تمہید

تمہید


اسلامی شریعت کی تعبیر وتشریح سے متعلق علمی مباحث میں 'جہاد' ایک معرکہ آرا بحث کا عنوان ہے۔ اسلام میں 'جہاد' کا تصور، اس کی غرض وغایت اور اس کا بنیادی فلسفہ کیا ہے؟ یہ سوال ان اہم اور نازک ترین سوالات میں سے ہے جن کا جواب بحیثیت مجموعی پورے دین کے حوالے سے ایک متعین زاویہ نگاہ کی تشکیل کرتا اور دین کے اصولی وفروعی اجزا کی تعبیر وتشریح پر نہایت گہرے طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسلام اور تاریخ اسلام کی تفہیم وتعبیر میں اس سوال کے مرکزی اور بنیادی اہمیت حاصل کر لینے کی وجہ بالکل واضح ہے:

واقعاتی لحاظ سے دیکھیے تو اسلام، صفحہ تاریخ پر 'جہاد' کے جلو ہی میں رونما ہوا تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے جہاد کے نتیجے میں اسلام کی سیاسی حاکمیت پہلے جزیرۂ عرب پر اور اس کے بعد شام، ایران اور مصر کے علاقوں پر قائم ہوئی اور پھر توسیع سلطنت کا یہی سلسلہ آگے بڑھتا ہوا اندلس، ایشیاے کوچک، وسطی ایشیا اور بعد ازاں جنوبی ایشیا کے علاقوں کو محیط ہوا۔ اسلام کو تاریخی سطح پر دنیا کا ایک بڑا مذہب بنانے میں اس واقعاتی تسلسل کا کردار غیر معمولی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخی تناظر میں اسلام کا مطالعہ کرنے والا ہر صاحب فکر جس سوال سے سب سے پہلے دوچار ہوتا ہے، وہ یہی سوال ہے۔

فکری اعتبار سے دیکھیے تو دنیا کا کوئی بھی قانونی نظام، چاہے وہ مذہبی ہو یا سیکولر، اپنے ظاہری ڈھانچے کی تشکیل کے لیے کچھ مابعد الطبیعیاتی تصورات اور پھر ان سے پھوٹنے والے چند اخلاقی اصولوں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ تینوں دائرے چونکہ باہم بالکل مربوط (Interconnected) ہوتے ہیں، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام کے تصور جہاد کی تعبیر وتشریح کے ساتھ خود اس کے مابعد الطبیعیاتی تصورات اور اخلاقی اصولوں کے ایک بڑے حصے کی تعبیر وتشریح کا سوال بھی وابستہ ہے۔ چنانچہ اس سوال کا کوئی بھی متعین جواب نہ صرف حیات انسانی کے حوالے سے اسلام کے عمومی مزاج اور زاویہ نگاہ کی عکاسی کرے گا، بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق اس بات سے بھی ہوگا کہ اسلام مابعد الطبیعیاتی سطح پر انسانی زندگی کے بارے میں خدا کی اسکیم کی کیا وضاحت کرتا اور انسانی اخلاقیات کے دائرے میں دنیا کے دوسرے گروہوں اور مذاہب کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی کیا نوعیت متعین کرتا ہے۔

یہ سوال اپنی اسی اہمیت کے باعث ویسے تو اسلامی تاریخ کے ہر دور میں مسلم اور غیر مسلم علمی حلقوں میں مختلف حوالوں سے زیر بحث رہا ہے، تاہم دنیا کے سیاسی حالات اور تہذیبی وقانونی تصورات میں رونما ہونے والے نہایت بنیادی تغیرات نے گزشتہ دو صدیوں میں اس بحث کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے اور اسلامی شریعت اور سیرت نبوی سے لے کر اخلاقیات، قانون بین الاقوام اور تاریخ وتہذیب تک، مختلف علمی دائروں سے وابستہ اہل علم اس کی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے مسلسل نبرد آزما ہیں۔

'جہاد' کے موضوع پر لکھے گئے قدیم وجدید اسلامی لٹریچر کا دقت نظر سے جائزہ لیجیے تو واضح ہوگا کہ اسلام کے تصور جہاد کی تعبیر کا سوال ہر دور میں شریعت کو اپنے مطالعہ وتحقیق کا موضو ع بنانے والے اہل علم کے سامنے رہا ہے اور چودہ صدیوں میں علمی روایت کے ارتقا نے اس ضمن میں قرآن وسنت کے نصوص کی تفہیم وتعبیر کے حوالے سے متنوع زاویہ ہاے نگاہ پیدا کر دیے ہیں:

