زنا کی سزا (حصہ اول)

زنا کی سزا (حصہ اول)


قرآن مجید میں زنا کی سزا دو مقامات پر بیان ہوئی ہے اور دونوں مقام بعض اہم سوالات کے حوالے سے تفسیر وحدیث اور فقہ کی معرکہ آرا بحثوں کا موضوع ہیں۔

عبوری سزا

پہلا مقام سورۂ نساء میں ہے۔ارشاد ہوا ہے:

وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً. وَاللَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْہُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا.(۴: ۱۵۔ ۱۶)

''اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہوں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ایسی عورتوں کو گھروں میں محبوس کر دو، یہاں تک کہ انھیں موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ بیان کر دیں۔ اور تم میں سے جو مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انھیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگذر کرو۔ بے شک، اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔''

سزا کی نوعیت اور 'حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا' کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ ایک عبوری سزا تھی جس کی جگہ بعد میں زنا کی سزا سے متعلق حتمی احکام نے لے لی۔ اس لحاظ سے عملاً یہ آیت اب شریعت کے کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں رہی، تاہم ان آیتوں کے مفہوم کی تعیین میں مفسرین کو بڑی الجھن کا سامنا ہے۔ ان میں سے پہلی آیت میں صرف خواتین کی سزا بیان ہوئی ہے، جبکہ دوسری آیت میں زانی مرد اور عورت، دونوں کی۔ بنیادی الجھن یہ ہے کہ خواتین کی سزا کو پہلے الگ ذکر کرنے اور پھر اس کے بعد مرد وعورت، دونوں کی سزا بیان کرنے کا مقصد اور باعث کیا ہے؟

مفسرین کے ایک گروہ کی راے میں دوسری آیت میں مردوں کے ساتھ جن خواتین کا ذکر ہوا ہے، وہ وہی ہیں جنھیں پہلی آیت میں گھروں میں محبوس کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گویا گھروں میں محبوس کرنے کی سزا تو خواتین کے ساتھ مخصوص تھی، جبکہ اذیت کی سزا زانی مرد اور عورت، دونوں کے لیے مشترک طور پر مقرر کی گئی تھی۔ ۱؂تاہم آیت اس توجیہ کو قبول نہیں کرتی، اس لیے کہ یہاں 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ' اور 'وَاللَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' کے جملے ایک دوسرے کے مقابل آئے ہیں اور یہ اسلوب اپنے متبادر مفہوم کے لحاظ سے اس کا تقاضا کرتا ہے کہ دونوں آیتوں کو الگ الگ صورتوں پر محمول کیا جائے۔ اس کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ دونوں آیتوں میں سزا کی نوعیت بھی بدیہی طور پر ایک دوسرے سے مختلف، بلکہ معارض ہے۔ چنانچہ پہلی آیت میں توبہ و اصلاح کے امکان کا ذکر کیے بغیر حتمی طور پر خواتین کو گھروں میں محبوس کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دوسرا حکم آ جائے، جبکہ دوسری آیت میں توبہ واصلاح کے امکان کو آزمانے کی ہدایت کی گئی اور اس کے تحقق کی صورت میں زانی مرد اور عورت سے درگذر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فرق اس امر کی دلیل ہے کہ پہلی آیت میں جن خواتین کی سزا بیان کی گئی ہے، وہ دوسری آیت میں زیربحث نہیں۔ چنانچہ یہ سوال باقی رہتا ہے کہ پہلی آیت میں کون سی خواتین زیربحث ہیں اور مردوں کو چھوڑ کر خاص طور پر انھیں سزا کا موضوع بنانے کی کیا وجہ ہے؟

بعض مفسرین نے اس اشکال کے جواب میں یہ راے ظاہر کی ہے کہ زیر بحث آیتوں کی نزولی ترتیب قرآن میں ان کی ظاہری ترتیب کے برعکس ہے اور ان میں دوسری آیت جس میں زانی مرد و عورت کو اذیت دینے کا حکم دیا گیا ہے، پہلے نازل ہوئی تھی۔ پھر اس کے بعد پہلی آیت میں خواتین کے لیے محبوس کیے جانے کی مزید سزا مقرر کی گئی، تاہم اس راے کی روشنی میں دونوں آیتوں کے قرآن مجید میں ایک ہی جگہ درج کیے جانے کے باوجود نزولی ترتیب سے برعکس ترتیب اختیار کرنے کی کوئی وجہ قابل فہم نہیں۔ پھر یہ کہ دوسری آیت میں 'یَاْتِیٰنِہَا' کی ضمیر منصوب پہلی آیت میں 'الْفَاحِشَۃَ' کی طرف راجع ہے اور یہ ظاہری ترتیب کے حقیقی ترتیب ہونے ہی کی صورت میں درست ہو سکتا ہے۔ ۲؂

