقت مقرر کرنے کی حکمت تاریخی سیاق کے اعتبار سے یہ تھی کہ قدیم تمدن میں یہی وقت لوگوں کے نیند سے بیدار ہونے کا وقت تھا اور ان سے یہ مطالبہ کرنا موزوں تھا کہ وہ اٹھتے ہی بارگاہ الٰہی میں حاضری دیں اور اس کے بعد اپنے معمولات زندگی کی طرف متوجہ ہوں۔ اگر جدید تمدن نے لوگوں کے سونے اور بیدار ہونے کے معمولات میں تبدیلی پیدا کر دی ہے تو یہ تغیر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ فجر کی نماز کا وقت بھی اس کے لحاظ سے تبدیل کر دیا جائے۔ اسی طرح حج کی عبادت کو سال کے چند مخصوص ایام میں محدود کرنا، بہرحال مشکلات و مسائل کا باعث بن رہا ہے اور ذرائع مواصلات کی ترقی اور حاجیوں کی سال بہ سال بڑھتی ہوئی تعداد یہ تقاضا کرتی ہے کہ اگر کوئی دوسرا مرکز حج مقرر کرنا وحدت کے منافی ہو تو کم از کم اس عبادت کے لیے سال میں ایک سے زیادہ مواقع تو ضرور فراہم کرنے چاہییں۔

اب تک کی بحث سے ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ خالص عقلی بنیاد پر پیغمبروں کی لائی ہوئی ہدایت کے زیادہ سے زیادہ اعتقادی اور اخلاقی حصے ہی کو ابدی مانا جا سکتا ہے، جبکہ مخصوص قوانین کی پابندی پر اصرار کی، چاہے وہ سماجی قوانین ہوں یا عبادات سے متعلق، کوئی قطعی بنیاد موجود نہیں۔ اب اس سے اگلے مرحلے کی طرف آئیے: اگر مابعد الطبیعیاتی تصورات پر ایمان اور اخلاقی طرززندگی کو اپنانا ہی الٰہی ہدایت کا اصل مطلوب ہے، جبکہ مراسم عبودیت یا سماجی قوانین کا کوئی بھی ڈھانچہ عمومی، اخلاقی یا مذہبی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے وضع کیا جا سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کے لیے کسی شخص کا مسلمان ہونا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھ کر آپ کی امت میں شامل ہونا کیوں ضروری ہے؟ خدا کا پیغمبر اور الٰہی ہدایت کا حامل ہونے کے اعتبار سے تمام پیغمبر یکساں احترام کے مستحق ہیں اور سب کے سچا ہونے پر بیک وقت ایمان رکھا جا سکتا ہے۔ پھر کسی شخص کے لیے حضرت موسیٰ پر ایمان لانے اور حضرت محمد پر ایمان لانے میں عملی اعتبار سے کیا فرق ہے، جبکہ عقائد واخلاق میں دونوں کی تعلیم یکساں ہے اور ظاہری قوانین و احکام کے دائرے میں نہ شریعت موسوی کی پابندی ضروری ہے اور نہ شریعت محمدی کی؟ اگر ایک شخص توحید اور آخرت کو مانتا ہے، سب رسولوں کو یکساں قابل احترام اور سچا تسلیم کرتا ہے، اخلاقی طرز زندگی کا پابند ہے، اور جذبۂ عبودیت کا اظہار بھی کسی نہ کسی طریقے سے کر لیتا ہے تو اسے 'قبول اسلام' کی دعوت کیوں اور کس مقصد کے لیے دی جائے اور دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعد آخر اسے مزید کیا کرنا ہوگا، جبکہ الٰہی ہدایت کے سارے مطلوبات تو وہ اس کے بغیر بھی پورے کر سکتا ہے اور کر رہا ہے؟

