زنا کی سزا (حصہ دوم)

زنا کی سزا (حصہ دوم)


رجم کی سزا

اب رجم کی سزا کو لیجیے: صدر اول میں خوارج اور بعض معتزلہ نے رجم کو قرآن مجید کے منافی قرار دیتے ہوئے شرعی حکم کے طور پر تسلیم کرنے سے ہی سرے سے انکار کر دیا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ نہ صرف 'اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ' کا عموم اس کا مقتضی ہے کہ ہر قسم کے زانی کے لیے سو کوڑے ہی شرعی حد ہو، بلکہ قرآن مجید نے جس قدر تفصیل کے ساتھ زنا سے متعلق احکام وقوانین کو موضوع بنایا ہے، اتنا کسی دوسرے جرم کو نہیں بنایا اور اگر رجم کی سزا بھی زنا کی سزاؤں میں شامل ہوتی تو قرآن مجید لازماً اس کا ذکر کرتا۔ ۲۱؂خوارج وغیرہ نے اس بنیاد پر رجم کی روایات کو سرے سے ناقابل اعتنا قرار دیا، تاہم یہ نقطۂ نظر امت کے جمہور اہل علم کے ہاں پذیرائی حاصل نہیں کر سکا اور انھوں نے رجم کی روایات کو قبول کرتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ اس حکم کی توفیق وتطبیق کی راہ اختیار کی۔ اس ضمن میں جو مختلف علمی توجیہات پیش کی گئیں، وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ امام شافعی نے یہ زاویۂ نگاہ پیش کیا ہے کہ اگرچہ قرآن مجید کے الفاظ بظاہر عام ہیں اور ان کو غیر شادی شدہ زانی کے ساتھ خاص کرنے کا کوئی قرینہ کلام میں موجود نہیں، تاہم قرآن مجید کا حقیقی مدعا اس کے ظاہر الفاظ کے بجاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی روشنی میں زیادہ درست طور پر متعین کیا جا سکتا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر کرنا گویا اس بات کی وضاحت ہے کہ قرآن میں 'اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ' کے الفاظ درحقیقت صرف کنوارے زانیوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ ۲۲؂

امام صاحب کی اس بات سے اتفاق کرنا اس لیے ممکن نہیں کہ سورۂ نور میں اسی سلسلۂ بیان میں آگے چل کر آیت ۸میں اللہ تعالیٰ نے تعیین کے ساتھ شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑوں ہی کی سزا کی تصریح فرمائی ہے۔ چنانچہ آیت ۲۔۳میں زنا کی سزا بیان کرنے کے بعد آیت ۴۔۵میں پاک دامن عورتوں پر بدکاری کا الزام لگانے والوں کے لیے قذف کی سزا بیان ہوئی ہے اور اس کے بعد آیت ۶۔ ۱۰میں میاں بیوی کے مابین لعان کا حکم بیان کیا گیا ہے جس کی رو سے اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے اپنے الزام کے سچا ہونے پر پانچ قسمیں کھانا ہوں گی۔ اس کے بعد بیوی اگر زنا کی سزا سے بچنا چاہتی ہے تو اسے بھی اس الزام کے جھوٹا ہونے پر پانچ قسمیں کھانا ہوں گی۔ ارشاد ہوا ہے:

وَیَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہٗلَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ.(النور۲۴: ۸)

''اور (مرد کے قسمیں کھانے کے بعد) عورت سے یہ سزا اس صورت میں ٹلے گی جب وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دے کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔''

یہاں شادی شدہ عورت کی سزا کے لیے 'الْعَذَابَ' کا لفظ استعمال ہوا ہے جو معرفہ ہے اور عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس سے مراد وہی سزا ،یعنی ۱۰۰کوڑے ہو سکتی ہے جس کا ذکر اس سے پیچھے آیت ۲میں 'وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ' کے الفاظ سے ہوا ہے۔ رازی لکھتے ہیں:

الالف واللام الداخلان علی العذاب لا یفیدان العموم لانہ لم یجب علیہا جمیع انواع العذاب فوجب صرفہما الی المعہود السابق والمعہود السابق ہو الحد لانہ تعالیٰ ذکر فی اول السورۃ ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین والمراد منہ الحد.(التفسیر الکبیر ۲۳/ ۱۴۶)

'''العذاب 'پر داخل الف لام عموم کا فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ اس عورت پر ہر نوع کا عذاب لازم نہیں، اس لیے' العذاب'سے وہی عذاب مراد لینا ضروری ہے جس کا پیچھے ذکر ہو چکا ہے اور وہ 'حد' کا عذاب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورہ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ 'وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ' اور یہاں عذاب سے مراد حد ہی کا عذاب ہے۔''

رازی نے یہ بات اصلاً اس تناظر میں لکھی ہے کہ 'العذاب' کا لفظ لعان سے انکار کرنے والی خاتون کے لیے جس سزا کو بیان کر رہا ہے، اس سے مراد آیا دنیوی سزا ہے یا آخرت کا عذاب، اور ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ 'الْعَذَابَ' کا الف لام اسی عذاب، یعنی دنیوی سزا پر دلالت کر رہا ہے جس کا ذکر سیاق کلام میں 'عَذَابَہُمَا'کے لفظ سے ہو چکا ہے۔ تاہم عربیت کی رو سے 'العذاب' کا الف لام صرف عذاب کی نوعیت کے حوالے سے نہیں، بلکہ سزا کی متعین صورت کے حوالے سے بھی اسی سزا پر دلالت کرتا ہے جو 'عَذَابَہُمَا' میں بیان ہوئی ہے۔ ابن قیم نے اس نکتے کو یوں واضح کیا ہے:

والعذاب المدفوع عنہا بلعانہا ہو المذکور فی قولہ تعالیٰ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وہذا عذاب الحد قطعًا فذکرہ مضافًا ومعرفًا بلام العہد فلا یجوز ان ینصرف الی عقوبۃ لم تذکر فی اللفظ ولا دل علیہا بوجہ ما من حبس او غیرہ.(زاد المعاد ۹۷۸)