ایک راے یہ ہے کہ 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ' میں شادی شدہ خواتین کی سزا بیان ہوئی ہے، جبکہ 'وَاللَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' میں کنوارے زانی اور زانیہ کی۔ ۳؂اس پر ایک اشکال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ 'نساء' کا لفظ اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے ہر طرح کی خواتین کے لیے عام ہے، جبکہ اسے شادی شدہ خواتین کے ساتھ خاص قرار دینے کے لیے سیاق کلام میں کوئی قرینہ درکار ہوگا۔ قرآن مجید میں بعض دوسرے مقامات پر، مثال کے طور پر 'لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِہِمْ' ۴؂اور 'اَلَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآءِہِمْ' ۵؂میں یہ لفظ ''بیویوں'' کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ ایلا اور ظہار کا فعل خاوند اور بیوی ہی کے مابین ہوتا ہے، جبکہ زیر بحث آیت میں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ۶؂پھر یہ کہ یہاں اگر 'نِّسَآءِکُمْ' کو بیویوں کے مفہوم میں لیا جائے تو 'نساء' کا مضاف الیہ بننے والی ضمیر خطاب یعنی 'کم' کا مصداق لازماً ان خواتین کے شوہر ہوں گے، کیونکہ 'نساء'کے لفظ میں بیوی کا مفہوم شوہروں کی طرف اضافت ہی سے پیدا ہو سکتا ہے، ورنہ اگر 'کم' کا مصداق بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کو مانا جائے تو 'نساء' کو شادی شدہ خواتین پر محمول کرنے کا کوئی قرینہ باقی نہیں رہتا۔ اب اگر اس تاویل کو مانا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ خواتین کو سزا دینے کے حکم کے مخاطب مسلمانوں کے اہل حل وعقد نہیں، بلکہ انفرادی حیثیت میں ان خواتین کے شوہر قرار پائیں گے اور انھیں گھروں میں محبوس کرنے کی ہدایت اندرون خانہ اختیار کی جانے والی ایک تدبیر قرار پائے گی، جبکہ 'فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ' اس تاویل کو قبول کرنے میں مانع ہے اور اسے صریحاً نظم اجتماعی اور عدالت وقضا سے متعلق کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ زیر بحث تاویل سے یہ اشکال بھی حل نہیں ہوتا کہ اگر کنوارے زانی کی سزا بیان کرتے ہوئے مرد اور عورت، دونوں کا ذکر کیا گیا ہے تو پہلی آیت میں صرف شادی شدہ خواتین کیوں زیربحث ہیں اور شادی شدہ مردوں کی سزا کیوں بیان نہیں کی گئی؟

ایک اور راے یہ ہے کہ پہلی آیت صرف زانی خواتین کی سزا بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری آیت صرف مرد زانیوں کی اور یہاں تثنیہ کا صیغہ لانے سے مقصود اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ زانی چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، اس کے لیے ایک ہی سزا ہے، ۷؂لیکن اس پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کسی قرینے کے بغیر مجرم کی ازدواجی زندگی کی دو مختلف حالتوں پر تثنیہ کے صیغے کی دلالت غیر واضح ہے۔ مزید یہ کہ اگر مطلقاً ہر طرح کے زانی کے لیے ایک ہی سزا کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا تو اس کے لیے تثنیہ کا صیغہ لانے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اس کے بجاے 'وَالَّذِیْ یَاْتِیْہَا' یا 'وَالَّذِیْنَ یَاْتُوْنَہَا' کا معروف اسلوب ہی کافی تھا، جیسا کہ پہلی آیت میں 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ' کا اسلوب ہر طرح کی زانی عورتوں پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ۸؂جب مقصد دونوں آیتوں میں ایک ہی ہے تو دوسری آیت میں پہلی سے مختلف اسلوب اختیار کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

ایک راے یہ ہے کہ پہلی آیت میں وہ صورت زیر بحث ہے جب بدکاری کے فعل پر چار گواہ میسر ہوں اور مقدمے پر باقاعدہ عدالتی کارروائی کی جاسکتی ہو، جبکہ دوسری آیت میں اس صورت کا حکم بیان ہوا ہے جب چار گواہ موجود نہ ہوں۔ ۹؂یہ بھی ایک غیر متبادر اور الفاظ سے بعید تاویل ہے، اس لیے کہ اگر یہ مقصود ہوتا تو 'فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ' کے تقابل میں 'وَاِنْ لَّمْ یَشْہَدُوْا فَاٰذُوْہُمَا' یا 'وَاِنْ لَّمْ یَکُوْنُوْا فَاٰذُوْہُمَا' سے ملتا جلتا کوئی اسلوب اختیار کیا جاتا جو مدعا کے ابلاغ کے پہلو سے زیادہ واضح اور صریح ہوتا۔ موجودہ صورت میں زیادہ متبادر مفہوم یہ ہے کہ چار گواہوں کی شرط دوسری آیت میں بھی مقدر سمجھی جائے جسے اقتضاے عقلی کے اصول پر واضح ہونے کی بنیاد پر لفظوں میں ذکر نہیں کیا گیا۔ مزید براں یہ اشکال اس تاویل میں بھی برقرار رہتا ہے کہ پہلی آیت میں خواتین ہی خاص طور پر کیوں زیربحث ہیں اور مردوں کی سزا بیان کرنے سے کیوں گریز کیا گیا ہے؟

ابو مسلم اصفہانی نے زیر بحث آیات کو زنا کے بجاے لواطت اور 'سحاق'، یعنی خواتین کی ہم جنس پرستی سے متعلق قرار دیا ہے۔ ان کی راے میں 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ' میں خواتین کی ہم جنس پرستی کی، جبکہ 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' میں لواطت کی سزا بیان کی گئی ہے۔ ۱۰؂تاہم یہ راے بھی کئی پہلووں سے محل نظر ہے:

اولاً، 'فاحشۃ' کا لفظ اگرچہ اپنے لغوی مفہوم کے لحاظ سے زنا، لواطت اور خواتین کی ہم جنس پرستی، سب کے لیے بولا جا سکتا ہے، لیکن کسی زبان کے عرف میں الفاظ کا استعمال ان میں ایک نوع کی تخصیص پیدا کر دیتا ہے اور جب وہ لفظ بولا جائے تو اس کا وہی متبادر مفہوم مراد ہوتا ہے جس میں وہ بالعموم استعمال ہوتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ پایا جائے۔ 'فاحشۃ' کا لفظ اور خاص طور پر 'اتی الفاحشۃ' کی ترکیب بھی عربی زبان میں زنا کے لیے معروف ہے، اس لیے جب تک کوئی قرینہ نہ پایا جائے، اس کا کوئی دوسرا مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ 'اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ' ۱۱؂اور 'مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ' ۱۲؂میں یہ تعبیر زنا ہی کے لیے استعمال ہوئی ہے، کیونکہ اس کے برخلاف کوئی قرینہ موجود نہیں، البتہ سورۂ اعراف (۷)کی آیت ۸۰اور سورۂ نمل (۲۷) کی آیت ۵۴میں یہی ترکیب لواطت کے مفہوم میں استعمال ہوئی ہے اور دونوں جگہ 'مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ' اور 'اَءِنَّکُمْ لَتَاتُوْنَ الرِّجَالَ' کا واضح قرینہ موجود ہے۔