حفاظت دین کے بعد اب مقاصد شریعت میں سے ایک دوسرے مقصد ،یعنی نسل کی حفاظت کو لیجیے: اس سے مراد خاندان کے ادارے کی صورت میں نسل انسانی کی حفاظت اور بقا کا انتظام کرنا ہے جس کے لیے نکاح وطلاق، عدت اور نسب سے متعلق قوانین مقرر کیے گئے اور زنا کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے، زیر بحث نقطۂ نظر فی نفسہٖخاندان کے ادارے کو مطلوب اور مقصود سمجھتا ہے اور اس کی بقا کے لیے نکاح، عدت اور نسب وغیرہ سے متعلق شرعی قوانین کو بھی ابدی تسلیم کرتا ہے، جبکہ واقعہ یہ ہے کہ منطقی طور پر اس طریقۂ استدلال کے تحت یہ سوال اٹھانا بھی پوری طرح ممکن ہے کہ خود نکاح اور عدت ونسب وغیرہ احکام سے شارع کا اصل مقصد نسل انسانی کی حفاظت اور بقا ہے یا اس کے لیے خاندان کا ادارہ قائم کرنے کا یہ مخصوص طریقہ اور ذریعہ بھی بجاے خود مقصود ہے؟ خالص عقلی بنیاد پر اس استدلال میں کوئی مانع نہیں کہ انسانی تمدن کے ارتقا کے ابتدائی مراحل میں عورت اور بچے کی کفالت کا بندوبست کرنے کے لیے تو یہ ضروری تھا کہ عورت کسی مخصوص مرد کے ساتھ نکاح کا رشتہ باندھے اور اس رشتے کی ساری پابندیوں اور بالخصوص مرد کی بالادستی کو بھی قبول کرے، لیکن تمدن کے ارتقا کے ساتھ اگر عورت اور بچے کی کفالت کا متبادل بندوبست ممکن ہے اور اس سے نسل کی بقا اور حفاظت کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو نکاح کی اس قدیم رسم کا التزام بھی ضروری نہیں رہا۔ اسی طرح عقلی بنیاد پر یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ بچے کے نسب کو باپ سے وابستہ کرنا بجاے خود مقصود ہے یا یہ بھی نسل کی حفاظت ہی کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قدیم انسانی تمدن میں مرد کو بیوی اور بچے کی حفاظت اور کفالت کی ذمہ داری اٹھانے پر آمادہ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے دل میں بیوی اور بچے، دونوں کا مالک ہونے کا ایک قوی نفسیاتی محرک زندہ رکھا جائے۔ چنانچہ تاریخی سیاق کے لحاظ سے اولاد کو باپ کی طرف منسوب کرنے کی حکمت اور ضرورت یہی تھی، لیکن اب بچے کی کفالت کے متبادل امکانات سامنے آنے کے بعد نسب کا تعلق ماں کے ساتھ جوڑ دینا چاہیے، اس لیے کہ ا س کی ولادت اور پرورش کی ساری مصیبتیں تو وہی برداشت کرتی ہے۔ گویا نکاح وطلاق، عدت اور نسب وغیرہ سے متعلق جن احکام کو مقاصد شریعت میں سے ایک اہم مقصد، یعنی نسل کی حفاظت کے ذریعے کے طور پر زیر بحث نقطۂ نظر کے حامل اہل فکر بھی شریعت کے ابدی احکام مانتے ہیں، خود ان کے طریقۂ استدلال کی رو سے وہ بھی اپنی جگہ برقرار نہیں رہ جاتے اور ان کو بھی معاشرتی ارتقا کے ایک مخصوص مرحلے کی ضرورت قرار دے کر بآسانی وقتی ذرائع اور وسائل کی فہرست میں گنا جا سکتا ہے۔

دین اور نسل کی حفاظت سے متعلق مذکورہ دو مثالوں سے زیر بحث طریقۂ استدلال کا بنیادی نقص غالباً واضح ہو چکا ہوگا، یعنی یہ کہ ا س میں مقاصد ومصالح کے جس تصور کو قانون سازی کی اصل اساس قرار دیا گیا اور اس کی بنیاد پر احکام شرعیہ کی ابدیت یا غیر ابدیت کو نصوص سے ہٹ کر مقاصد ومصالح کی روشنی میں عقلی بنیادوں پر طے کرنے کا طریقہ تجویز کیا گیا ہے، خود اس کے لیے کوئی حتمی معیار طے کرنا انسانی عقل کے لیے ممکن نہیں اور احکام شریعت کو اپنی ذات میں لازم نہ مان کر جب ہم ان سے مقاصد اخذ کرنے اور مقاصد اور ذرائع میں فرق قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے سرے سے کوئی معیار ہی میسر نہیں ہے۔ مقاصد کو اگر روح سے اور شریعت کو قالب سے تشبیہ دی جائے تو یہ دراصل شریعت کا قالب ہی ہے جو اس کی روح کو اپنے اندر روکے ہوئے ہے، اس لیے جیسے ہی ڈھانچے سے اس کی روح کو الگ کر کے کسی نئے جسم میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو روح ایک مرتبہ آزاد ہونے کے بعد کسی بھی نئے قالب کی پابندی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ چنانچہ شریعت کی روح کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے قالب کو بھی محفوظ رکھا جائے اور قالب کو محفوظ رکھنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ احکام شریعت میں سے ہر حکم کی نوعیت واہمیت اور محل کو طے کرنے کے لیے خود نصوص کو بنیاد تسلیم کیا جائے، اس لیے کہ انسانی عقل کسی مخصوص ڈھانچے کی پابندی خالص عقلی استدلال سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف خدائی حکم کی بنیاد پر قبول کرتی ہے۔

