شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد (حصہ سوم)

شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد (حصہ سوم)


شرعی احکام کے عملی نفاذ میں مصالح کی رعایت

نصوص کا مدعا ومنشا اور ان کا محل طے کرنے کے حوالے سے ان گزارشات کے بعد اب میں اس بحث کی طرف آتا ہوں کہ احکام شرعیہ کے مقاصد ومصالح کا فہم وادراک حاصل کرنے اور اس فہم کو اجتہادی اطلاقات میں برتنے کی اہمیت کیا ہے۔ منصوص شرعی احکام کو ابدی قرار دینے سے اس بات کی نفی لازم نہیں آتی کہ ان کے پس منظر میں مخصوص مقاصد اور مصالح کارفرما ہوں اور انسان کو ان سے رہنمائی لینے کی ضرورت پیش آئے، ان دونوں باتوں کا اپنا اپنا محل ہے اور اپنے اپنے محل میں یہ بالکل درست ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے تو یہ بات کہنا بالکل درست ہے کہ وہ شریعت کے احکام اپنے پیش نظر مخصوص مقاصد ہی کے تحت دیتے ہیں، لیکن جہاں تک انسان سے مطلوب اتباع اور اطاعت کا تعلق ہے تو اس دائرے میں درست ترتیب یہ نہیں کہ مقاصد کی روشنی میں منصوص احکام و قوانین کا تعین بھی ازسر نو کیا جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ ان احکام و قوانین کو فی نفسہٖمعیار مانتے ہوئے ان سے مقاصد و مصالح سمجھے جائیں گے اور نہ صرف ان احکام کے عملی اطلاق میں ان کی رعایت بے حد ضروری ہوگی، بلکہ یہ حیات انسانی کے وسیع اور متنوع اطراف وجوانب میں شارع کے منشا تک رسائی میں بھی انسانی فہم کی رہنمائی کریں گے۔

یہ ایک بے حد اہم نکتہ ہے اور اسی کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے وہ بہت سی پیچیدگیاں اور الجھنیں پیدا ہوتی ہیں جن کا کوئی حل بعض اہل فکر کو اس کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا کہ وہ شرعی احکام کو ان کی ذات ہی میں غیر ابدی قرار دے دیں۔ قرآن مجید کے ہر طالب علم پر یہ بات واضح ہے کہ وہ بالعموم کسی بھی معاملے کی جزوی اور اطلاقی تفصیلات سے تعرض کرنے کے بجاے محض اصولی نوعیت کا ایک حکم دینے پر اکتفا کرتا ہے، جبکہ اس حکم کے اطلاق اور نفاذ یا دوسرے لفظوں میں اس کی بنیاد پر عملی قانون سازی کے لیے دیگر عقلی واخلاقی اصولوں اور عملی مصالح کی روشنی میں بہت سی قیود و شرائط کا اضافہ اور مختلف صورتوں میں حکم کے اطلاق ونفاذ کی نوعیت میں فرق کرنا پڑتا ہے۔ فقہ واجتہاد کی ضرورت دراصل اسی زاویے سے پیش آتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے یہاں چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔ قرآن مجید نے حکم کے اطلاق کا یہ اصول خود واضح کیا ہے کہ ایک حکم کی تخصیص دین ہی کے کسی دوسرے حکم یا شرعی و اخلاقی اصول کی روشنی میں کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ جو مسلمان غیر مسلموں کے علاقے میں ان کے ظلم وجبر کا شکار ہوں، ان کی مدد کو مسلمانوں کا فرض قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کسی قوم کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ ہو تو پھر اس قوم کے خلاف مظلوم مسلمانوں کی مدد نہیں کی جا سکتی۔ ۵۳؂اسی طرح جب مشرکین عرب کو ایمان نہ لانے کی صورت میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو یہ واضح کیا گیا کہ جن مشرک قبائل کے ساتھ مخصوص مدت تک صلح کے معاہدے کیے گئے ہیں، ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔۵۴؂