اگر 'الْفَاحِشَۃَ' کا مصداق زنا ہے تو پھر 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' کو بھی لازماً زنا ہی سے متعلق ماننا ہوگا، کیونکہ 'یَاْتِیٰنِہَا' میں ضمیر منصوب پچھلی آیت میں مذکور اسی 'الْفَاحِشَۃَ' کی طرف لوٹ رہی ہے۔ چنانچہ اس کا مفہوم بھی زنا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اگر قرآن کا مدعا 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ' سے زنا کی، جبکہ 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' سے بدکاری کی کسی دوسری صورت کی سزا بیان کرنا ہوتا تو لازم تھا کہ اس کے لیے کوئی زائد قرینۂ کلام، مثال کے طور پر 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاٰذُوْہُمَا' کلام میں رکھا جاتا۔ اس اضافی قرینے کے بغیر 'یَاْتِیٰنِہَا' میں مذکور بدکاری کو 'یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ' میں ذکر ہونے والی بدکاری سے کسی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ثانیاً، 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' کی تعبیر عربیت کی رو سے لواطت کے لیے کسی طرح موزوں نہیں، اس لیے کہ اس میں فعل کی نسبت فریقین کی طرف کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ زنا کے ارتکاب کی نسبت تو مرد اور عورت، دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے، لیکن لواطت میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ قرآن مجید میں قوم لوط کا جرم جہاں بھی بیان کیا گیا ہے، وہاں 'تَاْتُوْنَ الرِّجَالَ' کی تعبیر استعمال ہوئی ہے جس میں فعل کی نسبت ایک ہی فریق کی طرف کی گئی ہے۔ یہاں بھی اگر لواطت زیر بحث ہوتی تو 'وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' کے بجاے 'وَالَّذِیْنَ یَاْتُوْنَہَا' ہی کی تعبیر اختیار کی جاتی۔ ۱۳؂

ثالثاً، جرم اور سزا کے مابین مناسبت بھی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس ہدایت کو زنا سے متعلق مانا جائے۔ اگر اس تدبیر سے مقصود ہم جنس پرستی کا سدباب تھا تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ایسی خواتین کو باہمی میل ملاقات سے روک دیا جائے، جبکہ 'اَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ' کی تعبیر انھیں علی الاطلاق گھروں میں محبوس کر دینے کو بیان کرتی ہے اور یہ بات ہم جنس پرستی کے بجاے زنا کے سدباب کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ ۱۴؂مزید براں قرآن مجید نے اس جرم کے اثبات کے لیے چار گواہ طلب کرنے کی بات کی ہے جس سے واضح ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت سے متعلق قرار دے رہا ہے، جبکہ خواتین کی ہم جنس پرستی کے سدباب کے لیے اس اہتمام کی ضرورت نہیں۔ اگر دو خواتین اس عادت میں مبتلا ہیں تو انھیں عدالت میں پیش کرنے اور باقاعدہ مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ کو یہ ہدایت دینا کافی ہے کہ وہ ان کے باہمی میل جول کو روک دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا مودودی کا یہ تبصرہ بھی بالکل برمحل دکھائی دیتا ہے کہ:

''...قرآن انسانی زندگی کے لیے قانون واخلاق کی شاہراہ بناتا ہے اور انھی مسائل سے بحث کرتا ہے جو شاہراہ پرپیش آتے ہیں۔ رہیں گلیاں اور پگڈنڈیاں تو ان کی طرف توجہ کرنا اور ان پر پیش آنے والے ضمنی مسائل سے بحث کرنا کلام شاہانہ کے لیے ہرگز موزوں نہیں ہے۔ ایسی چیزوں کو اس نے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد نبوت کے بعد جب یہ سوال پیدا ہوا کہ مرد اور مرد کے ناجائز تعلق پر کیا سزا دی جائے تو صحابۂ کرام میں سے کسی نے بھی یہ نہ سمجھا کہ سورۂ نساء کی اس آیت میں اس کا حکم موجود ہے۔'' (تفہیم القرآن ۱/ ۳۳۲۔ ۳۳۳)

رابعاً، قرآن مجید نے یہاں 'حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا' سے واضح کیا ہے کہ یہ ایک عبوری سزا ہے جس کے بعد حتمی سزامقرر کی جائے گی۔ قرآن وسنت کے نصوص میں لواطت اور سحاق کی کوئی متعین سزا مقررنہیں کی گئی اور اس کے بعد سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے جنسی انحرافات میں سے زنا ہی کی سزا کو موضوع بنایا ہے۔ عبادہ بن صامت کی نقل کردہ روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد جب زنا کی حتمی سزا بیان کی تو اسی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ 'خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللّٰہ لہن سبیلًا'۔ آپ کے اس ارشاد سے بھی واضح ہے کہ زیر بحث آیت میں زنا ہی زیر بحث ہے۔ ۱۵؂