احکام کا عموم و خصوص اور اطلاق و تقیید

مذکورہ سطور میں جو گزارشات پیش کی گئی ہیں، ان سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ قرآن و سنت میں بیان ہونے والے تمام احکام ہر اعتبار سے عام اور مطلق ہیں اور ان میں علمی وعقلی تخصیص و تقیید کا کوئی امکان یا عملی حالات کے لحاظ سے لچک کی کوئی گنجایش نہیں پائی جاتی۔ نصوص کے فہم کا یہ پہلو بجاے خود بڑا اہم اور بنیادی ہے اور مذکورہ گزارشات کا حاصل صرف یہ ہے کہ اس ضمن میں نصوص سے باہر کھڑے ہو کر کوئی عقلی مقدمہ قائم کرنا یا کسی ایک معاملے سے متعلق نصوص سے کوئی کلی اور عمومی ضابطہ اخذ کر کے تمام احکام پر اس کا یکساں اطلاق کرنا علمی اور منطقی اعتبار سے درست نہیں۔ کسی بھی حکم کے عام یا خاص اور ابدی یا وقتی ہونے اور اسی طرح بالذات مقصود ہونے یا مصلحت اور سد ذریعہ کے اصول پر مبنی ہونے کا فیصلہ کرنے کا درست علمی طریقہ یہ ہے کہ ہر معاملے سے متعلق نصوص پر الگ الگ غور کر کے داخلی قرائن وشواہد کی بنیاد پر حکم کی نوعیت اور حیثیت کو طے کیا جائے۔ اس ضمن میں توضیح مدعا کے لیے چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔ قرآن مجید نے یہ بات خود واضح فرمائی ہے کہ اس کا بیان کردہ کوئی حکم اگر کسی علت پر مبنی ہے تو حکم کا وجود و عدم علت کے وجود وعدم پر منحصر ہوگا۔ اس کی ایک واضح مثال عدت کے احکام میں پائی جاتی ہے۔ قرآن نے طلاق یافتہ عورتوں کو عدت کے طور پر تین ماہواریاں گزارنے کا حکم دیا ہے اور اس کی علت استبراء رحم کو قرار دیا ہے۔ ۲۸؂پھر خود ہی واضح فرمایا ہے کہ اگر میاں بیوی کی ملاقات نہ ہوئی ہو تو عدت گزارنے کی ضرورت نہیں۔۲۹؂اسی طرح اگر طلاق یا وفات کے وقت عورت حاملہ ہو تو عدت بچے کی پیدایش پر ہی ختم ہوگی۔ ۳۰؂