''یہاں لعان کے ذریعے سے عورت سے جس سزا کے ٹلنے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ وہی ہے جو اس سے قبل 'وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُوْمِنِیْنَ' میں مذکور ہے۔ اس سے مراد لازماً زنا کی مقررہ سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اس کا ذکر اضافت کے ساتھ (عذابہما) کیا ہے اور اس کے بعد لام عہد (العذاب) کے ساتھ۔ چنانچہ 'العذاب' سے مراد کوئی ایسی سزا، مثلاً عورت کو قید کر دینا وغیرہ ہو ہی نہیں سکتی جس کا پیچھے نہ الفاظ میں ذکر ہوا ہے اور نہ اس پر کسی قسم کا کوئی قرینہ پایا جاتا ہے۔ ''

سورۂ نور کی مذکورہ آیت کی طرح سورۂ نساء (۴) کی آیت ۲۵سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت بیان کی ہے کہ اگر کوئی شخص آزاد عورت سے نکاح کی مقدرت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے۔ یہاں شادی شدہ لونڈی کے لیے بدکاری کی سزا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ.(النساء ۴: ۲۵)

''پھر جب وہ قید نکاح میں آ جائیں اور اس کے بعد بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان کو اس سے آدھی سزا دی جائے جو آزاد عورتوں کو دی جاتی ہے۔''

آیت میں 'نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ' کے الفاظ اس مفہوم میں صریح ہیں کہ متکلم کے نزدیک آزاد عورتوں کے لیے زنا کی ایک ہی سزا ہے اور وہ ایسی ہے جس کی تنصیف ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ رجم کی سزا اس کا مصداق نہیں ہو سکتی۔

مفسرین نے کلام کی کسی داخلی دلالت کے بغیر شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو پیشگی فرض کرتے ہوئے بالعموم اس آیت کی تاویل یہ بیان کی ہے کہ چونکہ رجم کی تنصیف نہیں ہوسکتی، اس لیے لونڈیوں کے لیے نصف سزا بیان کرنا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے مراد کوڑوں کی سزا ہے،۲۳؂لیکن یہ بات کلام کے مدعا کی توضیح کے بجاے اس کو الٹ دینے کے مترادف ہے، کیونکہ کلام کے اسلوب سے واضح ہے کہ متکلم زنا کی دو سزائیں فرض کرتے ہوئے ان میں سے ایک کا انتخاب کر کے اس کی تنصیف کرنے کی بات نہیں کہہ رہا، بلکہ 'العذاب' ،یعنی زنا کی ایک متعین اور معہود سزا سے آدھی سزا دینے کی بات کر رہا ہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ اس کا اشارہ سورۂ نور میں بیان کردہ سزا کی طرف ہے، جہاں کسی قسم کی تفریق کے بغیر زنا کی ایک ہی سزا بیان کی گئی ہے۔ فرض کر لیجیے کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق متکلم کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے، پھر بھی 'نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ' کے الفاظ شادی شدہ زانی کی سزا رجم نہ ہونے پر ہی دلالت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں شادی شدہ لونڈیوں کو آزاد عورتوں کے مقابلے میں نصف سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔اب اگر آزاد عورتوں میں زنا کی سزا کے اعتبار سے شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کی تقسیم موجود ہے تو ظاہر ہے کہ شادی شدہ لونڈی کا تقابل شادی شدہ آزاد عورت ہی کے ساتھ کیا جائے گا، نہ کہ غیر شادی شدہ کے ساتھ، اس لیے کہ تقابل اسی صورت میں بامعنی قرار پاتا ہے ۔ اگر متکلم اس متبادر مفہوم سے مختلف کسی مفہوم کا ابلاغ کرنا چاہتا ہے تو بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی قرینہ کلام میں بہم پہنچایا جائے جو یہاں موجود نہیں۔

مذکورہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ 'اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ' کے عموم کے علاوہ سورۂ نور کی آیت ۸ میں 'یَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ' اور سورۂ نساء کی آیت ۲۵میں 'نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ' کے الفاظ بھی صریحاً شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑے ہی کی سزا پر دلالت کرتے ہیں۔ چنانچہ امام شافعی کی راے کے مطابق اگر یہ مانا جائے کہ یہاں روایت نے قرآن کی 'تخصیص' کی ہے تو یہ تخصیص شرح ووضاحت اور 'بیان' کے طریقے پر نہیں، بلکہ نسخ اور تغییر کے طریقے پر ہوئی ہے جس کے جواز کے خود امام شافعی بھی قائل نہیں۔

فرض کیجیے کہ قرآن میں سو کوڑوں کی سزا کے شادی شدہ زانیوں پر بھی قابل اطلاق ہونے کی کوئی صریح دلیل موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے برعکس شادی شدہ زانیوں کے اس سزا کے دائرۂ اطلاق سے خارج ہونے کی دلیل قرآن میں کیا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ قرآن میں بیان ہونے والی سزا کے غیر شادی شدہ زانیوں کے ساتھ خاص ہونے کے لسانی یا عقلی قرائن خود قرآن میں موجود ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی قرائن وشواہد سے یہ بات اخذ کی ہے تو زبان کی ابانت وبلاغت یہ تقاضا کرتی ہے کہ تخصیص کے ان قرائن کا فہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص نہ ہو، بلکہ زبان کا معیاری اور عمدہ ذوق رکھنے والے اصحاب علم بھی ان قرائن کی مدد سے اسی نتیجے تک پہنچ سکیں، لیکن خود امام صاحب کے اعتراف کے مطابق یہ واضح ہے کہ ایسا کوئی قرینہ کلام میں موجود نہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

ولولا الاستدلال بالسنۃ وحکمنا بالظاہر قطعنا من لزمہ اسم سرقۃ وضربنا ماءۃ کل من زنی حرًا ثیبًا.(الرسالہ ۷۲)