مذکورہ تمام توجیہات اور ان پر وارد ہونے والے اشکالات کے تناظر میں قاضی ابن العربی نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ 'ہذہ معضلۃ فی الآیات لم اجد من یعرفہا' ۱۶؂،یعنی یہ ایک بے حد مشکل آیت ہے اور مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اس کا مطلب جانتا ہو۔ خود ابن العربی نے اگرچہ یہ راے اختیار کی ہے کہ پہلی آیت صرف زانی خواتین کی سزا بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری آیت صرف مرد زانیوں کی اور یہاں تثنیہ کا صیغہ لانے سے مقصود اس سزا کے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ، ہر دو طرح کے زانیوں پر قابل اطلاق ہونے کو واضح کرنا ہے، تاہم یہ توجیہ بھی، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، تشفی بخش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے حوالے سے مختلف تفسیری امکانات کا جائزہ لینے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور متاخرین کے ہاں بھی اس ضمن میں بعض نئی آرا سامنے آئی ہیں۔

صاحب ''تدبر قرآن'' مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ راے ظاہر کی ہے کہ نساء کی مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت اس صورت کو بیان کرتی ہے جب زنا کی مرتکب عورت کا تعلق مسلمانوں سے، جبکہ مرد کا تعلق کسی غیر مسلم گروہ سے ہو، جبکہ دوسری آیت میں وہ صورت زیر بحث ہے جب دونوں مسلمان اور اسلامی ریاست کے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوں۔دوسری صورت میں مرتکبین کو توبہ واصلاح کا موقع دینے، جبکہ پہلی صورت میں خواتین کو اس طرح کا کوئی موقع دیے بغیر تامرگ محبوس کر دینے کی وجہ مولانا کی راے میںیہ تھی کہ:

''...دوسری صورت میں تو دونوں فریق اسلامی معاشرہ کے دباؤ میں ہیں، ان کے رویے میں جو تبدیلی ہوگی وہ سب کے سامنے ہوگی۔ نیز ان کے اثرات اور وسائل معلوم ومعین ہیں، ان کے لیے بہرحال اپنے خاندان اور قبیلے سے بے نیاز ہو کر کوئی اقدام ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ہوگا، لیکن پہلی صورت میں مرد جو اصل جرم میں شریک غالب کی حیثیت رکھتا ہے، مسلمانوں کے معاشرہ کے دباؤ سے بالکل آزاد ہے۔ نہ اس کے رویے کا کچھ پتا، نہ اس کے عزائم کا کچھ اندازہ، نہ اس کے اثرات ووسائل کے حدود معلوم ومعین۔ ایسی حالت میں اگر عورت کو یہ موقع دے دیا جاتا کہ توبہ کے بعد اس سے درگذر کی جائے تو یہ بات نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتی تھی۔ اول تو مرد کے رویہ کو نظر انداز کر کے عورت کی توبہ واصلاح کا صحیح اندازہ ہی ممکن نہیں ہے اور ہو بھی تو جب مرد بالکل قابو سے باہر اور مطلق العنان ہے تو اغوا، فرار اور قتل وخون کے امکانات کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ اس پہلو سے اس میں احتیاط کی شدت ملحوظ ہے۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۲۶۵)

مولانا نے اس تاویل میں سابق مفسرین سے ایک بنیادی اختلاف کیا ہے اور ان کے اختلاف کی بنیاد وزنی دکھائی دیتی ہے۔ وہ یہ کہ 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ' اور 'وَاللَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا' میں اسم موصول کا صلہ فعل مضارع کی صورت میں لانے کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، وہ عربی زبان میں کسی فعل کے نفس وقوع کے بیان کے لیے بھی آ سکتا ہے اور کسی عادت اور معمول کو بیان کرنے کے لیے بھی۔ چنانچہ 'وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ' کا ترجمہ ''وہ عورتیں جو بدکاری کی مرتکب ہوں'' بھی ہو سکتا ہے اور ''وہ عورتیں جو بدکاری کیا کرتی ہیں'' بھی۔ سابق مفسرین نے اس کو پہلے مفہوم پر محمول کرتے ہوئے آیت کی تاویل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں جتنی مختلف تاویلیں ممکن تھیں، ان سب کی نشان دہی کی ہے، لیکن، جیسا کہ ہم تفصیل سے واضح کر چکے ہیں، ان میں سے ہر تاویل پر وزنی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ان آیات میں زنا کے عادی مجرموں کا زیر بحث ہونا، جیسا کہ مولانا اصلاحی کی راے ہے، خود آیات کے داخلی قرائن سے واضح ہے۔ چنانچہ دوسری آیت میں زنا کے مرتکب مرد وعورت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ واصلاح کر لیں تو ان سے درگذر کیا جائے، جس سے واضح ہے کہ ان دونوں کے مابین یاری آشنائی کا تعلق تھا، ورنہ اگر یہ کسی اتفاقی صورت کا ذکر ہوتا تو انھیں سزا دینے کے بعد ان کی مزید نگرانی کرنے اور توبہ واصلاح کی صورت میں درگذر کی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح ان آیات کے ساتھ متصل اگلی آیات بھی، جن میں قرآن مجید نے وقتی جذبات کے تحت گناہ کے مرتکب ہونے والوں اور اسے ایک عادت بنا لینے والوں کے مابین فرق کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ کسی گناہ کو معمول بنا لینے والوں کے لیے توبہ کی قبولیت کا امکان کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے، اسی بات کو واضح کرتی ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

وَاللَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا. اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓءِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا. وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّآی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْءٰنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓءِکَ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا. (النساء ۴: ۱۶۔۱۸)

''اور تم میں سے جو مرد وعورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انھیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگذر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔ اللہ پر انھی لوگوں کی توبہ قبول کرنا لازم ہے جو جذبات میں بہ کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں اور پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کی توبہ کو اللہ قبول کر لیتا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ان لوگوں کے لیے توبہ کا کوئی موقع نہیں جو برابر برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اسی طرح ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔''

