وعظ و نصیحت میں اعتدال

وعظ و نصیحت میں اعتدال


عَنْ أَبِی وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فلما نَزَلَ قُلْنَا یا أَبَا الْیَقْظَانِ لقد أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ کُنْتَ تَنَفَّسْتَ فقال إنی سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یقول إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ من فِقْهِهِ فَأَطِیلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ من الْبَیَانِ سِحْرًا۔(مسلم، رقم 2009)

'' ابو وائل سے روایت ہے کہ عمار نے ہمیں خطبہ دیا۔ وہ بہت مختصر اور بلیغ تھا۔ جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا کہ اے ابو یقظان آپ نے خطبے میں بہت اختصار اور بلاغت سے کام لیا۔ اگر آپ اسے کچھ طویل کرتے تو بہتر ہوتا۔ تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا مختصر ہونا اُس کی دانش مندی کی علامت ہے ،اِس لیے نماز لمبی کرو اور خطبہ کومختصر کر دو اورجان لو کہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔''

عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ کَانَ عَبْدُ اللّٰهِ یُذَکِّرُ الناسَ فِی کُلِّ خَمِیسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُ أَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا کُلَّ یَوْمٍ قال أَمَا إنه یَمْنَعُنِی مِنْ ذَلِکَ أَنِّی أَکْرَهُ أَنْ أُمِلَّکُمْوَإِنِّی أَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَةِ کما کان النبی صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَتَخَوَّلُنَا بها مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَیْنَا۔(بخاری، رقم 70)

''ابو وائل سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو ہر جمعرات کے دن نصیحت کیا کرتے تھے۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں روزانہ نصیحت کیا کریں۔ اُنھوں نے فرمایا: میں یہ اِس لیے نہیں کرتا کہ کہیں تم لوگوں کے لیے یہ بھاری نہ ہو جائے ۔میں بھی اُسی طرح ناغہ کر کے تمھیں نصیحت کرتا ہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ناغہ کر کے نصیحت کیا کرتے تھے تا کہ ہم بے زار نہ ہو جائیں ۔''

عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدِّثْ الناس کُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَیْتَ فَمَرَّتَیْنِ فَإِنْ أَکْثَرْتَ فَثَلَاثَ مِرَارٍ ولا تُمِلَّ النَّاسَ هذا الْقُرْآنَ ولا أُلْفِیَنَّکَ تَأْتِی الْقَوْمَ وَهُمْ فی حَدِیثٍ من حَدِیثِهِمْ فَتَقُصُّ علیهم فَتَقْطَعُ علیهم حَدِیثَهُمْ فَتُمِلُّهُمْ وَلَکِنْ أَنْصِتْ فإذا أَمَرُوکَ فَحَدِّثْهُمْ وَهُمْ یَشْتَهُونَهُ۔(بخاری، رقم 6337)

''ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ارشاد ہے کہ لوگوں کو ہر جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کیا کرو۔ پھر اگر اِس سے زیادہ کرنا چاہو تو ہفتہ میں دو مرتبہ اور اگر اِس سے بھی زیادہ کرنا چاہو تو تین مرتبہ ۔لوگوں کو اِس قرآن سے بے زار نہ کرو اور میں تمھیں اِس طرح نہ دیکھوں کہ تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ اپنی باتوں میں لگے ہوں اور تم اُن کی بات میں مداخلت کرکے اُنھیں وعظ سنانا شروع کر دو اور اِس طرح اُنھیں بے زار کرو۔ یہ درست نہیں، بلکہ خاموش رہو، پھر جب لوگ فرمایش کریں تو اُنھیں سناؤ، اِس طرح کہ وہ خواہش سے سنیں۔''

________




Articles by this author