''اور اگر سنت سے استدلال نہ کیا جائے اور قرآن کے ظاہر پر ہی فیصلہ کیا جائے تو ہمیں ہر اس شخص کا ہاتھ کاٹنا پڑتا جس سے چوری کا فعل سرزد ہو اور شادی شدہ آزاد زانی کو بھی سو کوڑے ہی لگانے پڑتے۔''

دوسری صورت یہ فرض کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں تو اس تخصیص کے قرائن نہ رکھے ہوں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعۂ وحی الگ سے یہ بتا دیا ہو کہ 'اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ' سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی ہیں۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلام کے مدعا و مفہوم کے ابلاغ کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ کیا قرآن کی زبان اس کی متحمل نہیں تھی کہ اس تخصیص کے قرائن کو اپنے اندر سمو سکتی؟ پھر یہ کہ جب قرآن نے زنا کی سزا کے بیان کو باقاعدہ موضوع بنایا ہے تو مجرم کے حالات کے لحاظ سے اس جرم کی جو مختلف سزائیں دینا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا، ان کی وضاحت میں کیا چیز مانع تھی؟ قرآن کے اسلوب کا ایجاز مسلم ہے، لیکن عدت، وراثت اور قتل خطا وغیرہ کی مختلف صورتوں اور ان کے الگ الگ احکام کی تفصیل کا طریقہ خود قرآن میں اختیار کیا گیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ زنا کی سزا کے معاملے میں اس معروف اور مانوس طریقے کو چھوڑ کر ایک ایسا انداز اختیار کیا گیا جو نہ صرف زبان وبیان کے عمومی اسلوب، بلکہ خود قرآن کے اپنے طرز گفتگو سے بھی بالکل ہٹ کر ہے؟

واقعہ یہ ہے کہ امام شافعی کا یہ نقطۂ نظر قرآن مجید کی زبان کی ابانت اور زبان وبیان کے اسالیب کے حوالے سے ایک عجیب الجھن پیدا کر دیتا ہے اور انھوں نے معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرنے (oversimplification) کی کوشش کی ہے جسے علمی بنیادوں پر قبول کرنا ممکن نہیں۔

مولانامودودی نے امام شافعی کے زاویۂ نگاہ کو ایک دوسرے انداز سے پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید صرف غیر شادی شدہ زانی کی سزا بیان کرتا ہے اور اس کے لیے خود قرآن مجید میں قرائن موجود ہیں۔ مولانا نے اس ضمن میں جو استدلال پیش کیا ہے، اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

استدلال کا پہلا مقدمہ یہ ہے کہ سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۵میں اللہ تعالیٰ نے زنا کی جو مستقل سزا مقرر کرنے کا وعدہ کیا اور پھر اسی سورہ کی آیت ۲۵میں شادی شدہ لونڈی کے لیے جس سزا کا ذکر کیا ہے، وہ وہی ہے جو سورۂ نور(۲۴) کی آیت ۲میں بیان کی گئی ہے۔ دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ 'نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ' میں 'محصنات' کا لفظ شادی شدہ آزاد عورتوں کے مفہوم میں نہیں،بلکہ غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے مفہوم میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ لونڈیوں کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا سے آدھی سزا دی جائے۔ ان دو مقدموں سے مولانا نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ چونکہ سورۂ نساء(۴) کی آیت ۲۵میں لونڈیوں کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا سے آدھی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ اصل سزا سورۂ نور میں بیان ہوئی ہے، اس لیے سورۂ نور میں بیان ہونے والی سزا بھی لازماً غیر شادی شدہ آزاد عورتوں ہی سے متعلق ہے۔ ۲۴؂

دوسرے مقدمے کے حق میں مولانا نے دو دلیلیں پیش کی ہیں: ایک یہ کہ سورۂ نساء (۴)کی آیت ۲۵کے آغاز میں 'مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ' میں محصنات کا لفظ غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لیے آیا ہے، اس لیے اسی سیاق میں جب یہ لفظ دوبارہ استعمال ہوا ہے تو اس سے مراد بھی غیر شادی شدہ آزاد عورتیں ہی ہو سکتی ہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ زنا کی سزا دراصل اس حفاظت کو توڑنے کی سزا ہے جو عورت کو خاندان یا نکاح کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ شادی شدہ آزاد عورت کو دونوں حفاظتیں میسر ہوتی ہیں، جبکہ غیر شادی شدہ کو صرف ایک۔ اس کے برعکس، لونڈی خاندان کی حفاظت سے بالکل محروم ہوتی ہے ، جبکہ شادی شدہ ہونے کی صورت میں اسے صرف ایک حفاظت حاصل ہوتی ہے اور وہ بھی ادھوری۔ چنانچہ لونڈی کا تقابل شادی شدہ آزاد عورت سے نہیں، جس کو دوہری حفاظت حاصل ہوتی ہے، بلکہ غیر شادی شدہ آزاد عورت سے ہونا چاہیے جسے لونڈی کی طرح ایک ہی حفاظت میسر ہوتی ہے۔ ۲۵؂