ہماری راے میں یہ آیات اس بات کا ایک مضبوط قرینہ ہیں کہ اوپر کی آیتوں میں زنا کو عادت بنا لینے والی خواتین اور جوڑے ہی زیر بحث ہیں، تاہم مولانااصلاحی نے دونوں آیتوں میں جو فرق متعین کیا ہے، وہ تشفی بخش نہیں اور اس پر ایک بڑا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زنا کے واقعات میں جتنا امکان خاتون کے مسلمان، جبکہ مرد کے غیر مسلم ہونے کا پایا جاتا تھا، اتنا ہی اس کے برعکس صورت کے پائے جانے کا بھی موجود تھا، لیکن قرآن مجید نے اس کو سرے سے موضوع ہی نہیں بنایا۔ مولانا کی راے کے مطابق قرآن مجید نے دوسری آیت میں زانی مرد وعورت کو اذیت دینے اور انھیں توبہ واصلاح پر آمادہ کرنے کی جو ہدایت دی ہے، اس کاموثر ہونا اس امرپر منحصر تھا کہ دونوں مسلمان معاشرے کے افراد ہوں، جبکہ مرد کے کسی غیر مسلم گروہ کا فرد ہونے کی صورت میں اس تدبیر کاموثر ہونا مخدوش تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اگر مسلمانوں کے لیے اپنی خواتین کو توبہ و اصلاح کا موقع دینا ممکن نہیں تھا اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ انھیں گھروں میں محبوس کر دیا جائے تو ظاہر ہے کہ مردوں کے معاملے میں توبہ واصلاح کے امکان کو آزمانے کا خطرہ مول لینا بدرجۂ اولیٰ ممکن نہیں تھا۔ یہ صورت زیادہ اعتنا کی مستحق تھی اور تقاضا کرتی تھی کہ زانی مرد کے مسلمان، جبکہ عورت کے غیر مسلم ہونے کی صورت میں بھی متعین ہدایات دی جاتیں اور بتایا جاتا کہ ایسے مرد کو زنا سے روکنے کے لیے اس پر کس طرح کی قدغنیں عائد کی جائیں۔ تاہم قرآن نے ایسا نہیں کیا جس کی کوئی وجہ، مولانا اصلاحی کی بیان کردہ صورت واقعہ کے لحاظ سے، سمجھ میں نہیں آتی۔

مولانا نے جو صورت واقعہ فرض کی ہے، وہ بھی حقیقت سے دور دکھائی دیتی ہے۔ اول تو سب کے سب غیر مسلم گروہ ایسے نہیں تھے جو ریاست مدینہ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوں، کیونکہ یہود کے بیش تر قبائل کا مسلمانوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ تھا اور ان میں سے بعض قبائل مدینہ کے حدود میں آباد تھے۔ چنانچہ خواتین کو محبوس کر دینے کی تدبیر کا محرک اگر وہی ہوتا جو مولانا اصلاحی نے بیان کیا ہے تو دونوں طرح کے گروہوں میں فرق کیا جانا ضروری تھا، جبکہ قرآن مجید کا بیان بالکل مطلق ہے۔ جہاں تک یہود کے علاوہ مدینہ کے اطراف میں آباد غیر مسلم قبائل کا تعلق ہے تو ان کے مردوں کا مدینہ کی خواتین کے ساتھ اس نوعیت کا کوئی پائدار تعلق قائم کرنے کا امکان قبائلی معاشرت میں بہت کم تھا۔ یاری آشنائی کا تعلق بالعموم ایک ہی علاقے میں رہنے اور آپس میں عمومی میل جول رکھنے والے مردوں اور عورتوں کے مابین استوار ہوتا ہے ، جبکہ الگ الگ قبیلوں اور مقامات سکونت (localities) سے تعلق رکھنے والے افراد میں ایسا نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اس طرح کے واقعات کی تعداد اتنی نہیں ہو سکتی کہ اسے باقاعدہ قانون کا موضوع بنانا پڑے۔ بالفرض ریاست مدینہ کے دائرۂ اختیار سے باہر کسی مجرم کے خلاف کوئی اقدام کرنا مشکل ہوتا تو بھی خود مدینہ کے حدود کے اندر بے بسی کی ایسی کوئی فضا موجود نہیں تھی کہ ایسے مجرموں کی آمد ورفت اور آزادانہ نقل وحرکت پر کوئی قدغن عائد نہ کی جا سکتی۔ عورت کے لیے توبہ واصلاح کے امکان یا اس کے رویے میں تبدیلی کا اندازہ کرنے میں مرد کے غیر مسلم ہونے کو مانع قرار دینا بھی قابل فہم نہیں، کیونکہ خاتون کا تعلق، بہرحال مسلمانوں ہی کے گروہ سے تھا اور قبائلی معاشرت میں نہ تو ایسے آزادانہ مواقع اور امکانات ہوتے ہیں اور نہ افراد، بالخصوص خواتین کو اتنی آزادی حاصل ہوتی ہے کہ معاشرہ ان کی نگرانی اور محاسبہ سے عاجز ہو جائے۔

جناب جاوید احمد غامدی نے مولانا اصلاحی کی راے کے اس پہلو سے تو اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت زنا کے ان مجرموں سے متعلق نہیں جو کسی وقت جذبات کے غلبے میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، بلکہ دراصل زنا کو ایک عادت اور معمول کے طورپر اختیار کرنے والے مجرموں سے متعلق ہے، البتہ دونوں آیتوں کے باہمی فرق کے حوالے سے ان کی راے یہ ہے کہ پہلی آیت کا مصداق وہ پیشہ ور بدکار عورتیں ہیں جن کے لیے زنا شب وروز کا شغل تھا، جبکہ دوسری آیت میں ایسے مردوں اور عورتوں کی سزا بیان ہوئی ہے جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ان کی راے میں قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر ان میں سے پہلی صورت کو 'مُسٰفِحِیْنَ' اور 'مُسٰفِحٰتِ' جبکہ دوسری صورت کو 'مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ' اور 'مُتَّخِذَاتِ اَخْدَانٍ' کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ ۱۷؂