اس ضمن کی ایک اہم مثال وراثت میں ورثا کے حصے متعین کرتے ہوئے ان کے حق میں وصیت کے اختیار کو سلب کرنے کا حکم ہے۔ قرآن نے یہ واضح فرمایا ہے کہ مرنے والے کے مال میں ماں باپ، اولاد، زوجین اور بہن بھائی کے حصوں کی تعیین اور پھر ان کے حق میں وصیت کے عدم جواز کی اصل بنیاد اور اس کا صحیح محل کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ 'لاَ تَدْرُوْنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا' ۳۱؂یعنی چونکہ رشتے داروں کے ساتھ قرابت اور منفعت کے تناسب کو ٹھیک ٹھیک متعین کر کے اس کے مطابق حصے تقسیم کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے، اس لیے یہ حصے اللہ تعالیٰ نے خود متعین کر دیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ورثا کے حق میں وصیت کرنے کی جو پابندی عائد کی گئی ہے، اس کا تعلق بھی اسی قرابت اور منفعت کے دائرے سے ہے اور اگر اس کے علاوہ کسی دوسری بنیاد، مثلاً کسی مخصوص وارث کی ضرورت اور احتیاج کے پیش نظر اس کے لیے مقررہ حصے کے علاوہ کوئی وصیت کی جائے تو یہ شرعی ممانعت کے خلاف نہیں ہوگا۔ چنانچہ قرآن مجید نے خود اس کی تاکید کی ہے کہ مرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے بارے میں یہ وصیت کر کے جائے کہ اس کے مرنے کے بعد ایک سال تک اسے اسی گھر میں رہنے دیا جائے گا اور اسے سامان زندگی بھی فراہم کیا جائے گا۔۳۲؂ظاہر ہے کہ یہ سامان زندگی مرنے والے کے ترکے میں سے بیوہ کے متعین حصے کے علاوہ اس کی ضرورت و احتیاج ہی کے پیش نظر دیا جائے گا۔

۲۔ حکم کی علت کی طرح اس کے صحیح محل کا طے کرنا بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید نے کسی پاک دامن عورت پر زنا کا الزام ثابت کرنے کے لیے چار گواہ طلب کیے ہیں اور اگر الزام لگانے والا گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے قذف کی پاداش میں ۸۰کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے، البتہ شوہر کے لیے یہ قانون بیان کیا گیا ہے کہ اگر اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو میاں بیوی کے مابین لعان کرایا جائے گا۔ ۳۳؂شوہر کے لیے یہ گنجایش پیدا کرنے کی وجہ بالکل واضح ہے کہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہے، لیکن چار گواہ پیش نہیں کر سکا تو اسے جھوٹا قرار دے کر قذف کی سزا دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ عورت جس بچے کو جنم دے گی، اس کا نسب اس کے شوہر ہی سے ثابت مانا جائے گا، جبکہ یہ امکان موجود ہے کہ بچہ درحقیقت اس کا نہ ہو۔ اگر بچے کے نسب کا مسئلہ نہ ہو تو لعان کے اس طریقے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی اور خاوند سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس کی بیوی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہے تو وہ طلاق دے کر اسے فارغ کر دے، لیکن چونکہ یہاں اصل مسئلہ بچے کے نسب کے ثبوت کا ہے اور شوہر کا یہ حق ہے کہ کسی ناجائز بچے کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے، اس لیے بچے کا نسبی تعلق اس سے ختم کرنے کے لیے لعان کی مذکورہ صورت نکالی گئی، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ امکان بھی پوری طرح موجود ہے کہ شوہر اپنے الزام میں جھوٹا ہو اور اپنی بیوی کو بدنام کرنے اور خود اپنی ہی اولاد کو نسبی شناخت کے جائز حق سے محروم کرنے کے دوہرے جرم کا مرتکب ہوا ہو۔ قدیم دور میں بچے کے نسب کی تحقیق کا کوئی یقینی ذریعہ موجود نہیں تھا۔ چنانچہ لعان کے سوا اس معاملے کا کوئی حل ممکن نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی پر الزام لگانے کی صورت میں لعان کا یہ طریقہ اختیار کر کے بچے کے نسب کو عورت کے شوہر سے منقطع کرنا بجاے خود مقصود نہیں، بلکہ ایک عملی مجبوری کا نتیجہ تھا۔ اب اگر دور جدید میں طبی ذرائع کی مدد سے بچے کے نسب کی تحقیق یقینی طور پر ممکن ہے اور اپنے نسب کا تحفظ بجاے خود بچے کا ایک جائز حق بھی ہے تو بیوی کے کہنے پر یا بڑا ہونے کے بعد خود بچے کے مطالبے پر ان ذرائع سے مدد لینا اور اگر ان کی رو سے بچے کا نسب اپنے باپ سے ثابت قرار پائے تو اسے قانونی لحاظ سے اس کا جائز بیٹا تسلیم کرنا ہر لحاظ سے شریعت کے منشا کے مطابق ہوگا۔