مولانا کا پیش کردہ یہ استدلال، واقعہ یہ ہے کہ ہر لحاظ سے بالکل بے بنیاد ہے۔ اول تو ان کا یہ استنتاج عجیب ہے کہ چونکہ سورۂ نساء میں لونڈیوں کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں سے آدھی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے سورۂ نور میں بیان ہونے والی سزا بھی کنوارے زانیوں ہی سے متعلق ہے۔سورۂ نساء کی آیت سے واضح ہے کہ سورۂ نور کی آیت اس سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ چنانچہ یہ بات طے کرنے کے قرائن کہ سورۂ نور میں کون سے زانی زیر بحث ہیں، خود سورۂ نور میں موجود ہونے چاہییں اور انھی کی روشنی میں اس کا فیصلہ کرنا چاہیے، نہ کہ سورۂ نور کے احکام کا دائرۂ اطلاق سورۂ نساء کی آیات سے متعین کرنا چاہیے۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ سورۂ نور میں نہ صرف یہ کہ 'اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ' کو کنوارے زانیوں کے ساتھ خاص قرار دینے کا کوئی قرینہ موجود نہیں، بلکہ 'وَیَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ' میں قرآن نے شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا کی باقاعدہ تصریح بھی کی ہے۔ فرض کیجیے کہ سورۂ نور کے احکام کے دائرۂ اطلاق کی تعیین کے لیے سورۂ نساء (۴)کی آیت ۲۵ہی قرآن مجید میں واحد بنیاد ہے تو سوال یہ ہے کہ جب تک اس آیت میں مذکورہ قرینہ اگر اسے کوئی قرینہ کہا جا سکے بہم نہیں پہنچایا گیا تھا، اس وقت تک سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ کے منشا تک رسائی کا ذریعہ کیا تھا؟ حکم کو بیان کر دینا ،لیکن اس کے ایک نہایت بنیادی پہلو کے فہم کو معلق رکھتے ہوئے اس کے قرائن کو بعد میں کسی دوسری جگہ پر الگ رکھ دینا آخر زبان وبیان اور بلاغت کا کون سا اسلوب ہے؟

مولانا نے 'نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ' میں محصنات کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے مفہوم میں لینے کے لیے جو استدلال پیش کیا ہے، وہ بھی بے حد کمزور ہے، کیونکہ بظاہر وہ محض ایک سیاق میں 'الْمُحْصَنٰت' کے دو مرتبہ استعمال ہونے سے یہ اخذ کر رہے ہیں کہ دونوں جگہ اس کا معنی ایک ہی ہونا چاہیے، جبکہ اس استدلال کے لیے عربیت میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ عربی زبان میں 'محصنات' کا لفظ ''آزاد عورتوں''کے مفہوم میں استعمال ہو تو اس کا مصداق بننے والے افراد اپنی حالت کے لحاظ سے شادی شدہ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر شادی شدہ بھی، لیکن اس فرق پر کوئی دلالت لفظ کے اپنے مفہوم میں داخل نہیں۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ کسی جگہ قرینے کی بنا پر اس لفظ کا اطلاق صرف شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورتوں تک محدود ہو جائے، لیکن 'محصنات' کا لفظ موقع کلام سے پیدا ہونے والی اس تخصیص سے قطع نظر فی نفسہٖ محض ''آزاد عورتوں'' کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ زیربحث آیت میں بھی 'مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ' میں لفظ 'محصنات' محض ''آزاد عورتوں'' کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ''غیر شادی شدہ آزاد عورت'' ہونا اس کا معنی یا اس کے استعمالات میں سے کوئی استعمال نہیں، بلکہ اس میں یہ مفہوم اس کے ساتھ متعلق ہونے والے فعل، یعنی 'یَنْکِحَ' کے تقاضے سے پیدا ہوا ہے اور عربیت کی رو سے یہ تخصیص اسی جملے تک محدود ہے۔ اس کے بعد جب یہ لفظ 'فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ' میں دوبارہ استعمال ہوا ہے تو یہاں بھی اس کا مفہوم محض ''آزاد عورتیں'' ہے، جبکہ 'یَنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ' میں فعل 'یَنْکِحَ' کے تقاضے سے پیدا ہونے والی تخصیص کو یہاں موثر ماننے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ قرینہ۔

ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ مولانا لفظ 'الْمُحْصَنٰت' کے ایک سیاق میں دو مرتبہ وارد ہونے سے نہیں، بلکہ 'نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ' میں 'الْمُحْصَنٰت' پر داخل الف لام سے استدلال کرنا چاہتے ہوں اور ان کا منشا یہ ہو کہ یہ عہد کا الف لام ہے، اس لیے اس کے مدخول کا مفہوم وہی ہونا چاہیے جس میں یہ اسی آیت کے آغاز میں 'یَنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ'میں استعمال ہوا ہے۔ اگر مولانا کی مراد یہ ہے تو عربیت کی رو سے یہ بات بھی قطعاً بے بنیاد ہے، اس لیے کہ اول تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ''غیر شادی شدہ آزاد عورت'' لفظ 'الْمُحْصَنٰت'کا کوئی معنی یا اس کے استعمالات میں سے کوئی استعمال نہیں، بلکہ محض فعل 'یَنْکِحَ' کا تقاضا ہے۔ اور بالفرض اسے اس کا کوئی باقاعدہ استعمال مان لیا جائے تو بھی مولانا کا مدعا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ لام عہد کسی لفظ کا مصداق بننے والے افراد کی تعیین پر تو دلالت کرتا ہے، لیکن ایک لفظ کے مختلف معنوں میں سے کسی ایک معنی کو متعین کرنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتا، اور زیر بحث صورت میں بھی مسئلہ 'الْمُحْصَنٰت' کے افراد کی نہیں، بلکہ مفروضہ طور پر اس کے معنوں میں سے ایک معنی کی تعیین کا ہے۔

مولانا نے اس ضمن میں اکہرے اور دوہرے احصان کا جو نکتہ بیان کیا ہے، وہ ذہانت آمیز ہے، لیکن اس کا عربی زبان یا قرآن مجید کے مدعا سے کوئی تعلق نہیں۔ عربی زبان میں 'محصنات' کا لفظ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، سادہ طور پر ''آزاد عورتوں'' یا ''شادی شدہ خواتین'' کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ ان دونوں استعمالات کی لسانی تحقیق کے تناظر میں یہ نکتہ بالکل درست ہے کہ آزاد عورتوں کو خاندان کی حفاظت حاصل ہوتی ہے اور شادی شدہ عورتوں کو نکاح کی۔ اسی طرح عقلی استدلال کی حد تک یہ بات بھی درست ہے کہ شادی شدہ آزاد عورت کو دو حفاظتیں حاصل ہوتی ہیں، جبکہ غیر شادی شدہ کو صرف ایک، لیکن جہاں تک عربی زبان کے استعمال کا تعلق ہے تو اہل زبان اس لفظ کو ''آزاد عورت'' یا ''شادی شدہ عورت'' کے بالکل سادہ مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔ اکہرے یا دوہرے احصان کا کوئی تصور نہ اہل زبان کے استعمال میں موجود ہے اور نہ قرآن کے الفاظ میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ موجود ہے۔ اس لیے یہ ایک دقیق نکتہ آفرینی تو ہو سکتی ہے، لیکن الفاظ کا مفہوم ومدلول اور متکلم کا مدعا ومنشا متعین کرنے کا یہ طریقہ زبان وبیان کے لیے ایک اجنبی چیز ہے۔