ہماری راے میں آیت کی یہ تاویل اس پہلو سے قرین قیاس لگتی ہے کہ اس میں جرم کی جن دو صورتوں کو متعین کیا گیا ہے، ان کا عرب معاشرت میں پایا جانا مسلم ہے، ان کی سزا کو قانون کا موضوع بنانا بھی قابل فہم ہے اور اس سے دونوں صورتوں میں تجویز کی جانے والی الگ الگ سزاؤں کی وجہ اور حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پہلی آیت میں صرف خواتین کی سزا کو موضوع بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ورانہ بدکاری میں بنیادی کردار خواتین ہی کا ہوتا ہے اور جرم کے سدباب کے لیے اصلاً انھی کی سرگرمیوں پر پہرہ بٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مرد وعورت میں یاری آشنائی کے تعلق کی صورت میں دونوں جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی تادیب وتنبیہ کو قانون کا موضوع بنانا پڑتا ہے۔ مزید براں جہاں تک ہم غور کر سکے ہیں، آیت کے الفاظ اور سیاق وسباق میں کوئی چیز اس تاویل کو قبول کرنے میں مانع نہیں، اس لیے جب تک کوئی قابل غور اعتراض سامنے نہ آئے، یہ کہنا ممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس تاویل کی روشنی میں آیت کی مشکل بظاہر قابل اطمینان طریقے سے حل ہو جاتی ہے۔

اوپر کی سطور میں ہم نے سورۂ نساء کی ان آیات کا جو مفہوم متعین کیا ہے، اگر وہ درست ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن مجید نے زنا کی عبوری سزا بیان کرتے ہوئے صرف زنا کے عادی مجرموں کو موضوع بنایا ہے، جبکہ اتفاقیہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اصول تدریج کے تناظر میں اس کی حکمت واضح ہے۔ اگر کسی معاشرے میں مناسب اخلاقی تربیت کے فقدان اور زنا کے محرکات کی کثرت کے سبب سے کسی جرم کا سدباب فوری طور پر ممکن نہ ہو تو ابتدائی مرحلے پر ہلکی سزاؤں پر اکتفا کرنا اور سزا کے لیے جرم کو عادت اور معمول بنا لینے والے مجرموں پر توجہ مرکوز کرنا ہر اعتبار سے قابل فہم ہے۔

زنا کی سزا سے متعلق حتمی احکام

اس عبوری سزا کے بعد زنا کی حتمی سزا سورۂ نور میں بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ.(۲۴: ۲)

''زانی عورت اور زانی مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان دونوں کے ساتھ ہمدردی کھانے کا جذبہ تم پر حاوی نہ ہو جائے۔ اور ان دونوں کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود ہونا چاہیے۔''

سورۂ نورکی یہ آیت اپنے ظاہر کے لحاظ سے حکم کے جن اہم پہلووں پر دلالت کرتی ہے، انھیں درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

ایک یہ کہ یہاں حکم زنا کی ان مخصوص صورتوں تک محدود نہیں رہا جو عبوری سزا کا موضوع بنی تھیں، بلکہ اتفاقیہ زنا کا مرتکب ہونے یا اسے عادت اور معمول بنا لینے کے پہلو سے مجرد کرتے ہوئے فی نفسہٖزنا کے جرم کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس طرح یہ حکم اپنے دائرۂ اطلاق کے اعتبار سے زنا کی تمام صورتوں کو شامل اور اس میں بیان ہونے والی سزا زنا کی ہر صورت پر یکساں قابل نفاذ ہے۔

دوسرے یہ کہ قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے مجرم کی ازدواجی حیثیت کو بھی موضوع نہیں بنایا اور زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، بس یہی سزا دینا چاہتا ہے۔ اس بات کی تائید، جیسا کہ ہم آگے چل کر واضح کریں گے، قرآن مجید کے دیگر مقامات سے بھی ہوتی ہے۔

تیسرے یہ کہ نفس زنا کی سزا کے بیان کو قرآن نے چونکہ یہاں خود موضوع بنایا ہے، اس لیے یہ سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے بیان کی ہے۔ جرم کی نوعیت اور اس کی سنگینی اگر تقاضا کرے تو یقیناً مجرم کو اس کے علاوہ کوئی مزید سزا بھی دی جا سکتی ہے، تاہم اگر جرم صرف زنا ہے تو قرآن کا بیان اس سزا میں کسی اضافے کو قبول کرنے سے مانع ہے۔

سورۂ نساء(۴) کی آیت ۱۵میں زنا کے جن عادی مجرموں کے لیے عبوری سزا بیان کی گئی ہے، ان کا جرم چونکہ زنا کے عام مجرموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سنگین تھا اور ان میں سے بالخصوص یاری آشنائی کا تعلق رکھنے والے بدکار جوڑے اس عرصے میں توبہ واصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے، اس لیے عام مجرموں کے برخلاف زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے۔ چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

کان نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا انزل علیہ کرب لذلک وتربد لہ وجہہ قال فانزل علیہ ذات یوم فلقی کذلک فلما سری عنہ قال خذوا عنی فقد جعل اللّٰہ لہن سبیلًا: الثیب بالثیب والبکر بالبکر، الثیب جلد ماءۃ ثم رجم بالحجارۃ، والبکر جلد ماءۃ ثم نفی سنۃ.(مسلم، رقم ۳۲۰۰)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کو تکلیف ہوتی اور اس کی شدت سے آپ کا چہرہ کسی قدر سیاہ ہو جاتا۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی اور یہی کیفیت آپ پر طاری ہو گئی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیدا کر دی ہے۔ شادی شدہ زانی شادی شدہ زانیہ کے ساتھ ہے اور کنوارا زانی کنواری زانیہ کے ساتھ۔ شادی شدہ کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگ سار کیا جائے، جبکہ کنوارے کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔''