۳۔ بعض احکام اپنی علت کے لحاظ سے اصلاً واساساً خاص ہوتے ہیں اور ان میں دلیل کی ضرورت تخصیص کے لیے نہیں، بلکہ تعمیم کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال پیغمبر کا براہ راست مخاطب بننے والے گروہوں اور قوموں کا معاملہ ہے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایمان کے معاملے میں جبر واکراہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ انسانوں کو ایمان یا کفر کا راستہ اختیار کرنے کی آزادی دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کسی انسان کو بھی دین وایمان کے معاملے میں کسی دوسرے انسان پر جبر کا حق حاصل نہیں۔ چنانچہ قرآن میں خود انبیا کی ذمہ داری کا دائرہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ذمے بس حق بات کو واضح طریقے سے پہنچا دینا ہے اور اس سے آگے وہ کوئی اختیار نہیں رکھتے: 'فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْْہِمْ بِمُصَیْْطِرٍ'،۳۴؂البتہ قرآن نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے رسولوں کے ذریعے سے کسی قوم پر حق کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں اور اس کے باوجود وہ قوم ایمان نہیں لاتی تو اللہ تعالیٰ اس پر عذاب نازل کر کے اسے عبرت کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔ یہ کسی انسان کا نہیں، بلکہ خدا کا فیصلہ ہوتا ہے جس کا وقت متعین کرنے کا اختیار کسی انسان، حتیٰ کہ خود پیغمبر کو حاصل نہیں ہوتا۔ ۳۵؂

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جزیرۂ عرب میں مبعوث کیا گیا تو خدائی قانون کے یہ دونوں پہلو پوری طرح واضح کر دیے گئے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ 'اِنَّمَا عَلَیْْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْْنَا الْحِسَابُ' ۳۶؂،یعنی خدا کا پیغام پہنچانا تو پیغمبر کی ذمہ داری ہے، جبکہ منکرین سے حساب لینا خدا کاکام ہے، البتہ سابقہ قوموں کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے لیے عذاب کی صورت یہ تجویز کی گئی کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو انھیں کسی آسمانی آفت کا نشانہ بنانے کے بجاے خود اہل ایمان کی تلواروں کے ذریعے سے جہنم رسید کیا جائے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اہل کفر کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی یہ جنگ دراصل خدا کا عذاب تھا۔ چنانچہ فرمایا: 'وَلَوْ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانْتَصَرَ مِنْہُمْ وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ' ۳۷؂،یعنی اللہ چاہتا تو اپنے دین کا انکار کرنے پر ان کفار سے خود انتقام لے لیتا، لیکن اس نے اپنی خاص حکمت کے تحت اہل ایمان کو جانچنے کے لیے انھیں اہل کفر کے مقابلے میں معرکہ آرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی بات 'قَاتِلُوْہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللّٰہُ بِاَیْْدِیْکُمْ' ۳۸؂کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے، یعنی تم ان کے خلاف قتال کرو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں سے انھیں عذاب دینا چاہتے ہیں۔ اس جنگ کے آخری مرحلے میں مشرکین عرب کے لیے قتل کی سزا تجویز کی گئی،۳۹؂جبکہ اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا کہ انھیں محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دیا جائے۴۰؂جو اس دورمیں محکومی اور تحقیر وتذلیل کی ایک علامت تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی اہل کفر کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے جو ایمان لانے کے بعد دوبارہ اسلام کی طرف پلٹ جائے، اسے قتل کر دیا جائے۔۴۱؂فقہاے صحابہ نے اسی پہلو سے ان کی جان کی حرمت کو مسلمانوں کے برابر تسلیم نہیں کیا اور یہ راے قائم کی کہ مسلمان کو کافر کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا ۴۲؂اور یہ کہ کافر کی دیت بھی مسلمان کی دیت کے مساوی نہیں ہوگی۔ ۴۳؂