اس اصول کی روشنی میں دیکھیے تو شریعت میں مختلف معاشرتی جرائم پر جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، ان کے نفاذ میں ان تمام شروط وقیود اور مصالح کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے جو جرم وسزا کے باب میں عقل عام پر مبنی اخلاقیات قانون اور خود شریعت کی ہدایات سے ثابت ہیں۔ مثال کے طور پر سزا نافذ کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا مجرم کو سزا دینے سے کسی بے گناہ کو تو کوئی ضرر لاحق نہیں ہوگا اور یہ کہ مجرم اپنی جسمانی حالت کے لحاظ سے سزا کا تحمل بھی کر سکتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدکاری کی مرتکب ایک حاملہ عورت کو اس وقت تک رجم نہیں کیا، جب تک وہ بچے کی ولادت سے فارغ نہیں ہو گئی۔۵۵؂اسی طرح جب سیدنا علی نے ایک لونڈی پر زنا کی سزا نافذ کرنے سے اس لیے گریز کیا کہ وہ بچے کی ولادت کے بعد ابھی حالت نفاس میں تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تحسین کی۔۵۶؂آپ نے ایک بوڑھے کو جو کوڑوں کی سزا کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، حقیقی طور پر سو کوڑے لگوانے کے بجاے یہ حکم دیا کہ کھجور کے درخت کی ایک ٹہنی لے کر جس میں سو پتلی شاخیں ہوں، ایک ہی دفعہ اس کے جسم پر مار دی جائے۔۵۷؂کسی مخصوص صورت حال میں سزا کے نفاذ سے کوئی مفسدہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو بھی شار ع کا منشا یہی ہوگا کہ سزا نافذ نہ کی جائے۔ چنانچہ جنگ کے لیے نکلنے والے لشکر میں سے کوئی شخص اگر چوری کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا۔ ۵۸؂

اسی طرح سزا کے نفاذ میں مجرم کے حالات اور اس کے معاشرتی پس منظر کا لحاظ رکھنا اور اگر وہ کسی پہلو سے رعایت کا مستحق ہو تو اسے رعایت دینا خود شارع کا منشا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے خاندان کی حفاظت اور مناسب اخلاقی تربیت سے محروم لونڈیوں کو زنا کے ارتکاب پر آزاد عورتوں سے نصف سزا دینے کی ہدایت کی ہے۔۵۹؂صحابہ اور تابعین کے فیصلوں میں زنا کی حرمت یا کسی مخصوص خاتون کے حرام ہونے سے ناواقف افراد پر 'حد' کے بجاے تعزیر نافذ کرنے کی بنیاد یہی اصول ہے۔۶۰؂سیدنا عمر نے اسی اصول کے تحت مجبوری اور احتیاج کی وجہ سے بدکاری یا چوری کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا سے مستثنیٰ قرار دینے یا اس میں تخفیف کرنے کا طریقہ اختیار کیا، ۶۱؂جبکہ قحط سالی کے زمانے میں عمومی طور پر قطع ید کی سزا پر عمل درآمد کو روک دیا۔۶۲؂