مولاناکی یہ راے کہ سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۵، جہاں زنا کی عبوری سزا بیان کی گئی ہے، صرف غیر شادی شدہ زانیوں سے متعلق تھی، اس وجہ سے بھی محل نظر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث عبادہ میں 'اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا' کاحوالہ دیتے ہوئے صرف کنوارے زانیوں کی نہیں ،بلکہ شادی شدہ زانیوں کی سزا بھی بیان کی ہے جو اس کی دلیل ہے کہ آیت ۱۵میں بیان ہونے والی عبوری سزا بھی دونوں ہی سے متعلق تھی۔ اگر مولانا کی بات درست مان لی جائے تویہ سوال تشنۂ جواب رہتا ہے کہ عبوری سزا صرف غیر شادی شدہ زانیوں کے لیے کیوں بیان کی گئی اور شادی شدہ زانیوں کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا۔

مذکورہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے تو اس میں کسی ابہام یا احتمال کے بغیر پوری وضاحت کے ساتھ شادی شدہ اور کنوارے زانی کے لیے ایک ہی سزا، یعنی سو کوڑوں کی تصریح کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید اور روایات کے مابین تطبیق وتوفیق پیدا کرنے کے لیے قرآن مجید کے بیان کو محتمل اور ظنی قرار دینے کا نقطۂ نظر درست نہیں۔ قرآن کے بیان کا واضح، غیرمبہم اور غیر محتمل ہونا، اس بحث کا بنیادی نکتہ ہے اور اس کو نظر انداز کر کے کی جانے والی توجیہ وتطبیق کی ہر کوشش محض دفع الوقتی ہوگی۔

۲۔ اصولیین کے ایک گروہ نے رجم کے حکم کو آیت نور کی 'تخصیص' کے بجاے اس پر 'زیادت' قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی بیان کردہ سزا ہر قسم کے زانی کے لیے عام ہے، البتہ ان میں سے شادی شدہ زانیوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی صورت میں ایک اضافی سزا بھی مقرر فرمائی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے حامل اہل علم میں سے بعض شادی شدہ زانی پر دونوں سزائیں نافذ کرنے کے قائل ہیں، جبکہ بعض کی راے میں رجم کی سزا نافذ کرنے کی صورت میں چونکہ کوڑے لگانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اس لیے عملاً ایک ہی سزا نافذ کی جائے گی۔ ۲۶؂

اس راے پر بنیادی اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کی بیان کردہ سزا میں یہ اضافہ آیا سورۂ نور کے نزول کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا یا اسے بعد میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا؟ اگر دوسری صورت فرض کی جائے تو روایت اسے قبول نہیں کرتی، کیونکہ وہ یہ بتاتی ہے کہ سورۂ نساء کی آیت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جانے والا پہلا حکم یہی تھا۔ چنانچہ سورۂ نور کا نزول اس حکم کے ساتھ یا اس کے بعد تو مانا جا سکتا ہے، لیکن اس سے پہلے نہیں۔ اس کے برعکس پہلی صورت مانی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سو کوڑے لگوانے کے ساتھ ساتھ کنوارے زانی کو جلاوطن، جبکہ شادی شدہ زانی کو سنگ سار کروانا چاہتے ہیں تو دونوں حکموں کے ایک ہی موقع پر نازل کیے جانے کے باوجود قرآن مجید کے اس پوری بات کو خود بیان کرنے سے گریز کرنے اور سزا کا ایک جز قرآن میں، جبکہ دوسرا جز اس سے باہر نازل کی جانے والی وحی میں بیان کرنے کی وجہ اور حکمت کیا ہے ؟

ایک احتمال یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے تو زنا کی سزا سو کوڑے ہی مقرر کی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتہاد کی بنا پر یہ فیصلہ فرمایا کہ اس پر جلا وطنی اور سنگ ساری کی سزا کا بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت امت پر مطلقاً فرض کی گئی ہے، اس لیے آپ نے قرآن کے علاوہ اپنے اجتہاد کی بنیاد پر جو حکم دیا، امت کے لیے اسے بھی ایک شرعی حکم کی حیثیت سے تسلیم کرنا لازم ہے، تاہم یہ مفروضہ بھی اصل الجھن کو حل کرنے میں کسی طور پر مددگار نہیں، اس لیے کہ اصل سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو ماننے یا نہ ماننے یا آپ کی اطاعت کے دائرے کو مطلق یا مقید قرار دینے کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزائیں مقرر کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اجتہاد تھا تو کیا آپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم دیا گیا ہو، اس میں اپنے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے نفس حکم میں کوئی ترمیم یا اضافہ کر لیں اور کیا آپ کے اجتہادات میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ان سزاؤں کے اضافے کو آپ کے اجتہاد پر مبنی ماننے سے دوسرا اہم اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شرعی سزاؤں کے معاملے میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا رجحان یہ تھا کہ مجرم کو سزا سے بچنے کا موقع دیا جائے۔ چنانچہ آپ نے زنا کے اعتراف کے ساتھ پیش ہونے والے مجرموں کو اپنے رویے سے واپس پلٹ جانے اور توبہ واصلاح پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور عمومی طور پر بھی مسلمانوں کو یہی ہدایت کی کہ وہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے حتی الامکان سزا سے بچنے کا راستہ تلاش کریں۔ اس تناظر میں یہ بات ایک تضاد دکھائی دیتی ہے کہ ایک طرف آپ مجرموں سے سزا کے نفاذ کو ٹالنے کا رجحان ظاہر کر رہے ہوں اور دوسری طرف انھی مجرموں کے لیے قرآن کی بیان کردہ سزاؤں کو ناکافی سمجھتے ہوئے اپنے اجتہاد سے ان پر مزید اور زیادہ سنگین سزاؤں کا اضافہ فرما رہے ہوں۔ ان وجوہ سے جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزاؤں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد پر مبنی قرار دینے کی بات کسی طرح قرین قیاس دکھائی نہیں دیتی۔