سورۂ نساء کی زیر بحث آیت کے حوالے سے ہم جناب جاوید احمد غامدی کی اس راے کا ذکر کر چکے ہیں کہ یہاں زنا کے عام مجرم نہیں، بلکہ صرف عادی مجرم زیر بحث ہیں۔ اگر یہ راے درست ہے تو پھر عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت بھی زنا کے عام مجرموں سے متعلق نہیں بلکہ، جیسا کہ 'خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللّٰہ لہن سبیلًا' کے الفاظ سے واضح ہے، قحبہ عورتوں اور ان زانیوں سے متعلق قرار پائے گی جن کے ہاں یاری آشنائی ایک مستقل تعلق کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے مجرموں میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی سزا میں تفریق کرنے اور قرآن مجید میں بیان کردہ سو کوڑوں کی سزا کے علاوہ جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں دینے کا حکم دیا گیا ہو تو اس سے قرآن مجید کے ساتھ تعارض کا سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں کسی قسم کے اضافی پہلو سے قطع نظر کرتے ہوئے نفس زنا کی سزا بیان کی گئی ہے۔ تاہم صدر اول سے اہل علم کی غالب ترین اکثریت کا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ عبادہ بن صامت کی روایت اور اس کے علاوہ جلاوطنی اور رجم کی سزا سے متعلق دیگر روایات زنا کے عام مجرموں ہی سے متعلق ہیں اور متعدد روایات سے بظاہر اس راے کی تائید ہوتی ہے۔ اس راے کے مطابق ان اضافی سزاؤں کو ہر طرح کے زانی پر قابل اطلاق مانا جائے تو یہ بات بظاہر قرآن مجید کے مدعا سے متجاوز قرار پاتی ہے اور اس تناظر میں یہ سوال ہمیشہ سے اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے کہ قرآن مجید کی بیان کردہ سزا اور مذکورہ روایات میں تطبیق وتوفیق کی صورت کیا ہو؟

یہاں ہم اس ضمن میں مختلف نقطہ ہاے نظر کا مطالعہ کریں گے۔

جلا وطنی کی سزا

فقہا کا ایک گروہ کنوارے زانی کے لیے روایت میں بیان ہونے والی سزا، یعنی جلاوطنی کو بھی سزا کا لازمی حصہ سمجھتا ہے، تاہم فقہاے احناف نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ ان کی راے میں جلاوطنی کی سزا محض ایک تعزیری سزا ہے اور اس کے نفاذ کا مدار قاضی کی صواب دید پر ہے۔ اس ضمن میں احناف کا اصولی استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید مطلقاً ہر قسم کے زانی کے لیے صرف سو کوڑوں کی سزا بیان کرنے کے حوالے سے بالکل واضح اور قطعی ہے اور اس سزا پر کوئی اضافہ کسی قطعی دلیل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ وہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو تو شہرت اور تواتر سے ثابت ہونے کی بنیاد پر قرآن مجید کے ناسخ کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں، لیکن کنوارے زانی کے لیے حدیث میں بیان ہونے والی اضافی سزا، یعنی ایک سال کی جلاوطنی کو خبر واحد سے ثابت ہونے کی بنا پر سزا کا لازمی حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی راے میں قرآن نے جس سزا کے بیان پر اکتفا کی ہے، وہی اصل سزا ہے اور اس پر کوئی اضافہ کرنا قرآن کے نسخ کو مستلزم ہے جو خبر واحد سے نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ وہ زانی کو جلا وطن کرنے کو ایک صواب دیدی سزا کے طور پر قبول کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اگر قاضی کسی مجرم کی آوارہ منشی کو دیکھتے ہوئے اس کے اس علاقے میں رہنے کو خطرے کا باعث سمجھے یا مزید تنبیہ کی غرض سے اسے گھر در سے دور اور اعزہ واقربا کی حمایت سے محروم کرنے کو بھی قرین مصلحت دیکھے تو وہ سو کوڑے لگانے کے بعد اسے جلا وطن بھی کر سکتا ہے۔ ۱۸؂

اس استدلال میں یہ کمزوری موجود ہے کہ اس میں جلاوطنی کی سزا کے ثبوت کو خبر واحد پر منحصر قرار دیا گیا ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے تعامل سے اس کا نفاذ شہرت کے ساتھ ثابت ہے۔ مزید براں اس استدلال میں معیار ثبوت میں فرق کی بنیاد پر دونوں حکموں کی نوعیت الگ الگ متعین کی گئی ہے، جبکہ اصولی طور پر سنت کے ذریعے سے قرآن کے نسخ کو درست تسلیم کرنے اور پھر جلاوطنی اور رجم، دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مان لینے کے بعد اس فرق کا کوئی جواز نہیں۔ ہمارے نزدیک درست بناے استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے زنا کی سزا کے بیان کو چونکہ خود موضوع بنایا ہے، اس لیے نفس زنا کی سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے خود بیان کی ہے۔