۲۔ شریعت نے میاں بیوی کے مابین نباہ نہ ہونے کی صورت میں رشتۂ نکاح کو توڑنے کی اجازت دی ہے۔ شریعت کی نظر میں اس رشتے کی جو اہمیت ہے، وہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کو ختم کرنے کا معاملہ پورے غور وخوض کے بعد اور تمام ممکنہ پہلووں اور نتائج کو سامنے رکھ کر ہی انجام دیا جائے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نادانی، جذباتی کیفیت، مجبوری یا کسی بد نیتی کی بنیاد پر طلاق دے دے تو رشتۂ نکاح کے تقدس کے پیش نظر یہ مناسب، بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہوگا کہ اسے غیر موثر قرار دیا جائے یا اس پر عدالتی نظر ثانی کی گنجایش باقی رکھی جائے۔ فقہا کے ایک گروہ کے ہاں یہ تصور کہ نکاح یا طلاق کے نافذ ہونے کے لیے کوئی شعوری اور سوچا سمجھا فیصلہ ضروری نہیں، بلکہ کسی بھی کیفیت یا حالت میں اگر طلاق کے الفاظ منہ سے نکل جائیں تو کسی دوسری معاشرتی یا قانونی مصلحت کا لحاظ کیے بغیر وہ لازماً موثر ہو جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم او ربعض صحابہ کی طرف منسوب ایک قول، یعنی 'ثلاث جدہن جد وہزلہن جد' ۶۳؂کے صحیح محل کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نکاح، طلاق اور طلاق سے رجوع کرنے کا معاملہ سنجیدگی سے کیا جائے یا مذاق میں، وہ بہرحال نافذ ہو جائے گا۔ بعض روایات میں غلام کو آزاد کرنے کو بھی اسی ضمن میں شمار کیا گیا ہے۔ ۶۴؂حنفی فقہا نے اس کو ایک عام اصول کی حیثیت دے دی ہے اور ان کے ہاں اس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی شخص اگر جبر واکراہ کے تحت طلاق دے دے تو وہ اسے بھی موثر قرار دیتے ہیں، حالانکہ عقل وقیاس کے اعتبار سے اس کا صحیح محل یا تو یہ ہو سکتا ہے کہ اسے ایسے لوگوں سے متعلق مانا جائے جو پورے شعور اور ارادے کے ساتھ نکاح یا طلاق کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن بعد میں بدنیتی سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ انھوں نے ایسا محض مذاق میں کیا تھااوریایہ کہ اسے سد ذریعہ کی نوعیت کا ایک حکم سمجھا جائے جس کا مقصد لوگوں کو متنبہ اور خبردار کرنا ہے کہ وہ ان معاملات کے بارے میں ذہنی طور پر حساس رہیں اور انھیں معمولی اور غیر اہم سمجھتے ہوئے بے احتیاطی کا رویہ اختیار نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو انھیں اس کے نتائج سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس حد تک یہ بات پوری طرح قابل فہم ہے، لیکن اس کو وسعت دیتے ہوئے یہ اصول قائم کر لینا کسی طرح درست نہیں کہ طلاق کے معاملے میں سوچ سمجھ کر اور پورے شعور کے ساتھ فیصلہ کرنا سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا اور شوہر جس کیفیت اور حالت میں بھی طلاق کے الفاظ منہ سے نکال دے، وہ نافذ ہو جائے گی اور اس کی کسی مجبوری یا عذر کو کوئی وزن نہیں دیا جائے گا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف شوہر سے جبراً لی گئی طلاق کو کوئی حیثیت نہیں دی،۶۵؂بلکہ 'اغلاق'، یعنی دباؤ کی حالت میں دی گئی طلاق کو بھی غیر نافذ قرار دیا۔ ۶۶؂شارحین نے 'اغلاق' کا مصداق جبر واکراہ کو بھی قرار دیا ہے اور شدید غصے کی کیفیت کو بھی، اور میری راے میں دونوں باتیں درست ہیں، اس لیے کہ نہ جبر واکراہ کی صورت میں خاوند کا حقیقی ارادہ اور عزم کارفرما ہوتا ہے اور نہ شدید غصے کی کیفیت میں۔ اسی طرح آپ نے غلام کو آزاد کرنے کے فیصلے کو سنجیدگی اور مذاق میں یکساں موثر قرار دینے کے باوجود بعض مقدمات میں مالک کے، پورے شعور اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے غلاموں کو آزاد کرنے کے فیصلے کو شرعی مصلحت کے منافی سمجھتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا۔۶۷؂

پھر یہ کہ کسی بھی صورت حال میں دی گئی طلاق کو خاوند کے دائرۂ اختیار کی حد تک موثر مان لیا جائے تو بھی اس سے عدالت کے نظر ثانی کے حق کی نفی لازم نہیں آتی۔ قاضی کو 'ولایت عامہ' کے تحت جس طرح تمام دوسرے معاملات میں فریقین کے مابین طے پانے والے کسی معاہدے یا کسی صاحب حق کے اپنے حق کو استعمال کرنے پر نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے، اسی طرح طلاق کے معاملے میں بھی حاصل ہونا چاہیے اور اگر وہ قانون وانصاف اور مصلحت کے زاویے سے کسی طلاق کو کالعدم قرار دینا چاہے تو نصوص یا عقل وقیاس میں کوئی چیز اس کے خلاف نہیں پائی جاتی۔ ایک مقدمے میں خاوند نے بیوی کے مطالبے پر اسے کہا کہ طلاق کے معاملے میں جو اختیار مجھے حاصل ہے، وہ میں تمھیں تفویض کرتا ہوں۔ بیوی نے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، لیکن سیدنا عمر اور عبد اللہ بن مسعود نے یہ سارا معاملہ واقع ہو جانے کے بعد یہ قرار دیا کہ خاوند کا تفویض کردہ حق صرف ایک طلاق کی حد تک موثر ہے۔ ۶۸؂