دین کے معاملے میں جبر واکراہ کو جائز تسلیم نہ کرنے اور منکرین حق کو دنیا میں سزا دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص قرار دینے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل کفر کو قتل کرنے یا جزیہ عائد کر کے توہین وتحقیر کی سزا دینے کے اس معاملے کو انھی کفار سے متعلق مانا جائے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول کی طرف سے اجازت موجود ہے۔ اس تناظر میں جو قرآن سے باہر کسی تاریخی سیاق سے نہیں، بلکہ خود قرآن کے نصوص سے معلوم ہوتا ہے، ان احکام کے نفاذ اور اطلاق کے معاملے میں تحقیق طلب چیز یہ نہیں تھی کہ ان میں تخصیص یا استثنا کس دلیل کی بنیاد پر کی جائے، بلکہ یہ تھی کہ علت کی رو سے یہ تعمیم کے کس حد تک متحمل ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر نے اہل کتاب کے علاوہ مجوس پر جزیہ عائد کرنے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جب تک ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں آ گیا۔ ۴۴؂سیدنا عمر نے ہی اپنے دورمیں مرتد ہونے والے بعض افراد کو قتل کرنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے لیے قید کی متبادل سزا تجویز کی۔۴۵؂فقہاے احناف نے اسی بنیاد پر یہ راے قائم کی کہ مشرکین کو قتل کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست مخاطب بننے والے مشرکین عرب کے ساتھ خاص ہے اور اس کا اطلاق دنیا کے دوسرے مشرک گروہوں پر نہیں کیا جا سکتا۔ احناف نے ہی جب انسانی جان کی حرمت کے حوالے سے قرآن مجید کے عمومی بیانات کو سامنے رکھا تو انھیں قصاص ودیت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین امتیاز کا قانون ان نصوص کے منافی محسوس ہوا اور انھوں نے نہ صرف معاہد غیر مسلموں کی دیت کو مسلمانوں کے برابر قرار دیا، بلکہ یہ راے بھی قائم کی کہ ایسے کسی غیر مسلم کو قتل کرنے والے مسلمان سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جس طرح کسی مسلمان کے قاتل سے لیا جاتا ہے۔ برصغیر میں ایک ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط مسلم سلطنت کے مختلف ادوار میں، چند استثنائی واقعات کے علاوہ، عمومی طور پر غیر مسلموں پر جزیہ عائد نہیں کیا گیا، جبکہ خلافت عثمانیہ نے اپنے آخری دور میں غیر مسلموں سے جزیہ لینے کے دستور کو باقاعدہ قانونی سطح پر ختم کر دیا۔ چنانچہ جدید مسلم ریاستوں میں اگر غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرنے، مرتد کو مستوجب قتل قرار دینے یا قصاص ودیت کے معاملات میں مسلم اور غیر مسلم میں فرق روا رکھنے کا طریقہ عمومی طور پر اختیار نہیں کیا گیا تو حکم کی علت کی رو سے بالکل درست کیا گیا ہے۔۴۶؂

