طرفین کے مطالبات

طرفین کے مطالبات


شادی کے مسئلے کو مشکل بنا دینے والی ایک اور چیز طرفین کے وہ مطالبات ہیں جن کا پورا کرنا اکثر لوگوں کے لیے بہت مشکل یا ناممکن ہوتا ہے۔ لڑکے والوں کی طرف سے عموماً دو چیزوں کا مطالبہ سامنے آتا ہے۔ ایک جہیز اور دوسرا لڑکی کا خوبصورت ہونا۔ لڑکیوں کے لیے جہیز کا بندوبست یو ں تو والدین کے لیے کبھی بھی کوئی بہت زیادہ خوشگوار کام نہیں رہا لیکن معاشی بحران کے اس دور میں یہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ یہاں تک کہ جہیز کی وہ کم از کم مقدار جو سوسائٹی میں بلا مطالبہ معیار بن چکی ہے وہ بھی غریب و متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہے۔ جہاں تک خوبصورتی کا سوال ہے تو ہمارے معاشرے کی زیادہ تر لڑکیاں مناسب شکل و صورت کی حامل تو ضرور ہوتی ہیں مگر خوبصورتی کی ان شرائط کو پورا نہیں کر پاتیں جو میڈیا پر آنے والی اداکاراؤں اور ماڈلوں کے زیرِ اثر لوگوں کے لیے معیار بن گئی ہیں۔ حالانکہ ان اداکاراؤں کا یہ رنگ و روپ، جس کی بہار نے لوگوں کو یہ راہ دکھائی ہے، حسن خداداد کم ہی ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ کیمرہ، روشنی، میک اپ اور ان لوگوں کا کمال ہوتا ہے جن کا روزگار اس بات سے وابستہ ہے کہ یہ ''محترم'' خواتین لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن جائیں۔

دوسری طرف لڑکی والوں کی ڈیمانڈ لڑکے کا مالی استحکام ہوتا ہے۔ وہی لڑکے اب معاشرے میں قابلِ ترجیح ہیں جو ایک اچھی جاب یا کسی چلتے ہوئے کاروبار کے مالک ہوں۔ نوجوانی میں یہ شرائط صرف متمول خاندانوں کے چشم و چراغ پوری کر سکتے ہیں۔ ایک عام شخص اس مقام تک پہنچتے پہنچتے نوجوانی کی عمر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

فریقین کے ان مطالبات پر ایک نگاہ ڈالیے اور ایک نظر زندگی کے حقائق اور اپنے معاشرتی اور معاشی حالات پر بھی ڈال لیجئے۔ فساد کی جڑ تک پہنچنے میں آپ کو زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ پھر ان مادی بنیادوں پر استوار ہونے والے رشتوں کے جو نتائج نکلتے ہیں، ہم آگے چل کر ان کا بھی تجزیہ کر کے بتائیں گے کہ یہ کیسا معاشرتی بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔

________




Articles by this author