ان مثالوں سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حق طلاق کے غلط اور غیر حکیمانہ استعمال کی روک تھام اور قانون کے اطلاق کو موثر اور منصفانہ بنانے کے لیے اس نوع کی قانونی تحدیدات عائد کرنے کی نہ صرف پوری گنجایش موجود ہے، بلکہ یہ قانون کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ معاصر تناظر میں دیکھا جائے تو کئی پہلووں سے اس نوعیت کی قانون سازی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ شوہر کسی وقتی جذباتی کیفیت میں طلاق دے بیٹھے یا شعوری طور پر طلاق دینے کا فیصلہ کر لے، عمومی طور پر اس کے مضر نتائج واثرات عورت اور بچوں ہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ چنانچہ عورت اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ خاوند کے حق طلاق کے نافذ اور موثر ہونے کو بعض قانونی پابندیوں کے ساتھ مقید کیا جائے۔ اسی طرح بعض صورتوں میں عورت بالکل جائز بنیادوں پر طلاق لینے کی خواہش مند ہوتی ہے، لیکن خاوند اس کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جبکہ عورت کسی جائز وجہ سے خاوند سے علیحدگی چاہتی ہو تو یہ اس کا حق ہے اور خاوند شرعاً اس کے اس مطالبے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے جب ایک ایسا مقدمہ سامنے آیا جس میں بیوی نے شوہر کی رضامندی سے طلاق لینے میں ناکامی کے بعد اس کی جان کو خطرے میں ڈال کر اس سے طلاق لے لی تھی تو سیدنا عمر نے، جو اصولی طور پر جبری طلاق کے غیر موثر ہونے کے قائل ہیں،۶۹؂عورت سے اس کا موقف سننے کے بعد اکراہ کے تحت لی گئی اس طلاق کو بھی نافذ قرار دے دیا۔ ۷۰؂معاصر تناظر میں اس الجھن کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ نکاح کے وقت طلاق کے حق کو مناسب شرائط کے ساتھ کسی ثالث یا خود عورت کو تفویض کر دینے کو قانونی طو رپر لازم کر دیا جائے یا یہ قرار دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے تو ایک مخصوص مدت کے اندر شوہر بیوی کو مطمئن کرنے یا اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، ورنہ طلاق ازخود واقع ہو جائے گی۔

۳۔ خواتین کے حقوق کے تناظر میں شوہر کا تعدد ازواج کا حق بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ قرآن نے ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ایک مخصوص سماجی ضرورت کے تحت دی تھی، جبکہ عمومی طور پر وہ اس کو ممنوع قرار دینا چاہتا ہے۔ یہ بات اس صورت میں درست ہو سکتی تھی اگر اصولاً تعدد ازواج کی ممانعت قرآن میں بیان ہوئی ہوتی یا عرب معاشرت میں اس کا تصور موجود ہوتا اور قرآن نے اس ممانعت میں استثنا پیدا کرتے ہوئے اس کی اجازت دی ہوتی۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ تعدد ازواج کا طریقہ نزول قرآن سے پہلے عرب معاشرت میں رائج تھا اور بالکل جائز سمجھا جاتا تھا اور قرآن نے اس کو ممنوع قرار نہیں دیا، بلکہ ایک خاص صورت حال میں اس سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے، البتہ اس نے اس پر دو قدغنیں عائد کر دی ہیں: ایک یہ کہ بیویوں کی تعداد چار سے زیادہ نہیں ہو سکتی اور دوسری یہ کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی صورت میں خاوند کو عدل و انصاف کا دامن ہر حال میں تھامے رکھنا ہوگا اور تمام بیویوں کے جملہ حقوق کی ادائیگی بالکل برابری کے ساتھ کرنا ہوگی، تاہم اس کے ساتھ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ اسلام میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا 'حکم' نہیں، بلکہ محض اجازت دی گئی ہے۔ اس پر قرآن کی بیان کردہ شرائط تو عائد ہوتی ہی ہیں، اس کے ساتھ اگر پہلی بیوی نے شادی کے لیے یہ شرط لگا دی ہو کہ خاوند اس کے بعد دوسری شادی نہیں کرے گا تو خاوند اس طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی بھی نہیں کر سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شرطیں پورا کیے جانے کا سب سے زیادہ حق رکھتی ہیں، وہ ایسی شرطیں ہیں جو شوہروں نے نکاح کرتے وقت بیویوں کے لیے تسلیم کی ہوں۔۷۱؂چنانچہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے مرد اگر عدل و انصاف کی اس بنیادی شرط کوپورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ایسی صورت حال میں بیویوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دوسری شادی کے حق کو بعض قانونی حدود وقیود کا پابند بنانا یا پہلی بیوی کی رضامندی اور عدالت کی اجازت اور توثیق سے مشروط کر دینا شریعت کے منافی نہیں، بلکہ اس کے پیش نظر مقاصد اور مصالح کے عین مطابق ہوگا۔ سیدنا عمر نے اسی نوعیت کا اجتہاد کرتے ہوئے قحط سالی کے زمانے میں اہل بادیہ کے لیے نکاح کرنے کو ممنوع ٹھہرایا تھا ۷۲؂جس کی وجہ ظاہراً یہ تھی کہ اس حالت میں شوہر کے لیے بیوی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اٹھانا بہت مشکل تھا۔ اسی طرح انھوں نے حضرت حذیفہ اور طلحہ بن عبید اللہ کو مجبور کیا تھا کہ وہ اپنی غیر مسلم بیویوں کو طلاق دے دیں۔۷۳؂اس کی وجہ انھوں نے بعض روایات کے مطابق یہ بیان کی کہ اگرچہ قرآن نے اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کی اجازت دی ہے، لیکن مسلمانوں کے ممتاز اور سربرآوردہ افراد کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں، کیونکہ یہ اجازت صرف اہل کتاب کی خواتین تک محدود ہے، جبکہ عام لوگ جو شرعی احکام سے واقف نہیں، انھیں دیکھ کر یہ سمجھیں گے کہ مجوس کی خواتین سے بھی نکاح کرنا درست ہے۔۷۴؂بعض دوسری روایات کے مطابق انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس طرح لوگ اہل کتاب کی پاک دامن خواتین کے علاوہ ان کی بدکار عورتوں سے بھی نکاح کرنے لگیں گے۔۷۵؂