بہرحال، استدلال کی اس کمزوری کے باوجود احناف کا یہ موقف فی نفسہٖدرست ہے اور سورۂ نور کی آیت کے علاوہ دیگر دلائل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ نساء (۴)کی آیت ۲۵میں اللہ تعالیٰ نے شادی شدہ لونڈیوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگروہ زنا کی مرتکب ہوں تو انھیں آزاد عورتوں کے مقابلے میں نصف سزا دی جائے (فَنِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ)، یہاں 'الْعَذَابِ' سے، جیسا کہ ہم آگے چل کر واضح کریں گے، سو کوڑوں کی وہی سزا مراد ہے جو سورۂ نور میں بیان ہوئی ہے اور جس میں مجرم کی جلاوطنی کو سزا کا حصہ قرار نہیں دیا گیا۔ پھر یہ کہ 'الْعَذَابِ' کا لفظ بھی عربی زبان کی رو سے ایسی سزا ہی کے لیے موزوں ہے جس میں جسمانی اذیت پائی جاتی ہو، جبکہ جلاوطنی کو خاصے تکلف کے ساتھ ہی اس کا مصداق قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح 'عذاب' کا لفظ اور اس پر داخل الف لام، دونوں اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ قرآن مجید سو کوڑوں ہی کو زنا کی اصل سزا تصور کرتا ہے اور جلاوطنی اس کے نزدیک اس سزا کا حصہ نہیں۔

امام طحاوی نے یہ استدلال بھی پیش کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی سزا بیان کرتے ہوئے صرف کوڑے لگانے کا ذکر کیا ہے اور انھیں جلا وطن کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا:

اذا زنت الامۃ فاجلدوہا ثم اذا زنت فاجلدوہا ثم اذا زنت فاجلدوہا فی الثالثۃ او الرابعۃ بیعوہا ولو بضفیر.(بخاری، رقم ۲۳۶۹)

''جب لونڈی زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ زنا کے بارے میں فرمایا کہ اب اسے بیچ دو، چاہے قیمت میں ایک معمولی رسی ہی ملے۔''

چونکہ قرآن مجیدنے لونڈیوں کی سزا آزاد عورتوں سے نصف بیان کی ہے، اس لیے اگر جلاوطن کرنا آزاد عورتوں کی سزا کا لازمی حصہ ہوتا تو قرآن مجید کے مذکورہ حکم کی رو سے لونڈیوں کو بھی چھ ماہ کے لیے جلا وطن کرنا ضروری ہوتا، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے لیے یہ سزا بیان نہیں فرمائی اور نہ اہل علم میں سے کوئی اس کا قائل ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد عورتوں کے لیے بھی جلا وطن کرنا زنا کی سزا کا کوئی لازمی حصہ نہیں ہے۔ پھر چونکہ آزاد عورتوں اور آزاد مردوں کی سزا میں کوئی فرق نصوص سے ثابت نہیں، اس لیے مردوں کے بارے میں بھی لازماً یہی موقف اختیار کرنا پڑے گا۔ ۱۹؂

زانی کو جلا وطن کرنے کی احادیث کو روایت کرنے والے بعض صحابہ کے اسلوب بیان سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ وہ اس سزا کو اصل حد کا حصہ نہیں، بلکہ ایک اضافی سزا سمجھتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

قضی فی من زنی ولم یحصن ان ینفی عامًا مع اقامۃ الحد علیہ.(نسائی، السنن الکبریٰ، رقم۷۲۳۷)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے بارے میں حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لیے اسے جلاوطن کرنے کاحکم دیا۔''

گویا جلا وطن کرنا فی نفسہٖ زنا کی مستقل اور باقاعدہ سزا نہیں ہے، بلکہ اسے جرم کی نوعیت اور حالات کی مناسبت کے لحاظ سے اصل سزا کے ساتھ تعزیری طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، اور اسی حکمت ومصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مجرم کو جلا وطن کرنے میں بہتری کے بجاے فساد کا خدشہ ہو تو اسے جلاوطن نہ کیا جائے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی کی راے یہ نقل ہوئی ہے کہ زانی مرد وعورت کو جلاوطن کرنا 'فتنہ' ہے، ۲۰؂یعنی اس سے ان کی اصلاح کے بجاے مزید برائی میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ راے اصلاً جلا وطن کرنے کے جواز کی نفی نہیں کرتی، بلکہ معروضی حالات میں اس سزا کے مفید یا موثر ہونے کے بجاے الٹا نقصان دہ ہونے کے امکان کو بیان کرتی ہے۔

_______

۱؂ابو حیان، البحر المحیط۳/ ۲۰۶۔ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ۵/ ۸۷۔

۲؂جصاص، احکام القرآن ۳/ ۴۳۔

۳؂طبری، جامع البیان ۴/ ۲۹۴۔

۴؂البقرہ ۲: ۲۲۶۔

۵؂المجادلہ ۵۸: ۲۔

۶؂ابن العربی، احکام القرآن ۱/ ۴۵۸۔

۷؂ابن عطیہ، المحرر الوجیز ۲/ ۲۲۔ ابن العربی، احکام القرآن ۱/ ۴۶۵۔

۸؂جصاص، احکام القرآن ۳/ ۴۲۔

۹؂رازی، التفسیر الکبیر۹/ ۱۹۰۔

۱۰؂رازی، التفسیر الکبیر۹/ ۱۸۷۔

۱۱؂النساء ۴: ۱۹۔''سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں۔''

۱۲؂الاحزاب۳۳: ۳۰۔''(اے ازواج نبی) تم میں سے جو کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوگی ۔''

۱۳؂آلوسی، روح المعانی ۴/ ۲۳۷۔

۱۴؂آلوسی، روح المعانی ۴/ ۲۳۶۔

۱۵؂شافعی، الام ۷/ ۸۲۔

۱۶؂احکام القرآن ۱/ ۴۵۷۔

۱۷؂برہان ۱۲۵۔ ۱۲۶۔

۱۸؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۵۰۔ ۵۱۔ جصاص، احکام القرآن ۳/ ۲۵۵۔ ۲۵۶۔ طحاوی، شرح معانی الآثار، رقم ۴۴۷۹۔

۱۹؂طحاوی، شرح معانی الآثار، رقم ۴۴۷۹۔

۲۰؂شیبانی، کتاب الآثار،رقم ۶۱۴۔ ۶۱۵۔

____________




Articles by this author