الف۔ کلاسیکی فقہی ذخیرے میں 'جہاد' کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک فرع قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خدا کی طرف دعوت دینے، کفر وشرک سے اجتناب کی تلقین کرنے اور ان کے تزکیہ و اصلاح کے لیے انبیا کا جو سلسلہ جاری فرمایا، کفار کے ساتھ جہاد بھی اسی کی ایک کڑی اور دعوت الی الحق ہی کی ایک صورت ہے اور امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ دنیا کی کافر قوموں کو اسلام کی دعوت دے اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو ان کے خلاف جہاد کر کے انھیں اپنا محکوم بنا لے۔

ب۔ دور جدید میں اہل علم کی بڑی تعداد نے اس تعبیر سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کفار کے خلاف جہاد اسلام کی توسیع واشاعت کے لیے نہیں بلکہ محض اس کے دفاع اور دشمنان اسلام کے ظلم وجبر کے خاتمہ کے لیے مشروع کیا گیا تھا۔ ان کی رائے میں قرآن مجید میں جہاد کے تمام احکام خالصتاً دفاعی تناظر میں عہد رسالت اور عہد صحابہ کے ان مخالف اسلام گروہو ں کے بارے میں وارد ہوئے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں پر ظلم وتعدی کی ابتدا کے مرتکب ہوئے تھے اور ان کے بارے میں مستقل طور پر معاندانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے۔ عہد رسالت اور عہد صحابہ کے جنگی اقدامات کی تعبیر بھی وہ اسی دفاعی زاویہ نگاہ سے کرتے ہیں۔

ج۔ عصر حاضر کے ممتاز عالم اور مفکر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے جہاد سے متعلق اسلامی شریعت کے تصور اور اس کے احکام کی تعبیر وتشریح کو ایک خاص زاویے سے موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا نقطہ نظر اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ انھوں نے فقہا کے روایتی موقف کے مطابق جہاد وقتال کے اس ہدف سے تو اتفاق کیا ہے کہ اس کے ذریعے سے پوری دنیا پر اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کر دی جائے، تاہم اس کی فکری اور فلسفیانہ اساس کے ضمن میں انھوں نے فقہا سے مختلف ایک متبادل تعبیر پیش کی ہے۔ ان کے نزدیک جہاد کے حکم کی نظریاتی اساس ایک مخصوص عقیدہ اور مذہب کی حیثیت سے اسلام کی توسیع نہیں، بلکہ یہ ہے کہ قانون اور نظام کے دائرے میں اسلام کی حاکمیت اور بالادستی پوری دنیا پر قائم کر دی جائے۔ ان کی رائے میں اسلام شخصی اعتقاد اور رسمی عبادت کے دائرے میں تو کفر وشرک کو گوارا کرتا ہے، لیکن کسی ایسے نظام حکومت کا وجود اسے قبول نہیں جس میں خدائی قانون کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی عمل داری قائم ہو، چنانچہ جہاد کا مقصد یہ ہے کہ تمام فاسد نظاموں کا خا تمہ کر کے اسلام کے بتائے ہوئیصالح نظام زندگی کی عمل داری پوری دنیا میں قائم کر دی جائے۔

د۔ عصر حاضر ہی کے ایک دوسرے ممتاز عالم اور محقق جناب جاوید احمد غامدی نے مذکورہ آرا کے بنیادی زاویہ نگاہ (Approach) سے اختلاف کرتے ہوئے متذکرہ علمی الجھنوں کو ایک نئے انداز میں حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ شرعی نصوص میں وارد جہاد و قتال کے احکام دو مختلف نوعیتوں میں تقسیم ہیں: ایک وہ جن میں کسی گروہ کے فتنہ وفساد اور ظلم و تعدی کے خاتمہ کے لیے جہاد کی مشروعیت بیان کی گئی ہے اور دوسرے وہ جن میں اتمام حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سے فتنہ وفساد کے خاتمے کے لیے دیے جانے والے احکام کا تعلق تو دین وشریعت کے عمومی اور ابدی دائرے سے ہے جبکہ اسلام قبول نہ کرنے والے کفار کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت پر مبنی اور انھی گروہوں تک محدود ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف صریحاً اس کی اجازت دی گئی ہو۔ اس نقطہ نظر میں عہد رسالت وعہد صحابہ کے جنگی اقدامات کو کلیتاً دفع فساد کے اصول پر مبنی قرار دینے کے بجائے ان کی توجیہ اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت کی روشنی میں کی گئی ہے۔

زیر بحث سوال اور اس سے متعلق مختلف توجیہات پر مبنی اس پورے علمی لٹریچر کا سنجیدہ علمی مطالعہ بجائے خود دلچسپ او ر مفید ہونے کے ساتھ ساتھ معاصر فکری تناظر میں دین کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ آئندہ صفحات میں ہم نے جہاد سے متعلق قرآن وحدیث کے نصوص اور ان کی تعبیر کے ضمن میں پیش کیے جانے والے مذکورہ نقطہ ہاے نگاہ کے تجزیاتی وتنقیدی مطالعے کو اپنا موضوع بنایا ہے۔

____________




Articles by this author