۴۔ مرنے والے کے مال میں یتیم پوتے کے حق کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ اگر کسی شخص کا پوتا یتیم اور ضرورت مند ہے تو اخلاقی طور پر دادا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مال میں اس کے لیے وصیت کر دے۔ اگر اس نے وصیت نہیں کی تو قرآن نے خود ورثا کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ تقسیم وراثت کے موقع پر دیگر اقربا اور یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھیں اور انھیں اس مال میں شریک کریں،۷۶؂تاہم ہمارے معاشرے میں اس دوسری صورت کا امکان کم ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ دادا پر یتیم پوتے کے حق میں وصیت کرنے کی جو اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیا اسے قانونی طور پر لازم قرار دیا جا سکتا ہے یا عدالت دادا کے مرنے کے بعد اپنا صواب دیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے پوتے کو ترکے میں سے کچھ حصہ دے سکتی ہے؟ میری طالب علمانہ راے میں یہ نہ صرف مصلحت کے عمومی اصول کے تحت درست ہے، بلکہ قرآن مجید میں اس کی منصوص نظیر بھی موجود ہے۔ چنانچہ جب وراثت تقسیم کرنے کا اختیار ابھی معروف کے مطابق مورث کی صواب دید پر منحصر تھا تو قرآن نے اجازت دی تھی کہ اگر وہ اپنی وصیت میں جانب داری یا حق تلفی کا مرتکب ہو تو اس کے مرنے کے بعد انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وصیت میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔۷۷؂یہ حکم ظاہر ہے کہ اس دائرے میں اب بھی موثر ہے جس میں مرنے والے کو وصیت کا اختیار دیا گیا ہے۔ دوسری جگہ قرآن نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر مرنے والا اپنے قریبی رشتہ داروں کی غیر موجودگی میں کسی دور کے رشتے دار کو وارث قرار دے تو سارا مال تنہا اسی کو دینے کے بجاے اس کے بہن بھائیوں کو بھی چھٹے یا ایک تہائی حصے میں شریک کیا جائے۔ ۷۸؂ان دو آیتوں کی روشنی میں یہ کہنا غالباً غلط نہیں ہوگا کہ اگر دادا یتیم پوتے کی احتیاج و ضرورت پیش نظر ہوتے ہوئے بھی اس کے لیے وصیت نہیں کرتا تو وہ اس کی حق تلفی کا مرتکب ہوتا ہے جس کی تلافی کے لیے عدالت کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ مرنے والے کے حق وصیت کو خود استعمال کرتے ہوئے یتیم پوتے کو بھی ترکے میں سے مناسب حصے کا حق دار قرار دے۔