ایک مزید احتمال یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے صرف نفس زنا کی سزا بیان کی ہے، جبکہ سزا کے نفاذ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر اس میں مجرم کے حالات یا جرم کی نوعیت کے لحاظ سے شناعت کا کوئی مزید پہلو شامل ہو جائے تو اس کی رعایت سے کوئی اضافی سزا بھی اصل سزا کے ساتھ شامل کی جا سکتی ہے۔ چونکہ شادی شدہ زانی جائز طریقے سے جنسی تسکین کی سہولت موجود ہوتے ہوئے ۲۷؂ایک ناجائز راستہ اختیار کرتا اور اپنے رفیق حیات کے ساتھ بھی بے وفائی اور عہد شکنی کا مرتکب ہوتا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے زانی کے لیے اضافی سزا مقرر کرنے سے قرآن مجید کے حکم پر کوئی زد نہیں پڑتی، تاہم یہ توجیہ اصل مقصود کے اثبات کے لیے ناکافی ہے، کیونکہ یہاں مطلوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ سزاؤں کے 'حد' ،یعنی سزا کا لازمی حصہ ہونے کا اثبات ہے، جبکہ قرآن نے ہر قسم کے زانی کے لیے زنا کی سزا صرف سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اصل سزا یہی ہے۔ اب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اضافی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی زائد سزا بیان کی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ 'حد' نہیں، بلکہ ایک تعزیری سزا ہی ہو سکتی ہے، کیونکہ اسے اصل سزاکا لازمی حصہ تصور کرتے ہوئے قرآن کی بیان کردہ سزا کے ساتھ مساوی طور پر لازم مانا جائے تو یہ بات قرآن کے صریح بیان کو ناکافی قرار دینے کے مترادف ہے اور اس سے آیت اور روایت کے باہمی تعلق کی کوئی معقول توجیہ بے حد مشکل ہو جاتی ہے۔

۳۔ فقہاے احناف نے رجم کی سزا کے حوالے سے قرآن مجید اور روایت کے باہمی تعارض کونسخ کے اصول پر حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ان کے ہاں دو زاویہ ہاے نگاہ پائے جاتے ہیں: ایک راے کے مطابق رجم کا حکم سورۂ نور کی آیت کے لیے ناسخ کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اولاً ہر قسم کے زانی کے لیے سو کوڑوں ہی کی سزا مشروع کی گئی تھی، لیکن بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کو صرف کنوارے زانیوں کے ساتھ مخصوص کرتے ہوئے شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم کی سزا مقرر کر دی۔۲۸؂دوسری راے کی رو سے شادی شدہ اور کنوارے زانی کی سزا میں فرق سورۂ نور کی مذکورہ آیت سے پہلے ہی قائم کیا جا چکا تھا اور کنوارے زانی کو سو کوڑوں کے ساتھ جلا وطن کرنے، جبکہ شادی شدہ زانی کو کوڑے مارنے کے ساتھ رجم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سورۂ نور کی آیت نازل ہوئی اور کنوارے زانی کو جلا وطن کرنے اور شادی شدہ زانی کو رجم سے پہلے سو کوڑے مارنے کی سزا منسوخ قرار پائی۔ ۲۹؂

ہم یہاں اصول فقہ کی اس بحث سے صرف نظر کر لیتے ہیں کہ سنت کے ذریعے سے قرآن یا قرآن کے ذریعے سے سنت کے کسی حکم کو کلی یا جزوی طور پر منسوخ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس امکان کو اصولاً تسلیم کر لیا جائے تو بھی نسخ کا وقوع ثابت کرنا بے حد مشکل ہے، اس لیے کہ نہ صرف یہ کہ اس کے حق میں مثبت طور پر کوئی دلیل موجود نہیں، بلکہ اس کے برخلاف قرائن موجود ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ سورۂ نور کی آیت شادی شدہ زانی کے لیے رجم کا حکم دیے جانے سے پہلے نازل ہو چکی تھی اور روایت اس کے لیے ناسخ ہے تو عبادہ بن صامت سے مروی روایت اس بات کی نفی کرتی ہے، کیونکہ روایت سے واضح ہے کہ سورۂ نساء میں زنا کی عبوری سزا کے بیان کے بعد اس موقع سے پہلے زنا سے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اور 'اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا' کے وعدے کی تکمیل پہلی مرتبہ اسی حکم کے ذریعے سے کی جا رہی تھی۔ اس کے برعکس اگر سورۂ نورکی آیت کو اس سے پہلے نازل ہونے والے حکم کے لیے ناسخ مانا جائے تو لازم آئے گا کہ شادی شدہ اور کنوارے، دونوں طرح کے زانیوں کے لیے سو کوڑے ہی حد شرعی قرار پائے، اس لیے کہ سورۂ نور میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں نہ صرف یہ کہ کوئی فرق نہیں کیا گیا، بلکہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑوں ہی کی سزا کی تصریح کی گئی ہے۔ چنانچہ یہ بات کہ سورۂ نور کی آیت نے کنوارے زانی کے لیے جلاوطنی اور شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا تو منسوخ کر دی، لیکن رجم کا حکم اس کے بعد بھی برقرار رہا، محض تحکم کا درجہ رکھتی ہے۔