۴۔ نصوص کے فہم کا ایک بے حد اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس دائرۂ اطلاق کو متعین کیا جائے جس میں نص قطعی طور پر موثر ہے اور جس سے باہر ایک مجتہد اپنی مجتہدانہ بصیرت کو بروے کار لانے کے لیے پوری طرح آزاد ہے۔ اس فہم میں ظاہر ہے کہ اختلاف بھی واقع ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید کی رو سے ایک مسلمان خاتون کو کسی غیرمسلم مرد سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ حکم کوئی نیا رشتۂ نکاح قائم کرنے کی حد تک تو بالکل واضح ہے، لیکن میاں بیوی اگر پہلے سے غیرمسلم ہوں اور بیوی اسلام قبول کر لے تو کیا ان کے مابین تفریق بھی لازم ہوگی؟ حکم کا اس صورت کو شامل ہونا قطعی نہیں۔ عقلی اعتبار سے حالت اسلام میں کسی غیر مسلم شوہر کا ارادی انتخاب کرنے اور پہلے سے چلے آنے والے رشتۂ نکاح کو نبھانے میں ایک نوعیت کا فرق پایا جاتا ہے اور سیدنا عمر کی راے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اس صورت میں تفریق کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ بعض مقدمات میں انھوں نے میاں بیوی کے مابین تفریق کر دی ،جبکہ بعض مقدمات میں بیوی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو خاوند سے الگ ہو جائے اور چاہے تو اسی کے نکاح میں رہے۔۴۷؂یقیناًاس فیصلے میں انھوں نے بیوی کو درپیش عملی مسائل ومشکلات کا لحاظ رکھا ہوگا اور آج کے دور میں بالخصوص غیرمسلم ممالک میں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات میں سیدنا عمر کا یہ اجتہاد رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسی ضمن کی ایک بحث یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مختلف حیثیتوں میں جو فیصلے کیے، ان کے مابین فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔ جن معاملات سے متعلق قرآن میں کوئی متعین حکم نہیں دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنت کی حیثیت سے کسی عمل یا طریقے کو جاری نہیں فرمایا ، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے یا نافذ کردہ فیصلے کو مختلف امکانی طریقوں میں سے ایک طریقہ سمجھنے اور ان کے علاوہ دیگر مختلف امکانات کا راستہ کھلا رکھنے کی علم وعقل کے اعتبار سے پوری گنجایش موجود ہوتی ہے۔ سیدنا عمر نے اسی پہلو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصول کردہ جزیے کی مقدار سے مختلف مقداریں نافذ کیں،۴۸؂ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقوں کو ایک کے بجاے تین شمار کرنے کا فیصلہ کیا ۴۹؂اور ایسی لونڈی کو بیچنے پر پابندی عائد کر دی جو اپنے مالک کے بچے کی ماں بن چکی ہو۔ ۵۰؂اسی طرح انھوں نے عراق کی مفتوحہ اراضی کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجاے انھیں بیت المال کی ملکیت قرار دے کر ان کے مالکوں پر خراج عائد کرنے کا طریقہ اختیار کیا جو خیبر وغیرہ کی اراضی کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے سے مختلف تھا۔ ۵۱؂قرآن مجید نے دیت کی کوئی خاص مقدار بیان نہیں کی، بلکہ 'فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ' ۵۲؂کہہ کر اس معاملے کو معروف، یعنی رواج کے سپرد کر دیا ہے اور بعض اہل علم یہ راے رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے اونٹوں کی صورت میں دیت کی جو مقدار ثابت ہے، وہ دراصل اہل عرب ہی کے پہلے سے چلے آنے والے رواج پر مبنی تھی جسے قرآن کی ہدایت کے مطابق اس دور کے عرف کی حیثیت سے قبول کر لیا گیا تھا اور دنیا کے دوسرے معاشرے بھی اسی اصول کے مطابق اپنے اپنے عرف کے لحاظ سے دیت کی صورت اور مقدار کا تعین کر سکتے ہیں۔

_______

۲۸؂البقرہ ۲: ۲۲۸۔

۲۹؂الاحزاب ۳۳: ۴۹۔

۳۰؂الطلاق ۶۵: ۴۔

۳۱؂النساء ۴: ۱۱۔ ''تم نہیں جان سکتے کہ تمھارے لیے سب سے زیادہ نافع کون ہوگا۔''

۳۲؂البقرہ ۲: ۲۴۰۔

۳۳؂النور ۲۴: ۴۔۹۔

۳۴؂الغاشیہ ۸۸: ۲۱۔ ۲۲۔ ''تم یاددہانی کردو، تم بس ایک یاددہانی کر دینے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں مقرر ہو۔''

۳۵؂یونس ۱۰: ۴۸۔۴۹۔ الجن۷۲: ۲۵۔۲۶۔

۳۶؂الرعد ۱۳: ۴۰۔

۳۷؂محمد ۴۷: ۴۔

۳۸؂التوبہ ۹: ۱۴۔

۳۹؂التوبہ ۹: ۵۔

۴۰؂التوبہ ۹: ۲۸۔

۴۱؂بخاری، رقم ۲۷۹۴۔

۴۲؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۴۷۵، ۲۷۴۷۷۔

۴۳؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۷۴۵۴۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۴۸۴۔

۴۴؂مسند احمد، رقم ۱۵۹۳۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۷۴۸، ۱۹۲۵۳۔

۴۵؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۶۶۵۔

۴۶؂اس نقطۂ نظر کی مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب میں''قصاص اور دیت میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز'' اور ''ارتداد کی سزا'' کے مباحث ملاحظہ کیجیے۔

۴۷؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۸۱، ۱۰۰۸۳۔

۴۸؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۸۴۶۲۔

۴۹؂مسلم، رقم ۲۶۸۹۔

۵۰؂ابو داؤد، رقم ۳۴۴۴۔

۵۱؂بخاری، رقم ۳۹۰۹۔

۵۲؂البقرہ ۲: ۱۷۸۔

____________




Articles by this author