۵۔ ملکیت زمین کی تحدید کا مسئلہ بھی میری راے میں یہی نوعیت رکھتا ہے۔ جاگیرداری نظام کے مفاسد اور سیاسی وسماجی ترقی کی راہ میں اس کا ایک بڑی رکاوٹ ہونا کسی استدلال کا محتاج نہیں، تاہم اس کے خاتمے کے جواز و عدم جواز کی بحث میں بالعموم خلط مبحث غالب رہا ہے اور بحث و استدلال کا سارا زور ملکیت زمین اور مزارعت کے فی نفسہٖجائز یا ناجائز ہونے یا برصغیر کی زمینوں کے عشری یا خراجی ہونے پر صرف ہوتا رہا ہے جو مسئلے کی حقیقی نوعیت کے تناظر میں سراسرغیر ضروری ہے۔ ملکیت زمین اور مزارعت کا فی نفسہٖجائز ہونا ایک الگ بحث ہے، جبکہ اس نے جاگیرداری اور غیر حاضر زمین داری کی صورت میں طاقت اور دولت کے ارتکاز، ظلم وجبر اور استحصال کے جس منظم نظام کی شکل اختیار کر لی ہے، وہ ایک بالکل دوسری چیز ہے۔ کوئی ایسا کام جو فی نفسہٖ مباح ہو اگر دیگر عوامل کے تحت کسی مفسدے اور ضرر کا باعث بن جائے تو مفاد عامہ کی خاطر اسے ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ غیر محدود ملکیت زمین کے مفاسد سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کے اصول پر ملکیت زمین کی قانونی تحدید اور پھر مقررہ حد سے زائد زمینوں کے مالکوں سے ان کی اراضی کو جبراً خرید لینا یا زمینوں کے مالکوں کو قانونی طور پر ان زمینوں کو کاشت کرنے کا پابند بنانا یا ان کی ملکیت کے حقوق کو برقرار رکھتے ہوئے ان زمینوں کے انتظام وانصرام کو سرکاری کنٹرول میں لے لینا بالکل درست ہوگا۔ ان میں سے کوئی بات بھی اصلاً شریعت اور فقہی اصولوں کے منافی نہیں اور پیش نظر مقصد کے لحاظ سے ان میں سے جو طریقہ بھی نتیجہ خیز ہو، اسے اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اختصار کے پہلو سے یہاں صرف چند مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کی گئی ہے، ورنہ قانون کا عملی اطلاق کرتے ہوئے دین کے کسی حکم یا اصول کے تحت کسی دوسرے حکم کی تخصیص کرنے، استثنائی صورتوں پر عمومی حکم کا اطلاق نہ کرنے، مقاصد ومصالح اور عملی حالات کی رعایت سے کسی مباح کو واجب یا سد ذریعہ کے طور پر ممنوع قرار دینے، کسی اخلاقی ذمہ داری کو قانونی پابندی میں تبدیل کرنے، کسی اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے اس پر قدغن لگانے اور اس نوعیت کی دیگر تحدیدات وتصرفات کی مثالیں احادیث، آثار صحابہ اور ائمۂ مجتہدین کی فقہی آرا میں کثرت سے موجود ہیں۔ بدقسمتی سے مخصوص عملی صورتوں کو سامنے رکھ کر کیے جانے والے ان اطلاقی اجتہادات اور پھر ان سے تخریج در تخریج اور تفریع در تفریع کے ذریعے سے وجود میں آنے والی فقہی جزئیات نے مدون فقہی ذخیرے میں بجاے خود بے لچک شرعی احکام اور پابندیوں کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدر اول کے کسی مجتہد کی جو راے اپنے اصل محل میں اجتہادی بصیر ت کا شاہکار دکھائی دیتی ہے، آج کا مفتی جب اسے فقہ کی کتاب سے اٹھا کر کسی استفتا کے جواب میں درج کرتا ہے تو وہی راے ایک تعبدی حکم کی صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اس تناظر میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آج اگر صحابہ وتابعین اور ائمۂ مجتہدین کی آرا میں موجود جزئیات و نظائر سے ہٹ کر موجودہ معاشرتی مصالح کے تناظر میں قانون سازی اور اجتہاد کے عمومی اصولوں کا نیا اطلاق کیا جاتا ہے تو علما کے روایتی طبقے کو یہ عمل مداخلت فی الدین دکھائی دیتا ہے۔ بہرحال، روایتی طبقے کے جو بھی تحفظات ہوں، قرآن وسنت کے منشا اور مقاصد ومصالح کے تناظر میں جدید مسائل و مشکلات کا اجتہادی حل پیش کرنا زیادہ اہم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر مدون فقہی ذخیرے کا تجزیاتی مطالعہ کر کے دین کے اصل اور بنیادی احکام اور ان پر فقہی اجتہادات کے ذریعے سے کیے جانے والے اضافوں کے فرق کو واضح کیا جا سکے اور فقہا نے جن اصولوں کے تحت فقہی جزئیات و نظائر فراہم کیے ہیں، معاصر تناظر میں انھی اصولوں کا ازسرنو اطلاق کرتے ہوئے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا جا سکے تو روایتی طبقے کے تحفظات اور حساسیت کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