۴۔ ایک نقطۂ نظر یہ پیش کیا گیا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی آیت خود قرآن مجید میں نازل ہوئی تھی جو بعد میں الفاظ کے اعتبار سے تو منسوخ ہو گئی، لیکن اس کا حکم باقی رہ گیا۔ ۳۰؂اس موقف کے حق میں بناے استدلال بالعموم سیدنا عمر کی طرف منسوب ایک روایت کوبنایا جاتا ہے۔ عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے ایک موقع پر اپنے خطبے میں فرمایا:

ان اللّٰہ بعث محمدًا بالحق وانزل علیہ الکتاب فکان مما انزل اللّٰہ آیۃ الرجم فقراناہا وعقلناہا ووعیناہا رجم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ورجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان ان یقول قائل واللّٰہ ما نجدآیۃ الرجم فی کتاب اللّٰہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلہا اللّٰہ والرجم فی کتاب اللّٰہ حق علی من زنی اذا احصن من الرجال والنساء اذا قامت البینۃ او کان الحبل او الاعتراف.(بخاری، رقم ۶۳۲۸)

''اللہ تعالیٰ نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے جو وحی نازل کی، اس میں رجم کی آیت بھی تھی۔ چنانچہ ہم نے اسے پڑھا اور سمجھا اور اسے یاد کیا۔ (اس پر عمل کرتے ہوئے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ زیادہ وقت گزرنے کے بعد کوئی شخص یہ کہے گا کہ بخدا، ہم کتاب اللہ میں رجم کی آیت کو موجود نہیں پاتے۔ اس طرح وہ اللہ کے اتارے ہوئے ایک فریضے کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں گے۔ جو مرد یا عورت محصن ہونے کی حالت میں زنا کا ارتکاب کرے اور اس پر گواہ موجود ہوں یا حمل ظاہر ہو جائے یا وہ خود اعتراف کر لے تو اللہ کی کتاب میں اس کے لیے رجم کی سزا ثابت ہے۔''

سیدنا عمر کی طرف اس قول کی نسبت کے صحیح ہونے میں ایک اہم اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اس خطبے کے راوی عبد اللہ بن عباس ہیں، لیکن خود ان کی راے قرآن مجید میں رجم کا کوئی باقاعدہ حکم نازل ہونے کے برعکس ہے۔ اس ضمن میں ان سے مروی دو آثار قابل توجہ ہیں:

علی بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ ابتدا میں زنا کی سزا یہ تھی کہ خاتون کو گھر میں محبوس کر دیا جائے اور مرد کو زبانی اور جسمانی طور پر اذیت دی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے 'اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ' کی آیت اتاردی، جبکہ مرد وعورت اگر محصن ہوں تو ان کے لیے حکم یہ ہے کہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی رو سے رجم کر دیا جائے۔ ۳۱؂

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص رجم کا انکار کرتا ہے، وہ غیر شعوری طور پر قرآن کا انکار کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ 'یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ' (اے اہل کتاب، تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو تمھارے لیے تورات کی ان بہت سی باتوں کو ظاہر کرتا ہے جنھیں تم چھپاتے تھے) اور رجم کا حکم بھی انھی امور میں سے ہے جنھیں اہل کتاب چھپاتے تھے۔ ۳۲؂

ان دونوں روایتوں سے واضح ہے کہ ابن عباس قرآن مجید میں واضح طور پر رجم کا حکم نازل ہونے کے قائل نہیں اور اس کے بجاے اسے اشارتاً قرآن میں مذکور مانتے اور اس کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع سیدنا عمر کے مذکورہ خطبے کے راوی ہیں جس میں انھوں نے رجم کے قرآن مجید میں نازل ہونے کا ذکرکیا ہے تو پھر ان کا اس سے مختلف راے قائم کرنا بظاہر سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔

رجم کا حکم نازل ہونے کی روایات سیدنا عمر کے علاوہ ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہیں اور ان میں قرآن مجید کی یہ آیت 'الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتۃ' (بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو ان کو لازماً سنگ سار کردو)کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ ۳۳؂یہ روایات اس حوالے سے باہم متعارض ہیں کہ رجم کا حکم آیا قرآن مجید کی کسی باقاعدہ آیت کے طور پر نازل ہوا تھا یا قرآن سے باہر کسی الگ حکم کے طور پر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت باقاعدہ قرآن مجید کے ایک حصے کے طور پر نازل ہوئی تھی اور اسی حیثیت سے پڑھی جاتی تھی۔ چنانچہ زر بن حبیش ابی بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ سورۂ احزاب اپنے حجم میں سورۂ بقرہ کے برابر ہوا کرتی تھی اور اس میں یہ آیت بھی تھی: 'الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتۃ نکالا من اللّٰہ واللّٰہ عزیزحکیم' ۳۴؂۔اس کے برعکس بعض دوسری روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ قرآن مجید سے الگ ایک حکم تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حین حیات میں اسے قرآن مجید میں لکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کثیر بن ا لصلت روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت نے ایک موقع پر مروان کی مجلس میں یہ کہا کہ ہم 'الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتۃ' کی آیت پڑھا کرتے تھے۔ اس پر مروان نے کہا کہ کیا ہم اسے مصحف میں درج نہ کر لیں؟ زید نے کہا کہ نہیں، دیکھتے نہیں کہ جوان شادی شدہ مردو عورت بھی اگر زنا کریں تو انھیں رجم کیا جاتا ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں صحابہ کے مابین زیر بحث آئی تو سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ، مجھے رجم کی آیت لکھوا دیجیے، لیکن آپ نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ ۳۵؂

بہرحال، رجم کا حکم قرآن مجید میں نازل کیے جانے کے بعد اس سے نکال لیا گیا ہو یا ابتدا ہی سے اسے قرآن کا حصہ بنانے سے گریز کیا گیا ہو، دونوں صورتوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شارع کے پیش نظر اس کو ایک مستقل حکم کے طور پر برقرار رکھنا تھا تو مذکورہ طریقہ کیوں اختیارکیا گیا؟ اگر یہ مانا جائے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی آیت قرآن میں نازل ہونے کے بعد اس سے نکال لی گئی تو اس کی واحد معقول توجیہ یہی ہو سکتی ہے کہ اب یہ حکم بھی منسوخ ہو چکا ہے، ورنہ حکم کو باقی رکھتے ہوئے آیت کے الفاظ کو منسوخ کر دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعۂ وحی یہ حکم تو دیا گیا تھا، لیکن اسے قرآن مجید کا حصہ بنانے سے بالقصد گریز کیا گیا تو بظاہر یہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی نوعیت کا حکم تھا جسے ابدی شرعی احکام کی حیثیت سے برقرار رکھنا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صرف اسی سزا کے بیان پر اکتفا کی جسے ابدی طور پر باقی رکھنا ضروری تھا۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رجم کے حکم کے منسوخ ہو جانے کی بات بظاہر معقول دکھائی دیتی ہے، لیکن اس امر کی توجیہ کسی طرح نہیں ہو پاتی کہ نہ صرف سیدنا عمر جیسے بلند پایہ فقیہ معاملے کی اس نوعیت سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود رجم کے ایک شرعی حکم کے طورپر باقی ہونے کے قائل ہیں، بلکہ خلفاے راشدین اور دوسرے اکابر صحابہ کے ہاں بھی متفقہ طور پر یہی تصور پایا جاتا ہے۔

_______

۲۱؂رازی، التفسیر الکبیر ۲۳/ ۱۱۷۔ ۱۱۸۔

۲۲؂شافعی، الرسالہ ۶۶۔ ۶۷، ۷۲۔

یہاں امام صاحب کے موقف میں ایک داخلی تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ ایک طرف انھوں نے اس مسئلے کو سنت کے ذریعے سے قرآن مجید کی تخصیص کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ یہ فرماتے ہیں کہ سورۂ نساء میں زنا کی عبوری سزا مقرر کیے جانے کے بعد سورۂ نور کی آیات نازل ہوئیں جن میں زنا کی مستقل سزا مقرر کی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکم کی وضاحت میں وہ تفصیل بیان کی جو عبادہ بن صامت کی روایت میں نقل ہوئی ہے۔ (الام ۷/ ۸۲) حدیث عبادہ میں شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑے کی سزا بیان کی گئی ہے، البتہ اس کے ساتھ اسے رجم کا مستحق بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ روایت قرآن مجیدکی تخصیص کی نہیں، بلکہ اس پر زیادت کی مثال ہے۔ امام صاحب کی راے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا منسوخ ہو چکی ہے، تاہم اس سے صورت حال میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، اس لیے کہ عبادہ بن صامت کی روایت میں بیان ہونے والے اصل حکم میں تو، بہرحال اسے شادی شدہ زانی پر بھی قابل اطلاق قرار دیا گیا ہے۔

۲۳؂زمخشری، الکشاف ۱/ ۵۳۲۔ ابن عطیہ، المحرر الوجیز ۲/ ۳۹۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ۱/ ۴۷۸۔

۲۴؂تفہیم القرآن۳/ ۳۲۶۔

۲۵؂تفہیم القرآن ۱/ ۳۴۲۔ ۳۴۳۔

۲۶؂ابن عبد البر، الاستذکار ۲۴/ ۴۹۔ شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۷۔

۲۷؂جمہور فقہا رجم کی سزا نافذ کرنے کے لیے محض اس بات کو کافی سمجھتے ہیں کہ زانی نے زندگی میں ایک مرتبہ نکاح صحیح کے ساتھ کسی مسلمان خاتون کے ساتھ ہم بستری کی ہو، جبکہ امام باقر، امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم کی راے یہ نقل ہوئی ہے کہ رجم کی سزا کا نفاذ صرف ایسے شادی شدہ زانی و زانیہ پر کیا جائے گاجس کے لیے ارتکاب زنا کے وقت بھی شرعی طریقے سے اپنی بیوی باندی یا شوہر سے جنسی استمتاع کا امکان موجود ہو۔ اگر نکاح کے بعد جدائی ہو چکی ہو یا زوجین میں سے کوئی ایک انتقال کر چکا ہو یا خاوند محبوس ہویا گھر سے دور ہو تو زنا کے ارتکاب پر مجرم کے شادی شدہ ہونے کے باوجود اسے رجم کی سزا نہیں دی جائے گی (الکلینی، الفروع من الکافی ۷/ ۱۷۸۔۱۷۹۔ القمی، من لا یحضرہ الفقیہ۴/ ۳۹۔۴۰، رقم۵۰۳۶۔ ۵۰۳۷) امام باقر بیان کرتے ہیں کہ خاوند کی گھر سے دوری اور قید و بند کی صورت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ صادر فرمایا۔(الفروع من الکافی۷/ ۱۷۹)

۲۸؂ابن الہمام، فتح القدیر ۵/ ۲۳۰۔

۲۹؂سرخسی، المبسوط ۹/ ۴۱۔ ۴۲۔

۳۰؂ابن حزم، المحلیٰ ۱۱/ ۲۳۴۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۲۰/ ۳۹۸۔۳۹۹۔

۳۱؂طبری، جامع البیان ۴/ ۲۹۷۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۶۹۱۔

۳۲؂نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۱۶۲۔

۳۳؂مسند احمد، رقم ۲۰۶۱۳۔ موطا امام مالک، رقم ۲۵۶۸۔

۳۴؂بیہقی، رقم۱۶۶۸۸۔ نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۱۵۰۔

۳۵؂بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۶۹۰۔ نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۱۴۸۔

____________




Articles by this author