گفتگو کے آخر میں، میں ساری بحث کا حاصل پیش کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ فقہ واجتہاد کے میدان میں شرعی احکام کے پس منظر میں کار فرما مقاصد اور مصالح کا کردار بے حد اہم اور بنیادی ہے، تاہم ان کی عمل داری کا دائرہ منصوص احکام کی ابدیت یا وقتیت کو طے کرنا نہیں، کیونکہ یہ احکام بذات خود ان مقاصد کی تعیین کے لیے معیار کی حیثیت رکھتے اور ان کی حفاظت اور نگہبانی کے ضامن ہیں اور ان کو چھوڑ کر مقاصد اور ذرائع میں فرق کرنے کا کوئی قطعی معیار ہمارے پاس باقی نہیں رہتا۔ شریعت کے احکام میں مرعی اور ان سے ماخوذ ان مقاصد او رمصالح کا اصل کردار مسائل واحکام کی بے شمار عملی صورتوں میں شارع کا منشا متعین کرنے میں انسانی عقل کو مدد فراہم کرنا اور قانون کو بے روح اور جامد بننے سے محفوظ رکھتے ہوئے زندگی کے گوناگوں مظاہر اور احوال کے ساتھ اس کا زندہ تعلق قائم رکھنا ہے۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ۔

_____________

۵۳؂الانفال ۸: ۷۲۔

۵۴؂التوبہ ۹: ۴۔

۵۵؂مسلم، رقم ۳۲۰۷۔

۵۶؂مسلم، رقم ۳۲۱۷۔

۵۷؂ابو داؤد، رقم ۳۸۷۸۔ ابن ماجہ، رقم ۲۵۷۴۔

۵۸؂ترمذی، رقم ۱۳۷۰۔

۵۹؂النساء ۴: ۲۵۔

۶۰؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۷۱۴، ۱۳۵۲۶، ۱۳۵۲۸، ۱۳۵۳۳، ۱۳۵۳۶، ۱۳۴۹۱۔

۶۱؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۸۲۷۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۳۶۴۹۔ ۱۳۶۵۰۔ موطا امام مالک، رقم ۲۳۳۰۔

۶۲؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۸۹۹۰۔ ۱۸۹۹۱۔ ابن القیم، اعلام الموقعین ۶۰۵۔

۶۳؂ترمذی، رقم ۱۱۰۴۔

۶۴؂نیل الاوطار ۷/ ۲۰۔ ۲۱۔

۶۵؂سنن سعید بن منصور، رقم ۱۱۳۰۔ ۱۱۳۱۔

۶۶؂ابن ماجہ، رقم ۲۰۳۶۔

۶۷؂مسلم، رقم ۳۱۵۴۔

۶۸؂طبرانی، المعجم الکبیر، رقم ۹۶۴۹۔ ۹۶۵۰۔

۶۹؂سنن سعید بن منصور، رقم ۱۱۲۸۔

۷۰؂سنن سعید بن منصور، رقم ۱۱۲۹۔

۷۱؂بخاری، رقم ۲۵۲۰۔

۷۲؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۳۲۳۔

۷۳؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۰۵۹، ۱۲۶۷۶۔

۷۴؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۲۶۷۶۔

۷۵؂سنن سعید بن منصور، رقم ۷۱۶۔

۷۶؂النساء ۴: ۸۔

۷۷؂البقرہ ۲: ۱۸۲۔

۷۸؂النساء ۴: ۱۲۔

________________________




Articles by this author